Ayahs 54:37–4837۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے خوفزدہ ہو کر ان مہمانوں کی خبر کو ان لوگوں سے چھپایا۔ مگر لوط کی بی بی نے قوم کے لوگوں کو ان مہمانوں کی خبر کردی۔ وہ لوگ حضرت لوط کے گھر پر چڑھ آئے حضرت لوط نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا ان لوگوں نے دروازہ توڑ کر گھر کے اندر گھسنے کا ارادہ کیا اس وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک پر مار کر جتنے لوگ آئے تھے سب کو اندھا کردیا یہ رات کا وقت تھا یہ لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ دھمکی دے کر چلے گئے کہ صبح کو ہم تم سے سمجھ لیں گے آخر صبح کو وقت مقررہ آتے ہی وہ تمام بستی جبرئیل (علیہ السلام) نے الٹ دی اور پھر پتھروں کا مینہ برسا اور سب ہلاک ہوگئے۔ اب انکی بستی کی جگہ ایک بدبودار پانی کا چشمہ ہے۔ ذوقوا عذابی و نذر کو گھڑی گھری تاکید کے لئے فرمایا تاکہ قریش اس بات کو خوب سمجھ لیں کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور ان کی نصیحت کے نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہے۔ آیت سیھزم الجمع ویولون الدبر آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے کیونکہ بدر کی لڑائی سیبات برس پہلے مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور بدر کی لڑائی میں بالکل اس کے موافق ظہور ہوا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے میدان جنگ میں لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی فتح کی دعا کی اور پھر آپ یہ آیت پڑھتے ہوئے اس جھونپڑی میں سے نکلے جو میدان جنگ میں صحابہ نے آپ کے لئے ڈال دی تھی۔ حاصل یہ ہے کہ لشکر اسلام کی فتح کا عام وعدہ تو اللہ نے اپنے رسول سے کیا تھا مگر یہ بات معلوم نہ تھی کہ کون سی لڑائی میں اس وعدہ کا ظہورہو گا۔ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کم اور دشمنوں کے لشکر کی تعداد اور زیادہ دیکھ کر جب آپ نے فتح کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس لڑائی کے وقت اس آیت کا وعدہ کا ظہورہو گا اس لئے آپ نے یہ آیت پڑھی اور آپ کے اس آیت کے پڑھنے سے حضرت عمر اور صحابہ کو آیت کا مطلب خاص طور پر معلوم ہوگیا مسلم کی سند 2 ؎ میں اس بات کی صراحت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تو بدر کے قصے کے وقت موجود نہیں تھے پھر انہوں نے یہ حدیث آنحضرت ﷺ سے کیونکر سنی۔ اب آگے فرمایا کہ دنیا میں جو قریش کی شکست کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کا ظہور تو ہوگا لیکن اصل وعدہ تو ان سے آخرت کے عذاب کا ہے جس کے ظہور کا وقت قیامت ہے جو بڑی آفت کا دن ہے اور نہایت کڑوی گھڑی ہے جس میں اس طرح کے نافرمان لوگ آگ میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور ان کے ذلیل کرنے کو اللہ کے فرشتے یہ کہیں گے لو آج اس آگ مزہ چھکو جس کو دنیا میں تم لوگ جھٹلاتے تھے۔ طبرانی میں معتبر سند سے انس 3 ؎ بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری دنیا میں لا کر مشرق میں رکھی جائے تو ملک مغرب کے شہروں میں اس کی حرارت پائی جائے گی اس مضمون کی حدیثیں 1 ؎ اوپر گزر چکی ہیں کہ دوزخ کی آگ تین برس تک دہکائی گئی ہے اور اس کی حرارت دنیا کی آگ سے اونہتر حصے زیادہ ہے غرض جن آیتوں میں دوزخ کی آگ کا مبہم طور پر ذکر آیا ہے یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور حدیثیں ان آیتوں کی تفسیر ہیں۔ اور یہ بھی اوپر سے گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا 2 ؎ کہ میں لوگوں کی کو لپ بھربھر کر دوزخ کی آگ سے ان کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن لوگ اپنی خواہش نفسانی میں پھنس کر اس آگ میں گرجانے کی ایسی جرأت کر رہے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس آگ سے بچنے کی توفیق دے اور ہر شخص کے دل میں اپنے رسول کی کوشش کا اثر پیدا کرے۔ (2 ؎ صحیح مسلم باب شفقتہ ﷺ علی امتہ الخ ص 248 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ تعالیٰ اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم الایۃ ص 564 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب الامدا ذافی غزوۃ بدر الخ ص 93 ج 2۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء ان نارکم ھذا جزء من سبعین الخ و باب منہ ص 96 ج 2۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی شدۃ حرھا وغیرہ ذلک ص 870 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء ان نارکم ھذا جزء من سبعین الخ و باب منہ ص 96 ج 2۔ )
Ayahs 54:49–5549۔ 55۔ مسند 3 ؎ امام احمد اور صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ سے قضاء و قدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضاء و قدر کے بھی وہ لوگ جو منکر تھے یہ انکار اور ہے اور صحابہ ؓ کے آخر زمانہ میں بصرہ کے ایک شخص معبد الجہنی کے سبب سے اہل قبلہ میں ایک اختلاف قضاء و قدر کے مسائل میں جو پڑا ہے یہ اختلاف اور ہے۔ حاصل اس اختلاف کا یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ نیک و بد دنیا میں ہونے والا تھا اس سب کو اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اب جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ اللہ کے علم ازلی اور لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق ہو رہا ہے یہ قول عام صحابہ اور تابعین کا آیات قرآنی اور صحیح حدیثوں کے موافق ہے مگر فرقہ معتزلہ میں سے ایک گروہ معبد جہنی کا پیرو اس کے مخالف ہے اس فرقہ کا نام فرقہ قدریہ ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ بندہ جو کچھ کرتا ہے وہ مستقل طور پر خود کرتا ہے۔ بندہ کے کسی کام کے کرنے سے پہلے بندے کے کام سے اللہ کے علم ازلی کو کچھ تعلق نہیں ہے قدریوں میں کے بعض متاخرین تقدیر الٰہی کے تو قائل ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ نیکی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے موافق ہے اور بدی بندہ خود کرتا ہے۔ تقدیر الٰہی کو بدی میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ بدی کا پیدا کرنے والا اللہ ہے اور بد کام کرنے والا بندہ ہے۔ اسی بات میں اہل سنت نے فرقہ قدریہ کے رد میں صدہا کتابیں لکھی ہیں غرض جس طرح اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کے رسول برحق ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح قضاء و قدر پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت عمر ؓ کی اس حدیث میں جس میں جبرئیل (علیہ السلام) نے لوگوں کی تعلیم کے لئے آنحضرت ﷺ سے دین کے چند مسئلے پوچھے ہیں اس حدیث میں قضاء و قدر پر ایمان لانے کا ذکر بھی اسی طرح ہے جس طرح اللہ و رسول پر ایمان لانے کا ذکر ہے اسی واسطے ابو داؤود و مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اخیر زمانہ میں قضا و قدر کے منکر لوگ پیدا ہوں گے وہ اس امت کے مجوس ہیں ان کی بیمار پرسی کو اور ان کے جنازہ کے ساتھ دینداروں کو نہیں جانا چاہئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جس طرح مجوس لوگ کہتے ہیں کہ نیکی کا تعلق نور سے ہے اور بدی کا تعلق اندھیرے سے ہے۔ قدریہ فرقہ کا مذہب بھی اس کے قریب ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس فرقے کو اس امت کا مجوس فرمایا ایک فرقہ جبریہ ہے جس فرقہ نے قضاء قدر کے مسئلہ سے یہ بات نکالی ہے کہ بندہ بالکل مجبور ہے جو کچھ نیک و بد بندہ کرتا ہے وہ سب خدا کی طرف سے ہے بندہ کا اس میں کچھ اختیار نہیں۔ اہل سنت نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ کسی شے کے موجود ہونے سے پہلے اس کا حال صحیح انداز سے معلوم کرلینا اور بات ہے اور کسی شخص کو کسی کام پر مجبور کرنا اور بات ہے۔ قضاء و قدر کے مسئلہ سے یہ بات کیونکر نکل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے بندہ کا اختیار اور ارادہ سلب کرکے بندہ کو مجبور کردیا ہے۔ رہی یہ بات کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے یہ بات معلوم کرلی تھی کہ بنی آدم کو اختیار و ارادہ دے کر دنیا میں پیدا کیا جائے گا تو آدمی اپنے اختیار اور ارادہ کو نیک کاموں میں مصروف کریں گے۔ اور اتنے بد کاموں میں پھر آخر ان بد آدمیوں کو نیک پیدا کرنا بھی تو خدا کی قدرت میں تھا اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں تو سب کچھ ہے مگر یہ صورت جبر کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اختیار اور ارادہ کے موافق بد کو مجبور کرکے نیکی پر لگاتا اس طرح کا مجبوری کا ایمان خدا کی جناب میں مقبول نہیں۔ اسی واسطے جب قیامت کی علامتیں نمودار ہوجائیں گی تو پھر کسی کا ایمان اور کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی اور نامہ اعمال کے کاغذ لپیٹ کر فرشتے آسمان پر چلے جائیں گے اور توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ بعض علماء نے تو قضا و قدر کے ایک ہی معنی بتائے ہیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ قدر اور تقدیر کے معنی تو اس ازلی اندازہ کے ہیں جو اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اور قضاء وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی اور لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق اب دنیا میں روزانہ ہو رہا ہے۔ آیت فقضاھن سبع سموت سے اس قول کی تائید نکلتی ہے۔ اور ان آیتوں کی ترتیب بھی اسی قول کے موافق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انا کل شیء خلقناہ بقدر میں تقدیر کا ذکر فرما کر پھر وما امرنا الاواحدۃ کلمح بالبصر میں اس ایجاد کا ذکر فرمایا ہے جس کا ظہور روزانہ دنیا میں ہو رہا ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے موافق اور اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کی تقدیر اور اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے باہر نہیں ہے اللہ کی قدرت ایسی زبردست ہے کہ ایک کلمہ کن کے کہنے سے پلک جھپکانے میں جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے کسی چیز کے پیدا ہونے میں کچھ دیر نہیں لگتی اور آدمی میں اللہ تعالیٰ نے ایک صفت پیدا کی ہے جس کا نام اختیار ہے اور بندہ اس اختیار میں ایسا بےبس نہیں ہے جس طرح رعشہ والا آدمی اپنے ہاتھ کی لغزش میں بےبس ہے بلکہ رغبت کی چیز کی طرف رغبت اور نفرت کی چیز سے نفرت آدمی اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ اس اختیار کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے معلوم کیا اور اس معلوم کرنے پر تقدیر کی بناء اور بندہ کے اختیار پر عذاب وثواب کی بناء رکھی ہے۔ پھر فرمایا اسی بناء پر قریش کے ہم خیال جن پچھلے لوگوں نے اپنا اختیار اللہ کے رسولوں اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں صرف کیا۔ طرح طرح کے عذابوں سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو ہلاک کردیا اور عقبیٰ کا سخت عذاب جدا ان کو بھگتنا پڑے گا۔ ہر نصیحت پکڑنے والے کو اس سے نصیحت پکڑنی چاہئے تاکہ حال کے لوگوں کا بھی وہی انجام نہ ہو جو ان کے ہم خیال لوگوں کا ہوا کس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر انسان کے پیچھے دو کاتب مقرر ہیں جو اس کا چھوٹا بڑا نیک و بد سب قول و فعل لکھتے رہتے ہیں اور یہ انتظام سزا و جزاء کے لئے ہے جو اگلے پچھلے سب لوگوں سے متعلق ہے اب آگے اللہ کے عذاب سے ڈر کر اللہ کے کلام سے نصیحت پکڑنے والوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے نیک عملوں کی جزاء میں ان کے رہنے کو باغ ملیں گے جن میں پانی ‘ دودھ شراب اور شہد کی نہریں جاری ہوں گی اور طرح طرح کے میوے اور ہر طرح کی راحت کے کے سامان مہیا ہوں گے اور اسی ذی اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ان کی بڑی عزت ہوگی کہ وہ بادشاہ جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کے خاص اقتدار کی طرح اس کے اقتدار کی کوئی حد نہیں ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم میں مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ادنیٰ اہل جنت کو دنیا کی بادشاہت سے دس گنا ساز و سامان راحت کا جنت میں دیا جائے گا اس قسم کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں۔ بارگاہ الٰہی میں قیامت کے دن اہل جنت کی جو عزت و توقیر ہوگی اس کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔
اگرچہ سلف نے اس سورة کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف کیا ہے لیکن معتبر سند سے مسند امام احمد میں اسماء بنت ابی بکر سے جو حدیث ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مکی ہے کیونکہ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کو مکہ میں یہ سورة پڑھتے ہوئے سنا۔
(3 ؎ صحیح مسلم باب کلی شیء بقدر ص 336 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم۔ کتاب الایمان۔ ص 27 ج 1۔ )
(2 ؎ سنن ابو داؤود۔ باب فی القدر ضارہ 30 ص۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم ‘ باب اثبات الشفاعۃ و اخراج الموحدین من النار۔ ص 106۔ )