Ayahs 56:1–21 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی قیامت کے واقع ہونے کو روک نہیں سکتا۔ اور اس کے واقع ہونے کو غیر واقع نہیں بنا سکتا۔
Ayah 56:32 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ ستارے جھڑ جائیں گے۔ پہاڑ اڑنے لگیں گے اور اس عالم کی تمام اشیاء زیر و زبر ہوجائیں گی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ متکبر، سرکش اور ظالم لوگوں کے سرنگوں کردے گی اور وہ ذلیل اور رسوا ہوجائیں گے۔ جس بلند مقام پر اپنے آپ کو وہ سمجھے بیٹھے تھے وہاں سے نیچے پٹخ دیئے جائیں گے اور جو لوگ متواضع، منکسرالمزاج اور پاکیزہ سیرت کے مالک ہوں گے جنہیں متکبرین دنیا میں حقیر اور رذیل مخلوق سمجھتے تھے انہیں ہی سربلندی عطا ہوگی اور وہ بلند درجات کے مالک اور اونچے مقام پر فائز ہوں گے۔
Ayahs 56:4–53 یعنی زمین پر زلزلہ کسی مقامی سطح پر نہیں آئے گا۔ بلکہ ساری کی ساری زمین ہی لرزنے کپکپانے اور ہچکولے کھانے لگے گی۔ پہاڑوں کی گرفت زمین پر سے ڈھیلی پڑجائے گی۔ اور ایک پتھر دوسرے پر گر کر ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ پھر تیز ہوا ان پہاڑوں کے ذرات کو پراگندہ کرکے اڑاتی پھرے گی۔ سوچ لو کیا اس وقت تمہارا زمین پر زندہ رہنا ممکن رہ جائے گا ؟
Ayahs 56:6–74 سابقہ آیات میں قیامت کے برپا ہونے یا نفخہ صور اول کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں نفحہ صور ثانی یا مردوں کے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے اور میدان محشر میں اکٹھا ہوجانے کے مابعد کا۔ اس وقت تمام لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک اہل دوزخ، دوسرے اہل جنت۔ اہل جنت کی پھر دو قسمیں ہوں گی۔ ایک مقربین کا گروہ، دوسرا عام صالحین کا۔ اس طرح کل تین قسم کے گروہ بن جائیں گے۔ جیسا کہ آگے ان کی تفصیل آرہی ہے۔
Ayah 56:85 یمین بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں جانب بھی۔ اس لحاظ سے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب جگہ ملے گی۔ جب رسول اللہ کو شب معراج میں آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے پہلے آسمان پر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ جب اپنی دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں۔ سیدنا جبریل نے آپ کو بتایا کہ سیدنا آدم کی دائیں جانب وہ لوگ تھے جو جنت میں داخل ہونے والے ہیں اور بائیں طرف وہ لوگ تھے جو جہنم میں داخل ہوں گے، اس سے بھی اصحاب الیمین سے مراد اہل جنت ہوئے۔ اور اگر یمین کو یمن سے مشتق سمجھا جائے جو برکت اور خوش بختی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد خوش بخت اور خیر و برکت والے اصحاب ہیں اور مطلب دونوں معنوں کے لحاظ سے ایک ہی ہے۔
Ayah 56:96 شمال بمعنی بایاں ہاتھ بھی، بائیں جانب بھی اور بدبخت بھی۔ یعنی وہ لوگ جنہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا انہیں اللہ کی بائیں جانب کھڑا کیا جائے گا۔ اور یہ بدبخت اہل دوزخ ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث مذکورہ بالا سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
Ayahs 56:10–117 یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے میں، ان کے ساتھ حق و باطل کے معرکہ میں، مصائب کے برداشت کرنے میں اور ہر خیر اور بھلائی کے کام میں دوسروں سے سبقت کرنے والے اور آگے نکل جانے والوں کا درجہ عام مومنین صالحین سے بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا یہی لوگ اللہ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے آگے یہی لوگ ہوں گے پھر ان کے بعد دائیں جانب صالحین مومنین اور بائیں جانب کافر و مشرک، سرکش اور خود سر یعنی اہل دوزخ ہوں گے۔
Ayahs 56:12–148 سابقون اوّلون سے مراد ؟ ان دو آیات میں اولین اور آخرین کی تعیین میں اختلاف کی بنا پر ان آیات کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اولین سے مراد سابقہ امتوں کے لوگ لیے جائیں اور آخرین سے مراد اس امت کے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والوں، حق کے معرکہ میں دوسروں سے آگے نکل جانے والوں اور خیر و بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والوں کی تعداد اس امت کے سابقین کی تعداد سے بہت زیادہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہماری ہی امت مسلمہ کے لوگ ہوں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اولین یعنی صحابہ کرام ؓ تابعین، تبع تابعین۔ میں سے سابقین کی تعداد آخرین سے بہت زیادہ ہوگی۔ تیسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین اور آخرین لیے جائیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک اصل بن جائے گا۔ یعنی ہر نبی کی امت کے اولین میں سے سابقین کی تعداد آخرین میں سابقین کی تعداد سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔
Ayah 56:159 مَوْضُوْنَۃٍ ۔ وَضَنٌ کے اصل معنی زرہ بافی کے ہیں اور استعارۃً کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ بننے پر بولا جاتا ہے اور مَوْضُوْنٌ یا مَوْضُوْنَۃٌ یعنی باریک بنی ہوئی یا سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چیز۔
Ayahs 56:16–1910 شراب کے نقصانات اور فائدے :۔ دنیا کی شراب میں خرابیاں یہ ہوتی ہے کہ اس کا مزہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ بو ناگوار ہوتی ہے، پینے سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ سر درد بھی شروع ہوجاتا ہے۔ عقل میں فتور آجاتا ہے اور شراب پینے والا اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ناشائستہ حرکات اور گناہ کے کام بھی کر بیٹھتا ہے اور ان سب قباحتوں کے عوض اسے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے اسے سرور حاصل ہوتا ہے اور غم غلط ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فائدہ تو بدرجہ اتم موجود ہوگا لیکن قباحت کی سب باتوں سے یکسر پاک ہوگی۔
Ayahs 56:20–2111 پرندوں کا گوشت لذت، غذائیت اور قوت تینوں اعتبار سے چوپایوں کے گوشت سے اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے۔ لہذا بالخصوص پرندوں کے گوشت کا ذکر کیا گیا۔
Ayahs 56:22–2312 تاکہ گردوغبار سے ان کی آب و تاب ماند نہ پڑجائے۔ جنت کی حوریں بھی اپنے حسن دلکشی اور آب و تاب کے لحاظ سے قیمتی موتیوں سے کسی صورت کم نہ ہونگی لہذا ان کی حفاظت بھی ایسے ہی کی جائے گی جیسے زر و جواہر اور موتیوں کی۔
Ayahs 56:24–2513 یعنی وہاں نہ کوئی دوسرے کی غیبت کرے گا، نہ چغلی کھائے گا، نہ بہتان لگائے گا، نہ جھوٹ بولے گا نہ مکروفریب اور ہیرا پھیری کی باتیں کرے گا، نہ گالی گلوچ ہوگا اور نہ طنز اور ایک دوسرے کو تمسخر اور تضحیک گویا کوئی شخص ایسی بات نہ کرے گا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اور نہ اہل جنت وہاں بےہودہ اور بےکار باتیں کریں گے جس کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔
Ayah 56:2614 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کہا کریں گے۔ فرشتے بھی ان کے حق میں سلامتی کی دعا کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلامتی نازل ہوگی اور سلام بھیجا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنتی آپس میں جو بات بھی کریں گے وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور سلامتی پر مشتمل ہوگی۔ اس کی گفتگو بامعنی، نتیجہ خیز اور معلوماتی ہوگی۔ بڑے پاکیزہ موضوع ان کے زیر بحث آتے رہا کریں گے۔ ان کی مجالس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تہلیل بکثرت ہوا کرے گی اور ان کی ہر گفتگو کسی نہ کسی بھلائی اور ایک دوسرے کی سلامتی کا پہلو لیے ہوئے ہوگی۔
Ayahs 56:27–2815 مَخْضُوْدٍ ۔ خَضَدَ (الشجر) کسی خاردار درخت کے کانٹے توڑ کر یا کاٹ کر اسے بےخار بنادینا۔ صاف کردینا۔ کہتے ہیں کہ بیری کے درخت کے کانٹے جتنے کم ہوں اتنا ہی اس کا پھل اچھا اور مزے دار ہوتا ہے اور جنت کی بیریاں بالکل بےخار ہوں گی۔ یعنی ان بیریوں کا پھل دنیا کی بیریوں جیسا نہیں بلکہ بہت لذیذ ہوگا۔
Ayahs 56:29–3016 اس کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا : جنت میں ایک اتنا بڑا درخت (طوبیٰ ) ہے جس کے سایہ میں اگر سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ تم چاہو تو آیت پڑھ لو (وًظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ نیز کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ)
Ayah 56:3117 مسکوب۔ سکب کے معنی (پانی وغیرہ کا) گرنا اور بہانا ہے۔ السکب لگاتار بارش کو یا موٹے موٹے قطروں والی بارش کو کہتے ہیں جس کا پانی بہہ نکلے اور الاسکوب بمعنی لگاتار جھڑی۔ گویا سکب میں پانی وغیرہ کے گرنے یا بہنے کے ساتھ تسلسل اور دوام کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور (مَاءٍ مَّسْکُوْبٍ ) کا معنی مسلسل گرنے والی آبشار اور اس کا بہتا ہوا پانی ہوگا۔
Ayahs 56:32–3318 یعنی نہ تو جنت کے پھلوں کی سپلائی کسی وقت بند ہوگی جس طرح دنیا میں پھل اپنے موسم میں ہی مل سکتے ہیں۔ آگے پیچھے نہیں ملتے۔ اور نہ ہی ان کو حاصل کرنے، توڑنے یا کھانے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش آئے گی۔
Ayahs 56:34–3619 أنْشَاْنَاھُنَّ میں ھُنَّ کا مرجع ان کی دنیا میں ساتھ دینے والی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جنت میں ملنے والی حوریں بھی۔ ان دونوں قسم کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نوجوان اور نوخیز بنادیں گے اور وہ کنواری بھی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ خوبصورت اور جوان ہی رہیں گی جن کی باتوں اور طرز و ادا پر بےساختہ پیار آجائے گا۔
شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے حق میں جنت کی دعا فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : اسے بتاؤ کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنادیں گے۔
Ayah 56:3720 عرباً اتراباً کا لغوی مفہوم :۔ عُرُبًا عُرُوْبٌ کی جمع ہے اور عروب کے معنی ہیں اپنے خاوند سے محبت کرنے والی عورت اور بمعنی بہت ہنسنے ہنسانے والی اور خوش ذوق اور ناز و ادا سے اپنے خاوند کو لبھانے والی عورت۔
21 أتْرَابٌ۔ تُرَابٌ بمعنی مٹی اور تارب ایک ساتھ مٹی میں کھیلنا۔ ہم عمر ہونا۔ دوست ہونا۔ اور ترب بمعنی ہم عصر، ہم عمر ساتھی اور ترب کی مونث تربۃ ہے اور ترب اور تربہ دونوں کی جمع اتراب آتی ہے۔ لیکن اتراب کا لفظ عموماً عورتوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا اتراب سے مراد ایسی دوست اور ہم عمر عورتیں ہیں جن کے مزاج میں بھی پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ یہ عورتیں آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی اور نوجوان ہی رہیں گی اور اپنے خاوندوں سے بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔
Ayahs 56:38–4022 یعنی مقربین تو اولین میں زیادہ ہوں گے اور آخرین میں کم جبکہ اصحاب الیمین اولین میں سے بھی بہت ہوں گے اور آخرین میں سے بھی۔ چناچہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم لوگ سارے اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوگے (اور تین چوتھائی میں باقی سب امتوں کے لوگ شامل ہوں گے) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا (اللہ کا شکریہ ادا کیا) پھر آپ نے فرمایا : نہیں تم تہائی حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم آدھا حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة حج۔ وتری الناس سکٰرٰی)