Ayahs 59:1–51۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو شخص ملے۔ ان دونوں شخصوں کا خون بہا بنی نضیر کے مشورہ سے ادا کردیا جائے کیونکہ بنی نضیر اور بنی عامر کی دوستی تھی۔ اسی خون بہا کے مشورے کے لئے چند صحابہ کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ بنی نضیر کی گڑھی میں تشریف لے گئے اور خون بہا کے باب میں بات چیت کی۔ ظاہر میں تو بنی نضیر کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے اچھی طرح بات چیت کی لیکن باطن میں ان لوگوں کا یہ قصہ ہوا کہ جس دیوار کے پاس آنحضرت ﷺ بیٹھے تھے اس دیوار کی آڑ میں سے ایک بہت بڑا پتھر آپ ﷺ پر نیچے گرا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ارادہ سے اپنے رسول ﷺ کو آگاہ کردیا اور آپ ان لوگوں کے ارادہ سے آگاہ ہو کر مدینہ کو واپس تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے بنی نضیر پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ چڑھائی سے پہلے آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے موافق محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے کعب بن اشرف بنی نضیر کے سردار کو قتل کیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے بنی نضیر پر چڑھائی کی اور ان کی گڑھی کو گھیر لیا اور ان کو جلا وطن کردیا۔ ان آیتوں میں اللہ نے وہی قصہ ذکر فرمایا ہے کہ بنی نضیر پر اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کے سبب سے آفت آئی۔ بیر معونہ کا قصہ 2 ؎ اور کعب 3 ؎ بن اشرف کے قتل کا قصہ صحیح بخاری اور حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے بیر معونہ کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بیر معونہ مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہذیل کی بستیوں میں کی ایک بستی ہے۔ رعل و ذکو ان قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے اپنی قوم کی مدد کے لئے کسی قدر آدمیوں کی خواہش ظاہر کی اور آپ نے انصار کے ستر آدمی ان کے ساتھ کردیئے۔ رعل وزکوان قبیلہ کے لوگوں نے عہد شکنی کرکے ان انصار کو اس بیر معونہ کے مقام پر شہید کر ڈالا۔ کعب بن اشرف کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یہ شخص بڑا شاعر تھا اکثر آنحضرت ﷺ کی ہجو میں شعر کہا کرتا تھا اور طرح طرح کی شرارت اس کی عادت میں تھی آنحضرت ﷺ نے ایک دن صحابہ ؓ کے رو برو اس کی شرارتوں کا تذکرہ کیا۔ اس پر محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں اس کو قتل کر ڈالوں۔ آپ نے اس کی اجازت دی اور محمد بن مسلمہ نے موقع پاکر کعب بن اشرف کا کام تمام کردیا۔ بنی قینقاع ‘ بنی نضیر ‘ بنی قریظہ یہود کے یہ تین قبیلے مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے اور ان تینوں قبیلوں سے آنحضرت ﷺ کا صلح قائم رکھنے کا معاہدہ تھا لیکن رفتہ رفتہ ان تینوں قبیلوں نے عہد شکنی کی جس کی سزا میں بنی قینقاع اور بنی نضیر ان دونوں قبیلوں کو تو جلا وطنی نصیب ہوئی اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ چناچہ ان کے قتل کا قصہ سورة احزاب میں گزرا سب مفسروں کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورة میں یہود کے بنی نضیر قبیلہ کا ذکر ہے۔ فقط حسن بصری اس کے مخالف ہیں۔ ان کا قول یہ ہے کہ اس سورة میں بنی قریظہ کا ذکر ہے لیکن یہ قول اس سبب سے تردد طلب ہے کہ اس سورة میں جلا وطنی کا ذکر ہے اور بنی قریظہ کی جلا وطنی نہیں ہوئی بلکہ ان کو تو قتل کیا گیا ہے۔ اس جلا وطنی میں بنی نضیر نواح مدینہ سے اجڑ کر خیبر میں جا کر آبا ہوئے۔ اور پھر حضرت عمر ؓ کی خلافت میں وہاں سے جلا وطن ہو کر ملک شام میں جا کر بسے۔ اس لئے ان کی اس پہلی جلا وطنی کو پیشن گوئی کے طور پر اول حشر فرمایا۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ بنی نضیر کی گڑھی کی مضبوطی کے سبب سے نہ اہل اسلام کو یہ گمان تھا کہ ایسی مضبوط گڑھی اس طرح جلدی سے خالی ہوجائے گی نہ بنی نضیر کو یہ خیال تھا کہ اس طرح وقت پر گڑھی سے ان کو پناہ نہ ملے گی مگر اللہ کی حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت سے جو کچھ ہوا وہ لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ حشر کے معنی کسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے دل میں لشکر اہل اسلام کی ایسی ہیبت پیدا کردی کہ وہ لڑائی کی جرأت نہ کرسکے بلکہ جلا وطنی پر راضی ہوگئے جلا وطنی کے وقت یہ امر قرار پایا کہ تین آدمیوں میں ایک اونٹ بار برداری کو دیا جائے اور ایک مشک پانی پینے کو دی جائے اور اس ایک اونٹ پر جو چیز لا دی جاسکے وہ یہ لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اس واسطے گھروں میں کا کڑی تختہ اور جو چیز ان کو اچھی معلوم ہوتی تھی اس کو وہ اونٹوں پر لادنے کے لئے گھروں کو توڑ پھوڑ کر نکال رہے تھے اور گڑھی کے باہر جو بنی نضیر کا کھجوروں کا باغ تھا اہل اسلام نے اس کے کچھ پیڑ جلا دیئے تھے اور کچھ کاٹ ڈالتے تھے اسی کو قابل عبرت ذلت اور ویرانی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جلا وطنی کی ذلت اور ویرانی ان لوگوں کی قسمت میں نہ لکھی ہوتی تو اللہ اور رسول کی مخالفت کے سبب سے ان پر کوئی اور آفت آتی پیڑوں کو پہلے تو اہل اسلام نے اس لئے کاٹا اور جلایا کہ اس کی جلن سے بنی نضیر گڑھی کے باہر نکل آئیں لیکن پھر اہل اسلام کے دل میں خیال گزرا کہ کہیں اس کا کچھ گناہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے دل میں ڈالا ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ذلت اس میں تھی۔ لینۃ کھجور کی ایک قسم ہے یا کھجور کے پیڑ کو کہتے ہیں۔
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 187 ج 6۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 331 ج 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع و دعلی و ذکوان الخ ص 586 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب قتل کعب بن اشرف ص 576 ج 2۔ )
Ayahs 59:6–96۔ 9۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلا وطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلا وطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں سے چار خمس لشکر اسلام میں تقسیم کئے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا اور اللہ کے رسول اس کو ان موقعوں پر صرف کریں گے جو موقعے اس سورة میں بتائے ہیں۔
صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم وغیرہ میں حضرت عمر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نضیر کا مال و متاع بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا اللہ کے رسول کے خاص اختیار میں رہنے کا مال تھا غرض آنحضرت ﷺ کے خاص اختیار کا مال نصف حصہ تو خیبر کا تھا اور بنی نضیر کے اور فدک کے کھجور کے پیڑ تھے ابو داؤود 2 ؎ وغیرہ میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی نضیر کے درختوں کی آمد تو آنحضرت ﷺ نے بالائی ضروری اخراجات کے لئے خاص رکھی تھی اور باغ فدک کی آمد مسافروں کے خرچ کے لئے خاص تھی اور خیبر کی آمد میں ازواج مطہرات کا کھانا پینا ہوتا تھا اور جو کچھ بچتا تھا۔ وہ مہاجر ضرورت مندوں کو خیرات کے طور پر دیا جاتا تھا اس حدیث کی سند پر ابو داؤد اور منذری دونوں نے کچھ اعتراض نہیں کیا۔ اس لئے اس کی سند قابل اعتبار ہے کیونکہ یہ بات قرار پا چکی ہے کہ جس حدیث کی سند پر ابو داؤود اور منذری دونوں سکوت اختیار کریں اس حدیث کی سند قابل اعتبار ہوتی ہے۔ اب آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کی خلافت میں یہی عمل رہا۔ حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت میں باغ فدک مردان کو دے دیا تھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں حضرت فاطمہ ؓ نے اور حضرت عمر ؓ کی خلافت میں حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ نے اس مال کی تقسیم کی درخواست پیش کی تھی مگر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے اس تقسیم کو حدیث لا نورث ما ترکنا صدقۃ کے مخالف سمجھ کر جائز نہ رکھا۔ تفصیل اس حدیث کی کتابوں میں ہے اس طرح کے بغیر لڑائی کے ملے ہوئے مال کو فیئ کہتے ہیں جمہور علماء کا مذہب اس طرح کے مال کے باب میں یہی ہے کہ اس مال کا خرچ کرنا امام کی رائے اور مصلحت پر ہے۔ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا مذہب جمہور کے مخالف ہے۔ تفصیل اس اختلاف کی فقہ کی کتابوں میں ہے فدک ‘ خیبر اور مدینہ کے مابین میں ایک جگہ ہے۔ فتح خیبر کے بعد فدک کے یہود جلا وطن ہوگئے اور بغیر لڑائی کے یہ جگہ فتح ہوگئی۔ صحیح قول یہی ہے کہ آیت ما افآء اللہ علی رسولہ من اہل القری پہلی آیت سے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ نبی نضیر کے مال و متاع کی طرح جو مال بغیر لڑائی اور مقابلہ کے ہاتھ آئے اور اس سب کا ایک ہی حکم ہے اللہ کے حصہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم اس مال کی تقسیم کا ہے اس کے موافق عمل ہونا چاہئے۔ اب آگے فرمایا کہ یتیم مسکین اور مسافر کا نام اس تقسیم میں اس لئے خاص طور پر جتلا دیا گیا ہے کہ مالدار لوگ موروثی مال کی طرح اس مال کی تقسیم آپس میں نسل بعد نسل نہ ٹھہرا لیں جس سے یتیم مسکین اور مسافر بالکل محروم ہوجائیں پھر فرمایا کہ اس مال میں سے اللہ کے رسول جو تم کو دیں وہ لے لو اور جو نہ دیں اس میں کچھ اصرار نہ کرو۔ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی ہے اس لئے اس سے بچتے رہو کہ اس میں عذاب الٰہی کا خوف ہے جو بہت سخت اور انسان کی برداشت سے باہر ہے۔ اگرچہ اس آیت کا نزول فیئ کے مال کے باب میں ہے لیکن حکم اس کا عام ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میری نافرمانی کی وہ جنت میں نہیں جاسکتا۔ اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جو آیت کے حکم کے عام ہونے کی تفسیر ہیں۔ اس تفسیر کی بناء پر سلف نے لکھا ہے کہ صحیح حدیث کے معلوم ہوجانے کے بعد جو شخص اس کے موافق عمل نہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مواخذہ کے قابل قرار پائے گا جس مواخذہ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ فے کے مال کے حق داروں کے بیان میں اطاعت رسول کا ذکر آگیا تھا۔ اب آگے وہی سلسلہ پھر شروع فرمایا ہے کہ اس مال کے حق دار تنگ دست مہاجر اور انصار بھی ہیں۔ مہاجروں کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی مدد کے جوش میں اپنا گھر بار اور مال و متاع سب کچھ چھوڑا ہے اور دنیا میں اللہ کے فضل سے رزق ملنے کی اور عقبیٰ میں اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی ان کو آرزو ہے۔ ان لوگوں کا ظاہر و باطن یکساں ہے اس لئے یہ سچے ایمان دار ہیں۔ اہل مکہ کی طرح طرح کے کی ایذاء اور مخالفت کے سبب سے حکم الٰہی کے موافق اللہ کے رسول نے جو مکہ اور اہل مکہ کو چھوڑا اس کو ہجرت کہتے ہیں۔ اسی ہجرت کے زمانہ سے ہجری سنہ قرار پایا ہے جس وقت آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی سکونت کے ارادہ سے مکہ کو چھوڑا اس وقت تو فقط حضرت ابوبکر اور عامر بن فہیرہ حضرت ابوبکر کا پروردہ یہ دو ہی صحابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے پھر رفتہ رفتہ اور بہت سے صحابہ مدینہ آگئے۔ ہجرت کے حکم کی تعمیل میں جن صحابہ ؓ نے اپنا گھر بار چھوڑا ان کو مہاجر کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ کی ایذاء سے گھبرا کر کچھ صحابہ حبشہ کو چلے گئے تھے پھر مدینہ کی ہجرت کا حال سن کر وہ بھی مدینہ کو آگئے۔ ان صحابہ کو اصحاب الہجرتین کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے پہلی دفعہ حبشہ کی ہجرت کی اور پھر مدینہ کی۔ فتح مکہ تک ہجرت فرض تھی فتح مکہ کے بعد پھر ہجرت کی تاکید باقی نہیں رہی۔ مہاجرین کے ذکر کے بعد انصار کا ذکر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مہاجرین کے مدینہ میں پہنچنے سے پہلے اپنی بستی کو ایمان دار لوگوں کا ایک ٹھکانہ قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں تشریف لانے سے پہلے وہاں اسلام کے پھیل جانے کا قصہ یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ ان باہر کے لوگوں کو قرآن شریف کی آیتیں سنا کر اسلام کی ترغیب دلایا کرتے تھے جو موسم حج میں مکہ کو ادھر ادھر سے آتے تھے۔ ایک سال قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے قرآن شریف کی آیتیں سنیں ‘ اور مدینہ میں آن کر اپنی قوم میں اس کا ذکر کیا اس خزرج قبیلہ اور مدینہ کے گرد و نواح میں جو یہود رہتے تھے ان کی اکثر لڑائی ہوا کرتی تھی ‘ اس لڑائی میں یہود کو کبھی شکست ہوجاتی تھی تو وہ کہا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کا وقت اب قریب آگیا ہے وہ پیدا ہو کر نبی ہوجائیں گے تو ان کے ساتھ ہم مخالف لوگوں سے دل کھول کر لڑیں گے اور اس شکست کا بدلہ نکالیں گے۔ اب جو قبیلہ خزرج کے عام لوگوں نے اپنی قوم کے مکہ سے آنے والے لوگوں کی زبانی آنحضرت ﷺ کا یہ ذکر سنا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ہیں جن کا ذکر یہود کیا کرتے تھے۔ اس لئے اب کے سال ان میں کے بارہ شخص حج کو آئے اور آنحضرت ﷺ سے منیٰ کے پہاڑ کی گھاٹی کے پاس انہوں نے اسلام کی بیعت کی۔ اسی کو عقبیٰ اولیٰ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مقام منیٰ کے پہاڑ کی گھاٹی کی یہ پہلی بیعت ہے۔ منیٰ میں عقبیٰ وہ جگہ ہے جہاں حج میں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں اس سال کے بعد پھر اس قبیلے کے بہت سے لوگ حج کو آء اور اس گھاٹی میں اسلام کی بیعت ہوئی اس کو عقبیٰ ثانی کی بیعت کہتے ہیں ‘ اس بیعت میں اسلام کے پھیلانے والے بارہ نقیب آنحضرت ﷺ نے قرار دیئے اور اسی بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں پھر فرمایا ان انصار میں یہ نیک خصلتیں ہیں کہ ان کے دل میں مہاجرین کی پوری الفت ہے۔ دنیا کا قاعدہ ہے کہ وہ حق داروں میں سے ایک حق دار کو کوئی چیز زیادہ پہنچ جائے تو یہ دوسرے حق دار کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے لیکن ان انصار کے دل میں مہاجرین کی اس قدر الفت اور محبت ہے کہ مہاجرین کی تنگ دستی کے لحاظ سے اللہ کے رسول اس مال میں سے مہاجرین کو کبھی کچھ زیادہ بھی دیں تو ان انصار کی اس سے کچھ دل شکنی نہیں ہوتی۔ ان انصار کی اعلیٰ درجہ کی سخاوت کی یہ خصلت اللہ کو بہت پسند ہے کہ اپنی ضرورت پر یہ دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتے ہیں جو کمال عالی ہمتی اور دینداری کی بات ہے صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس آیت کی جو شان نزول ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا اور جب آنحضرت ﷺ کے کسی محل مبارک میں اس مہمان کے کھانے کا کچھ بندوبست نہ ہوسکا تو آنحضرت ﷺ کے حکم سے ابو طلحہ انصاری اس مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔ گھر میں فقط بچوں کے تھوڑے سے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں تھا اس لئے انہوں نے اپنے بچوں کو بہلا کر تو بھوکا سلا دیا۔ اور چراغ بجھا کر اندھیرے میں وہ بچوں کے حصہ کا کھانا اس طرح مہمان کو کھلایا جس سے مہمان نے جانا کہ ابو طلحہ اور ان کی بی بی اس مہمان کے ساتھ کھا رہے ہیں صبح کو جب ابو طلحہ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو آنحضرت ﷺ نے انصاری کی تعریف میں یہ آیت نازل فرمائی اس طرح کی عالی درجہ کی سخاوت کے مقابلہ میں بخیلی کا ذکر فرمایا کہ بخیلی کی برائی آدمی کے دل میں خوب جم جائے اور بخیلی سے بچنے میں مراد پانے سے یہ مطلب ہے کہ بخیلی سے بچ کر جو شخص اللہ کے نام پر کچھ خالص نیت سے دے گا تو ایک کے سات سو اور کبھی اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ہر روز اللہ کی طرف سے دو فرشتے زمین پر اتر کر ‘ ایک ان میں سے سخی کا مال بڑھنے کی دعا کرتا رہتا ہے اور دوسرا بخیل کے مال کے ضائع اور تلف ہونے کی۔ صحیح بخاری 3 ؎ وغیرہ کی عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اصل میں انسان کا مال وہی ہے جو اس نے خیر خیرات میں صرف کیا اور جو جوڑ کر رکھا وہ اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہے۔ یہ حدیثیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جن مہاجرین نے بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں طرف کے قبلہ کی نمازیں آنحضرت ﷺ کے ساتھ مدینہ میں پڑھیں وہ مہاجرین اولین کہلاتے ہیں۔ اسی طرح جو انصار آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں آنے سے پہلے مسلمان ہوگئے وہ انصار اولین کہلاتے ہیں۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب حدیث بنی النضیر الخ ص 575 ج 2 و صحیح مسلم باب حکم الفی ص 90 ج 2۔ )
(2 ؎ سنن ابی دائود کتاب الفرائض باب فی صفایا رسول اللہ ﷺ ص ؟ ؟ ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب اقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ ص 1081 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الحشر ص 725 ج 2 و ترمذی شریف تفسیر سورة الحشر ص 187 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ عز و جل فاما من اعطیٰ و اتقیٰ الایۃ ص 193 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب ماقدم من مالہ فھولہ ص 953 ج 2۔
Ayah 59:1010۔ صحابہ کے ذکر کے بعد یہ تابعین کا ذکر ہے جن لوگوں نے حالت اسلام میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا۔ اور پھر حالت اسلام پر مرتے دم تک قائم رہے وہ صحابہ کہلاتے ہیں اسی طرح جن لوگوں نے صحابہ کو دیکھا وہ تابعین کہلاتے ہیں اور جن لوگوں نے تابعین کو دیکھا وہ اتباع تابعین کہلاتے ہیں۔ 220 ہجری تک اتباع تابعین کا زمانہ دینداری کا رہا پھر فرقہ معتزلیوں اور فلسفیوں کا زور ہوگیا اور لوگوں کے اعتقاد اور قول فعل سلف کے موافق نہیں رہے۔ اس لئے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ آیت کی تفسیر فقط تابعیوں تک کے عہد سے کی جائے لیکن صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں ابو سعید خدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس لشکر اسلام میں صحابہ اور تابعین کے بعد اتباع تابعین میں سے کوئی شخص ہوگا تو اس لشکر کو اللہ تعالیٰ دشمن پر فتح دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ 220 تک کے ابتدائی عہد اتباع تابعین میں بھی زمانہ سلف کی سی خیر و برکت باقی تھی۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت خیر و برکت کون سے لوگوں کے زمانہ میں زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے تو خیر و برکت کا وہ زمانہ ہے جس میں میں خود موجود ہوں ‘ پھر اس کے بعد کا دوسرا زمانہ اور پھر تیسرا۔ حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث سے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث کی اور عمران 3 ؎ بن حصین کی خیر القرون قرنی کی حدیث کی پوری صراحت ہوجاتی ہے کہ یہ سب حدیثیں اتباع تابعین تک کے ابتدائی عہد کو شامل ہیں۔ ہاں اتنی بات ہے کہ صحابہ ؓ کے بعد کے دونوں عہدوں میں نیک باتیں زیادہ تھیں اور بری باتیں کم۔ جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کے عہد کی طرح کی خیر و برکت تو صحابہ کے بعد کے دونوں عہدوں میں نہ تھی لیکن پھر بھی 220 ہجری کے مابعد کا ساحال تابعیوں کے سالم عہد اور تبع تابعین کے ابتدائی عہد میں نہ تھا۔ دو سو بیس برس کے بعد وہی حالت ہوگئی۔ جو عمران بن حصین کی بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ امانت میں خیانت کرنا جھوٹی گواہی کا دینا اور اس قسم کی باتیں لوگوں میں پھیل گئیں۔ حاصل یہ ہے کہ آیت کی تفسیر تابعیوں اور ابتدائی عہد کے تبع تابعیوں سے کی جائے تو وہ تفسیر ان صحیح حدیثوں کے موافق ہے۔ صحابہ ؓ کے زمانے میں کچھ ایسی لڑائیاں ہوئیں جن میں طرفین سے ہزارہا صحابہ کے خون سے تلواریں لال ہوگئیں۔ مثلاً فقط 36 ہجری کی حضرت معاویہ ؓ اور حضرت علی ؓ کی صفین کی لڑائی میں ستر ہزار سے زیادہ آدمی کام آئے۔ اب لڑائیوں میں صحابہ جو کام آئے آخر وہ سب تابعین کے بڑے بوڑھے تھے ‘ اس لئے صحیح حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض تابعی لوگ اپنے بڑے بوڑھے کے انتقام کے طور پر اپنے بڑے بوڑھوں کے قاتل صحابہ کو کبھی کبھی کچھ برا بھلا کہہ اٹھتے تھے۔ چناچہ صحیح مسلم میں عروہ بن زبیر ؓ کی روایت سے حضرت عائشہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو صحابہ کے لئے مغفرت کی دعا کا حکم دیا ہے افسوس ہے کہ وہی لوگ صحابہ کو برا کہتے ہیں۔ اس قسم کی اور بھی روایتیں ہیں۔ اللہ کے علم غیب کے آگے تو یہ آئندہ کی سب باتیں عیاں تھیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے تابعیوں کے ذکر میں فرمایا کہ قابل تعریف وہی تابعین ہیں جو صحابہ کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر اپنی مغفرت کی دعاء میں ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرتے ہیں پھر فرمایا اپنے بڑوں کی پچھلی حالت یاد کر کے بعض صحابہ کے حق میں خالص دل سے مغفرت دعاء ان کی زبان پر نہ آئے تو ان کو یہ دعا بھی مانگنی چاہئے کہ یا اللہ پہلے لوگوں کی طرف ہمارے دل میں کچھ بیر اور بغض ہو تو اپنی مہربانی اور رحمت سے اس کو ہمارے دل سے نکال دے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا بڑا ثبوت ہے کیونکہ آئندہ کی جن باتوں کا ذکر اس آیت میں تھا اسی طرح ان باتوں کا ظہور ہوا۔ یہی ثبوت ان صحیح حدیثوں میں بھی ہے جن میں آپ نے آئندہ پیدا ہونے والے لوگوں کو صحابہ کی بد گوئی سے منع فرمایا ہے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون پر غور کرنے سے فرقہ شیعہ کے ان لوگوں عبرت پکڑنی چاہئے جنہوں نے صحابہ کی برائی کو اپنا مذہب قرار دے رکھا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ص 515 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونہم الخ ص 310۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ص 515 ج 1۔ )
Ayahs 59:11–1411۔ 14۔ یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلا وطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اس لئے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہے اسی طرح یہ باتیں بھی ان کی جھوٹی ہیں نہ یہ مدینہ کی سکونت چھوڑیں گے نہ لڑائی کے وقت مدد کریں گے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام بھی سچا ہے جیسا کہ اللہ کے کلام میں تھا وہی ہوا کہ بنی نضیر جلا وطن ہوگئے اور منافق آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن عمرو العاص ؓ کی حدیث ہے کہ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا منافقوں کی خصلت ہے حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس میں منافقوں کے جھوٹ بولنے کا ذکر ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ منافق سچے ہوتے اور اپنے قول کے موافق مدد کو آتے تو اللہ کو ان کے دل کا حال معلوم ہے کہ ان کے دل میں اہل اسلام کا اس قدر خوف ہے کہ یہ لڑائی کے میدان میں ٹک نہیں سکتے۔ فوراً وہاں سے بھاگ جاتے صحیح 2 ؎ بخاری اور مسلم میں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لشکر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ رعب دیا ہے کہ ایک مہینے کے راستے پر بھی دشمن ہو تو اس کے دل پر اس رعب کا اثر پڑجا جاتا ہے۔ منافقوں کے دل پر اہل اسلام کا جس قدر خوف تھا اس کا اندازہ اس حدیث سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مہینہ بھر کے راستہ پر اثر کرنے والی چیز کا اثر پاس کے پاس کس قدر ہوگا اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں اہل اسلام کا خوف اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ان کے منافق پنے کے سبب سے خدا کا خوف تو فقط ان کی زبان پر ہے دل میں کچھ بھی نہیں۔ اور لشکر اسلام کا خوف ان کے دل و زبان دونوں پر ہے پھر فرمایا یہ بات اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ جس اللہ کے اہل اسلام کے لشکر میں یہ رعب کی تاثیر رکھی ہے نفاق کو چھوڑ کر اصل اس سے ہی ڈرنا چاہئے پھر فرمایا کہ ان کی برائی آپس کی لڑائی پر ختم ہے۔ لشکر اسلام کا تو ان کے دل پر وہ رعب چھایا ہوا ہے کہ یہود اور منافقین دونوں مل کر بھی میدان میں لشکر اسلام سے نہیں لڑ سکتے۔ ہاں اپنے بچاؤ کے طور پر گڑھی یا کسی دیوار کی آڑ میں سے کچھ لڑیں تو لڑیں لیکن یہ بھی جب ہی ہوسکتا کہ ان یہود اور منافقین میں یک دلی ہوتی اور یہ ظاہر بات ہے کہ یک دلی اور آپس کا اتحاد تو عقل مندوں میں ہوتا ہے یہ تو ایسے بےعقل لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کے سنبھالنے میں عقل سے کچھ بھی کام نہیں لیا اس لئے ظاہر میں یہ ایک نظر آتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہود اپنے راستہ پر ہیں اور منافق اپنے راستہ پر ہیں اور عقبیٰ سے دنوں غافل ‘ ترمذی 3 ؎ اور ابن کی روایت سے شداد بن اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عقل وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے مابعد کے لئے کچھ سامان کرلے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور یہ حدیث یہود اور منافقین کے کم عقل قرار پانے کی بابت اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب ملازمۃ المنافق ص 10 ج 1 و صحیح مسلم باب خصال المنافق ص 56 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری کتاب التیمم ص 48 ج 1 و صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ص 119 ج 1۔ )
(3 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی استحباب المال والعمر فصل ثانی ص 451۔ )
Ayahs 59:15–2415۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان پر چڑھائی کی اور جب یہ لوگ مغلوب ہوگئے تو عبد اللہ بن ابی کی سفارش پر ان کی جان بخشی کی جا کر ان کو جلا وطن کرایا گیا۔ غرض جلا وطن ہونے والوں کی مشابہت اور تمثیل جلا وطن ہونے والوں سے ایک پوری مشابہت اور تمثیل ہے اس واسطے حافظ عماد الدین ابوالفداء 3 ؎ ابن کثیر نے عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کو قوی ٹھہرایا ہے اور اوپر گزر چکا ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے پہلے تو بنی ( نضیر کو بہکایا کہ ہم بھی تمہارا ساتھ دیں گے اور جب وقت پڑا تو بنی نضیر کا کچھ ساتھ نہ دیا یہی حال شیطان کا ہے کہ اب تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کا وسوسہ ڈال کر ان سے گناہ کراتا ہے جب قیامت کے دن عذاب کا وقت آئے گا تو گناہ گار لوگوں کو خود ہی ملامت کرنے کو مستعد ہوجائے گا جس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا۔ پھر فرمایا بہکانے والے اور بہکنے والے دونوں کا انجام دوزخ ہے۔ غرض منافقوں نے شیطان کی طرح بنی نضیر کو بہکایا تھا۔ اس مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کے حال کو شیطان کے حال کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ یہاں مفسروں نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کا قصہ جو لکھا ہے 4 ؎ کہ شیطان نے ستر برس کی عبادت کے بعد اس عابد سے زنا بھی کرایا اور شرک بھی آیا۔ اس قصہ سے یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ قصہ آیت کی تفسیر ہے یا شان نزول ہے کیونکہ شیطان تو رات دن یہی کرتا رہتا ہے جو اس نے اس عابد کے ساتھ کیا اور ہزاروں قصہ شیطان کے اس طرح کے مشہور ہیں جس طرح وہ عابد کا قصہ ہے ‘ بلکہ مفسروں کی غرض اس قصہ کے ذکر کرنے سے یہ ہے کہ شیطان رات دن اس طرح فریب کے کام کرتا رہتا ہے ‘ جس طرح فریب اس نے اس عابد کو دیا ہر شخص کو اس کے فریب سے بچنا چاہئے۔ اس واسطے شیطان کے فریب کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ شیطان کے فریب میں آ کر دنیا کی زیست پر عاقبت کو نہ بھولنا چاہئے اور قیامت کو دور نہ گننا چاہئے اور یہ جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے نیک و بد سب کاموں کی خبر ہے اور اس نیک و بد کی جزا اور سزا کا ایک دن آنے والا ہے اس دن وہی شخص اچھا رہے گا جس نے دنیا میں اس دن کی آفت سے بچنے کا کچھ سامان کرلیا۔ کل جو آنے والا دن ہے اس کو غد کہتے ہیں۔ تمام دنیا کو ایک دن فرض کیا جائے تو اس کے بعد دوسرا دن یہی پچاس ہزار برس کا دن قیامت کا ہوگا۔ اسی واسطے قیامت کو غد کہتے ہیں ولتنظر نفس ما قدمت لغد کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایماندار کو چاہئے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیا کرے کہ قیامت کے لئے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے۔ اس لئے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی چناچہ معتبر 1 ؎ سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کئے۔ اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایمان دار لوگوں کو ان لوگوں کی حالت سے ڈرایا ہے جو دنیا کے مخمصے میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو بالکل بھول گئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ایسا بھلکڑ کردیا ہے کہ کبھی ان کو یہ یاد نہیں آتا کہ وہ کس کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ معتبر سند سے مسند 2 ؎ امام احمد صحیح ابن حبان مستدرک حاکم میں ابودرداء کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگوں کے دل سے دنیا کی حرص کم ہوجانے کے لئے ہر روز دو فرشتے آسمان و زمین کے بیچ میں کھڑے ہو کر پکار کر یہ کہا کرتے ہیں کہ جس خوشحالی سے انسان خدا کو بھول جائے اس خوشحالی سے تنگ دستی بہتر ہے یہ حدیث آیت کے ٹکڑے فانساھم انفسھم کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جن لوگوں کو ایسی خوش حالی ہے جس سے وہ خدا کو بھول گئے ہیں تو وہ خوشحالی اس آیت کے موافق اللہ کی خفگی کے سبب سے ہے اسی واسطے فرشتوں کی اس آواز کا اثر ایسے لوگوں کے دل پر کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ کثرت گناہوں سے ان کے دل پر زنگ چھا جاتا ہے۔ وہ زنگ کسی نصیحت کے اثر کو ان کے دل تک نہیں پہنچنے دیتا۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ 1 ؎ کی صحیح حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہوں کے تودہ کے سبب سے آدمی کے دل پر زنگ آجاتا ہے اس گناہ گاری کے سب سے ان لوگوں کو بےحکم فرمایا ہے اب بےحکم لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور فرمانبردار لوگوں کا ٹھکانا جنت ہے۔ اس لئے فرمایا اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں برابر نہیں ہیں اہل دوزخ کو طرح طرح کی کلفت ہے اور اہل جنت کو طرح طرح کی راحت ہے۔ آگے مثال کے طور پر فرمایا کہ ان بےحکم لوگوں کے دل پر زنگ ان کر ان کے دل گویا پتھر سے زیادہ سخت ہوگئے ہیں ورنہ اس قرآن میں تو وہ نصیحتیں ہیں جو پتھر کو بھی موم کردیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں جابر بن سمرہ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اس پتھر کا ذکر کیا ہے جو اس وقت جب آپ نبی بھی نہیں ہوئے تھے آپ سے سلام علیک کیا کرتا تھا یہ تو پتھر کا حال ہوا اور باوجود انسان ہونے کے قریش کا حال تو معلوم ہے کہ وہ معجزے دیکھ کر بھی آپ کی نبوت میں طرح طرح کے شبہات نکالتے تھے غرض پتھر میں انسان سے زیادہ سمجھ کا پیدا کردینا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اب آگے فرمایا کہ قرآن میں یہ مثالیں اس لئے بیان کی جاتی ہیں کہ شاید یہ بےحکم لوگ کچھ مثالوں سے ہی سمجھنے کی بات کو کچھ سمجھ جائیں تو ان کی عقبیٰ پاک ہوجائے مکہ کے قحط کے بعد مشرکین مکہ کے دل میں توحید کا مسئلہ کسی قدر جم تو گیا تھا مگر مشرک مکہ سے دفع نہیں ہوتا تھا اس لئے توحید کے مسئلہ میں گویا یہ فرمایا کہ یہ تو ان لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کے بت ان کی مصیبت کے وقت کچھ کام نہ آئے اور جب تک اللہ کے رسول نے رفع قحط کی دعا نہیں کی مکہ کا قحط رفع نہیں ہوا۔ اسی واسطے ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان بتوں کو اللہ کی عبادت میں شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ عبادت کے قابل وہی معبود حقیقی ہے جو اپنے بندوں کا ظاہر و باطن کا حال جانتا ہے اور اپنے اس علم غیب کے موافق دلی زبانی ہر طرح کی التجا ہر ایک کی معلوم کرکے اپنی رحمت سے اس التجا کو پورا کرتا ہے صحیح 3 ؎ بخاری کی عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے مکہ کے قحط کا قصہ جو سورة دخان میں گزر چکا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب قریش کی سرکشی سے آنحضرت ﷺ کو بہت تکلیف پہنچنے لگی تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے قریش کے حق میں یہ بددعا کی کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں اہل مصر سات برس کے قحط میں مبتلا ہوئے اسی طرح کے قحط کی بلا اہل مکہ پر بھی نازل فرمائی جائے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی دعا قبول کی اور مکہ میں سخت قحط پڑا اور جب اہل مکہ اپنی زیست سے تنگ آگئے تو آخر آنحضرت ﷺ کی دعا سے ہی وہ قحط رفع ہوا اس قحط کے زمانہ میں اہل مکہ نے ہرچند اپنے بتوں سے مینہ برسانے کی التجا کی مگر بغیر اللہ کے حکم کے کیا ہوسکتا تھا۔ اس قصہ نے اہل مکہ کو بت پرستی سے کسی قدر بدگمان ٹھہرا دیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مکی قصہ کے بعد ان مدنی آیتوں میں توحید کے ذکر کے بعد کوئی تفصیلی دلیل بیان نہیں فرمائی۔ الملک کے معنی بادشاہ۔ وہ ایسا بادشاہ ہے جس کے حکم کو آسمان و زمین میں کوئی ٹال نہیں سکتا۔ القدوس کے معنی ہر عیب سے پاک السلام کے معنی ہر طرح کے نقصان سے سالم۔ المومن کے معنی امن کا پیدا کرنے والا المھیمن کے معنی ہر بھید سے واقف۔ العزیز کے معنی زبردست ‘ الجبار کے معنی صاحب جبروت و عظمت۔ المتکبر کے معنی بےپرواہ۔ آگے فرمایا جب یہ خصلتیں کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتیں تو مخلوق میں سے کسی کو اس کی عبادت میں شریک بھی نہیں کا جاسکتا۔ الخالق کے معنی پیدا کرنے سے پہلے ہر چیز کا اندازہ ٹھہرانے والا۔ الباری کے معنی اس اندازہ کے موافق ہر چیز کا پیدا کرنے والا ‘ المصور کے معنی کالا گورا جس کو جس صورت میں چاہے بنانے والا ‘ اسماء الحسنیٰ کے معنی اچھے معنی والے نام ‘ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ترمذی 3 ؎ و ابن ماجہ نے اپنی روایت میں ان ناموں کو ذکر بھی کیا ہے یہی مشہور نام ہیں جو چھپے ہوئے ملتے ہیں۔ یہ ترمذی کی روایت ولید بن مسلم کی ہے اور ابن ماجہ کی روایت موسیٰ بن عقبہ کی اور ان دونوں روایتوں میں کسی قدر اختلاف ہے لیکن حاکم نے ولید بن مسلم کی روایت کو صحیح کہا ہے سورة بنی اسرائیل اور سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ان سب بےجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ ہاں بغیر مطلب کے اکثر سلف نے اپنے کانوں سے اس تسبیح کی آواز سنی ہے چناچہ صحیح بخاری 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جو کھانا ہم لوگ کھایا کرتے تھے اس کی تسبیح کی آواز ہمارے کانوں میں آیا کرتی تھی اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں۔ العزیز الحکیم کے یہ معنی ہیں کہ زبردست وہ ایسا ہے جس کا حکم آسمان و زمین میں کوئی نہیں ٹال سکتا۔ صاحب حکمت وہ ایسا ہے جس نے ہر چیز مناسب حالت میں پیدا کی۔ مسند 4 ؎ امام احمد اور ترمذی میں معقل بن یسار سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص تین دفعہ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم پڑھ کر ھو الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ سے آخر سورة تک تین دفعہ صبح شام پڑھے گا تو اس شبانہ روز میں اگر وہ شخص مرجائے گا تو اس کو شہادت کا درجہ ملے گا۔ اور ستر ہزار فرشتے اس شبانہ روز میں اس شخص کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کی سند کے راویوں کو منفرد بتایا ہے لیکن وہ راوی ثقہ اور صدوق کے مابین میں ہیں اس لئے ان کا منفرد ہونا کچھ مضر نہیں۔
اس سورة کے شان نزول کا جو قصہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت علی ؓ کی روایت میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے بعد ایک مشرک عورت جس کا نام سارہ تھا مکہ سے مدینہ آگئی آنحضرت ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا مسلمان ہو کر ہجرت کرکے آئی ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر کیوں آئی ہے اس نے کہا مانگنے کھانے آئی ہوں عرب میں گانے والی اور نوحہ کرنے والی عورتیں ہوا کرتی تھیں یہ عورت اس قوم کی تھی کچھ دنوں یہ عورت مدینہ میں رہی جن دنوں میں یہ عورت پھر مکہ کو واپس جانے لگی ان دنوں مدینہ میں مکہ پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اسی اطلاع کے لئے ایک خط حاطب بن ابی بلقہ نے اہل مکہ کے نام لکھ کر اس عورت کو دے دیا حضرت جبریل ( علیہ السلام) نے اس ماجرے کی خبر آنحضرت ﷺ کو کردی اتنے میں یہ عورت کچھ دور نکل گئی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ اور چند صحابہ کو گھوڑوں پر سوار کرکے اس عورت کے پیچھے بھیجا اور ان صحابہ نے راستہ میں اس عورت کو جا پکڑا اور اس سے اس خط کا حال پوچھا پہلے تو اس عورت نے قسمیں کھا کر اس خط کا انکار کیا لیکن جب علی ؓ نے ننگی تلوار کرکے اس کو قتل کرنے کا ڈراوا دیا تو اس نے اپنے سر کے بالوں کی چوٹی میں سے وہ خط نکال کردیا۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 340 ج 4۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 340 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 340 ج 4۔ )
(4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 341 ج 4۔ )
(1 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی ذکر الحساب وغیرہ ص 758 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الفراغ للعبادۃ الخ ص 203 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ویل للمطففین ص 191 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب فضل نسب النبی ﷺ الخ ص 45 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الدخان ص 714 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب ان للہ مائۃ اسم الاواحدا ص 1099 ج 2 و صحیح مسلم باب فی اسماء اللہ تعالیٰ الخ ص 342 ج 2۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی ابواب الدعوات ص 210 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب علامات النبوۃ فی الاسلام ص 505 ج 1۔ )
(4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 344 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الممتحنۃ ص 726 ج 2 و صحیح سلم باب من فضائل حاطب بن بلتعۃ الخ ص 302 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الممتحنۃ ص 726 ج 2 و صحیح سلم باب من فضائل حاطب بن بلتعۃ الخ ص 302 ج 2۔ )