59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمان میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔ اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا

آیت 1{ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمان میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔“ المُسَبِّحات کے سلسلے کی پہلی سورة یعنی سورة الحدید کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج }۔ یہاں ”مَا فِی“ کا اضافہ ہے ‘ جس سے گویا مفہوم میں مزید زور emphasis پیدا ہوگیا ہے۔ باقی ساری آیت کے الفاظ وہی ہیں۔ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن وہ اپنے اختیارات کا استعمال بہت حکمت سے کرتا ہے۔
Ayahs 59:2–4

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے پہلے جمع ہونے کے وقت (اے مسلمانو !) تمہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ (اتنی آسانی سے) نکل جائیں گے اور وہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی پکڑ) سے بچا لیں گے تو اللہ نے ان پر حملہ کیا وہاں سے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا وہ برباد کر رہے تھے اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو !

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ نے پہلے سے نہ لکھ دیا ہوتا ان پر جلاوطن ہونا تو انہیں سخت عذاب دیتا دنیوی زندگی میں اور آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت پر کمرکس لے تو (سمجھ لو کہ) اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } ”وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے ‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔“ یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ یثرب میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع ‘ بنونضیر ُ اور بنوقریظہ آباد تھے۔ حضور ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ”میثاقِ مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ”مشترکہ دفاع“ کا معاہدہ تھا۔ ان میں سے قبیلہ بنوقینقاع نے تو معاہدے کے کچھ ہی دیر بعد مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ چناچہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی بنا پر حضور ﷺ نے غزوئہ بدر کے بعد اس قبیلہ کو مدینہ بدر کردیا۔ غزوئہ احد 3 ہجری کے بعد قبیلہ بنو نضیر نے بھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کی وقتی شکست سے ان کی کمزوری کا تاثر لے کر جہاں عرب کے بہت سے دوسرے قبائل نے سر اٹھانا شروع کیا ‘ وہاں یہ قبیلہ بھی اپنے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی میں شامل ہوگیا۔ ان کے سردار کعب بن اشرف نے قریش مکہ سے گٹھ جوڑ کر کے انہیں مدینہ پر حملہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ تم لوگ باہر سے حملہ کرو ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ اسی دوران کعب بن اشرف نے حضور ﷺ کو نعوذباللہ شہید کرنے کی ایک سازش بھی تیار کی۔ اس کے لیے ان لوگوں نے حضور ﷺ کو کسی اہم بات چیت کے بہانے اپنے ہاں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ کسی دیوار کے بالکل ساتھ آپ ﷺ کی نشست کا انتظام کیا جائے اور جب آپ ﷺ وہاں بیٹھے ہوں تو دیوار کے اوپر سے چکی کا بھاری پاٹ آپ ﷺ پر گرا دیا جائے۔ آپ ﷺ ان کے بلانے پر ان کے محلے میں تشریف لے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے جب وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو ان کی اس گھنائونی سازش سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ واپس تشریف لے آئے۔ بنونضیر کی ان ریشہ دوانیوں اور مسلسل بدعہدی کی وجہ سے بالآخر ربیع الاول 4 ہجری میں حضور ﷺ نے ان کے خلاف لشکر کشی کا حکم دے دیا۔ البتہ جب مسلمانوں نے ان کی گڑھیوں کا محاصرہ کیا تو انہوں نے چند دن محصور رہنے کے بعد لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔ اس پر حضور ﷺ نے ان کی جان بخشی کرتے ہوئے انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا ‘ بلکہ آپ ﷺ نے مزید نرمی فرماتے ہوئے انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ جاتے ہوئے وہ جس قدر سامان اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں ‘ لے جائیں۔ غزوئہ احزاب 5 ہجری کے بعد بنوقریظہ کو بھی ان کی عہد شکنی اور سازشوں کی وجہ سے کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ اس طرح یہود مدینہ کے تینوں قبائل میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کے باعث ایک ایک کر کے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ آیت میں لِاَوَّلِ الْحَشْرِ کا ایک مفہوم تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ ہی جب ان پر لشکرکشی کی تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے علاوہ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ سے جلاوطنی تو ان لوگوں کا پہلا حشر ہے ‘ پھر ایک وقت آئے گا جب انہیں خیبر سے بھی نکال دیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں جزیرہ نمائے عرب کو بھی خیرباد کہنا پڑے گا چنانچہ حضرت عمر رض کے دور میں تمام عیسائیوں اور یہودیوں کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا اور پھر ایک حشر وہ ہوگا جو قیامت کے دن برپا ہوگا۔ { مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا } ”اے مسلمانو ! تمہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ اتنی آسانی سے نکل جائیں گے“ { وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ } ”اور وہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے“ { فَاَتٰـٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْاق } ”تو اللہ نے ان پر حملہ کیا وہاں سے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا۔“ { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } ”اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا“ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو جس طریقے سے چاہے ہزیمت سے دوچار کر دے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قدر مرعوب کردیا کہ وہ اپنے مضبوط قلعوں کے اندر بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور اپنے تمام تر وسائل کے باوجود بھی مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔ { یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَق } ”وہ برباد کر رہے تھے اپنے گھروں کو ‘ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی۔“ چونکہ انہیں یہ اجازت مل چکی تھی کہ اپنے سامان میں سے جو کچھ وہ اپنے ساتھ اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں لے جائیں اس لیے وہ اپنے گھروں کی دیواروں اور چھتوں میں سے دروازے ‘ کھڑکیاں ‘ کڑیاں ‘ شہتیر وغیرہ نکالنے کے لیے خود ہی انہیں مسمار کر رہے تھے۔ ان کی اس تخریب میں مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا ہوگا۔ { فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔ } ”پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو !“ یہ گویا پیچھے رہ جانے والے قبیلے بنی قریظہ کو سنایا جا رہا ہے کہ تم اپنے بھائی بندوں کے اس انجام سے عبرت حاصل کرو اور سازشوں سے باز آجائو !
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو چھوڑ دیا ان کی جڑوں پر کھڑے تو یہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے۔

آیت 5{ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْتَرَکْتُمُوْہَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ } لِینہ ایک خاص قسم کی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہودیوں کی گڑھیوں اور حویلیوں کے گرد یہ درخت باڑ کی شکل میں کثرت سے موجود تھے۔ مسلمانوں نے جب ان کا محاصرہ کیا تو حملہ کے لیے راستے بنانے کی غرض سے حسب ِضرورت ان میں سے کچھ درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے اس عمل کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کیا کہ یہ لوگ خود کو مومنین کہتے ہیں اور ان کے قائد اللہ کے رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ‘ لیکن ان لوگوں کی اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود دیا۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مذکورہ اقدام پر اپنی منظوری sanction کی مہر ثبت کرتے ہوئے واضح کردیا کہ مسلمانوں نے یہ درخت جنگی ضرورت کے تحت اللہ کے رسول ﷺ کی موجودگی میں کاٹے ہیں۔ چناچہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے اس کی اجازت دی گئی تھی۔ { وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ’ اب اگلی آیات میں مال فے کا ذکر آ رہا ہے جو اس سورت کا اہم ترین مضمون ہے۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مال فے کیا ہے اور یہ مال غنیمت سے کس طرح مختلف ہے۔ مالِ غنیمت تو وہ مال ہے جو باقاعدہ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو۔ اس سے پہلے سورة الانفال کی آیت 41 میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں حکم آچکا ہے۔ اس حکم کے مطابق مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ ‘ رسول ﷺ کے قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہوگا ‘ جبکہ باقی چار حصے اس جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کے مابین تقسیم کردیے جائیں گے ‘ اور اس تقسیم میں سوار کو پیدل کے مقابلے میں دو حصے ملیں گے۔ اس کے برعکس ”مالِ فے“ وہ مال ہے جو مسلمانوں کو کسی جنگ کے بغیر ہی حاصل ہوجائے ‘ جیسے زیر مطالعہ واقعہ میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی ‘ مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور انہوں نے مرعوب ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ چناچہ اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی زمینیں اور دوسری تمام اشیاء مال فے قرار پائیں۔ آگے آیت 7 میں مال فے کے بارے میں واضح کردیا گیا کہ یہ مال ُ کل کا کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ اس میں سے اللہ کے رسول ﷺ اپنی مرضی سے غرباء و مساکین کو تو دیں گے لیکن عام مسلمانوں کو اس میں سے حصہ نہیں ملے گا۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ان (بنونضیر) سے تو (اے مسلمانو !) تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ لیکن مسلط کردیتا ہے اللہ اپنے رسولوں ؑ کو جس پر چاہتا ہے۔ اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

آیت 6{ وَمَـآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ } ”اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ان بنونضیر سے“ { فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ } ”تو اے مسلمانو ! تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ“ { وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُط } ”لیکن مسلط کردیتا ہے اللہ اپنے رسولوں علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے۔“ { وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ۔ } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور قدرت سے بنونضیر کے حوصلے پست کردیے اور انہوں نے تم لوگوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس مہم میں ان کے خلاف تمہیں جنگ تو لڑنا ہی نہیں پڑی۔ لہٰذا تم پر واضح ہونا چاہیے کہ بنونضیر کی جلاوطنی کے نتیجے میں جو مال تمہارے ہاتھ لگا ہے وہ مال غنیمت نہیں ہے۔ اب اگلی آیت میں اس مال کے مصارف کے بارے میں حکم دیاجا رہا ہے۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے تو وہ ہے اللہ کے لیے رسول ﷺ کے لیے قرابت داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔ اور جو کچھ رسول ﷺ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

آیت 7{ مَآ اَفَــآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی } ”جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے“ { فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا } ”تو وہ ہے اللہ کے لیے ‘ رسول ﷺ کے لیے ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے“ واضح رہے کہ اللہ اور رسول ﷺ سے مراد یہاں اسلامی ریاست ہے۔ پھر چونکہ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ذاتی ذریعہ معاش تو کوئی تھا نہیں ‘ اس لیے یہ مال آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات مثلاً ازواجِ مطہرات - کے نان نفقہ اور دوسری معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس میں حضور ﷺ کے قرابت داروں کی مد بھی رکھی گئی تاکہ آپ ﷺ اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اسی طرح اس مال میں ان تمام اقسام کے ناداروں اور محتاجوں کا بھی حق رکھا گیا جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ { کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَـآئِ مِنْکُمْج } ”تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔“ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو اور اس کی گردش کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ یہ اسلامی معیشت کا بہت اہم اور بنیادی اصول ہے۔ اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے مال فے زیادہ تر ناداروں اور محتاجوں کی محرومیوں کے ازالے کے لیے مختص فرما دیا۔ مالِ فے بھی اگر مال غنیمت کی طرح تقسیم کیا جاتا تو یہاں بھی سواروں کو دوہرا حصہ ملتا اور ظاہر ہے جس شخص کے پاس گھوڑا یا اونٹ ہے وہ تو پہلے ہی سے کچھ خوشحال ہے۔ تو اس تقسیم سے مال فے کا بھی زیادہ تر حصہ خوشحال لوگوں کو ہی ملتا۔ واضح رہے کہ اسلام کے نظام عدل و قسط میں تمام انسانوں کو معاشی طور پر برابر کردینے کا تصور نہیں پایا جاتا۔ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن بھی نہیں۔ ظاہر ہے ایک سپاہی اور سپہ سالار کسی طرح بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونزم اپنے تمام تردعو وں اور انقلابی نعروں کے باوجود ایسی ”معاشی مساوات“ کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی دنیا کو نہیں دکھا سکا۔ اس کے برعکس اسلام کا نظام معیشت معاشرے سے معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے اور امیر و غریب کے درمیان فرق و تفاوت کو کم سے کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ اس کے لیے اسلام ہر وہ دروازہ بند کردینے کا حکم دیتا ہے جس کی وجہ سے چند ہاتھوں میں ارتکازِ دولت کا خدشہ ہو اور ہر وہ راستہ کھولنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے گردش دولت کا رُخ امراء سے غرباء کی طرف پھرنے اور معاشی محرومیوں کے ازالے کا امکان ہو۔ آج معاشی پیچیدگیوں کی وجہ سے جدید معاشرے میں جو گھمبیر صورتحال جنم لے رہی ہے اس کا ادراک سب سے پہلے جس عالم دین کو ہوا وہ شاہ ولی اللہ دہلوی - تھے۔ شاہ ولی اللہ رح ایسی صورت حال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس ملک یا معاشرے میں تقسیم دولت کا نظام غیر منصفانہ ہوگا وہاں کچھ لوگ دولت کے انبار جمع کرکے مسرفانہ عیاشیوں اور بدمعاشیوں میں مبتلا ہوجائیں گے ‘ جبکہ محروم طبقے کے لوگ باربرداری کے جانور بن کر رہ جائیں گے۔ ایسی ہی صورت حال کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّـکُوْنَ کُفْرًا 1 کہ محرومی اور احتیاج انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ گویا تقسیم دولت کا غیر منصفانہ نظام ایسی دودھاری تلوار ہے جس کی دو طرفہ کاٹ سے مذکورہ دونوں طبقوں کے افراد مذہبی و انسانی اقدار سے بیگانہ و بےنیاز ہو کر عملی طور پر معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ اُمراء کو تو اپنے اللوں تللوں سے ہی فرصت نہیں ملتی جبکہ غریب و نادار عوام دنیا ومافیہا سے بیخبر صبح سے شام تک کمرتوڑ مشقت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آگے بڑھتا ہے اور محروم طبقے کے افراد کے دلوں میں ظالم استحصالی طبقے کے خلاف بغض و عداوت کی آگ سلگانا شروع کردیتا ہے : { اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِـعَ بَـیْـنَـکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ } المائدۃ : 91 ”شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے“۔ تصور کریں اگر ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر کروڑوں روپے کا اسراف صرف بےجا نمود و نمائش کی مد میں ہو رہا ہوگا تو یہ سب کچھ دیکھ کر اس کے اس غریب ملازم کے دل میں نفرت و عداوت کے کیسے کیسے جذبات پیدا ہوں گے جس کی بیٹی گھر میں بیٹھی صرف اس لیے بوڑھی ہو رہی ہے کہ وہ اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ پھر ہمارے معاشرے میں جب ایک کروڑ پتی کی بیٹی لاکھوں کا جہیز لے کر دوسرے کروڑ پتی کی بہو بن جاتی ہے تو دولت مال داروں ہی کے مابین گردش میں رہتی ہے۔ { وَمَآ اٰتٰٹکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُج وَمَا نَہٰٹکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْاج } ”اور جو کچھ رسول ﷺ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔“ ان الفاظ میں گویا اہل ایمان کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ مال فے سے متعلق نئے قانون کے تحت رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو بخوشی قبول کریں۔ ظاہر ہے لشکر اسلام میں شامل لوگ تو بنونضیر کے علاقے سے حاصل ہونے والے مال و اسباب کو مال غنیمت سمجھتے ہوئے اس میں سے حصے کی توقع کر رہے تھے۔ اب جب مذکورہ حکم کے تحت اس مال کو مال فے قرار دے کر اس کی تقسیم کا نیا قانون بنا دیا گیا تو لشکر کے شرکاء کو طبع بشری کے تحت ایک دھچکا تو ضرور لگا ہوگا۔ چناچہ اس حکم کے تحت بنونضیر کے محاصرے میں شامل اہل ایمان کو بالخصوص اور تمام اہل ایمان کو بالعموم دین کا بنیادی اصول بتادیا گیا کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا ہر فیصلہ آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ معاملہ چاہے کوئی بھی ہو ‘ اللہ کے رسول ﷺ تم لوگوں کو جو دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس چیز سے آپ ﷺ منع کردیں اس سے منع ہوجایا کرو۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ اب اگلی آیات میں مال فے کی تقسیم کے بارے میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جب یہ مال مذکورہ قانون کے تحت بیت المال میں آجائے گا تو اس کی تقسیم میں بنیادی طور پر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ ظاہر ہے اللہ کے رسول ﷺ تو اس میں سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے وہی کچھ قبول کریں گے جو آپ ﷺ کی انتہائی بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہوگا۔ آپ ﷺ نے تو اپنی ذات اور ازواجِ مطہرات - پر شروع دن سے ہی فقر طاری کر رکھا تھا۔ سورة الاحزاب کے چوتھے رکوع میں واقعہ ایلاء کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ ازواجِ مطہرات رض کی طرف سے نان نفقہ بڑھانے کے مطالبے پر حضور ﷺ نے ان رض سے علیحدگی اختیار فرما لی تھی۔ چناچہ مال فے کا بڑا حصہ کس کے لیے مختص کیا جائے گا :
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

یہ (خاص طور پر) اُن تنگ دست مہاجرین کے لیے ہے جو نکال دیے گئے اپنے گھروں اور اپنے اموال سے وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کر رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔

آیت 8{ لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ } ”یہ خاص طور پر اُن تنگ دست مہاجرین کے لیے ہے جو نکال دیے گئے اپنے گھروں اور اپنے اموال سے“ { یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط } ”وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کر رہے ہیں۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ } ”یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔“ یہاں سورة الحدید کی آیت 25 کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِط } یعنی حق و باطل کی کشمکش سے دراصل اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے ظاہر کردینا چاہتا ہے کہ کون لوگ غیب میں ہونے کے باوجود اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کے لیے جاں بکف ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں نہ صرف مال فے کی تقسیم کے حوالے سے فقراء مہاجرین کی ترجیح واضح کردی گئی بلکہ ان کی بےلوث قربانیوں کی تصدیق و توثیق بھی فرما دی گئی کہ یہ لوگ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر گھروں سے نکلے ہیں۔ اب چونکہ ان کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہیں تو مال فے کی تقسیم میں ان کے لیے خصوصی حصہ رکھا جائے گا۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (اس مال میں ان کا بھی حق ہے) جو آباد تھے اپنے گھروں میں اور جن کے پاس ایمان بھی تھا ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے وہ محبت کرتے ہیں ان سے جنہوں نے ہجرت کی ان کی طرف اور وہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت اس بارے میں کہ جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔ اور جو کوئی بھی بچالیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔

آیت 9{ وَالَّذِیْنَ تَـبَـوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَـبْلِہِمْ } ”اور اس مال میں ان کا بھی حق ہے جو آباد تھے اپنے گھروں میں اور جن کے پاس ایمان بھی تھا ان مہاجرین کی آمد سے پہلے“ یہ انصارِ مدینہ کا ذکر ہے کہ مہاجرین کی آمد پر ان کا طرزعمل کیا تھا : { یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَـیْہِمْ } ”وہ محبت کرتے ہیں ان سے جنہوں نے ہجرت کی ان کی طرف“ مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ ان میں سے کسی کے دل میں قطعاً کوئی ایسا خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کے آنے سے ہماری آبادی بڑھ جائے گی اور ان کی ناداری و محرومی ہماری معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔ { وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّـآ اُوْتُوْا } ”اور وہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت اس بارے میں کہ جو کچھ ان مہاجرین کو دیا جاتا ہے“ انصارِ مدینہ کے دل اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے ایثار و قربانی کے اعلیٰ جذبات سے لبریز ہیں ‘ اور یہ جذبات ان کے دلوں میں اس دولت ایمان کے باعث پیدا ہوئے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرہ ور فرمایا ہے۔ یہ آیت دراصل انصارِ مدینہ کی تسکین وتشفی کے لیے ان کے جذبہ ایمان کو اپیل کرتے ہوئے نازل ہوئی تاکہ اگر ان میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں بنونضیر کے چھوڑے ہوئے مال سے متوقع حصہ نہ ملنے کے باعث کچھ ملال وغیرہ کے احساسات پیدا ہوئے ہوں تو وہ ختم ہوجائیں۔ { وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط } ”اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔“ ایثار کے معنی کسی کے لیے قربانی دینے اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کے ہیں۔ ظاہر ہے انصارِ مدینہ میں سے بھی سب لوگ دولت مند تو نہیں تھے ‘ ان میں بھی بہت سے لوگ نادار اور تنگ دست تھے ‘ لیکن ان میں سے ہر ایک نے اپنی احتیاج اور ضرورت کو پس پشت ڈال کر استطاعت بھر اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد کی تھی۔ ان کے اسی جذبہ ایثار کا اعتراف یہاں اس آیت میں کیا گیا ہے۔ { وَمَنْ یُّـوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ } ”اور جو کوئی بھی بچالیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔“ اب اس کے بعد جو آیت آرہی ہے وہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ حضرت عمر فاروق رض نے ایران ‘ عراق ‘ مصر ‘ شام وغیرہ کے مفتوحہ علاقوں کی زمینوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے اس آیت سے استدلال کیا تھا۔ ان علاقوں کی زمینیں بہت زرخیز ہیں ‘ خصوصی طور پر عراق اور شام کے درمیان صحرا میں واقع وہ علاقہ جو Fertile Crescent کہلاتا ہے ‘ اپنی زرخیزی کے اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جب یہ وسیع و عریض علاقے فتح ہوئے تو ان کی زرعی زمینوں کے نظم و نسق کا مسئلہ سامنے آیا۔ اس معاملے میں زیادہ تر صحابہ رض کی رائے یہ تھی کہ مال غنیمت کی تقسیم کے اصول کے مطابق پانچواں حصہ بیت المال کے لیے مختص کر کے باقی زمینیں ہر محاذ کے مجاہدین میں تقسیم کردی جائیں۔ البتہ حضرت عمر رض اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ آپ کی رائے یہ تھی کہ ان ممالک کی زمینیں مال غنیمت کے بجائے مالِ فے کے زمرے میں آتی ہیں ‘ اس لیے ان پر مال فے کے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اس نکتے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ مال غنیمت صرف وہ مال ہے جو جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے بعد عین محاذ جنگ سے مسلمان مجاہدین کے ہاتھ لگے۔ جیسے اسلحہ ‘ راشن ‘ بھیڑ بکریاں ‘ اونٹ گھوڑے ‘ جنگی قیدی وغیرہ۔ لیکن اگر کسی ایک جنگ کے نتیجے میں کوئی پورا ملک فتح ہوجائے جیسے ابراہیم لودھی پانی پت کے میدان میں بابر سے صرف ایک جنگ ہارا تو اس کے نتیجے میں پورے ہندوستان پر بابر کا قبضہ ہوگیا تو میدانِ جنگ سے باہر کی اراضی ‘ املاک اور آبادی کو مال فے شمار کیا جائے گا۔ حضرت عمر رض نے اس معاملے میں اگلی آیت کے ان الفاظ سے استدلال کیا تھا : { وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ } ”اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے“۔ پچھلی آیات کے مضمون سے اس آیت کے ان الفاظ کا ربط یوں بنتا ہے کہ مال فے پر حق ہے اللہ و رسول ﷺ کا ‘ رسول اللہ ﷺ کے عزیز و اقارب کا ‘ غرباء و مساکین کا ‘ انصار و مہاجرین کا بحوالہ آیات 7 اور 8 اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے۔ ان آیات کے سیاق وسباق میں حضرت عمر رض کا موقف یہ تھا کہ آج کے مال فے میں اس امت کے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور اگر آج یہ زمینیں چندہزار مجاہدین میں تقسیم کردی گئیں تو بعد میں آنے والے مسلمان گویا اس حق سے محروم رہ جائیں گے۔ حضرت عمر رض کے اس استدلال سے بعض معتبر صحابہ رض نے اختلاف بھی کیا اور مذکورہ زمینوں کو مال غنیمت کے قانون کے تحت متعلقہ مجاہدین میں تقسیم کرنے پر اصرار کیا۔ اس اختلافِ رائے کے بعد حضرت عمر رض نے اس معاملے میں غور و خوض کے لیے اوس ‘ خزرج اور مہاجرین میں سے چند صحابہ رض پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دے دیا۔ کمیشن کے ارکان نے مسئلے سے متعلق مختلف آراء اور دیگر پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر جو فیصلہ دیا وہ حضرت عمر رض کی رائے کے عین مطابق تھا اور بعد میں اسی فیصلے پر تمام صحابہ رض کا اجماع ہوا۔ صحابہ رض کے اس اجماع یا فیصلے کے مطابق تمام مسلم ممالک کی اراضی دو اقسام میں بٹ گئی۔ جن علاقوں کے لوگ لڑے بھڑے بغیر ایمان لے آئے ان کی زمینیں ”عشری زمینیں“ ایسی زمین جو انفرادی ملکیت میں ہو اور اس کی پیداوار سے باقاعدہ ُ عشر وصول کیا جاتا ہو قرار پائیں۔ جبکہ بزور شمشیر فتح ہونے والے ممالک کی زمینوں کو ”خراجی زمینوں“ ایسی زمینیں جو بیت المال کی ملکیت ہوں اور ان کو کاشت کرنے والے لوگ اسلامی حکومت کو خراج ادا کریں کا درجہ دیا گیا۔ مثلاً مدینہ کو حضور ﷺ نے کسی جنگ کے نتیجے میں فتح نہیں کیا تھا بلکہ مدینہ کے لوگوں نے حضور ﷺ کو وہاں آنے کی خود دعوت دی تھی ‘ اس لیے اوس اور خزرج کی تمام زمینیں ”عشری“ قرار پائیں اور متعلقہ لوگوں کی انفرادی ملکیت میں ہی رہیں ‘ جبکہ ایران ‘ عراق ‘ مصر ‘ شام وغیرہ ممالک کی زمینیں خراجی زمینوں کی حیثیت سے اسلامی حکومت کی تحویل میں چلی گئیں۔ اس طرح حضرت عمر رض کے اجتہاد کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کی اجتماعی ملکیت collective ownership of land کا نظام متعارف ہوا۔ اس وقت مفتوحہ علاقوں کی زمینیں اگر مال غنیمت کی حیثیت سے چند ہزار مجاہدین میں تقسیم کردی جاتیں تو اسلامی حکومت کے تحت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جاگیرداری وجود میں آجاتی۔ اور پھر یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہ ہوتا بلکہ جس ملک کی اراضی و املاک پر مال غنیمت کے قانون کا اطلاق ہوتا اس ملک کی پوری آبادی کو جنگی قیدیوں کی حیثیت سے غلام اور لونڈیاں بنا کر تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی آتا۔ اسی قانون کے تحت پچھلی صدی تک ہندوستان کی زمینوں کے بارے میں بھی یہاں کے علماء کا اجماع تھا کہ یہاں کی تمام زمینیں خراجی ہیں اور اس حیثیت سے یہ زمینیں یہاں کے مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہیں اور یہ کہ ہندوستان میں کوئی عشری زمین نہیں ہے۔ اس کا ذکر ہندوستان کے عظیم مفسر و محدث قاضی ثناء اللہ پانی پتی رح نے فقہ کے مسائل سے متعلق اپنے رسالے ”مَالاَ بُدَّ مِنْہ“ میں بھی کیا ہے۔ قاضی صاحب موصوف بہت بڑے صوفی اور مفتی بھی تھے۔ ان کی لکھی ہوئی ”تفسیر مظہری“ جسے انہوں نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانِ جاناں رح کے نام سے منسوب کیا ہے ‘ آج کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ قاضی صاحب کا مرتب کردہ مذکورہ رسالہ فقہ کے بنیادی اور ابتدائی مسائل پر مشتمل ہے اور برصغیر کے تمام عربی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس رسالے میں انہوں نے عشر سے متعلق مسائل شامل ہی نہیں کیے اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب ہندوستان میں کوئی عشری زمین ہے ہی نہیں اور عشر سے متعلق احکام کی تنفیذ و تعمیل کا کوئی امکان ہی نہیں تو ان مسائل کو لکھنے ‘ پڑھنے یا سمجھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے میں جب کبھی اسلامی حکومت قائم ہو تو نئے بندوبست اراضی کے تحت بڑے بڑے جاگیرداروں سے وہ زمینیں واپس لی جاسکتی ہیں جو ماضی کے بادشاہوں ‘ انگریز حکمرانوں اور سپہ سالاروں کی ”نظر کرم“ کے باعث انہیں عطا ہوئی تھیں۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے) وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔

آیت 10{ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ } ”اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے“ { وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رُئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ‘ اے ہمارے رب ‘ بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔“ اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ مال فے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کے علاوہ بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے۔ مزید برآں اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے کوئی بغض ‘ کینہ یا کدورت نہیں ہونی چاہیے ‘ اور مسلمانوں کے لیے صحیح طرزعمل یہی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں ‘ نہ یہ کہ انہیں سب و شتم کا نشانہ بنائیں۔ یہاں پر پہلا رکوع اختتام پذیر ہوا۔ اس رکوع میں بنونضیر کے مدینہ سے انخلاء اور ان کی چھوڑی ہوئی املاک مالِ فے سے متعلق احکام کا ذکر تھا۔ اب اگلی آیات میں منافقین کا تذکرہ ہے کہ ان لوگوں نے غزوئہ بنونضیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے کہ اگر تم لوگوں کو (کبھی مدینہ سے) نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

آیت 1 1{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا } ”کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں“ { یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ } ”وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے“ { لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ } ”کہ اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے“ یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ { وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًالا } ”اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے“ { وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ } ”اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔“ منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متاثر نہیں ہوں گے۔ چناچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہ ﷺ کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔ { وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَ } ”اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔“
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر انہوں نے کبھی ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی

آیت 12{ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ } ”اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔“ { وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ } ”اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔“ { وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ } ”اور اگر انہوں نے کبھی ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔“ منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کرچکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے ‘ بلکہ ایمان لانے کے بعد سچے مسلمانوں کا طرزعمل اختیار کرتے کہ ع ”ہرچہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم !“ لہٰذا اپنے دعو وں کے مطابق یہ کبھی بھی یہودیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ‘ اور اگر ان میں سے کوئی اِکا دُکاسرپھرے لوگ حق دوستی نبھانے کے جوش میں یہودیوں کے ساتھ کہیں کھڑے ہو بھی گئے تو مشکل وقت آنے پر وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(اے مسلمانو !) یقینا تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔

آیت 13{ لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنَ اللّٰہِ } ”اے مسلمانو ! یقینا تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ } ”یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔“ یہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ انسان کی اصل سمجھ اور عقل تو وہ ہے جو اسے اللہ سے متعارف کرائے اور ایمان کی راہ سجھائے۔ اسی طرح انسان کے لیے علم بھی وہی فائدہ مند ہے جو اسے اس حقیقت سے آگاہ کر دے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی بس کھیل اور تماشا ہے۔ چونکہ منافقین ایسی عقل سے بیگانہ اور ایسے علم سے نابلد ہیں اس لیے وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی قیمت پر دنیا سنوارنے کی فکر میں مگن ہیں۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں (رہ کر لڑیں) یا دیواروں کے پیچھے سے ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔ تم انہیں متحد گمان کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

آیت 14{ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } ”یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے ‘ سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں رہ کر لڑیں یا دیواروں کے پیچھے سے۔“ { بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ} ”ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔“ ان کے باہمی جھگڑوں اور مخاصمت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بزدلی اور خود غرضی ان میں سے ہر ایک کے مزاج کا جزولاینفک بن چکی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ اللہ اور رسول ﷺ سے مخلص نہیں ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کیسے مخلص ہوسکتے ہیں۔ { تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی } ”تم انہیں متحد گمان کرتے ہو ‘ حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔“ ہمارے موجودہ زمانے کے سیاسی اتحاد بھی بدقسمتی سے بالکل یہی نقشہ پیش کرتے ہیں ‘ حتیٰ کہ ”تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ“ کے نام پر بننے والے متحدہ محاذ کے راہنمائوں کے بھی باہمی اختلافات اس قدر شدید تھے کہ ان میں سے کئی علماء ایک دوسرے کی اقتدا میں نماز تک ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ۔ } ”یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔“
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

(ان کا وہی حال ہوگا) جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔

آیت 15{ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ”ان کا وہی حال ہوگا جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔“ اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں 2 ہجری میں غزوئہ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا ‘ جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘ 4 ہجری کو عمل میں آئی۔ اسی طرح 5 ہجری میں غزوئہ احزاب کے بعد یہود مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ { وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ } ”اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔“
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

جیسے شیطان کی مثال جب وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر ! پھر جب وہ کفر کا ارتکاب کرلیتا ہی تو وہ (شیطان) کہتا ہے میں تم سے لاتعلق ہوں میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

آیت 16{ کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ } ”جیسے شیطان کی مثال ‘ جب وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر !“ { فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌ مِّنْکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”پھر جب وہ کفر کا ارتکاب کرلیتا ہی تو وہ شیطان کہتا ہے میں تم سے لاتعلق ہوں ‘ میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔

آیت 17{ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا } ”تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ { وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔“ انسان اور شیطان کی اس ”جوڑی“ کا ذکر سورة ق میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ کسی کافر ‘ مشرک اور گنہگار کا جو قرین ساتھی شیطان ہوگا وہ اس کے بارے میں کہے گا : { وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ } ”اور اس کا ساتھی کہے گا : اے پروردگار ! یہ جو میری تحویل میں تھا ‘ حاضر ہے !“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ملے گا : { اَلْقِیَا فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ۔ } ”جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو“۔ اس کے بعد کی دو آیات میں اس جہنمی کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں۔ وہ شیطان پھر کہے گا : { رَبَّـنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰــکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ۔ } ”پروردگار ! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ‘ بلکہ یہ خود ہی بہت بڑی گمراہی میں مبتلا تھا“۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : { لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَـیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ - مَا یُـبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۔ } ”اب میرے سامنے جھگڑو مت ‘ جبکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا ہوں۔ میرے حضور میں بات تبدیل نہیں کی جاسکتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔“
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقینا تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

اب ہم اس سورت کے تیسرے اور آخری رکوع کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں جو بہت اہم آیات پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ جب قرآن مجید کے کسی مقام یا کسی آیت کی خصوصی اہمیت کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اس مقام یا آیت کا کوئی خاص پہلو یا خاص موضوع مراد ہوتا ہے ‘ ورنہ قرآن مجید کا تو ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اہم ہے۔ مثلاً قرآن مجید کے بعض مقامات فلسفہ و حکمت کے اعتبار سے اہم ہیں تو بعض دوسرے مقامات سائنسی حوالے سے لائق توجہ ہیں۔ بعض آیات روح دین سے بحث کرتی ہیں تو بعض ایمان کی ماہیت واضح کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر آیت اور ہر مقام کی اہمیت اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے ہے۔ چناچہ سورة الحشر کے آخری رکوع کی اہمیت فلسفہ اور تصوف کے موضوع کی وجہ سے بھی ہے اور اسمائے حسنیٰ کے اس عظیم الشان گلدستے کے اعتبار سے بھی جو پورے قرآن میں بالکل یکتا اور منفرد ہے۔ اس سورت کی آخری تین آیات اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے ذکر کے حوالے سے سورة الحدید کی ابتدائی چھ آیات کے ہم وزن ہیں۔ ان تین آیات میں ایک ساتھ سولہ اسمائے حسنیٰ آئے ہیں اور ان میں سے آٹھ اسمائے حسنیٰ تو ایک ہی آیت میں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اسمائے حسنیٰ کے ایک مقام پر اکٹھے ہونے کی اور کوئی مثال قرآن مجید میں نہیں ملتی۔ آیت 18{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج } ”اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے !“ ظاہر ہے یہ اس کل کے دن کی بات ہے جو بعث بعد الموت کے بعد آنے والا ہے ‘ جس دن ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل ایمان اپنی زندگی اللہ کے تقویٰ کے سائے میں گزارنے کا اہتمام کرے اور اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لیتا رہے کہ اس نے آخرت کے حوالے سے اب تک کیا کمائی کی ہے اور کائناتی حکومت کے امپیریل بینک میں اپنے کل کے لیے اب تک کتنا سرمایہ جمع کرایا ہے۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْـرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ یقینا تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“ اس آیت میں بنیادی طور پر دو باتوں پرز ور دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کا تقویٰ اور فکر آخرت۔ بلکہ اِتَّقُوا اللّٰہَ کا حکم یہاں خصوصی تاکید کے طور پر دو مرتبہ آیا ہے۔ تقویٰ سے عام طور پر اللہ کا خوف اور ڈر مراد لیا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں یہ اہم نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ اس خوف میں شیر یا سانپ کے خوف کی طرح دہشت کا عنصر بالکل نہیں ‘ بلکہ اس کی مثال ایسے خوف کی سی ہے جیسا خوف اولاد اپنے والد سے محسوس کرتی ہے۔ اس خوف میں محبت اور احتیاط کے جذبات غالب ہوتے ہیں کہ ہمارے والد ہم سے ناراض نہ ہوجائیں اور ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہمارے والد کے جذبات و احساسات مجروح ہوں۔ چناچہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ڈر رہے۔۔۔۔ تقویٰ کے لغوی معنی بچنے کے ہیں ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ بچ کر زندگی گزارنا۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو دیکھنا !) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔

آیت 19{ وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْ } ”اور اے مسلمانو دیکھنا ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ } ”یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔“ ہمارے لیے اس آیت کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال کے بیان کے مطابق انہوں نے اپنا فلسفہ خودی اسی آیت سے اخذ کیا تھا۔ علامہ کے اس بیان کے راوی سید نذیر نیازی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں اس حوالے سے ایک واقعہ رقم کیا ہے۔ یہ واقعہ انہوں نے ہمارے ہاں قرآن کانفرنس میں اپنے ایک لیکچر میں بھی بیان کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے علامہ اقبال سے ان کے فلسفہ خودی کے ماخذ کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے فلسفہ خودی کے ماخذ کے بارے میں بہت چہ میگوئیاں ہوتی ہیں۔ کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ آپ نے یہ فلسفہ نطشے سے لیا ہے ‘ کوئی اس حوالے سے کسی دوسرے مغربی فلاسفر کا نام لیتا ہے۔ بہتر ہوگا آپ خود واضح فرما دیں کہ آپ کے اس فلسفہ کا ماخذ کیا ہے ؟ یہ سن کر علامہ اقبال نے انہیں فرمایا کہ آپ کل فلاں وقت میرے پاس آئیں ‘ میں آپ کو اس کے ماخذ کے بارے میں بتائوں گا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے کہ شاعر مشرق اور حکیم الامت انہیں یہ اعزاز بخش رہے ہیں کہ انہیں اس موضوع پر تفصیلی ڈکٹیشن دیں گے۔ لیکن اگلے دن جب وہ کاپی پنسل ہاتھ میں لیے مقررہ وقت پر حاضر خدمت ہوئے تو علامہ نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ ذرا قرآن مجید اٹھا لائو۔ پھر انہوں نے کہا کہ سورة الحشر کی یہ آیت آیت 19 نکال کر تلاوت کرو ! اور انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ہے میرے فلسفہ خودی کا ماخذ ! اب آیئے فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْ کے مفہوم پر غور کریں۔ کیا کوئی شخص اپنے آپ کو اس طرح بھول سکتا ہے کہ وہ خوداپنی شخصیت سے ہی واقف نہ رہے ؟ کیا کوئی انسان ایسا بھی ہوسکتا ہے جسے اپنے پیٹ کا خیال نہ رہے ؟ یا جسے اپنی کوئی بیماری یاد نہ رہے ؟ ظاہر ہے کوئی انسان اپنے جسم اور اس کے تقاضوں سے غافل نہیں ہوسکتا۔ تو معلوم ہوا کہ حیوانی جسم کے علاوہ انسان کی کوئی اور حیثیت بھی ہے جسے وہ بھول جاتا ہے اور وہ ہے انسان کی اصل حقیقت یعنی اس کی ”روح“۔ جہاں تک انسان کے اللہ کو بھلانے کا تعلق ہے اس کا ذکر سورة المجادلہ کی آیت 19 میں بھی آیا ہے : { اِسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰٹھُمْ ذِکْرَ اللّٰہِط } ”شیطان نے ان پر قابو پا لیا ہے ‘ پس انہیں اللہ کی یاد سے غافل کردیا ہے“۔ اب آیت زیر مطالعہ میں ایسے لوگوں کی اس سزا کا ذکر ہے جو انہیں دنیوی زندگی میں ہی مل جاتی ہے۔ یعنی جو لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ان کی اصل حقیقت سے غافل کردیتا ہے۔ پھر ان لوگوں کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ انسان ہیں ‘ اشرف المخلوقات ہیں یا اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں بس یہی یاد رہ جاتا ہے کہ بہت سے حیوانات کی طرح وہ بھی ایک حیوان ہیں۔ آج ہماری جدید تہذیب بھی مختلف انداز سے ہمیں یہی سبق پڑھانے کی کوشش میں ہے کہ انسان محض ایک حیوان ہے۔ اس فلسفے کو متعارف کرانے اور پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ڈارون کے نظریہ ارتقاء Evolution Theory نے ادا کیا ہے۔ اس تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک حیوان اور انسان میں بنیادی فرق صرف ارتقاء کے مراحل اور مدارج کا ہے۔ جیسے گدھے اور گھوڑے میں صرف یہ فرق ہے کہ گدھا نچلے درجے کا rough coarse جانور ہے ‘ جبکہ گھوڑا ارتقاء کا ایک مزید مرحلہ طے کر کے نسبتاً بہتر درجے میں چلا گیا ہے اور ایک refined اور تمکنت والاجانور ہے ‘ اسی طرح کا فرق ایک گوریلے chimpanzee اور انسان میں ہے۔ یعنی گوریلے کے مقابلے میں انسان نسبتاً بہتر قسم کا جانور ہے ‘ باقی ان دونوں کے جبلی تقاضے instincts اور محرکات motives میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔۔ - جدید سائیکالوجی بھی انہی خطوط پر چل رہی ہے۔ چناچہ آج کے سائیکالوجسٹ کو بھی محرکاتِ عمل کے حوالے سے انسان اور حیوان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ تو جب یہ فرق مٹ گیا اور انسان اپنی اصلیت کو بھلا کر حیوان بن گیا تو گویا وہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے بھی آزاد ہوگیا۔ انیسویں صدی کے فرنچ لٹریچر میں بنیادی طور پر اسی نکتے کو فوکس کیا گیا ہے کہ حیوانات کی زندگی فطرت کے عین مطابق ہے ‘ اس لیے ہم انسانوں کو ان سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگی کو خواہ مخواہ کے تکلفات سے آزاد کرلینا چاہیے۔ مثلاً تمام حیوانات لباس سے بےنیاز ہیں ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس فطرت کا تقاضا نہیں ہے ‘ انسان کی اپنی ایجاد ہے۔ اسی طرح بیوی ‘ بیٹی اور ماں کی تمیز بھی حیوانات میں نہیں پائی جاتی ‘ یہ پابندی بھی انسان نے اپنے اوپر خود ہی عائد کی ہے۔ یہ ہے آج کے انسان کا المیہ ! بہرحال یہ آیت ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جو انسان اللہ کو بھلا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کی حقیقت سے غافل کردیتا ہے۔ انسان کی روح خود اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پھونکی ہے اور اسی کی وجہ سے وہ ”انسان“ کے مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ چناچہ جب کوئی انسان اپنی روح اور اس کے تقاضوں سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ انسان کے درجے سے گر کر حیوان بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے اپنشد کا یہ جملہ بہت اہم ہے : Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths that encompass his real self. اسی real self کا دوسرانام ”انا“ ہے ‘ لیکن اس سے اصل مراد انسان کی ”روح“ ہی ہے ‘ جسے علامہ اقبال نے فلسفیانہ انداز میں ”خودی“ کا نام دیا ہے : ؎ نقطہ نوری کہ نام او خودی ست زیر خاک ما شرار زندگی ست ؎ ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے ! اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان حیوانی جسم اور روح کا مرکب ہے۔ بقول شیخ سعدی : آدمی زادہ طرفہ معجون است از فرشتہ سرشتہ وز حیوان یعنی آدمی ایک ایسی معجونِ مرکب ہے جس میں فرشتہ اور حیوان دونوں ُ گندھے ہوئے ہیں۔ فرشتے سے مراد یہاں وہ نورانی روح ہے جو عالم امر کی چیز ہے : { وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً۔ } بنی اسرائیل ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔ آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں نہیں دیا گیا علم مگر تھوڑا سا“۔ چناچہ انسان کی روح نورانی چیز ہے اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اگر انسان اللہ کو بھلا دے گا تو اپنی روح یعنی اپنی اصلیت سے بیگانہ ہو کر محض ایک حیوان بن کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی نظر میں اچھے برے اور حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رہے گی۔ انسانی معاشرے کے ایسے ہی افراد آیت زیر مطالعہ کے حکم ”اُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ“ کے مصداق ہیں۔
Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

(دیکھو !) برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنت والے۔ یقینا جنت والے ہی کامیاب ہوں گے۔

آیت 20{ لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ } ”دیکھو ! برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنت والے۔“ { اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ۔ } ”یقینا جنت والے ہی کامیاب ہوں گے۔“ اللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ ادْخِلْنَا الْجَنَۃَّ مَعَ الْاَبْرَارِ ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ‘ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ !