59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والاف 5

5 چناچہ اس کے زبردست غلبہ اور حکمت کے آثار میں سے ایک واقعہ آگے بیان کیا جاتا ہے۔
Ayah 59:2

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے نکال دیا ان کو جو منکر ہیں کتاب والوں میں ان کے گھروں سے6 پہلے ہی اجتماع پر لشکر کے7 تم نہ اٹکل کرتے تھے کہ نکلیں گے اور وہ خیال رکھتے تھے کہ ان کو بچا لیں گے ان کے قلعے اللہ کے ہاتھ سے، پھر پہنچا ان پر اللہ جہاں سے ان کو خیال نہ تھا اور ڈال دی ان کے دلوں میں دھاک1 اُجاڑنے لگے اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں2 سو عبرت پکڑو اے آنکھ والو3

6 مدینہ سے مشرقی جانب چند میل کے فاصلہ پر ایک قوم یہود بستی تھی جس کو " بنی نضیر " کہتے تھے۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے، اپنے مضبوط قلعوں پر ان کو ناز تھا۔ حضور ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو شروع میں انہوں نے آپ ﷺ سے صلح کا معاہدہ کرلیا، کہ ہم آپ کے مقابلہ پر کسی کی مدد نہ کریں گے۔ پھر مکہ کے کافروں سے نامہ و پیام کرنے لگے۔ حتی کہ ان کے ایک بڑے سردار کعب بن اشرف نے چالیس سواروں کے ساتھ مکہ پہنچ کر بیت اللہ شریف کے سامنے مسلمانوں کے خلاف قریش سے عہد و پیمان باندھا۔ آخر چند روز بعد اللہ و رسول کے حکم سے محمد بن مسلمہ نے اس غدار کا کام تمام کردیا۔ پھر بھی " بنی نضیر " کی طرف سے بدعہدی کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی دغا بازی سے حضور ﷺ کو چند رفیقوں کے ساتھ بلا کر اچانک قتل کرنا چاہا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ جہاں بیٹھے تھے اوپر سے بھاری چکی کا پاٹ ڈال دیا۔ اگر لگے تو آدمی مرجائے۔ مگر سب مواقع پر اللہ کے فضل نے حفاظت فرمائی۔ آخر حضور ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کیا۔ ارادہ کیا کہ ان سے لڑیں۔ جب مسلمانوں نے نہایت سرعت و مستعدی سے مکانوں اور قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ وہ مرعوب و خوفزدہ ہوگئے۔ عام لڑائی کی نوبت نہ آئی۔ انہوں نے گھبرا کر صلح کی التجا کی۔ آخر یہ قرار پایا کہ وہ مدینہ خالی کردیں۔ ان کی جانوں سے تعرض نہ کیا جائے گا۔ اور جو مال اسباب اٹھا کرلے جاسکتے ہیں، لے جائیں۔ باقی مکان، زمین، باغ، وغیرہ پر مسلمان قابض ہوئے۔ حق تعالیٰ نے وہ زمین مال غنیمت کی طرح تقسیم نہ کرائی، صرف حضرت محمد ﷺ کے اختیار پر رکھی۔ حضرت محمد ﷺ نے اکثر اراضی مہاجرین پر تقسیم کردی۔ اس طرح انصار پر سے ان کا خرچ ہلکا ہوا۔ اور مہاجرین و انصار دونوں کو فائدہ پہنچا۔ نیز حضرت ﷺ اپنے گھر کا اور واردوصادر کا سالانہ خرچ بھی اسی سے لیتے تھے اور جو بچ رہتا اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے تھے۔ اس سورت میں یہ ہی قصہ مذکور ہے۔ 7 یعنی ایک ہی ہلہ میں گھبرا گئے اور پہلی ہی مڈبھیڑ پر مکان اور قلعے چھوڑ کر نکل بھاگنے کو تیار ہو بیٹھے۔ کچھ بھی ثابت قدمی نہ دکھلائی۔ (تنبیہ) " اوّل الحَشْر " سے بعض مفسرین کے نزدیک یہ مراد ہے کہ اس قوم کے لیے اس طرح ترک وطن کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ قبل ازیں ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا۔ یا " اول الحشر " میں اس طرف اشارہ ہوا کہ ان یہود کا پہلا حشر یہ ہے کہ مدینہ چھوڑ کر بہت سے خیبر وغیرہ چلے گئے اور دوسرا حشر وہ ہوگا جو حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت میں پیش آیا۔ یعنی دوسرے یہود و نصاریٰ کی معیّت میں یہ لوگ بھی خیبر سے ملک شام کی طرف نکالے گئے جہاں آخری حشر بھی ہونا ہے۔ اسی لیے " شام " کو " ارض المحشر " بھی کہتے ہیں۔ 1 یعنی ان کے سازو سامان، مضبوط قلعے اور جنگجویانہ اطوار دیکھ کر نہ تم کو اندازہ تھا کہ اس قدر جلد اتنی آسانی سے وہ ہتھیار ڈال دیں گے اور نہ ان کو خیال تھا کہ مٹھی بھر بےسروسامان لوگ اس طرح قافیہ تنگ کردیں گے۔ وہ اسی خواب خرگوش میں تھے کہ مسلمان (جن کے سروں پر اللہ کا ہاتھ ہے) ہمارے قلعوں تک پہنچنے کا حوصلہ نہ کرسکیں گے۔ اور اس طرح گویا اللہ کے ہاتھ سے بچ نکلیں گے۔ مگر انہوں نے دیکھ لیا کہ کوئی طاقت اللہ کے حکم کو نہ روک سکی۔ ان کے اوپر اللہ کا حکم وہاں سے پہنچا، جہاں سے ان کو خیال و گمان بھی نہ تھا۔ یعنی دل کے اندر سے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اور بےسروسامان مسلمانوں کی دھاک بٹھلا دی۔ ایک تو پہلے ہی اپنے سردار کعب بن اشرف کے ناگہانی قتل سے مرعوب و خوفزدہ ہو رہے تھے۔ اب مسلمانوں کے اچانک حملہ نے رہے سہے حواس بھی کھو دیے۔ 2 یعنی حرص اور غیظ و غضب کے جوش میں مکانوں کے کڑے، تختے، کواڑ اکھاڑنے لگے تاکہ کوئی چیز جو ساتھ لے جاسکتے ہیں رہ نہ جائے اور مسلمانوں کے ہاتھ نہ لگے۔ اس کام میں مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ ایک طرف سے وہ خود گراتے تھے دوسری طرف سے مسلمان۔ اور غور سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ہاتھوں جو تباہی وویرانی عمل میں آئی وہ بھی ان ہی بدبختوں کی بدعہدیوں اور شرارتوں کا نتیجہ تھی۔ 3 یعنی اہل بصیرت کے لیے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دکھلا دیا کہ کفر، ظلم، شرارت اور بدعہدی کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ محض ظاہری اسباب پر تکیہ کر کے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے غافل ہوجانا عقلمند کا کام نہیں۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو ان کو عذاب دیتادنیا میں اور آخرت میں ہے ان کے لیے آگ کا عذاب4

4 یعنی ان کی قسمت میں جلا وطنی کی سزا لکھی تھی۔ یہ بات نہ ہوتی تو کوئی دوسری سزا دنیا میں دی جاتی۔ مثلاً بنی قریظہ کی طرح مارے جاتے۔ غرض سزا سے بچ نہیں سکتے۔ یہ خدا کی حکمت ہے قتل کے بجائے محض جلا وطنی پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن یہ تخفیف صرف دنیاوی سزا میں ہے آخرت کی ابدی سزا کسی طرح ان کافروں سے ٹل نہیں سکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ قوم ملک شام سے بھاگ کر یہاں آئی تھی تو ان کے بڑوں نے کہا تھا کہ ایک دن تم کو یہاں سے ویران ہو کر پھر شام میں جانا پڑے گا۔ چناچہ اس وقت اجڑ کر (بعض شام میں چلے گئے اور بعض) خیبر میں رہے۔ پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں وہاں سے اجڑ کر شام میں گئے۔
Ayah 59:4

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور جو کوئی مخالف ہو اللہ سے تو اللہ کا عذاب سخت ہے5

5 یعنی ایسے مخالفوں کو ایسی سخت سزا ملتی ہے۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے6 اور تاکہ رسوا کرے نافرمانوں کو7

6 جب وہ لوگ قلعہ بند ہوگئے تو حضرت محمد ﷺ نے اجازت دی کہ ان کے درخت کاٹے جائیں اور باغ اجاڑے جائیں تاکہ اس کے درد سے باہر نکل کر لڑنے پر مجبور ہوں اور کھلی ہوئی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کچھ درخت کاٹے گئے اور کچھ چھوڑ دیے گئے کہ فتح کے بعد مسلمانوں کے کام آئیں گے۔ کافروں نے طعن کرنا شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں، کیا درختوں کا کاٹنا اور جلانا فساد نہیں ؟ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی یہ سب کچھ اللہ جل شانہ کے حکم سے ہے۔ حکم الٰہی کی تعمیل کو فساد نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ گہری حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعض مصالح اوپر بیان ہو چکیں۔ 7 یعنی تاکہ مسلمانوں کو عزت دے اور کافروں کو ذلیل کرے۔ چناچہ جو درخت چھوڑ دیے گئے اس میں مسلمانوں کی ایک کامیابی اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ یہ مسلمان ان کو برتیں گے اور نفع اٹھائیں گے اور جو کاٹے یا جلائے گئے اس میں مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی ظہور آثار غلبہ اور کفار کو غیظ و غضب میں ڈالنا ہے کہ مسلمان ہماری چیزوں میں کیسے تصرفات کر رہے ہیں۔ لہذا دونوں امر جائز اور حکمت پر مشتمل ہیں۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال کو لوٹا دیا اللہ نے اپنے رسول پر ان سے سو تم نے نہیں دوڑائے اس پر گھوڑے اور نہ اونٹ لیکن اللہ غلبہ دیتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے8

8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ ہی فرق رکھا ہے " غنیمت " میں اور " فئے " میں۔ جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز (جس کی تفصیل دسویں پارہ کے شروع میں گزر چکی ہے) اور چار حصے لشکر کو تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اور جو بغیر جنگ کے ہاتھ آیا وہ سب کا سب مسلمانوں کے خزانہ میں رہے (ان کی مصالح عامہ میں) اور جو کام ضروری ہو اس پر خرچ ہو۔ " (تنبیہ) اگر قدرے جنگ ہونے کے بعد کفار مرعون ہو کر صلح کی طرف مسارعت کریں اور مسلمان قبول کرلیں۔ اس صورت میں جو اموال صلح سے حاصل ہوں گے وہ بھی حکم " فئے " میں داخل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں اموال " فئے " خالص حضور ﷺ کے اختیار و تصرف میں ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ یہ اختیار مالکانہ ہو جو صرف آپ کے لیے مخصوص تھا۔ جیسا کہ آیت حاضرہ میں " علٰی رسولہ " کے لفظ سے متبادر ہوتا ہے۔ اور احتمال ہے کہ محض حاکمانہ ہو بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان اموال کے متعلق آپ ﷺ کو اگلی آیت میں ہدایت فرما دی کہ وجوباً یا ندباً فلاں فلاں مصارف میں صرف کیے جائیں۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اموال امام کے اختیار و تصرف میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن اس کا تصرف مالکانہ نہیں ہوتا، محض حاکمانہ ہوتا ہے۔ وہ ان کو اپنی صوابدید اور مشورہ سے مسلمانوں کی عام ضروریات و مصالح میں خرچ کرے گا۔ باقی اموال غنیمت کا حکم اس سے جدا گانہ ہے۔ وہ خمس نکالے جانے کے بعد خالص لشکر کا حق ہوتا ہے۔ کما یدل علٰی قولہ تعالیٰ ۔ (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ ) 8 ۔ الانفال :41) لشکری اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو وہ علیحدہ بات رہی۔ البتہ شیخ ابوبکر رازی حنفی نے " احکام القرآن " میں نقل کیا ہے کہ یہ حکم اموال منقولہ کا ہے غیر منقولہ میں امام کو اختیار ہے کہ مصلحت سمجھے تو لشکر پر تقسیم کر دے اور مصلحت نہ سمجھے تو مصالح عامہ کے لیے رہنے دے۔ جیسا کہ سواد عراق میں حضرت عمر نے بعض جلیل القدر صحابہ کے مشورہ سے یہ ہی عمل درآمد رکھا۔ اسی مسلک کے موافق شیخ ابوبکر رازی نے (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ ) 8 ۔ الانفال :41) کو اموال منقولہ پر اور سورة " حشر " کی آیات کو اموال غیر منقولہ پر حمل کیا ہے۔ اس طرح کی پہلی آیت (وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ ) 59 ۔ الحشر :6) حکم " فئے " پر اور دوسری آیت (مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 59 ۔ الحشر :7) حکم " غنیمت " پر محمول ہے۔ اور لغۃً " غنیمت " کو لفظ " فئے " سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال لوٹایا اللہ نے اپنے رسول پر بستیوں والوں سے سو اللہ کے واسطے اور رسول کے9 اور قرابت والے کو10 اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافر کے تاکہ نہ آئے لینے دینے میں دولت مندوں کے تم میں سے11 اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو12 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے1

9 پہلی آیت میں صرف اموال " بنی نضیر " کا ذکر تھا۔ اب اموال " فئے " کے متعلق عام ضابطہ بتلاتے ہیں۔ یعنی " فئے " پر قبضہ رسول کا اور رسول کے بعد امام کا اسی پر یہ خرچ پڑتے ہیں۔ باقی اللہ کا ذکر تبرکاً ہوا۔ وہ تو سب ہی کا مالک ہے۔ وہاں کعبہ کا خرچ اور مسجدوں کا بھی جو اللہ کے نامزد ہیں ممکن ہے اس میں درج ہو۔ 10 یعنی حضرت کے قرابت والوں کے۔ چناچہ حضور ﷺ اپنے زمانہ میں اس مال میں سے ان کو بھی دیتے تھے۔ اور ان میں فقیر کی بھی قید نہیں تھی۔ اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو جو دولت مند تھے آپ ﷺ نے حصہ عطا فرمایا۔ اب آپ ﷺ کے بعد حنفیہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے قرابتدار جو صاحب حاجت ہوں امام کو چاہیے کہ انہیں دوسرے محتاجوں سے مقدم رکھے۔ 11 یعنی یہ مصارف اس لیے بتلائے کہ ہمیشہ یتیموں، محتاجوں، بیکسوں اور عام مسلمانوں کی خبر گیری ہوتی رہے اور عام اسلامی ضروریات سرا نجام پاسکیں۔ یہ اموال محض دولت مندوں کے الٹ پھیر میں پڑ کر ان کی مخصوص جاگیر بن کر نہ رہ جائیں جن سے سرمایہ دار مزے لوٹیں اور غریب فاقوں پر مریں۔ 12 یعنی مال و جائداد وغیرہ جس طرح پیغمبر اللہ کے حکم سے تقسیم کرے اسے بخوشی ورغبت قبول کرو، جو ملے لے لو، جس سے روکا جائے رک جاؤ اور اسی طرح اس کے تمام احکام اور اوامرو نواہی کی پابندی رکھو۔ 1 یعنی رسول ﷺ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ ڈرتے رہو کہیں رسول ﷺ کی نافرمانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کوئی سخت عذاب مسلط نہ کر دے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

واسطے ان مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے جو نکالے ہوئے آئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے ڈھونڈتے آئے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی اور مدد کرنے کو اللہ کی، اور اس کے رسول کی، وہ لوگ وہی ہیں سچے2

2 یعنی یوں تو اس مال سے عام مسلمانوں کی ضروریات و حوائج متعلق ہیں۔ لیکن خصوصی طور پر ان ایثار پیشہ جاں نثاروں اور سچے مسلمانوں کا حق مقدم ہے۔ جنہوں نے محض اللہ کی خوشنودی اور رسول کی محبت و اطاعت میں اپنے گھر بار اور مال و دولت سب کو خیر باد کہا اور بالکل خالی ہاتھ ہو کر وطن سے نکل آئے تاکہ اللہ و رسول کے کاموں میں آزادانہ مدد کرسکیں۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے سے3 وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے ان کے پاس4 اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو مہاجرین کو دی جائے، اور مقدم رکھتے ہیں ان کو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر فاقہ5 اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے سو وہی لوگ ہیں مراد پانے والے6

3 اس گھر سے مراد ہے مدینہ طیبہ اور یہ لوگ انصار مدینہ ہیں جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔ اور ایمان و عرفان کی راہوں پر بہت مضبوطی کے ساتھ مستقیم ہوچکے تھے۔ 4 یعنی محبت کے ساتھ مہاجرین کی خدمت کرتے ہیں حتی کہ اپنے اموال وغیرہ میں ان کو برابر کا شریک بنانے کے لیے تیار ہیں۔ 5 یعنی مہاجرین کو اللہ تعالیٰ جو فضل و شرف عطا فرمائے یا اموال فئے وغیرہ میں سے حضور ﷺ جو کچھ عنایت کریں، اسے دیکھ کر انصار دل تنگ نہیں ہوتے نہ حسد کرتے ہیں۔ بلکہ خوش ہوتے ہیں اور ہر اچھی چیز میں ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں۔ خود سختیاں اور فاقے اٹھا کر بھی اگر ان کو بھلائی پہنچا سکیں تو دریغ نہیں کرتے۔ ایسا بےمثال ایثار آج تک دنیا کی کس قوم نے کس کے لیے دکھلایا۔ 6 یعنی بڑے کامیاب اور بامراد ہیں وہ لوگ جن کو اللہ کی توفیق و دستگیری نے ان کے دل کے لالچ اور حرص و بخل سے محفوظ رکھا۔ لالچی اور بخیل آدمی اپنے بھائیوں کے لیے کہاں ایثار کرسکتا ہے اور دوسروں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کب خوش ہوتا ہے ؟
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور واسطے ان لوگوں کے جو آئے ان کے بعد7 کہتے ہوئے اے رب بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے داخل ہوئے ایمان میں اور نہ رکھ ہمارے دلوں میں بیر ایمان والوں کا اے رب تو ہی ہے نرمی والا مہربان8

7 یعنی ان مہاجرین و انصار کے بعد عالم وجود میں آئے، یا ان کے بعد حلقہ اسلام میں آئے، یا مہاجرین سابقین کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ والظاہر ہو الاول۔ 8 یعنی سابقین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور کسی مسلمان بھائی کی طرف سے دل میں بیر اور بغض نہیں رکھتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ " آیت سب مسلمانوں کے واسطے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں۔ " امام مالک نے یہیں سے فرمایا کہ جو شخص صحابہ سے بغض رکھے اور ان کی بدگوئی کرے اس کے لیے مال فئے میں کچھ حصہ نہیں۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دغا باز ہیں کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو جو کہ کافر ہیں اہل کتاب میں سے اگر تم کو کوئی نکال دے گا تو ہم بھی نکلیں گے تمہارے ساتھ اور کہا نہ مانیں گے کسی کا تمہارے معاملہ میں کبھی اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے9 اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں10

9 عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین نے یہود " بنی النضیر " کو خفیہ پیغام بھیجا تھا کہ گھبرانا نہیں اور اپنے کو اکیلا مت سمجھنا۔ اگر مسلمانوں نے تم کو نکالا۔ ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور لڑائی کی نوبت آئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ یہ ہمارا بالکل اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ اس کے خلاف تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ماننے والے اور پروا کرنے والے نہیں۔ 10 یعنی دل سے نہیں کہہ رہے۔ محض مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں۔ اور جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں ہرگز اس پر عمل نہیں کریں گے۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے جائیں یہ نہ نکلیں گے ان کے ساتھ، اور اگر ان سے لڑائی ہوئی یہ نہ مدد کریں گے ان کی1 اور اگر مدد کریں گے تو بھاگیں گے پیٹھ پھیر کر پھر کہیں مدد نہ پائیں گے2

1 چناچہ لڑائی کا سامان ہوا اور " بنی نضیر " محصور ہوگئے۔ ایسی نازک صورت حال میں کوئی منافق ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اور آخرکار جب وہ نکالے گئے یہ اس وقت آرام سے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے رہے۔ 2 یعنی اگر بفرض محال منافق ان کی مدد کو نکلے بھی تو نتیجہ کیا ہوگا۔ بجز اس کے کہ مسلمانوں کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر ان کی مدد تو کیا کرسکتے، خود ان کی مدد کو بھی کوئی نہ پہنچے گا۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

البتہ تمہارا ڈر زیادہ ہے ان کے دلوں میں اللہ کے ڈر سے یہ اس لیے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے3

3 یعنی اللہ کی عظمت کو سمجھتے اور دل میں اس کا ڈر ہوتا، تو کفر و نفاق کیوں اختیار کرتے۔ ہاں مسلمانوں کی شجاعت و بسالت سے ڈرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتے نہ میدان جنگ میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

لڑ نہ سکیں گے تم سے سب مل کر مگر بستیوں کے کوٹ میں یا دیواروں کی اوٹ میں4 ان کی لڑائی آپس میں سخت ہے5 تو سمجھے وہ اکٹھے ہیں اور ان کے دل جدا جدا ہو رہے ہیں یہ اس لیے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے6

4 یعنی چونکہ ان لوگوں کے دل مسلمانوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں، اس لیے کھلے میدان میں جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں گنجان بستیوں میں قلعہ نشین ہو کر یا دیواروں اور درختوں کی آڑ میں چھپ کر لڑ سکتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے، کہ یورپ نے مسلمانوں کی تلوار سے عاجز ہو کر قسم قسم کے آتشبار اسلحہ اور طریق جنگ ایجاد کیے ہیں۔ تاہم اب بھی اگر کسی وقت دست بدست جنگ کی نوبت آجاتی ہے تو چند ہی منٹ میں دنیا (لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ ) 59 ۔ الحشر :14) کا مشاہدہ کرلیتی ہے۔ باقی اس قوم کا تو کہنا ہی کیا جس کے نزدیک چھتوں پر چڑھ کر اینٹ پتھر پھینکنا اور تیزاب کی پچکاریاں چلانا ہی سب سے بڑی علامت بہادری کی ہے۔ 5 یعنی آپس میں لڑائی میں بڑے تیز اور سخت ہیں جیسا کہ اسلام سے پہلے " اوس " و " خزرج " کی جنگ میں تجربہ ہوچکا، مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کی ساری بہادری اور شیخی کر کری ہوجاتی ہے۔ 6 یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کے ظاہری اتفاق و اتحاد سے دھوکہ مت کھاؤ۔ ان کے دل اندر سے پھٹے ہوئے ہیں، ہر ایک اپنی غرض و خواہش کا بندہ، اور خیالات میں ایک دوسرے سے جدا ہے پھر حقیقی یک جہتی کہاں میسر آسکتی ہے۔ اگر عقل ہو تو سمجھیں کہ یہ نمائشی اتحاد کس کام کا۔ اتحاد اسے کہتے ہیں جو مومنین قانتین میں پایا جاتا ہے کہ تمام اغراض و خواہشات سے یکسو ہو کر سب نے ایک اللہ کی رسی کو تھام رکھا ہے، اور ان سب کا مرنا جینا اسی خدائے واحد کے لیے ہے۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

جیسے قصہ ان لوگوں کا جو ہوچکے ہیں ان سے پہلے قریب ہی چکھی انہوں نے سزا اپنے کام کی اور ان کے لیے عذاب دردناک ہے7

7 یعنی ابھی قریب زمانہ میں یہود " بنی قینقاع " اپنی غداری کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ جب انہوں نے بدعہدی کی تو مسلمانوں نے ایک مختصر لڑائی کے بعد نکال باہر کیا۔ اور اس سے پیشتر ماضی قریب میں مکہ والے " بدر " کے دن سزا پاچکے ہیں، وہی انجام " بنی نضیر " کا دیکھ لو کہ دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں سزا مل چکی اور آخرت کا دردناک عذاب جوں کا توں رہا۔
Ayahs 59:16–17

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

جیسے قصہ شیطان کا جب کہے انسان کو تو منکر ہو پھر جب وہ منکر ہوگیا کہے میں الگ ہوں تجھ سے میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو رب سارے جہان کا

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر انجام دونوں کا یہی کہ وہ دونوں ہیں آگ میں ہمیشہ رہیں اسی میں اور یہی ہے سزا گناہ گاروں کی8

8 یعنی شیطان اول انسان کو کفر و معصیت پر ابھارتا ہے۔ جب انسان دام اغواء میں پھنس جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ اور تیرے کام سے بیزار ہوں مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے (یہ کہنا بھی ریاء اور مکاری سے ہوگا) نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود بھی دوزخ کا کندہ بنا اور اسے بھی بنایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شیطان آخرت میں یہ بات کہے گا اور " بدر " کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لوگوں کو لڑواتا تھا۔ جب فرشتے نظر آئے تو بھاگا۔ جس کا ذکر سورة " انفال " میں گزر چکا ہے۔ یہی مثال منافقوں کی ہے۔ وہ " بنی نضیر " کو اپنی حمایت ورفاقت کا یقین دلادلا کر بھرے پر چڑھاتے رہے۔ آخر جب وہ مصیبت میں پھنس گئے، آپ الگ ہو یٹھے۔ لیکن کیا وہ اس طرح اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ دونوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور چاہیے کہ دیکھ لے ہر ایک جی کیا بھیجتا ہے کل کے واسطے9 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو10

9 یعنی اللہ سے ڈر کر طاعات اور نیکیوں کا ذخیرہ فراہم کرو اور سوچو کل کے لیے کیا سامان تم نے آگے بھیجا ہے جو مرنے کے بعد وہاں پہنچ کر تمہارے کام آئے۔ 10 یعنی تمہارا کوئی کام اللہ سے پوشیدہ نہیں لہذا اس سے ڈر کر تقویٰ کا راستہ اختیار کرو اور معاصی سے پرہیز رکھو۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور مت ہو ان جیسے جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو پھر اللہ نے بھلا دیئے ان کو ان کے جی وہ لوگ وہی ہیں نافرمان1

1 یعنی جنہوں نے اللہ کے حقوق بھلا دیے، اس کی یاد سے غفلت اور بےپروائی برتی۔ اللہ نے خود کی جانوں سے ان کو غافل اور بیخبر کردیا کہ آنے والی آفات سے اپنے بچاؤ کی کچھ فکر نہ کی۔ اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

برابر نہیں دوزخ والے اور بہشت والے، بہشت والے جو ہیں وہی ہیں مراد پانے والے2

2 یعنی چاہیے کہ آدمی جب اپنے کو بہشت کا مستحق ثابت کرے جس کا راستہ قرآن کریم کی ہدایات کے سامنے جھکنے کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم اتارتے یہ قرآن ایک پہاڑ پر تو تو دیکھ لیتا کہ وہ دب جاتا پھٹ جاتا اللہ کے ڈر سے3 اور یہ مثالیں ہم سناتے ہیں لوگوں کو تاکہ وہ غور کریں4

3 یعنی مقام حسرت و افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر کچھ نہ ہو، حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبردست اور قوی ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے خوف کے پھٹ کر پارہ پارہ ہوجاتا۔ میرے والد مرحوم نے ایک طویل نظم کے ضمن میں یہ تین شعر لکھے تھے سنتے سنتے نغمہ ہائے محفل بدعات کو کان بہرے ہوگئے دل بدمزہ ہونے کو ہے آؤ سنوائیں تمہیں وہ نغمہ مشروع بھی پارہ جس کے لحن سے طورہدیٰ ہونے کو ہے حیف گر تاثیر اس کی تیرے دل پر کچھ نہ ہو کوہ جس سے خاشعًا متصدعاً ہونے کو ہے 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی کافروں کے دل بڑے سخت ہیں کہ یہ کلام سن کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ اگر پہاڑ سمجھے تو وہ بھی دب جائے۔ " (تنبیہ) یہ تو کلام کی عظمت کا ذکر تھا۔ آگے متکلم کی عظمت و رفعت کا بیان ہے۔
Ayahs 59:22–23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے وہ ہے بڑا مہربان رحم والا

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی وہ بادشاہ ہے پاک ذات سب عیبوں سے سالم5 امان دینے والاف 6 پناہ میں لینے والا زبردست دباؤ والا صاحب عظمت، پاک ہے اللہ ان کے شریک بتلانے سے7

5 یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔ 6 " مومن " کا ترجمہ " امان دینے والا " کیا ہے۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک " مصدق " کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولاً و فعلاً تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔ 7 یعنی اس کی ذات وصفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ ہے بنانے والا نکال کھڑا کرنے والاف 8 صورت کھینچنے والاف 9 اسی کے ہیں سب نام خاصے10 پاکی بول رہا ہے اس کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں11 اور وہی ہے زبردست حکمتوں والاف 12

8 " خالق " و " باری " کے فرق کی طرف ہم نے سورة " بنی اسرائیل " کی آیت " وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوُحِ قُلِ الرُّوُحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی " الخ کے فوائد میں کچھ ارشاد کیا ہے۔ 9 جیسا کہ نطفہ پر انسان کی تصویر کھینچ دی۔ 10 یعنی وہ نام جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ 11 یعنی زبان حال سے یا قال سے بھی جس کو ہم نہیں سمجھتے۔ 12 تمام کمالات وصفات الٰہیہ کا مرجع ان دو صفتوں " عزیز " اور " حکیم " کی طرف ہے۔ کیونکہ " عزیز " کمال قدرت پر، اور ' حکیم " کمال علم پر دلالت کرتا ہے۔ جتنے کمالات ہیں علم اور قدرت سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ روایات میں سورة " حشر " کی ان تین آیتوں (ہواللہ الذی لا الہ الا ہو سے آخر تک) کی بہت فضیلت آئی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ صبح و شام ان آیات کی تلاوت پر مواظبت رکھے،