Ayahs 55:1–21 یعنی یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے آپ کو قرآن جیسی عظیم الشان اور بلند پایہ کتاب سکھا دی جو پوری نوع انسانی کی ہدایت کا ذریعہ ہے اور اسی کی ہدایت پر عمل کرنے سے انسان کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو قرآن سکھایا ہے کسی اور نے نہیں سکھایا جیسا کہ کفار مکہ کا قرآن کے متعلق ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اسے کوئی عجمی سکھاتا ہے۔ پھر یہ شخص اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے ہمیں سنا دیتا ہے۔
Ayah 55:32 ہر مالک کا اپنے مملوک کو بتانا ضروری ہے کہ وہ اس سے کتنا کام لینا چاہتا ہے لہذا قرآن اتارا گیا :۔ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا تو انسان کی ہدایت بھی اللہ کے ذمہ تھی۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرما کر اس ذمہ داری کو پورا کردیا۔ قرآن کا اتارنا اس کی رحمت کا بھی تقاضا تھا اور اس کی خا لقیت کا بھی۔ پھر وہ خالق ہونے کے ساتھ ساتھ مالک بھی ہے اور ہر چیز بشمول انسان اس کی مملوک ہے۔ اور ہر مالک کا اپنے مملوک کو یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ اس سے وہ کیا کام لینا چاہتا ہے اور کس مقصد کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کو بھی انسانوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے ؟ اور یہ ضرورت قرآن اتار کر پوری کردی گئی۔
Ayah 55:43 اللہ تعالیٰ کا انسان پر مزید احسان یہ ہے کہ اسے قوت گویائی عطا کی جس سے وہ اپنے مافی الضمیر کا پوری طرح اظہار کرسکتا ہے۔ پھر اس قوت گویائی یا قوت بیان کا انحصار اور بہت سی قوتوں پر ہے مثلاً بینائی، سماعت، عقل و فہم، قوت تمیز اور ارادہ و اختیار۔ ان میں سے ہر ایک قوت ایک عظیم نعمت ہے اور اظہار بیان کے لیے یہ سب قوتیں یا ان میں سے اکثر ناگزیر ہیں۔
Ayah 55:54 چاند اور سورج میں نظم کی بنا پر انسانوں کو پہنچنے والے فائدے :۔ سورج اور چاند کا ایک مقررہ رفتار کے مطابق چلنا۔ پھر اس میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر نہ ہونا انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سورج سے دن رات ادل بدل کر آتے رہتے ہیں اور موسموں میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نمازوں کے اوقات کا تعلق بھی سورج سے ہے۔ فصلوں کے پکنے کا انحصار بھی سورج سے ہے۔ چاند سے ہمیں رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ہم مہینوں اور سالوں کا حساب رکھ سکتے ہیں اور یہی حقیقی اور فطری تقویم ہے۔ اسی لیے رمضان کے روزے، حج، عیدیں اور دوسری قابل شمار مدتوں مثلاً مدت حمل، مدت رضاعت و عدت وغیرہ کا تعلق چاند سے ہوتا ہے۔ پھر سورج اور زمین کے درمیان ایسا مناسب فاصلہ رکھا گیا ہے۔ کہ اس میں کمی بیشی سے اس زمین پر انسان اور دوسرے سب جانداروں کی زندگی ہی ناممکن ہے۔ اور سب فائدے اسی صورت میں حاصل ہورہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان عظیم الجثہ کروں کو ایسے طبعی قوانین میں جکڑ رکھا ہے جس سے وہ ادھر ادھر ہو ہی نہیں سکتے اور اپنے مقرر مداروں پر مقررہ رفتار سے ہمہ وقت محو گردش رہتے ہیں۔
Ayah 55:65 نجم کے معنی ستارا بھی ہے اور بےتنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بےتنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کردیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
Ayah 55:76 میزان کا مفہوم :۔ اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے۔ جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔ جو ہر سیارے میں قوت جاذبہ یعنی کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اور خفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب تر کوئی لفظ نہ تھا۔
Ayahs 55:8–97 یعنی اللہ نے نظام کائنات میں جس طرح عدل و انصاف سے کام لیا ہے تم اپنے باہمی لین دین میں اسے ملحوظ رکھو۔ اور اس کام کے لیے ہم نے میزان بنادی ہے۔ میزان کا معنی وزن کرنے کا آلہ بھی اور مقدار وزن بھی۔ علاوہ ازیں جس طرح میزان میں کمی بیشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح ناپ کے پیمانوں میں بھی کمی بیشی کرنا ویسا ہی جرم ہے۔ اور اس کمی بیشی کی وجہ صرف دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے۔
Ayah 55:108 انام کا لغوی مفہوم :۔ انام سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور انام سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کردیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے۔
خ اشتراکی نظریہ کا رد :۔ اس آیت سے اشتراکیت پسند حضرات نے اپنا نظریہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ زمین حکومت کو اپنی تحویل میں لے لینی چاہئے۔ پھر وہ تمام افراد کو رزق مہیا کرے۔ اس کے نظریے کے ابطال کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انام کے معنی صرف انسان نہیں بلکہ سب جاندار مخلوق ہے۔ پھر اس پر کئی اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا زمین کی تمام پیداوار تقسیم ہوگی یا مصنوعات ؟ اور کیا ہر فرد ریاست میں برابر تقسیم ممکن بھی ہے۔ یا نہیں ؟ اور آج تو ان لوگوں کا نظریہ عملاً بھی باطل قرار پاچکا ہے۔
Ayah 55:119 پھلوں کے ساتھ کھجور کا الگ بھی ذکر فرمایا ہے اس لیے کہ کھجور میں دوسرے پھلوں کی نسبت زیادہ غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اور کھجور اور پانی دو چیزیں مل کر مکمل غذا بن جاتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بعض دفعہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک چولہا نہیں جلتا تھا اور ہمارا گزارا صرف دو کالی چیزوں (کھجور اور مٹکے کا پانی) پر ہوتا تھا (بخاری۔ کتاب الہبۃ و فضلہا)
Ayah 55:1210 یعنی اناج یا دانے تو انسان کی خوراک بنتے ہیں اور بھوسی جانوروں کی۔ ان کے علاوہ ایسی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں تاہم ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
Ayah 55:1311 آلاء کا لغوی مفہوم :۔ آلاَءِ (اِلٰی کی جمع بمعنی نعمت بھی اور قدرت یا نشان عظمت بھی) اور آلاء سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کی ضرورت مہیا کرتی ہیں اور پے در پے آتی رہتی ہیں اور اسے زندگی بسر کرنے کے لیے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ (فقہ اللغۃ) اور یہ لفظ بالعموم جمع ہی استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسی نعمت ایک تو ہے نہیں لہذا ہمیشہ آلاء آتا ہے۔ اور یہ آیت اس سورة میں اکتیس مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ کہیں آلاء کا لفظ عظیم الشان نعمتوں کے معنوں میں اور کہیں قدرت کی نشانیوں کے معنوں میں اور کہیں بیک وقت دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ تم سے تو جن ہی اچھے ہوئے کہ جب میں (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 13 ) 55 ۔ الرحمن :13) پڑھتا تو وہ اس کے جواب میں یوں کہتے ہیں (لاَ بِشَیْئٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ) (اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے۔ سب حمد و ثنا تیرے ہی لیے ہے) لہذا جب کوئی شخص یہ آیت پڑھے تو اس کا یہی جواب دینا چاہئے۔ علاوہ ازیں اس آیت اور اس کے بعد کی آیات میں دونوں طرح کی مکلف مخلوق یعنی جنوں اور انسانوں کو مشترکہ طور پر خطاب کیا گیا ہے۔
Ayah 55:1412 سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل :۔ یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔ (1) تراب بمعنی خشک مٹی سے، (المومن : 67) (1) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین، (نوح : 17) (3) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا، (الانعام : 2) (4) طِیْنٍ لاَّزِبٍ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی، (الصافات : 11) (5) حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ بمعنی بدبودار کیچڑ،۔ (الحجر : 26) (6) صَلَصَالٍ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی، (ایضاً ) (7) صَلْصََالٍ کَاْلفَخَّارٍ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری، (الرحمن : 14)
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا (4: 1) پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 55:1513 جنوں کی تخلیق اور نسل :۔ مَارِجٍ بمعنی شعلہ کا اوپر کا گرم ترین حصہ جو دھوئیں سے یکسر پاک ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ) یعنی آگ کی لپٹ۔ جس سے مٹی کو کئی مراحل سے گزار کر اسے لطیف سے لطیف تر بنا کر اس سے انسان بنایا گیا۔ اسی طرح جنوں کو بھی لکڑی اور کوئلے سے پیدا ہونے والی عام آگ سے نہیں بلکہ اس گرم تر لطیف تر حصہ سے بنایا گیا۔ انسانوں سے پہلے یہی آتشیں مخلوق زمین پر آباد تھی۔ ان میں بھی نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ انسان کی تخلیق کے بعد نبوت کا سلسلہ انسانوں میں منتقل ہوگیا۔ کیونکہ اشرف المخلوقات انسان ہے نہ کہ جن۔ جو نبی انسانوں کی طرف مبعوث ہوتا وہی جنوں کے لیے بھی ہوتا تھا۔ نبی آخرالزمان جیسے ہمارے نبی ہیں ویسے ہی جنوں کے لیے بھی ہیں۔ جنوں میں کافر، مشرک، مومن، نیک اور بدغرض انسانوں کی طرح ہر طبقہ کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان کی بھی اولاد ہوتی ہے اور توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔
Ayahs 55:16–1714 یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ اس سورة میں مسلسل دو دو چیزوں کا ذکر چل رہا ہے جبکہ سورة معارج کی آیت نمبر 40 میں فرمایا کہ وہ بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ دو مشرقوں سے مراد ایک تو وہ مقام ہے جب سورج موسم گرما کے سب سے بڑے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ مقام ہے جہاں سے سورج، موسم کے سب سے چھوٹے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور ان دونوں مقاموں کے درمیان سب مشرق ہی مشرق ہیں۔ ہر روز طلوع آفتاب کے مقام کا ایک نیا زاویہ ہوتا ہے اور یہی حال مغربوں کا ہے۔ اسی تبدیلی سے موسم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان مشرقوں اور مغربوں کے پیچھے ایک بڑا حیرت انگیز اور پیچیدہ نظام قائم ہے جس کی بنا پر یہ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور ان کا ذکر پہلے کئی مقامات پر کیا جاچکا ہے۔
Ayahs 55:18–2015 اس کی تشریح کے لیے سورة فرقان کی آیت نمبر 53 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔
Ayahs 55:21–2216 مرجان برزخی مخلوق :۔ مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں۔ مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے جمادات کی طرح جامد نہیں۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں۔ مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں۔ یا ساتھ ساتھ دریا رواں ہوتے ہیں۔ اسی لیے منھما کا لفظ ارشاد فرمایا یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔
Ayahs 55:23–2417 یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمائی کہ اس نے بڑے اونچے اونچے جہاز تیار کرلیے جو مہیب سمندر کی تلاطم خیز موجوں کو چیرتے چلے جاتے ہیں لہذا انسان کے اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی طرف کی ہے کہ یہ جہاز دراصل انسان کی ملکیت نہیں ہماری ہی ملکیت ہیں۔
Ayahs 55:25–2718 ہر چیز فنا ہونے والی ہے استثناء صرف اللہ کے لئے ہے :۔ یعنی جو چیز بھی مخلوق ہے وہ حادث ہے اور قدیم صرف اللہ کی ذات ہے جو چیز بنی ہے خواہ وہ بےجان ہو ایک نہ ایک دن ضرور اپنا کام چھوڑ دے گی۔ خراب ہوجائے گی، برباد اور فنا ہوگی اور جو جاندار ہے وہ بھی ضرور موت سے دو چار ہوگی۔ صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم اور ازلی ابدی ہیں۔ لہذا ان کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اللہ کی صفات سے مراد مثلاً کلام اللہ یا قرآن یا لوح محفوظ اور اعمالنامے وغیرہ ہیں۔ رہے فرشتے بالخصوص حاملان عرش تو ان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ قرآن میں کئی مقامات پر فرشتے اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ جیسے جبریل نے سیدہ مریم کے سامنے آکر کہا تھا (لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا 19 ۔ ) 19 ۔ مریم :19) حالانکہ لڑکا یا اولاد عطا کرنا اللہ کی صفت اور اس کا کام ہے فرشتوں کا نہیں۔
Ayahs 55:28–2919 اللہ تعالیٰ کے نت نئے کام :۔ بےنیاز فقط اللہ کی ذات ہے باقی تمام مخلوق اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ کوئی اس سے کھانے کو مانگ رہا ہے کوئی پینے کو، کوئی تندرستی کے لیے دعا کرتا ہے اور کوئی اولاد کے لیے۔ کوئی گناہوں سے مغفرت اور ترقی درجات کے لیے اور وہ سب مخلوق کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر آن یہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت نئی سے نئی مخلوق کو وجود میں لا رہا ہے جس طرح انسانوں کی پیدائش بڑھ رہی ہے اسی طرح ہر ذی حیات کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر وہ کائنات میں نئے سے نئے سیارے اور کہکشائیں بھی وجود میں لا رہا ہے۔ غرض ہر روز اس کی ایک نئی آن اور نئی شان ہوتی ہے۔
Ayahs 55:30–3120 ثَقَلاَنِ : ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں۔ دو بڑی انواع جن اور انسان جو مکلف ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثَقَلاَنِ کہا گیا ہے۔
21 اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے حساب لینا بھی نعمت ہے :۔ یعنی تمہارا حساب لینے کے لیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت ہم اتنے مشغول ہیں کہ تمہارا حساب کتاب لینے کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تمہارے حساب کتاب کا وقت نہیں آیا۔ تاہم وہ وقت بھی قریب آرہا ہے جب اس کائنات کا دوسرا دور شروع ہوگا اور وہ دور بھی بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے کسی شخص نے اپنا نظام الاوقات یا ٹائم ٹیبل پہلے سے بنا رکھا ہو اور وہ کہہ دے کہ ابھی فلاں کام کے لیے ہمارے پاس فراغت نہیں اس کی باری ایک گھنٹہ بعد آنے والی ہے اور ان جماعتوں سے حساب لینا پھر انہیں اس کے موافق جزا و سزا دینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت اور اس کے عدل کا تقاضا ہے۔
Ayahs 55:32–3322 نفذ کا لغوی مفہوم :۔ نفذ بمعنی آر پار نکل جانا۔ جیسے لوہے کی سلاخ کے ایک سرے کو آگ پر گرم کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد حرارت دوسرے سرے تک از خود جا پہنچتی ہے۔ اور نفاذ بمعنی قوت سے کسی چیز کا اجراء ہونا، جیسے کہتے ہیں کہ اس ملک میں کل سے فلاں فلاں قانون نافذ ہوچکا ہے اور بمعنی چیز کا بسرعت داخل ہونا اور آر پار ہوجانا۔ جیسے برقی رو آر پار نکل جاتی ہے۔
23 سُلْطٰنٍ بمعنی غلبہ اور شدید قوت بھی اور اتھارٹی لیٹر یا پروانہ ئراہداری بھی۔ اب اگر اس آیت کا اطلاق اس مادی دنیا پر کیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ زمین و آسمان کے کناروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی قوت کی ضرورت ہے، جیسے انسان چاند پر، جو زمین کا سب سے قریبی سیارچہ ہے، پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس کے لیے انتہائی قوت اور بل بوتے کی ضرورت ہے۔ اور اتنا بل بوتا تم میں کبھی نہیں آسکتا کہ تم (مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 33ۚ ) 55 ۔ الرحمن :33) کو پھاند سکو۔ اور اگر تم چاہو تو زور لگا کے دیکھ سکتے ہو۔ اور اگر اس آیت کا ربط سابقہ آیت یعنی حساب کتاب سے ملایا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حساب کتاب اور اللہ کی گرفت سے تم میں سے کوئی شخص بھی ادھر ادھر بھاگ کر بچ نہیں سکتا الا یہ کہ کسی کو جنت کا پروانہ مل جائے۔ اس صورت میں اسے بھاگنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔
Ayahs 55:34–3524 شواظ بمعنی خالص آگ کا شعلہ جس میں دھوئیں کی آمیزش نہ ہو اور اگر آمیزش ہو تو اسے نحاس کہتے ہیں۔ مگر اس کی بھی صورت یہ ہونی چاہئے کہ آگ زیادہ اور دھواں کم ہو۔ ایسی آگ کی رنگت تانبے جیسی ہوجاتی ہے اور نحاس تانبے کو بھی کہتے ہیں۔
25 انتصار کے معنی کسی ظلم و زیادتی کا بدلہ لینا بھی۔ اور کسی زیادتی سے اپنا دفاع کرنا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حساب کتاب یا اللہ کی گرفت سے بھاگ کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا تو وہ اس میں کبھی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ اس پر آگ کے اور دھواں ملی آگ کے شعلے چھوڑے جائیں گے اور مجبوراً اسے اس جگہ کھڑا رہنا پڑے گا جہاں کھڑا رہنے کے لیے اسے حکم ہوگا اور وہ ایسا مجبور اور بےبس ہوگا کہ وہ نہ اپنا بچاؤ کرسکے گا نہ فرشتوں سے بدلہ لے سکے گا۔
Ayah 55:3626 یہاں آلاء کا لفظ نعمتوں کے معنوں میں بھی استعمال ہوسکتا ہے، یعنی مجرموں کو دنیا اور آخرت میں سزا دینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس طرح جہاں عام لوگ ظالموں کے ظلم سے نجات پاتے ہیں وہاں نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی اور قدر شناسی بھی ہوتی ہے۔
Ayah 55:3727 پہلے وردۃ کا لفظ استعمال فرمایا۔ ورد بمعنی گلاب کا پھول اور وَرْدَۃً بمعنی گلابی رنگ دِھَانٌ بمعنی تیل کی سرخی مائل تلچھٹ یعنی جس دن آسمان پھٹے گا اس دن تمام سیاروں کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور جو شخص آسمان کی طرف نظر دوڑائے گا اسے یوں معلوم ہوگا کہ عالم بالا میں ہر طرف ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔
Ayahs 55:38–3928 قیامت کے دن مختلف مواقع پر مجرموں سے مختلف قسم کا سلوک ہوگا۔ ایک موقع پر ان سے ٹھیک طرح باز پرس ہوگی جیسے فرمایا : (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92 ۙ ) 15 ۔ الحجر :92) اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مجرم اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ مجرموں سے نہیں پوچھے گا۔ بلکہ ان کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں اور جلدوں کو بولنے کا حکم دے گا۔ وہ ان اثرات کو بیان کریں گے جو اس جرم کے دوران ان پر مرتب ہوئے تھے۔ اس طرح ان کے خلاف شہادت قائم ہوجائے گی۔