59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 59:1–10

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اور وہ غالب ، حکمت والے ہیں

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب (بنو نضیر) کو ان کے گھروں سے اکٹھا کرکے پہلی ہی بار نکال دیا۔ تمہیں خیال بھی نہ تھا کہ وہ کبھی (گھروں سے) نکلیں گے اور انہوں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچا لیں گے۔ سو اللہ (کا عذاب) ان پر ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو (اس کا) گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور ایمان والوں کے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے۔ تو اے بصیرت رکھنے والو ! عبرت حاصل کرو

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان کی قسمت میں جلاوطن ہونا نہ لکھ چکے ہوتے تو ان کو دنیا میں ہی سزا دیتے۔ اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب (تیار) ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو یقینا اللہ اس کو سخت عذاب دینے والے ہیں

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا۔ سو اللہ کے حکم سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو رسوا کریں

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے ان لوگوں سے اپنے پیغمبر کو (بغیر لڑائی کے) دلوایا سو اس پر تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ و لیکن اللہ اپنے پیغمبروں (علیہم السلام) کو جن پر چاہتے ہیں مسلط فرمادیتے ہیں۔ اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو (بغیر لڑائی کے دوسری) بستیوں سے دلوایا تو وہ اللہ کے لئے اور پیغمبر کے لئے اور قرابت داروں اور یتیموں اور حاجت مندوں کے لئے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ تم میں جو لوگ دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ اور جو چیز تم کو پیغمبر دے دیں تو وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں سو (اس سے) باز رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

ان حجب مند مہاجرین کے لئے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبر (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) سے پہلے (ہجرت کے) گھر میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) ان کے پاس جو ہجرت کرکے آتا ہے یہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور ان (مہاجرین) کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ (انصار) اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے بھی پہلے رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ ہی مراد پانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا (بھی مال فے میں حق ہے) جو ان کے بعد آئے۔ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرمائیے اور ایمان والوں کی طرف سے ہمارے دلوں میں حسد (بخل) نہ پیدا ہونے دیجئے۔ اے ہمارے پروردگار ! بیشک آپ بڑے شفیق (اور) مہربان ہیں

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں حشر اول اور حشرثانی کہلاتی ہیں۔ اسلام زیادتی نہیں کرتا۔ بات اللہ کی پاکی سے شروع فرمائی کہ وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا اور رسول اللہ ﷺ اسی کے حکم کے مطابق سلوک فرماتے ہیں لہذا کسی بھی طرح اسلامی احکام کسی فریاد یا قوم پر زیادتی نہیں کرتے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکیزگی اور تقدس پر دال ہے اور اللہ غالب بھی ہے اور بہت بڑا حکمت والا بھی لہذا اسی نے ان لوگوں کو جو کتاب الٰہی پر ایمان نہ لائے مراد (بنونضیر ہیں ) ان کو گھروں سے جلاوطنی کے لیے نکالا ، کہ انہوں نے بدعہدی کی منافقین بھی ان کے ساتھ مل گئے اور ان کی اپنی طاقت اور قلعے بھی مضبوط تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم اللہ ہی کا حکم ہے۔ مگر جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ بدر ہونے کا حکم دیاتو اللہ نے اسے اپناحکم بیان فرمایا نیز ایک لطیف بات ارشاد فرمادی کہ پہلی بار نکالے گئے گویا اشارہ ہے کہ بغاوت سے باز نہ آئیں گے اور دو بار بھی نکالے جائیں گے چناچہ عہد فاروقی میں شام کی طرف نکال دیے گئے نیزا نہیں اپنی طاقت کا بڑاگھمنڈ تھا یہاں تک مسلمان بھی یہی یقین رکھنے کے باوجود کہ جب آپ نے فرمایا توایساضرور ہوگا ظاہری اسباب الٹا ان کے حق میں پاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے ان کی حفاظت کے لیے کافی ہیں انہیں کوئی نہیں توڑ سکتا اور یہ قلعے ہمیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے مگر اللہ نے انہیں ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا کہ جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا مسلمانوں نے محاصرہ کرلیا تھا۔ منافقین دبک گئے تھے اور یہود پر قلعوں کے اندارایسی ہیبت طاری ہوگئی اور اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ وہ جلاوطنی پر مجبور ہوگئے آپ نے اجازت دے دی کہ ایک اونٹ پر اپنا سامان اور مال دولت لے جاسکتے ہو چناچہ کچھ توقلعے مسلمانوں کے ہاتھوں ٹوٹے اور انہیں نقصان پہنچا باقی وہ خود اپنے ہاتھوں توڑ رہے تھے کہ دروازے کھڑکیاں وغیرہ نکال کرلے جاسکیں مسلمانوں کی پوری کوشش اور صلح کے معاہدوں کے باوجود سازشوں سے باز نہ آئے حتی کہ رسول اللہ کے قتل کی سازش کی مگر اس کے باوجود ادھر اس قدر کرم تھا کہ مال سمیت جانے کی اجازت دے دی گئی۔ فتح کی شرط۔ ان واقعات میں سمجھدار لوگوں کے لیے بہت بڑی عبرت کی دلیل ہے کہ فتح نری وسائل کی محتاجی نہیں بلکہ تائید باری سے ممکنہ وسائل کے ساتھ ہی نصیب ہوجاتی ہے بشرطیکہ مسلمان اتباع نبوی میں میدان میں تواتریں۔ اگر اللہ نے ان کے لیے یہ بات مقدرن ہ کردی ہوتی تو ان کا جرم اتنا بڑا تھا کہ دنیا میں انہیں سخت ترین سزا دی جاتی اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی مخالفت کی کیونکہ اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو پھر اس پر اللہ کا بہت سخت عذاب آتا ہے۔ مقام فنافی اللہ۔ اس محاصرے میں کچھ درخت بھی ان کے کاٹے گئے کچھ صحابہ نے نہ کاٹے کہ یہ تو چلے جائیں گے اور درخت مسلمانوں کے کام آئیں گے اللہ کریم نے دونوں کا کام اپنا کام قرار دیا کہ دونوں راہیں اللہ کی رضا کے لیے تھیں اور وہ لوگ فنا فی اللہ تھے چناچہ فرمایا تم نے اگر کوئی کھجور کاٹی تو وہ میرے حکم سے تھی اور کوئی باقی رہنے دی تو وہ بھی میرا حکم تھا۔ اجتہاد۔ یہ اجتہاد تھا جس میں اختلاف رائے بہتری کے لیے تھا لہذا دونوں کو پسند فرمایا لہذا اجتہاد میں کسی رائے کو گناہ قرار نہیں دیاجاسکتا ۔ مسئلہ۔ جنگ میں کفار کے درخت یافصلیں وغیرہ برباد نہ کی جائیں گی اور نہ ان کے گھرجلائے یامنہدم کیے جائیں گے لیکن اگر جنگی نقطہ نظر سے یہ ضروری ہوا کہ اس کے بغیر فتح نہ ہوسکتی ہوتویہ جائز ہوگا کہ اس سے کفار کی شوکت کو توڑا جائے۔ مال فئی۔ کہ یہاں بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ سب اس لیے کیا گیا ان بدکاروں کو ذلیل کیا جائے اور یہ شکست سے دوچار ہوں جہاں کفار بغیر جنگ کے مال یا گھر بار چھوڑ جائیں جیسے یہاں بنونضیر نے جنگ کے بغیر جلاوطنی قبول کرلی تو اس مال کوفی کہاجائے گا فئی کا معنی سایہ ڈھلنے کا ہے جیسے بعد دوپہر سایہ ڈھلتا ہے ایسے ہی جب کفار بغیر جنگ کے مال چھوڑ دیں تو وہ اللہ کی طرف جو اصل مالک ہے پلٹ گیا لہذا اللہ نے اس کی تقسیم کا طریق کار غنیمت سے الگ ارشاد فرمایا غنیمت کا مال قتال سے حاصل ہوتا ہے اور ایک حصہ بیت المال کودے کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن جو مال اللہ نے فئی کا اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا جس پر کسی کو قتال نہیں کرنا پڑا بلکہ اللہ نے اپنے رسول کو کفار پر غلبہ دے دیا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے تو ان بستیوں کا حاصل شدہ مال جو بغیرجنگ کے کفار نے خالی کردیں صرف اللہ کا مال ہے جو اس نے اپنے رسول کو دیا اب وہ اس میں سے خود رکھیں قرابت داروں کو عطا کریں کہ رسول اللہ اور ان کے قرابت داروں پہ زکوہ جائز نہ تھی ) کہ یہ مال اللہ نے ان کے لیے حلال فرمادیا یا پھر یتیموں مساکین اور مسافروں کو بھی اس میں سے عطا کریں یہ سب ان کی مرضی پہ ہے۔ مسئلہ۔ مال فے رسول اللہ ﷺ یا ان کے خلفاء یا مسلمان حکمران تقسیم کرنے کا حق بھی رکھتا ہے اور اگر قومی امور عامۃ المسلمین کے لیے روک لے اور بیت المال میں داخل کرے تو بھی درست ہے یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ مال صرف امراء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ اسلام ارتکاذ دولت کے خلاف ہے۔ اسلام کے معاشی نظام نے دولت اس انداز سے تقسیم کی ہے کہ اللہ نے غریب اور امیر ہی کا نہیں مومن وکافر کا بھی حق متعین فرمادیا ، انسانی ضروریات کے حصے ہیں ایک اصلی اور فطری جیسے سورج ، ہوا ، بارش ، ان کو اپنے دست قدرت میں رکھ کر ہر ایک تک پہنچاتا ہے دوسری چیز زمین کی پیداوار ہے اور اس میں پہاڑوں جنگلوں اور قدرتی چشموں کو وقف عام قرار دیاپھرملکیتی زمین میں اول تو مزدور کسان کے بغیر کچھ حاصل نہیں کرسکتا اس کے بعد اس میں عشر مساکین وفقراء کے لیے مقرر فرمادیا اور مال وزر جو تکمیل ضرورت کا سبب بنتا ہے اس میں ایک طرف تو حق ملکیت کو ایسا تحفظ دیا کہ ناجائز طور پر لینے کے لیے کوئی بڑھے تو اسے کاٹ دیاجائے دوسری طرف وہ راستہ بند کردیے کہ کچھ لوگ قابض ہوکربیٹھ جائیں اور باقی محروم رہیں لہذا ، جوا ، سود ، ستہ ، وغیرہ حرام قرار دے کر شراکت کا نظام دیا اور پھر جو کچھ نہ کرسکنے والے معذور ہوں ان کے لیے زکوۃ ، عشر صدقہ فطر اور کفارات وغیرہ کی صورت میں تقسیم زر کا قاعدہ عطا فرمایا اور تیسراذریعہ حصول زر کا غنیمت یافے تھا اس کے بھی قاعدے مقرر فرمادیے اور سب سے بڑا قانون یہ عطا فرمایا کہ جو کچھ بھی رسول عطا کردیں لے لو اور جہاں سے روک دیں وہاں سے رک جاؤ۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم قرآن کے حکم کی طرح واجب التعمیل ہے۔ یہ سب سے بڑا اور سنہری اصول ہے جو تمام اختلافات کو ختم کردیتا ہے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہی اللہ کا حکم ہے اور صحابہ کرام نے اس کا یہی مفہوم اختیار فرمایا ہے لہذا قرآنی احکام کی تشریح کوئی شخص اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا وہاں بھی آپ کے ارشادات اور سنت ہی حق ہے علاوہ ازیں جو بھی حکم آپ کی ذات سے ثابت ہو وہ قرآن کی طرح ہی واجب التعمیل ہوگا اور ذرا منکرین حدیث غور فرمالیں نیز حدیث کو کم اہم سمجھنے والوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ نظام باطل سے انکار۔ مال فے اگرچہ عام فقراء کے لیے ہے مگر اولیت ان مہاجرین فقرا کو ہے جو اپنے گھروں اور اموال سے محض اس لیے محروم کردیے گئے کہ وہ اللہ کی رضامندی کے طالب تھے اور کفار کے بنائے ہوئے باطل نظام کو قبول کرنے سے انہوں نے انکار کردیا اور اللہ کے دین پر عمل پیرا ہونے کے جرم میں ہجرت کرنا پڑی یہ سب کچھ برداشت کرکے وہ اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کے معاون مددگار بنے یہی لوگ جہان میں سچے ہیں۔ عظمت صحابہ کامنکر کافر ہے۔ جب کتاب اللہ نے ان کے صادق ہونے کی گواہی دی تو اب ان کی ذات پر الزام تراشی کرنے والا یا ان کی دیانت وامانت اور صدق میں شبہ کرنے والا یامثل روافض ان پر الزام لگانے والا منکر قرآن ہوگا۔ جبکہ مفسرین کرام کے مطابق ان کا درجہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک یہ تھا کہ اپنی دعاؤں میں ان کا وسیلہ دیا کرتے تھے۔ فضائل انصار۔ یا پھر وہ لوگ جو اپنے گھروں میں مقیم تھے یعنی انصار اور ایمان پر پختہ تر تھے انہوں نے ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کا حق ادا کردیا اپنے گھروں اور اموال میں انہیں شریک کرلیا اور جب کبھی مہاجرین کو کوئی نعمت دی گئی کبھی ان کے دلوں میں اس کے خلاف کوئی بات نہ آئی اگرچہ یہ ثابت ہے کہ بعد فتوحات اور فراخی کے مہاجرین نے بھی انصار کو دینے میں کسر نہ چھوڑی مگر یہ باہمنی محبت کا معاملہ تھا دلوں میں کوئی ناگوار بات کسی طرف سے نہ تھی بلکہ انصار کی کیفیت یہ تھی کہ اگر خود حاجت مند ہوتے پھر بھی ایثار کرتے اور دوسروں کی حاجت روائی ضرور کرتے جس کے بدلے میں اللہ نے ان کے دل لالچ سے آزاد کردیے تھے اور جس کے دل سے لالچ نکال دیا گیا گویا اس نے دوعالم کی کامیابی حاصل کرلی۔ امت مرحومہ کے تین طبقے۔ اور تیسرا طبقہ جو ان کے بعد آنے والے لوگ ہیں جو اپنی ہر دعا میں جہاں اپنی بخشش چاہتے ہیں وہاں یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ہم سے پہلے گزرنے والے ان کامل الایمان لوگوں کی بخشش فرما اور ہمارے دلوں میں کوئی ناگوار بات پیدا نہ ہونے دے جو ان کی شان کے خلاف ہو کہ اے پروردگار تونرمی والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے جب دور دراز تک ممالک فتح فرمائے تو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے فائدے کے لیے ان ممالک کی زمینیں تقسیم نہ فرما کر بیت المال میں داخل کردیں تاکہ حکومت اسلامیہ مالی اعتبار سے مضبوط رہے اور آنے والوں کو بھی فلاحی ریاست میسر ہو نیز یہ بات بھ یطے ہوگئی کہ امت کے تین طبقے ہیں اول مہاجرین دوم انصار ، اور تیرے قیامت تک آنے والے وہ مسلمان ہیں جن کے دل ان کی عظمت و محبت سے سرشار ہوں گے ۔ قرطبی نے اس آیت سے محبت صحابہ کے واجب ہونے کا لکھا ہے اور حضرت امام مالک فرماتے تھے کہ جو شخص مہاجرین اور انصار کی عظمت میں شبہ کرے وہ مال فئی سے حصہ نہیں لے سکتا اور جسے اس قابل نہ سمجھاجائے اس کا ایمان مشکوک ہوگیا۔ فضیلت مدینہ منورہ۔ نیز انصار کے ساتھ حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ دنیا میں واحد شہر ہے جو صرف ایمان کے زور پر فتح ہوا باقی سب جہاد سے فتح ہوئے حتی کہ مکہ مکرمہ بھی۔
Ayahs 59:11–17

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کفار بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہل کتاب ہیں اگر تم نکالے گئے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے معاملے میں کبھی بھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے۔ اور اللہ گواہ ہیں کہ وہ (بالکل) جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان کے ساتھ لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے۔ اور اگر ان کی مدد کی تھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر ان کو کوئی مدد نہ ملے گی

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

بیشک تم لوگوں کا خوف ان (منافقین) کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب مل کر بھی تم لوگوں سے نہ لڑیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یادیواروں کی اوٹ میں (چھپ کر) ۔ ان کی لڑائی آپس میں بڑی شدید ہے۔ (اے مخاطب ! ) تو ان کو متفق خیال کرتا ہے اور ان کے دل الگ الگ ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کاموں کی سزا (کا مزہ دنیا میں) چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان (منافقوں) کی مثال شیطان کی سی ہے کہ جب انسان سے کہتا ہے تو کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں بیشک مجھ کو تو اللہ ، عالمین کے پروردگار سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

سو دونوں کا انجام یہ ہے کہ دونوں دوزخ میں (داخل ہوکر) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور ظالموں کی یہی سزا ہے

آیات 11 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے اگر دیاتوبہت جلد بھاگ کھڑے ہوں گے کہ منافق اپنے مفادات نہیں چھوڑ سکتا چہ جائیکہ وہ جان قربان کرنے لگے چناچہ یہودیوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیں گے۔ منافقین کے دل میں اللہ کا خوف نہیں بلکہ یہ مسلمانوں سے زیادہ ڈرتے ہیں تب ہی تو دل میں ایمان نہ ہونے کے باوجود زبان سے اعلان نہیں کرتے یہ سب سے بڑی بیوقوف قوم ہیں یا سب سے جاہل طبقہ ہے اور یہ لوگ مسلمانوں سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے اگر موقع آیاتوقلعوں کی اوٹ یارکاوٹوں کے پیچھے چھپ کر لڑنے کی کوشش کریں گے مگر ہاں آپس میں ایک دوسرے سے خوب لڑتے ہیں اور بظاہر متحد نظر آنے والے یہ لوگ اندر سے سب الگ الگ ہیں ان کے دل جدا جدا ہیں اس لیے یہ بےعقل قوم ہیں۔ آج کا کافر ومنافق بھی ایسا ہی ہے۔ اور یہ بات آج کے کافر ومنافق پر بھی صادق آتی ہے کہ امریکہ نے ، چالیس ممالک ساتھ ملاکرعراق پر حملہ کیا لیکن ہوائی جہازوں بمباری کرتا رہا زمین پر پاؤں رکھنے کی جرات نہ کی اور بظاہر متحد تمام مغربی ممالک اندرونی اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان سے پہلے کفار نے ماضی قریب میں اپنے کرتوتوں کا بدلہ پالیا اہل مکہ نے بھی اور یہود بنی قینقاع نے بھی اور دنیا کی ذلت کے بعد ان کے لیے بہت دردناک عذاب بھی ہے ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسانوں کو اللہ کی نافرمانی اور کفر پر ورغلاتا ہے اور جب وہ کربیٹھے تو کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں یہ ایک اور جھوٹ بولتا ہے اس پر پہلے بات ہوچکی نیز آخرت میں بھی ایسا ہی کہے گا لیکن انجام دونوں کا یعنی کافر ومنافق اور شیطان سب کا یہ ہوگا کہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
Ayahs 59:18–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے واقف ہیں

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مانند مت ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس (اللہ) نے ان کو ایسا کردیا کہ انہیں خود اپنی خبر نہ رہی۔ ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل جنت برابر نہیں ہوسکتے۔ اہل جنت کامیاب لوگ ہیں

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو (اے مخاطب ! ) تو اس کو دیکھتا کہ اللہ کے خوف سے دب جاتا (اور) پھٹ جاتا اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ فکرکریں

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے۔ وہ بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات ، سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان غالب ، زبردست ، بڑائی والا ہے۔ اللہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ پیدا کرنے والا ، ایجاد کرنے والا ، صورتیں بنانے والا ، اسی کے لئے سب اچھے نام ہیں۔ سب چیزیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں ، اس کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ اور وہی زبردست ، حکمت والا ہے

آیات 18 تا 24۔ اسرار ومعارف۔ اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی دنیا کے حصول کی خاطر آخرت نہ چھوڑی جائے اور عظمت باری پیش نظر رہے اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تمہارے ہر کام سے واقف ہے۔ یاد الٰہی۔ ہاں خلوص دل کا عمل ہے اور یہ اللہ کی یاد اور اللہ کے ذکر سے نصیب ہوگا ان لوگوں جیسے مت ہوجانا جنہوں نے اللہ کی یاد بھلادی جس کے نتیجے میں انہیں اپنے بھلے برے کی تمیز بھی نہ رہی اور وہ اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہوگئے جو ان کو دوزخ میں ڈالنے کا باعث بن گئی یادرکھو دوزخ میں جانے والوں کو بھلا اہل جنت سے کیا برابری کہ دوزخی ذلیل جبکہ اہل جنت سرفراز ہوں گے کہ انہوں نے عظمت الٰہی کو جانا اور اگر یہ قران جو معرفت الٰہی اور عظمت باری کا بیان کرنے والا ہے پہاڑوں پر نازل کیا جاتا یعنی اگر وہ شعور جو قرآن عطا کرتا ہے انہیں نصیب ہوتا توہیبت الٰہی سے لرز اٹھتے اور ریزہ ریزہ ہوجاتے برداشت نہ کرپاتے ایسی مثالیں انسانوں کے لیے باعث تفکر ہیں کہ اپنی حالت پر غورفکر کریں ۔ اللہ وہ عظیم ہستی ہے جس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر راز کو جانتا ہے اور ہر ظاہر بات سے باخبر ہے اور بہت بڑا مہربان ہے کہ درگزر فرماتا ہے اور بہت بڑا رحم کرنے والا ہے کہ اطاعت پر اجرعطا فرمائے گا۔ وہ اور صرف وہ ایسا ہے جس کے علاوہ کوئی بھی مرکز امید نہیں بن سکتا صرف اسی کی عبادت کی جائے گی حقیقی بادشاہ ہے ہر عیب سے پاک اور وہی سلامتی کامرکز ہے وہی امن دینے والا ہے وہی سب کو پناہ میں لینے ولا ہے کہ وہ بہت زبردست اور غالب ہے نیز بہت ہی عظمت والا ہے اور مشرکوں کی رائے سے یکسربلند واحد ولاشریک ہے بھلا اس کا کون شریک ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ ہر کوئی تو اس کی مخلوق ہے اور وہ اکیلا پیدا کرنے والا پھر جیسا چاہے ایسا پیدا کرے اور جیسی چاہے ویسی شکل عطا کردے تمام پاکیزہ اور عیوب ونقائص سے پاک نام صرف اسی کے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے ہر شے اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور اپنے حال سے اس کی پاکیزگی اور تقدس پر گواہ بھی ہے کہ وہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔