56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 56:41–56

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) اور نہ خوشنما

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تھوہر کے درخت کھاؤ گے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر اسی سے پیٹ بھرو گے

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی

41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کو کھلایا جائے گا اور اس کے کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی ان کو پلایا جائے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی۔ سورة المرسلات میں آئے گا کہ حساب سے فارغ ہونے تک ایسے لوگوں پر دوزخ کی آگ کا دھواں سایہ کی طرح چھا رہے گا جس میں بڑی بڑی چنگاریاں آگ کی ان لوگوں پر جھڑتی رہیں گی۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دھویں کا سایہ میں نہ تو کچھ ٹھنڈک ہے نہ وہ سایہ کچھ ان کی عزت بڑھانے کے لئے ہوگا بلکہ وہ تو ان پر آگ کی چنگاریاں برسانے کا گویا ایک بادل ہوگا۔ ان آیتوں میں ایسے لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا سبب بھی بتایا کہ یہ لوگ اپنی خوشحالی میں ایسے بدمست ہوگئے تھے کہ اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے اور دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبیٰ کے منکر تھے۔ حالانکہ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اس طر کے سب اگلے پچھلوں کو جمع کرکے ان کو زقوم اور کھولتا پانی اس طرح کھلایا پلایا جایا کرے گا جس طرح اصرار سے مہمان کو کھانا پانی کھلایا پلایا جاتا ہے ھیم ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن کو تونس ہوجاتی ہے اور کتنا ہی پانی وہ پی جائیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ نزل اس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ‘ دوزخ کا تفصیلی حال جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ تم لوگوں کو معلوم ہوجائے تو تمہاری ہنسی کم ہوجائے اور ہر وقت تم روتے رہو۔ اس سے معلوم ہا کہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق آنحضرت ﷺ نے دوزخ کا جو کچھ حال بیان فرمایا ہے وہ مختصر ہے تفصیلی بیان دوزخ کا اس سے بہت زیادہ ہے۔ (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2۔ ) (2 ؎ الرتغیب الترہیب فصل و شراب اھل النار ص 894 ج 4 ایضاً فی فصل طعام اھل النار ص 899 ج 3 و جامع ترمذی باب ماجاء فی طعام اھل النار ص 95 و 96 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب الامر بتحسین الصلوٰۃ واتمام مھا الخ ص 170 ج 1۔ )
Ayahs 56:57–61

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے، تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں

57۔ 61۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لئے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے۔ ورنہ یہ کسی عقل مند کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجانا آنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو۔ سورة الزمر میں گزر چکا ہے ولئن سئلنھم من خلق السموت والارض لقوسلن اللہ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کے اقرار پر یہ لوگ اس لئے مجبور ہیں کہ اس کے انکار کا کوئی راستہ یہ لوگ نہیں پاتے۔ اسی واسطے یہاں فرمایا کہ جس بات کے انکار کرنے کا کوئی راستہ یہ لوگ نہیں پاتے اس کا اقرار بھی یہ لوگ دل سے نہیں کرتے اتنا نہیں سمجھتے کہ مرد عورت کی صحبت کے بعد عورت کے رحم میں منی جاتی ہے تو خلاف عقل اس ایک قطرہ پانی سے ان کو ان کے بڑوں کو کس نے پیدا کیا۔ پھر ایک ہی طرح کے پانی کے قطرہ سے سب پیدا کئے ان میں کوئی بڈھا ہو کر مرتا ہے اور کوئی اس عمر کو نہیں پہنچتا کہیں میاں بی بی کی بارہا صحبت ہوتی ہے ہزارہا منی کے قطرے رحم میں جاتے ہیں اور ایک چوہے کا بچہ بھی نہیں پیدا ہوتا۔ جس صاحب قدرت نے آدم (علیہ السلام) کے مٹی کے ایک پتلے میں سلسلہ بہ سلسلہ قیامت تک کی یہ سب حالتیں پیدا کیں تو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہاری سمجھ سے باہر ہیں اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ تمہاری سمجھ سے باہر پھر دوبارہ جس حالت میں چاہے تم کو پیدا کر دے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود صحیح ابن حبان میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بناتے وقت تمام زمین کی مختلف قسم کی مٹی لی ہے اس لئے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ‘ کوئی نیک مزاج کوئی بدمزاج ‘ ترمذی اور ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس حدیث سے بھی انسان کی سمجھ سے باہر اللہ کی قدرت کا نمونہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مٹی کے پتلے میں مختلف قسم کی مٹی ملا کر ایک کردیا۔ اور پھر سلسلہ بسلسلہ قیامت تک اس کا اثر مختلف رکھا گیا۔ دنیا میں کوئی طبیب ایسا ہے کہ مختلف تاثیر کی چند دواؤں کا ایک نسخہ تجویز کرے اور پھر ہر مفرد دوا کا جدا جدا اثر بھی باقی رکھے۔ (1 ؎ ترمذی شریف سفسیرس ورۃ البقرۃ ص 140 ج 2 و ابو داؤود باب فی القدر پارہ نمبر 30 ص۔ )
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

62۔ دنیا میں جب کوئی آدمی ایسا بڈھا یا ایسا بیمار ہوجاتا ہے کہ اس کو اپنی زیست کا بھروسہ کم ہوتا ہے تو زندگی کی راحت سے بسر کرنے کے جو سامان ہیں مثلاً مکان کا بنانا یا نوکری تجارت یا کسی اور دہندے کا کرنا اس طرح کا زیست سے ناامید اور بےبھروسہ آدمی پھر ان راحت کے سامانوں میں زیادہ دل نہیں لگاتا کیونکہ یہ سمجھتا ہے کہ جب جینا ہی بےبھروسہ ہے تو زیست کو راحت سے بسر کرنے کے سامان کی کیا ضرورت ہے کس لئے کہ جب زیست ہی نہیں تو زیست کو راحت سے بسر کرنے کا موقع کہاں ہے یہی حال منکرین حشر کا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زیست پر ان لوگوں کو پورا یقین نہیں ہے اس لئے دوبارہ زیست کو راحت سے بسر کرنے کے جو سامان ان کو بتائے جاتے ہیں کہ اللہ کو ایک جانو اللہ کی مرضی کے موافق کام کرو۔ کوئی کام برا اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی کی التجا کرو تو یہ باتیں ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس خرابی کے دفع کرنے کے لئے شروع میں مرنے کے بعد پھر جینے پر ایمان لانا ضروری ٹھہرایا ہے اور منکرین حشر کو قرآن شریف میں جگہ جگہ طرح طرح کی مثالوں سے اللہ تعالیٰ نے قائل کیا ہے تاکہ پہلے ان لوگوں کے جی میں مرنے کے بعد پھر جینے کا یقین پور طور پر پیدا ہوجائے تو پھر اس دوبارہ زیست کی راحت سے بسر کرنے کے جو سامان ان لوگوں کو بتائے جائیں گے ان سامانوں کے بہم پہنچانے کا فکر بھی ان کے دل میں خودبخود پیدا ہوجائے گا اس آیت میں ایک سیدھی مثال سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ پہلے تم بالکل نیست و نابود تھے ‘ ہم نے تم کو پیدا کیا تم مرو گے تو اس سے بڑھ کر اور کون سی بات ہوسکتی ہے کہ پہلے کی طرح تم بالکل نیست و نابود ہوجاؤگے۔ پھر کیا اتنی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ جس طرح ہم نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کیا دوبارہ اسی طرح ہم کو پیدا کرنا کیا مشکل ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے مشکل اور آسان کام سب یکساں ہیں لیکن یہ دنیا کے تجربہ کی ایک بات ہے کہ دفعہ جو کوئی ایک کام کرلے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ اسی واسطے سورة روم میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ بھی سمجھایا ہے کہ جب ایک دفعہ ہم نے تم کو پیدا کردیا تو اپنے دنیا کے تجربہ کے موافق تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ بہ نسبت پہلی دفعہ کے ہم کو دوسری دفعہ تمہارا پیدا کرنا بہت آسان ہے۔ قرآن شریف کی اکثر آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کے یہ مشرک لوگ قائل تھے۔ اس لئے ان لوگوں کی مانی ہوئی بات سے ان کو قائل کیا گیا ہے کہ بغیر کسی نمونہ کے جب ایک کام کا ایک دفعہ ہوجانا تم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے جس کا تم لوگوں کو بھی اقرار ہے تو پھر اسی نمونہ کے موافق اس کام کے دوبارہ ہوجانے کو کوئی صاحب عقل مشکل نہیں بتا سکتا۔
Ayahs 56:63–74

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں ؟

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم ہیں ہی بدنصیب

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اسکو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں ؟

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو

63۔ 74۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ انسان کے رزق کا دار مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دار مدار مینہ کے برسنے پر ہے اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ کھیتی کرنے والے لوگ زمین میں بیج ڈال کر ایسے بےبس ہوجاتے ہیں کہ ایک سال بھی بیج ڈالنے کے بعد مینہ نہ برسے یا برسے تو سمندر کا سا کڑوا پانی بیج کا جلا دینے والا برسے تو بجائے ڈھیر کے ڈھیر اناج کے ایک دانہ بھی پیدا نہ ہو۔ اور پانی پینے تک کو لوگ ترس جائیں اور بیج کے نقصان پر طرح طرح کے افسوس و حسرت کی باتیں منہ سے نکالنے لگیں۔ اسی طرح رزق انسان کے منہ تک پہنچنے کے سامانوں میں ایک بڑا سامان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو دنیا میں پیدا کیا جس سے اناج طرح طرح سے پکا کر کھایا جاتا ہے اگر بالفرض ایک سال زمین کی پیداوار حسب دلخواہ ہو لیکن اس سال تمام روئے زمین کی آگ بجھ جائے تو جانروں کی طرح کوئی انسان بھی کچا اناج کھا کر تندرست نہ رہ سکے اوپر کی آیتوں کے اور ان آیتوں کے نازل فرمانے سے مشرکوں کو یوں قائل کرنا مقصود ہے کہ اپنے خالق اپنے رزاق کی تعظیم اور عبادت میں یہ لوگ غیروں کو جو شریک ٹھہراتے ہیں تو ان غیروں کو یہ رتبہ ان لوگوں نے آخر کس استحقاق سے دیا ہے کچھ بتائیں تو سہی۔ آخر کو اپنے رسول کو فرمایا کہ یہ کم عقل لوگ بتوں کی پوجا میں لگے رہیں تو تم ان کی کچھ پرواہ نہ کرو اور ہر وقت اللہ کی عبادت میں لگے رہو وقت مقررہ آنے پر ان کا کیا خود ان کے آگے آجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ بردبار کون ہوگا کہ مشرک لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ رزق پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو جو اپنی رزاقی صفت ان آیتوں میں جتلائی ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ اس ملک میں جس طرح بانس کا پیڑ ہے کہ وہ دو بانسوں کے رگڑنے سے آگ نکلتی ہے اسی طرح عرب میں بھی بعض درخت ہیں کہ ان کی دو لکڑیوں کے رگڑنے سے آگ نکلتی ہے ہری چیز میں سے آگ کا نکلنا یہ بھی اللہ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے اسی طرح کی آگ سے جنگل میں مسافروں کے بہت کام نکلتے ہیں اس لئے مسافروں کا ذکر فرمایا۔ دنیا کی آگ کو جہنم کی آگ کی یاد دہی اس واسطے فرمایا کہ آدمی جب دنیا کی آگ کی بھی برداشت نہیں کرسکتا تو جو آگ اس سے انہتر درجہ بڑھ کر تیز ہے اس سے بچنے کی تدبیر سے غافل نہ رہنا چاہئے۔ (1 ؎ صحیح بخارب باب الصبر والاذیٰ ص 901 ج 2 و صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )