54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 54:1–5

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

1۔ 5۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی ‘ مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ چاہا۔ اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض علما نے اس آیت کے معنی میں یہ جو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا معجزہ جو ہوا ہے اس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ بلکہ جس شق القمر کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک قیامت کی نشانی ہے جب اور نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی۔ اس وقت یہ نشانی بھی ظاہر ہوگی۔ یہ قول قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مضمون یہ ہے کہ یہ معجزہ آنحضرت ﷺ سے ظاہر ہوا اور مشرکوں نے اس کو جادو بتایا اور یہ کہا کہ ہماری آنکھوں پر تو جادو کا اثر چھاپا ہوا ہے۔ باہر کے آنے والے مسافروں سے اس کا حال پوچھنا چاہے۔ اس صورت میں اگر اس وقت یہ معجزہ ظاہر نہیں ہوا تو پھر ان لوگوں نے جادو کس چیز کو بتایا اور مسافروں سے انہوں نے کس بات کی تصدیق چاہی۔ بعض روایتوں میں دو دفعہ شق القمر ہونے کا جو ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ راوی کا سہو ہے جو دو ٹکڑوں کو دو دفعہ کا لفظ روایت کردیا ہے یہ جو ایک اعتراض مشہور ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب تفہیمات الہیہ میں شق القمر کے معجزہ کا انکار کیا ہے یہ غلط ہے۔ شاہ صاحب نے تو تفہیمات میں یہ لکھا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرب قیامت کے ساتھ شق القمر کا ذکر فرمایا ہے اس لئے اس لحاظ سے یہ قیامت کے قریب ہونے کی ایک نشانی ہے اور آنحضرت ﷺ نے یہ نشانی دکھا کر لوگوں کو اس نشانی سے آگاہ کیا ہے۔ اس واسطے یہ آپکا ایک معجزہ ہے۔ اس معجزہ کا انکار کب نکلتا ہے بلکہ جس لحاظ سے شق القمر معجزہ ہے اس کی تفہیمات الہیہ کی اس عبارت میں ایک تفصیل ہے اور یہ تفصیل کچھ شق القمر پر منحصر نہیں۔ قیامت کی ہر ایک نشانی کے حق میں یہی بات کہی جاسکتی ہے جو شاہ صاحب نے شق القمر کے حق میں کہی ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری زمانہ میں آنا قیامت کی ایک نشانی ہے اور آنحضرت ﷺ کا اس نشانی سے لوگوں کو آگاہ کرنا یہ آپ ﷺ کا معجزہ ہے شق القمر اور قیامت کی اور نشانیوں میں فرق اتنا ہی ہے کہ اور نشانیوں کے بیان فرمانے کا معجزہ تو آپ کا ظاہر ہوچکا اور وہ نشانیاں اپنے وقت پر ظاہر ہو کر ان نشانیوں کے ظاہر ہونے کے معجزہ کی تصدیق اس وقت ہوگی۔ اور شق القمر میں یہ دونوں باتیں ہو چکیں۔ اگر وہ دیکھیں کوئی نشانی ‘ نشانی سے مقصود یہی شق القمر ہے۔ جادو چلا آتا کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کی جس طرح اور جادو کی باتیں ہیں ویسی ہی ایک بات یہی بھی ہے اور ہر کام ٹھہر رہا ہے ‘ کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی میں نیک و بد قرار پا چکے ہیں۔ اس لئے بد لوگ اپنی بدی سے باز نہ آئے اور معجزہ کو جادو بتایا۔ اب اگے فرمایا کہ رسولوں کے جھٹلانے والی پچھلی امتوں کے عذاب میں گرفتار ہوجانے کا حال جو جگہ جگہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے اس میں بھولے بھٹکے کے راہ پر لانے اور سرکشی سے باز آنے کے لئے بڑی حکمت سے کام لیا گیا ہے لیکن علم الٰہی کے موافق ازلی کمبخت جن کے سر پر سوار ہے ڈرانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر مچھ اثر نہیں ہوتا ہے اس لئے وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں جیسی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں۔ ان باتوں کی قدر ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگی جب ان کو آگ میں جھونک دیا جائے گا اور انہیں ذلت دینے کیلئے اللہ کے فرشتے ان سے گھڑی گھڑی پوچھیں گے کہ جن چیزوں سے تم لوگ دنیا میں نہیں ڈرتے تھے بلکہ ان کے ڈرنے کو جادو کی سی وہمی باتیں بتاتے تھے اب ذرا خوب آنکھیں کھول کر دیکھ لو کہ اس آگ میں ان سانپ بچھوئوں میں کچھ اثر ہے یا جادو کی سی وہمی خیالی چیزیں ہیں۔ چناچہ سورة والطور میں یہ ان لوگوں کے ذلت دینے کا ذکر گزر چکا ہے۔ ابو دائود نسائی اور ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے دوزخ کے عذاب کی سختیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ یا اللہ جب دنیا میں بنی آدم تیرے رسولوں کی معرفت اس عذاب کا حال سن لیں گے تو وہ اس سے بچنے کی ایسی کوشش کریں گے کہ شاید دوزخ خالی رہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اس میں نہ جائے پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی وہ خواہش اور لذتیں جبرئیل (علیہ السلام) کو دکھائیں جن کے سبب سے لوگ دوزخ میں جائیں گے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یا اللہ اب تو مجھ کو یہ خوف ہے کہ شاید بنی آدم میں سے بہت کم لوگ دوزخ سے نجات پائیں گے۔ ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی خواہشوں میں پھنس کر عقبیٰ سے غافل ہوجانا یہی گویا دوزخ کا سیدھا راستہ ہے مسند 2 ؎ بزار میں انس بن مالک سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن سورج کے غروب ہونے کے قریب خطبہ پڑھا جس میں لوگوں کو طرح طرح کی نصیحت کی اور فرمایا جس طرح اب تھوڑا سا دن باقی ہے اسی طرح قیامت کے آنے میں اب تھوڑا سا عرصہ باقی ہے۔ عقبیٰ کے لئے جو کچھ کرنا ہے وہ چستی سے کیا جائے۔ ان آیتوں میں قیامت کے قریب ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن موسیٰ بن خلف ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة القمر ص 721 ج 2 و جامع ترمذی تفسیر سورة القمر ص 184 ج 2۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی۔ باب ماجاء حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشھوات ص 93 ج 2۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 260 ج 4۔ )
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی پروا نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ؟ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے

6۔ 8۔ اوپرذکر تھا کہ علم الٰہی کے موافق ازلی کمبختی جن کے سر پر سوار ہے ڈرانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے بلکہ ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف شرمندہ شکل نیچی نگاہ کئے ہوئے دوڑیں گے اس وقت ان کا کیا سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بعض علماء کے قول کے موافق جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسرے صور کے وقت بد لوگوں کی قبروں پر ایک آگ تعینات ہوجائے گی جو ان کو گھیر کر حساب و کتاب کے لئے محشر کے میدان میں لے جائے گی۔ بعض علماء نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو علامات قیامت کے احوال کی تفصیل قرار دیا ہے۔ اس صورت میں یہ آگ وہ ہے جس کا ذکر حذیفہ بن اسید کی صحیح مسلم 2 ؎ کی روایت میں ہے کہ قیامت سے پہلے عدن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ھانک کر شام کے ملک کی طرف لے جائے گی پھر وہیں وہ لوگ مریں گے اور حشر کے وقت وہیں سے اٹھیں گے۔ ترمذی 3 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھے لوگ تو حشر کے دن قبروں سے اٹھ کر اپنے اپنے عملوں کے موافق بعض تو سواریوں پر محشر کے میدان تک جائیں گے اور بعض پیدل اور برے لوگوں کو فرشتے ان بد لوگوں کے منہ کے بل گھیسٹتے ہوئے محشر کے میدان تک لے جائیں گے ترمذی نے اس اس حدیث کو حسن کہا ہے حاصل یہ ہے کہ محشر کے میدان کی ذلتوں کے سوا بد لوگوں کو قبروں سے اٹھنے کے ساتھ ہی ذلت کے وہ سامان پیش آجائیں گے جس سے وہ شرمندہ شکل ہوجائیں گے اور ان کی نگاہ نیچی ہوجائے گی اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں۔ ان سختیوں کو دیکھ کر بد لوگ یہ کہیں گے کہ آج کا دن مشکل آیا۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب کیف الحشر ص 965 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم فی امارات الساعۃ ص 393 ج 2۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی شان الحشر ص 78 ج 2۔ )
Ayahs 54:9–36

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندوں کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الہا) میں (انکے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلا لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دئیے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خودپسند ہے

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح ! ) ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلا یا تو اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

(دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے انکو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزر چکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش میں کے منکر لوگوں نے ایسا بڑا ظاہر معجزہ چاند کے دو ٹکڑے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے اور اس کو جادو بتایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر اخیر کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ان منکروں سے پوچھو کہ ان منکروں میں کونسی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا۔ کیا اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی نوشتہ آگیا ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں گے سو کریں گے۔ اور اللہ ان سے کچھ مواخذہ نہ کرے گا۔ ان کو اپنے جتھے کا یہ گھمنڈ ہے کہ ان کے جتھے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرکے عذاب الٰہی کو ٹال دیں گے۔ پھر فرمایا کہ تھوڑے دنوں میں ان کا یہ جتھا شکست کھا کر بھاگ جائے گا حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے دن منکروں کے جتھے کی شکست کھانے اور بھاگنے کا مطلب اچھی طرح 1 ؎ سمجھ میں آیا فرعون اور اس کی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوجانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی اور یہ سورة قصص میں گزر چکا ہے کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد عام عذاب سے پھر کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی۔ اس لئے پہلے صاحب شریعت رسول نوح (علیہ السلام) کی قوم سے ساس طرح کی قوموں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو عام عذاب سے ہلاک ہوئی ہیں اور فرعون اور اس کی قوم پر یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ان آیتوں میں قریش کی تنبیہ مقصود ہے اس سبب سے اس طرح کی قوموں کا سلسلہ وار ذکر فرمایا۔ لیکن اختصار کی نظر سے اہل مدین کے ذکر کو یہاں مخدوف فرما دیا۔ یہ جو فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو جھڑکا۔ اس کی تفسیر سورة شعراء میں گزر چکی ہے کہ ان کی قوم نے ان کو پتھروں سے کچل ڈالنے کی دھمکی دے کر جھڑکا تھا۔ ولقد انذرھم بطشتنا فتماروا بالنذر کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہرچند عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر ان کی قوم نے ان کی نصیحت نہ سنی اور اس نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 266 ج 4۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 363 ج 4۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرہ الموت فصل ثالث ص 141 و 142۔ )