Ayahs 56:41–4323 یَحْمُوْمٍ ۔ حَمَّ کے بنیادی معنوں میں سے ایک معنی سیاہ ہونا بھی ہے اور حُمَّۃ بمعنی کوئلہ، راکھ اور آگ میں جلی ہوئی ہر شے اور یحموم ایسے دھوئیں کو کہتے ہیں جو گرم بھی ہو، سیاہ بھی اور غلیظ بھی، یعنی دوزخ کی آگ سے جو سیاہ دھواں اٹھے گا وہ اس کے سایہ میں پناہ لینے جائیں گے۔ وہ دنیا کی زندگی میں خوشحالی کا وقت گزار چکے تھے اور تکبر میں آکر اللہ اور اس کے رسول سے ضد باندھ رکھی تھی۔ آج انہیں ایسے گرم دھوئیں کی تپش میں بھون کر اتنا ہی ذلیل و خوار کیا جائے گا۔
Ayahs 56:44–4624 حنث عظیم کا مفہوم :۔ حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سرفہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اللہ اسے کبھی زندہ کرکے اٹھائے گا نہیں۔ (16: 38)
Ayahs 56:47–5225 زَقُّوْمٍ بمعنی تھوہر کا درخت جس کے پتے چوڑے، موٹے بڑے بڑے اور خار دار ہوتے ہیں۔ ذائقہ میں نہایت کڑوا اور اس کا لعاب زہریلا ہوتا ہے۔ بدن کے کسی حصہ سے لگ جائے تو پھوڑے پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة صافات کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ۔
Ayahs 56:53–5526 ھیم۔ ھَیَامٌ بمعنی شدید قسم کی پیاس اور ھام بمعنی سخت پیاسا ہونا۔ اور ھیام اونٹ کی اس بیماری کو بھی کہتے ہیں جس میں اونٹ سخت پیاسا رہتا ہے۔ وہ پانی پیتا جاتا ہے لیکن پیاس بجھنے میں نہیں آتی۔ جیسے انسانوں کو استسقاء کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے اور ھیم ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جسے نہ بجھنے والی پیاس کی بیماری لگی ہو۔ گویا اہل دوزخ کو تھوہر بطور خوراک کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ وہ اس کھولتے ہوئے پانی کو پیتے جائیں گے مگر ان کی پیاس ختم نہ ہوگی۔
Ayahs 56:56–5927 رحم مادر میں انسانی تخلیق کا نقطہ آغاز :۔ پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے ؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے ؟ جن چیزوں سے نطفہ بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ ؟ اور اس نطفہ کے بننے میں یا بنانے میں تمہارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا ؟ پھر اس نطفہ کو رحم مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے۔ اس کے بعد پھر اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم یا کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین سے نظر آسکتے ہیں۔ اسی طرح رحم مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا ہے۔ پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (CeLL) بن جاتا ہے۔ یہی انسانی زندگی کا نقطہ آغاز ہے اور اسی کا نام استقرار حمل ہے۔ نطفہ ٹپکانے کی حد تک تو مرد کو اختیار ہے۔ مگر یہ طاقت نہ مرد میں ہے نہ عورت میں اور نہ دنیا کی کسی اور طاقت میں کہ وہ نطفہ سے حمل کا استقرار کرا دے۔ پھر اس نقطہ آغاز سے ماں کے پیٹ میں بچے کی درجہ بدرجہ پرورش۔ ہر بچے کی الگ الگ صورت گری۔ ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک امتیازی انسان بن کر اٹھے۔ کیا یہ ایک خالق کے سوا کسی اور کا کام ہوسکتا ہے ؟ یا اس میں ذرہ برابر بھی کسی دوسرے کا کوئی دخل ہے ؟ پھر یہ فیصلہ کرنا بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکی ہو یا لڑکا۔ خوش شکل ہو یا بدشکل، اس کے نقوش تیکھے ہوں یا بھدے ؟ طاقور اور قد کاٹھ والا ہو یا کمزور نحیف اور تھوڑے وزن والا، تندرست ہو یا اندھا، بہرا، لنگڑا، ذہین ہو یا کند ذہن۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو خالصتاً اللہ تعالیٰ خالق کائنات کے اختیار میں ہیں۔ کیا ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی انسان یہ تصدیق نہیں کرسکتا کہ اسے پیدا کرنے والا اللہ رب العالمین ہی ہوسکتا ہے۔ اور جو مردہ غذاؤں سے ہر روز لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں انسان اور دوسرے جاندار پیدا کر رہا ہے وہ مردہ انسانوں کے بےجان ذرات سے پھر انہیں دوبارہ زندگی نہیں بخش سکتا ؟
Ayah 56:6028 انسان جو نطفہ رحم مادر میں ٹپکاتا ہے۔ اس کا ایک ایک قطرہ لاکھوں خوردبینی جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک جرثومہ نسوانی بیضہ سے مل کر حمل کے استقرار کا سبب بنتا ہے باقی سب متحرک جرثومے رحم مادر سے خارج ہوتے ہی مرجاتے ہیں۔ استقرار حمل کے بعد بسا اوقات عورت کو خون جاری ہوجاتا ہے اور حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ اسقاط ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ بچہ پیٹ میں ہی مرجاتا ہے اور کبھی پیدا ہوتے ہی مرجاتا ہے اور جو زندہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کے سر پر بھی موت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے معلوم نہیں کہ کس وقت رگ جان کو کاٹ ڈالے۔ کوئی بچپن میں ہی مرجاتا ہے کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں، اور کوئی سالہا سال بڑھاپے میں بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا ہے۔ گویا موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اور اس کا وقت بھی پہلے سے طے شدہ ہے۔ نہ اس لمحہ سے پہلے آسکتی ہے اور نہ اس کے وقت میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت نہ موت کو ٹال سکتی ہے نہ اس کا وقت بدل سکتی ہے۔ اب بتاؤ تمہاری زندگی اور تمہاری موت کے بارے میں اللہ کے سوا تمہارا اپنا یا کسی دوسرے کا کچھ اختیار ہے ؟ پھر بھی تمہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اللہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اور کرسکتا ہے۔
Ayah 56:6129 دوسری تخلیق زمین کے پیٹ میں اور اس کے لئے طبعی قوانین بالکل جداگانہ ہوں گے :۔ یعنی تمہارے طریقہ تخلیق کو ہی یکسر بدل ڈالے اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے۔ پہلے تمہاری تخلیق ماں کے پیٹ میں ہوئی تھی۔ دوبارہ تمہاری تخلیق زمین کے پیٹ میں ہو۔ ماں کے پیٹ میں تمہارے تخلیقی مراحل اور قسم کے تھے۔ زمین کے پیٹ میں تمہارے تخلیقی مراحل ان مراحل سے بالکل جداگانہ ہوں ؟ پہلے تم بچے کی صورت میں پیدا ہوئے تھے اور دوبارہ تم اس حالت میں پیدا ہو جس حالت میں مرے تھے۔ اور اسی قدوقامت کے ساتھ پیدا ہو، پھر رحم مادر کی تخلیق کے بعد جو طبعی قوانین تمہارے لیے مقرر تھے۔ دوسری بار کی پیدائش کے لیے طبعی قوانین بھی جداگانہ نہ ہوں۔ اس دنیا میں موت تمہارے لیے مقدر تھی اور موت سے فرار ممکن نہ تھا۔ آخرت میں زندگی مقدر ہو اور موت کبھی نہ آئے۔ اس دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے غیب کے پردے حائل تھے۔ اس دنیا میں سب حقائق واشگاف نظر آنے لگیں۔ حتیٰ کہ انسان اللہ کے دیدار سے بھی مشرف ہوسکے۔ اگر تم اپنی پہلی تخلیق کا بہ نظر غائر مطالعہ کرلو گے تو تمہیں دوسری تخلیق میں کوئی بات ناممکن نظر نہیں آئے گی۔
Ayahs 56:62–6430 زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل :۔ یعنی تمہارا کام صرف زمین میں بیج ڈالنا ہے پھر اس کے بعد زمین کی تاریکیوں میں اس بیج پر جو تخلیقی مراحل آتے ہیں یا جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کا نہ تمہیں علم ہے اور نہ ان میں کچھ تمہارا عمل دخل ہے۔ دانہ سے نازک سی کونپل کیسے بنتی ہے ؟ پھر اس نازک سی کونپل میں اتنا زور کہاں سے آتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے بیج بےجان اور مردہ تھا۔ اس سے جاندار نباتات پیدا ہوگئی جو پھلتی پھولتی اور بڑھتی ہے اور تمہارے لیے رزق کا سامان مہیا کرتی ہے اب دیکھئے لاکھوں کی تعداد میں مردہ بیج زمین کے پیٹ میں دفن کیے جاتے ہیں۔ پھر اسی زمین کے قبرستان سے وہی مردہ بیج نئی زندگی اور نئی آن بان سے تمہارے سامنے پیدا ہو رہے ہیں پھر بھی تمہیں اس بات میں شک ہے کہ تم زمین میں دفن ہونے کے بعد دوبارہ پیدا کیے اور زمین سے نکالنے نہیں جاسکتے ؟
Ayah 56:6531 بیج پر ممکنہ آفات :۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ شور پیدا کردے اور نسل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے یا کسی ارضی یا سماوی آفت مثلاً کہر، شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشوونما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑجائیں۔ تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے ؟ اور اگر تم خود بھی اللہ تعالیٰ کی ہی مہربانی سے پیدا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمہیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمہاری اکڑ اور سرتابی کا مطلب ؟ اس صورت میں تم باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہوگیا اور محنت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا تو ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمہیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ سمجھو۔
Ayahs 56:66–7032 آبی بخارات تو کھاری پانی کے ہوں اور بارش کا پانی خوشگوار :۔ یہ ایک اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کرکے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں سخت کھاری اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے۔ مگر جو بارش برستی ہے اس میں کھاری پن نام کو نہیں ہوتا۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اسی طرح عرق کشید کرتے ہیں۔ ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے اور بو بھی۔ لیکن سمندر کا کھاری پن آبی بخارات میں منتقل نہیں ہوتا اور یہ اللہ کی خاص رحمت ہے ورنہ اس زمین کا کوئی جاندار ایسا پانی پی کر زندہ ہی نہ رہ سکتا تھا۔ نہ ہی ایسے پانی سے پیداوار اگ سکتی ہے جو پانی کے بعد جانداروں کی زندگی کا دوسرا بڑا سہارا ہے۔
Ayah 56:7133 درختوں کا سب سے بڑا فائدہ آگ کا حصول :۔ تیسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ تم آگ جلاتے ہو۔ آگ جلانا اور اس سے استفادہ کرنا صرف انسان کا کام ہے۔ دوسری کوئی جاندار مخلوق یہ کام نہیں کرسکتی۔ جانور نباتات وغیرہ اسی حال میں کھاتے ہیں جس حال میں یہ زمین سے نکلتی یا دستیاب ہوتی ہے جبکہ انسان تمام سبزیاں، غلے اور گوشت وغیرہ آگ پر پکا کر کھاتے ہیں۔ پھر آگ سے ہی انسان نے کئی قسم کی دھاتیں ڈھال کر اپنے استعمال میں لانا شروع کیں۔ پھر مشینریاں اور کلیں بنائیں۔ اگرچہ آج کل آگ تیل، پٹرول اور گیس وغیرہ سے بھی حاصل کی جارہی ہے۔ مگر آج سے صرف دو صدی پیشتر تک آگ حاصل کرنے کا ذریعہ صرف درخت اور ایندھن تھا۔ بعض درخت ایسے ہیں جن کو ایک دوسرے پر رگرنے سے آگ حاصل ہوجاتی ہے اور بعض درختوں کا تیل ایندھن کا کام دیتا ہے اور ہر قسم کے درخت اور پودے، گھاس وغیرہ خشک ہو کر آگ حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ درختوں سے ہی کوئلہ اور پھر معدنی یا پتھری کوئلہ بھی بنتا ہے۔ گویا آج کے دور میں بھی آگ کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہ درخت وغیرہ ہی ہیں۔ اور درختوں کو پیدا کرنے اور نشوونما دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے۔ جس میں دوسرے کسی کام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اگر انسان سمجھے تو درختوں کی پیدائش بھی فی الحقیقت اس پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔
Ayahs 56:72–7334 مقوین کا لغوی مفہوم :۔ مُقْوِیْنٌ۔ القوٰی بمعنی بھوک اور بات الْقَوٰی بمعنی بھوکا رہ کر رات گزاری اور القاویۃ بمعنی کم بارش کا سال اور تقاوٰی بمعنی بارش کی قلت یا افراط جس سے فصل تباہ ہوجائے اور قحط نمودار ہوجائے۔ اور تقاوی قرضے وہ ہوتے ہیں جو ایسے قحط کے سال میں حکومت زمینداروں کو بالا قساط ادائیگی کی شرط پر دیتی ہے اور تقاوی بمعنی بھوکے رات بسر کرنا اور قوت لایموت بمعنی خوراک کی اتنی کم مقدار جس سے انسان بس زندہ رہ سکے اور مقوین بمعنی قوت کی احتیاج میں سفر کرتے پھرتے لوگ۔ خانہ بدوش لوگ جو رزق کی تلاش میں ادھرادھر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ درختوں کی لکڑیوں سے عارضی مکان بھی کھڑے کرسکتے ہیں۔ ایندھن بیچ کر اپنی دوسری ضروریات بھی پوری کرسکتے ہیں۔
Ayahs 56:74–7535 مَوَاقِعُ النُّجُوْمِ کا معنی ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی ہوسکتا ہے۔ فضائے بسیط میں بیشمار سیارے ایسے ہیں جو ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ یعنی افق مغرب جہاں ہمیں ستارے ڈوبتے نظر آتے ہیں یا صبح کی روشنی کے نمودار ہونے کا وقت، جب ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو معنی بھی لیے جائیں اس سے مراد ستاروں کی گردش اور اپنے اپنے مدارات میں سفر کرنے کا وہ پیچیدہ اور حیران کن مربوط اور منظم نظام ہے جس میں غور و فکر کرنے سے انسان اس قادر مطلق ہستی کی حکمت اور وسعت علم تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو اس کائنات پر کنٹرول کر رہی ہے۔
Ayahs 56:76–7736 اتنی بڑی قسم اللہ تعالیٰ نے اس بات پر اٹھائی کہ اس کتاب کے مضامین و مطالب نہایت بلندپایہ ہیں۔ یہ نہ کسی ساحر کی ساحری ہے، نہ کسی کاہن کی کہانت اور نہ کسی شاعر کے تخیلات ہیں بلکہ یہ بلند پایہ بزرگ و برتر ہستی کی طرف سے نازل شدہ بلند پایہ کتاب ہے جو اس نے تمام بنی نوع انسان کی ہدایت اور فلاح و بہبود کے لیے نازل فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کی بنا پر اس کے سب مضامین لوح محفوظ میں پہلے ہی مندرج ہیں۔
Ayahs 56:78–7937 مطہرون سے مراد کون ؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بےوضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بےوضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کرسکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔