55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 55:72–77

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

72۔ 77 صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے خیمے دنیا کے خیموں کی طرح کپڑے کے نہیں ہوں گے بلکہ ساٹھ میل کی چوڑائی کے اندر سے خالی موتی ہوں گے ان موتیوں کے وہ خیمے ہوں گے۔ ایک ایک خیمہ کے ستر ستر دروازے ہوں گے تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ یہی دنیا کی نیک عورتیں اچھی صورت کی ہو کر جنت میں پیدا ہوں گی۔ ان کو قرآن شریف میں حور فرمایا ہے لیکن اور مفسروں نے اس قول پر اعتراض کیا ہے کہ حوریں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مخلوق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا کی ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ میں حضرت معاذبن جبل کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو عورت اپنے خاوند کو دنیا میں کچھ ایذا دیتی ہے تو وہ حور جو جنت میں اس مرد کو ملنے والی ہے اس عورت کو اپنی جگہ پر برا کہتی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ اس مرد کو کیوں ایذاء دیتی ہے یہ تیرے پاس چند روزہ مہمان ہے پھر ہمارے پاس آنے والا ہے اس حدیث سے اور اس قسم کی اور احادیث سے یہی معلومہوتا ہے حوریں دنیا کی مخلوق سیجدا ہیں۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص 460 ج 1 و صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 380 ج 2 الخ۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی آخر ابواب النکاح ص 173 و 174 ج 1۔ )
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہارا پروردگار جو صاحب جلال و عظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

78۔ ترمذی 3 ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان کو لازم ہے کہ یا ذالجلال والا کرام کا وظیفہ کبھی نہ چھوڑے۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں ثوبان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الاکرم۔ معنی ان دونوں ناموں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب عظمت ہے اس کی عظمت کے آگے کسی طرح بزرگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس واسطے اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا اور جو باتیں اللہ کی ذات کے لائق نہیں ہیں ان سے اللہ کی پاکی اور اکرام بندوں کو لازم ہے۔ (3 ؎ جامع ترمذی آخر ابواب الدعوات ص 214 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ ص 218 ج 1۔ )