Explained with ayahs 1–3
حضرت حاطب بن ابوبلتہ ؓ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حضرت حاطب مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف حضرت عثمان ؓ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہوجائے اسی لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 1
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آغاز ہی میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کردی جائیں جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تاکہ آگے کا مضمون سمجھنے میں آسانی ہو۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے اور ابن عباس، مجاہد، قتادہ، غزوہ بن زبیر وغیرہ حضرات کی متفقہ روایت بھی یہی ہے کہ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا تھا جب مشرکین مکہ کے نام حضرت حاطب ابی بُلْتَعہ کا خط پکڑا گیا تھا۔
قصہ یہ ہے کہ جب قریش کے لوگوں نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں، مگر چند مخصوص صحابہ کے سوا کسی کو یہ نہ بتایا کہ آپ کس مہم پر جانا چاہتے ہیں۔ اتفاق سے اسی زمانے میں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بتاؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو (یعنی گو دل سے دوستی نہ ہو مگر ایسا دوستانہ برتاؤ بھی مت کرو) حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آ چکا ہے وہ اس کے منکر ہیں (جس سے ان کا دشمن خدا تعالیٰ ہونا معلوم ہوا جو آیت میں بلفظ عَدُوِّيْ بیان کیا گیا) رسول ﷺ کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لے آئے شہر بدر کرچکے ہیں (یہ بیان ہے عدوکم کا، یعنی وہ صرف اللہ کے دشمن نہیں تمہارے بھی دشمن ہیں، غرض ایسے لوگوں سے دوستی مت کرو) اگر تم میرے راستہ میں جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونڈہنے کی غرض سے (اپنے گھروں سے)…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا الذین امنوا لا تتخذو اعدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلۃ منکم فقد ضل سواء السبیل) (1)
(مصلحت پرست مسلمانوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے سابق خاندانی اور عزیز انہ تعلقات کا لحاظ باقی رکھے ہوئے تھے۔ جب تک مشرکین سے عام جنگ کا حکم نہیں ہوا اس وقت تک تو ان کی اس کمزوری…
Read the full tafseer →1۔ 1 کفار مکہ اور نبی ﷺ کے درمیان حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا تھا اہل مکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی مسلمانوں کو خفیہ طور پر لڑائی کی تیاری کا حکم دے دیا حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ ایک مہاجر بدری صحابی تھے جن کی قریش کے ساتھ کوئی رشتے داری نہیں تھی لیکن ان کے بیوی بچے مکہ میں ہی تھے انہوں نے سوچا کہ میں قریش مکہ کو آپ کی تیاری کی اطلاع کردوں تاکہ اس احسان کے بدلے وہ میرے بال بچوں کا خیال رکھیں چناچہ انہوں نے ایک عورت کے ذریعے سے یہ پیغام تحریری طور پر اہل مکہ کی طرف روانہ کردیا جس کی اطلاع بذریعہ وحی نبی ﷺ کو کردی گئی چناچہ آپ ﷺ نے حضرت علی حضرت مقداد اور حضرت زبیر ؓ کو فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے جس واقعے کے پس منظر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں وہ اوپر سورت کے تعارف میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے، غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کی کیا حد ہونی چاہئیں ؟ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة آل عمران (آیت : 28) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →سورت کا آغاز نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے جہاں بھی اس آواز سے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے اس کے اندر گہرے اشارات ہوتے ہیں۔
یایھا الذین امنوا (06 : 1) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “۔ یہ آواز اس رب کی جانب سے ہے جس پر وہ ایمان لاچکے ہیں۔ ان کو اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ، کہ تمہارے ایمان کے کچھ تقاضے ہیں۔ تم نہایت ہی خطرناک موڑ پر کھڑے ہو ، تمہارے ارد گرد دشمن سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ اور تم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے .... اپنائیت کے انداز میں۔ اللہ اپنے دشمنوں کو ان کا دشمن اور ان کے دشمنوں کو اپنے دشمن سے تعبیر کرتا ہے ، تاکہ مسلمانوں کے اندر یہ شعور ہو کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔…
Read the full tafseer →13 آنحضرت ﷺ کی صلح مکہ والوں سے ہوئی تھی جس کا ذکر " انا فتحنا " میں آچکا۔ دو برس یہ صلح قائم رہی، پھر کافروں کی طرف سے ٹوٹی۔ تب حضرت ﷺ نے خاموشی کے ساتھ فوج جمع کر کے مکہ فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ خبروں کی بندش کردی گئی۔ مبادا کفار مکہ آپ ﷺ کی تیاریوں سے آگاہ ہو کر لڑائی کا سامان شروع کردیں۔ اور اس طرح حرم شریف میں جنگ کرنا ناگزیر ہوجائے۔ ایک مسلمان حاطب بن ابی بلتعہ نے (جو مہاجرین بدریین میں سے تھے) مکہ والوں کو خط لکھ بھیجا کہ محمد ﷺ کا لشکر اندھیری رات اور سیل بےپناہ کی طرح تم پر ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو وحی سے معلوم ہوگیا آپ ﷺ نے حضرت علی وغیرہ چند صحابہ کو حکم دیا کہ ایک عورت مکہ کے…
Read the full tafseer →آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَـتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَـآئَ } ”اے اہل ِایمان ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنائو“
یعنی تم لوگ کفار و مشرکین کی خیر خواہی اور بھلائی کا مت سوچو۔ ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے اور اچھے تعلقات بنانے کی کوشش مت کرو۔ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جب سردارانِ قریش کے نام حضرت حاطب رض بن ابی بلتعہ کا خط پکڑا گیا۔
{ تُـلْقُوْنَ اِلَـیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } ”تم ان کی طرف دوستی اور محبت کے پیغامات بھیجتے ہو“
{ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ } ”حالانکہ انہوں نے انکار کیا ہے اس حق کا جو تمہارے پاس آیا…
Read the full tafseer →1 غزوہ مکہ کا فوری سبب :۔ معاہدہ حدیبیہ، جسے اللہ نے فتح مبین قرار دیا ہے، کی دوسری شرط کے مطابق بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنوبکر قریش کے حلیف بن چکے تھے۔ اس صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنوخزاعہ اور بنوبکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی تو قریش مکہ نے معاہدہ کے برخلاف کھلم کھلا بنوبکر کی بھرپور مدد کی اور جب بنوخزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ اس واقعہ کے بعد بنوخزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لیے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بدعہدی پر سخت افسوس اور صدمہ ہوا۔ لہذا آپ نے قریش کے لیے مندرجہ ذیل تین شرطیں پیش کیں :
1۔ بنوخزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے، (2) قریش بنوبکر کی حمایت سے…
Read the full tafseer →1۔ اس فقرہ (آیت) ” ان کنتم “۔ الخ کا تعلق آیت کے پہلے حکم (آیت) ” لاتتخذوا عدوی وعدوکم “۔ سے ہے۔ یعنی اگر تم واقعی رضاء کی طلب اور ہماری راہ میں جہاد کو نکلے ہو، تو ان دشمنان دین سے دوستی اور محبت کا برتاؤ کیسا ؟ (آیت) ” عدوی “۔ یعنی اللہ اور اس کے دین سے بیر رکھنے والے (آیت) ” عدوکم “۔ یعنی امت اسلامی سے اس کے اسلام کی بناء پر بیر رکھنے والے۔ (آیت) ” تلقون الیھم بالمودۃ “۔ یعنی دلی محبت ودوستی رکھنا تو خیر الگ ہے، ان دشمنان خدا ودشمنان امت سے عملی برتاو ابھی دوستوں کا سا رکھنا کب روا ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ اس خطاب کے معا بعد ذکر بعض مسلمانوں کے ایک گناہ کبیرہ کا یعنی دشمن سے مکاتبت…
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو میرے اور اپنے دشمنوں کفار مکہ کو دوست نہ بنائو تم تو ان کے پاس آپسی دوستی کی وجہ سے نبی ﷺ کے ان جہاد کرنے کے ارادہ کا پیغام بھیجتے ہو، جس کو انہوں نے راز دارانہ طور پر تم کو بتادیا ہے اور ارادہ حنین کا ظاہر فرمایا۔
نوٹ :۔ بعض نسخوں میں وری بخیبر ہے جو کہ سبقت قلم ہے صحیح وری بحنین ہے۔
حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کے پاس اس معاملہ میں ایک خط بھیج دیا تھا، اس لئے کہ ان (اہل مکہ) کے پاس ان (حاطب بن ابی بلتعہ) کی مشرک اولاد اور اہل خانہ تھے، چناچہ حضور ﷺ نے وہ خط اس شخص سے، اللہ تعالیٰ کے (بذریعہ) وحی…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ و قد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول ویاکم ان تو منوا باللہ ربکم ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیل وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل .
” اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو ‘ حالانکہ تمہارے پاس جو دین آچکا ہے وہ اس کے منکر ہیں ‘ رسول کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ‘ شہر بدر کرچکے ہیں۔ اگر تم میرے راستہ پر جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونڈنے کے لیے (اپنے گھروں سے)…
Read the full tafseer →بالخصوص اے حاطب تم دین میں میرے دشمنوں میں اپنے دشمنوں یعنی کفار مکہ کو دوست مت بناؤ کہ خط بھیج کر ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو حالانکہ اے حاطب وہ کتاب و رسول کے منکر ہیں وہ رسول اکرم کو اور تمہیں محض ایمان لانے کی وجہ سے مکہ سے نکال چکے ہیں۔
اے حاطب اگر تم مکہ سے مدینہ منورہ جہاد کرنے کی غرض سے اور میری خوشنودی کی تلاش میں نکلے ہو تو پھر ان سے خفیہ طور پر خط بھیج کر دوستی کی باتیں مت کرو اور اے حاطب میں تمہارے اس خفیہ خط یا یہ کہ تصدیق سے اچھی طرح واقف ہوں اور جو تم نے عذر پیش کیا یا یہ کہ تمہاری توحید سے بھی واقف ہوں اے گروہ مومنین تم میں سے حاطب کی طرح جو کرے گا وہ راہ حق کو چھوڑ دے…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ :”عدو“ ”عدا یعدو عدوا وعداوۃ“ سے ”فعول“ بمعنی ”فاعل“ کے وزن پر ہے ، دشمن۔ ”فعیل“ اور ”فعول“ دونوں صیغے واحد ، تثنیہ ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی لفظ کے ساتھ آجاتے ہیں ، اس لیے ترجمہ ”میرے دشمنوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کفار اور مشرکین کو دوست نہ بناؤ ، یہ فرمایا کہ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ پھر ”عدوی“ (میرے دشمنوں) کا ذکر پہلے کیا اور ”عدوکم“ (اپنے دشمنوں) کا ذکر بعد میں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر و مشرک کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ، کیونکہ ان کی…
Read the full tafseer →تفسیر
اتخذ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ وہ عدوکم اولیاء ہے عدویہ عدا سے فعول کا وزن ہے جس طرح عفو، عفا سے ہے کیونکہ اس کا وذن مصدر کا ہے اس طرح یہ جمع پر اس طرح صادق آتا ہے جس طرح واحد پر صادق آتا ہے۔
اس آیت میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا……… ائمہ نے حضرت علی شیرا خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے جبکہ الفاط امام مسلم کے ہیں (1) ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو بھیجا۔ فرمایا : ” روضہ خاخ (جگہ کا نام) جائو وہاں ایک ہودج میں عورت ہوگی اس کے پاس خط ہے وہ خط اسے لے لو “۔ ہم چلے ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر دوڑ رہے تھے تو اچانک ہم اس عورت تک جا پہنچتے ہیں ہم نے کہا : خط نکال دو ۔ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ مت بنائو ][ عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ : میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ][ اَوْلِيَاۗءَ : (اپنے) کارساز ][ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ : تم لوگ ڈالتے ہو ان کی طرف (پیغام)][بِالْمَوَدَّةِ : خیر خواہی کے ساتھ ][ وَقَدْ كَفَرُوْا : حالانکہ وہ انکار کرچکے ][ بِمَا جَاۗءَكُمْ : اس کا جو آیا تمہارے پاس ][ مِّنَ الْحَقِّ : الحق میں سے ][ يُخْرِجونَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ : وہ لوگ نکالتے ہیں ان رسول ﷺ کو اور ہم کو بھی ][ان تُؤْمِنُوْا : (اس لیے) کہ تم لوگ ایمان لائے ][بِاللّٰهِ رَبِكُمْ : اللہ پر جو تمہارا رب ہے ][ ان كُنْتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے کی ممانعت
ان آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے متعلق ہے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا واقعہ :
انہوں نے اہل مکہ کو (جو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے) ایک خفیہ خط لکھا جس کا واقعہ امام بخاری (رح) نے کتاب الجہاد صفحہ 422 اور کتاب المغازی صفحہ 567، صفحہ 286 اور کتاب التفسیر صفحہ 726 میں یوں لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو (اور بعض روایات میں حضرت ابومرثد غنوی ؓ کا نام بھی ہے) (یہ چاروں حضرات گھوڑا سوار تھے) رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا کہ تم روانہ ہوجاؤ اور چلتے رہو یہاں تک کہ روضہ خاخ تک پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا الا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء ..... الی ..... واللہ بما تعملون بصیر “۔
(ربط) حاطب بن ابی بلتعہ ؓ اگرچہ ایک مخلص صحابی تھے جن کو عزوۂ بدر کی شرکت نصیب ہوئی تھی اور جملہ اہل بدر خدا کی نظر میں وہ مقدس ہستیاں تھے جن کے لیے بارگاہ خداوندی سے پروانہ مغفرت جاری ہوچکا تھا مگر بہرکیف غلطی خواہ کسی سے بھی ہو اچھی بات نہیں ہے اس سے بچنا ہر ایک کے لیے لازم ہے تو حکم خداوندی نازل ہوا کہ مسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ خدا کے دشمنوں اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست بنائیں اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے قلب میں کفر اور…
Read the full tafseer →2:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لا تتخذوا “ زجر برائے مومنین کاملین۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ جو ایک جلیل القدر بدری صحابی ہیں ان کی والدہ، ان کے بیٹے اور بھائی مکہ میں تھے اور مکہ میں کوئی ان کا ایسا رشتہ دار نہیں تھا جو ان کی حفاظت کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے مشرکین مکہ کو ایک خط لکھا جس میں ان کو اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک لشکر عظیم لے کر تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین پر ان کا احسان ہوجائیگا اور وہ ان کے اہل و عیال کا خیال رکھیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ایمان تھا کہ اگر مشرکین کو قبل از وقت یہ معلوم ہوگیا تو اس سے فتح اسلام میں کوئی فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الممتحنہ ہے جو کہ امتحان کے مادہ۔ سے ہے اس سورة کی آیت نمبر 10 میں ان عورتوں کو بعیت لینے سے پہلے اچھی طرح جانچ لینے کا حکم ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی ہجرت کا مقصد اسلام لانے کے سوا کوئی اور تو نہیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کا نام سورة ممتحنہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں صلح حدیبیہ کے بعد 7 ھ کے قریب نازل ہوئی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سورة احزاب اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس سورة کی تیرہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 348 الفاظ اور 1510 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
پچھلی سورة میں اللہ نے کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَـقِّ 0 ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللہِ رَبِّكُمْ 0 ۭ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ 0 ۤ ۖ تُسِرُّوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ 0 ۤ ۖ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَيْتُمْ وَمَآ اَعْلَنْتُمْ 0 ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْہُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ 1
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : تلقون الخ حال من ضمیر الفاعل فی تتخذوا اوصفۃ لاولیاء اواستیناف والباء زائدۃ ‘ وقدکفروا الخ حال من فاعل تلقون وقیل من فاعل لاتتخذوا یخرجون الخ حال من فاعل کفروا اواستیناف مبین لکفر ھم وصیغۃ المضارع لاستحضار الصورۃ۔ ان تو منوا مفعول لہ معمول یخرجون ان کنتم جو ابہ محذوف دل علیہ لاتتخذوا جہادا مصدر فی موضع الحال اومعمول فعل محذوف دل علیہ الکلام تسرون توکید لیقلون بتکریر معناً وانااعلم حال وقیل اعلم مضارع والباء مزیدۃ ماموصولۃ اومصدر۔
تفسیر : سورة حشر میں منافقوں کی بدسیرت کا بیان تھا جس سے حذر کرنا چاہیے۔ اب اس سورة میں منافقانہ سیرت کی مذمت کرتا ہے۔ اور اس سورة کی شان نزول میں بخاری (رح)…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ ج یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّـکُمْ ط اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِھَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِیْ صلے ق تُسِرُّوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ صلے ق وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَـآ اَخْفَیْتُمْ وَمَـآ اَعْلَنْتُمْ ط وَمَنْ یَّفْعَلْـہُ مِنْـکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ ۔ (الممتحنۃ : 1)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورة الحشر کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اپنی مخلوق پر غالب ہے تو مسلمانوں کو اسی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی اور سے بالخصوص اپنے اور اللہ کے دشمنوں سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اسی لیے سورة الممتحنہ کی ابتدا اس حکم کے ساتھ کی جارہی ہے کہ مسلمانو ! اپنے اور ” اللہ “ کے دشمن کو خیر خواہ نہ سمجھو !
الممتحنہ کا لفظ امتحان سے مشتق ہے جس کا معنٰی ہے آزمانا ورآزمائش کرنا ہے۔
مفسرین کی غالب اکثریت نے سورة الممتحنہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب مکہ والوں…
Read the full tafseer →حاطب کا خط :
1 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُ وَّکُمْ اَوْلِیَآ ئَ (اے ایمان والو تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو)
روایت میں ہے کہ ابو عمرو بن صیفی بن ہاشم کی لونڈی جس کو سارہ ؔ کہا جاتا تھا۔ مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسوقت حاضر ہوئی جبکہ آپ غزوئہ فتح مکہ کی تیاری میں مصروف تھے۔ آپ نے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے کہنے لگی نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو وطن چھوڑ کر آئی ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر تو کس وجہ سے آئی ہے ؟ کہنے لگی میں سخت محتاج ہوگئی ہوں۔ آپ نے بنی عبدالمطلب کو اس کی امداد کیلئے کہا۔ انہوں نے اس کو کپڑے، اور سواری…
Read the full tafseer →سورة الممتحنۃ
یہ سورة مکی ہے اس میں 13 آیات اور 2 رکوع ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…
Read the full tafseer →بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہ کا قصہ ہے جب رسول اللہ نے غزوہ فتح مکہ کی تو حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انہیں رسول اللہ کی روانگی کی اطلاع دے دی یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان کرنا چاہتے تھے انہوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کردیا اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو تمام معاملے سے آگاہ کردیا۔ رسول اللہ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرلیا آپ نے حاطب پر ناراضی ظاہر فرمائی تو حاطب نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی اکرم نے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
دشمنان خدا اور رسول سے دوستی کی ممانعت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولئک تلقون الیھم بالمودۃ، اے ایمان والو ! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو)
ایک قول کے مطابق آیت کا نزول حاطب ؓ بن ابی بلتعہ کے بارے میں ہوا تھا۔ انہوں نے خفیہ طور پر کفار قریش کو خط لکھوا کر انہیں خیر خواہانہ مشورے دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی۔
آپ نے حاطب کو طلب کرکے ان سے خط کے متعلق استفسار کیا، انہوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا آپ نے ان سے پوچھا کہ آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے عرض کیا بخدا ! جب سے میں مسلمان…
Read the full tafseer →[ 1] مصلحت دین سب سے مقدم اور سب پر فائق :
سو اس سے واضح فرما دیا گی کہ دین و ایمان کی مصلحت سب سے مقد اور سب پر فائق ہے۔۔ روایات کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ مکرمہ پر حملہ کا پروگرام بنایا تو حاطب بن ابی ملتعہ نامی ایک صحابی نے اہل مکہ کو اس کی خبر کرنے کے لئے ایک خط لکھا، اور ایک عورت کے ہاتھ اس کو کفار قریش کی طرف روانہ کردیا، مگر اللہ پاک کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع کردی گئی تو آپ ﷺ نے حضرت علی، طلحہ، زبیر، عمار اور حضرت مقداد بن اسودہ وغیرہ ؓ اجمعین پر مشتمل شاہسوار صحابہ اکرام کا ایک دستہ اس کے پیچھے روانہ کردیا، اور انہیں بتایا کہ وہ عورت تمہیں روضہء خاخ کے مقام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں
تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…
Read the full tafseer →ف 2 یہ حاطب کی مذکورہ بالا غلطی کی طرف اشارہ ہے۔3 یا تم از راہ دوستی انہیں پیغام بھیجتے ہو۔4 اس لئے انکے دشمن خدا ہونے سے شک نہیں۔5 اس سے بڑا ظلم اور اس سے بھڑ کر اللہ تعالیٰ سے دشمنی اور کیا ہوسکتی ہے۔6 یا ” چپکے چپکے انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔ “7 یہ دوسری بات ہے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی سچائی دیکھ کر اس کا قصور معاف فرما دے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حاطب بن ابی مبلعہ کا قصور معاف فرما دیا۔
Read the full tafseer →(60:1) لاتتخذواـ فعل نہی جمع مذکر حاضر، اتخاذ (افتعال) مصدر۔ تم مت بناؤ۔ تم مت پکڑو۔
عدوی : مضاف مضاف الیہ۔ میرے دشمن۔ مفعول فعل لا تتخذوا کا۔
اولیائ۔ مفعول ثالث لاتتخذوا کا۔ ولی کی جمع۔ دوست، ساتھی۔
اے ایمان والو ! نہ بناؤ میرے دشموں کو اور اپنے دشمنوں کو اپنے دوست۔ عدو اگرچہ مفرد ہے لیکن اس کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ مثلاً اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ افتتخذونہ وذریتہ اولیاء من دونی وہم لکم عدو (18:50) کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔
تلقون الیہم بالمودۃ : تلقون مضارع جمع مذکر حاضر القاء (افعال) مصدر تم ڈالتے ہو۔ تم اظہار کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔
تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔
(ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابلے میں رشتے ناتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن تمام رشتے اور تعلقات توڑ دئیے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنا ہی حساب دینا ہوگا اور اپنے کئے کی سزا خود ہی بھگتنی ہوگی۔
[2] حاطب ؓ بن بلتعہ جو ایک بدری صحابی تھے خود تو ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں تھے۔ جب کفار مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو توڑ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرکے اس کے لئے خفیہ تیاری شروع کردی۔ حاطب ؓ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ عنقریب مکہ پر چڑھائی ہونے والی ہے۔ آپ ﷺ کو وحی الٰہی سے اس کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الممتحنہ
1: اس سورة کی شان نزول یہ ہے ۔ کہ جب حضور ﷺ نے یہ طے کیا ۔ کہ مکہ میں دس ہزار قدسیوں کے ساتھ داخل ہوں ۔ تو حاطب بن ابی بلقعہ جو ایک صحابی تھے انہوں نے ازراہ بشریت ایک مکتوب مکہ والوں کو لکھا ۔ اور مسلمانوں کے عزائم سے ان کو قبل ازوقت آگاہ کردینے کی نیت سے اس کو ایک عورت کے ہاتھ بھجوادیا ان کی غرض محض یہ تھی کہ اس طرح مکہ والے میرے ممنون ہوں اور لڑائی کے وقت میرے اہل و عیال سے جو مکہ میں تھے ۔ تعرض نہیں کرینگے ۔ یہ یہ ایک نوع کی کمزوری تھی ۔ حاطب سادگی کی وجہ سے اس کے خطرناک نتائج پر متنبیہ نہیں ہوسکے ۔ ان کا خیال تھا ۔ کہ حضور ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ اس لئے شکست کی تو کوئی وجہ…
Read the full tafseer →(1) اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو درآں حالیکہ تم ان کو مروت اور دوستی کے پیغام بھیجنے لگو اور ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو حالانکہ جو دین حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس دین حق کے منکر ہیں ان کی دشمنی کا یہ حال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو اتنی بات پر شہر بدر اور جلاوطن کرچکے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو جو تمہارا پروردگار ہے۔
اگر اے مسلمانو ! تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا جوئی اور میری رضامندی کو تلاش کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے ہو تو ان منکروں کو دوست نہ بنائو تم دوستی کی وجہ سے ان کی طرف پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو اور ان سے خفیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ یعنی گو دل سے دوستی نہ ہو مگر ایسا دوستانہ برتاوبھی مت کرو۔
3۔ یعنی اول تو دوستی ہی بری چیز ہے، پھر خفیہ پیغام بھیجنا اور زیادہ برا ہے۔
4۔ یعنی مثل دوسرے موانع مذکورہ کے یہ امر بھی مانع دوستی ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو حکم کہ تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو
1 ؎ یہ خطاب عام ایمان والوں سے ہے اور آیت کا مضمون اس پر دال ہے کہ ایمان والوں میں سے وہی لوگ اس سے مراد ہیں جن سے اس طرح کی کوئی کمزوری سرزد ہوئی کہ ہجرت کے بعد مدینہ کی خبریں انہوں نے مکہ والوں کو پہنچائیں اور مکہ والوں سے جو حقیقت میں ان کے عزیز و اقارب ہیں انہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں محبت کا اظہار کیا اور وہ اظہار محبت ایسا تھا جو من حیث القوم کسی مسلمان کو کسی کافر سے کرنے کا حق نہیں ہے خواہ وہ کتنا عزیز و اقارب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے مفسرین نے ایک صحابی کی نشاندہی کی ہے اور ان کا نام اور تعارف بھی واضح اور دو…
Read the full tafseer →Commentary
The Surah opens with a prohibitory injunction to Muslims against having close and intimate friendship with disbelievers and those who associate partners with Allah. This injunction was revealed in the context of a particular incident which is mentioned below:
Background of Revelation
The tafsir of Qurtubi, with reference to Qushairi and Tha'labi, records that after the battle of Badr, before the Conquest of Makkah, a Makkan female vocalist whose name was Sarah, first arrived in Madinah. The Messenger of Allah ﷺ asked her whether she had migrated to Madinah. She replied in the…
Read the full tafseer →1 It would be appropriate to give at the outset the details of the incident concerning which these verses were sent down so that the subject that follows is understood easily. The commentators are agreed, and Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah, 'Urwah bin Zubair and others also have unanimously reported, that these verses were revealed at the time when a letter of Hadrat Hatib bin Abi Balta'a to the pagans of Makkah was intercepted.
It so happened that, when the Quraish broke the Treaty of Hudaibiyah, the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) started making preparations for an invasion of…
Read the full tafseer →