56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 56:1–12

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کی بہشتوں میں

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے کے وقت یہ آگ بد لوگوں کے ساتھ ہوگی۔ یہ دونوں قول اوپر بیان کئے جا چکے ہیں لیکن ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث میں یوم القیامۃ کا لفظ موجود ہے جس سے دوسرے قول کی پوری تائید ہوتی ہے غرض اس آگ سے ان لوگوں کو میدان محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش آئیں گی۔ اسی وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال نہ سکیں گے قیامت کے حال میں اوتارتی چڑھاتی جو فرمایا۔ حضرت عبد 1 ؎ اللہ بن عباس کے قول کے موافق اسکا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ جو بڑھ چڑھ کر گزران کرتے اور اپنی اس دنیا کی خوشحالی کے سبب سے عقبیٰ سے بالکل غافل تھے قیامت کے دن وہ ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور دنیا کی جس خوشحالی نے ان کو عقبیٰ سے غافل کردیا تھا اس دن کے عذاب کے آگے وہ دنیا کی چند روزہ خوشحالی ان کو یاد بھی نہ رہے گی۔ اسی طرح جو ایماندار لوگ دنیا میں گری ہوئی حالت سے اپنی گزر کرتے تھے وہ اس دن نہایت چڑھی بڑھی حالت سے ہوجائیں گے اور دنیا کی وہ اپنی گری ہوئی حالت سے اپنی گزر کرتے تھے وہ اس دن نہایت چڑھی بڑھی حالت سے ہوجائیں گے اور دنیا کی وہ اپنی گری ہوئی حالت ان کو یاد بھی نہ رہے گی۔ صحیح 3 ؎ مسلم کی اسی مضمون کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے زمین کا ہلنا اور پھٹنا اور پہاڑوں کا غبار کی طرح اڑنا اگرچہ یہ پہلے صور کے وقت ہوگا لیکن یہ قیامت کے شروع ہوجانے کی باتیں ہیں اس لئے دوسرے صور کے بعد کی باتوں کے ساتھ ان کا بھی ذکر فرمایا۔ اب قیامت کے دن سب لوگوں کی تین قسمیں جو ہوں گی ان کا ذکر فرمایا۔ داہنے ہاتھ والوں کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے روحیں نکالنے کے وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کی سیدھی طرف تھے اور بائیں ہاتھ والے وہ لوگ ہیں جو حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے۔ یہ مسلم بن یسار کی حضرت عمر ؓ والی حدیث کا مضمون ہے جس کے موافق حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے داہنے اور بائیں ہاتھ والوں کی تفسیر کی ہے۔ یہ حدیث موطا ترمذی 2 ؎ اور ابو داؤود میں ہے اگرچہ بعض علما نے اس حدیث کی سند پر یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلم بن یسار نے حضرت عمر ؓ کو نہ دیکھا نہ ان دونوں کی کبھی ملاقات ہوئی پھر یہ روایت کیونکر صحیح ہوسکتی ہے لیکن موطا مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کی سندیں ایسی نہیں ان میں یہ اعتراض نہیں ہے اس لئے یہ حدیث معتبر ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو تفسیر کی ہے۔ وہ صحیح ہے اس حدیث کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت سے ان روحوں کو نکالا جو قیامت تک دنیا میں آنے والی تھیں۔ اور داہنی جانب کی روحوں کو جنتی لوگوں کی روحیں اور بائیں جانب کی روحوں کو دوزخی لوگوں کی روحیں فرمایا۔ صحیح 3 ؎ مسلم کی ابوذر ؓ کی اس حدیث سے بھی اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے معراج کے وقت حضرت آدم (علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ کی طرف اہل جنت کی اور بائیں ہاتھ کی طرف اہل دوزخ کی روحیں دیکھیں۔ بعض مفسروں نے داہنے ہاتھ والوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نیک عمل لوگ اور بعضوں نے لکھا ہے کہ وہ لوگ جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر ان سب باتوں کو شامل اور سب پر صادق آتی ہے کیونکہ جو لوگ پیدا ہونے کے پہلے جنتی قرار پا چکے ہیں وہ ضرور دنیا میں عمل بھی نیک کریں گے اور قیامت کے دن ان کا اعمال نامہ بھی داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ داہنے ہاتھ والوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول کیا یا امتوں میں سے وہ لوگ جو نیک عملوں میں پیش قدمی کرتے رہے ان کو آگے والے اور مقرب فرمایا۔ مقرب وہ جن کے درجے جنت میں بڑے بڑے ہوں گے۔ (1 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 74۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 282 ج 4 و تفسیر الدر المنثور ص 154 ج 6۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الاعراف ص 155 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الخ ص 92 ج 1۔ )
Ayahs 56:13–26

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہو گا)

13۔ 26۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے 4 ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی 1 ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن حکیم بن معاویہ اپنے باپ اور دادا سے روایت کرتے ہیں اگرچہ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی کوئی روایت نہیں ہے لیکن ابن عدی نے اس سند کو قابل اعتبار ٹھہرایا ہے۔ مقربین کی جنت میں ساز و سامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختوں پر ٹکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ نو عمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام ‘ طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لئے ہوئے حاضر ہوں گے۔ شراب وہ ہوگی کہ جس سے دنیا کی طرح نہ سر میں درد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت حوریں ہم نشینی کے لئے موجود ہوں گی۔ مخلدون کا یہ مطلب ہے کہ وہ نو عمر خادم ہمیشہ نو عمری کی حالت پر رہیں گے۔ صحیح قول یہی ہے کہ وہ و عمر لڑکے حوروں کی طرح جنت میں جدا پیدا کئے گئے ہیں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں پھر یہ فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کسی طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزر چکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی بلند ہوں گی اور ان کا ساز و سامان بھی اعلیٰ درجہ کا ہوگا۔ (4 ؎ دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 284 ج 4۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة آل عمران ص 46 1 ج 2۔ )
Ayahs 56:27–38

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(یعنی) بےخار کی بیریوں میں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلوں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرشوں میں

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

تو ان کو کنواریاں بنایا

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والوں کے لئے

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ اس لئے ان بیروں اور کیلوں کے مزہ کو دنیا کے بیر اور کیلوں پر قیاس نہ کرنا چاہئے۔ صحیح بخاری 2 ؎ مسلم اور ترمذی میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں بعض سایہ دار درخت ایسے ہیں کہ ان کا سایہ سوار آدمی سے بھی سو برس کے عرصہ میں طے نہیں ہوسکتا ترمذی 3 ؎ نے اس حدیث کو ظل ممدود کی تفسیر قرار دیا ہے حضرت عبد 4 ؎ اللہ بن عباس کی معتبر روایتوں کے موافق جنت میں نہ سورج ہے نہ دھوپ ‘ وہاں تو ہمیشہ ایسا وقت رہے گا جیسا وقت دنیا میں طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے اس لئے وہاں کا سایہ فقط تفریح کے لئے ہوگا۔ مسند 5 ؎ امام احمد اور ترمذی میں جو روایتیں ہیں انکا حاصل یہ ہے کہ جنت میں دوھ شہد شراب اور میٹھے پانی کے دریا ہیں جن میں سے یہ چیزیں بہہ کر جنت کے ہر ایک مکان کی نہروں میں آئیں گی اور ہمیشہ وہ ہریں جاری رہیں گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور یہی حدیث ماء مسکوب کی تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میٹھے پانی کے دریا میں سے جنت کی نہروں میں پانی گرے گا اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ حضرت 6 ؎ عبد اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق جنت کی نہروں کے کنارے اور ان میں گہرائی نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے مسطح زمین پر وہ نہریں جاری ہوں گی تاکہ بغیر دقت کے ان میں سے دودھ شہد شراب پانی ہر چیز لی جاسکے۔ صحیح بخاری 7 ؎ و مسلم کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے سورج گہن کی نماز پڑھتے میں جنت اور دوزخ کو دیکھا اور جنت کے انگور کی بیل میں سے ایک خوشہ توڑنا چاہا اور پھر اللہ کا حکم نہ ہونے سے وہ خوشہ آپ ﷺ نے نہیں توڑا اور فرمایا کہ اگر میں اس خوشہ کو توڑ لیتا تو قیامت تک لوگ اس کے انگور کھایا کرتے یہ حدیث و فاکھۃ کثیرۃ کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے میوے کا ایک ایک خوشہ ہزاروں آدمیوں کے ہزار ہا برس کے کھانے کے قابل میوے سے لدا ہوا ہے لامقطوعۃ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس طرح دنیا کے میوے خاص خاص موسم پر ہوتے ہیں اور موسم کے بعد ان کی پیداواری کا سلسلہ مقطوع اور منقطع ہوجاتا ہے جنت کے میووں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ وہاں ہر موسم میں کل میوے موجود ہوں گے۔ لاممنوعۃ کی تفسیر انہی کے قول کے موافق یہ ہے کہ لیٹے بیٹھے ہر حالت میں جنتی لوگ جنت کے پیڑوں کا میوہ کھا سکیں گے۔ کسی حالت میں کچھ رکاؤ نہ ہوگا۔ فرش مرفوعہ کا یہ مطلب ہے کہ کئی کئی بچھونے اوپر تلے بچھانے سے وہ بچھونے اونچے ہوجائیں گے۔ ترمذی 1 ؎ میں ابو سعید خدری کی جو روایت ہے اس سے ان بچھونوں کی اونچائی پانسو برس کے راستہ کی معلوم ہوتی ہے۔ ترمذی 2 ؎ نے اس حدیث کو حسن غریب کہہ کر یہ کہا ہے کہ رشد بن سعد اس حدیث کی روایت عمرو بن الحارث سے تن تنہا کرتا ہے۔ یہ رشد بن سعد اگرچہ ضعیف ہے لیکن صححذ ابن حبان اور بیہقی کی سند میں عبد اللہ بن وہب نے بھی اس حدیث کو عمرو بن الحارث سے روایت 3 ؎ کیا ہے اور عبد اللہ بن وہب کے ثقہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہے۔ اس لئے یہ حدیث حسن کے درجہ سے کسی طرح کم نہیں ہے اناانشاناھن انشاء کا مطلب حضرت عبد 4 ؎ اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ ہے کہ جنت کی عورتیں ہمیشہ ناکت خدا عورت کی حالت میں رہیں گی۔ عربا کے معنی اپنے شوہر سے الفت کرنے والیاں اتحاباً کے معنی ہم عمر ہے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی ان اعلیٰ مایخطر علی البال الخ ص 1039۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 970 ج 2 و و صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا اھلھا ص 378 ج 2۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الواقعۃ ص 184 ج 2۔ ) (4 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی انھار الجنۃ ص 962 ج 4۔ ) (5 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی انھار الجنۃ ص 94 ج 2۔ ) (6 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی انھار الجنۃ ص 962 ج 4۔ ) (7 ؎ صحیح بخاری باب صلوٰۃ الکسوف جماعۃ الخ ص 143 ج 1 و صحیح مسلم کتاب الکسوف ص 398 ج 1۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی ثیاب اھل الجنۃ ص 90 ج 2۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی ثیاب اھل الجنۃ ص 90 ج 2۔ ) (3 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی فرش الجنۃ ص 984 ج 2۔ ) (4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 158 ج 6۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

39۔ 40۔ ترمذی 5 ؎ میں حضرت بریدہ ؓ کی حدیث ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی اور چالیس صفیں اور امتوں کی ہوں گی۔ اس حدیث سے یہ حساب تو صحیح معلوم ہوگیا کہ بہ نسبت اور امتوں کے اس امت کے جنتی لوگ دوگنے ہوں گے۔ اب جنتی لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اور سورة فاطر میں دو قسمیں فرمائی ہیں ایک تو اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جن کو نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور مقرب فرمایا ہے دوسرے بیچ کی راس کے لوگ جن کو سیدھے ہاتھ والے فرمایا ہے ان دونوں قسموں کے ذکر میں یہ جو فرمایا ہے مقرب لوگ پہلے لوگوں میں بہت ہوں گے اور پچھلوں میں تھوڑے اس کی تفسیر میں تابعیوں کے زمانہ سے اب تک یہ اختلاف چلا آتا ہے کہ پہلے اور پچھلے لوگوں سے اس امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں یا پہلے لوگوں سے پہلی امتیں مراد ہیں اور پچھلے لوگوں سے یہ امت مراد ہے اوپر آیت ثلۃ من الاولین و قلیل من الاخرین کی جو تفسیر گزر چکی اس میں اس اختلاف کو تو رفع کردیا گیا ہے۔ رہی اس آیت کی تفسیر اس تفسیر کی بابت طبرانی میں 6 ؎ ابی بکر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس آیت میں اولین اور آخرین سے مقصود اسی امت کے لوگ ہیں۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہیں اگرچہ بعض علماء نے اس میں کلام کیا ہے لیکن صاحب مجمع الزوائد نے اس کو ثقہ لکھا ہے۔ بعض مفسروں نے اس آیت سے آیت ثلۃ من الاولین وقلیل من الاخرین کو منسوخ جو کہا ہے وہ قول صحیح نہیں ہے۔ (5 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی کم صف اھل الجنۃ ص 91 ج 2۔ ) (6 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 159 جلد 6۔ )