58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

1۔ مسند امام احمد ‘ نسائی ‘ ابو داؤود 1 ؎‘ مستدر حاکم وغیرہ میں خولہ اور حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص اوس بن الصامت نے اپنی بی بی خولہ کو ظہار کے طور پر طلاق دے دی تھی خولہ اس طلاق سے ناراض تھی۔ اس لئے اس نے آنحضرت ﷺ کے پاس آ کر اس طلاق کی طرح طرح کی خرابیاں بیان کیں۔ اسی جھگڑے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ظہار کے طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی بی بی کو اپنی ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے کر انت علی کظھر امی کہا کرتے تھے۔ حاکم نے اس 2 ؎ شان نزول کو صحیح کہا ہے۔ ایلا اور ظہار زمانہ جاہلیت کی دونوں طلاقیں ہیں۔ ایلا کا ذکر تو سورة بقر میں گزر چکا۔ ظہار کا اس سورة میں ہے جس طرح ماں کے ساتھ بی بی کو مشابہت دینے سے ظہار ہوجاتا ہے اسی طرح بہن بھانجی وغیرہ کے ساتھ بھی مشابہت دینے سے ظہار ہوتا ہے یا نہیں۔ اس میں اور ظہار کے متعلق اور بعض مسئلوں میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل شرح حدیث اور فقہ کی کتابوں میں ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 318 ج 4۔ ) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 179 ج 6۔ )
Ayahs 58:2–6

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے انکو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ انکو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے مگر یہ طریقہ ان لوگوں میں انجانی سے تھا اس واسطے جو کچھ پہلے ہوچکا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کو معاف کیا پھر فرمایا جس طرح ان لوگوں میں بی بی کو ماں کہہ بیٹھنے کا رواج ہے اسی طرح یہ بھی رواج ہے کہ اپنے اس قول پر نادم ہو کر اس سے پھرجاتے ہیں اور پھر عورت کو بی بی کی طرح رکھنا چاہئے ہیں لیکن اسلام میں آئندہ حکم دیا جاتا ہے کہ ایسے نادم لوگ ایسی عورت کو بی بی بنا کر رکھنے سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک بردہ آزاد کریں اگر اتنا مقدور نہ ہو تو دو مہینے کے پے درپے روزے رکھیں۔ اگر مرض وغیرہ کے سبب سے روزوں کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں امام 1 ؎ شافعی علیہ الرحمۃ وغیرہ اس کفارہ کے بردہ کے بھی قتل کے کفارے کے طرح بردہ صاحب اسلام ہونے کے قائل ہیں اور بعض علماء اس کے قائل نہیں۔ کفارہ کے روزے پورے ہونے سے پہلے کسی رات کو یہ کفارہ والا شخص اس ظہار والی عورت سے مباشرت کرے تو پھر از سر نو روزے رکھنے میں علماء کا اختلاف ہے جو شخص کفارہ میں مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ امام مالک کے نزدیک وہ شخص کفارہ سے پہلے ظہار والی عورت سے مباشرت کرسکتا ہے کیونکہ آیت میں اس کی ممانعت کفارہ کی اس قسم میں نہیں ہے۔ غلہ ناپنے کے پیمانے اہل حجاز اور اہل عراق کے بڑے چھوٹے ہیں اس میں بھی اختلاف ہے کہ ایک مسکین کو کس قدر غلہ دیا جائے کچھ تفصیل تو اس کی سورة مائدہ میں گزر چکی ہے اور اس سے زیادہ تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے اب آگے فرمایا ہر ضرورت کے وقت یہ امی رسول ایک ایسا مناسب حکم تم لوگوں کو سنا دیتے ہیں جس طرح کے حکم کی ایجاد سے تم میں کے پڑھے لکھے لوگ عاجز ہیں تو ہر عقل مند کو اس سے یہ یقین کرنا چاہئے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس قرآن میں جو احکام ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حد بندی ہے جس سے آگے بڑھنا جائز نہیں پھر فرمایا اس طرح کی کھلی کھلی باتوں سے اللہ کی شریعت اور اللہ کے رسول کی صداقت معلوم ہوجانے کے بعد جو کئی اللہ کی اس حدی بندی کو نہ مانے گا اور اس کی شریعت اور شریعت کے لانے والے رسول کی مخالفت کے درپے رہے گا دنیا میں وہ پچھلی مخالف قوموں کی طرح کسی آفت میں پھنس جائے گا اور عقبیٰ میں اس سے سخت مواخذہ ہوگا۔ اور یہ لوگ تو حشر کے انکار کے سبب سے برے کاموں کی پروا نہیں کرتے لیکن حشر کے دن کی سزا کے ارادہ سے ان کے چھوٹ بڑے سب کام اللہ کی نگاہ میں ہیں کیونکہ اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 320 ج 4۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 321 ج 4۔ )
Ayahs 58:7–10

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ لوگوں پر ظاہر ہوا تھا اسی مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس قصہ کے بعد اپنے علم باطنی کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ یہ منافق اور یہودی لوگ مل کر مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں جو کانوں میں کرتے ہیں اور یہود لوگ سلام کے بہانے سے اللہ کے رسول کو بددعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے وقت مقررہ آتے ہی ان سے ان کا بدلہ لیا جائے گا آخر پر ایماندار لوگوں کو فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اپنا بھروسہ رکھیں کیونکہ بغیر حکم اللہ تعالیٰ کے کسی بدخواہ کی بدخواہی کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتی۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کے اجر کی گویا تفسیر ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور 179 ج 6۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ص 958 ج 2۔ )
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

11۔ تفسیر مقاتل 2 ؎ میں ہے کہ یہ آیت خاص جمعہ کی نماز کی مجلس کے باب میں نازل ہوئی ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں جگہ تنگ ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ اس طرح دب کر بیٹھیں کہ پہلے سے بیٹھنے والوں کو اور پیچھے آنے والوں کو سب کو جگہ ہوجائے مسند امام احمد اور صحیح 3 ؎ مسلم میں دب کر بیٹھنے کی حضرت جابر کی حدیث ہے۔ اس سے اس قول کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس میں جمعہ کا بھی ذکر ہے لیکن صحیحین میں حضرت 4 ؎ عبد اللہ بن عمر کی جو حدیث ہے اس میں جمعہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس لئے قتادہ 5 ؎ وغیرہ کا قول ہے کہ آیت ذکر خیر کی سب مجلسوں کو شامل ہے اس قول میں دونوں حدیثوں پر عمل ہوجانے کا لحاظ ہے اس لئے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اب یہ شبہ باقی رہا کہ ایسے موقع پر نئے آدمیوں کو آتے دیکھ کر کھڑے ہو کر بھی جگہ خالی کی جاسکتی ہے یا یہ کھڑا ہونا تعظیم کے کھڑے ہونے میں داخل اور منع ہے۔ اس شبہ کا رفع یہ ہے کہ جو علماء تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کو منع کہتے ہیں وہ بھی اس کھڑے ہونے کو اور مسافروں کے معانقہ کے لئے کھڑے ہونے کو جائز بتاتے ہیں۔ تفصیل اس حدی کی شرح کی کتابوں میں ہے۔ تفسیر مقاتل تفسیر خازن 1 ؎ تفسیر خطیب وغیرہ میں اس آیت کی شان نزول کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک مجلس میں آنحضرت ﷺ تشریف رکھتے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ایسے چند صحابہ بھی تھے جو اہل مدینہ میں سے نہیں تھے اس مجلس میں شریک ہونے کی نیت سے اب بعد میں چند بدری صحابی بھی آئے۔ آنحضرت ﷺ بدری صحابہ کی ہمیشہ عزت کیا کرتے تھے اس لئے پہلے سے جو صحابہ آپ کے پاس بیٹھے تھے آپ ﷺ نے ان کو اپنے پاس سے اٹھا کر بدری صحابہ کو وہاں بٹھایا اور جن صحابہ کو آپ ﷺ نے اٹھایا تھا انہیں اپنا اٹھایا جانا شاق گزرا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بنظر ضرورت اللہ کے رسول کسی کو اپنے پاس سے اٹھ جانے کا حکم دیں تو اس کو کسر شان نہ سمجھنا چاہئے بلکہ رسول کے حکم کی تعمیل کا اس میں اجر ہے جس سے عقبیٰ میں ایماندار آدمی کا درجہ بڑھے گا لیکن اللہ کی نظر سب کے درجوں پر ہے اس لئے ایمان دار عالم کا درجہ اللہ کے نزدیک بےعلم ایمان دار سے بڑھ کر ہے اور اسی درجہ کے لحاظ سے اللہ کے رسول ﷺ نے تم میں کے بعض لوگوں کو اپنے قریب بٹھایا ‘ بےعلم ایمان داروں کو اس پر کچھ رنج نہ کرنا چاہئے۔ ترمذی 2 ؎ وغیرہ میں ابی امامہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار اور عابد اور ایمان دار عالم میں اتنا فرق ہے جیسے نبی اور امت کے عام لوگوں میں فرق ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس باب میں اور بھی صحیح حدثیں ہیں یہ سب حدیثیں آیت والذین اوتوا العلم درجت کی تفسیر ہیں۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 324 ج 4۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ الخ ص 217 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ الخ ص 217 ج 2۔ ) (5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 324 ج 4۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 324 ج 4۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ص 109 ج 2۔ )
Ayahs 58:12–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

12۔ 13۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بڑی تحقیقات کے بعد علماء مفسرین نے قرآن شریف بھر میں فقط پانچ آیتیں منسوخ قرار دی ہیں یہ آیت بھی ان پانچ آیتوں میں کی ایک آیت ہے۔ تفسیر 3 ؎ عبد الرزاق مجاہد سے روایت ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 327 ج 4۔ ) کہ اس آیت کا عمل ایک دن کچھ دیر تک رہا۔ پھر آگے کی آیت سے یہ آیت منسوخ ہوگئی اور سوا حضرت علی ؓ کے اور کسی صحابی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس واسطے حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے 1 ؎ کہ قرآن شریف میں ایک ایسی آیت ہے کہ نہ مجھ سے پہلے کسی نے اس پر عمل کیا نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ اس آیت پر حضرت علی ؓ کے عمل کرنے کی حدیث کو ترمذی 2 ؎ نے حسن کہا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ مجاہد حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے خاص شاگردوں میں ہیں اور ان کے قول کا لفسیر کے باب میں بڑا اعتبار ہے۔ اس واسطے اس قول کے مخالف بعض مفسروں نے اور کچھ قول جو اس آیت کی تفسیر میں بیان کئے ہیں وہ مجاہد کے قول کے مقابلہ میں معتبر قرار نہیں پاسکتے۔ بعضی تفسیروں میں ہے کہ یہ آیت منافقوں کے آنحضرت ﷺ سے زیادہ باتیں کرنے پر نازل ہوئی لیکن تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم کی روایت کے موافق صحیح قول یہ ہے کہ مسلمان لوگ زیادہ باتیں کرکے آنحضرت ﷺ کو تنگ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 326 ج 4۔ 2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة المجادلۃ ص 186 ج 2۔ 3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 185 ج 4۔
Ayahs 58:14–22

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تو اور چند شخص مل کر مجھ کو برا بھلا کیوں کہا کرتے ہو۔ عبد اللہ بن بنتل نے انکار کیا اور آنحضرت ﷺ نے نام لیا تھا ان کو بھی بلا لیا اور سب نے مل کر بہت قسمیں جھوٹی کھائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ان منافقوں کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ ادھر تو انہوں نے اپنے ظاہری اسلام سے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور اسی طرح مدینہ کے گرد و نواح میں جو یہود رہتے ہیں ان کو اپنی دوستی اور رفاقت کے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور حقیقت میں یہ لوگ ادھر ہیں نہ ادھر۔ ان کی زبان پر کچھ ہوتا ہے اور دل میں کچھ۔ اس لئے یہ دل سے کسی کے بھی ساتھی نہیں ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح ان منافق لوگوں نے اپنی جان اور مال مسلمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی غرض سے دنیا میں اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال ٹھہرا رکھا ہے اسی طرح قیامت کے دن اللہ کے رو برو بھی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ دل سے مسلمان تھے لیکن وہاں ان کی جھوٹی قسمیں اللہ عالم الغیب کے رو برو کچھ کام نہ آئیں گی۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ شیطان کے قابو میں ہیں۔ اسی واسطے شیطان ان کے برے کاموں کو اچھا کرکے ان کو دکھلاتا ہے پھر فرمایا ایسے شیطانی جتھے کے لوگ ہیں اور یہ شیطانی جتھے کے لوگ اخیر کو بہت خراب ہوں گے۔ اور اللہ کے رسول کے ساتھیوں کو اخیر میں غلبہ ہوگا اور ان منافقوں کی بدخواہی کچھ کارگر نہ ہوگی۔ پھر اللہ کے واسطے جو مسلمان لوگ بدر کی لڑائی کے دن اپنے رشتے داروں سے لڑے اور ان کو قتل کیا تھا ‘ ان کی تعریف فرمائی تاکہ منافقوں کو عبرت ہو کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں جو خدا اور خدا کے رسول کی رضا مندی کے لئے رشتہ داروں کے دشمن بن جاتے ہیں اور ایسے لوگ مسلمان کیونکر ہوسکتے ہیں جو اللہ کے رسول کی بدخواہی کے لئے غیر قوم کے لوگ یہودیوں سے میل جول پیدا کرتے ہیں۔ بدر کی لڑائی کے دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے بیٹے عبد الرحمن کے قتل کرنے کی تاک میں تھے۔ اور حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنے ایک رشتہ دار کو حضرت علی ؓ نے اپنے چچا کے بیٹے اور بھائی اور صحابہ نے اسی طرح اپنے رشتہ داروں کو قتل کیا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر ایمان نقش کی طرح خدا کی طرف سے لکھا گیا ہے اور تائید غیبی ان کی مدد کرتی ہے۔ وھم یعلمون کا یہ مطلب ہے کہ جن باتوں پر یہ منافق لوگ قسمیں کھاتے ہیں ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ باتیں بالکل جھوٹی ہیں۔ منافقوں کے عذاب کی تفسیر سورة نساء میں گزر چکی ہے۔ کہ ان کو جہنم کے سب سے نیچے طبقہ میں جھونکا جائے گا جس کا عذاب بہت سخت ہے یہ لوگ منافق پنے کی باتیں کرتے تھے اور ان باتوں کو اچھا سمجھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہرگز اچھے کام نہیں بلکہ وہ سرتاپا برے کام ہیں۔ پھر فرمایا جس مال و اولاد کی حفاظت کے لئے ان لوگوں نے ظاہری اسلام اور یہود سے میل جول اختیار کیا ہے عقبیٰ کی مصیبت کے وقت وہ مال و اولاد ان کے کام نہ آئے گی۔ معتبر سند 1 ؎ سے مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان اور اس کے مال اولاد اور عمل کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کے تین بھائی ہوں ان میں دو بھائی تو جیتے جی کے ساتھی ہوں اور ایک مرنے کے بعد کا بھی ساتھی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقبیٰ میں اصل کارآمد چیز آدمی کا عمل ہے اب جس کے نیک عمل وہاں قابل نجات ہوں گے اس کو مال و اولاد سے بھی کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے ان منافقوں کے بد اعمال جو عقبیٰ میں ان کے ساتھ ہوں گے وہ ایک ایسی بری چیز ہے جس کے سبب سے ان کی نجات ممکن نہیں۔ اسی واسطے ان کا مال ان کی اولاد سب ان کے حق میں بیکار ہے۔ صحیح 2 مسلم میں عثمان بن ابی العاص کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان عثمان نے آنحضرت ﷺ سے یہ شکایت کی کہ ان کے دل میں شیطان طرح طرح کے وسوسے اکثر ڈالا کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کو اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ اسی قسم کی اور بھی حدیثیں اور سلف کے قول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی سے شیطان بھاگتا ہے اور یہ سورة خرف میں گزر چکا ہے کہ جو آدمی ذکر الٰہی سے غافل ہو اس کے دل پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے سورة النساء میں یہ علامت منافقوں کی گزر چکی ہے کہ لایذکرون اللہ الا قلیلاً اس لئے بیان فرمایا کہ یہ لوگ شیطان کے قابو میں آ کر شیطانی جھتے کے لوگ بن گئے ہیں۔ (4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 328 ج 4۔ ) (1 ؎ الترغیب و الترہیب باب الترغب 8 فی الزھد فی الدنیا الخ ص 307 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب التعوذ من شیطان الوسوسۃ فی الصلوۃ ص 224 ج 2۔ )