55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 55:1–13

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

(خدا جو) نہایت مہربان

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن وانس ! ) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ہونے کا حق نہیں ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن صحابہ ؓ کے رو برو یہ سورة پڑھی۔ صحابہ ؓ اس سورة کو سن کر چپکے بیٹھے رہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ بہ نسبت تم لوگوں کے جن لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے زیادہ قدر دان ہیں کیونکہ جنات کے رو برو میں نے ایک رات یہ سورة پڑھی تھی تو انہوں نے ہر دفعہ آیت فبای الاء ربکما تکذبن کے بعد یہ کہا تھا کہ ولابشیء من نعمتک ربنا تکذب فلک الحمد۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کی بناء پر علما نے لکھا ہے کہ ہر دفعہ اس آیت کے بعد یہ دعا پڑھنی سنت ہے کیونکہ جنات نے آپ ﷺ کے رو برو یہ دعا پڑھی اور آپ ﷺ نے اس کو پسند کیا۔ اسی کا نام تقریری حدیث ہے علماء نے لکھا ہے کہ اس سورة کے شروع سے آٹھ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عجائبات قدرت کو ذکر فرمایا ہے پھر سات آیتوں میں دوزخ کا ذکر فرمایا ہے پھر پندرہ آیتوں میں جنت کا ذکر فرمایا ہے اس صورت میں دوزخ کا ذکر نعمتوں میں اس طرح سے شامل ہوا کہ جو شخص پہلی کی آٹھ آیتوں پر یوں عمل کرے گا کہ دنیا کی عجائبات قدرت سے خدا کو پہچانے گا اور اللہ کے کلام اور اللہ کی مرضی کے موافق نیک کام کرے گا وہ دوزخ کی آفتوں کی بچنے کی نعمت اور جنت کے حاصل ہونے کی نعمت کو پائے گا۔ غرض یہ ہے کہ بعض مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ دوزخ کا ذکر نعمتوں میں کیونکر شامل ہوسکتا ہے اس اعتراض کا جواب اس تفسیر سے جو اوپر بیان کی گئی ہے اچھی طرح نکل سکتا ہے۔ سورة نحل میں گزر 1 ؎ چکا ہے کہ مشرکین مکہ ایک شخص غلام کا نام لیتے تھے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو یہ باتیں سکھاتا ہے اس کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں دیا ہے اور دوسرے جواب سے یہاں مشرکین کو جھٹلایا ہے کہ یہ قرآن اللہ کے رسول ﷺ کو کسی بشر نے نہیں سکھایا بلکہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے جس کا نام رحمان بھی ہے یہ نام اس لئے فرمایا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے اس نام کے منکر تھے۔ چناچہ اس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے۔ قرآن کے سکھانے کا ذکر انسان کی پیدائش کے ذکر سے پہلے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کا پیدا کرنا علم دین سیکھنے اور اس کے موافق عمل کرنے کے لئے ہے۔ آیت وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ بیان سے مقصود بات چیت اور زبان کی گویائی ہے جس کے سبب سے انسان قرآن کی تلاوت اور اس کے یاد کرنے کے قابل ہوا۔ سورج چاند اپنے برجوں اور منزلوں کو حساب سے طے کرتے ہیں جس کے سبب سے دن و رات پیدا ہو کر سال اور مہینہ معلوم ہوتا ہے جس پر لوگوں کے ہزاروں کام منحصر ہیں نجم کے معنی وہ پیڑ جو بیل کی طرح زمین پر ہی بڑھتے ہیں ‘ زمین سے اونچے نہیں ہوتے۔ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ ان چیزوں کا سجدہ ان کے سایہ کا ڈھلنا ہے۔ اوپر گزرچکا ہے کہ اللہ کے گناہ جیسے مثلاً نماز نہ پڑھنا یہ حق اللہ کہلاتے ہیں اور یہ خالص دل کی توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اور بندوں کے گناہ جیسے کسی کا مال چرا لینا یہ حق العباد کہلاتے ہیں۔ فقط توبہ سے یہ گناہ معاف نہیں ہوتے جب تک صاحب حق سے اس کے حق کی معافی یا کچھ تلافی نہ ہوجائے۔ کم تولنا یا کم ناپنا بھی حق العباد میں ہے۔ اس لئے پورا تولنے کی تاکید فرمائی۔ زیادہ تفصیل اس کی ویل للمطففین میں آئے گی مگر حق العباد سے ڈرنے کے لئے صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث کافی ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ حق العباد میں لوگوں کی نیکیاں ہر صاحب حق کو اس کے بدلے میں مل جائیں گی اور یہ لوگ نیکیوں کے ثواب سے محروم ہو کر سیدھے جہنم کو چلے جائیں گے۔ کھجور عرب کا ایک خاص میوہ ہے اس لئے میووں کے عام ذکر کے بعد اس کا ذکر علیحدہ فرمایا۔ اکمام وہ خلاف ہیں جن میں کھجور کا خوشہ پھوٹنے کے وقت چھپا ہوا تھا ہے حب کے معنی ہر طرح کے اناج کا بیج ‘ علی بن طلحہ کی روایت 2 ؎ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ عصف کے معنی گھانس کے ہیں ریحان کے معنی خوشبودار درخت کے ہیں۔ (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الرحمن ص 184 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد 3 ص 370۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم۔ باب تحریم الظلم ص 320 ج 2۔ ) (2 ؎ تفسیرابن کثیر ص 271 ج 4۔ )
Ayahs 55:14–25

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت میں وہ سب حالتیں ایک ہی پتلے کی ہیں۔ ان آیتوں میں پتلے کی آخری حالت کا ذکر ہے اور سورة ال عمران میں ابتدائی حالت کا اور سورة حجر اور والصافات میں درمیانی دو حالتوں کا۔ مارج دہکتی ہوئی آگ کا وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو۔ جاڑے کا مشرق و مغرب الگ ہے جس سے دن چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور گرمی کا الگ جس سے دن بڑھ جاتا ہے ان آیتوں میں دونوں کا ذکر ہے۔ دریا سے مقصود میٹھی ندیاں اور سمندر ہے اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا۔ سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ سمندر میں جہاں میٹھی ندیاں گرتی ہیں وہاں موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے اس لئے دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے کا نکلنا فرمایا۔ جہازوں اور کشتیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خشکی میں پہاڑ قدرت کا نمونہ ہیں اسی طرح دریا میں جہاز اور کشتیاں۔ پھر فرمایا زمین پر جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا نہیں۔ اس سب کے پیچھے فنالگی ہوئی ہے باقی رہنے والی وہی ایک ذات وحدہ لاشریک ہے اب جس کی قدرت میں انسان کا پیدا کرنا اور فنا کرنا ہے اسی نے یہ جتلایا ہے کہ دنیا کا یہ سب کارخانہ اس نے بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا میں جو نیکی و بدی ہو رہی ہے ہر نیک و بد کے مرجانے کے بعد پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرکے نیکی و بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ ایک دن کیا جائے گا جو لوگ اس کے منکر ہیں انہوں نے دنیا کی حالت پر اچھی طرح غور نہیں کیا۔ صاحب غور وہی ہیں جنہوں نے دنیا کو چند روزہ سمجھ کر یہاں کچھ ایسا کرلیا جس سے دوبارہ زیست میں ان کو سرخروئی حاصل ہو۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ سمجھ دار وہی شخص ہے جو دنیا میں موت کے بعد کا کچھ سامان کرلے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ (1 ؎ ترمذی شریف ص 82 ج 2۔ )
Ayahs 55:26–30

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

26۔ 30۔ یہ تو سورة دخان میں گزر چکا ہے کہ ہر شب قدر کو سال بھر کے انتظام کی لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو نقل اتروا دیتا ہے اس کے موافق سال بھر کا انتظام دنیا کا چلتا رہتا ہے۔ اس انتظام الٰہی کے سبب سے ہر روز دنیا میں ہزاروں باتیں ایسی پیش آتی رہتی ہیں جن سے روز اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان اور نئی قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے کوئی چلتا پھرتا بھلا چنگا دم بھر میں مرجاتا ہے کوئی اس طرح کی بیماری سے کہ جس سے کسی طرح بچنے کی امید نہ تھی تندرست ہوجاتا ہے کوئی امیری سے غریبی کے حال کو پہنچ اتا ہے کوئی غریب سے امیر ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کسی کا گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف دور کرتا ہے کسی کو امیر کرتا ہے کسی کو غریب کرتا ہے اسی طرح سب باتیں اللہ کی شان اور قدرت کی نشانیاں ہیں۔ زمین پر اللہ تعالیٰ کے روز مرہ طرح طرح کے انتظامات جو جاری ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی شان معلوم ہوتی ہے یہاں تک زمین پر کے ان زمین کے انتظامات کی تفسیر ہوئی۔ اب اسی طرح آسمان پر ہر گھڑی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے طرح طرح کے احکامات سے اللہ تعالیٰ کی شان معلوم ہوتی رہتی ہے چناچہ طبرانی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ہمیشہ پچھلی رات کو اللہ تعالیٰ لوح محفوظ پر نظر ڈالتا ہے اور بہت سے حکموں کو جو لوح محفوظ میں لکھے ہیں بحال رکھتا ہے اور بہت موقوف اور منسوخ فرما دیتا ہے اور اسی کے موافق ملائکہ کو طرح طرح کے حکم اللہ تعالیٰ ہر وقت دیتا ہے جس سے ملائکہ کو طرح طرح کی اللہ کی شان اور قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے۔ صحابہ ؓ کے اس اختلاف کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ بعض صحابہ کے نزدیک نیک بختی اور بدبختی اور موت اور حیات کے احکام میں کچھ رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ اس کے مخالف ہیں۔ اور مسند 2 ؎ امام احمد نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں کہ صلہ رحم سے عمر بڑھ جاتی ہے دعادعا کی اور قضا وقدر کے حکم کی لڑائی ہوتی ہے اور سواء دعا کے اور کوئی چیزایسی نہیں ہے جو قضا و قدر کے حکم کو پھیر دے۔ اور ترمذی 3 ؎ ابو داؤود نسائی ابن ماجہ دارمی کی دعا قنوت کی روایت میں یہ ہے کہ قضاء و قدر کے مضر حکم سے یا اللہ مجھ کو بچا ان سب روایتوں سے ان صابہ کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جن کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوح محفوظ کے تمام حکموں میں رد بدل فرماتا ہے کسی حکم کی کچھ خصوصیت نہیں ہے لیکن علم الٰہی میں کچھ رد و بدل نہیں ہوتا بلکہ سال بھر کے انتظام کا نوشتہ جو فرشتوں کو دیا جاتا ہے علم الٰہی کے موافق صلہ رحمی یا دعا کے سبب سے اس میں رد و بدل ہوجاتا ہے جو رد و بدل علم الٰہی کا پورا نتیجہ ہے مثلاً ایک شخص کے لوح محفوظ کے چند سال کے حسابی اتارے میں بد عمل لکھے ہیں جس سے وہ شخص بدبخت معلوم ہوتا ہے لیکن چند سال کے بعد علم الٰہی کا یہ نتیجہ لکھا ہوا ہے کہ اس شخص کا خاتمہ بخیر ہوگا اس نتیجہ کے وقت سے پہلے فرشتوں کا علم اس رد و بدل سے قاصر ہے سورة رعد میں اس کی تفصیل زیادہ گزر چکی ہے۔ (2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الرحمن ص 723 ج 2 و تفسیر الدر المنثور ص 143 ج 6۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب البرو الصلۃ فصل ثانی ص 419۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی القنوت فی الوتر ص 86 و 87 ج 1۔ )
Ayahs 55:31–36

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس حساب اور سزا و جزا کے یہ لوگ منکر ہیں ہمارے نزدیک وہ ایسا ایک اہم کام ہے کہ وقت مقررہ پر خاص توجہ سے ہم اس کو کریں گے۔ اب آگے جنات اور انسان کے منکر حشر گروہ کو فرمایا کہ اس حساب و کتاب اور جزا و سزا سے بھاگ کر آسمان و زمین کے کسی کونے میں یہ لوگ جاسکتے ہوں تو چلے جائیں اور حساب و کتاب اور سزا کے مخمصے سے چھوٹ جائیں۔ پھر فرمایا کہ بھلا اللہ کی حکومت اور بادشاہت سے نکل کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ قبروں سے اٹھتے ہی ایک آگ اس طرح کے لوگوں کو چاروں سے سے گھیر کر محشر کے میدان کی طرف لے جائیے گی آگے اسی آگ کے شعلوں اور دھوئیں کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ اس آگ سے بچنے کے لئے ان کی مدد کرکے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور نہ یہ خود کہیں بھاگ سکتے ہیں۔ قیامت کے دن کی باتوں سے لوگوں کو دنیا میں خبردار کردینا یہ اللہ کا احسان ہے اس لئے ان باتوں کے ذکر کو نعمت فرمایا اور گزر چکا ہے کہ ابوہریرہ ؓ کی اسی حدیث کو بعض علماء نے قبروں کے اٹھنے کے وقت کا حال قرار دیا ہے اور بعض علمانے اس کو علامات قیامت میں شمار کیا ہے۔ 2 ؎ (1 ؎ صحیح بخاری۔ باب کیف الحشر ص 965 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم فصل فی امارات الساعۃ ص 393 ج 2۔ )