Explained with ayahs 21–24
بلندو عظیم مرتبہ قرآن مجید
قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سریہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہئے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 45
یعنی پوری دنیا اور دنیا کی ہر چیز تخلیق کے ابتدائی منصوبے سے لے کر اپنی مخصوص صورت میں وجود پذیر ہونے تک بالکل اسی کی ساختہ پر داختہ ہے۔ کوئی چیز بھی نہ خود وجود میں آئی ہے، نہ اتفاقاً پیدا ہوگئی ہے، نہ اس کی ساخت و پرداخت میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر کوئی دخل ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فعل تخلیق کو تین الگ مراتب میں بیان کیا گیا ہے جو یکے بعد دیگرے واقع ہوتے ہیں۔ پہلا مرتبہ خَلُق ہے جس کے معنی تقدیر یا منصوبہ سازی کے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی انجینیئر ایک عمارت بنانے سے پہلے یہ ارادہ کرتا ہے کہ اسے ایسی اور ایسی عمارت فلاں خاص مقصد کے لیے بنانی ہے اور اپنے ذہن میں اس کا…
Read the full tafseer →الْمُصَوِّرُ کے معنی صورت بنانے والا، مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کو حق تعالیٰ نے خاص خاص شکل و صورت عطا فرمائی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوئی اور پہچانی جاتی ہے۔ دنیا کی عام مخلوقات آسمانی اور زمینی خاص خاص صورتوں ہی سے پہچانی جاتی ہیں، پھر ان میں انواع و اصناف کی تقسیم اور ہر نوع و صنف کی جداگانہ ممتاز شکل و صورت اور ایک ہی نوع انسانی میں مرد و عورت کی شکل و صورت کا امتیاز پھر سب مردوں سب عورتوں کی شکلوں میں باہم ایسے امتیازات کہ اربوں کھربوں انسان دنیا میں پیدا ہوئے ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ بالکل امتیاز نہ ہو سکے، یہ کمال قدرت صرف ایک ہی ذات حق جل شانہ کا ہے…
Read the full tafseer →(ھو اللہ الخالق لباری المصورلہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم) (24)
یعنی یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کے وجود کے تمام مراحل کو طے کراتا ہے۔ وہی ہر چیز کا خاکہ تیار کرتا ہے۔ وہی پھر اس کو جود بخشتا ہے پھر وہی اس کی صورت گری کرتا اور نوک پلک سنوارتا ہے۔ ان میں سے کسی مرحلہ میں نہ وہ کسی سے طالب مدد ہوتا نہ کوئی اس کا ہاتھ بٹایا یا بٹا سکتا ہے تو آخر کوئی دوسرا اس کا کسی چیز میں بھی شریک کس طرح بن جائے گا ! ہر وجود کے اندر یہی تین اولین مرحلے پیش آتے ہیں۔ پہلا مرحلہ اس کے ڈیزائن کا ہوتا ہے جس کے لیے عربی میں لفظ (خلق) ہے۔ دوسرا مرحلہ اس کو وجود میں لانے کا ہے اس کے لیے…
Read the full tafseer →24۔ 1 کہتے ہیں کہ خلق کا مطلب ہے اپنے ارادہ و مشیت کے مطابق اندازہ کرنا اور برا کے معنی ہیں اسے پیدا کرنا، گھڑنا، وجود میں لانا۔
24۔ 2 اسمائے حسنٰی کی بحث (وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 180۔) 7۔ الاعراف :180) میں گزر چکی ہے۔
24۔ 3 زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
24۔ 4 جس چیز کا بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔
Read the full tafseer →اور آخری تسبیح ہی طویل ہے :
ھواللہ (95 : 43) ” وہی ہے معبود “ اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
الخالق الباری (95 : 42) ” تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اسے نافذ کرنے والا “۔ خلق کا مفہوم ہے : منصوبہ بنانا اور پورا نظام تقدیر تیار کرنا۔ اور باری کے معنی پھر اس منصوبے کو مسلسل نافذ کرتے چلے جانا۔ یہ دونوں صفات باہم متصل ہیں۔ ان میں فرق بھی لطیف ہے۔
المصور (95 : 42) ” صورت گری کرنے والا “۔ یہ صفت بھی سابقہ دونوں صفات سے مربوط ہے۔ یعنی منصوبہ ، پھر تخلیق اور پھر تصور اور خدوخال کا تعین۔ ہر چیز کی صورت اور سیرت کا تعین۔ ہر چیز کو اس کے خواص عطا کرنا۔
یہاں ان صفات کا مسلسل لانا ، جن کے اندر بہت کم فرق…
Read the full tafseer →8 " خالق " و " باری " کے فرق کی طرف ہم نے سورة " بنی اسرائیل " کی آیت " وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوُحِ قُلِ الرُّوُحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی " الخ کے فوائد میں کچھ ارشاد کیا ہے۔
9 جیسا کہ نطفہ پر انسان کی تصویر کھینچ دی۔
10 یعنی وہ نام جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔
11 یعنی زبان حال سے یا قال سے بھی جس کو ہم نہیں سمجھتے۔
12 تمام کمالات وصفات الٰہیہ کا مرجع ان دو صفتوں " عزیز " اور " حکیم " کی طرف ہے۔ کیونکہ " عزیز " کمال قدرت پر، اور ' حکیم " کمال علم پر دلالت کرتا ہے۔ جتنے کمالات ہیں علم اور قدرت سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ روایات میں سورة " حشر " کی ان تین آیتوں…
Read the full tafseer →آیت 24{ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ } ”وہی ہے اللہ ‘ تخلیق کا منصوبہ بنانے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورت گری کرنے والا۔“
اس آیت میں اللہ کے علاوہ تین اسمائے حسنیٰ آئے ہیں۔ ان تینوں اسماء کا تعلق تخلیقی عمل کے مختلف مراحل سے ہے اور اس لحاظ سے یہاں ان کا ذکر ایک فطری اور منطقی ترتیب سے ہوا ہے۔ ”خلق“ دراصل عمل تخلیق کا وہ مرحلہ ہے جب کسی چیز کا منصوبہ یا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ بغرضِ تفہیم اگر ہم انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے ایک بڑھئی کی مثال سامنے رکھیں تو عمل تخلیق کے مختلف مراحل اور ان تینوں اسماء کے مابین پائے جانے والے خاص ربط کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ فرض کریں کہ بڑھئی ایک میز…
Read the full tafseer →39 الخَالِقُ ۔ خ۔ خلق کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) کسی چیز کو بنانے کے لیے اس کا اندازہ لگانا یا خاکہ تیار کرنا۔ گویا تخلیق کا کام ذہنی بھی ہوسکتا ہے اور اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ (2) کبھی یہ لفظ ابداع کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ یعنی پہلی بار بنانا اور کسی نمونہ کے یا کسی تقلید کے بغیر بنانا۔ انوکھی چیز بنانا قرآن کریم میں جیسے اللہ تعالیٰ کے لیے (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ ) ہے ویسے ہی (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ ) بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف نہیں ہوسکتی، (3) اور خلق کا عام مفہوم یہ ہے کہ ایک چیز سے دوسری چیز بنائی جائے۔ پہلے مادہ موجود ہو…
Read the full tafseer →36۔ (سو ایسے باعظمت اور باحکمت کے احکام کی پابندی نہایت درجہ ضروری ہے) صفات حسنہ کمالیہ کا مزید اثبات۔ سورة الحشر کی ان دونوں آیتوں کے جوش بلاغت اور زور کلام کو حال کے ملحد اور مسیحی ماہرین عربیت نے بھی سراہا ہے۔ (آیت) ” الخالق “۔ یعنی صفت تخلیق وتکوین وایجاد میں کوئی اس کا سہیم وشریک نہیں۔ (آیت) ” الباری “۔ یعنی روح و مادہ، ہیولی و صورت، جو ہر وعرض، سب کاموجد، سب کو وعدم سے وجود میں لانے والاوہی ہے۔ (آیت) ” المصور “۔ یعنی ہر چیز کو ٹھیک ٹھیک آئین حکمت کے مطابق ہی اس نے صورت وجود سے مشرف کیا ہے۔ (آیت) ” لہ الاسمآء الحسنی “۔ صفات کمالیہ کی جامع اسی کی ذات ہے۔ (آیت) ” یسبح .... الارض “۔ اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدنا کی کبریائی اور اس کے حضو ربندے کی ذمہ داری اور جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو رب قدیر کے سامنے جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری کہ جس انسان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہ ہو حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبرسدت ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی مضبوط اور سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے…
Read the full tafseer →ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم .
وہی معبود (برحق) ہے پیدا کرنے والا ‘ ٹھیک ٹھیک بنانے والا ‘ صورتیں بنانے والا ‘ اسی کے اچھے اچھے نام ہیں جو چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اس کی پاکی بیان کرتی ہیں اور وہی زبردست ہے (اور) حکمت والا ہے۔ “
اَلْخَالِقُ : ہر چیز کا اندازہ کرنے والا ‘ دوسری آیت میں آیا ہے : یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ : قاموس میں ہے۔ (خالق) موجود ‘ بغیر مثال سابق کے اختراع کرنے والا۔
اَلْبَارِئُ : ٹھیک ٹھیک ‘ بغیر تفاوت کے ایجاد کرنے والا۔
اَلْمُصَوِّرُ : بغوی نے لکھا ہے…
Read the full tafseer →وہ معبود برحق پیدا کرنے والا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلنے والا ہے اور رحموں میں صورت و شکل لڑکا و لڑکی نیک و بد بنانے والا ہے۔ یا باری کا مطلب یہ ہے کہ نطفہ میں روح ڈالنے والا ہے اس کی بلند وبالا صفتیں ہیں جیسا کہ علم وقدرت، سمع و بصر وغیرہ سو انہیں سے اس کو پکارو۔ تمام مخلوقات اور ہر ایک زندہ چیز اسی کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ہُوَ اللہ ُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ :”خلق ، برء اور تصویر“ پیدائش کے تین مراحل ہیں ، پہلا مرحلہ یہ کہ کوئی چیز بنانے سے پہلے اس کا پورا اندازہ لگانا اور نقشہ و خاکہ بنانا ہوتا ہے ، یہ خلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا پہلے ہی ایک اندازہ اور نقشہ طے کردیا ہے کہ وہ کیسی ہوگی ، مثلاً انسان کی کیا شکل ہوگی ، درخت کیسا ہوگا وغیرہ۔ دوسرا مرحلہ ان چیزوں کو وجود میں لانا ہے جن سے اسے بنایا جانا ہے اور انہیں تراش خراش اور ڈھال کر وہ صورت قبول کرنے کے قابل بنانا جو اس کے لیے طے کی گئی ہے۔ یہ ”برئ“ ہے۔ مثلاً انسان کو مٹی سے بنایا ، مٹی کا گارا بنایا ، پھر آدم ؑ کا ڈھانچہ بنایا۔ تیسرا اور…
Read the full tafseer →تفسیر
ھو اللہ ……… یہاں خالق سے مراد مقدر ہے۔ الباری سے مراد پیدا کرنے والا اور ایجاد کرنے والا ہے۔ المصور صورتی بنانے وال اور مختلف ہستیوں میں ترکیب دینے والا۔ تصور، خلق اور برایۃ پر مرتب ور ان دونوں کے تابع ہے۔ تصویر کا معنی خط لگانا اور شکل بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ماں کے رحم میں تین انداز میں پیدا کیا اسے علقہ بنایا، پھر مضفہ بنایا پھر اس کی صورت بنائی یہی تشکیل ہے جس کے ذریعے صورت اور ہئیت ہوتی ہے، جس کے ساتھ اس کی پہنچان ہوتی ہے اور غیر سے اپنی علامت کے ساتھ ممتاز ہوتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین اللہ تعالیٰ کی ذات جو احسن الخالقین ہے وہ بڑی برکتوں والی ہے : بابغہ نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔
جنات سے حفاظت کا ذریعہ
7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا…
Read the full tafseer →[هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ : وہی اللہ پیدا کرنے والا ہے ][ الْبَارِئُ : وجود بخشنے والا ہے ][الْمُصَوِّرُ : صور شگری کرنے والا ہے ][لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى : اس کے ہی ہیں تمام حسین نام ][ يُسَبِحُ لَهٗ : تسبیح کرتی ہے اس کی ][مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (ہر) وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →الحادی عشر : الْخَالِقُ پیدا کرنے والا۔
الثانی عشر : الْبَارِئُ پیدا کرنے والا۔
ان دونوں کلمات کا ترجمہ قریب قریب ہے بعض حضرات نے الْخَالِقُ کا معنی بالکل صحیح ٹھیک اندازے کے مطابق بنانے والا کیا اور الْبَارِئُ کا معنی کیا ہے کہ وہ عدم سے و جود بخشنے والا ہے۔
علامہ قرطبی نے الخالق ھاھنا المقدر والباری المنشی والمخترع لکھا ہے۔ ملا علی قاری (رح) مرقات شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں : الخالق من الخلق واصلہ التقدیر المستقیم ویستعمل بمعنی الابداع وایجاد شی من غیر اصل کقولہ تعالیٰ؍ خلق السماوات والارض و بمعنی التکوین کقولہ عزوجل : خلق الانسان من نطفة وقولہ بمعنی انہ مقدرہ اومو جدہ من اصل او من غیر اصل۔
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →24:۔ ” ھو اللہ الخالق “ یہ توحید کا پہلا مرتبہ اور دعوائے توحید کی تیسری علت ہے۔ پیدائش کے تین مراتب ہیں۔ اول خلق ہر چیز کی پیدائش کا حسب حکمت منصوبہ تیار کرنا۔ دوم، برء، عدم سے وجود میں لانا۔ سوم، صورت عطا کرنا۔ (الخالق) المقدر لما یوجدہ۔ (البارئ) المخترع المنشئ للاعیان من العدم الی الوجود (المصور) ای یخلق صورۃ العخلق علی ما یریدہ۔ فاولا یکون خلقا ثم برا ثم تصویرا (خازن و معالم ج 7 ص 73) ۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت صفتیں ہیں۔ حاصل یہ کہ ساری کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے۔ اس لیے حاجت و مشکلات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔
25:۔ ” یسبح لہ “ یہ ابتداء سورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
نبی نضیر کی غداری کے نتیجہ میں اہل ایمان نے ان کو جلا وطن کردیا اور ان کی زمینوں ، باغات اور گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پھر اس سلسلہ میں مال فے کی تقسیم کا قانون بیان ہوا۔ پھر آخر میں اللہ نے انسانوں کو جزائے عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اہل جنت اور اہل جہنم لوگوں کے متفاوت ہونے کا ذکر ہوا۔ اللہ نے لوگوں کی غفلت اور کوتاہی پر تنبیہ کی اور کتاب الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر کو بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں مگر انسان ہیں جن کی اکثریت اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایسے سنگدل ہیں کہ اللہ کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
معرفت…
Read the full tafseer →ہُوَاللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى 0 ۭ يُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 24 ۧ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
تفسیر : اصول سعادت میں سے اعلیٰ حصہ تکمیل قوت نظریہ تھا جس کا اعلیٰ حصہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کو علی ماینبغی یقین کرنا تھا۔ اس نے اس کے بعد اپنی ذات وصفات کا حال بیان فرماتا ہے تاکہ اس کی عظمت ذہن میں آئے اور پھر قرآن کی عزت بھی خیال میں آجائے کہ وہ کس کا کلام ہے ؟ اس کا کہ جس کی ہیبت سے پہاڑ لرزتے ہیں، آسمان کانپتے ہیں، سمندروں کا زہر آب ہوتا ہے۔ فقال ھوا اللہ الذی لا الہ الا ھو۔ کہ اللہ وہ ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہی یکتا ‘ بےانتہا طاقتوں والا ‘ آسمانوں کا خالق اور ان کو تاننے والا ‘ زمین اور اس کے اوپر جو ہیں انہیں پھیلانے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں تک ذات حق…
Read the full tafseer →ھُوَاللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَـہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ط یُسَبِّحُ لَـہٗ مُا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الحشر : 24)
(وہی اللہ ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت گری کرنے والا، اسی کے لیے ساری اچھی صفتیں ہیں، اس کی تسبیح کررہی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ )
اَلْخَالِقُ ، اَلْبَارِیُٔ ، اَلْمَصَوِّرُ
کسی چیز کو وجود پذیر ہونے کے لیے تین مراحل درکار ہوتے ہیں۔
1 اس کو وجود میں لانے کے لیے منصوبہ بندی اور اس کے مقصد وجود کا تعین اور اس کا ڈیزائن۔
2 پھر اس کو جود میں لانے کا عمل۔
3 اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی صفات کا تذکرہ جاری ہے۔
اَلْخَالِقُ :
یہ نام خلق سے بنا ہے۔ خلق کا معنی تقدیر اور اندازہ ہے۔ الخالق صرف اللہ ہے وہی جن وانس، حیوانات، نباتات، جمادات اور ہر چیز کو اس کی فطرت کے مطابق پیدا کرنے کے ساتھ اس کی نشوونما کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے خالق کا لفظ نہیں بولا جاسکتا۔ کوئی کسی چیز کا بانی اور موجد تو ہوسکتا ہے لیکن خالق نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا کسی کو خالق کہتا ہے پرلے درجے کی جہالت اور گناہ ہے۔
(ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ) (الانعام : 102)
” یہی اللہ…
Read the full tafseer →24 : ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ (وہی معبود ہے پیدا کرنے والا) جو اس نے بنانا ہے اس کا اندازہ کرنے والا الْبَارِیُٔ (ٹھیک ٹھیک بنانے والا) ایجاد کرنے والا۔ الْمُصَوِّرُ (صورتیں بنانے والا) مائوں کے رحموں میں لَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسنٰی (اسی کے اچھے اچھے نام ہیں) جو اس کی بلند صفات پر دلالت کرنے والے ہیں۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (جو چیزیں آسمانوں میں ہیں۔ اور زمین میں ہیں سب اس کی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے)
ایک نکتہ :
تسبیح باری تعالیٰ سے سورت کو شروع کیا گیا۔ اور اسی پر سورت کو ختم فرمایا گیا۔
:
نمبر 1۔ حضرت ابوہریرہ…
Read the full tafseer →23 ۔” ھواللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس “ ہر عیب سے پاک ہر اس چیز سے پاک جو اس کے لائق نہیں۔ ” السلام “ جو نقائص سے محفوظ ہو۔ ” المومن “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ ذات جو لوگوں ک واپنے ظلم سے امن دے جو اس پر ایمان لائے اس کو اپنے عذاب سے امن دے۔ یہ امان (امن دینا) سے ہے جو تخویف (ڈرانے) کی ضد ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” وآمنھم من خوف “ اور کہا گیا ہے اس کا اپنے رسولوں کی تصدیق کرنا معجزات کو ظاہر کرکے اور مومنین کے لئے سچ کرنے والا ہے جو ان سے ثواب کے وعدے کیے ہیں اور کافروں سے جو عذاب کے وعدے کیے ہیں ان کو سچ کرنے والا ہے۔ ” المھیمن “ اپنے بندوں پر ان کے اعمال کا گواہ ہے اور یہ ابن عباس ؓ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →(هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ ) جو تمام مخلوقات کا خالق ( الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ) جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے اور وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے یہ تمام اسمائے حسنی تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں ان تمام اوصاف میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ( لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۭ ) یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کرسکتا ہے نہ شمار کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسما کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں ان اسما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 70] اللہ ہی خالق ہے سب کا۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی اللہ پیدا کرنے والا ہے " یعنی ہر چیز کو جو اس کو حکمت کے مطابق مقدر فرمانے والا ہے۔ جو اشیاء کو اپنے ارادہ اور مشیت کے مطابق مقدر فرماتا ہے۔ [ فتح القدیر وغیرہ ] اور پھر ان کو خلعت وجود سے نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو خالق ہر چیز کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا۔ اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیئٍ وکیل۔ [ سورة الزمر : 62 پ 24] یعنی " اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے اور اس کو وجود بخشنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگران اور اس کا محافظ ہے " واضح رہے کہ خلق کے اصل معنی تقدیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →“6 یعنی ان مذکورہ صفات کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمال ثابت ہیں جنہیں قرآن نے اسماء حسنی سے تعبیر کیا ہے7 یعنی اپنی زبان حال بازبان قال سے شہادت دے رہے ہیں کہ وہ ہر عیب پر نقص سے پاک ہے۔8 بعض روایات میں جو اگرچہ ضعیف ہیں اس آیت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ مثلاً حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ” جو شخص تین بار اعوذ باللہ السمیع العلیم من الظیطان الرجیم پڑھے، اور پھر سورة حشر کا آخری حصہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاس ستر ہزار فرشتے بھیج دیگا جو شیطان جنوں اور شیطان انسانوں سے اس کی حفاظت کرینگے۔ اگر رات کے وقت پڑھے گا تو صبح تک اور اگر دن میں پڑھے گا تو شام تک (شوکانی)
Read the full tafseer →(59:24) الخالق : پیدا کرنے والا۔ بنانے والا۔ خلق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔
الباری : نکال کھڑا کرنے والا۔ پیدا کرنے والا ۔ برء (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی بنانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ باری اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے برأ یبرأ کا استعمال پیدا کرنا کے معنی میں ہوتا ہے اس اعتبار سے باری۔ خالق کے ہم معنی ہوگا۔ لیکن آیت ہذا (ھو الخالق الباری المصور) وہی اللہ ہے بنانے والا۔ نکال کھڑا کرنے والا۔ صورت کھینچنے والا۔ سے پتہ چلتا ہے کہ خالق اور باری دو علیحدہ علیحدہ صفتیں ہیں۔ اور ان دونوں میں باہم فرق ہے۔ البتہ ہم معنی ماننے کی صورت میں باری کو خالق کی تاکید سمجھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →[32] یعنی تخلیق کا منصوبہ بنانے والا۔
[33] یعنی عدم سے وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔
[34] یعنی صورت گری کرنے والا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فعل تخلیق کو تین الگ مراتب میں بیان کیا گیا ہے جو یکے بعد دیگرے واقع ہوتے ہیں۔ پہلے وہ ہر چیز کا خاکہ بناتا ہے پھر اس کو وجود بخشتا ہے اور پھر اس کی صورت گری کرتا اور نوک پلک سنوارتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
خدا کا اسلامی تصور
1: اسلام سے پہلے اللہ کے تخیل کو جسمانیت سے مجرد کرکے سمجھنا انسانی فہم کے لئے قریب قریب ناممکن تھا ۔ اس وقت آپ مسیح میں اس کی ذات کو منجلہ دیکھ سکتے تھے ۔ عزیر میں اس کی جلوہ گری تھی ۔ اصنام میں اس کا پرتو تھا ۔ نجوم وکواکب میں اس کا انعکاس تھا ۔ اشخاص وافراد کے قدس میں وہ ظہور پذیر تھا ۔ اس وقت اس ذات صمدیت کا تصور یہ تھا ۔ کہ اس کا کسی نہ کسی رنگ میں مخلوقات کے ساتھ آلودہ ہونا ضروری ہے ۔ کوئی مذہب ایسا نہ تھا ۔ جس نے تجرید اور توحید کے مسئلہ کو واضح کرکے بیان کیا ہو اور اس حسن مطلق کو تصیدات سے الگ کرکے دکھایا ہو ۔ قرآن حکیم پہلی اور آخری کتاب ہے ۔ جس نے اس گتھی کو…
Read the full tafseer →(24) وہ معبود برحق ہے وہ ہر چیز کا خالق ہے وہ ایجاد واختراع کرنے والا ہے وہ صورت بنانے والا ہے ، سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے خاص ہیں جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ خالق اور باری کے معنی میں تھوڑا سا فرق ہے۔
خالق کے معنی کسی چیز کو اندازے کے ساتھ پیدا کرنا اور باری کے معنی ہیں عدم سے وجود میں لانا بعض حضرات نے باری کے معنی ٹھیک ٹھیک بنانے والا کئے اچھے اچھے اور نیک نام جو اچھی صفتوں پر دلالت کرتے ہیں سب اسی کو زیبا اور اسی کے نام ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ سورت کے آخر میں پھر توجہ دلائی کہ ایسے زبردست مالک الملوک کی…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی ہر چیز کو حکمت کی موافق بناتا ہے۔
1۔ پس ایسے باعظمت کے احکام کی بجا آوری ضرور اور نہایت ضرور ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے صفائی نام مزید اس آیت میں بیان کیے جا رہے ہیں
24 ؎ ( الخالق) وہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے ( الباری) وہ ہرچیز کا موحد ہے ( المصور) وہ مخلوقات کی طرح طرح کی صورتیں بنانے والا ہے۔ خالق ، باری اور مصور تینوں مترادف اور ہم معنی ہیں اور تینوں کے معنی میں ” پیدا کرنا “ اور ” اختراع کرنا “ ہے مگر با اعتبار استعمال ہر ایک کے ساتھ ایک خصوصیت جداگانہ ہے ۔ مثلاً خلق کا استعمال ہوتا ہے کسی چیز کے وجود میں لانے سے پیشتر اس کے اندازہ کرنے میں اور ” براء “ ایجاد اور پیدا کرنے میں اور تصور صورت بنانے اور ہیئت بخشنے میں اور اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ جو چیز عدم سے وجود میں آتی ہے وہ محتاج ہوتی…
Read the full tafseer →الْمُصَوِّرُ (...the Originator of all Shapes....59:24) In other words, He gives shape to everything He creates. He has given particular shapes to all creatures whereby they are distinguished from one another. Every species has a shape distinguishable from all other species. Within one species too, there are differences in shape between males and females. Then there are uncountable differences between the shapes of the individuals of even one sex. The excellence of shaping or fashioning is of such high degree that the shapes of zillions of men and women are different from one another in a…
Read the full tafseer →36 The word used in the original is al-Malik, which means at He alone is the real Sovereign. Moreover, the word al-Malik its general sense also gives the meaning that He is King of the tire universe and not of a particular region or of a specific country. His Sovereignty and rule comprehends the entire universe.
He is Master of everything. Everything submits itself to His command and power and authority, and there is nothing to delimit His Sovereignty. At different places in the Qur'iin all aspects of Allah's Sovereignty, have been presented and explained fully.
"Whoever exist in the heavens…
Read the full tafseer →