Ayahs 57:1–31۔ 3۔ یہ تسبیح کی سورتیں بعض تو سبح کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے۔ جس سے یہ مطلب کہ زمین و آسمان کی کل چیزیں ہر زمانہ میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ‘ ان سب بیجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس میں متاخرین مفسروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس تفسیر میں لکھا جاسکتا کیونکہ یہ تفسیر بالکل سلف کے اقوال کے تابع ہے۔ عزیز کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ حکیم کے یہ معنی ہیں کہ اس کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے لہ ملک السموت والارض کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اس کا محتاج ہے اور اس کے حکم کا تابع ہے۔ یحییٰ و یمیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور وقت مقررہ پر اس کی قبض روح کرے گا اور نیک و بد کے حساب و کتاب کے لئے پھر وہ انسان کو زندہ کرے گا۔ وھو علی کلی شیء قدیر کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب باتیں اس کی قدرت میں ہیں کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ سورة حدید ‘ سورة حشر ‘ سورة صف ‘ سورة جمعہ اور سورة تغابن۔ ان سورتوں کو مسبحات کہتے ہیں۔ مسند امام احمد ترمذی 1 ؎‘ نسائی وغیرہ میں عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ان سورتوں میں ایک آیت ہزار آیتوں سے بہتر ہے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اگرچہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ضعیف ہے لیکن اس کی روایت مقبول ہے۔ حافظ ابن 2 ؎ کثیر نے لکھا ہے جس آیت کا ذکر اس حدیث میں ہے وہ آیت ھو الاول والاخر والظاہر و الباطن ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎‘ ترمذی ‘ بیہقی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے الاول کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی ذات سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔ الاخر کے معنی یہ ہیں کہ تمام مخلوقات فنا ہوجانے کے بعد اسی کی ذات باقی رہے گی الظاہر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا حکم سب پر غالب ہے اور سب اس کے زیر حکم ہیں۔ الباطن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے۔ وھو بکل شیء علیم کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک چیز اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اس لئے کسی چیز کا ظاہرباطن کوئی حال اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فیمن یقراء من القران عند المنام ص 199 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 302۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب الدعاء عندالنوم ص 348 و جامع ترمذی ابواب الدعوات ص 198 ج 2۔ )
Ayahs 57:4–64۔ 6۔ تفسیرابن جریر 4 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور صحابہ سے پیدائش عالم کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش کے بعد سب سے پہلے پانی پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف اور سورة دخان میں گزر چکی ہے۔ استوی علی العرش کے جو معنی ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق ہیں۔ لیکن یہ استویٰ وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات کو مخلوقات میں سے کسی کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس کی صفات کو کسی کی صفات کے ساتھ اسی واسطے سلف نے اس طرح کی آیتوں کی تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان آیتوں کے ظاہر معنی کو مدار تلاوت اور ایمان قرار دیتے ہیں اور ان کی تفصیل کو اللہ کے علم پر سونپتے ہیں مخلوقات میں عرش بڑی چیز ہے چناچہ معتبر سند سے تفسیر سعبد 1 ؎ بن منصور میں مجاہد کا قول ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان کے مقابلہ میں ایک آدمی کے ہاتھ کا چھلہ اور یہی حال کرسی کا عرش کے مقابلہ میں ہے مجاہد کے اس قول کی تائید ابوذر کی اس مضمون کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو ابن حبان نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اب آگے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ مثلاً زمین میں اناج کا بیج یا میہ کی گٹھلی جو کچھ بویا جاتا ہے اور آسمان سے مینہ برس کر جو اس کا پودا زمین سے نکلتا ہے یا جو نیک عمل آسمان پر جاتا ہے وہ ذرا ذرا ‘ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور ان چیزوں کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق ان سب چیزوں کا حال لوح محفوظ میں لکھا ہے وھو معکم اینما کنتم کا مطلب حضرت عبد اللہ بن عباس 3 ؎ کے اور اکثر سلف کے قول کے موافق یہ ہے کہ انسان کی کوئی حالت اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اسی واسطے فرمایا کہ جو عمل انسان کرتا ہے وہ اللہ دیکھتا ہے۔
حضرت 4 ؎ عمر ؓ کی صحیح حدیث گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح دل لگا کرے کہ گویا عبادت کے وقت اللہ تعالیٰ انسان کو دیکھ رہا ہے۔ لہ ملک السموت والارض ایک دفعہ انتظام دنیا اور دوسری دفعہ انتظام آخرت کے ساتھ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ دنیا میں جلانا مارنا اور عقیٰی میں جزا و سزا سب اس کے اختیار میں ہے کوئی اس کے اختیار میں اس کا شریک نہیں۔ آسمان کے پیدا کرنے کے ذکر میں آسمان کی حرکت سے رات دن جو پیدا ہوتے ہیں پھر ان کا ذکر فرمایا کہ ان میں بھی قدرت کا یہ بڑا نمونہ ہے کہ کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے اور کبھی رات اور کھیت دونوں برابر ہوجاتے ہیں پھر فرمایا کہ جس طرح ان انتظامات میں سے کوئی شے اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ اسی طرح انسان کے ظاہری کاموں کے علاوہ انسان کی دلی نیت تک کا حال اس سے چھپا ہوا نہیں۔ اسی واسطے اس غیب دان نے دلی ارادہ اور نیت کی بنا پر نیک کاموں کے قبول کو اور ان کی زیادتی اور کمی کو نیت پر منحصر رکھا ہے۔ مسند 1 ؎ امام احمد میں معتبر سند سے محمود بن لبید کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن نیک عملوں میں انسان کی نیت دنیا کے دکھاوے کی ہوگی ایسے عملوں کا اجر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے کچھ نہ ملے گا۔ بلکہ ایسے ریا کار لوگوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جن لوگوں کے دکھانے کو تم نے یہ عمل دنیا میں کئے تھے ان ہی لوگوں سے ان عملوں کا اجر مانگ لو۔ صحیح بخاری 2 ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث قدسی ہے جس میں نیت کے پوری خالص ہونے اور نہ ہونے پر دس سے لے کر سات سو درجہ تک نیک عملوں کے ثواب کا ذکر ہے۔ یہ حدیثیں آیت وھو علیم بذات الصدور کی تفسیر ہیں۔ کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کے انسان کے دل کا حال جاننے اور اس پر عمل کے قبول ناقبول کی اور اجر کی کمی و زیادتی کی بنا قرار دینے کی تفصیل ہے۔
(4 ؎ تفسیر فتح البیان ص 68 ج 1 و تفسیر ابن جیریر ص 214 ج 1 طبع جدید۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 171 ج 6۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان ص 27 ج 1۔ )
(1۔ مشکوٰۃ شریف باب فی الریاء و السمعۃ فصل ثالث ص 456۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب من ھو بحسنۃ اوسیئۃ ص 960 ج 2۔ )
Ayahs 57:7–117۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں چلا جائے گا اور حسن بصری وغیرہ تابعین نے لکھا ہے کہ دنیا کا مال و ملک جس طرح ہر تا پھرتا پہلے لوگوں کے قبضہ سے موجودہ لوگوں کے قبضہ میں آتا ہے۔ اسی طرح موجودہ لوگوں کے فنا ہوجانے کے بعد یہی مال و ملک پچھلے لوگوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ حقیقت میں ان دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ مال و ملک والے خاص خاص لوگوں کے مرجانے کے بعد دوسرے قول کے موافق ظہور ہوگا اور ساری دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد اول قول کے موافق ظہور ہوگا۔ آیت انا نحن نرث الارض و من علیھا سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے اور دوسرے قول کی تائید ابوہریرہ ؓ کی صحیح 3 ؎ مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مالدار آدمی نے جو کچھ کھایا پہنا وہ تو گیا گزرا ہوا۔ جو اللہ کے نام پر دیا وہ عقبیٰ کا ذخیرہ ہے ‘ اور جو چھوڑ مرا وہ وارثوں کے نصیب کا ہے۔ دنیا میں کوئی تجارت ایسی نہیں کہ جس میں ایک کے سات سو ہوں۔ عقبیٰ میں صدق خیرات کا اجر ایک کا سات سو تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہے۔ چناچہ اس کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ اس لئے عقبیٰ کے اجر کو بڑا فرمایا۔ قرآن شریف کا کلام الٰہی ہونا اور محمد ﷺ کا رسول ہونا اکثر آیتوں میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو سمجھا دیا۔ اس لئے صدقہ خیرات کے ذکر کے بعد پھر ایمان کا ذکر دوبارہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ بغیر شرک سے باز آنے اور خالص ایماندار ہوجانے کے صدقہ خیرات کا کچھ اجر عقبیٰ میں نہیں مل سکتا بنی آدم کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سب بنی آدم سے توحید پر قائم رہنے کا عہد جو لیا ہے اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے یہاں اس عہد کے ذکر کے ساتھ یہ فرمایا کہ تم لوگ اس عہد پر قائم ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس عہد کے یاد دلانے کے لئے اپنے رسول کو بھیجا ہے جن پر اپنا کلام نازل فرمایا ہے اور وہ اللہ کے رسول ﷺ کا کلام تم لوگوں کو ہر وقت سنا کر وہ عہد تمہیں یاد دلاتے ہیں۔ اور توحید پر قائم رہنے کا راستہ تم کو بتاتے ہیں تو پھر تم کو اب شرک سے باز آنے اور اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک مان لینے میں کیا عذر ہے۔ پھر فرمایا یہ اللہ کی تم لوگوں پر ایک مہربانی ہے کہ وہ اپنے رسول پر صاف صاف طرح طرح کی فہمایش کی آیتیں نازل فرما کر تمہیں شرک کے اندھیر سے نکالنا اور تمہارے دل کو ایمان کے نور سے روشن کرنا چاہتا ہے۔
ایمان کے دوبارہ ذکر کے ساتھ صدقہ خیرات کا ذکر تاکید کے طور پر پھر ان لفظوں میں فرمایا ‘ جن کی تفسیر اوپر گزر کی ہے فتح مکہ سے پہلے اسلام کو ہر طرح کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی پھر فتح مکہ کے بعد غنیمت کا مال آن کر اہل اسلام غنی ہوگئے۔ اسی واسطے فتح مکہ سے پہلے عین ضرورت کے وقت جن صحابہ نے اپنا مال اسلام کی مدد میں خرچ کیا ان کو بہت بڑا اجر مل گیا۔ پھر فرمایا یوں تو فتح مکہ سے پہلے اور پیچھے جس کسی نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کا اجر رائیگاں نہ جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے سب کاموں کی خبر ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے اجر کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے اس کو قرض سے مشابہت دی۔ قرضاً حسناً کے یہ معنی ہیں کہ اس میں دنیا کا کچھ دکھاوا نہ ہو۔ بلکہ جو کچھ خرچ کیا جائے خاص عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے ہو جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ 09 ھ میں زکوٰۃ فرض ہوئی ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ یہ سورة مدنی ہے ان کے نزدیک اس سورة کی صدقہ خیرات کی آیتوں میں زکوٰۃ بھی شریک ہے۔ اور جو علماء اس سورة کو مکی اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے بعد کہتے ہیں ان کے نزدیک ان آیتوں میں زکوٰۃ کا حکم نہیں ہے فقط نفلی صدقہ کا حکم ہے۔
اس باب میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ رمضان کے روزے ہجرت کے بعد مدنی آیت سے فرض ہوئے ہیں اور مسند امام 1 ؎ احمد نسائی ابن ماجہ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم میں قیس بن سعد بن عبادہ کی جو حدیث ہے اس میں ہے کہ صدقہ فطر کی تاکید زکوٰۃ کے فرض ہونے تلک تھی۔ زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بعد حضرت ﷺ صدقہ فطر کا نہ کسی کو حکم کرتے تھے نہ کسی کو منع کرتے تھے۔ اس حدیث کے باقی کے راوی سب ثقہ ہیں فقط ایک راوی ابو عمار کوفی ہیں۔ بعض علماء نے اس میں کلام کیا ہے لیکن امام احمد اور ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے اس سے زکوٰۃ کے ہجرت کے بعد فرض ہونے کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ 09 ھ میں زکوٰۃ کے وصول کا انتظام کیا گیا ہے شاید اسی سبب سے بعض علماء کو 09 ھ میں زکوٰۃ کے فرض ہونے کا شبہ پڑا ہے ورنہ ضمام بن ثعلبہ کا قصہ جو صحیح بخاری 2 ؎ وغیرہ کی روایت میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ضمام کو ارکان اسلام بتائے ہیں اس میں زکوٰۃ کا ذکر ہے حالانکہ وہ قصہ 5 ھ کا ہے نماز اور روزوں کے بعد زکوٰۃ فرض ہوئی ہے۔ اس لئے زکوٰۃ کو اسلام کا تیسرا رکن کہتے ہیں۔
(3 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 407 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب القراءۃ والعرض علی المحدث الخ ص 15 ج 1۔ )
Ayahs 57:12–1512۔ 15۔ معتبر سند 3 ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں راستہ چلیں گے۔ پھر ایمانداروں کے سواریوں پر اور ان کے پیدل ہونے کے سبب سے جب یہ منافق لوگ اندھیرے میں پیچھے رہ جائیں گے تو اس وقت یہ منافق لوگ ایمانداروں سے کہیں گے ذرا ٹھہر جاؤ تاکہ تمہاری روشنی سے بھی کچھ جھلک پا کر اس اندھیرے کو طے کرلیں فرشتے ان منافقوں کو جھڑک کر جواب دیں گے کہ پیچھے پلٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ فرشتوں کے اس جواب کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو یہ کہ پلٹ کر میدان محشر میں جاؤ۔ جہاں سب کو نور ملا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ پلٹ کر دنیا میں جاؤ اور نفاق سے توبہ کرو جب کچھ نور ملے۔ فرشتوں کا یہ جواب ایک جھڑکی کے طور پر ہوگا ورنہ انکو معلوم ہے کہ میدان محشر میں اب کچھ نور مل سکتا ہے نہ دوبارہ دنیا میں جانا ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہوں گی کہ اتنے میں ایماندار لوگوں اور منافقوں کے درمیان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ جس کے پرلی طرف جنت ہوگی اور ورلی طرف جہنم بعض سلف کا قول ہے کہ یہ دیوار وہی اعراف ہے جس کا ذکر سورة اعراف میں گزرا۔ اس دیوار کے حائل ہوجانے کے وقت منافق لوگ ایماندار لوگوں سے پکار کر کہیں گے کہ اس وقت ہمارا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ دنیا میں تم ہمارے ساتھی تھے۔ اس کے جواب میں ایماندار لوگ کہیں گے کہ تم اوپری طور پر ہمارے ساتھ تھے دل سے تو تم بچلے ہوئے تھے اور اہل اسلام کی برائی چاہتے تھے۔ اور دین کی باتوں کی طرف سے ایک شک کی حالت میں پڑے ہوئے تھے اور طرح طرح کی بےاصل آرزؤں میں اپنی عمر گزارتے تھے مثلاً یہ خیال کرتے تھے کہ اہل اسلام کو کافروں کے ہاتھ سے کچھ ضرور بھی پہنچا تو ہم امن میں رہیں گے کیونکہ ہمارا میل جول دونوں جانب سے ہے یہاں تک کہ اسی شیطانی بہکاوے میں تم مرگئے اس لئے آج تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے جس سے کچھ بدلہ دے کر بھی تمہارا چھٹکارا نہیں ہوسکتا۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین بھر کے برابر سونا بھی نجات کے لئے کافی نہ ہوگا مسند امام احمد صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کلمہ گو آدمی خالص نیت سے ایک کھجور بھی اللہ کے نام پردے گا تو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے نجات پانے کے لئے تھوڑی سی خیرات بھی اس کے کام آئے گی۔ اس کا حاصل یہ نکلا کہ شرک و نفاق ایسی چیز ہے کہ اس کے سبب سے قیامت کے دن زمین بھر کے سونا بھی نجات کے لئے کارآمد نہیں اور توحید ایسی چیز ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن ایک کھجور بھی نجات کے لئے کارآمد ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں میں آنحضرت ﷺ نے ریا کاری کو چھوٹا شرک فرمایا ہے اس لئے جس طرح آدمی کو شرک و نفاق سے بچنا چاہئے۔ اسی طرح ریا کاری سے بھی اسے بچنا چاہئے۔
(3 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص 748 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب اتقوا النار و لوبش ثمرۃ ص 190 ج 1 و صحیح مسلم باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ ص 326 ج 1۔ )
(1 ؎ مشکوۃ شریف باب فی الریاء والسمعۃ فصل ثالث ص 456۔ )
Ayahs 57:16–1916۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اور معنی یہ ہیں کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہو رہے ہیں باوجود قرآن کے ہر روز نازل ہونے کے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی کہ ان لوگوں کے دل نرم ہوں اور ان لوگوں کے دل میں خوف الٰہی سمائے لیکن صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیح مسلم نسانی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہاجرین لوگ آپس میں کچھ ہنسی اور دل لگی کی باتیں کرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور ہنسی دل لگی اور دنیا میں زیادہ ہنسنے سے منع فرمایا۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا خوف آدمی کے دل میں سمانے کی یہی نشانی ہے کہ آدمی کے دل سے ہنسی دل لگی اور دنیا کی محبت کا خیال جاتا رہتا ہے۔ چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری ‘ ترمذی ‘ مسند امام احمد ‘ ابن ماجہ کی حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوذر ؓ کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ جس قدر اللہ کا خوف میرے دل میں ہے اس کا حال اگر تم لوگوں کو معلوم ہوجائے تو تم لوگ عورتوں بچوں میں رہنا بسنا چھوڑ کر جنگل میں نکل جاؤ اور اپنا ہنسنا کم اور رونا زیادہ کر دو ۔ اس حدیث کی روایت کے بعد حضرت ابوذر ؓ کہا کرتے تھے کہ بجائے انسان ہونے کے میں درخت ہوتا اور اس درخت کی لکڑی کسی کام میں آجاتی تو اچھا ہوتا۔ ان آیتوں میں صدقہ خیرات دینے والے مسلمان مرد اور عورتوں اور صدیق اور شہیدوں کا ایک ساتھ جو ذکر ہے اس سے بعض مفسروں نے یہ بات نکالی ہے کہ صدیق اور شہدا کا ایک ہی درجہ ہے۔ لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ صدیق کا درجہ شہید سے بڑھ کر ہے کہ کیونکہ صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز فرمایا کہ نیچے کے درجہ کی جنت کے لوگوں کو اوپر کے درجہ کی جنت کے لوگ ایسے نظر آئیں گے جس طرح زمین پر سے تارے نظر آتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت اتنا بلند درجہ ہم لوگوں کو کب نصیب ہوگا۔ یہ تو شاید انبیاء کا درجہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے دل میں اللہ اور اللہ کے رسول کے حکموں کی تصدیق زیادہ ہے اور مسند 3 ؎ امام احمد میں حضرت عمر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شہیدوں کے چار درجے ہیں۔ پہلا درجہ وہ ہے کہ کامل ایماندار شخص ہے اور اس نے درجہ شہادت کا دشمن سے مقابلہ کرکے پایا۔ دوسرا درجہ وہ ہے کہ ایمان دار شخص ہے اور اتفاقاً کوئی تیر اس کے آ کر لگ گیا اور وہ شہید ہوگیا۔ تیسرا درجہ وہ ہے کہ ایک ایماندار کسی قدر گناہ گار شخص ہے اور اس نے درجہ شہادت کا پایا۔ چوتھا درجہ وہ ہے کہ نہایت درجہ کا گناہ گار شخص درجہ شہادت کا پائے حضرت عمر ؓ کی حدیث کی سند کو علی بن مدینی نے صالح کہا ہے اور شرح جامع صغیر میں اس حدیث کو حسن اور ترمذی نے اس کو حسن غریب کہا ہے۔ اگرچہ اس کی سند میں عبد اللہ ابن لہیعہ ہے لیکن یہ روایت ابن مبارک کی ابن لہیعہ سے ہے جو حسن کے درجہ کی ہے ابن لہیعہ خود بھی صدوق ہے۔ ان دونوں روایتوں کے مضمون کو ملانے سے یہ بات نکلتی ہے کہ بعض شہیدوں اور صدیق کے درجہ میں بہت بڑا فرق ہے۔
Ayahs 57:20–2120۔ 21۔ اوپر کی آیتوں میں دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہو کر ہنسی مذاق میں پڑجانے کی ممانعت بھی ہے اور صدقہ خیرات کی رغبت ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائیداری کا حال سمجایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سر سبز ہوتی ہے۔ جس سے کاشت کاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پر چند روز میں وہ سب سر سبزی جا کر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھا جاتی ہے آخر کو وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں۔ اور ان کا نام و نشان بھی زمین پر کہیں باقی نہیں رہتا۔ یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچپنے سے اخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال اور اولاد کی زیادتی کا آپس میں فخر دن بدن زیادہ ہوتا جاتا ہے مگر اس سب کی وہی حالت ہے جس طرح بچے کھیل کی کوئی چیز بناتے ہیں اور دم بھر میں اس کو توڑ پھوڑ کر برابر کردیتے ہیں اسی طرح کوئی دن میں انسان کی نہ وہ قوت جسمانی رہتی ہے نہ مال اولاد کی زیادتی کا کچھ ثمرہ باقی رہتا ہے۔ کیونکہ مال و اولاد دنیا میں ہی رہ جاتے ہیں اور مال و اولاد پر فخر کرنے والے دنیا سے خالی ہاتھ اٹھ جاتے ہیں اس واسطے اس دھوکے کی ٹٹی دنیا میں جنہوں نے کچھ عقبیٰ کا سامان کرلیا۔ ان سے ان کا خدا راضی و خوش رہے گا اور ان کے گناہ معاف فرما کر انکو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ سخت عذاب کا سامنا ہے۔ اب آخر کو فرمایا کہ جب دنیا کی زندگی ایسی بےبنیاد ہے تو اس پر فریفتہ نہیں ہونا چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ بڑا صاحب فضل ہے تھوڑی سی عمر کی دوڑ دھوپ کے اجر میں وہ بہت کچھ دے سکتا ہے۔ بعض آیتوں اور حدیثوں میں جنت کا ذکر اللہ کے فضل اور اللہ کی رحمت کے ساتھ ہے اور بعض میں نیک عملوں کی جزا کے ساتھ اس کا سبب یہ ہے کہ پیدا کرنے کی صحت سے رکھنے اور رزق دینے کی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں انسان پر اس قدر ہیں کہ ان بیشمار نعمتوں کے مقابلہ میں انسان کی تھوڑی سی عمر کے نیک عمل جنت کے مستحق ہونے کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے جنت میں داخل ہونے کا حق تو ہر ایک کو محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوگا۔ رہا جنت کے عالی درجہ اور متوسط اور رادنیٰ درجہ کا ملنا یہ درجہ بندی عملوں کے موافق ہوگی۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔
جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے عمل کے سبب سے جنت میں نہیں داخل ہوسکتا۔ صحابہ کے عرض کیا کہ حضرت آپ بھی آپ نے فرمایا جب تک اللہ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال نہ ہو۔ میں بھی فقط عملوں کے سبب سے جنت میں نہیں جاسکتا اور یہ تو سورة واقعہ میں گزر چکا ہے کہ عملوں میں سبقت کرنے والے لوگوں کو عالی درجہ کی جنت ملے گی اور داہنے ہاتھ والے عام نیک لوگوں کو اس سے نیچے کے درجہ کی جنت ملے گی۔ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں سے یہ بات صاف کھل جاتی ہے کہ جنت کا داخل ہونا اللہ کی رحمت سے ہوگا۔ اور جنت کی درجہ بندی عملوں کے موافق ہوگی اور اس بات کے کھل جانے کے بعد جن آیتوں اور حدیثوں میں جنت کا ذکر اللہ کے فضل اور رحمت کے ساتھ ہے۔ ان میں اور عملوں کی جزا میں جنت کے ملنے والی آیتوں اور حدیثوں میں پوری مطابقت بھی پیدا ہوجاتی ہے بخاری 1 ؎ و مسلم میں بھی ابو سعید خدری کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث ہے۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جب ملائکہ انبیاء صلحاء سب کی شفاعت سے گناہ گار لوگ جنت میں داخل ہو چکیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب کی شفاعت تو ہوچکی ‘ اب ارحم الراحمین باقی ہے یہ فرما کر ایسے کلمہ گو دوزخیوں کو ایک لپ بھر کر دوزخ سے جنت میں ڈالے گا جنہوں نے عمر بھر کوئی نیک عمل نہیں کیا اب بعض آیتوں اور حدیثوں میں جنتیوں کے ذکر کے ساتھ ایمان اور نیک عمل دونوں کا جو ذکر ہے اور بعض میں محض ایمان کا ان میں اس صحیح حدیث سے پوری مطابقت ہوجاتی ہے۔ اوپر گزر چکا ہے 2 ؎ ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان کے مقابلے میں آدمی کی انگلی کا ایک چھلہ۔ اور سلف کی روایتوں کے موافق جنت کرسی میں ہے اس لئے جنت کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہونا اور طول کا اس سے بھی بڑا ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں۔
(2 ؎ صحیح مسلم کتاب التفسیر 421 ج 2۔ )
(2 ؎ صححت مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا 378 ج 2۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل الشھداء عند اللہ ص 234 ج 1 و مشکوٰۃ شریف کتاب الجھاد فی فضائلہ فضل ثالث ص 335۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب القصد و المداومۃ علی العمل ص 957 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1106 ج 2 و صیحت مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الرخرۃ ربھم الخ ص 102 ج 1۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385 ج 4۔ )
Ayahs 57:22–2422۔ 24۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین 3 ؎ کے چار قول ہیں پہلا قول تو یہ ہے کہ جو جانی یا مالی کوئی آفت یا مصیبت لوگوں پر دنیا میں آتی ہے اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کے پہنچنے کا سارا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں پر وہ مصیبت اور آفت آتی ہے ان کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے چوتھا قول یہ ہے کہ اس مصیبت کے اور مصیبت والوں کے اور تمام دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبتیں کا حال لوح محفوظ میں لکھ ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ یہ آخری قول سب قولوں سے اچھا ہے۔ یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کی حدیث کا مضمون یہ ہے کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سب سے آخری قول جو اوپر بیان کیا گیا ہے وہی قول اس صحیح حدیث کے مضمون کے موافق ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ایسا آدمی تو دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ راحت سے کسی قدر خوشی اور مصیبت سے کسی قدر رنج اس کے دل پر نہ ہوتا ہو اس لئے مطلب آیت کا یہ ہے ہے کہ رنج اور مصیبت کے وقت بالکل بےصبر ہوجانا اور راحت کے وقت اترانا نہیں چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر طرح کا رنج اور ہر طرح کی راحت تقدیر الٰہی کے موافق ہے۔ بندہ کی بےصبری اور بندہ کا اترانا بےفائدہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ن آیت آیت کے آگے اترانے والوں کی مذمت فرمائی ہے حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس نے یہ بھی فرمایا کہ اس آیت میں آیت میں دنیا کی مصیبت اور برائی کا ذکر ہے۔ شیطان کے بہکانے سے دین کی کوئی برائی آدمی کو پیش آجائے تو اس پر ضرور بڑا قلق کرنا چاہئے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول حضرت ابی امامہ کی اس حدیث کے موافق ہے جو مسند 4 ؎ امام احمد کی روایت سے اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایمان دار شخص کی نشانی یہ ہے کہ اس کو دین کی بری بات بری اور بھلی بات بھلی معلوم ہونے لگتی ہے۔ فرقہ قدریہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وہ لوگ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے سب چیزوں کا اندازہ ہونے اور لوح محفوظ میں لکھے جانے کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے وہ بیری کسی ازلی اندازہ اور علم الٰہی کے از سر نو ہوتا ہے اور ہر ایک چیز کے ہوجانے کے بعد اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہوجاتا ہے۔ مفسرین 5 ؎ نے لکھا ہے کہ اس آیت سے فرقہ قدریہ مذہب کی پوری غلطی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں علم ازلی الٰہی کے موافق پہلے سب کچھ لکھا جا چکا ہے اب دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے۔ تمام ملک کی آفت جیسے عام قحط یا عام وبا جان کی آفت جیسے عزیز و اقارب کا مرجانا انسان کو آئندہ کا حال معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انسان کو سمجھایا ہے کہ اللہ کا علم ایسا نہیں ہے۔ اس کے علم میں حال کی موجود چیزیں اور آئندہ کی موجود ہونے والی چیزیں دونوں برابر ہیں۔ اس واسطے اس کو دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح محفوظ میں لکھ لینا کچھ مشکل نہیں۔ اور یہ بھی سمجھایا کہ اس لوح محفوظ کے نوشتہ کے حال سے تم لوگوں کو اس لئے خبردار کیا ہے تاکہ تم آفت کے وقت بہت رنج اور بےصبری نہ کرو اور یہ سمجھ لو کہ جو آفت آئی وہ تقدیر کے نوشتہ کے موافق ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں معتبر سند سے ابوہریرہ 1 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کا درجہ عقبیٰ میں بڑھانا چاہتا اور جب ان بندوں کے عمل اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے تو ان پر کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے جن پر ان کو صبر کی توفیق دیتا ہے جس صبر کے اجر میں وہ اس درجہ کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے نصیب میں جو مصیبت اور آفت لکھی گئی ہے وہ حکمت سے خالی نہیں۔ مصیبت کے بعد راحت کے باب میں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ راحت کے وقت اتراؤ نہیں کیونکہ دنیا کی راحت دنیا کی راحت والے سب ناپائیدار چیزیں ہیں۔ ایسی ناپائیدار حالت ہرگز اترانے کے قابل نہیں ہے۔ آگے فرمایا کہ دنیا کی چند روزہ راحت پر اترانے سے تکبر ‘ بخل ‘ غرض ایسی ایسی باتیں انسان میں پیدا ہوجاتی ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ پھر فرمایا کہ جو شخص اللہ کی نصیحت پر عمل کرنے سے منہ موڑے گا تو اللہ کو اس کی کچھ پروا نہیں۔ لیکن اس کے سب کام حکمت سے بھرے ہوئے لائق حمد و ثنا کے ہیں جو کسی طرح منہ موڑنے کے قابل نہیں۔ معتبر سند سے طبرانی کبیر 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اترانے والے لوگ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت غصہ سے نگاہ ڈالے گا۔ ان آیتوں میں جو اترانے کی ممانعت ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 313 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ علیھما السلام ص 335 ج 2۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 176 ج 6۔ )
(4 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الایمان فصل ثالث ص )
(5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 314 ج 4۔ )
(1 ؎ الترغیب و الترہیب فی الصبر ص 527 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغیب و الترہیب۔ الترغیب فی التواضع والترھیب من الکبر الخ ص 823 ج 3۔ )
Ayah 57:2525۔ اوپر جنت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس دوڑ دھوپ کا طریقہ سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ہم نے رسول بھیجے جن کی تصدیق کے لئے ان کو طرح طرح کے معجزے دیئے ان پر اسلامی کتابیں نازل فرمائیں۔ پھر ہر زمانہ کے لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی نصحیت کو مانا ‘ اور اللہ کے حکم کے موافق عمل کیا۔ وہ جنت کی دوڑ دھوپ کے طریقہ میں کامیاب ہوئے اور جو اسی طریقے کے رہے وہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ حاصل یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کے عہد کے لوگوں کا انجام بھی اسی عادت الٰہی کے موافق ہوگا۔ معتبر سند 3 ؎ سے بیہقی وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ کہ جس طرح نماز روزہ وغیرہ آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے اللہ کی امانتیں ہیں ‘ اسی طرح ترازو کے ذریعہ سے پورا تولنا بھی اللہ کی ایک امانت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول آسمانی کتابوں کے ساتھ ترازو کے ذکر کئے جانے کی گویا تفسیر ہے معتبر سند سے سے مستدرک 1 ؎ حاکم میں بریدہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کم تولنے اور کم ناپنے سے اکثر قحط کی آفت آتی ہے۔ کم تولنے کی زیادہ مذمت ویل المطففین میں آئے گی۔ حاصل یہ ہے کہ کتاب آسمانی اور ترازو اس لئے ہیں کہ جن سے لوگ سیدھے راستہ پر رہ کر جنت کی دوڑ دھوپ میں کامیابی حاصل کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر توارۃ کے نازل ہونے تک اللہ کے رسولوں کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا۔ اس لئے مخالف لوگوں کی مخالفت اور نافرمانی جب بہت بڑھ جاتی تھی تو وہ ایک عام عذاب سے ہلاک ہوجاتے تھے۔ توراۃ کے نزول کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مخالف لوگوں کے ساتھ ہتھیاروں سے لڑنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس واسطے ان آیتوں میں رسولوں کے ذکر کے ساتھ لوہے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے جو لوگ اللہ کے رسولوں کی زبانی نصیحت کو نہ مانیں گے تو ان کو تلوار سے نصیحت کی جائے گی۔ یہ بھی فرمایا کہ اس لوہے کے سوا لڑائی کے ہتھیاروں کے دنیا میں اور بھی طرح طرح کے کام چلتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ ایسا زبردست ہے کہ اس کو لڑائی کا حکم دینے کی کچھ ضرورت نہیں۔ بغیر لڑائی کے اس نے پچھلی بہت سی سرکش قوموں کو ہلاک کردیا۔ لیکن شریعت موسوی ‘ عیسوی اور محمدی میں جو اس نے لڑائی کا حکم فرمایا ہے اس میں طرح طرح کی مصلحتیں ہیں مثلاً یہ مصلحت کہ علم الٰہی میں جو لوگ اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کے حامی اور مددگار قرار پائے ہیں ان کا ظہور دنیا میں ہوجائے اور جب یہ لوگ اللہ کے دین کے پھیلانے میں اپنی جان دینے پر مستعد ہوجاتے ہیں تو عقبیٰ میں جو درجے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے رکھتے ہیں ان درجوں کے پانے کے یہ لوگ پورے مستحق ہوجائیں چناچہ مسند 2 ؎ امام احمد بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ نماز روزے کے پابند ہیں۔ ایسے لوگ دین کی لڑائی میں شریک نہ بھی ہوں تو ضرور وہ جنت میں جائیں گے۔ یہ حدیث سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت اس مطلب کو عام طور پر مشہور کردیا جائے آپ نے فرمایا دین کی لڑائی کی جرأت والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ جنت کے سو درجہ ہیں جن میں سے دین کی لڑائی والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے عالی درجے رکھے ہیں۔ بخاری کی بعض شرحوں میں یہ جو لکھا ہے کہ اس حدیث میں فقط نماز اور روزہ کا ذکر اس واسطے ہے کہ زکوٰۃ اور حج اس وقت تک فرض نہیں ہوئے تھے۔ یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا کس لئے کہ ترمذی 1 ؎ کی معاذ بن جبل کی روایت میں حج کا بھی ذکر ہے اور یہ بھی ہے کہ شاید زکوٰۃ کا لفظ بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا اس سبب سے یہی قول صحیح ہے کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں راوی نے اختصار کی نظر سے فقط نماز روزہ کا ذکر کیا ہے جس سے مطلب سوائے جہاد کے اور ارکان دین کا ہے۔
(3 ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من منع الزکوٰۃ ص 717 ج 1۔ )
(1 ؎ الترغیب و الترہیب الترھیب من منع الزکوٰۃ ص 717 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب درجات المومنین فی سبیل اللہ ص 391 ج 1۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ص 89 ج 2۔ )
Ayahs 57:26–2726۔ 27۔ اوپر رسولوں کا ذکر مبہم طور پر تھا۔ ان آیتوں میں ان کے سلسلہ کا ذکر ہے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ نبوت اور کتاب آسمانی کا سلسلہ ان ہی دو رسولوں کے خاندان میں رکھا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جن دو خاندانوں میں نبوت رکھی گئی ہے ان خاندانوں کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کچھ تو ان میں سے راہ راست پر رہے اور اکثر بےراہ اور نافرمان ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسرائیل اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے پوتے اور اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں۔ بنی اسماعیل میں فقط نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ اور بنی اسرائیل میں حضرت ابراہیم کی اولاد کی ایک شاخ کے اور انبیاء ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی نبوت کا سلسلہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مریم کے خاندان کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ہیں۔ اس واسطے خاص طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام بھی فرمایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے والوں سے مراد حضرت عیسیٰ کی پیروی کرنے والے حواری اور حواریوں کے قدم بقدم چلنے والے وہ سچے عیسائی ہیں جو اسی اکاسی برس کے قریب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انجیل کے پورے پابند رہے کیونکہ اس کے بعد پولس یہودی نے فریبی عیسائی بن کر عیسائی دین میں طرح طرح کا اختلاف ڈال دیا۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة توبہ میں گزر چکی ہے۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ بارہ اصحاب ہیں جو پہلے پہل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور دین عیسائی کے پھیلانے میں انہوں نے کوشش کی۔ حواری کے معنی مددگاروں کے ہیں۔ انجیل میں خوش اخلاقی اور بنی آدم کو کسی طرح کی ایذا نہ پہنچانے کی تاکید ہے۔ اس واسطے جب تک عیسائیوں کے چند فرقے نہیں ہوئے تھے تو یہ لوگ بڑی نرم دلی اور خوش اخلاقی کا برتاؤ آپس میں رکھتے تھے۔ جب پولس یہودی کے بہکانے سے ان میں چند مختلف فرقے ہوگئے تو پھر یہ بات جاتی رہی اور ان میں بڑی خونریزی آپس میں ہوئی جس کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں ہے۔ رہبانیت کے معنی عبادت الٰہی میں مصروف ہونے اور ترک دنیا کردینے کے ہیں۔ معتبر سند سے تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم مستدرک حاکم وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسائی دین میں طرح طرح کی خرابی پڑگئی اور ظالم بادشاہوں نے دین دار عیسائیوں کو طرح طرح سے تنگ کیا تو ان دین دار عیسائیوں نے جنگل کا رہنا اور ترک دنیا کرکے سخت عبادت میں مصروف رہنا اختیار کیا۔ اس عبادت میں بعض طریقے ایسے سخت تھے جن حکم انجیل میں نہیں تھا پھر آخر کو یہ لوگ اپنے قرار داد پر قائم نہیں رہے اور ظالم بادشاہوں سے میل جول رکھنے لگے۔ آیت کے جس ٹکڑے میں عیسائیوں کی رہبانیت کا اور پھر ان کے اس پر قائم نہ رہنے کا ذکر ہے۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ شریعت محمدی میں اس طرح کی عبادت کی ممانعت ہے جو آدمی پر شاق ہو اور شاق ہونے کے سبب سے آدمی ہمیشہ اس کو نباہ نہ سکے۔ چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کو اپنی طاقت کے موافق ایسی عبادت کرنی چاہئے جس کو وہ ہمیشہ نباہ سکے کیونکہ جو عیادت ہمیشہ کی جائے وہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس عبادت میں ایسی مشقت ہو جس کے سبب سے اس کا ہمیشہ جاری رہنا دشوار ہو۔ ایسی عبادت اللہ کو پسند نہیں ہے۔ اب آگے فرمایا کہ ان لوگوں میں سے اکثر لوگ تو بےراہ ہوگئے لیکن جو لوگ راہ راست پر رہے وہ پورا اجر پائیں گے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 315 ج 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب القصد والمدا ومۃ علی العمل ص 957 ج 2 و صحیح مسلم باب فضیلۃ عمل الدائم الخ ص 226 ج 1۔ )
Ayahs 57:28–2928۔ 29۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ آیت ایماندار اہل کتاب کی شان میں ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات اور انجیل پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے ان کو قرآن اور نبی آخر الزمان پر بھی ضرور ایمان لانا چاہئے کیونکہ بغیر اس کے تورات و انجیل میں جو اللہ کا عہد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ عہد ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ پھر فرمایا اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو ان کے دونوں زمانے کے عمل قابل اجر قرار پا کر ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا ورنہ عہد شکنی کے گناہ میں ان سے مواخذہ کیا جائے گا صحیح مسلم کی اور بوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص میرا حال سنے گا اور پھر شریعت محمدی کا تابع نہ ہوگا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے ابو موسیٰ اشعری کی صحیح بخاری 1 ؎ و صحیح مسلم کی حدیث بھی اوپر گزر چکی ہے جس میں اہل کتاب کے دوہرے اجر کا ذکر ہے۔ یہ حدیثیں اہل کتاب کے اعمال کے دوہرے اجر اور اعمال کے اکارت ہوجانے کی تفسیر میں ہیں نور سے مقصود وہی پل صراط پر کی روشنی ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اب آگے فرمایا ایماندار اہل کتاب کو یہ دوہرا اجر اس واسطے دیا گیا کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ نبی آخر الزمان پر اور قرآن پر ایمان نہیں لائے ان کو قیامت کے دن اپنی حالت پر افسوس ہو کہ یہ اللہ کے فضل کا دوہرا اجر انہوں نے اپنے ہاتھ سے کھویا۔ اس تفسیر کی صورت میں لئلایعلم میں لا زائد ہے۔ جو اکثر کلام عرب میں زائد آیا کرتا ہے۔ سوا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اور سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آیت اولئک یو تون اجرھم مرتین میں اور ابو موسیٰ اشعری کی حدیث میں مومنین اہل کتاب کے دوہرے اجر کا جو ذکر ہے اس کو مومنین اہل کتاب اپنے فخر کے طور پر مومنین امت محمدیہ کے رو برو اکثر باتیں کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنین امت محمدیہ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اس قول کے موافق حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح مومنین اہل کتاب دو شریعتوں کی پابندی کے معاوضہ میں دوہرا اجر پائیں گے اسی طرح مومنین امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ ایک ہی شریعت کی پابندی کے معاوضہ میں دوہرا اجر عطا فرمائے گا تاکہ اہل کتاب یہ نہ جان لیں کہ دوہرے اجر کو انہیں کے ساتھ خصوصیت ہے۔ مومنین امت محمدیہ اس خصوصیت کے حاصل کرنے کی کسی طرح قدرت نہیں رکھتی۔ اور یہ اللہ کا ایک فضل ہے جس کو کوئی روک نہیں سکتا اس تفسیر کی بناء پر لئلایعلم میں لا زائد نہیں ہے۔ مسند امام احمد صحیح 2 ؎ بخاری وغیرہ میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک کے زمانہ کو ایک دن فرض کیا ہے جس دن کہ عرص کے وقت سے شام تک کے عملوں کے معاوضہ میں امت محمدیہ کو دوہرے اجر کے ملنے کا ذکر ہے اس حدیث سے اس آخری قول کی بڑی تائید ہوتی ہے بہتر یہ ہے کہ مرکب شان نزول کے طور پر مومنین اہل کتاب و مومنین امت محمدیہ دونوں کے حق میں آیت کا نزول ٹھہرایا جائے۔ ان دونوں حالتوں میں فرق اسی قدر ہے کہ اہل کتاب کا دوہرا اجر دو شریعتوں کی پابندی کے معاوضہ میں ہوگا اور امت محمدیہ کا دوہرا اجر فقط ایک ہی شریعت کی پابندی کے معاوضہ میں اور یہ اللہ کا ایک فضل ہے۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا ﷺ الخ ص 86 ج 1 و صحیح بخاری باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ ص 20 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ص 491 ج 1۔ )