56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 56:80–81

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

یہ پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

پھر کیا اس کلام سے 38 تم مداہنت کر رہے ہو

38 مُدْھِنُوْنَ ۔ دُھْنٌ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور اَدْھَنَ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کرلینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔
Ayah 56:82

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور اس میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا کہ اسے جھٹلاتے 39 رہو

39 اس آیت کے بھی کئی مطالب ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح روزانہ کھانا کھاناتمہارا معمول ہے اسی طرح قرآن کو جھٹلانا بھی تم نے روز مرہ کا معمول بنا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی کوئی اور توجیہ تلاش کرکے اللہ کی اس نعمت کو بھی جھٹلا دینا تمہارا معمول بن گیا ہے۔ چناچہ سیدنا علی اس آیت کی تفسیر مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ مینہ ہم پر فلاں نچھتر اور فلاں ستارے کے سبب سے برسا ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور یہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی بارش اور بہت بڑی نعمت ہے اور تم اس نعمت کی شکرگزاری یوں کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کو مان لینے سے تمہارا رزق بند ہوجائے گا۔ کعبہ کی سرپرستی اور تولیت چھن جائے گی۔ نذریں نیازیں بند ہوجائیں گی اور کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں جو تمہارا عزت و وقار بنا ہوا ہے سب ختم ہوجائے گا۔ لہذا تم اپنے رزق اور عز وجاہ کا ثبات اسی بات میں دیکھتے ہو کہ تم قرآن کو جھٹلاتے رہو۔
Ayahs 56:83–86

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان ہنسلی کو پہنچ جاتی ہے

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم اس وقت تم سے بھی زیادہ اس جان کے نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر اگر تم کسی کے محکوم 40 نہیں

40 موت کا منظر اور انسان کی بےبسی :۔ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ۔ دین کا ایک معنی قانون جزا و سزا بھی ہے اور اس قانون کے مطابق اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا دینا بھی۔ ان چند آیات میں مرنے والے اور اس کے عزیز و اقارب سب کی انتہائی بےبسی کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف مرنے والا ہے جسے اپنی جان بچانا سب باتوں سے زیادہ عزیز ہے۔ پھر اس کے ساتھ اس کے عزیز و اقارب ہیں جنہوں نے اس کے علاج معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور چاہتے ہیں کہ اس کی جان بچ جائے۔ دوسری طرف اللہ یا اس کے فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی روح قبض کرنے آتے ہیں۔ پھر دیکھ لو غالب کون رہتا ہے اور مغلوب کون ؟ اللہ تعالیٰ کا ان منکرین آخرت سے سوال یہ ہے کہ آخرت کی چوکھٹ یا نقطہ آغاز موت ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو کسی بالائی قانون کی گرفت سے آزاد سمجھتے ہو تو میت کی جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے پھر جب تم ہمارے فرشتوں سے پہلے قدم پر ہی مات کھا گئے تو آگے کیسے بچ سکو گے ؟
Ayah 56:87

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

اور اگر تم (اپنی بات میں) سچے ہو 41 تو اس جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے ؟

41 سورت کے آخر میں یاددہانی کے طور پر انہیں تین گروہوں کا اجمالاً انجام ذکر کیا جارہا ہے جن کا بیان ابتدا میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یعنی مُقَّرَبِیْنَ ، أصْحَابُ الْیَمِیْنِ اور أصْحَاب الشِّمَالِ ۔
Ayahs 56:88–91

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

ہاں اگر وہ مرنے والا مقربین سے ہو

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو اس کے لئے راحت، عمدہ رزق اور نعمتوں والی جنت ہوگی

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوگا

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو اے دائیں ہاتھ والے لوگوں میں شامل ہونے والے ! تجھ پر 42 سلامتی ہو

42 اس آیت کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ اگر مخاطب دائیں ہاتھ والا سمجھا جائے تو اس کا مطلب وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور اگر مخاطب عام لوگ ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین کی طرف سے تم لوگ مطمئن رہو اور خاطر جمع رکھو۔ وہ یقیناً محفوظ و مامون رہیں گے۔
Ayahs 56:92–95

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں سے ہوگا

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو کھولتا پانی اس کی مہمانی ہوگی

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور وہ دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

یہ سب کچھ یقینا حق 43 ہے

43 یعنی جس طرح موت ایک اٹل حقیقت ہے اور تم اس حقیقت کو غیر حقیقت بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح مُقَّرَبِیْنَ ، أصْحَابُ الْیَمِیْنِ اور أصْحَاب الشِّمَالِ ۔ کا بتایا ہوا انجام بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اگر تم اسے جھٹلاتے بھی ہو تو اس طرح نہ وہ ٹل سکتی ہے نہ بدل سکتی ہے۔ لہذا خواہ مخواہ شبہات پیدا کرکے اپنے آپ کو دھوکا نہ دو ۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرتے رہیے 44 جو بڑی عظمت والا ہے۔

44 تسبیح وتحمید کی فضیلت اور فوائد :۔ تسبیح وتحمید میں مشغول رہنا ہی آخرت کی سب سے بڑی تیاری ہے۔ اس نیک مشغلہ سے جھٹلانے والوں کی دل آزار بیہودگی سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے اور سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ) پڑھا کرو اور جب سبح اسم ربک الاعلٰی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی) کہا کرو۔ (مسند احمد، ابو داؤد) گویا آپ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا اس کے چھوٹے چھوٹے اجزاء بھی قرآن کریم کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔ تسبیح وتحمید کی فضیلت میں وہ حدیث نہایت جامع ہے جو امام بخاری نے اپنی کتاب کے آخر میں درج فرمائی ہے جو یہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔ زبان سے ادائیگی کے لحاظ سے ہلکے پھلکے مگر میزان اعمال میں بہت وزنی ہیں اور وہ ہیں (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) (بخاری۔ کتاب التوحید باب قولہ تعالیٰ وَنَضَعُ الْمَوَازِ یْنَ الْقِسْطَ )