Explained with ayahs 1–3
حضرت حاطب بن ابوبلتہ ؓ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حضرت حاطب مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف حضرت عثمان ؓ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہوجائے اسی لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 2
یہاں تک جو ارشاد ہوا ہے، اور آگے اسی سلسلے میں جو کچھ آ رہا ہے، اگرچہ اس کے نزول کا موقع حضرت حاطب ہی کا واقعہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے تنہا انہی کے مقدمہ پر کلام فرمانے کے بجائے تمام اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ درس دیا ہے کہ کفر و اسلام کا جہاں مقابلہ ہو، اور جہاں کچھ لوگ اہل ایمان سے ان کے مسلمان ہونے کی بنا پر دشمنی کر رہے ہوں، وہاں کسی شخص کا کسی غرض اور کسی مصلحت سے بھی کوئی ایسا کام کرنا جس سے اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہو اور کفر و کفار کے مفاد کی خدمت ہوتی ہو، ایمان کے منافی حرکت ہے۔ کوئی شخص اگر اسلام کی بد خواہی کے جذبہ سے بالکل خالی ہو اور بد نیتی سے…
Read the full tafseer →(آیت) اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْۗءِ ان لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ موقع پانے کے باوجود تمہارے ساتھ کوئی روا داری برتیں گے اس کا کوئی امکان نہیں، ان کو جب کبھی تم پر غلبہ حاصل ہوگا تو ان کے ہاتھ اور زبان تمہاری برائی اور خرابی کے سوا کسی چیز کی طرف نہ اٹھیں گے۔
وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ، اس میں اشارہ ہے کہ جب تم ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گے تو ان کی دوستی صرف تمہارے ایمان کی قیمت پر ہوگی، جب تک تم کفر میں مبتلا نہ ہوجاؤ، وہ کبھی تم سے راضی نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →(ان یتقفوکم یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیھم والسنتھم بالسوئو و دوا لو تکفرون) (2)۔
(کفا کے غباد کا حال)۔ یعنی تم تو ان سے دوستی کے خواہشمند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں قابو پا گئے تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے نہ زبان درازی سے بلکہ ان کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ تمہیں مرتد کر کے چھوڑیں۔ یہی بات سورة توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ (وَاِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّۃًط) (التوبۃ : 9، 8) (اگر وہ تم پر قابو پا گئے تو پھر تمہارے معاملہ میں نہ وہ قرابت کا پاس کریں گے نہ کسی عہد کا) مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی تمہارے خلاف ان کے دلوں میں تو اس طرح بغض وعناد ہے اور تم ہو کہ ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے جس واقعے کے پس منظر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں وہ اوپر سورت کے تعارف میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے، غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کی کیا حد ہونی چاہئیں ؟ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة آل عمران (آیت : 28) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →ان یثقفوکم .................... بالسوء (0 : 2) ” ان کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں “۔ وہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی موقعہ پاتے ہیں ، اپنے کمینے اور دشمنی کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جس قدر اذیت مومنین کو دے سکتے ہیں ، دیتے ہیں۔ یہ ہاتھوں سے اذیت ہو ، یا زبانوں سے اذیت ہو ، ہر طریقے اور ہر سبیل سے وہ اس کام کے لئے تیار ہیں .... اور سب سے بڑی بات اور سب سے خوفناک بات یہ ہے :
وودوا لوتکفرون (06 : 2) ” وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ “۔ صحیح مومنین کے لیے یہ تمام اذیتوں سے بڑی اذیت ہے۔ ہر جسمانی ، لسانی اور…
Read the full tafseer →1 یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو۔ خواہ تم کتنی ہی رواداری اور دوستی کا اظہار کرو گے۔ وہ کبھی مسلمان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ باوجود انتہائی رواداری کے اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں۔ زبان سے، ہاتھ سے ہر طرح ایذا پہنچائیں اور یہ چاہیں کہ جیسے خود صداقت سے منکر ہیں، کسی طرح تم کو بھی منکر بنا ڈالیں۔ کیا ایسے شریر و بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 2 { اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآئً } ”اگر وہ تمہیں کہیں پالیں تو وہ تمہارے ساتھ دشمنی کریں گے“
{ وَّیَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوْٓئِ } ”اور تمہاری طرف بڑھائیں گے وہ اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برے ارادے کے ساتھ“
تم تو ان کی طرف دوستی کے پیغامات بھیج رہے ہو ‘ لیکن اگر تم کہیں ان کے ہتھے چڑھ جائو تو وہ تمہارے ساتھ دشمنی کا ہر حربہ آزمائیں گے ‘ تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی ‘ اور تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
{ وَوَدُّوْا لَوْ تَـکْفُرُوْنَ۔ } ”اور ان کی شدید خواہش ہوگی کہ تم بھی کافر ہو جائو۔“
Read the full tafseer →6 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس خوش فہمی کی بنا پر سیدنا حاطبص نے یہ کام کیا تھا۔ وہ توقع بھی عبث اور لاحاصل تھی۔ ان کافروں کے دلوں میں تمہارے لیے اس قدر بغض وعناد ہے کہ وہ تمہیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا۔ اور اگر کسی وقت تم پر ان کا بس چل جائے تو پھر وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرچکے ہیں۔ ان کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ تم بھی انہی کی طرح پھر سے کافر بن جاؤ اور ان کی جمعیت میں شامل ہوجاؤ۔ بتاؤ کیا تم یہ پسند کرو گے ؟
Read the full tafseer →3۔ غرض یہ کہ یہ کافر تو دنیوی اور دینی ہر اعتبار سے تمہارے دشمن اور بدخواہ ہیں۔ آیت میں مسلمانوں کے ساتھ کافروں کی مستقل دشمنی وعناد اور بدخواہی کا بیان آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو، خواہ تم کتنی ہی روا داری اور دوستی کا اظہار کرلو گے وہ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، انتہائی روا داری کے باوجود اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں گے، زبان سے ہاتھ سے غرضیکہ ہر طرح سے ایذاء پہنچائیں گے اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ تم کفر میں وکا پس پلٹ آئو، کیا ایسے شریر اور بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجاجائے۔
Read the full tafseer →ان ینقفوکم یکونوا لکم اعداء و یبسطوا الیکم ایدیھم والنستھم بالسوء وودوا لوتکفرون
” اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے ‘ تم پر دست درازی کریں گے اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے وہ متمنی ہیں کہ تم کافر ہوجاؤ ‘
اِنْ یَّنْقَفُوْکُمْ : یعنی اگر وہ تم پر قابو پالیں گے اور فتح یاب ہوجائیں گے ‘ قاموس میں ہے : ثقفہ بروزن منعہ۔ اس کو پا لیا ‘ لے لیا ‘ کامیاب ہوگیا ‘ اس پر پہنچ گیا۔
یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآءً : یعنی تم جو ان کو اپنی طرف سے دوستی کی پیش کش کرو گے اس سے تم کو کوئی فائدہ نہ ہوگا وہ اس پیش کش کے بعد بھی اگر قابو پالیں گے تو تمہارے دشمن ہی رہیں…
Read the full tafseer →اگر مکہ والے تم پر غلبہ کرنا چاہیں تو تمہارے سامنے ان کی دشمنی واضح ہوجائے گی وہ تم پر مارنے کے ساتھ دست درازی اور گالی گلوچی کے ساتھ زبان درازی کرنے لگیں گے اور مکہ والے تو تمہارے کفر کے متمنی ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَکُوْنُوْالَکُمْ اَعْدَآئً۔۔۔۔: اس میں پچھلی آیت کے آخری جملے کی وجہ بیان فرمائی ہے ، یعنی تم میں سے جو شخص اس توقع پر کفار و مشرکین سے دوستی رکھے اور ان کی طرف خفیہ پیغام بھیجے کہ وہ مشکل وقت میں اس کے کام آئیں گے یا اس کے اہل و عیال کا خیال رکھیں گے تو وہ سیدھے راستے س بھٹک کر غلط راستے پر چل پڑا ہے ، کیونکہ ان کافروں کے دلوں میں تمہارے لیے اس قدر بغض و عناد ہے کہ وہ تمہیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ، کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا اور تم ان کے قابو نہیں آرہے۔ اگر کسی وقت ان کا بس چل جائے اور تم ان کے قابو میں آجاؤ تو وہ پہلے کی طرح تمہارے دشمن ہی ہوں…
Read the full tafseer →آیات 2
تفسیر
ان یثقفوا کم اگر وہ تمہیں ملیں اور تمہیں اچانک پالیں۔ اس سے ثاقفہ ہے جس کا معنی ہے تلوار چلانے وغیرہ کے لئے موقع کی تلاش کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تم پر کامیابی حاصل کریں (1) اور تم پر قدرت حاصل کریں ایدیھم وار کرنے اور قتل کرنے اور السنتھم گالی گلوچ کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ ودوالوتکفرون وہ خواہش کرتے ہیں کہ تم حضرت محمد ﷺ کا انکار کردو پس تم ان کے ساتھ اخلاص کا مظاہرہ نہ کرو وہ تم سے مخلص نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم…
Read the full tafseer →[ان يَّثْقَفُوْكُمْ : اگر وہ لوگ قابو پالیں تم پر ][ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً : تو وہ ہوجائیں گے تمہارے دشمن ][ وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ : اور بڑھائیں گے تمہاری طرف ][اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ : اپنے ہاتھوں کو اور اپنی زبانوں کو ][ بِالسُّوْۗءِ : برائی سے ][ وَوَدُّوْا : اور چاہیں گے (کہ)][ لَوْ تَكْفُرُوْنَ : کاش تم لوگ کفر کرو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے کی ممانعت
ان آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے متعلق ہے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا واقعہ :
انہوں نے اہل مکہ کو (جو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے) ایک خفیہ خط لکھا جس کا واقعہ امام بخاری (رح) نے کتاب الجہاد صفحہ 422 اور کتاب المغازی صفحہ 567، صفحہ 286 اور کتاب التفسیر صفحہ 726 میں یوں لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو (اور بعض روایات میں حضرت ابومرثد غنوی ؓ کا نام بھی ہے) (یہ چاروں حضرات گھوڑا سوار تھے) رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا کہ تم روانہ ہوجاؤ اور چلتے رہو یہاں تک کہ روضہ خاخ تک پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا الا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء ..... الی ..... واللہ بما تعملون بصیر “۔
(ربط) حاطب بن ابی بلتعہ ؓ اگرچہ ایک مخلص صحابی تھے جن کو عزوۂ بدر کی شرکت نصیب ہوئی تھی اور جملہ اہل بدر خدا کی نظر میں وہ مقدس ہستیاں تھے جن کے لیے بارگاہ خداوندی سے پروانہ مغفرت جاری ہوچکا تھا مگر بہرکیف غلطی خواہ کسی سے بھی ہو اچھی بات نہیں ہے اس سے بچنا ہر ایک کے لیے لازم ہے تو حکم خداوندی نازل ہوا کہ مسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ خدا کے دشمنوں اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست بنائیں اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے قلب میں کفر اور…
Read the full tafseer →5:۔ ” ان یثقفوکم “ یہ کفار کی کھلی عداوت اور دشمنی کا بیان ہے۔ اگر کہیں تم ان کے ہاتھ آجاؤ تو تمہارے بدستور دشمن ہی ہوں گے اور تمہارے پیغامات مودت کی ذرہ بھر پروا نہیں کریں گے اور ہاتھ اور زبان سے قتل و ضرب، گالی گلوچ اور بدزبانی سے تمہیں ایذا پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تمہیں مسلمان دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور ان کی خواہش ہے کہ تم دین اسلام کو چھوڑ کر پھر سے کافر ہوجاؤ۔ دوسرے لفظوں میں وہ تمہیں دین و دنیا کی مضرتوں میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں یعنی انہم یریدون ان یلحقوا بکم مضا الدنیا والدین جمیعا، (کشاف، بحر) ۔ تو کیا ایسے بد ترین دشمن اس لائق ہوسکتے ہیں کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الممتحنہ ہے جو کہ امتحان کے مادہ۔ سے ہے اس سورة کی آیت نمبر 10 میں ان عورتوں کو بعیت لینے سے پہلے اچھی طرح جانچ لینے کا حکم ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی ہجرت کا مقصد اسلام لانے کے سوا کوئی اور تو نہیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کا نام سورة ممتحنہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں صلح حدیبیہ کے بعد 7 ھ کے قریب نازل ہوئی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سورة احزاب اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس سورة کی تیرہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 348 الفاظ اور 1510 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
پچھلی سورة میں اللہ نے کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع…
Read the full tafseer →اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوْۗءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ 2 ۭ
ثقف
الثَّقْفُ : الحذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه قيل : رجل ثَقِفٌ ، أي : حاذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه استعیر : المُثَاقَفَة «3» ، ورمح مُثَقَّف، أي : مقوّم، وما يُثَقَّفُ به : الثِّقَاف، ويقال : ثَقِفْتُ كذا : إذا أدركته ببصرک لحذق في النظر، ثم يتجوّز به فيستعمل في الإدراک وإن لم تکن معه ثِقَافَة . قال اللہ تعالی: وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ [ البقرة/ 191] ، وقال عزّ وجل : فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ [ الأنفال/ 57] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : تلقون الخ حال من ضمیر الفاعل فی تتخذوا اوصفۃ لاولیاء اواستیناف والباء زائدۃ ‘ وقدکفروا الخ حال من فاعل تلقون وقیل من فاعل لاتتخذوا یخرجون الخ حال من فاعل کفروا اواستیناف مبین لکفر ھم وصیغۃ المضارع لاستحضار الصورۃ۔ ان تو منوا مفعول لہ معمول یخرجون ان کنتم جو ابہ محذوف دل علیہ لاتتخذوا جہادا مصدر فی موضع الحال اومعمول فعل محذوف دل علیہ الکلام تسرون توکید لیقلون بتکریر معناً وانااعلم حال وقیل اعلم مضارع والباء مزیدۃ ماموصولۃ اومصدر۔
تفسیر : سورة حشر میں منافقوں کی بدسیرت کا بیان تھا جس سے حذر کرنا چاہیے۔ اب اس سورة میں منافقانہ سیرت کی مذمت کرتا ہے۔ اور اس سورة کی شان نزول میں بخاری (رح)…
Read the full tafseer →اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَـکُوْنُوْا لَـکُمْ اَعْدَآئً وَّیَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ وَاَلْسِنَتَھُمْ بِالسُّؤٓئِ وَوَدُّوْا لَوْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 2)
(اگر وہ تم کو پاجائیں تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی، اور چاہیں گے کہ تم کافر ہوجاؤ۔ 2)
گزشتہ مضمون کا تسلسل
گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم جن لوگوں سے خیر کی توقع رکھتے ہو اور ان کے کفر کو نظرانداز کرتے ہوئے مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہو اور ان کی دوستی کے خواہشمند ہو، تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ کہیں تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے ساتھ دوستی نہ کرنے کی ایک اور وجہ۔
کفار کے ساتھ دلی دوستی اور اپنا راز ظاہر کرنے سے اس لیے بھی روکا گیا ہے کہ اگر کافر مسلمانوں پر غلبہ پالیں تو وہ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں اور زبان سے تکلیف دینے سے باز نہیں آئیں گے ان کی خواہش ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی طرح کافر بن جائیں۔ اے مسلمانو ! جس اولاد اور رشتہ داروں کی خاطر کفار کے ساتھ دلی دوستی رکھتے ہو اور انہیں اپنا راز بتلاتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ پوری طرح دیکھتا ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے…
Read the full tafseer →کفار کی تمنا :
2 : اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ (اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے) اگر وہ تم پر کامیابی اور اختیار پالیں۔ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآ ئً (تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے) وہ خالص دشمنی کرنے والے ہونگے وہ تمہاری طرح دوستی کرنے والے نہ ہونگے۔ وَّ یَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَھُمْ بِالسُّوْئِٓ (وہ دست درازی کریں گے اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے) یعنی گالم گلوچ اور قتل پر اتر آئیں گے۔ وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ (وہ متمنی ہیں کہ تم کافر ہوجائو) ان کی تمنا یہ ہے کہ کاش تم اپنے دین سے مرتد ہوجاتے۔ ایسے لوگوں کی دوستی تمہاری طرف سے بڑی عظیم غلطی ہے۔
ایک نکتہ :
شرط کے…
Read the full tafseer →حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ
آیات 1
1 ۔” یایھا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیائ “
ضرت عبداللہ بن ابی رافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے مجھے اور حضرت عمار، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت مقداد بن اسود اور حضرت ابو مرثد (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کو (سارہ کے تعاقب میں) روانہ کردیا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار ہوکر چل دیئے۔ حضور ﷺ نے ان کو حکم دیا، روانہ ہوجائو۔ جب نخلستان خاخ پر پہنچنا تو وہاں تم کو ایک عورت ملے گی جو اونٹ پر سوار ہوگی، اس کے پاس مشرکوں کے نام حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہوگا۔ وہ خط اس سے لے لینا اور پھر اس کو جانے دینا، اگر وہ خط نہ دے تو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے چناچہ فرمایا (اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ ) یعنی اگر وہ تمہیں پائیں اور تمہیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے (كُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً ) تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہوجائیں گے۔ (وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْۗءِ ) اور قتل ور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمہاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو یعنی گالی وغیرہ۔ (وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ) اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے اور یہی وہ غرض وغایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
دشمنان خدا اور رسول سے دوستی کی ممانعت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولئک تلقون الیھم بالمودۃ، اے ایمان والو ! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو)
ایک قول کے مطابق آیت کا نزول حاطب ؓ بن ابی بلتعہ کے بارے میں ہوا تھا۔ انہوں نے خفیہ طور پر کفار قریش کو خط لکھوا کر انہیں خیر خواہانہ مشورے دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی۔
آپ نے حاطب کو طلب کرکے ان سے خط کے متعلق استفسار کیا، انہوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا آپ نے ان سے پوچھا کہ آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے عرض کیا بخدا ! جب سے میں مسلمان…
Read the full tafseer →[ 6] کفار کے اہل ایمان سے عداوت وعناد کے حال کا ذکر وبیان :
سو کفار کی اہل ایمان سے عداوت وعناد کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اگر تم لوگوں پر قابو مل جائے تو وہ کیا کچھ نہیں کریں گے ؟ کہ اس صورت میں وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے۔ تم لوگوں پر دست درازی بھی کریں گے، اور زبان درازی بھی، اور وہ چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر بن جاؤ۔ سو قتل و قتال، سب وشتم، ظلم و زیادتی، اور طرح طرح کے چھوٹے پروپیگنڈے وغیرہ میں سے جو بھی کچھ ان سے ہو سکے گا اس میں یہ کبھی فرق نہیں کریں گے، تو ایسوں سے تمہاری دوستی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو تم ان سے دوستی کے خواہش مند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں
تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی تمہارا چپکے چپکے ان سے دوستی گانٹھنا کوئی فائدہ نہ دے گا۔
Read the full tafseer →(60:2) ان یثقفوکم : ان شرطیہ ۔ یثقفوا مضارع مجزوم بالشرط صیغہ جمع مذکر غائب ثقف (باب سمع) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو پانا۔ اور اس پر کامیاب ہونا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، اگر وہ تم پر کامیاب ہوجائیں ۔ اگر وہ تم پر قابو پالیں۔ اصل میں ثقف کے معنی ہیں کہ کسی شے کا ادراک کرلینا نیز اس کے کرنے اور انجام دینے میں مہارت اور حذاقت کے پائے جانے کے ہیں۔ اور اسی لئے نظر کی مشاقی کی بدولت کسی چیز کو نگاہ سے پالینے کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔
پھر مجازا بغیر اس کے کہ مہارت اور حزاقت ملحوظ ہو صرف پانے اور ادراک کرنے کے لئے بولنے لگے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ واقتلوہم حیث ثقفتموھم (2:191) اور ان کو جہاں پاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔
تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔
(ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابلے میں رشتے ناتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن تمام رشتے اور تعلقات توڑ دئیے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنا ہی حساب دینا ہوگا اور اپنے کئے کی سزا خود ہی بھگتنی ہوگی۔
[2] حاطب ؓ بن بلتعہ جو ایک بدری صحابی تھے خود تو ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں تھے۔ جب کفار مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو توڑ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرکے اس کے لئے خفیہ تیاری شروع کردی۔ حاطب ؓ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ عنقریب مکہ پر چڑھائی ہونے والی ہے۔ آپ ﷺ کو وحی الٰہی سے اس کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الممتحنہ
1: اس سورة کی شان نزول یہ ہے ۔ کہ جب حضور ﷺ نے یہ طے کیا ۔ کہ مکہ میں دس ہزار قدسیوں کے ساتھ داخل ہوں ۔ تو حاطب بن ابی بلقعہ جو ایک صحابی تھے انہوں نے ازراہ بشریت ایک مکتوب مکہ والوں کو لکھا ۔ اور مسلمانوں کے عزائم سے ان کو قبل ازوقت آگاہ کردینے کی نیت سے اس کو ایک عورت کے ہاتھ بھجوادیا ان کی غرض محض یہ تھی کہ اس طرح مکہ والے میرے ممنون ہوں اور لڑائی کے وقت میرے اہل و عیال سے جو مکہ میں تھے ۔ تعرض نہیں کرینگے ۔ یہ یہ ایک نوع کی کمزوری تھی ۔ حاطب سادگی کی وجہ سے اس کے خطرناک نتائج پر متنبیہ نہیں ہوسکے ۔ ان کا خیال تھا ۔ کہ حضور ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ اس لئے شکست کی تو کوئی وجہ…
Read the full tafseer →(2) اگر یہ منکر تم پر قابو پالیں اور ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو یہ تمہارے حق میں دشمن ہوں اور عداوت کا اظہار کرنے لگیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کریں اور وہ اس بات کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر بن جائو اور کفر اختیار کرلو۔ یعنی یہ لوگ دوستی کے قابل نہیں ان کی دوستی میں دنیوی نقصان بھی ہے اور دینی نقصان بھی ہے ۔ دنیوی نقصان یہ کہ اگر برسراقتدارہوجائیں تو کھلم کھلا دشمنی کریں۔ ہاتھ سے برائی پہنچائیں۔ زبان طعن دراز کریں دینی نقصان یہ کہ ان کی دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلو چونکہ مکہ والوں کے یہ خیالات اور ان کی یہ ذہنیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ یعنی گو دل سے دوستی نہ ہو مگر ایسا دوستانہ برتاوبھی مت کرو۔
3۔ یعنی اول تو دوستی ہی بری چیز ہے، پھر خفیہ پیغام بھیجنا اور زیادہ برا ہے۔
4۔ یعنی مثل دوسرے موانع مذکورہ کے یہ امر بھی مانع دوستی ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →کفار اگر تم پر قابو پا لیں گے تو تمہاری طرف ہاتھ اور زبانیں کھول دیں گے
2 ؎ ( یثقفوکم ) وہ تم پر قابو پا لیں ۔ وہ تم پر کامیاب ہوجائیں ، اس کا مادہ ث قہے اور ثقف کے معنی کسی چیز کے پانے ۔ اس پر کامیاب ہونے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ جمع مذکرغائب اور کم جمع مذکر حاضر یعنی وہ تم پر قابو پا لیں اور تمہارے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں ۔ تو تم کو دشمنی کا مزہ چکھائیں گے اور ایسی بربریت کا مظاہرہ کریں گے کہ تمہارے ہوش و حواس اڑا کر رکھ دیں گے اور اس طرح کا پروپیگنڈا کریں گے کہ تمہارے خلاف ماحول کو مکدر کرلیں گے کہ تم حیران و ششدر ہو کر رہ جائو گے ۔ وہ تم پر وہ الزام لگائیں گے اور اس طرح بہتان تراشیں گے کہ…
Read the full tafseer →إِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُم بِالسُّوءِ (Should they have access to you, they will become your enemies, and will stretch their hands and tongues towards you with evil;...60:2). The verse indicates how bitter are the feelings of disbelievers towards Muslims. They would use all means, their hands and their tongues, and would spare no effort to harm the Muslims. Therefore, it is impossible that when they find an opportunity in their favor and overpower Muslims, they will ever exercise tolerance towards them.
وَوَدُّوا لَوْ…
Read the full tafseer →2 Although what has been said up to here, and what follows in this regard, was sent down in connection with the incident relating to Hadrat Hatib, Allah, instead of dwelling on his case only, has given the believers this lesson for ever and ever: "It is contrary to the profession of the Faith that a person should act, out of any motive or reason, in a way detrimental to the interests of Islam and subservient to the interests of disbelief when a conflict is going on between Islam and disbelief and some people have adopted a hostile attitude towards the Muslims only because they are Muslims.…
Read the full tafseer →