Ayahs 59:1–41۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔
سورۃ حشر کا شان نزول
4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ بنو نضیر کا غزوہ، غزوہ بدر کے بعد چھٹے ماہ میں شروع ہوا۔ اور بنو نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا۔ ان کے گھر اور ان کی کھجوریں مدینہ کی ایک جانب میں تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ جلاوطنی کی شرط پر نیچے اترے۔ اور اس شرط پر کہ ان کے لیے وہ سامان ہوگا جو ان کے اونٹ سامان اور مال اٹھائیں گے۔ مگر ہتھیار نہیں اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت اتاری آیت سبح للہ مافی السموت وما فی الارض تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو چیز آسمان اور زمین میں ہے۔ سے لے کر لاول الحشر، ماظننتم ان یخرجوا۔ پہلی بار اکٹھا کر کے نکالنا تمہار تو گمان بھی نہ تھا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان سے قتال کیا۔ یہاں تک کہ ان سے جلاوطنی پر صلح فرمائی اور آپ نے ان کو شام کی طرف جلاوطن کردیا۔ اور وہ ایک قبیلہ تھا جو ایسی زمین پر جلاوطن ہو کر نہیں گئے جو رہنے والوں سے بالکل خالی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جلاوطنی لکھ دی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قتل اور قید کی سزا دیتا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لاول الحشر کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جلاوطنی شام کی طرف دنیا میں پہلی جلاوطنی تھی۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم و بیہقی نے عروہ سے مرسلا روایت کیا اور بیہقی نے کہا یہ روایت محفوظ ہے۔
3۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلاوطن کی اتو فرمایا کہ یہ پہلی جلاوطنی ہے۔
4۔ بزار وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا جو آدمی شک کرے کہ میدان محشر شام میں ہوگا۔ تو اس کو چاہیے کہ یہ آیت پڑھے ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم۔ وہ ذات ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو نکالاان کے گھروں میں سے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس دن ان سے فرمایا نکل جاؤ۔ انہوں نے کہا کہاں ؟ فرمایا محشر کی زمین کی طرف۔
5۔ احمد نے الزہد میں قیس (رح) سے روایت کیا کہ جریر ؓ نے اپنی قوم سے فرمایا اور وہ ان کو کہہ رہے تھے۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس میں ایک اینٹ بھی نہ بناؤں اور تم تاریکی کی طرف ہو جو چھاجائے اور بلاشبہ تمہاری اس زمین کا بایاں حصہ خراب ہوچکا ہے پھر اس کا دایاں حصہ اس کے پیچھے ہوگا۔ اور بلاشبہ محشر یہاں ہے اور آپ نے شام کی طرف اشارہ فرمایا۔
6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاول الحشر سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم کو ان پر فتح عطا فرمائی جن کو پہلی جلاوطنی کے وقت آپ نے جلا وطن کیا۔ اور جن سے پہلی بار آپ نے جنگ لڑی اور آیت ماظننتم اور تم کو یہ گمان نہ تھا یعنی نبی ﷺ اور ان کے صحابہ یہ گمان بھی نہ کرتے تھے کہ وہ اپنے قلعوں سے ہمیشہ کے لیے نکل جائیں گے۔
بنی نضیر کی جلاوطنی
7۔ بیہقی نے دلائل میں عروہ رحمہا للہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بنو نضی رکو جلاوطن کرنے اور ان کو اپنے گھروں سے نکالنے کا حکم فرمایا اور منافق مدینہ میں بہت تھے۔ انہوں نے کہا آپ ہم کو کس جگہ کی طرف نکالیں گے ؟ آپ نے فرمایا میں تم کو محشر کی طرف نکالوں گا۔ جب منافقوں نے سنا وہ جو ان کے بھائیوں (اہل کتاب میں سے اور ان کے دوستوں) کے ساتھ ارادہ کیا گیا تھا۔ تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا بلاشبہ ہمارا مرنا اور جینا تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم سے قتال کیا گیا تو تمہارے لیے ہم پر مدد لازم ہوگی۔ اور اگر تم نکالے گئے تو ہم تم سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ اور شیطان نے ان کو غلبہ کی امید دلائی تو انہوں نے نبی ﷺ کو پکار کر کہا اللہ کی قسم ہم نہیں نکلیں گے اگر تم ہم سے لڑو گے تو ہم تم سے ضرور لڑیں گے۔ تو نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان میں تشریف لے گئے اور اپنے صحابہ کرم ؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے ہتیار اٹھائے اور ان کی طرف چل دئیے اور یہود اپنے گھروں اور اپنے قلعوں میں محفوظ ہوگئے۔ جب رسول اللہ ﷺ ان کی گلیوں تک پہنچے تو ان کے قریب کے گھروں کو گرانے کا حکم فرمایا۔ اور کھجوروں کو جلانے اور کاٹنے کا حکم فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور منافقوں کے ہاتھوں کو روک دیا۔ انہوں نے ان کی مدد نہیں کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ ان کے گھروں کو گرانے سے فارغ ہوئے جو ان کے شہر سے ملے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں خوف وہراس اور رعب پیدا کردیا اور وہ خود پیچھے والے گھروں کو گرانے لگے تو وہ لوگ نبی ﷺ کے مقابلہ میں نہ نکل سکے جب یہ لوگ اپنے آخری گھروں تک پہنچے کے قریب تھے اور وہ منافقین کا انتظار کر رہے تھے۔ اور جس نے انہیں غالب آنے کی امید دلائی تھی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ جب وہ ان ساری چیزوں سے مایس اور ناامید ہوگئے جو ان کے پاس تھیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمائیں گے وہ انہیں قبول ہوگا تو آپ نے ان کو جلاوطن کرنے کا فیصلہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اتنا سامان اٹھا کرلے جائیں جتنا اونٹ اٹھا سکتا ہے مگر اس میں ہتھیار نہ ہوں گے پس وہ مکمل طور پر چلے گئے اور وہ مسلمانوں کو عار دلاتے تھے جب مسلمانوں نے ان کے گھروں کو مسمار کردیا اور کھجوروں کو کاٹ دیا۔ اور کہتے تھے کسی درخت نے کوئی گناہ نہیں کیا اور تم تو یہ گمان کرتے ہو کہ تم اصلاح کرنے والے ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ آیت سبح للہ ما فی السموت واما فی الارض سے لے کر آیت ولیخزی الفسقین تک پھر اللہ تعالیٰ نے اس سامان کو رسول اللہ ﷺ کے لیے مال غنیمت بنا دیا۔ اور ان کے علاوہ اس میں کسی کا حصہ نہ رکھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا سے لے کر قدیر تک اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس مال کو پہلے مہاجرین میں سے ان میں تقسیم فرمادیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا۔
بنو نضیر کا محاصرہ
8۔ ابن جریر وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں عوفی کے طریقے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر جگہ تک پہنچے۔ اور آپ نے ان میں سے جس چیز کا ارادہ کیا۔ تو انہوں نے آپ کے حوالہ کردی۔ آپ نے ان سے صلح فرمائی ان شرائط پر کہ ان کے لیے ان کا خون محفوظ ہے اور آپ کو ان کی زمینوں اور ان کے گھروں سے نکال دیں گے اور ان کو شام کے کھلے میدانوں کی طرف بھیجیں گے اور آپ نے ان میں سے ہر تین آدمیوں کے لیے ایک اونٹ اور پانی کا مشکیزہ مقرر فرمادیا۔
9۔ بغوی نے اپنی معجم میں محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے ان کو بنو نضیر کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ان کو جلاوطنی میں تین دن کی مہلت دے۔
10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن جریر و بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوریں جلائیں اور ان کو جلاوطن کیا اور ان کو نکالا ان کی زمین سے دوسری زمین کی طرف۔
11۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درخت جلادئیے اور کاٹ دئیے۔ اور یہ چھوٹی ہلاکت تھی اور اسی کے بارے میں حسان بن ثابت ؓ فرماتے ہیں
فہان علی سراۃ بنی لوی حریق بالبویرۃ مستطیر
ترجمہ : پس آسان ہے بنی لوئی کے سرداروں پر ہلاکت کے سبب جلادینا اور پھر راکھ اڑادینا۔
Ayah 59:5تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفسقین۔ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ دالے یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا سو یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں کو رسوا کردے۔
12۔ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا کے بارے میں فرمایا کہ ” لینۃ “ سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ آیت ” ولیخزی الفسقین “۔ یعنی ان کو ان کے قلعوں سے اتارا اور کھجوروں کے کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ بات ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تو مسلمانوں نے کہا کہ ہم نے بعض کھجوروں کو کاٹ دیا ہے اور بعض کو چھوڑدیا ہے تو ہم رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں گے۔ کیا ہمارے اس کاٹنے میں ہمارے لیے اجر ہے اور ہمارے چھوڑنے میں کوئی گناہ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماقطعتم من لینۃ الایۃ۔
13۔ ابویعلی وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ان کو کھجوروں کے کاٹنے میں رخصت دی گئی پھر ان پر سختی کردی گئی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم پر کوئی گناہ ہے اس بارے میں کہ ہم نے کھجوروں کو کاٹا یا جو ہم نے کھجوروں کو چھوڑدیا کیا اس بارے میں ہم پر کوئی گناہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ماقطعتم من لینۃ الایۃ۔
14۔ ابن اسحاق نے یزید بن رومان (رح) نے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنو نضی رکے پاس اترے تو وہ قلعہ بند ہوگئے تو آپ نے ان کی کھجوریں کاٹنے اور جلانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے آواز دی اے محمد ﷺ ! آپ ہم کو فساد سے عیب لگانے سے منع فرماتے تھے تو یہ کھجوروں کو کاٹنا اور ان کو جلانا یہ کیا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ماقطعتم من لینۃ الایۃ۔
15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بعض مہاجرین نے بعض لوگوں کو کھجوروں کے کاٹنے سے منع کیا۔ اور کہا کہ یہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے ہیں اور کاٹنے والوں نے کہا بلکہ یہ دشمن کو غصہ دلانا ہے تو قرآن نازل ہوا ان لوگوں کی تصدیق کے ساتھ جنہوں نے ان کے کاٹنے سے منع کیا تھا۔ اور جنہوں نے کاٹے تھے ان کے لیے اجازت اور حلت میں قرآن نازل ہوا۔ اور فرمایا کہ ان کا کاٹنا اور چھوڑنا اللہ کے حکم سے ہے۔
16۔ ابن اسحاق وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ سورة الحشر قبیلہ نضیر کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اس بات کا ذکر فرمایا جو ان کو نعمت پہنچی تھی۔ اور رسول اللہ ﷺ کو ان پر مسلط اور غالب کرنے کا ذکر فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا اور منافقین کا بھی ذکر کیا گیا جو ان کے ساتھ باہمی پیغام رسانی کا تعلق رکھتے تھے اور ان سے مدد کے وعدے کرتے تھے تو فرمایا آیت ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم لاول الحشر۔ وہی ہے ان کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے پہلی بار اکٹھا کر کے نکال دیا۔ سے لے کر آیت وایدی المومنین تک۔ کہ وہ اپنے ہی گھروں سے اور دروازوں کے نیچے سے اپنے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں کے ساتھ گرا رہے تھے پھر رسول اللہ ﷺ کے کھجوروں کو کاٹنے کا ذکر فرمایا اور یہودیوں کو اس بات کا ذکر فرمایا کہ اے محمد ﷺ ! آپ تو ہم کو فساد سے منع فرماتے تھے تو یہ کھجوروں کے کاٹنے کا کیا مقصد ہے ؟ تو فرمایا آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفسقین۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردی کہ یہ اس کی طرف سے نعمت ہے پھر بنو نضیر کی غنیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم۔ اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا۔ سے لے کر ” قدیر “ تک اور ان کو بتایا کہ وہ مال غنیمت رسول اللہ کے لیے اور آپ خرچ کرسکتے ہیں جہاں چاہیں پھر مسلمانوں کی غنیمتوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے لیے وہ مال ہے کہ جس کے لیے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے جاتے ہیں اور جنگ کے ساتھ فتح کیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتامی والمسکین وابن السبیل۔ اور جو کچھ اللہ اس طرح پر اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافروں سے دلوائے۔ سو وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور رسول کے قرابتداروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا مسافروں کا۔ اور یہ مال غنیمت ان چیزوں میں سے ہے کہ جن پر گھوڑے اور اونٹ دوڑائے گئے۔ پھر منافقین عبداللہ بن ابی بن سلول اور مالک اور داعس کا ذکر فرمایا اور جن کی رائے اس طرح تھی۔ اسی کو فرمایا آیت الم تر الی الذین نافقوا یقولون لا خوانہم الذین کفروا من اہل الکتب لئن اخرجتم لنخرجن معکم۔ کیا آپ نے ان منافقین کی حالت دیکھی کہ اپنے ہم مذہب بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے ہیں کہتے ہیں کہ اگر تم نکالتے گئے تو ہم تمہارے ساتھ نکل جائیں گے۔ سے لے کر آیت کمثل الذین من قبلہم قریبا۔ ان لوگوں کی طرح جو ان سے پہلے تھے قریب میں۔ یعنی قبیلہ بنو قینقاع کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے جلاوطن کیا تھا۔
17۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم لاول الحشر کے بارے میں روایت کیا کہ شام کی طرف ان کو نکال دیا گیا اور وہ بنو نضیر تھے جو یہودیوں میں سے ایک قبیلہ تھا۔ نبی ﷺ نے ان کو مدینہ سے خیبر کی طرف جلاوطن کردیا تھا احد سے واپسی پر۔
18۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) نے ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم لا ول الحشر کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد قبیلہ بنونضیر ہے سے لے کر آیت ولیخزی الفسقین تک اور اس سے مراد وہ ہیں جن کا ذکر ان سب کے درمیان ہے۔
19۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی اس بات میں شک کرے کہ محشر بیت المقدس کی طرف ہے تو اس کو چاہیے کہ اس آیت کو پڑھ لے آیت ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم لاول الحشر۔ یعنی یقینی طور پر لوگوں کو ایک بار اکٹھا کردیا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب نبی اکرم ﷺ کا مدینہ پر غلبہ ہوا اور آپ نے یہودیوں کو جلاوطن کردیا۔
مشرکین کا منافقین کے نام خط
20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابوداوٗد وابن المنذر والبیہقی نے دلائل میں عبدالرحمن بن کعب بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ قریش کے کافروں نے عبداللہ بن ابی بن سلول اور ہر اس آدمی کی طرف لکھا جو اس کے ساتھ اوس اور خزرج میں سے بتوں کی عبادت کرتا تھا اور ان دنوں رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں تھے اور یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے کفار قریش نے لکھا تم نے ہمارے ساتھی یعنی محمد ﷺ کو پناہ دی ہے۔ اور تم مدینہ میں زیادہ تعداد میں ہو اور ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم اسے ضرور قتل کریں گے یا ہم اس کو ضرور نکال لائیں گے اور ہم تمہارے خلاف سارے عرب کو بھڑکائیں گے۔ پھر ہم ضرور لشکر لے کر تمہاری طرف چلیں گے یہاں تک کہ ہم تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور ہم تمہاری عورتوں اور تمہارے بیٹوں کو مباح اور حلال بنالیں گے۔ جب یہ پیغام عبداللہ بن ابی اور اس کے بتوں کی پوجا کرنے والوں کو پہنچا تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خط و کتابت کی اور اکٹھے ہوگئے اور ان سب نے نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ سے قتال کے لیے اتفاق کرلیانبی ﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے مدینہ والوں سے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ان سے ملاقات فرمائی اور آپ نے فرمایا کہ تمہارے ذریعہ سے قریش کی دھمکی شدت کے ساتھ پہنچ چکی ہے تو جو دھوکہ اور مکر و فریب اپنے آپ کو دینے کا ارادہ رکھتے ہو اس سے زیادہ تمہارے لیے کوئی مکروفریب اور دھوکہ نہیں ہوسکتا پس تم تو اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کر رہے ہو۔ جب ان لوگوں نے نبی ﷺ سے یہ بات سنی تو متفرق ہوگئے اور خبر کفار قریش کو پہنچ گئی۔ اور بدر کا واقعہ اس کے بعد ہوا۔ بدر کے واقعہ کے بعد کفار قریش نے یہودیوں کو لکھا کہ تم اسلحہ والے اور قلعوں والے ہو کہ تم ہمارے ساتھی یعنی محمد ﷺ کو قتل کردو یا ہم ضرور ایسا ایسا کریں گے۔ ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کے پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ جب ان کا خط یہودیوں کو پہنچا تو بنو نضیر دوسرے ہی دن اکٹھے ہوئے اور نبی ﷺ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس تیس آدمیوں کے ساتھ آئیے۔ اور ہم میں سے آپ کی طرف تیس بڑے علماء نکلیں گے۔ یہاں تک کہ ہم ایسی جگہ میں ملاقات کریں گے جو آدھی ہماری اور آدھی آپ کے درمیان ہوگی۔ اور وہ لوگ تجھ سے دین کی باتیں سنیں گے۔ اگر انہوں نے آپ کی تصدیق کردی اور آپ پر ایمان لائے تو ہم سب ایمان لائیں گے چناچہ نبی مکرم ﷺ اپنے تیس صحابہ کے ساتھ نکلے اور ان کی طرف یہود کے بڑے علماء بھی نکلے یہاں تک کہ جب ایک کھلے میدان میں پہنچے تو بعض یہودیوں نے بعض سے کہا تم اس پر کیسے قابو پاسکوگے جبکہ ان کے ساتھ ان کے اصحاب میں سے تیس آدمی ہیں اور وہ تمام کے تمام ان سے پہلے مرنا پسند کرتے ہیں تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ افہام و تفہیم کیسے ممکن ہو حالانکہ ہم ساٹھ آدمی ہیں لہٰذا آپ اپنے تین اصحاب کے ساتھ ہمارے پاس تشریف لائیے اور ہمارے بھی تین علماء آپ کی طرف آئیں گے اور وہ آپ سے گفتگو سنیں گے سو اگر وہ آپ کے ساتھ ایمان لاے آئے تو ہم بھی سب کے سب ایمان لے آئیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے تو نبی اکرم ﷺ اپنے تین اصحاب کے ساتھ باہر نکلے۔ اور یہودیوں میں سے بھی تین افراد ہی آئے اور وہ اپنے خنجروں کو بھی اٹھا کرلے آئے اور رسول اللہ ﷺ کے قتل کا انہوں نے ارادہ کیا۔ بنو نضیر میں سے ایک عورت نے خیر خواہی کرتے ہوئے اپنے بھائی کی طرف پیغام بھیجا اور وہ انصار میں سے مسلمان تھا۔ اس نے آکر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غداری کی خبردی جو بنو نضیر نے ارادہ کیا تھا۔ اس کا بھائی جلدی سے آیا یہاں تک کہ اس نے نبی ﷺ کو پالیا۔ اور آپ ﷺ کے ان تک پہنچنے سے پہلے آپ کو اس بارے میں آگاہ کردیا نبی ﷺ واپس لوٹ گئے۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ صبح سویرے ہی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ اور ان سے فرمایا۔ اللہ کی قسم ! تم میرے پاس پناہ نہیں لے سکو گے۔ مگر کسی ایسے عہد کے ساتھ جو تم مجھ سے اس پر عہد کرو گے انہوں نے عہد کرنے سے انکار کردیا۔ اس دن آپ ﷺ اور مسلمانوں نے ان پر حملہ کردیا۔ پھر اگلی صبح بنو قریظہ پر لشکر کے ساتھ چڑھائی کی اور بنو نضیر کو چھوڑدیا۔ اور ان کو معاہدے کی طرف بلایا تو انہوں نے آپ ﷺ سے معاہدہ کرلیا۔ پھر آپ ان سے لشکر کے ہمراہ بنونضیر کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے قتال کیا۔ یہاں تک کہ وہ جلاوطنی کی شرط نیچے اتر آئے۔ اور اس شرط پر کہ ان کے لیے اتنا سازوسامان ہوگا جو اونٹ اتھاسکے مگر ہتھیار اس میں شامل نہ ہوں گے۔ چناچہ بنو نضیر جلا وطن کردئیے گئے اور انہوں نے اپنے سامان میں سے گھروں کے دروازے اور اس کی لکڑیاں اٹھالیں جو اونٹ لے جاسکتا تھا۔ اور وہ لوگ اپنے گھروں کو گرانے اور مسمار کرنے لگے اور ان کی لکڑیوں کو اٹھا رہے تھے۔ اور ان کی یہ جلاوطنی شام کی طرف لوگوں کی پہلی جلاوطنی تھی۔ اور بن ونضیر بنی اسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ تھا۔ اور یہ اس وقت سے جلاوطن نہیں ہوئے تھے جب سے اللہ نے بنی اسرائیل پر جلاوطنی کو لازم کیا تھا۔ اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان کو جلاوطن کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان پر جلاوطنی نہ لکھتے۔ تو ان کو دنیا میں عذاب دیتے جیسے بنو قریظہ کو عذاب دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت سبح للہ مافی السموات وما فی الارض سے لے کر یہاں تک پہنچے آیت واللہ علی کل شیء قدیر۔ بنو نضیر کی کھجوریں خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر آپ کو عطا فرمائیں۔ اور آپ کو ہی اس کے لیے خاص کیا اور فرمایا آیت وما افاء اللہ علی رسول منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب۔ اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔ یعنی بغیر لڑائی کے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا اکثر حصہ مہاجرین کو عطا فرمایا اور ان کے درمیان تقسیم فرمادیا اور انصار میں سے صرف دو آدمیوں کو دیا۔ جو حاجت مند تھے ان کے علاوہ انصار میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمایا اور باقی اس میں سے رسول اللہ ﷺ کا وہ صدقہ ہے جو بنی فاطمہ کے قبضہ میں ہے۔
بنو قریظہ وبنو نضیر
21۔ عبد بن حمید نے ابومالک ؓ سے روایت کیا کہ قریظہ اور نضیر یہود میں سے دو قبیلے ہیں یہ دونوں زمانہ جاہلیت میں انصار کے دو قبیلے اوس اور خزرج کے حلیف تھے رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار مسلمان ہوگئے اور یہودیوں نے اسلام لانے سے انکار کردیا تو مسلمان بنو نضیر کی طرف چلے اور وہ قلعہ بند ہوگئے تو مسلمانوں نے ان کے قلعوں سے ملے ہوئے گھروں کو گرانا شروع کیا۔ اور دوسروں نے ان کو گراناشروع کردیا جو ان گھروں کے ساتھ متصل تھے اور ان تک پہنچے کے لیے گراتے رہے یہاں تک کہ ان تک پہنچ گئے تو اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں آیت ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم۔ وہی ذات ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے نکالا۔ سے لے کر آیت فان اللہ شدید العقاب۔ تک جب مسلمان ان کی طرف پہنچ گئے تو یہودی ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ کی شرط پر نیچے اتر آئے اور اس شرط پر کہ ان کو اور ان کے اہل و عیال کو جلاوطن کردیا جائے گا۔ اور ان کے مالوں اور ان کی زمینوں کو ان سے لے لیں گے۔ یہودی جلاوطن ہوئے اور خیبر میں جاکر اترے۔ مسلمان ان کی کھجوروں کے درخت کاٹتے رہتے تھے۔ اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں نے مجھے بیان کیا کہ وہ زرد کھجوریں تھی ردی کھجوروں کی طرح۔ جن کو لینہ کہا جاتا تھا۔ مشرکین نے اس عمل کو ناپسند کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے عذر کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفسقین۔ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا تو یہ اللہ کے حکم سے ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ کافروں کو رسوا کردے۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ آیت فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب۔ اور تم نے ان پر گھوڑے نہیں دوڑائے۔ یعنی تم ان کی طرف گھوڑے اور اونٹ لے کر نہیں گئے تھے اور وہ لوگ مدینہ کے ایک جانب میں رہ رہے تھے۔ ان کے بعد بنو قریظہ ایک سال یا دو سال اس معاہدے پر قائم رہے جو ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان ہوا تھا پھر جب احزاب کے دن مشرکین نکلے تو مشرکین نے ان کی طرف پیغام بھیجا۔ کہ ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے خلاف نکلو۔ یہودیوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ تم ہماری طرف اپنے پچاس آدمی رہن کے طور پر بھیج دو ۔ نعیم بن مسعود اشجع مسلمانوں کی طرف آئے اور ان کو خبردی۔ اس وقت نعیم مسلمانوں اور مشرکوں دونوں میں محفوظ اور مامون تھے۔ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی کہ ان یہودیوں نے مشرکین کی طرف پیغام بھیجا ہے اور ان سے پچاس آدمی بطور رہن کے مانگ رہے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ دیں گے لیکن انہوں نے ان کی طرف رہن بھیجنے سے انکار کردیا۔ اس بات پر مسلمان اور مشرکین کے لیے جنگ کا ذریعہ بن گئے۔ نبی ﷺ نے ان کی طرف سعد بن معاذ اور خوات بن جبیر ؓ کو بھیجا جب یہ دونوں ان کے پاس آئے تو ان کے سردار کعب بن اشرف نے کہا۔ میرے لیے دو پر تھے۔ تم نے ایک کو کاٹ دیا بس یا تو تم مجھ پر میرا پر لوٹادو یا میں تمہارے خلاف پر بن جاؤں گا۔ خوات بن جبیر نے کہا میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اپنے نیزے کے ساتھ اسے پھاڑ دوں۔ سعد ؓ نے اس سے کہا تب تو قوم آگے بڑھ جائے گی اور مجھے پکڑ لے گی۔ اس نے اس کو روک دیا اور دونوں نبی ﷺ کی طرف لوٹ آئے۔ اور دونوں نے اپنی ساری بات آپ کو بتادی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اجازت عطا فرمادی اور کافروں کے گروہ لوٹ گئے۔ اور نبی ﷺ نے اپنے ہتھیار اتاردئیے۔ جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور فرمایا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ جب سے مشرکین آپ کے مقابلے میں اترے ہیں میں نے اپنی پشت سے ہتھیار نہیں اتارے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور وہ چلے گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریظہ کے بارے میں اجازت دی تھی تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ قریظہ والوں کی طرف گئے اور ان سے کہا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو ! تو انہوں نے کہا اے ابو القاسم ! آپ تو فحش بات کرنے والے نہ تھے۔ پھر وہ لوگ سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر نیچے اترے اور آپ اس قبیلہ میں سے تھے جو ان کے حلیف تھے تو انہوں نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کردیا جائے اور ان کی غنیمتوں کو اور ان کے مالوں کو تقسیم کردیا جائے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذ نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے سو آپ نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کردیا ہے۔ اور ان کی غنیمتوں اور ان کے مالوں کو تقسیم کردیا۔
22۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بنو نضیر کے پاس کسی کام سے گئے تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی اطلاع آپ کو دی آپ نے لوگوں کو ان کے خلاف جنگ کے لیے آمادہ کیا پھر آپ نے ان کے ساتھ اس شرط پر صلح کرلی کہ سونا اور چاندی اور ایک اونٹ کا بوجھ ان کے لیے ہوگا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے کھجوریں، زمین اور ہتھیار ہوں گے۔ جن کو رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین میں تقسیم فرمایا اور انصار میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دیا سوائے سہل بن حنیف اور ابودجانہ ؓ کے۔
بنو نضیر کے پاس حصول دیت کے لیے تشریف لے جانا
23۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صبح سویرے قبیلہ نضیر کی طرف تشریف لے گئے۔ تاکہ ان سے سوال کریں کہ ان کے درمیان دیت کس طرح ہوتی ہے ؟ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زیادہ اصحاب کو نہ دیکھا تو آپس میں منصوبہ بنایا کہ آپ کو قتل کردیا جائے اور آپ کے ساتھیوں کو قید کردیا جائے پھر ان کو مکہ لے جا کر قریش کے ہاتھوں بیچ دیا جائے۔ ابھی وہ یہ منصوبہ بنا رہے تھے کہ اچانک مدینہ منورہ میں سے ایک یہودی آیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ آپس میں نبی ﷺ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا تم کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم محمد ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے صحابہ ؓ کو پکڑنے کا اس نے اس سے کہا محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ محمد قریب ہی ہیں۔ ان کے ساتھی نے ان سے کہا اللہ کی قسم ! میں نے محمد ﷺ کو مدینہ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے پس اس نے ان کے پروگرام کو ختم کردیا۔ اور انہوں نے کہا یہ خبر پہنچ چکی ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ ٹوٹ چکا ہے تو ان میں سے ساٹھ علماء چلے۔ ان میں سے حی بن اخطب اور عاص بن وائل تھے یہاں تک کہ وہ کعب کے پاس آئے۔ اور اس سے کہا اے کعب ! تو اپنی قوم کا سردار ہے اور قوم کی عزت ہے ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان فیصلہ کیجیے۔ کعب نے ان سے کہا مجھے بتلاؤ جو کچھ تمہارے پاس ہے ؟ انہوں نے کہا ہم غلام آزاد کرسکتے ہیں اور اونٹوں کے گلے ذبح کرسکتے ہیں اور محمد ﷺ اہل سے اور مال سے خالی ہیں۔ کعب نے محمد ﷺ کے خلاف ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو خوب عزت دی۔ اور وہ لوٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت۔ الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یومنون بالجبت والطاغوت (النساء آیت 51) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں۔ سے لے کر آیت فلن تجد لہ نصیرا۔ تک اور آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی جب انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ ہم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیہم۔ اے ایمان والو ! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب لوگوں نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں پھر اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دئیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے لیے کعب کو کون کافی ہوگا ؟ یعنی کون اسے قتل کرے گا تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے جن میں محمد بن سلمہ ؓ بھی تھے کہا کہ یارسول اللہ ! ہم آپ کی جانب سے اسے کافی ہوں گے۔ اور آپ سے کچھ چیزوں کی اجازت چاہتے ہیں چناچہ وہ لوگ اس کے پاس گئے اور انہوں نے کہا اے کعب ! کہ بلاشبہ محمد ﷺ نے ہمیں صدقہ کا پابند بنایا ہے اس لیے آپ ہم کو کوئی چیز فروخت کیجیے۔ عکرمہ ؓ نے کہا یہی وہ چیز ہے جس کو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حلال کرلی تھیں۔ کعب نے ان سے کہا اپنی اولاد کو میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا یہ چیز تو ہمارے لیے کل کو انتہائی شرم اور عار کا باعث بنے گی۔ اور وہ لوگ یوں کہیں گے یہ غلام ہے ایک وسق کا اور فلاں دو وسق کا غلام ہے اور فلاں تین وسق کا۔ کعب نے کہا پھر ہتھیار گروی رکھ دو ۔ عکرمہ ؓ نے کہا اور یہ ہتھیار ہیں ان کو رہن رکھ لو۔ اس پر انہوں نے معاملہ طے کرلیا کہ ہمارے اور تیرے درمیان آنے والی رات کا وعدہ ہوگیا۔ چناچہ جب رات آئی تو وہ لوگ اس کی طرف گئے اور رسول اللہ ﷺ نماز کی جگہ پر بیٹھ کر ان کے لیے فتح کی دعا فرما رہے تھے۔ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو اسے آواز دی اے کعب ! اور اس کی شادی حال ہی میں ہوئی تھی اس نے ان کی آواز کا جواب دیا۔ اس کی بیوی کہنے لگی اور وہ عمیر کی بیٹی تھی۔ تو اس وقت کہاں اتر رہا ہے میں اس وقت خون کی بو سونگھ رہی ہوں۔ وہ نیچے اترا اور وہ اپنے اوپر ورس سے رنگی ہوئی چادر لپیٹے ہوئے تھا اور اس کے پیشانی کے بال لمبے تھے جب وہ ان کی طرف اترا تو ان لوگوں نے کہا تیری خوشبو کتنی اچھی ہے اس سے وہ خوش ہوگیا۔ محمد بن مسلمہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور مسلمانوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم کو اس کی خوشبو تو سنگھاؤ۔ اور آپ نے اپنا ہاتھ کعب کے کپڑے پر رکھ دیا۔ اور کہا سونگھو اور اچھی طرح سونگھو۔ اور وہ یہ گمان کر رہا تھا کہ وہ اس کی خوشبو سے خوب خوش ہو رہے ہیں۔ اور اس پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ اس بات سے بہت خوش ہوتا رہا۔ تو حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے فرمایا میں اس طرح کرتارہا اور بالآخر اس کے پیشانی کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اور کہا اس کی گردن کو اڑادو تو ساتھیوں نے مل کر اس کی گردن کو اڑاد یا۔ پھر رسول اللہ ﷺ صبح کو نضیر (قبیلہ) کی طرف تشریف لے گئے۔ انہوں نے کہا ہم کو چھوڑدو۔ ہم تو اپنے سردار کو رو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ان لوگوں نے کہا : کیا یہ تکلیف پر تکلیف ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہان یہ تکلیف پر تکلیف ہے، جب انہوں نے یہ دیکھا تو اپنے گھروں کے اندر سے چیزیں اور سامان اٹھانے لگے۔ تاکہ وہ اس کے ذریعہ نجات پاسکیں اور مومنین ان کے گھروں کو باہر سے مسمار کرنے لگے۔ تاکہ وہ ان پر داخل ہوجائیں۔ اگر ان پر اللہ تعالیٰ نے جلاوطنی کو نہ لکھ دیا ہوتا۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا الجلاء کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں سے نکلیں گے تاکہ آپ ان کو ان کے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ اور عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ جب بنونضیر پر داخل ہوئے تو وہ کھجوروں کو کاٹنے لگے تو ان کے بعض نے بعض سے کہا اور یہ آیت پڑھی آیت واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیہا۔ اور جب وہ لوٹتا ہے تو زمین میں دوڑتا ہے تاکہ اس میں بگاڑ پیدا کرے۔ اور مسلمانوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا اور یہ آیت پڑھی۔ آیت لاتقطعون وادیا ولا ینالون من عدونیلا الا کتب لہم بہ عمل صالح۔ اور وہ کسی وادی کو قطع نہی کرتے اور نہ ہی دشمن سے وہ کوئی چیز پاتے ہیں مگر اس کے عوض ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماقطعتم من لینۃ اور اس سے مراد کھجور ہے آیت اوترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ یعنی جو درخت تم نے کاٹے وہ میری اجازت سے ہیں اور جو تم نے چھوڑدئیے وہ بھی میری اجازت سے ہیں۔
24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یخربون بیوتہم بایدیہم وایدی المومنین کہ اپنے گھروں کو اجاڑ رہے تھے اپنے ہاتھوں سے اور مومنین کے ہاتھوں سے۔ یعنی مسلمان اس کے ظاہر کو جو ان سے ملتا تھا اجاڑ رہے تھے تاکہ ان پر داخل ہوجائیں اور یہودی اس کو اندر اجاڑ رہے تھے۔
25۔ بیہقی نے الدلائل میں و مقاتل بن حیان (رح) نے اللہ عزوجل کے اس قول آیت یخربون بیوتہم بایدیہم وایدی المومنین کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے لڑ رہے تھے۔ جب آپ غالب آگئے بڑے دروازوں پر یا گھروں پر تو آپ نے ان کی دیواریں گرا دیں تاکہ لڑائی کے لیے جگہ کھل جائے۔ اور یہود جب غالب تھے جس دروازے یا گھر پر تو انہوں نے اس کے پیچھے سے سوراخ کیا پھر اسے مضبوط بنایا اور اس میں مہارت اور کاریگری کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتے ہیں آیت فاعتبرو یا اولی الابصار۔ اے عقل مندو ! عبرت حاصل کرو۔ اور فرمایا۔ آیت ماقطعتم من لینۃ اوترتموہا سے لے کر آیت ولیخزی الفسقین۔ تک یعنی لینہ سے مراد سے مراد ہے کھجور کے درخت اور یہ وسف کے لحاظ سے انتہائی پسندیدہ تھا۔ یہودیوں کے نزدیک اس کے پھل کو لون کہا جاتا تھا۔ اور جب نبی اکرم ﷺ کی اجازت سے ان کی کھجوروں کو کاٹا اور ان کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑا تو یہودیوں نے کہا اے محمد ﷺ تو گمان رکھتا ہے کہ تو اصلاح کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ کھجوروں اور درختوں کو کاٹنا کونسی اصلاح ہے ؟ نبی ﷺ پر یہ بات بھاری گذری۔ اور مسلمان بھی ان کی اس بات کے سبب اپنے دلوں میں خوف محسوس کرنے لگے کہ ان کا درختوں کو کاٹنا کہیں فساد کا باعث نہ ہو۔ تو ان کے بعض نے بعض سے کہا۔ کھجوروں کو نہ کاٹو ! کیونکہ یہ اس مال غنیمت میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمایا ہے اور ان لوگوں نے کہا جو ان کو کاٹ رہے تھے ان درختوں کے کاٹنے سے ہم ان پر غیض وغضب کا اظہار کر رہے ہی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ماقطعتم من لینۃ اتاری۔ اس سے مراد ہے جو کھجور کے درخت تم نے کاٹے ہیں وہ اللہ کے حکم سے ہیں اور تم نے کھڑا ہوا چھوڑدیا ان کی جڑوں پر تو یہ بھی اللہ کے حکم سے ہے۔ تو اس سے نبی ﷺ کا دل اور ایمان والوں کے دل خوش ہوگئے آیت ولیخزی الفسقین اور تاکہ فاسق رسوا ہوں۔ تاکہ بنو نضیر کے یہودیوں کو رسوا کرے۔ اور یہ درختوں کا جڑوں سے اکھیڑنا اور ان کا کاٹنا ان کی رسوائی کے لیے تھا۔
26۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری (رح) سے آیت یخربون بیوتہم کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے صلح نہیں کی تھی کہ ان کو لکڑی بھی پسند نہ تھی مگر انہوں نے اسے بھی اٹھا لیا اور یہ ان کا اپنے گھروں کو اجاڑنا تھا۔
27۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت یخربون بیوتہم کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اندر سے گھروں کو اجاڑ رہے تھے کہ اس طرح پر کہ جو بھی تھوڑی یا زیادہ ایسی چیز پائی جو ان کے لیے نفع بخش ہوسکتی تھی اسے انہوں نے خراب کردیا کیونکہ وہ کوئی فائدہ مند چیز چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ جب وہ خود چلے جائیں گے۔ آیت وایدی المومنین کے بارے میں فرمایا کہ ایمان والے بھی ان کے گھروں کو باہر سے اجاڑ رہے تھے۔ تاکہ وہ ان تک پہنچ سکیں اور فرمایا آیت ولولا ان کتب اللہ علیہم الجلاء لعذبہم فی الدنیا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان پر جلاوطنی کو نہ لکھتے تو ان کو دنیا میں عذاب دیتے۔ فرمایا کہ ان پر مسلمانوں کو مسلط فرمادیتے۔ اور وہ ان کی گردنوں کو مارتے اور ان کی اولادوں کو قید کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کتاب میں ان کے لیے جلاوطنی پہلے ہی لکھی ہوئی تھی پھر وہ اذرعات اور اریحہ کی طرف جلاوطن کردئیے گئے۔
بنو نضیر کی جلاوطنی کا منظر
28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے یخربون بیوتہم بایدیہم وایدی المومنون کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے گھر آراستہ تھے۔ انہوں نے حسد کیا کہ مسلمان ان میں رہیں۔ اور وہ ان کو اندر سے اجاڑ رہے تھے اور مسلمان باہر سے۔
29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جلاوطنی کہتے ہیں لوگوں کا نکلنا ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف۔
30۔ فریابی وابن المنذر وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماقطعتم من لینۃ سے مراد ہے کھجور کا درخت۔
31۔ ابن ابی شیبہ سعید بن جبیر (رح) نے اسی طرح روایت کیا۔
32۔ عبد بن حمید نے عطیہ، عکرمہ، مجاہد اور عمرو بن میمون رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
33۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت من لینۃ سے مراد کھجور کی ایک خاص قسم ہے۔
34۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لینۃ سے مراد ہے وہ کھجور جو عجوہ سے ادنی اور کم ہو۔
35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا آیت لینۃ سے مراد ہے کھجور کی سب قسمیں سوائے دجوہ کے۔
36۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ما قطعتم من لینۃ سے مراد ہے کھجور کا درخت یا مطلق درخت۔
37۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے بعض مالوں کو جلادیا تھا ایک کہنے والے نے کہا۔
فہان علی سراۃ بنی لوی حریق بالبویرۃ مستطیر
ترجمہ : پس بنی لوئی کے شیروں پر ہلاکت کے ساتھ جلانا اور راکھ اڑادینا آسان ہے
39۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس دن مسلمانوں نے کھجوروں کو کو کاٹا۔ اور بعض لوگوں نے روکا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ یہ فساد ہے۔ یہودیوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو فساد کی اجازت دی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ما قطعتم من لینۃ اور لینۃ سے عجوہ کے سوا دوسری کھجور مراد ہے۔ سے لے کر آیت ولیخزی الفسقین تک یعنی ان کو غصہ دلانے کے لیے آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب یعنی تم نے ان کی طرف جاتے ہوئے کسی وادی کو عبور نہیں کیا اور نہ ہی تم نے ان کی طرف جانور پر اور اونٹ پر سفر کیا اور یہ بنو نضیر کے باغات تھے جو اللہ نے اپنے رسول کو عطا فرمائے۔
Ayah 59:6بنو نضیر کے مال غنیمت کی تقسیم
40۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کا مال غنیمت قریش اور مہاجرین میں تقسیم فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ماقطعتم من لینۃ اور یہ عجوہ اور فنیق اور نخیل ہیں۔ یہ دونوں قسم کی کھجوریں کشتی میں نوح (علیہ السلام) کے پاس تھیں۔ اور یہ دونوں کھجور کی اصل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے کسی کو مال غنیمت نہیں دیا مگر دو آدمیوں کو ابو دجانہ اور سہل بن حنیف ؓ کو۔
41۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور مشیت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا مشیت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ بیٹھ جاؤں آپ نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا کہ تو بیٹھ جائے۔ پھر اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ یہ درخت کو کاٹ دوں۔ آپ نے فرمایا اللہ نے چاہا کہ تو اس کو کاٹ دے۔ پھر اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اس کو چھوڑ دوں۔ آپ نے فرمایا اللہ نے چاہا کہ تو اس کو چھوڑ دے۔ جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ آپ کو اپنی دلیل اور حجت سمجھائی گئی جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حجت اور دلیل سمجھائی پھر یہ قرآن نازل ہوا آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفسقین۔
42۔ عبدالرزاق والبیہقی وابن المنذر نے زہری (رح) سے آیت فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فدک والوں سے اور ان کی مخصوص بستیوں سے صلح کی۔ حالانکہ آپ نے دوسری قوموں کا محاصرہ کیا۔ انہوں نے صلح کا پیغام بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا مال بغیر لڑائی کے دلوایا۔ انہوں نے ان پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب یعنی بغیر لڑائی کے اور بنی نضیر کے اموال خالص طور پر نبی ﷺ کے لیے تھے۔ کہ انہوں نے وہ مال تلوار کے ذور سے فتح نہیں کیا تھا بلکہ اسے صلح کے ساتھ حاصل کیا تھا اور نبی ﷺ نے اسمال کو مہاجریں میں تقسیم فرمایا اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہ دیا سوائے دو آدمیوں کے جن کو حاجت تھی۔ اور وہ ابو دجانہ اور سہل بن حنیف ؓ تھے۔
43۔ احمد و بخاری ومسلم وابوداوٗد و ترمذی والنسائی وابن المنذر نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بنو نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو دلوائے کہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے اور یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھا۔ اور آپ اپنے اہل و عیال پر اس میں سے ان کے سال بھر کے اخراجات کے لیے خرچ فرماتے تھے۔ پھر باقی مال سے ہتھیار اور گھوڑے خچر وغیرہ کو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے خریدنے پر خرچ فرماتے تھے۔
44۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو ان کے رب یاد دلا رہے ہیں اس نے ان کی مدد کی ہے اور بنی قریظہ اور خیبر میں بغیر گھوڑے خچروں اور بغیر کسی جنگ و قتال کے (اللہ تعالیٰ ) ان کے لیے کافی ہوا۔
45۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قریظہ اور نضیر کی طرف چلنے کا حکم فرمایا اور ان دنوں ایمان والوں کے پاس زیادہ گھوڑے اور اونٹ نہیں تھے تو رسول اللہ ﷺ کو اختیار عطا فرمایا کہ آپ جو چاہیں فیصلہ کرسکتے ہیں اور ان دنوں گھوڑے اور اونٹ نہ تھے جن کے ساتھ تیزی سی سفر کیا جاسکتا ہو۔ ایحاف کا معنی ہے کہ وہ خوب تیز چال چلے ہوں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہوں۔ یہ صورت حال خیبر، فدک اور دوسری عرب بستیوں کے لیے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا کہ آپ ینبع کے لیے تیاری کریں۔ اور رسول اللہ ﷺ وہاں پہنچے اور سارے سامان کو گھیر لیا۔ لوگوں نے کہا آپ نے اس کو کیوں نہیں تقسیم فرمایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القریٰ فللہ وللرسول۔