54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 54:38–41

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور صبح سویرے ہی انہیں ایک نہ ٹلنے والے 28 عذاب نے آگھیرا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو (ہم نے کہا) اب میرے عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

آل فرعون کے ہاں بھی ڈرانے والے آئے تھے۔

28 پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریل (علیہ السلام) نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جاکر پھر الٹا کر زمین پردے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبودار ہوگیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔
Ayah 54:42

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انہیں کسی زبردست اور صاحب 29 قدرت کی گرفت کی طرح پکڑ لیا۔

29 فرعون کی خدائی اور فرعونیوں کا حشر :۔ فرعون بھی اپنے ملک میں خدا بنا بیٹھا تھا۔ سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) اس کے پاس ایسے واضح معجزات لے کر آئے تھے جن سے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر وہ اپنی فرمانروائی اور خدائی سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہ تھا لہذا پیغمبروں کو جھٹلا دیا اور ان پر ایمان لانے کی بجائے ظلم و ستم ڈھانے لگا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینے کے منصوبے سوچنے لگا۔ اس وقت ہم نے اسے ایسی سزادی جس سے بچ نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راہ نہ تھی۔ ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو عین سمندر کے درمیان لاکر سمندر کے پانی کو روانی کا حکم دیا۔ اس طرح اسے اس کے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کردیا۔ اس وقت نہ اس کی خدائی کام آئی اور نہ اس کے لشکر۔
Ayahs 54:43–44

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

(اے اہل مکہ ! ) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے آسمانی کتابوں میں نجات لکھ 30 دی گئی ہے ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتقام لے لینے والی جماعت ہیں۔

30 اے مکہ کے کافرو ! اب تم بتاؤ کیا تم ان لوگوں سے زیادہ طاقتور ہو یا شان و شوکت رکھتے ہو ؟ پھر اگر وہ لوگ ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکے تو تم کیسے بچ جاؤ گے ؟ یا ہم نے کسی آسمانی کتاب میں یا صحیفہ میں تمہارے حق میں یہ لکھ دیا ہے کہ تم دنیا میں جو چاہو کرتے پھرو ہم تم سے تعرض نہیں کریں گے۔ نہ ہی تمہیں کوئی سزا دیں گے اگر کوئی ایسی بات ہے تو دکھا دو ۔
Ayah 54:45

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

ان کی یہ جماعت جلد ہی شکست کھاجائے گی اور پیٹھ دکھا کر 31 بھاگ کھڑے ہوں گے۔

31 ہجرت حبشہ :۔ قیاس یہ ہے کہ یہ سورت سورة نجم سے ڈیڑھ دو سال بعد نازل ہوئی۔ نزولی ترتیب کے لحاظ سے سورة نجم کا نمبر 23 ہے اور اس کا نمبر 37 ہے۔ اور سورة نجم رجب 5 نبوی اور شوال 5 نبوی کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة 7 نبوی میں نازل ہوئی ہوگی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ کافروں کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر 83 مسلمان مرد اور عورتیں حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ باقی شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تھے۔ ان کا معاشرتی بائیکاٹ بھی کردیا گیا تھا اور معاشی بھی۔ باہر سے ان محصورین تک سخت پابندی بھی لگا دی گئی تھی اور مسلمان بھوک اور افلاس کا شکار ہو رہے تھے۔ بعض دفعہ درختوں کے پتے کھانے تک نوبت آجاتی اور یہ سب ظلم و ستم ڈھانے والے یہی سرداران قریش تھے جنہیں اپنی جمعیت پر ناز تھا کہ اسلام لانے کے جرم کا مسلمانوں سے پوری طرح انتقام لے سکتے ہیں۔ اس سورة کی آیت نمبر 44 میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت نمبر 45 میں ایسی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ جس کا اس دور میں تصور بھی ناممکن نظر آتا تھا۔ لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں دوسروں کی تدبیریں کیسے کارگر ہوسکتی ہیں۔ اس سورة کے نزول کے سات ہی سال بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ پیشینگوئی جو ناممکن نظر آرہی تھی جنگ بدر میں ایک ٹھوس حقیقت بن کر سامنے آگئی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہے۔ خ یہ پیش گوئی اس وقت کی گئی جب مسلمان شعب ابی طالب میں محصور تھے اور بدر کے دن پوری ہوئی :۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن آپ ایک خیمہ میں مقیم تھے۔ آپ نے یوں دعا فرمائی : یا اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدہ کی قسم دیتا ہوں، یا اللہ ! اگر تو چاہے تو (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو ہلاک کردے) تو پھر آج کے بعد کوئی تیری پرستش کرنے والا نہ رہے گا ۔ پھر سیدنا ابوبکر نے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا : یارسول اللہ اب بس کیجئے، آپ نے اپنے پروردگار سے التجا کرنے میں حد کردی۔ آپ اس دن زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ( سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45؀) 54 ۔ القمر :45) (بخاری، کتاب التفسیر) اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتقام لینے والے خود اللہ کے انتقام کا شکار ہوگئے۔ ستر بڑے بڑے کافر موت کے گھاٹ اترے اور اتنے ہی بھاگتے بھاگتے گرفتار ہوگئے۔
Ayah 54:46

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

بلکہ ان سے (نمٹنے کا اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت بڑی دہشت ناک 32 اور تلخ تر ہے۔

32 مسلمانوں سے انتقام لینے والی جماعت کو یہ سزا تو دنیا میں ملی اور اصل سزا تو قیامت کو ملنے والی ہے جو اس سزا سے دہشت ناک بھی زیادہ ہوگی اور دردناک بھی زیادہ ہوگی۔
Ayahs 54:47–48

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بلاشبہ مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی 33 میں پڑے ہیں

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

جس دن یہ دوزخ میں اپنے منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) اب چکھو جہنم کی لپیٹ کا مزا

33 سعر کا لغوی مفہوم :۔ سُعُر۔ سعر بمعنی آگ کا بھڑکنا اور شعلے نکلنا۔ پھر یہ لفظ مجازاً اشتعال دلانے اور مشتعل ہونے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور سعر سے مراد ایسی دیوانگی ہے کہ کسی بات پر انسان فوراً مشتعل ہو کر غلط کام کرنے لگے اور اس کی عقل صحیح کام نہ کرے۔ یعنی ان مجرموں کی یہ کیفیت ہوگئی ہے کہ ہدایت کی کسی بات پر غور کرنے سے پہلے ہی سیخ پا ہوجاتے ہیں۔
Ayah 54:49

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ہر چیز 34 کو ایک مقدار سے پیدا کیا ہے

34 اللہ کا ہر چیز کو اندازے سے پیدا کرنا :۔ یہ آیت اتنا وسیع مفہوم رکھتی ہے جس کی تشریح غالباً انسان سے ناممکن ہے۔ کیونکہ اس میں ایک تو ہر شے کا ذکر آگیا۔ دوسرے قدر یا مقدار یا اندازے کا۔ پھر اس اندازے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ تو انسان بیچارہ اس کی کیا تشریح کرسکتا ہے۔ سمجھانے کی خاطر محض ایک دو مثالوں پر ہی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک انسان کے قد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اندازہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں اس کا قد چھ فٹ ہو۔ اب اس میں چند انچوں کی کمی بیشی تو ہوسکتی ہے۔ مگر کوئی انسان دگنی خوراک کھا کر چھ فٹ کے بجائے بارہ فٹ کا نہیں ہوسکتا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس اندازے کے مطابق بنایا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والی مخلوق اس پر بسیرا کرسکے۔ ہر طرح کی مخلوق کی جائے پیدائش، مستقر، مسکن اور مدفن یہی زمین ہو اور ان امور خصوصاً رزق کے لیے کافی ثابت ہو۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دن ہی سے روئے زمین پر اتنا پانی پیدا کردیا پھر اس سے آبی بخارات، بادلوں اور بارشوں کا سلسلہ چلا دیا جو قیامت تک پیدا ہونے والی مخلوق کے لیے کافی ثابت ہو۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ ہر طرح کی مخلوق کو زندہ رہنے کے لیے گرمی کی جس مقدار کی ضرورت ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج پیدا کیا اور اس کو اتنے فاصلہ پر رکھا جو زندگی کی بقا کے لیے مناسب ہو۔ اب اگر سورج میں گرمی زیادہ ہوجائے یا فاصلہ کم ہوجائے تو سب جاندار گرمی سے مرجائیں اور اگر سورج میں گرمی کم ہوجائے یا فاصلہ زیادہ ہوجائے تو سب جاندار سردی سے ٹھٹھر کر مرجائیں۔ اور پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وہ اس سے پہلے نہیں ہوسکتا۔ مثلاً پانی سو درجہ سنٹی گریڈ پر کھولتا ہے۔ جب پانی کو اتنی حرارت ملے گی تب ہی کھولے گا پہلے نہیں۔ غرضیکہ اس آیت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں جن کا شمار بھی ممکن نہیں۔ تشریح تو دور کی بات ہے۔
Ayah 54:50

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم بس ایک ہی دفعہ کہنے پر اتنی جلدی ظہور پذیر 35 ہوجاتا ہے جیسے آنکھ کی جھپک

35 یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوچکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہوجاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہوگا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہوجائے گی۔
Ayahs 54:51–52

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور تمہارے جیسی تو بہت سی قوموں 36 کو ہم ہلاک کرچکے ہیں پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا ؟

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے سب اعمال ناموں میں درج ہے۔

36 اشیاع کا لغوی مفہوم :۔ اشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی، دھڑا، سیاسی فرقہ ہے یعنی وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں۔ یعنی کسی شخص کے پیروکار اور مددگار۔ ایسی پارٹی یا دھڑے کی بنیاد عموماً عقیدہ کا اختلاف ہوتا ہے۔ اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے اور وہ انہی معنوں میں آتی ہے اور اشیاع بھی آتی ہے اور اس سے مراد ایک ہی جیسی عادات واطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ ہم جنس لوگ۔ اس آیت میں یہ لفظ انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 54:53–54

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی 37 ہوئی موجود ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

بلاشبہ پرہیزگار لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

37 اس سے مراد فرشتوں کے تیار کردہ ہر انسان کے اعمال نامے ہیں جن میں ہر انسان کے اقوال و افعال، حرکات و سکنات، لب و لہجہ اور طرز بیان سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ثبت ہو رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس میں درج ہونے سے رہ جائے۔
Ayah 54:55

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

قادر مطلق بادشاہ کے پاس عزت 38 کے مقام میں (ہوں گے)

38 یعنی اللہ ذوالجلال اور قادر مطلق کے ہاں جن پرہیزگاروں کی مجلس ہوگی وہ سب کے سب سچے اور راست باز لوگ ہوں گے۔ انہیں اپنی سچائی کی بدولت اور اللہ اور اس کے رسول کے سچے وعدوں کے مطابق یہ مقام حاصل ہوگا۔