Ayah 59:1یہودیوں کی مصیبت اور ذلت اور مدینہ منورہ سے جلا وطنی
یہاں سے سورة الحشر شروع ہو رہی ہے حشر عربی میں جمع کرنے کو کہتے ہیں اپنی جگہ چھوڑ کر جب کسی جگہ کوئی قوم جمع ہوجائے اس کو حشر کہا جاتا ہے قیامت کے دن کو بھی حشر اس لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے مختلف اطراف واکناف کے لوگ جمع ہوں گے۔ یہاں اول الحشر سے یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کا مدینہ منورہ سے نکالا جانا اور خیبر میں جمع ہونا مراد ہے۔ جو مدینہ منورہ سے سومیل کے فاصلہ پر شام کے راستہ میں پڑتا ہے ان لوگوں کا یہ ترک وطن رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوا تھا پھر دوبارہ ان کو حضرت عمر ؓ نے خبیر سے بھی نکال دیا اور شام کے علاقہ اریحاء اور تیماء اور اذرعات میں جا کر بس گئے تھے، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اول الحشر سے ان کا پہلی بار مدینہ منورہ سے نکل جانا مراد ہے اور حشر ثانی سے وہ اخراج مراد ہے جو حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ہوا، اسی لفظ (اول الحشر) کی وجہ سے اس سورة کو سورة الحشر کہا جاتا ہے اور چونکہ اس میں بنی نضیر کے اخراج کا ذکر ہے اس لیے حضرت ابن عباس ؓ اس کو سورة بنی نضیر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
شروع سورت میں یہ بیان فرمایا کہ آسمانوں اور زمین پر جو کچھ ہے سب اللہ کی تسبیح یعنی پاکی بیان کرتے ہیں پھر یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے زبردست ہے غلبہ والا ہے اسے کوئی عاجز نہیں کرسکتا اور حکیم بھی ہے وہ حکمت کے مطابق اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔
Ayah 59:2جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے تین قبیلے موجود تھے :
(1) قبیلہ بنی نضیر (2) قبیلہ بنی قریظہ (3) قبیلہ بنی قینقاع
یہ قبیلے ذرا قوت والے تھے آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہود نے آپ سے معاہدہ کرلیا تھا کہ ہم آپ سے جنگ نہیں کریں گے اور اگر کوئی فریق حملہ آور ہوگا تو آپ کے ساتھ مل کر اس کا دفاع کریں گے پھر ان لوگوں نے معاہدہ کو توڑ دیا قبیلہ بنی قریظہ کا انجام سورة الاحزاب کے رکوع نمبر 3 میں گزر چکا ہے اور قبیلہ قینقاع کا انجام سورة آل عمران کی آیت شریفہ ﴿ قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ 1ؕ﴾ کے ذیل میں گزر چکا ہے اور اسی سورت کے دوسرے رکوع میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکر آئے گا، یہاں ان آیات میں قبیلہ بنی نضیر کا ذکر ہے۔
قبیلہ بنی نضیر کی جلا وطنی کا سبب
2 ہجری میں غزوہ بدر کا اور 3 ہجری میں غزوہ احد کا واقعہ پیش آیا اور قبلہ بنی نضیر کی جلا وطنی کا واقعہ کسی نے غزوہ احد سے پہلے اور کسی نے غزوہ احد کے بعد لکھا ہے واقعہ یوں ہوا کہ قبیلہ بنی عامر کے دو شخصوں کی دیت کے بارے میں یہود بنی نضیر کے پاس آپ ﷺ تشریف لے گئے۔ ان دو شخصوں کو عمرو بن امیہ نے قتل کردیا تھا آنحضرت سرور دو عالم ﷺ کو ان کی دیت ادا کرنی تھی آپ نے بنی نضیر سے فرمایا کہ دیت کے سلسلہ میں مدد کرو، ان لوگوں نے کہا آپ تشریف رکھیے ہم مدد کریں گے، ایک طرف تو آپ سے یہ بات کہی اور آپ کو اپنے گھروں کی ایک دیوار کے سایہ میں بٹھا کر یہ مشورہ کرنے لگے کہ اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا کوئی شخص اس دیوار پر چڑھ جائے اور ایک پتھر پھینک دے ان کی موت ہوجائے تو ہمارا ان سے چھٹکارا ہوجائے، ان میں سے ایک شخص عمرو بن جحاش تھا اس نے کہا یہ کام میں کر دوں گا وہ پتھر پھینکنے کے لیے اوپر چڑھا اور ادھر رسول اللہ ﷺ کو ان کے مشورہ کی آسمان سے خبر آگئی کہ ان لوگوں کا ایسا ایسا ارادہ ہے آپ کے ساتھ حضرات ابوبکر، عمر، علی ؓ بھی تھے آپ جلدی سے اٹھے اپنے ساتھیوں کو لے کر شہر مدینہ منورہ شریف لے گئے شہر میں تشریف لا کر آپ نے اپنے صحابی محمد بن مسلمہ ؓ کو یہودیوں کے پاس بھیجا کہ ان سے کہہ دو کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ، آپ کی طرف سے تو یہ حکم پہنچا اور منافقین نے ان کی کمر ٹھونکی اور ان سے کہا کہ تم یہاں سے مت جانا اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے (اس کا ذکر سورت کے دوسرے رکوع میں ہے) اس بات سے یہود بنی نضیر کے دلوں کو وقتی طور پر تقویت ہوگئی اور انہوں نے کہلا بھیجا کہ ہم نہیں نکلیں گے جب ان کا یہ جواب پہنچا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جنگ کی تیاری کا اور ان کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا آپ ابن مکتوم ؓ کو امیر مدینہ بنا کر صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لے گئے اور وہاں جا کر ان کا محاصرہ کرلیا۔ وہ لوگ اپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے کھجور کے درختوں کو کاٹنے اور جلانے کا حکم دے دیا جب بنی نضیر کے پاس کھانے کا سامان ختم ہوگیا اور ان کے درخت بھی کاٹ دیئے اور اور جلا دیئے گئے۔ اور ادھر انتظار کے بعد منافقین کی مدد سے ناامید ہوگئے تو خود رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہمیں جلا وطن کردیں اور ہماری جانوں کو قتل نہ کریں اور ہتھیاروں کے علاوہ جو مال ہم اونٹوں پر لے جاسکیں وہ لے جانے دیں۔ آپ نے ان کی یہ بات قبول کرلی، پہلے تو انہوں نے تڑی دی تھی کہ ہم نہیں نکلیں گے پھر جب مصیبت میں پھنسے تو خود ہی جلا وطن ہونا منظور کرلیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رغب ڈال دیا اور بہادری کے دعوے اور مقابلے کی ڈینگیں سب دھری رہ گئیں، آپ نے چھ دن ان کا محاصرہ فرمایا اور مورخ واقدی کا بیان ہے کہ پندرہ دن ان کا محاصرہ رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی کہ ہر تین آدمی ایک اونٹ لے جائیں جس پر نمبر وار اترتے چڑھتے رہیں۔ مورخ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ وہ لوگ اپنے گھروں کا اتنا سامان لے گئے جسے اونٹ برداشت کرسکتے تھے۔ سامان ساتھ لے جانے کے لیے اپنے گھروں کو اور گھر کے دروازوں کو توڑ رہے تھے اور مسلمان بھی ان کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے تھے۔ اسی کو آیت کریمہ میں ﴿ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَ اَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ﴾ سے تعبیر فرمایا ہے، یہ لوگ اونٹوں پر سے سامان لے کر روانہ ہوگئے ان میں سے بعض لوگ خیبر میں مقیم ہوگئے اور بعض شام کے علاقوں میں داخل ہوگئے جب یہ لوگ خیبر میں داخل ہوئے تو وہاں کے لوگ بہت خوش ہوئے اور گانوں اور باجوں سے ان کا استقبال کیا، یہ سب تفصیل حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ہم قلعوں میں چھپ کر اپنی جانیں بچا لیں گے۔ مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ لوگ نکلنے پر راضی ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا اور خود ہی جلا وطن ہونے پر تیار ہوگئے جس کا آپ نے انہیں حکم دیا تھا۔
اس تفصیل کے بعد آیات بالا کا ترجمہ دوبارہ مطالعہ کریں۔
Ayah 59:3ان لوگوں کا ایمان قبول کرنے سے منکر ہونا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے کے لیے تیار ہوجانا ایسا عمل تھا کہ ان کو دنیا میں عذاب دے دیا جاتا جیسا کہ قریش مکہ بدر میں قتل کیے گئے، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ ان کو دنیا میں جلا وطنی کا عذاب دیا جائے گا (جس میں ذلت بھی ہے اور اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑنا بھی ہے اور اپنے مالوں کو چھوڑ کر جانا بھی ہے) اس لیے دنیا میں اس وقت جلاوطنی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بہرحال ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ اس مضمون کو ﴿ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ ﴾ میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 59:4پھر فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ 1ۚ﴾ (الایۃ) یعنی یہ سزا ان کو اس لیے دی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے گا سو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے، بنی قینقاع کو پہلے جلا وطن کردیا گیا تھا اور بنی نضیر اپنے اس معاہدہ شکنی پر جلا وطن کیے گئے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کا باہمی مشورہ کر کے خفیہ پروگرام بنایا تھا۔ بنی قریظہ کا حال سورة احزاب کے تیسرے رکوع کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے ان لوگوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر قریش مکہ اور ان کے ساتھ آنے والی جماعتوں کی مدد کی تھی۔ ان تینوں قبیلوں کے علاوہ یہود کے چھوٹے بڑے اور بھی چند قبیلے مدینہ منورہ میں آبا تھا۔ ان کے نام ابن ہشام نے اپنی کتاب سیرۃ النبی ﷺ میں لکھے ہیں۔
سارے یہودیوں کو مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا تھا ان میں قبیلہ بنی قینقاع اور قبیلہ بنو حارثہ بھی تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ بنی قینقاع سے تھے۔ (صحیح بخاری ص 574 ج 2 صفحہ مسلم ص 14 ج 2)
Ayah 59:5یہودیوں کے متروکہ درختوں کو کاٹ دینا یا باقی رکھنا دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوئے
حضرات صحابہ ؓ نے جب یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کا محاصرہ کیا اور وہ لوگ اپنے قلعوں میں اپنے خیال میں محفوظ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے کھجوروں کے درختوں کو کاٹنے اور جلانے کا حکم دے دیا اس پر یہودیوں نے کہا کہ اے ابو القاسم آپ تو زمین میں فساد سے منع کرتے ہیں کیا یہ درختوں کا کاٹنا فساد نہیں ہے اور بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ بعض مہاجرین نے مسلمانوں کو منع کیا کہ کھجوروں کے درختوں کو نہ کاٹیں، کیونکہ یہ مسلمانوں کو بطور غنیمت مل جائیں گے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے کھجوروں کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دے دی تھی پھر منع فرمایا تھا اس پر صحابہ ؓ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا ان درختوں کو کاٹنے میں کوئی گناہ ہے یا ان کے چھوڑ دینے پر کوئی مواخذہ کی بات ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ (تفسیر ابن کثیر ص 323 ج 4)
یعنی تم نے جو بھی کھجوروں کے درخت کاٹ دیے یا انہیں ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، سو یہ سب اللہ کی اجازت سے ہے۔ جو کام اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اور دینی ضرورت سے ہو اس میں گناہگار ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
ان کھجوروں کے کاٹنے میں جو دینی ضرورت تھی اس کو ﴿ وَ لِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ 005﴾ میں فرمایا۔
مطلب یہ ہے کہ ان درختوں کے جلانے میں بددین یہودیوں کا ذلیل کرنا بھی مقصود ہے اپنے باغوں کو جلتا ہوا دیکھ کر ان کے دل بھی جلیں گے اور ذلت بھی ہوگی اور اس کی وجہ سے قلعے چھوڑ کر ہار ماننے اور صلح کرنے پر راضی ہوں گے۔
چنانچہ یہودی یہ منظر دیکھ کر راضی ہوگئے کہ ہمیں مدینہ سے جانا منظور ہے پھر وہ مدینہ سے جلا وطن ہو کر خیبر چلے گئے جس کا قصہ اوپر گزرا ہے دنیاوی سامان کی حفاظت ہو، تخریب ہو اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو تو اس میں ثواب ہی ثواب ہے گناہ کا احتمال ہی نہیں۔
Ayah 59:6اموال فئی کے مستحقین کا بیان
لفظ افاء یفی باب افعال سے ماضی کا صیغہ ہے فاء لوٹا۔ فاء لوٹایا، چونکہ کافروں کا مال مسلمانوں کو مل جاتا ہے ان کی املاک ختم ہوجاتی ہیں اور مسلمانوں کی ملک میں آجاتی ہیں۔ اس لیے جو مال جنگ کیے بغیر بطور صلح مل جائے اس کو فئی کہتے ہیں اور جو مال جنگ کر کے ملے اس مال کو غنیمت کہتے ہیں۔
مال غنیمت کے مصارف دسویں پارے کے شروع میں بیان فرما دیئے گئے ہیں اور مال فئی کے مصارف یہاں بیان فرمائے ہیں۔
بنی نضیر کے مال بطور صلح مل گئے اور اس میں کوئی جنگ لڑنی نہیں پڑی تھی لہٰذا ان اموال میں کسی کو کسی حصہ کا استحقاق نہیں تھا۔ بعض صحابہ ؓ کے دلوں میں یہ بات آئی کہ ہمیں ان اموال میں سے حصہ دیا جائے، اس وسوسہ کو دفع فرما دیا اور فرمایا ﴿ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ ﴾ (کہ تم نے ان میں اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے) یعنی تمہیں ان میں کوئی مشقت نہیں اٹھانی پڑی اور کوئی جنگ نہیں لڑنی پڑی۔
﴿ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ﴾ (اور لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط فرما دے) یعنی پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جس پر چاہا مسلط فرما دیا اور اب محمد رسول اللہ ﷺ کو بنی نضیر پر مسلط فرما دیا لہٰذا ان اموال کا اختیار رسول اللہ ﷺ کو ہی ہے۔
﴿ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ006﴾ (اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) چونکہ بنی نضیر کے اموال قتال کے بغیر حاصل ہوئے تھے اس لیے انہیں اموال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں فرمایا۔
Ayah 59:7اس کے بعد اموال فئی کے مصارف بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿ مَاۤ اَفَآء اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى ﴾ (الایۃ) اللہ نے جو کچھ اپنے رسولوں کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے۔ اموال بنی نصیر کے علاوہ بعض دیگر بستیاں بھی بطور مال فئی رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں آگئی تھیں جن میں سے فدک زیادہ مشہور ہے۔ خیبر کے نصف حصہ کا اور بنی عرینہ کے اموال کا ذکر بھی مفسرین کرام نے لکھا ہے۔
مذکورہ بالا آیت میں اموال فئی کے مصارف بتائے ہیں اول فَلِلّٰہِ فرمایا بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کا ذکر تبرک کے لیے ہے جیسا کہ خمس کے بارے میں ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ ﴾ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے اس کی یوں تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ جیسے چاہے ان کو خرچ کرنے کا حکم دے اس میں کسی کو اپنی طرف سے کچھ تجویز کرنے یا کسی کا حصہ بتانے اور طے کرنے کا کوئی حق نہیں، پھر فرمایا : وللرسول مال فئی اللہ کے رسول کے لیے ہے یعنی ان اموال کا اختیار اللہ پاک کی طرف سے آپ کو دے دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مصارف بتا دیئے ہیں (مال غنیمت کی طرح یہ مال صرف نہیں کیے جائیں گے اور نہ ان میں سے خمس نکالا جائے گا) ۔ (علی ما ذھب الیہ الامام ابوحنیفہ ؓ
مفسرین نے لکھا ہے کہ مال فئی پر رسول اللہ ﷺ کو مالکانہ اختیار حاصل تھا پھر ان کے جو مصارف بیان فرمائے یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے مالکوں کو اموال کے بارے میں احکام دیے گئے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ پر خرچ کرو۔ تیسرا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ لِذِي الْقُرْبٰى ﴾ ارشاد فرمایا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اہل قرابت مراد ہیں، ان کے بعد چوتھا اور پانچواں اور چھٹا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ ﴾ فرمایا، یعنی اموال فئی یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کیے جائیں۔
حسب فرمان باری تعالیٰ شانہ اموال فئی کو آپ اپنے ذوی القربی پر اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافرین پر اپنی صوابدید سے خرچ کردیتے تھے اسی سلسلہ میں یہ بھی تھا کہ آپ مال فئی میں سے اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کا خرچہ نکال لیتے تھے اور جو مال بچ جاتا تھا اسے مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے خرچ فرما دیتے تھے۔
گو آپ کو ان اموال کا مالکانہ اختیار حاصل تھا لیکن چونکہ آپ نے وفات سے پہلے یہ فرما دیا تھا کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ (کہ ہماری میراث مالی جاری نہ ہوگی ہم جو کچھ چھوڑیں گے وہ صدقہ ہوگا) (صحیح بخاری ص 436 ج 1) اس لیے ان اموال میں میراث جاری نہیں کی گئی۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرات خلفاء راشدین ؓ نے بھی ان اموال کو انہیں مصارف میں خرچ کیا جن میں رسول اللہ ﷺ خرچ فرماتے تھے امام المسلمین کو جب اموال فئی حاصل ہوجائیں تو اسے مالکانہ اختیار حاصل نہیں ہوں گے۔ بلکہ حاکمانہ اختیار حاصل ہوں گے اور وہ مذکورہ بالا مصارف میں اور مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے پل تیار کرنے، سڑکیں بنانے، مجاہدین اور ان کے گھر والوں کی حاجتیں پوری کرنے اور علماء کرام پر خرچ کرنے اور قضاۃ اور عمال کی ضرورتیں پوری کرنے میں خرچ کرے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربیٰ سے بنو ہاشم اور بنوعبدالمطلب مراد ہیں پھر لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ان حضرات کو اموال فئی میں سے حصہ دیا جائے گا۔ غنی ہوں یا فقیر ہوں اور ﴿ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ﴾ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا اور حضرت امام مالک (رح) کا مذہب یہ نقل کیا ہے کہ امام المسلمین جس طرح چاہے ان حضرات پر خرچ کرے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بعض کو دے بعض کو نہ دے۔ پھر حنفیہ کا مذہب لکھا ہے کہ حضرات ذوی القربیٰ کا حصہ اموال فئی میں رسول اللہ ﷺ کے بعد باقی نہیں رہا کیونکہ حضرات خلفاء راشدین نے ان کے لیے علیحدہ حصہ نہیں نکالا ہاں ان حضرات میں جو یتامیٰ اور مساکین و ابن السبیل ہوں گے ان کو ان اوصاف ثلاثہ کے اعتبار سے اموال فئی میں سے دیا جائے گا اور دوسرے مستحقین پر ان کو مقدم کیا جائے گا، پھر یتامی کے بارے میں لکھا ہے کہ اموال فئی میں سے ان یتامیٰ پر خرچ کیا جائے گا، جو مسلمان ہیں اور فقیر یا مسکین ہیں۔
﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ اموال فئی کے مصارف بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اموال فئی کے مصارف واضح طور پر بیان فرما دیے گئے تاکہ یہ اموال تمہارے مال داروں کے درمیان دولت بن کر نہ رہ جائیں (لفظ دولت دال کے زبر کے ساتھ اور دولہ دال کے پیش کے ساتھ دونوں طرح عربی زبان کا لغت ہے) مال کو دولت کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں تداول ایدی ہوتا رہتا ہے اور ایک سے ہو کر دوسرے کے پاس جاتا رہتا ہے۔ البتہ اردو کا محاورہ یہ ہے کہ جس کے پاس زیادہ مال ہو اسے دولت مند کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں تنبیہ فرما دی کہ اموال فئی کی تقسیم جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دی ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ یہ اموال مالداروں کے ہی ہاتھوں میں آ کر نہ رہ جائیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں ہوتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے کہ عامۃ الناس کی امداد کے لیے حوادث و مصائب کے مواقع میں بعض مالداروں اور حکومتوں کی طرف سے جو مال ملتا ہے اس میں سے تھوڑا سا اہل حاجات پر خرچ کر کے منتظمین ہی مل ملا کر کھا جاتے ہیں جو پہلے سے مالدار ہوتے ہیں، چونکہ تقویٰ نہیں دنیا داری غالب ہے اور مال کی محبت دلوں میں جگہ پکڑے ہوئے ہے اس لیے ایسے مظالم ہوتے رہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے
پھر فرمایا ﴿وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴾ (اور رسول اللہ ﷺ جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ) ۔ اس میں یہ بتادیا کہ ہر امر ونہی کا قرآن مجید میں ہونا ضروری نہیں ہے قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام بیان فرمائے ہیں اور بہت سے احکام اپنے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بتائے ہیں ان میں آنحضرت ﷺ کے اعمال بھی ہیں اور اموال بھی اور تقریرات بھی یعنی کسی نے آپ کے سامنے کوئی عمل کیا اور آپ نے منع نہیں فرمایا تو یہ بھی حجت شرعیہ ہے سورة اعراف میں آپ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے ﴿يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ﴾ (یعنی آپ ان کو اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائیوں سے روکتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ان کے لئے خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں) ۔
منکرین حدیث کی تردید :
آج کل بہت سے ایسے جاہل لیڈر پیدا ہوگئے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ حدیث شریف حجت شرعیہ نہیں ہے اور اسی لئے بہت سی اسلامی چیزوں کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت بڑی گمراہی ہے اور کفر ہے یہ لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے ماننے والے ہیں اگر قرآن کے ماننے والے ہوتے تو یہ کیوں کہتے کہ حدیث حجت شرعیہ نہیں ہے۔ قرآن میں تو ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ اور مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ اور وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ﴾ فرمایا ہے۔ درحقیت ایسے لوگوں کا مقصد اسلام میں تحریف کرنا ہے قرآن کو ماننا نہیں ہے، ان لوگوں کو دشمنان اسلام پیسے دے کر اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں کفر پھیلائیں (العیاذ باللہ) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ( لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات لہ والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ) ” یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور ان عورتوں پر جو (ابرو یعنی بھنوؤں کے بال) چننے والی ہیں (تاکہ بھنویں باریک ہوجائیں) اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو حسن کے لئے دانتوں کے درمیان کشادگی کرتی ہیں جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔ “
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ بات سن کر ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھتیجے ہیں ؟ فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی اور جن پر اللہ کی کتاب میں لعنت آئی ہے، وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے سارا قرآن پڑھ لیا مجھے تو یہ بات کہیں نہ ملی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو تجھے ضرور یہ بات مل جاتی کیا تو نے یہ نہیں پڑھا۔ ﴿ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا 1ۚ ﴾ (اور رسول تم کو جو (ہدایت) دے اسے قبول کرلو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ) ۔ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی کہ ہاں یہ قرآن میں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے جن کاموں کے کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے لہٰذا قرآن کی رو سے بھی ان کاموں کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن باتوں کا حکم دیں ان پر عمل کرو اور جن چیزوں سے روکیں ان سے رک جاؤ۔ (صحیح بخاری صفحہ 725: ج 2)
یہ مضمون اموال فئی کی تقسیم بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان اللہ تعالیٰ کے فرمان سے جدا نہیں ہے تقسیم فئی کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے اس میں آپ جس طرح تصرف فرمائیں وہ تصرف درست ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضاء کے موافق ہے۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِۘ007﴾ (اور اللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) ۔
Ayah 59:8حضرات مہاجرین کرام کی فضیلت اور اموال فئی میں ان کا استحقاق
اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اموال فئی میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے، مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار اور اموال چھوڑ کر چلے آئے جب مدینہ منورہ پہنچے تو حاجت مند اور تنگ دست تھے ان پر بھی اموال فئی خرچ كئے جائیں۔ اموال اور گھر بار چھوڑ کر ان کا مدینہ آنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی مطلوب ہے ان کی ہجرت کسی دنیاوی غرض سے نہیں ہے وہ جو تکلیفیں ان کو پہنچی تھیں وہ اپنی جگہ ہیں ان کے علاوہ مدینہ منورہ آکر بھی جہاد میں شریک ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور کافروں سے لڑتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے ایمان اور ایمان کے تقاضوں میں سچے ہیں۔
پہلی آیت میں جو یتامیٰ ، مساکین اور ابن السبیل کا ذکر فرمایا ہے، اس کے عموم میں فقراء مہاجرین بھی داخل ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ بھی ان کا استحقاق ظاہر فرما دیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ تکلیفیں اٹھائی تھیں۔
Ayah 59:9حضرات انصار ؓ کے اوصاف جمیلہ
صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ ﴾ مہاجرین پر عطف ہے اور ان سے حضرات انصار مدینہ مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ فئی کے جو اموال ہیں انصار بھی اس کے مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ انصار کی تعریف کرتے ہوئے اولایوں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ کو پہلے ہی سے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا، یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے برس ہابرس پہلے ہی مدینہ منورہ میں یمن سے آکر آباد ہوگئے تھے۔ جو بعد میں دار الایمان بن گیا پھر جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور حج کے موقعہ پر منیٰ میں آپ سے ملاقات ہوگئی تو ایمان بھی قبول کرلیا۔ وہاں تو چند آدمیوں نے قبول کیا تھا پھر سارے مدینہ والوں نے ایمان قبول کرلیا اور ایمان کو بھی ایسے چپکے کہ گویا وہ ان کا گھر ہے (جس سے کبھی بھی جدا ہونا نہیں ہے) ۔
دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ جو حضرات ان کے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں ان کے دلوں میں یہ بات نہیں آتی کہ دوسرے علاقہ کے لوگ ہمارے یہاں آب سے ان کی وجہ سے ہماری معیشت پر اثر پڑے گا، یہی نہیں کہ ان کے آنے سے دلگیر نہیں ہوتے بلکہ سچے دل سے ان سے محبت کرتے ہیں۔
تیسری تعریف یوں فرمائی کہ ہجرت کر کے آنے والوں کو جو کچھ دیا جاتا ہے اس کی وجہ سے اپنے سینوں میں کوئی حاجت یعنی حسد اور جلن کی کیفیت محسوس نہیں کرتے یعنی وہ اس کا کچھ اثر نہیں لیتے کہ مہاجرین کو دیا گیا اور ہمیں نہیں دیا گیا۔
اور چوتھی تعریف یوں فرمائی کہ حضرات انصار اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو۔
حضرات مہاجرین وانصار ؓ کی باہمی محبت :
حدیث شریف کی کتابوں میں حضرات انصار ؓ کے حب المہاجرین اور ایثارو قربانی کے متعد دواقعات لکھے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ انصار نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہمارے اور ان مہاجرین کے درمیان ہمارے کھجوروں کے باغوں کی تقسیم فرما دیجئے، آپ نے فرمایا نہیں (میں ایسا نہیں کرتا) اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا اچھا آپ لوگ پیداوار کی محنت میں مدد کریں اور ہم آپ لوگوں کو پھلوں میں شریک کرلیں گے۔ اس پر مہاجرین نے کہا یہ ہمیں منظور ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں تکلیف میں ہوں (بھوک سے دوچار ہوں) آپ نے (اس کے کھانے کے لئے) اپنی ازواج مطہرات سے کچھ طلب فرمایا آپ کے گھروں سے جواب آیا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ ایسا کون شخص ہے جو اس شخص کی مہمانی کرے، یہ سن کر ایک انصاری صحابی نے کہا کہ میں ان کو ساتھ لے جاتا ہوں چناچہ انہیں ساتھ لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ دیکھو یہ رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہے اس کا اکرام کرنا ہے۔ بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس تو بجز بچوں کی خوراک کے کچھ بھی نہیں ہے۔ شوہر نے کہا کھانا تیار کرو اور بچوں کو سلادو چناچہ اس نے کھانا پکایا اور بچوں کو سلا دیا پھر جب کھانے بیٹھے تو عورت اس انداز سے اٹھی کہ گویا چراغ کی بتی درست کرتی ہے لیکن درست کرنے کی بجائے اس نے چراغ بجھا دیا مہمان کھاتا رہا اور یہ سمجھتا رہا کہ یہ دونوں بھی میرے ساتھ کھا رہے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کے ساتھ کھانا نہیں کھایا اور رات بھر بھوکے رہے، صبح کو جب رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضری ہوئی تو یہ میزبان صحابی حاضر ہوئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو تمہارا عمل پسند آیا کہ تم بھوکے رہے اور مہمان کو کھلا دیا۔
اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت کریمہ ﴿ وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ نازل فرمائی۔
(صحیح بخاری صفحہ 536: ج 1)
یہاں جو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بچے مہمان کی بہ نسبت زیادہ مستحق تھے پھر مہمان کو ان کی خوراک کیوں کھلائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بچے اس وقت رات کا کھانا کھاچکے تھے اب خوراک کی ضرورت صبح ناشتہ کے لئے تھی اگر وہ اصلی بھوکے ہوتے تو سلانے سے بھی نہ سوتے۔
دوسرا اشکال یہ ہے کہ چراغ جلا کر تین آدمی جو ساتھ بیٹھے اس میں بےپردگی ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
فائدہ : یہ صحابی کون تھے جو مہمان کو ساتھ لے گئے تھے ؟ اس کے بارے میں بعض علماء نے حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ کا اور بعض حضرات نے حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری ؓ کا نام بتایا ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ دعوت کرنے والے صحابی قیس بن ثابت ؓ تھے۔
جو بخل سے بچ گیا وہ کامیاب ہے :
آیت کے آخر میں فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ009﴾ اور جو شخص اپنے نفس کی کنجوسی سے بچادیا گیا سو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
اس میں کنجوسی کی مذمت کی گئی ہے اور نفس کی کنجوس سے بچنے کو کامیاب ہونے والوں کی ایک امتیازی شان بتائی ہے۔ کنجوسی کی اضافت جو نفس کی طرف کی ہے اس میں ایک نکتہ یہ ہے کہ بعض مرتبہ دل تو خرچ کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے لیکن نفس کو مال خرچ کرنے پر آمادہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مفسر قرطبی لکھتے ہیں کہ بعض اہل لغت کا قول ہے کہ شح بخل سے زیادہ بڑھ کر ہے۔ پھر صحاح (لغت کی کتاب) سے نقل کیا ہے کہ شح اس بخل کو کہا جاتا ہے جس کے ساتھ حرص بھی ہو۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم اندھیریاں بن کر سامنے آئے گا اور شح (کنجوسی) سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا اس نے انہیں آپس میں خون ریزی کرنے پر اور حرام چیزوں کو حلال کرنے پر آمادہ کردیا۔ (رواہ مسلم) انسان کے مزاج میں کنجوسی ہے جسے سورة نساء میں ﴿ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ﴾ سے تعبیر فرمایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بدترین چیز جو انسان کے اندر ہے وہ کنجوسی ہے جو گھبراہٹ میں ڈال دے اور بزدلی ہے جو جان کو نکال دے۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ کنجوسی اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ دو چیزیں بندے میں جمع نہیں ہوسکتیں ایک بخل اور دوسری بدخلقی (رواہ الترمذی) انسان کا مزاج ہے کہ مال لینے کو تو تیار ہوجاتا ہے دینے کو تیار نہیں ہوتا اسی لئے زندگی میں اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے کا زیادہ ثواب ہے۔ نفس خرچ کرنے کو نہیں چاہتا لیکن پھر بھی نفس کے تقاضوں کو دبا کر مومن آدمی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرتا چلا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ثواب کے اعتبار سے کون سا صدقہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ صدقہ سب سے بڑا ہے کہ تو اس حال میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو نفس میں کنجوسی ہو تنگدستی کا خوف ہو، مالدار بننے کی امید لگا رکھی ہو پھر فرمایا کہ تو خرچ کرنے میں دیرنہ لگا یہاں تک کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے لگے گا فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا دینا (اب کہنے سے کیا ہوتا ہے) اب تو فلاں کا ہو ہی چکا (دم نکلتے ہی دوسروں کا ہے) ۔ (رواہ البخاری صفحہ 191: ج 1)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ موت کے وقت سودرہم کا صدقہ کرے۔ (رواہ ابوداؤد)
بہت سے لوگ دنیاوی ضرورتوں گناہوں اور ریا کاریوں میں تو دل کھول کر خرچ کرتے ہیں، بےتحاشا فضول خرچ میں مال اڑا دیتے ہیں لیکن مال سے متعلق فرائض وواجبات ادا نہیں کرتے زکوٰۃ کی ادائیگی کو روکے رکھتے ہیں حج فرض ہوجاتا ہے تو اس کے لئے ہمت نہیں کرتے اور اگر ہمت کر بھی لی تو اسے دنیا داری یعنی ریا کاری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جلدی جلدی گزرنے لگے گا عمل کم ہوجائے گا اور (دلوں میں) کنجوسی ڈال دی جائے گی اور فتنے ظاہر ہوں گے اور قتل زیادہ ہوں گے۔ (رواہ البخاری صفحہ 1046)
نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین چیزیں نجات دینے والی ہیں۔
(1) تنہائی میں اور لوگوں کے سامنے تقویٰ کے تقاضوں پر چلنا۔ (2) رضامندی میں اور ناراضگی میں حق بات کہنا۔ (3) مالداری اور تنگدستی میں میانہ روی اختیار کرنا۔
اور ہلاک کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں۔ 1۔ خواہشوں کا اتباع کیا جانا۔ 2۔ کنجوسی (کے جذبات) کی فرما نبرداری کرنا۔ 3۔ انسان کو اپنے نفس پر گھمنڈ کرنا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 434)
کنجوسی بری بلا ہے نفس پر قابو پائے اللہ تعالیٰ کی رضا میں مال خرچ کرے اور گناہوں میں خرچ کرنے سے بچے اور فضول خرچی سے بھی بچے یہ کامیابی کا راستہ ہے جسے ﴿ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ009﴾ میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 59:10مہاجرین و انصار کے بعد آنے والے مسلمانوں کا بھی اموال فئی میں استحقاق ہے
اكثر علماء کے نزدیک یہ بھی المہاجرین پر معطوف ہے اور اس میں بعد میں آنیوالے حضرات کا اموال فئی میں حصہ بتایا ہے اور مقصد یہ ہے کہ مہاجرین وانصار کے بعد دیگر مسلمان جو قیامت تک آئیں گے ان سب پر مال فئی میں سے خرچ کیا جائے۔ مفسرابن کثیر نے تفسیر ابن جریر سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آیت شریفہ ﴿ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ ﴾ کی آخر تک تلاوت کی، پھر فرمایا کہ یہ صدقات ان لوگوں کے لئے ہیں (جن کا آیت میں ذکر ہوا) اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ ﴿ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ ﴾ آخر تک تلاوت کی پھر فرمایا کہ اموال غنیمت ان لوگوں کے لئے ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں پھر آپ نے ﴿ مَاۤ اَفَآء اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ ﴾ سے ﴿ وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﴾ تک تلاوت کی اور یوں فرمایا کہ یہ آیات تمام مسلمین کو شامل ہیں جو بھی کوئی مسلمان ہوگا اموالِ فئی میں اس کا حق ہوگا پھر فرمایا اگر میں زندہ رہ گیا تو ایک بکریاں چرانے والا جو سردحمیر (ایک قبیلہ کا نام جو مدینہ منورہ سے دور رہتا تھا) میں چرا رہا ہوگا اپنے حصہ کو وہیں پالے گا، اس کے حاصل کرنے میں اس کی پیشانی میں پسینہ تک نہ آیا ہوگا۔ (ابن کثیر صفحہ 340: ج 4)
مفسر ابن کثیر ؓ نے آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ : ھولاء ھم الثالث ممن یستحق فقراء ھم من مال الفیٔ وھم المھاجرون ثم الانصار۔
یعنی اموال فئی کے مستحقین کی یہ آخری قسم ہے تینوں قسموں میں سے ان میں سے جو فقراء ہوں گے مال فئی کے مستحق ہوں ہوا کہ اموال فئی میں روافض کا بالکل حصہ نہیں جو حضرات مہاجرین و انصار کا اتباع تو کیا کرتے ان سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں کافر کہتے ہیں۔ وسیجیئی من قول الامام مالک انشاء اللہ تعالیٰ ۔
یہ تو اموال فئی کے مستحقین کا بیان ہوا آیت کریمہ میں بعد میں آنے والے مومنین کی دو دعاؤں کا بھی تذکرہ فرما دیا ہے۔ پہلی دعاء یہ ہے کہ وہ بارگاہ الٰہی میں یوں عرض کرتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہماری بھی معفرت فرما دے اور جو ہمارے بھائی ہم سے پہلے باایمان گزر گئے ان کی بھی مغفرت فرمادے۔ “ معلوم ہوا کہ اپنے لئے مغفرت کی دعا کرنے کے ساتھ ان مسلمان بھائیوں کے لئے بھی دعاء مغفرت کرنا چاہئے جو اس دنیا سے گزر گئے دعاء مغفرت سے مغفرت کا بھی فائدہ ہوتا ہے اور رفع درجات کا بھی۔
دوسری دعاء یہ ہے کہ ” اے اللہ ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کوئی کھوٹ پیدا نہ فرما “ ، لفظ غل جس کا ترجمہ کھوٹ کیا گیا ہے بہت عام ہے کینہ، بعض، حسد، جلن یہ لفظ ان سب باتوں کو شامل ہے اس میں ﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ فرمایا ہے یعنی جو بھی اہل ایمان گزر گئے دنیا سے جا چکے اور جو موجود ہیں اور جو آئندہ آئیں گے اللہ تعالیٰ ان سب کی طرف ہمارے دلوں کو صاف اور پاک رکھے کسی سے کینہ نہ ہو اور نہ کسی کی طرف سے دل میں برائی لائی جائے۔
حسد، بغض، کینہ اور دشمنی کی مذمت
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپس کے بگاڑ سے بچو، کیونکہ یہ مونڈ دینے والی چیز ہے۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پرانی امتوں کا مرض چپکے چپکے تمہاری طرف چل کر آگیا ہے وہ مرض حسد اور بغض ہے یہ مونڈ دینے والی صفت ہے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈ دیتی ہیں بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہیں۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ہر اس شخص کے بارے میں جس کے دل میں مسلمان بھائی سے دشمنی ہو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) فرمان ہوتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کرلیں۔ (رواہ الترمذی) یہ سب روایات مشکوۃ المصابیح صفحہ 428 پر مذکور ہیں)
رسول اللہ ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ پرانی امتوں کا مرض تمہارے اندر چل کر آگیا ہے یہ اس زمانہ میں تھوڑا ہی سا تھا۔ لیکن اب تو اسلام کا دعویٰ کرنے والوں میں لڑائیاں بھی ہیں بغض بھی ہے ایک دوسرے کی مخالفت بھی ہے، مار کاٹ بھی ہے اور قتل و قتال بھی، ان حالات میں سچے دل سے کیا دعاء نکل سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اہل ایمان کی طرف سے کوئی کھوٹ نہ ہو، دلوں میں کھوٹ بھرا ہوا ہے اور اسے نکالنا بھی نہیں چاہتے۔ جب جمع ہوں گے غیبتیں کریں گے، تہمتیں دھریں گے مسلمانوں کے عیب اچھالیں گے ان حالات میں سینہ کیسے صاف رہ سکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص میرے صحابہ ؓ سے متعلق کوئی بات مجھے نہ پہنچائے (جس سے دل برا ہو) کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ (اپنے گھر سے) ان کی طرف اس حال میں نکل کر آؤں کہ میرا سینہ باسلامت ہو۔ (رواہ الترمذی عن عبداللہ بن فضل، ازواج النبی ﷺ
روافض کی گمراہی :
اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرات مہاجرین و انصار کے لئے دعا کرنے والوں کے مدح فرمائی لیکن روافض کا یہ حال ہے جو قرآن کریم کو اللہ نازل کی ہوئی کتاب مانتے ہی نہیں بلکہ یوں کہتے ہیں کہ وہ امام مہدی کے پاس ہے جو غار میں چھپے ہوئے ہیں حضرات صحابہ کرام ؓ کے بغض سے ان کے سینے بھرے ہوئے ہیں اپنے ایمان کی تو فکر نہیں اور تین چار کے علاوہ باقی صحابہ کو کافر کہتے ہیں ان کے دلوں میں حضرات صحابہ سے بھی بغض ہے اور ان کے طریقہ پر چلنے والوں سے بھی۔
تفسیر ابن کثیر (ج 4: ص 339) میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ کے لئے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا لیکن لوگوں نے انہیں برا کہنا شروع کردیا پھر انہوں نے آیت کریمہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﴾ آخر تک تلاوت فرمائی۔
حضرت عامر شعبی ؓ نے مالک بن مغفل (رح) سے فرمایا کہ ایک بات میں یہود روافض سے بڑھ گئے جب یہودیوں سے پوچھا گیا کہ تم میں سب سے بڑھ کر کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا حضرت موسیٰ کے اصحاب ہم میں سب سے بہتر ہیں اور نصاریٰ سے پوچھا گیا کہ تم میں سب سے بہتر کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری سب سے بہتر ہیں، جب روافض سے پوچھا گیا کہ تمہارے دین میں سب سے برے لوگ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے استغفار کرنے کا حکم ہے اور وہ انہیں برا کہتے ہیں۔ (معالم التنزیل صفحہ 321: ج 4)
مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت امام مالک (رح) نے اس آیت کریمہ سے کیسا اچھا استنباط کیا انہوں نے فرمایا کہ کسی رافضی کا اموال فئی میں کوئی حصہ نہیں کیونکہ قرآن نے جن لوگوں کو حضرات مہاجرین اور انصار کے بعد اموال فئی کا مستحق بتایا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد دنیا میں آئے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعاء کی روافض دعا کے بجائے ان حضرات کو برا کہتے ہیں لہٰذا انہیں اموال فئی میں کوئی استحقاق نہیں کیونکہ ان میں وہ صفت نہیں ہے جو صفت اللہ تعالیٰ نے مستحقین فئی کی بیان فرمائی ہے۔
Ayah 59:11یہودیوں سے منافقین کے جھوٹے وعدے
جیسا کہ ابتدائے سورت میں سبب نزول بیان کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہود کے قبیلہ بنی نضیر کو مدینہ منورہ چھوڑنے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے انکار کردیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے دیگر منافق ساتھیوں نے یہودیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ تم ہرگز نہ نکلنا ہم تمہارے ساتھ ہیں ان آیات میں اسی کا ذکر ہے۔
رئیس المنافقین نے یہود کی کمر ٹھونکی، اور کافرانہ دوستی کو ظاہر کرتے ہوئے یہودیوں کے پاس خبر بھیجی کہ دیکھو تم اپنے گھروں سے ہرگز نہ نکلنا ہمیں تم اپنے سے علیحدہ مت سمجھو اگر تمہیں نکلنا ہی پڑا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اگر کوئی شخص ہم سے یوں کہے گا کہ ان کا ساتھ مت دو تو ہم اس کی بات نہیں مانیں گے اور نہ صرف یہ کہ ہم مدینہ چھوڑ کر تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے بلکہ اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم ضرور ضرور تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 0011﴾ (اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں)
Ayah 59:12مزید فرمایا ﴿ لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ ﴾ (اگر یہودی نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے) ۔ ﴿ وَ لَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ﴾ (اور اگر جنگ کی گئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے) ۔
چناچہ ایسا ہی ہوا، جب رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر یہودیوں نے یہ کہلا بھیجا کہ ہم نہیں نکلیں گے اور حضور اقدس ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا جس میں جنگ کا احتمال تھا تو یہودی منافقین کی مدد کا انتظار کرتے رہے لیکن انہوں نے ان کی کچھ بھی مدد نہ کی جب وہ ان کی مدد سے ناامید ہوگئے اور مقتول ہوجانے کی صورت سامنے آگئی تو مجبوراً جلاوطنی پر راضی ہوگئے۔ جب وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر کے تھوڑا بہت سامان لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوگئے تو اس موقع پر بھی منافقین نے ان کا ساتھ نہ دیا انہوں نے یہودیوں کو یوں تسلی دلائی تھی کہ ہم تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے لیکن بالکل طوطا چشمی سے کام لیا اور جان بچا کر اپنے گھروں میں ہی جم کر رہ گئے، اور اس کا تو موقع ہی نہ آیا کہ یہودیوں سے جنگ ہوتی تو یہ ان کی مدد کرتے بالفرض اگر جنگ ہوتی اور یہ مدد کرتے تو پشت پھیر کر بھاگ جاتے۔ كما قال تعالیٰ : ﴿ وَ لَىِٕنْ نَّصَرُوْهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ 1۫ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ 0012 ﴾
Ayah 59:13اس کے بعد مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ﴿ لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ کہ اے مسلمانو ! منافقین نے جو یہودیوں سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ محض ایک زبانی وعدہ ہے وہ تمہارے مقابلہ میں نہیں آسکتے۔ جو شخص ایماندار ہو وہ تو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے لیکن منافقین کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف کی بہ نسبت تمہارا خوف ان کے دلوں میں زیادہ بیٹھا ہوا ہے وہ جھوٹ موٹ زبان سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور چونکہ انہیں اس کا یقین تھا کہ اگر ہم نے یہودیوں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں سے مقابلہ ہوا تو یہودی بھی پٹ جائیں گے اور ہمارا ایمان کا دعویٰ بھی دھرارہ جائے گا اس لئے وہ یہودیوں کا ساتھ دینے والے نہ تھے۔
﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ 0013 ﴾ (اور منافقوں کا تم سے ڈرنا اور اللہ سے نہ ڈرنا اس سبب سے ہے کہ وہ سمجھتے نہیں ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت وقوت نہیں سمجھتے اس کے بعد مسلمانوں کو تسلی دی کہ یہ سب لوگ یعنی بنی نضیر اور منافقین اکٹھے ہو کر بھی لڑنے کی ہمت نہیں کریں گے (الگ الگ تو کیا مقابلہ کرسکتے ہیں) ہاں جو ایسی بستیاں ہیں جو قلعوں کے طور پر بنی ہوئی ہیں ان بستیوں میں یادیواروں کی آڑ میں لڑ سکتے ہیں۔
Ayah 59:14چناچہ یہود بنی قریظہ اور اہل خیبر اسی طرح مقابل ہوئے اور سب نے اپنے منہ کی کھائی اور شکست کی مصیبت اٹھائی۔
پھر فرمایا ﴿بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ1ؕ﴾ (ان کی لڑائی آپس میں شدید ہے) وہ آپس میں اپنے عقائد کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ ﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى 1ؕ﴾ (آپ خیال کرتے ہیں کہ وہ اکٹھے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کے دل متفرق ہیں) ۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَۚ0014﴾ (ان کے قلوب کا منتشر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے (اپنی اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں) ۔
Ayah 59:15یہود کے قبیلہ بنی قینقاع کی بیہودگی اور جلاوطنی کا تذکرہ
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین بڑے قبیلے آباد تھے ایک قبیلہ بنی نضیر جن کی جلاوطنی کا تذکرہ اسی سورت کے شروع میں ہوا ہے، دوسرا قبیلہ بنی قریظہ تھا جن کے مردوں کے قتل كئے جانے اور عورتوں اور بچوں کے غلام بنائے جانے کا تذکرہ سورة احزاب کے تیسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔
تیسرا قبیلہ بنی قینقاع تھا جن کی جلاوطنی کا قصہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے تینوں قبیلوں سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ تھا کہ نہ آپس میں جنگ کریں گے اور نہ آپ کے کسی دشمن کی مدد کریں گے ان تینوں قبیلوں نے غدر کیا اور اس کا انجام بھگت لیا۔
قبیلہ بنو قینقاع پہلا قبیلہ ہے جسے سب سے پہلے مدینہ منورہ سے جلاوطن کیا گیا۔ واقعہ یوں ہوا کہ غزوہ بدر کے بعد کفار مکہ کو شکست دے کر جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو سوق بنی قینقاع میں انہیں جمع کیا، اور فرمایا کہ اے یہودیو ! تم اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ ورنہ تمہارا بھی وہی حال ہوسکتا ہے جو قریش کا ہوا تم اس بات کو جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس بات کو اپنی کتاب میں پاتے ہو اور اللہ کا تم سے عہد ہے کہ اس نبی پر ایمان لانا جو تمہارے کتاب میں مذکور ہے۔ انہوں نے اس کا جواب دیا کہ اے محمد آپ اس دھوکے میں نہ رہیں کہ قریش مکہ کو شکست دینے کے بعد ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے، وہ لوگ تو اناڑی تھے جنگ کرنا نہیں جانتے تھے۔ آپ نے موقع پاکر انہیں شکست دیدی۔ اللہ کی قسم اگر ہم سے جنگ کی تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم، ہم ہیں۔
اسی دور ان ایک یہ واقعہ پیش آگیا کہ ایک عورت ایک یہودی سنار کے پاس دودھ بیچنے آئی یہودیوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی جو یہود بنی قینقاع اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ٹھن جانے کا ذریعہ بن گئی۔
جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا پتہ چلا تو پندرہ دن ان کا محاصرہ فرمایا، بالآخر انہوں نے کہا کہ جو آپ فیصلہ فرمائیں وہ ہمیں منظور ہے قریب تھا کہ ان کے قتل کا حکم دیدیا جاتا کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول ضد کرنے لگا اور آنحضرت ﷺ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا اور کہنے لگا یہ (بنی قینقاع) سات سو آدمی ہیں میری مدد کرتے رہے ہیں آپ ان کو ایک ہی صبح یا ایک ہی شام میں قتل کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ چلو ان کو تمہاری رائے پر چھوڑ دیا، اس کے بعد مدینہ منورہ سے ان کے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کردیا اور اذراعات (علاقہ شام) کی طرف انہیں چلتا کردیا گیا۔ (البدایہ والنہایہ صفحہ 3: ج وفتح الباری صفحہ 330: ج 7)
اس واقعہ کو معلوم کرنے کے بعد اب آیت بالا کا دوبارہ ترجمہ پڑھیں مطلب یہ ہے کہ قبیلہ بنی نضیر کا وہ ہی حال ہوا جو تھوڑا عرصہ پہلے ہی ان لوگوں کا حال ہوچکا ہے جو ان سے پہلے تھے یعنی قبیلہ بنی قینقاع، ان لوگوں نے بھی عہد توڑا اور اسلام قبول نہ کیا الٹے الٹے جواب دیئے وہ بھی جلاوطن ہوئے اور بنی نضیر بھی نکال دیئے گئے، یہ تو دنیا کی تذلیل تھی آخرت میں بھی درد ناک عذاب ہے۔
Ayahs 59:16–17شیطان انسان کو دھوکہ دیتا ہے پھر انجام یہ ہوتا ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے والے بن جاتے ہیں
ان دونوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ قبیلہ بنی نضیر کو جو جلاوطنی کی سزا بھگتنی پڑی اور منافقین کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا کام نہیں آیا (کیونکہ منافقین نے بےیارو مددگار چھوڑ دیا) یہ کوئی نئی بات نہیں ہے شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ انسان کو کفر پر ابھارتا رہتا ہے جب وہ کفر اختیار کرلیتا ہے تو پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہہ کر جدا ہوجاتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یوں بھی کہہ دیتا ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں غزوہ بدر کے موقع پر شیطان نے جو بےرخی دکھائی تھی اور بیزاری کا اعلان کیا تھا۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے۔ حالانکہ وہ کافروں کا دوست بن کر آیا تھا۔ (انوار البیان ج 2)
شیطان کی ڈھٹائی دیکھو کہ کافر بھی ہے اور لوگوں کو کفر پر ڈالتا ہے پھر بھی یوں کہتا ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، قبیلہ بنی نضیر منافقین کی باتوں میں آگئے جو شیطان کے نمائندے ہیں، انہوں نے بنی نضیر سے وعدے كئے پھر پیچھے ہٹ گئے اور قبیلہ بنی نضیر کو جلاوطن ہونا پڑا۔
جس نے جھوٹ فریب مکر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر کمر باندھ لی اس سے بڑے بڑے جھوٹ صادر ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
جو لوگ دنیا دار پیر بنے ہوئے ہیں دنیا سمیٹنے کے لیے اور دنیاداری کی زندگی گزارنے کے لئے گدیاں سنبھالے ہوئے ہیں وہ اپنے مریدوں کے سامنے بزرگ بن کر اور اللہ والے بن کر ظاہر ہوتے ہیں اور اپنے کو متقی ظاہر کرتے ہیں حالانکہ ان کا سارا دھندہ جھوٹ فریب اور مکر کا ہوتا ہے۔ اپنے پیر یعنی ابلیس کی طرح کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ سے ڈرتے ہیں حالانکہ سر سے پاؤں تک جھوٹے ہوتے ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں سے بہت دورر ہیں۔
شیطان اور اس کے ماننے والے انسان کے بارے میں فرمایا کہ ان دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں درزخ میں رہیں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ دوزخ کا دائمی عذاب ظالموں کی سزا ہے، اس میں منافقین کو تنبیہ ہے کہ شیطان کو دوست نہ بناؤ اور اس کے کہنے میں آکر کفر پر جمے ہوئے مت رہو۔ اس کی بات مانو گے تو اس کے ساتھ دوزخ کے دائمی عذاب میں رہو گے۔