54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

(قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ 1 گیا۔

1 ایک دفعہ رسول للہ منیٰ میں تشریف فرما تھے کفار مکہ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے آپ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا : آسمان کی طرف دیکھو، اچانک چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : 1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم کے زمانہ میں چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا اور دوسرا نیچے آگیا۔ آپ نے (ان لوگوں سے جو اس وقت موجود تھے) فرمایا : دیکھو گواہ رہنا (بخاری۔ کتاب التفسیر) 2۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم کے زمانہ میں چاند پھٹا تھا۔ (حوالہ ایضاً ) 3۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ مکہ کے کافروں نے آپ سے کہا کہ کوئی نشانی دکھاؤ۔ تو آپ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھادیا۔ (حوالہ ایضاً ) آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت اور انشقاق قمر کا باہمی تعلق یہ ہے کہ انشقاق قمر قرب قیامت کی ایک نشانی ہے جو واقع ہوچکی لہذا اسے بس اب قریب ہی سمجھو۔ جب کفار نے اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ یا تو چاند پر جادو کردیا گیا ہے یا ہماری نظروں پر جو ہمیں ایسا نظر آنے لگا ہے۔ اس حیرانی میں ایک شخص نے کہا کہ اگر ہماری نظر بندی کردی گئی ہے تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھ لو۔ چناچہ آس پاس کے لوگوں نے اس کی تصدیق کردی مگر یہ کافر اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔ اس آیت پر منکرین معجزات کئی طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض معنی کی تاویل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں صیغہ ماضی کا معنی استقبال میں لیا جائے گا اور معنی یہ ہوگا کہ جب قیامت قریب آجائے گی اور چاند پھٹ جائے گا جیسا کہ (اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۝۽) 81 ۔ التکوير :1) اور اس جیسی دوسری آیات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تاویل اور دلیل اس لیے غلط ہے کہ جہاں قیامت کے حوادث کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً آسمان پھٹ جائے گا۔ ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جھڑنے لگیں گے۔ زمین پر سخت زلزلے آئیں گے۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے وغیرہ کا ذکر ہے وہاں ان باتوں کو کفار کے سحر کہنے کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی قرآن میں ایسی آیات کے ساتھ سحر کا ذکر آیا ہے۔ کافروں کا چاند کے پھٹنے کو جادو کہنا اور اس پر کفار کی تکرار ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ ایک حسی معجزہ تھا جو وقوع پذیر ہوچکا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ فی الواقع ظہور میں آچکا ہے تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ رات کا ہے دن کا نہیں جب کہ اکثر لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھر اس وقت آدھی دنیا میں تو ویسے سورج نکلا ہوا تھا۔ جہاں یہ واقعہ نظر نہ آسکتا تھا اور باقی آدھی دنیا میں سے بھی صرف ان مقامات پر نظر آسکتا تھا جو منیٰ کے مشرق میں واقع تھے۔ پھر اس واقعہ کا کوئی اعلان بھی نہیں ہوا تھا جیسے آج کل جنتریوں اور اخباروں سے معلوم ہوجاتا ہے یا رصدگاہوں کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے لہذا لوگ کوئی اس بات کے منتظر بھی نہیں بیٹھے تھے کہ چاند پھٹے تو ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ چاند گرہن کئی گھنٹوں تک لگا رہتا ہے۔ لوگوں کو پہلے خبر بھی دی جاچکی ہوتی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت چاند گرہن لگنے سے غافل ہوتی ہے اور یہ انشقاق قمر تو صرف ایک لمحہ کے لیے واقع ہوا تھا۔ اسے کون دیکھتا ؟ اور آس پاس کے لوگوں نے شہادت دے ہی دی تھی۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ایسے اہم واقعہ کا تاریخ میں بھی ذکر ہونا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں۔ پہلا یہ کہ سب سے زیادہ مستند تاریخ حدیث کی کتابوں سے ہی دستیاب ہوسکتی ہے اور ان میں یہ واقعہ موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ اس دور میں جیسی اور جتنی توجہ تاریخ نویسی پر دی جاتی تھی وہ سب کو معلوم ہے۔ تیسرا یہ کہ جب دنیا کے لوگوں کی اکثریت اور ایسے ہی تاریخ نویسوں نے اسے دیکھا ہی نہ تو ہو لکھیں کیا ؟ اور چوتھا یہ کہ تاریخ بھی اس واقعہ کے اندراج سے یکسر خالی نہیں۔ تاریخ فرشتہ میں مذکور ہے کہ مالی بار کے مہاراجہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور بالآخر یہ واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا۔ خ چاند کے پھٹنے پر اعتراضات اور ان کے جواب :۔ چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ہیئت دانوں اور منجمین نے بھی اس واقعہ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چاند پھٹنے سے اس کی رفتار میں فرق آتا، یا وہ اپنا مدار بدل لیتا یا مدار سے ہٹ کر چلنے لگتا تو یہ باتیں اس قابل تھیں کہ ہیئت دان ان کا ذکر کرتے۔ لیکن جب ان میں سے کوئی چیز بھی واقع نہ ہوئی تو وہ کیا ذکر کریں ؟ اور پانچواں اعتراض یہ ہے کہ یہ واقعہ خرق عادت ہے اور ان کا دراصل سب سے اہم یہی اعتراض ہے جو انہیں تسلیم کرنے سے روکتا ہے اور وہ ادھر ادھر ہاتھ مارتے اور مختلف قسم کے اعتراض اور شکوک پیدا کرتے ہیں اور حقیقتاً ان کا یہ انکار اللہ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے۔ بہرحال یہ بات بھی آج بعید از عقل نہیں رہی۔ ہر سیارے کے پیٹ میں آتشیں مادے یا پگھلتی اور کھولتی ہوئی دھاتیں موجود ہیں جن کا درجہ حرارت ہزارہا درجہ سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ یہ مہیب لاوے ان عظیم الجثہ کروں کو کسی وقت بھی دو لخت کرسکتے ہیں۔ پھر ان کے مرکز کی مقناطیسی قوت جسے آج کی زبان میں قوت ثقل کہتے ہیں اور ان جدا شدہ ٹکڑوں کو ملا کر جوڑ بھی دیتی ہے اور ایسا عمل فضائے بسیط میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ کہکشائیں اسی طرح وجود میں آئی ہیں اور آج بھی یہ عمل بند نہیں بلکہ بدستور جاری ہے۔ علاوہ ازیں شہاب ثاقب کسی سیارے کے اس طرح سے جدا شدہ ٹکڑے کا نام ہے۔ جو کبھی علیحدہ ہو کر پھر جڑ جاتا ہے۔ کبھی فضا میں ہی گر کر گم ہوجاتا ہے اور کبھی کبھار زمین پر بھی آگرتا ہے۔ فضائے بسیط میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر انسان کو اس کا صحیح طور پر علم ہوجائے تو وہ ان انشقاق قمر کے واقعہ پر کبھی تعجب نہ کرے۔ انسان کو کیا معلوم کہ اللہ کی قدرتوں کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور وہ کس قدر حکمت بالغہ سے اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

یہ کافر خواہ کوئی معجزہ دیکھ لیں تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے 2 جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔

2 یعنی پہلے انبیاء بھی ایسے جادو کے کرشمے دکھاتے رہے ان کا جادو بھی چل بسا اور وہ خود بھی چل بسے۔ اسی طرح یہ نبی اور اس کے کرشمے بھی عنقریب ختم ہوجائیں گے۔
Ayahs 54:3–4

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

انہوں نے اسے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات ہی کی پیروی 3 کی جبکہ ہر کام کا ایک وقت مقرر 4 ہے۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

ان لوگوں کو (پہلی قوموں کی) خبریں مل چکی ہیں جن میں کافی تنبیہ ہے۔

3 یعنی نبیوں اور ان کے معجزات سے انکار کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ 4 یعنی ہر عمل کا کوئی نہ کوئی انجام یا نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور اس وقت تمہارے اور اللہ کے رسول کے درمیان جو کشمکش جاری ہے۔ اس کا بھی نتیجہ نکل کے رہے گا اور ایسا وقت لازماً آنے والا ہے جب تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ نبی حق پر تھا اور جس بات پر تم اڑے ہوئے تھے وہ غلط تھی۔
Ayah 54:5

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

(ان میں) دانائی کی باتیں ہیں جو اتمام حجت کو کافی ہیں لیکن یہ تنبیہات ان کے کسی کام 5 نہ آئیں۔

5 یعنی قرآن میں اقوام سابقہ کی سرگزشت کو اس لیے بار بار دہرایا گیا ہے کہ لوگ ان اقوام کے انجام اور عذاب سے عبرت حاصل کریں اور ان واقعات کا ذکر ان کے لیے تازیانہ کا کام دے۔ (جسے شرعی اصطلاح میں تذکیر با یام اللہ کہا جاتا ہے) ان واقعات میں لوگوں کے عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے مواد تو بہت موجود ہے لیکن اگر کوئی شخص ادھر توجہ ہی نہ کرے تو یہ تنبیہات اس کے کس کام آسکتی ہیں ؟۔
Ayah 54:6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

لہٰذا آپ ان کی پروا 6 نہ کیجئے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار 7 چیز کی طرف پکارے گا۔

6 یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ایسے ضدی انسانوں کی ہدایت کے لالچ میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ 7 نکر کا ایک معنی ناگوار ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا معنی انجانی اور اجنبی چیز ہے یعنی جب وہ حساب کتاب کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ بات ان کے لیے بالکل انوکھی ہوگی جس کا انہیں خواب و خیال تک نہ تھا کہ اس طرح انہیں زندہ کرکے حساب کتاب کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو یہ لوگ سہمی سہمی نگاہوں سے اپنی قبروں 8 سے یوں نکل آئیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوں۔

8 قبروں سے مراد صرف وہ قبریں نہیں جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان قبروں کے تو نام و نشان تک باقی نہ رہ جائیں گے۔ بلکہ یہاں قبروں سے مراد وہ مقام ہیں۔ جہاں کسی انسان کے جسم کے ذرات خاک میں ملے ہوئے ہوں گے۔ اور قبروں سے نکلنے کے بعد ان کی نگاہیں سہمی ہونے کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں ایک قیامت کے ہولناک مناظر دوسرے ان کی دنیا کی زندگی کی کرتوتیں۔ اسی سہمی ہوئی حالت میں وہ ٹڈی دل کی طرح اس طرف دوڑنا شروع کردیں گے جدھر سے انہیں پکارا جارہا ہوگا۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

وہ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے۔ (اس دن) کافر کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن 9 ہے

9 قیامت کی ہولناکیوں اور دہشت ناک مناظر دیکھ کر انہیں یہی فکر لاحق ہوگی کہ دیکھئے آج ان پر کیا گزرتی ہے۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح جھٹلا چکی ہے۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلا دیا اور کہنے لگے، یہ دیوانہ ہے اور اسے جھڑک 10 دیا گیا

10 سیدنا نوح اور ان کی قوم کا ذکر :۔ وہ دیوانہ تو اس لیے کہتے تھے کہ آپ قوم کی اکثریت کے آبائی عقائد کے خلاف صرف تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ اٹھ بھی کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کا اور آپ کے چند ساتھیوں کا اس ساری قوم کے خلاف ہونا ہی ان کے نزدیک دیوانگی تھا۔ وہ لوگ کبھی آپ کو سنگسار کرنے کی دھمکی دیتے کبھی قتل کی اور کبھی صرف اس بات پر ڈانٹ پلا دیتے تھے کہ تم اس کام سے باز کیوں نہیں آتے ؟
Ayahs 54:10–11

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ : میں مغلوب 11 ہوچکا، اب تو ان سے بدلہ لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔

11 سینکڑوں برس اپنی قوم پر مغز کھپانے اور ان کی طرف سے ایذائیں اور جھڑکیاں برداشت کرنے کے بعد آپ نے اس وقت دعا کی کہ جب کسی شخص کے مزید ایمان لانے سے آپ قطعاً مایوس ہوگئے تھے۔ اور دعا یہ کی تھی کہ ہم پر جو ظلم و ستم یہ لوگ ڈھا چکے ہیں ہماری مدد فرما کر ان سے بدلہ لے۔
Ayah 54:12

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین کو پھاڑ کر ہم نے کئی چشمے بہا دیئے۔ (نیچے اور اوپر کا) پانی ایک ایسے کام 12 کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔

12 طوفان نوح کا منظر :۔ اوپر آسمان سے موسلا دھار، متواتر اور لگاتار بارش ہونے لگی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان نے اپنے دہانے کھول دیئے ہیں۔ نیچے زمین سے پہلے تنور سے پانی نکلنا شروع ہوا۔ پھر بیشمار چشمے پھوٹ پڑے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ساری زمین چشمے ہی چشمے بن گئی ہے۔ جدھر دیکھو پانی کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ یہ عمل متواتر چھ ماہ جاری رہا اور پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ چھوٹے موٹے پہاڑ تک پانی میں ڈوب گئے اور پانی اس سطح تک پہنچ گیا جتنا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا۔
Ayah 54:13

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں 13 والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

13 کشتی نوح اور قوم کا تمسخر :۔ طوفان سے پیشتر نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق لکڑی کے تختوں اور لوہے کے کیلوں کی مدد سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی تھی جسے دیکھ کر آپ کی قوم یوں مذاق اڑاتی تھی کہ ہم تو پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں تم اس جہاز کو چلاؤ گے کہاں ؟ یہاں نہ تو نزدیک کوئی دریا ہے اور نہ سمندر ہے ؟
Ayah 54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی 14 ۔ یہ بدلہ اس شخص کی خاطر دیا گیا جس کا انکار 15 کیا گیا تھا۔

14 طوفان میں کشتی کا منظر :۔ جوں جوں پانی کی سطح بلند ہوتی جاتی تھی یہ کشتی خود بخود اوپر اٹھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ پہاڑ تک پانی میں غرق ہوگئے۔ اس وقت سیدنا نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے کس طرف کشتی کا رخ موڑنا ہے اور ہماری منزل کون سی ہے وہ بھی اللہ کے سہارے اس کشتی میں جانیں محفوظ کیے بیٹھے تھے اس کے علاوہ انہیں کچھ علم نہ تھا اور نیچے پانی کا سمندر بن گیا تھا۔ اللہ ہی اس کشتی کی حفاظت اور نگرانی فرما رہا تھا اور اس کے حکم سے یہ کشتی اپنا رخ بدلتی تھی۔ 15 اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی کفران نعمت یا قدر ناشناسی لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ نوح (علیہ السلام) کی ذات ان کے درمیان اللہ کی ایک نعمت تھی جن کی وجہ سے عذاب رکا ہوا تھا اور نبی کی ناقدر شناسی کی وجہ سے ہی ان پر یہ عذاب آیا تھا۔
Ayahs 54:15–16

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی 16 بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا تھا اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟۔

16 کشتی نوح نشانی کے طور پر :۔ یہ کشتی با لآخر جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ آسمان سے بارش بند ہوگئی۔ نیچے سے زمین نے پانی جذب کیا۔ کچھ ہواؤں اور سورج نے پانی خشک کیا۔ چناچہ چالیس دن بعد کشتی پر سوار لوگ اس قابل ہوگئے کہ کشتی سے اتر آئیں۔ مگر کشتی وہیں رہ گئی۔ اس سے جو کام لیا جانا منظور تھا وہ لیا جاچکا تھا۔ یہ مدت ہائے دراز تک وہیں پڑی رہی اور آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔
Ayahs 54:17–18

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان 17 بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

قوم عاد نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا۔

17 قرآن کی خوبیاں اور آسان زبان :۔ یہ اللہ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنے کلام کو آسان اور سہل بنادیا ہے۔ اس میں دی گئی مثالیں تشبیہات مناظر قدرت، دلائل اور انداز بیان سادہ اور عام فہم ہیں اس لیے کہ اس کے اولین مخاطب امی لوگ تھے۔ لکھے پڑھے عالم فاضل لوگ نہیں تھے۔ یہ کسی فلسفے یا منطق کی کتاب بھی نہیں جس کی عبارت پیچیدہ اور مغلق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتادیا کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی پیچیدگی نہیں رکھی۔ (8: 11) نیز اس میں محض خیالی فلسفے نہیں بلکہ ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے انسان کی عملی زندگی کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے اور ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں شعر نہ ہونے کے باوجود اس میں موزونیت اور تاثیر شعر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اس کو حفظ کرنا آسان ہے اور ہر چھوٹا بڑا عربی عجمی اسے تھوڑی سی محنت سے حفظ کرلیتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کے حافظ ہر دور میں لاکھوں کی تعداد میں رہے ہیں۔ پھر اس کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ اس کے اولین مخاطب تو امی ہیں۔ لیکن خطاب کرنے والی وہ ہستی ہے جو سب سے بڑھ کر علیم و حکیم ہے جس سے اس میں دو گونہ خوبیاں پیدا ہوگئیں ایک یہ کہ مبتدی اور منتہی دونوں اس کلام سے ایک جیسے مستفید ہوتے ہیں اور اپنی اپنی علمی سطح کے مطابق اس سے استفادہ اور ہدایت حاصل کرسکتے ہیں اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آسان انداز بیان اختیار کرنے کے باوجود اس کلام میں لاتعداد اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں جو باربار پڑھنے اور غور کرنے سے منکشف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ نے خود لا تنقضی عجائبہ کہہ کر ان باتوں کی طرف اشارہ فرما دیا : یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائب ختم ہونے میں آہی نہیں سکتے۔
Ayah 54:19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ایک منحوس 18 دن میں ان پر سناٹے کی آندھی چھوڑ دی جو مسلسل چلتی رہی

18 کیا کوئی دن بذات خود نحس یا سعد ہوتا ہے ؟:۔ کہتے ہیں کہ یہ دن ماہ شوال کا آخری بدھ تھا جس سے بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر مہینہ کا آخری بدھ منحوس دن ہوتا ہے پھر بعض ضعیف اور موضوع روایات کی بنا پر اس عقیدہ پر کئی حاشیے چڑھائے گئے کہ اس دن سفر نہ کرنا چاہئے۔ کاروبار نہ کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی سب باتیں خرافات ہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔ 1۔ اس مقام پر (فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورة حٰم السجدہ کی آیت نمبر 16 میں (فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ 16؀) 41 ۔ فصلت :16) کے الفاظ مذکور ہیں۔ اور سورة الحاقہ میں یہ صراحت ہے کہ یہ عذاب ان پر مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں رہا تھا۔ یعنی بدھ سے عذاب شروع ہوا اور اگلے بدھ تک رہا۔ اس لحاظ سے ہفتہ کے سب ایام ہی نحس ہوئے اور سعد ایک بھی نہ رہا۔ اور اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ 2۔ ایک ہی دن ایک قوم کے حق میں منحوس ہوتا ہے اور وہی دن دوسری قوم کے حق میں سعد ہوتا ہے۔ مثلاً یہی دن سیدنا ہود (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے حق میں سعد تھا۔ جنہیں اللہ نے اس مصیبت سے بچا لیا تھا یا مثلاً دس محرم کا دن فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا مگر یہ دن سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لیے سعد اور انتہائی خوشی کا دن تھا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی دن ایسا پیدا نہیں کیا جو سب کے لیے نحس ہو یا سعد ہو۔ یہ نجومی اور سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے والوں کی تقسیم ہے کہ فلاں دن نحس ہے اور فلاں سعد۔ شریعت ایسی تقسیم کو شرک قرار دیتی ہے۔
Ayahs 54:20–24

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ اکھاڑ کر پھینک رہی 19 تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجوروں کے درخت کی جڑیں ہوں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پھر (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

قوم ثمود نے (بھی) ڈرانے والوں کو جھٹلایا تھا۔

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک اکیلے آدمی کی پیروی کرنے لگیں ؟ تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

19 قوم عاد اور اس کا انجام :۔ یہ عذاب انتہائی تیز رفتار آندھی کی شکل میں تھا اور یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی جو ان کے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ درختوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور قوم کے قدو قامت، ڈیل ڈول اور مضبوط اور طاقتور جسم والے لوگوں کو بھی پاؤں سے اکھاڑ کر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کھجوروں کے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت ہی ہیں۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم میں سے یہی شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ وہ کذاب 20 اور ڈھینگیں مارنے والا ہے۔

20 قوم ثمود کے سیدنا صالح کو جھٹلانے کی تین وجوہ :۔ یعنی قوم ثمود نے تین وجوہ کی بنا پر سیدنا صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ایک یہ کہ وہ ہم ہی جیسا ایک انسان ہے۔ کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کوئی مافوق الفطرت بات اس میں ہم نہیں دیکھتے۔ دوسری یہ کہ وہ اکیلا ہے اس کے ساتھ نہ کوئی جتھا ہے نہ فوج نہ یارو مددگار اور نہ جاہ و حشم، پھر آخر ہم کس بنا پر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ہم جیسا احمق اور پاگل کون ہوگا۔ اور تیسری وجہ یہ کہ اگر اللہ کو اپنا کوئی رسول بنانا ہی تھا تو کیا اسے یہی شخص پسند آیا تھا ؟ جس کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ جاہ و حشم، پھر آخرت ہم کس بنا پر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ہم جیسا احمق اور پاگل کون ہوگا۔ بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے اللہ کی طرف سے رسالت کا محض ایک ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ اور حقیقتاً یہ کوئی بڑا آدمی یا لیڈر بننا چاہتا ہے۔ اور یہ بالکل اسی قسم کے اعتراضات تھے جو قریش مکہ رسول اللہ پر کر رہے تھے۔
Ayahs 54:26–27

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

یہ لوگ کل ہی جان 21 لیں گے کہ کذاب اور ڈھینگیں مارنے والا کون تھا ؟

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح ! ) ہم اونٹنی کو ان کے لئے آزمائش بنا کر بھیج رہے ہیں۔ تم صبر کے ساتھ ان (کے انجام) کا انتطار کرو

21 کل سے مراد ان پر عذاب کا دن بھی ہوسکتا ہے اور قیامت کا دن بھی اور بہت جلد بھی یعنی یہ حقیقت جلد ہی واضح ہوجائے گی کہ اصل میں جھوٹا اور بڑیں مارنے والا کون تھا۔ صالح (علیہ السلام) یا انہیں جھٹلانے والے ؟
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور انہیں آگاہ کردو کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا۔ ہر ایک اپنی باری 22 پر (پانی پر) آئے گا۔

22 ناقۃ اللہ کی صفات اور قوم کی آزمائش :۔ یہ دیو ہیکل اونٹنی قوم ثمود کے مطالبہ پر انہیں بطور معجزہ دی گئی تھی۔ اسی لیے اسے ناقۃ اللہ یا اللہ کی اونٹنی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ جہاں بھی جاتی تھی دوسرے جانور ڈر کے مارے بھاگ جاتے تھے۔ لہذا اس اونٹنی کا احترام اس قوم کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا۔ با لآخر وحی الٰہی کے مطابق یہ طے ہوا کہ ایک دن بستی کے کنوئیں سے یہ اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن قوم کے دوسرے جانور، ساتھ ہی قوم کو آگاہ کردیا گیا اگر تم اس فیصلہ میں رد و بدل کرو گے یا اس اونٹنی کو کوئی دکھ پہنچاؤ گے تو پھر تمہاری خیر نہیں۔
Ayahs 54:29–30

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

آخر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو پکارا 23 جو اس کے (مارنے کے) درپے ہوا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا۔

23 قوم کا ناقۃ اللہ کو زخمی کردینا :۔ اس اونٹنی کا احترام قوم کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ ان کے اپنے جانوروں کو ایک دن چھوڑ کر کھانے کو چارہ اور پینے کو پانی ملتا تھا۔ مگر وہ اسے ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ صالح (علیہ السلام) اگرچہ اکیلے ہیں اور صرف چند کمزور سے آدمی ان کے ساتھ ہیں تاہم کوئی غیبی طاقت ان کی پشت پر موجود ہے لیکن وہ زیادہ دیر صبر نہ کرسکے اور اندر ہی اندر اس اونٹنی کو مار دینے کے مشورے ہوتے رہے۔ با لآخر ایک بدکار عورت نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ اس اونٹنی کو ہلاک کردے۔ یہ قوم کا ایک کڑیل مضبوط نوجوان مگر اخلاقی لحاظ سے سب سے زیادہ بدکردار اور بدبخت انسان تھا۔ اس نے اونٹنی کے پاؤں کی رگوں کو کاٹ ڈالا۔ اونٹنی نے ایک چیخ ماری اور دوڑ کر اسی پہاڑ میں غائب ہوگئی جس سے نکلی تھی۔
Ayahs 54:31–33

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک ہی گرج دار آواز بھیجی تو وہ یوں ہوگئے جیسے کسی باڑ لگانے والے کی سوکھی 24 اور ٹوٹی ہوئی باڑ ہو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کو جھٹلایا

24 چیخ کا عذاب :۔ یہ لوگ چیخ یا گرج دار آواز سے ہلاک کیے گئے۔ فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے۔ اور مر کر ایک دوسرے پر گرنے لگے اور اس طرح ایک دوسرے سے روندے جانے لگے جیسے کسی کھیت کے گرد لگی ہوئی باڑ چند روز میں پامال ہو کر چورا چورا بن جاتی ہے۔ یہی ان لوگوں کا حال ہوا۔
Ayahs 54:34–35

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر پتھر برسائے مگر لوط کے گھر والوں کو ہم نے سحری کے وقت بچا کر نکال 25 دیا۔

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

یہ ہماری طرف سے احسان تھا (اور) ہم شکر کرنے والے کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں

25 قوم لوط پر عذاب :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کو پہلے مطلع کردیا گیا تھا کہ صبح کے وقت تمہاری قوم پر خوفناک عذاب آنے والا ہے۔ لہذا راتوں رات ہی تم اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر اس بستی سے نکل جاؤ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ پیچھے ہی رہے گی اور سزا پانے والوں میں شامل ہوگی۔ اور جب تم نکلو تو خود سب سے پیچھے رہنا۔ اور تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کے دل میں یہ خیال آجائے کہ دیکھوں تو سہی کہ اس قوم پر کیسا عذاب آتا ہے۔ ورنہ وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے گا۔
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

(لوط نے) انہیں ہماری گرفت سے یقینا ڈرایا تھا مگر وہ اس تنبیہ 26 کو مشکوک سمجھ کر باتیں بناتے رہے

26 سیدنا لوط کو قوم کی دھمکیاں :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ڈرایا تو تھا مگر یہ بدبخت قوم بھلا ان کی نصیحت کو بلکہ خود ان کو بھی کیا سمجھتی تھی۔ وہ الٹا لوط (علیہ السلام) کو دھمکیاں دینے لگی۔ اگر تم اتنے ہی پاکباز ہو تو ہماری اس گندی بستی سے نکل جاؤ۔ ورنہ ہم خود تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ نیز انہوں نے سیدنا لوط (علیہ السلام) پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ باہر سے آنے والے مسافروں اور مہمانوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ اس کے نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔ اور جو بات لوط (علیہ السلام) انہیں سمجھانا چاہتے تھے اور انہیں ان کے انجام سے مطلع کرکے انہیں اللہ کے حضور جوابدہی سے ڈرانا چاہتے تھے اس کو بھلا یہ لاتوں کے بھوت کب ماننے والے تھے بس الٹی سیدھی باتیں بنا کر جھگڑے کی راہ پیدا کرلیتے تھے۔
Ayah 54:37

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کا مطالبہ کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھوں کو بےنور 27 بنادیا (اور کہا) اب میرے عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو

27 عذاب کی نوعیت :۔ ان پر عذاب ڈھانے کے لیے تین فرشتے نہایت خوبصورت نوجوان بےریش لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ انہیں دیکھ کر سیدنا لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوگئے اور ڈر گئے کہ اس بدکار قوم سے ان مہمانوں کی آبرو کو کیسے بچا سکیں۔ اتنے میں بیوی صاحبہ نے آس پاس کے مشٹنڈوں کو مخبری کردی کہ بہت اچھا مال گھر میں آیا ہے۔ وہ لوگ اوپر سے ہی آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے ان بدبختوں کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اپنے برے ارادہ سے باز آجائیں کہ مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کریں۔ جب فرشتوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سیدنا لوط (علیہ السلام) کو علیحدہ لے جا کر صورت حال بتادی کہ تمہیں ڈرنے اور منت سماجت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پھر جب یہ اوباش اپنی خواہش جنسی پوری کرنے کے لیے ان لڑکوں کی طرف بڑھے تو ان میں سے ایک فرشتے نے ان کی آنکھوں پر ہاتھ پھیر دیا۔ جس سے ان کی بینائی جاتی رہی اور وہ چیخیں مار کر واپس دوڑنے لگے اور نظر نہ آنے کی وجہ سے دروازہ کی طرف بڑھتے ہوئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ یہ ان پر پہلا اور ہلکا عذاب تھا۔