Ayahs 55:37–4537۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا رنگ بدلے گا اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ کبھی آسمان کا رنگ گلابی ہوجائے گا اور کبھی سرخ۔ صحیح 2 ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جو گناہ گار اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگا کر ان کو گونگا کردیا جائے گا اور ان کے ہاتھ پیروں سے ان کے گناہوں کی گواہی ادا کرائی جائے گی اس گواہی کے بعد ان گونگوں سے پھر کچھ نہ پوچھا جائے گا بلکہ ان کے سیاہ چہرے اور کرنجی آنکھوں کی نشانی سے فرشتے ان کو پہچان لیں گے کہ یہ دوزخی ہیں پھر ان کی پیشانی کے بال ان کے پنجوں میں باندھ دیں گے اور اس طرح ان کی ایک گٹھڑی بنا کر ان کو دوزخ میں جھونک دیں گے۔ جب ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا تو ان کو ذلیل کرنے کے لئے فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جس کو دنیا میں تم جھٹلاتے تھے پھر آگ میں جلنے اور پیاس کے وقت نہایت درجہ کا کھولتا ہوا پانی پینے میں ان کی ہمیشہ کی زندگی بسر ہوگی کبھی کبھی عذاب کے طور پر یہ کھولتا ہوا پانی ان کے سر پر ڈال دیا جائے گا۔ اس پانی کے پینے اور سر پر ڈالنے سے ان کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔ ابو سعید خدری ؓ ابوہریرہ ؓ اور ابو امامہ ؓ کی حدیثیں مسند امام احمد ترمذی 3 ؎ وغیرہ کی روایت سے جو اس باب میں ہیں سورة محمد ﷺ میں وہ گزر چکی ہیں۔ حاکم نے ان حدیثوں کو صحیح کہا ہے۔ دنیا میں ان باتوں کو نصیحت کے طور پر ذکر کرکے انسان کو ان باتوں سے ڈرایا دینا یہ اللہ کا ایک احسان ہے اس لئے ان باتوں کے ذکر کو احسان فرمایا۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2 و ترمذی شریف باب ماجاء فی صفۃ النار ص 94 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ ص 409 ج 2۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2۔ )
Ayahs 55:46–5346۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دو جنتیں ملیں گی۔ بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ فقط آیتوں کے قافیہ کے لئے جنتان فرمایا تاکہ قرآن میں تکذبان وغیرہ کا قافیہ مل جائے ورنہ جنت سب کو ایک ہی ملے گی اس قول کو اور علماء نے چند طرح سے غلط ٹھہرایا ہے۔ جن پیڑوں میں ٹہنیاں زیادہ ہوں گی ان کا سایہ بھی بہت ہوگا اور ٹہنیوں میں میوہ زیادہ ہوگا اس لئے ان پیڑوں کی ٹہنیوں کا ذکر فرمایا۔ درختوں کی پرورش پانی سے ہوتی ہے اس لئے چشموں کا ذکر فرمایا۔ سلف کا بیان ہے کہ ان دو چشموں میں سے ایک پانی کا ہوگا اور ایک شراب کا۔ جس سے یہ میوے نہایت مزہ دار ہوجایں گے قسم قسم کے میوہ کا یہ مطلب ہے کہ خشک و تر جس طرح کے میوے کو جی چاہے وہ ان پیڑوں میں لگا ہوا ہوگا۔ بہقی کی 1 ؎ روایت سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی چیزوں کے دنیا میں فقط نام ہی نام ہیں اس لئے جنت کے میووں کو دنیا کے میووں سے تشبیہ دے کر کچھ زیادہ تفسیر نہیں کی جاسکتی اسی لحاظ سے صحیح بخاری 2 ؎ و مسند امام احمد کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں میں ہے کہ جتنی جگہ میں گھوڑے کا کوڑا رکھا جاتا ہے جنت کی اتنی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے۔ (4 ؎ صحیح بخاری باب الصدقۃ بالیمین ص 191 ج 1 و صحیح مسلم باب فضل اخفاء الصدقۃ ص 331 ج 1۔ )
(1 ؎ الرتغیب والترہیب۔ فصل فی ان اعلی مایخطر علی الہال الخ ص 1039 ج 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 972 ج 2 و ص 461 ج 1۔ )
Ayahs 55:54–6154۔ 61۔ معتبر سند سے بیہقی 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جس بچھو نے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا استبرق دلدار ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں 4 ؎۔ مجاہد کے قول کے موافق جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں میں کا میوہ جنتی لوگ کھا سکیں گے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن اوفی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے لو مشرق سے مغرب تک ساری زمین پر اس کی خوبصورتی کی چمک پھیل جائے۔ بعض 1 ؎ روایتوں میں یوں بھی ہے کہ اس کے حسن کی چمک سے سورج اور چاند کی روشنی ماند ہوجائے۔ آیت کا نھن الیاقوت والمرجان کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ طبرانی 2 ؎ میں حضرت ام سلمہ کی بہت بڑی حدیث ہے اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ام سلمہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ دنیا کی ایماندار عورتوں کا درجہ جنت میں بڑھ کر ہوگا یا جنت کی عورتوں کا آپ نے فرمایا نیک عملوں کے اجر کے سبب سے دنیا کی عورتوں کا درجہ جنت میں بڑھ کر ہوگا۔ ان کے چہروں پر اللہ کے حکم سے عجب طرح کا نور آجائے گا۔ طبرانی کی اس حدیث کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابی کریمہ ہے جس کے ثقہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ مسند 3 ؎ ابی یعلی اور بیہقی میں بھی اس مضمون کی روایتیں ہیں جن سے ام سلمہ ؓ کی حدیث کی تقویت ہوجاتی ہے۔ بیہقی کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع کو اگرچہ بعض علماء نے ضعیف بتایا ہے لیکن امام بخاری نے اس کو ثقہ کہا ہے جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا کی عورتیں حسن اور درجہ میں حوروں سے جنت میں بڑھ کر ہوں گی ان کے قول کی بنیاد اس حدیث پر ہے اور جو علماء حوروں کے بڑھ کر ہونے کے قائل ہیں ان کے قول کی بنیاد عوف بن مالک کی صحیح 4 ؎ مسلم کی اس حدیث پر ہے جس میں آپ نے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی اور یہ دعا کی کہ یا اللہ تو اس میت کو بہ نسبت دنیا کے گھر کے اور دنیا کی بی بی کے عقبیٰ میں اچھا گھر اور اچھی بی بی دے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبیٰ کی بیبیاں دنیا کی بیبیوں سے اس طرح اچھی اور بہتر ہوں گی جس طرح وہاں کا گھر دنیا کے گھر سے اچھا اور بہتر ہوگا۔ ظاہرا یہی آخری قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایک قوی حدیث پر ہے لیکن یہ حدیث عام ہے اس میں سے زیادہ نیک عمل والی دنیا کی عورتوں کو خاص ٹھہرانا چاہئے کیونکہ دوسرے قول کی بنیاد جن حدیثوں پر ہے ان کے باہمی تقویت کا حال بھی بیان کیا جا چکا ہے۔ نیچی نگاہ والیوں کا مطلب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ 5 ؎ کے قول کے موافق یہ ہے کہ سوائے اپنے شوہر کے دوسرے غیر مرد کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔ نہیں ساتھ سلایا ان کو کسی آدمی نے ان سے پہلے نہ کسی جن نے ‘ اس کا مطلب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے موافق یہ ہے کہ وہ کو اری ہوں گی۔ آیت کے اس ٹکڑے کو علماء نے اس بات کی دلیل ٹھہرایا ہے کہ جنات بھی جنت میں جائیں گے۔ صحیح و مسلم 6 ؎ کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ خالص دل سے اللہ کی عبادت کریں اور اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل کرے آیت ھل جزاء الاحسان الاحسان کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 147 ج 6 و تفسیر ابن کثیر ص 277 ج 4۔ ) (4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 147 ج 6۔ )
(5 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 972 ج 2۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی وصف نساء اھل الجنۃ ص 988 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغبب والترہیب فصل فی وصف نساء اھل الجنۃ ص 993 ج 4۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب۔ فصل فی وصف نساء اھل الجنۃ ص 991 ج 4۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم۔ فضل الدعاء للمیت ص 311 ج 1۔ )
(5 ؎ تفسیر ابن کثرو ص 278 ج 4۔ )
(6 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 278 ج 4۔ )
Ayahs 55:62–7162۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ عبادہ بن صامت کی روایت سے یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم نہیں ہے ورنہ صحیح بخاری کی کتاب الجہاد اور صحیح مسلم کے مجاہدین کے ثواب کے باب میں یہ حدیث موجود ہے۔ بخاری کی روایت ابوہریرہ ؓ کی ہے اور مسلم کی روایت ابو سعید خدری کی ہے اسی جنت الفردوس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔ جنتیوں کے درجوں سے مقصود جنت کی منزلیں اور جنت کے مکانوں کے قطعات ہیں چناچہ صحیح بخاری 3 ؎ اور صحیح مسلم کی ابو سعید خدری کی روایت میں ہے کہ جو جتنی لوگ جنت کی نیچی کی منزل میں ہوں گے ان کو جنت کی اوپر کے منزل کے لوگ تاروں کی طرح نظر آئیں گے غرض ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا ان کو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک انکے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلہ میں پھر ان منزلوں کے ساز و سامان کا ذکر فرمایا کہ بعض منزلوں میں اعلیٰ درجہ کا ساز و سامان اور بعض میں ان سے کم درجہ کا مثلاً ایک جگہ فاکھۃ فرمایا اور دوسری جگہ کل لفظ نہیں فرمایا۔ ہر طرح کی منزلوں کے ساز و سامان کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الٰہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدر ساز و سامان والی جنت کی دو منزلیں اس کو ملیں گے۔ امت کے سب لوگوں سے بڑھ کر اللہ کا خوف تو اللہ کے رسول کے دل میں ہوتا ہے چناچہ انس 4 ؎ بن مالک کی صحیح بخاری و مسلم کی حدیث جس میں بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ کی عبادت کو کم ٹھہرا کر آپ سے بڑھ کر عبادت کرنے کا قصد کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ اب اللہ کے رسول کے بعد جس قدر خوف الٰہی امت کے علماء اور صلحاء کے دل میں ہوگا اسی قدر ساز و سامان کی جنت کی دو منزلیں ان کو ملیں گی۔
ا ابو سعید ؓ خدری 1 ؎ کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے جنت کے اعلیٰ منزلوں کا ذکر فرمایا تو بعض صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ وہ منزلیں اللہ کے رسولوں کی ہوں گی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ لیکن جن لوگوں کا یقین اللہ کے احکاموں پر پورا ہے ان کو بھی یہ منزلیں ملیں گی اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ امت کے علماء اور صلحاء میں سے ان کے ایمان اور عقبیٰ کے خوف کے موافق جنت کی منزلوں کی درجہ بندی ہوگی اس درجہ بندی کا ذکر سورة النساء کی آیت ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصالحین میں گزر چکا ہے۔ مدھامتن کی تفسیر حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس گہرے سبز رنگ کی فرمائی ہے جس کی سبزی میں سیرابی کی زیادتی سے سیاہی کی جھلک پیدا ہوجائے پہلے دو جنتوں کے پیڑوں میں ٹہنیوں کی زیادی کا ذکر تھا جو یہاں نہیں ہے۔ نضاختان کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس 3 ؎ نے لبالب کی فرمائی ہے پہلے کے دونوں چشموں میں لباب ہونے کے بعد بہنے کا ذکر تھا جو یہاں نہیں ہے۔ خیرات حسان کے معنی خوبصورت خوش اخلاق عورتیں۔ پہلے کانھن الیاقوت والمرجان فرمایا تھا جو یہاں حور مقصور ات فی الخیام ہے۔ وہاں فیھن قاصرات الطرف فرمایا تھا جو عورتیں غیر مرد سے خود اپنی نگاہ کو روکیں اور جن عورتوں کی نگاہ کسی روکنے والے کے حکم سے روکی جائے ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ منکئین علی رفدف خضر کے معنی سبز قالین وہاں ایسے بچھونے فرمائے تھے جن کے استر دلدار ریشمی کپڑے کے تھے اور ابرے کی تعریف بیان سے باہر تھی یہاں فقط سبز قالین فرمائے ہر نفیس چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔ مفسرین نے اگرچہ اس میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ اس رکوع میں جنت کی جن دو منزلوں کا پہلے ذکر فرمایا ہے وہ اعلیٰ ہیں یا پچھلی دو منزلیں اعلیٰ ہیں لیکن ساز و سامان کے مقابلہ سے تو اول کی دونوں منزلیں اعلیٰ معلوم ہوتی ہیں جس طرح امیر آدمی دنیا میں دو مکان بنا کر دل بہلانے کے لئے کبھی ایک میں رہتے ہیں کبھی دوسرے میں اسی طرح خدا کے خوف سے برا کام چھوڑنے والوں کو عقبیٰ میں دل بہلانے اور نقل مکان کرنے کے لئے جنت میں دو مکان دیئے جائیں گے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب درجات المومنین فی سبیل اللہ الخ ص 391 ج 1 و صحیح مسلم۔ باب ما اعداللہ تعالیٰ للمجاھدین الخ ص 135 ج 2۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی صفۃ الجنۃ واھلھا فصل اول ص 496۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار 970 ج 2 و ص 461 ج 1 و صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 378 ج 2۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری کتاب النکاح ص 757 ج 2 و صحیح مسلم باب استحباب النکاح الخ ص 449 ج 1۔ )
(1 ؎ حوالہ کے لئے دیکھئے صفحہ گزشتہ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 279 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 279 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 279 ج 4۔ )