60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 60:1–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! ! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناو تم تو انکو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتیں ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ (قیامت کے روز) وہی تم میں فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہو سکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلی دشمنی رہے گی ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ جانا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا کے سامنے جانے اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے اور جو روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتیں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ خط نہیں لکھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ بات حاطب نے سچی کہی۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ مجھ کو حکم دیجئے میں حاطب کی گردن ابھی تلوار سے اڑا دوں۔ حضرت نے فرمایا حاطب بدری صحابہ میں ہے اور تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بدری صحابہ کی کیا کچھ خاطر داری منظور ہے غرض اسی قصہ کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اولاد اور رشتہ داروں کا ذکر فرمایا ہے۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ جس طرح حاطب بن ابی بلتعہ سے اولاد اور رشتہ داروں کی محبت کے جوش میں یہ خط لکھنے کا کام اللہ اور اللہ کے رسول کے خلاف مرضی ہوگیا اسی طرح بہت لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی مرضی کے خلاف بہت سے کام اولاد اور رشتہ داروں کے کارن کر بیٹھتے ہیں ‘ مگر یہ اولاد اور رشتہ داری ایسی چیز ہے کہ قیامت کے دن کچھ کام آنے والی نہیں بلکہ قیامت کے دن اللہ اور اللہ کے رسول کی مرضی کے موافق چلنا ہی کام آئے گا اس لئے انسان کو چاہئے کہ اولاد اور رشتہ داروں کی محبت پر اللہ اور اللہ کے رسول کی مرضی کو مقدم رکھے اور یہ بھی فرمایا کہ جب یہ مشرک اللہ کے دشمن مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ان سے دوستی رکھنا مناسب نہیں ہے کیونکہ جب اسلام کو برا جان کر یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے مکہ میں رہنے کے روادار نہیں ہوئے اور اب بھی موقع ملے تو مسلمانوں پر دست درازی کرنے کو ان کا دین بگاڑنے کو یہ لوگ سب مستعد ہیں تو پھر ان سے دوستی کا رکھنا علاوہ بےسود ہونے کے فضیحت ہونے کا سبب بھی ہے جس طرح حاطب کی فضیحتی کا حال سب نے دیکھ لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ غیب دان ہے وہ اپنے رسول پرچھپی ہوئی دوستی کا حال ظاہر کر دے گا جس کا نتیجہ سوائے فضیحتی کے اور کیا ہے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بےدین باپ اور رشتہ داروں کو اللہ کی مرضی کے موافق جو چھوڑ دیا تھا وہ قصہ ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو خصلت اور عادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے برتی وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور جو خصلت اور عادت حاطب بن ابی بلتعہ نے برتی وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اس باب میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی نصیحت جو اپنے بندوں کو فرمائی ہے وہ سورة آل عمران میں گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کے دل میں مال اور بی بی بچوں کی الفت بسی ہوئی ہے حالانکہ بہتر ان کے حق میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اس کی مرضی کے موافق کام کریں تاکہ عقبیٰ میں بھی ان کا بھلا ہو۔ مسند 1 ؎ امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابو داؤود ‘ ابن ماجہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت ابی بریدہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں حضرت امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ آئے اور بچپنے کے سب سے اپنے کرتہ میں الجھ کر گرنے لگے۔ آپ ﷺ نے خطبہ چھوڑ کر دونوں صاحبزادوں کو اٹھا لیا اور فرمایا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد کو فتنہ فرمایا ہے۔ ان لڑکوں کو گرتا ہوا دیکھ کر مجھ کو خطبہ پڑھنا مشکل ہوگیا۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس کی سند میں حسین بن واقد منفرد ہے حسین صحیح مسلم کے رایوں میں ہے اور منذری نے اس کو ثقہ کہا ہے اس لئے یہ سند معتبر ہے۔ (2 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی باب مناقب الحسن والحسین ؓ ص 241 ج 2۔ )
Ayahs 60:8–9

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

خدا انہی لوگوں کیساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔

8۔ 9۔ صحیح بخاری 1 ؎ مسند امام احمد مسند بزار مستدرک حاکم میں جو روایتیں ہیں ان سے ان آیتوں کی شان نزول یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی شروع آیتوں میں مسلمانوں کو کافروں سے میل جول رکھنے کو منع فرمایا تو مکہ میں مسلمانوں کی رشتہ دار جو مشرک عورتیں تھی مسلمان مردوں اور عورتوں نے ان سے بھی میل جول ترک کردیا۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بی بی قتیلہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کے پاس صلح کے زمانہ میں کچھ تحفہ لے کر مکہ سے مدینہ آئیں لیکن حضرت اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں اور اپنی ماں کا تحفہ بھی نہیں لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ میل جول کی ممانعت ان ہی مشرک لوگوں سے ہے جو دین پر لڑتے ہیں عورتوں ‘ بچوں اور ضعیف لوگوں سے میل جول کی کچھ ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ دین کی لڑائی میں شریک نہیں ہے۔ سورة مریم میں گزر چکا ہے کہ بت پرستی سے بیزار ہو کر جب ہجرت کی نیت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے جدا ہوئے تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ کہا تھا کہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی جناب میں مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا اور یہ بات انہوں نے اس وقت کہہ دی تھی جب کہ ان کو اپنے باپ کا حالت شرک پر مرنے کا حال معلوم نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے باپ کا انجام جتلا دیا تو انہوں نے وہ مغفرت کی دعا اس کے بعد اپنے باپ کے حق میں نہیں کی چناچہ اس کی تفصیل سورة توبہ میں گزر چکی ہے۔ غرض سو رہ توبہ ‘ سورة مریم اور اس سورة کی آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مشرک باپ کے حق میں مغفرت کی دعا کیوں کی اور کب تک کی۔ ملک عراق کو اور قوم کے لوگوں کو چھوڑنے کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا جو کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ تو ان بت پرست لوگوں کو مجھ سے اور میرے ساتھیوں سے دور ہی رکھیو تاکہ یہ لوگ قابو پا کر آگ میں ڈالنے کی طرح ہم کو کسی طرح کے فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ جن مہاجرین کے مشرک قرابت دار مکہ میں تھے ان آیتوں کے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کی یہ تسکین فرمائی کہ کچھ جلدی مشرک قرابت داروں سے ملنے کی تم لوگوں کو نہیں کرنی چاہئے قریب میں اللہ تعالیٰ سب قرابت داروں کے میل جول کی صورت پیدا کرے گا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اسی سفر میں مکہ فتح ہوگیا اور سب اہل قرابت مل جل گئے اور بڑے اسلام کے مخالف اسلام کے پورے مددگار بن گئے۔ چناچہ ابو سفیان جیسا اسلام کا مخالف شخص فتح مکہ کی رات کو مشرف باسلام ہو کر اسلام کا ایک مضبوط بازو ہوگیا۔ غرض فتح مکہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اہل مکہ کی نجات کی صورت نکالی اس لئے اس آیت کو غفور رحیم پر ختم فرمایا۔ یہ مکہ پر کی چڑھائی صلح حدیبیہ کے دو برس کے بعد ہوئی اگرچہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں دس برس تک کی لڑائی موقوف رکھنے کا معاہدہ تھا لیکن قریش اس معاہدہ پر قائم نہ رہے بلکہ قبیلہ بنی بکر اور خزاعہ کی لڑائی میں بنی بکر کو قریش نے مدد دی جو صلح نامہ کے بالکل مخالف تھی کیونکہ قبیلہ خزاعہ صلح نامہ کے موافق لشکر اسلام کے عہد حمایت میں تھا اس واسطے آنحضرت ﷺ کو جب قریش کی یہ عہد شکنی معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے قبیلہ خزاعہ کی حمایت میں یہ چڑھائی کی۔ آخر کو فرمایا کہ جو مسلمان مہاجر اپنے ان مشرک قرابت داروں سے در پردہ میل جول رکھے گا جن قرابت داروں سے ملنے کی ان آیتوں میں ممانعت کی گئی ہے تو وہ کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا بلکہ خود وہی گناہ گار ہوگا اور اس گناہ گاری کی سزا میں گرفتار ہونے کا بار اپنے ذمہ لے کر اپنے نفس پر ظلم کرے گا۔ (1 ؎ صیح بخاری باب صلۃ الوالد الشراع ص 884 ج 2 و تفسیر ابن کثیر ص 349 و تفسیر الدر المنثور ص 305 ج 6۔ )
Ayahs 60:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو) واپس دے دو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اسکا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اسی مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔

10۔ 11۔ صلح حدیبیہ کے زمانہ سے مکہ کے لوگوں کی آمد و رفت مدینہ کو جاری ہوگئی تھی اس آمد و رفت میں بعض عورتیں اپنے آپ کو مہاجر بتاتی تھیں لیکن مسلمانوں کو یہ شبہ رہتا تھا کہ معلوم نہیں ان عورتوں کا بیان کہاں تک صحیح ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان عورتوں کے امتحان لینے کا حکم نازل فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آدمی کے دل کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن اس امتحان کے بعد ان عورتوں کو مسلمان مہاجر سمجھا جائے۔ صحیح 1 ؎ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی عورتوں سے ان کے بیان کی تصدیق ان کو قسم دے کر کی جاتی تھی۔ حدیبیہ کے صلح نامہ میں اگرچہ یہ شرط تھی کہ ہجرت کی نیت سے جو کوئی مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آئے اس کو مکہ میں واپس بھیج دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں عورتوں کے لئے وہ شرط قائم نہ رکھی اور فرمایا کہ مشرکہ عورت مسلمان مرد کے لئے اور مسلمان عورت مشرک مرد کے لئے حلال نہیں ہے اس واسطے اس امتحان کے بعد اگر وہ عورتیں ایمان دار نظر آئیں تو ان کو کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ کیونکہ مشرک میاں بی بی دونوں میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو ان کا حالت کفر کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے پھر فرمایا اس صورت میں جائز ہے کہ یہاں دارالسلام کا کوئی شخص مسلمان جدید مہر ٹھہرا کر اس طرح کی عورت سے نکاح کرلے اور پہلے نکاح میں کافر شوہر کا جو کچھ خرچہ پڑا ہو وہ اس جدید نکاح کرنے والے شخص سے دلوا دیا جائے۔ جدید مہر کا ذکر اس لئے فرمایا کہ کہیں پہلے شوہر کے خرچہ کی ادائی کو جدید مہر نہ تصور کیا جائے کیونکہ اس میں اس عورت کا نقصان ہے مسند امام 1 ؎ احمد ‘ ابو داؤود اور مستدرک حاکم وغیرہ میں آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی زینب کا ضہ جو حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے ہے کہ زینب کی ہجرت کے کئی برس کے بعد ان کے شوہر ابو العاص اسلام لائے اور آنحضرت ﷺ نے ابو العاص کے اسلام تک وہی پہلا نکاح قائم رکھا۔ یہ روایت صحیح ہے اور علماء مفسرین نے اس حدیث اور آیت لا ھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن کے اختلاف کے رفع کرنے میں طرح طرح کی صورتیں بیان کی ہیں مگر بہتر صورت وہی معلوم ہوتی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کی ہے کہ صحیح قول کے موافق ابو العاص کا اسلام سورة ممتحنہ کے نزول کے تو بعد تھا لیکن حضرت زینب کی عادت کے دنوں میں کچھ فرق پڑجانے سے یہ اسلام حضرت زینب کی عدت کے اندر تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کا پہلا نکاح قائم رکھا۔ امام مالک 3 ؎ شافعی اور امام احمد کا مذہب بھی اس کے موافق ہے کہ عدت کے اندر شوہر اسلام لے آئے تو پہلا نکاح قائم رہتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد پہلا نکاح قائم نہیں رہتا زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس حدیث کے برخلاف ترمذی 4 ؎‘ ابن ماجہ وغیرہ میں عمرو بن شعیب کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو العاص کا جدید نکاح حضرت زنیب سے کیا۔ عمرو بن شعیب کی حدیث کی سند میں ایک شخص عزرمی ضعیف ہے اس لئے امام احمد ترمذی ‘ دار قطنی وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ اب آگے فرمایا کہ جن مسلمان مہاجر لوگوں کی بیبیاں مشرک ہیں اور مکہ میں رہ گئی ہیں ان مسلمان مہاجروں کو ان عورتوں سے اپنے نکاح کا تعلق باقی نہیں رکھنا چاہئے اور ان کے نکاح پر جو خرچہ پڑا ہے وہ ان مشرکوں سے لینا چاہئے جن کے پاس وہ عورتیں ہیں اسی طرح مہاجر عورتوں کے نکاح میں مشرک لوگوں نے جو خرچ کیا ہے وہ ان مشرکوں کو دینا چاہئے پھر فرمایا اللہ کا علم بہت وسیع اور اس کی حکمت بہت بڑی ہے اس نے اپنے علم اور حکمت کے موافق یہ احکام نازل فرمائے ہیں جن کی تعمیل میں طرح طرح کی مصلحتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ مسلمان عورت مشرکوں میں جا ملی۔ اور مشرکوں نے اس کے نکاح کا خرچہ مسلمانوں کو نہیں دیا تو مشرکوں کو جو خرچہ مہاجر عورتوں کی بابت کا مسلمانوں نے دینا ہے اس میں سے یہ خرچہ اس طرح نکال لیا جائے کہ جب تمہاری باری کافروں کو کچھ دینے کی آئے تو ان کو کچھ نہ دیا جائے یا غنیمت کے مال میں سے یہ خرچہ نکال لیا جائے۔ عقبیٰ کے معنی باری کے ہیں اور عقبیٰ کے معنی غنیمت کے مال کے ہیں عاقبتم میں دونوں معنی پائے جاتے ہیں اس لئے سلف نے دونوں معنی کئے ہیں کلکتہ کے چھاپے کے صحیح قرآن میں عاقبتم کا ترجمہ کھپا مارو لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مخالف لوگوں سے یہاں تک لڑو کہ وہ مر کھپ جائیں اور ان کے مرنے کھپنے کے بعد غنیمت کا مال جو ہاتھ لگے اس میں سے یہ خرچہ دیا جائے یہ ترجمہ اوپر کے دو قولوں میں سے دوسرے قول کے موافق ہے اور یہ قول ابن جریر 1 ؎ کی روایت کے موافق امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا ہے۔ پہلا قول صحیح بخاری 2 ؎ کی کتاب الشروط میں زہری سے اس طرح نقل کیا گیا ہے جس ایک علمدار آمد معلوم ہوتا ہے۔ ابو جعفر 3 ؎ حافظ ابن جریر نے ان دونوں قولوں میں مطابقت یوں بیان کی ہے کہ ان دونوں رقموں میں سے جس رقم میں اس خرچہ کی ادائی کی گنجائش نظر آئے اسی رقم میں سے یہ خرچہ بھر دیا جائے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس مطابقت کو ایک اچھی مطابقت قرار دیا ہے آخر پر فرمایا اللہ تعالیٰ کے ان احکام اور عام احکام کی تعمیل اللہ کا خوف دل میں رکھ کر پوری پوری کی جائے کہ یہی ایمان کی نشانی ہے اور اللہ ایمان داروں کے ایمان کو ہر وقت ہر باب میں جانچتا رہتا ہے۔ مسند 5 ؎ امام احمد میں وابصہ کی اور صحیح مسلم 6 ؎ میں نواس کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی اس وقت تک متقی نہیں ہوتا جب تک جائز چیز کو ناجائز ہونے کے خوف سے نہ چھوڑ دے۔ ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کا آخرت کے کاموں میں چستی سے مصروف ہونا اس بات کی نشانی ہے کہ اس آدمی کے دل میں خدا تعالیٰ کے عذاب کا خوف ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں انسان کو اللہ کا خوف دل میں رکھنے کی تاکید فرمائی ہے اور اللہ کے رسول نے بھی اپنے کلام میں انسان کو اللہ کا خوف دل میں رکھنے کی تاکید فرمائی ہے اور پھر اللہ کے رسول نے اپنے کلام میں اس خوف کی نشانی فرمائی ہے جس سے ہر شخص اپنی حالت کا اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کے عذاب کا خوف کہاں تک ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 350 ج 4۔ ) (1 ؎ سنن ابی دادؤ کتاب الطلاق باب الی متیٰ ترد علیہ امراتہ اذا اسلم بعدھا ص و تفسیر ابن کثیر ص 351 ج 4۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الزوجین المشرکین الخ ص 169 ج 1۔ ) (4 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الزوجین المشرکین الخ ص 169 ج 1۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 352 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب الشروط فی الجھاد فی حدیث طویل ص 377 ج 1۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 352 ج 4۔ ) (5 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی الورع وترک الشبھات ص 922 ج 2۔ ) (6 ؎ صحیح مسلم باب تفسیر البرو الاثم ص 314 ج 2۔ )
Ayahs 60:12–13

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں سے جن پر خدا غصہ ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت کے آنے) کی امید نہیں۔

12۔ 13۔ جن مہاجر عورتوں کے امتحان لینے کا ذکر اوپر تھا ان ہی کی بیعت کا ذکر ہے یہ بیعت فتح مکہ سے پہلے اور صحیح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں لے جاتی تھی اور پھر فتح مکہ کے بعد مکہ کی عام عورتوں سے بھی مکہ میں یہی بیعت لی گئی تھی۔ بیعت کے معنی معاہدے کے ہیں یہ معاہدے شریعت میں کئی طرح کے ہیں۔ ایک یہ معاہدہ ہے اس کو معاہدہ اسلام کہتے ہیں اسی طرح تنگ دست مہاجروں سے ایک معاہدہ یہ لیا گیا تھا کہ وہ کسی سے کوئی چیز مانگا نہ کریں۔ ان کے سواء اور بھی معاہدے ہیں جن کا ذکر اپنی اپنی جگہ ہے یہی معاہدہ اسلام مردوں سے بھی مکہ میں فتح مکہ کے بعد لیا گیا تھا بعض مفسروں نے اس معاہدہ کو وہ معاہدہ خیال کیا ہے جو منیٰ کی گھاٹی میں انصار سے ہجرت سے پہلے لیا گیا تھا لیکن یہ خیال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ صحیح 1 ؎ مسلم کی عبادہ بن الصامت کی حدیث میں یہ صراحت ہے مردوں سے یہ اسلام کی مضبوطی کی بیعت اسی آیت کے موافق تھی اور یہ بات تو اس سورة کی شان نزول میں بیان ہوچکی ہے کہ یہ سورة ہجرت اور صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے اور سورة حشر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ منیٰ کی گھاٹی کی بیعت جو قبیلہ خزرج کے لوگوں سے آنحضرت ﷺ نے لی تھی وہ ہجرت سے پہلے مکہ میں لی گئی تھی اور وہ بیعت فقط اس بات پر تھی کہ مہاجر لوگ جب مدینہ میں ہجرت کرکے آئیں تو انصار لوگ ان کی ہر طرح کی مدد کریں چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری کی کتاب الفتن میں عبادہ بن صامت کی جو حدیث ہے اس میں اس کی صراحت ہے حاصل یہ ہے کہ عبادہ بن صامت ان دونوں بیعتوں میں شریک تھے ان کی ایک روایت میں ایک بیعت کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دوسری بیعت کا ‘ اس واسطے صحیح اول یہی ہے کہ یہ دونوں بیعتیں الگ الگ ہیں۔ جاہلیت کے زمانہ میں دستور تھا کہ لڑکیوں کو جیتا گاڑ دیا کرتے تھے اور شہر کے نطفہ سے لڑکی پیدا ہو تو اس کی جگہ کسی کا لڑکا لے کر زچہ کے پہلو میں ڈال دیتے تھے تاکہ اس عورت کے شوہر کو یہ معلوم ہو کہ اس کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ اس بیعت میں انہی باتوں کی ممانعت ہے جس وقت عورت کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس عورت کے ہاتھ پیروں کے سامنے آن پڑتا ہے۔ اسی واسطے بجائے لڑکی کے لڑکے کو ڈال دینے کو ہاتھ پیروں کے مابین کا طوفان فرمایا۔ بھلے کام میں بےحکمی نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ توحید نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ پانچوں ارکان اسلام کو بجا لائیں ‘ اور جن باتوں سے اس معاہدے میں منع کیا گیا ہے ان سے بچیں کیونکہ جس چیز کے کرنے کا شریعت میں حکم ہے اس کو نہ کرنا اور جس کے نہ کرنے کا حکم ہے اس کو کر بیٹھنے کی جرأت کرنا بےحکمی میں سب باتیں داخل ہیں۔ اسی واسطے صحیح بخاری 3 ؎ اور مسلم کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث میں اسلام کے ان پانچ ارکان کا جو ذکر ہے وہ ذکر اس بیعت میں صراحت سے نہیں فرمایا۔ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ ضرورت کے وقت بعض لوگ اس پر عمل کرلیں تو کافی ہے اس لئے عام ارکان اسلام میں اس کا شمار نہیں ہے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے پر شریعت میں بھلائی آئی ہے اس کو معروف شرعی کہتے ہیں اب آگے فرمایا کہ وہ مہاجر عورتیں جب ان باتوں پر پکی ہوجائیں تو اے رسول اللہ کے ان سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت لی جائے اور اللہ تعالیٰ سے ان عورتوں کی مغفرت کی دعا کی جائے تاکہ سوائے شرک کے ان باتوں کی بجا آوری میں ان سے کچھ کوتاہی ہو تو اللہ غفور الرحیم ہے اس کو معاف کر دے۔ اوپر روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں شرک نہ ہوگا اس کے سوائے شرک کے اور گناہ اگرچہ اتنے بھی ہوں گے جس سے زمین بھر جائے تو اللہ تعالیٰ ان گناہوں کے معاف کرنے میں کچھ دریغ نہ فرمائے گا اور جو آدمی حالت شرک پر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو نہ اس کی شفاعت کوئی کرسکے گا نہ خود اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی مغفرت فرمائے گا۔ یہ حدیثیں اس آیت کی تفسیر ہیں۔ حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ کو ایک خط جو لکھ دیا تھا شروع سورة میں تو اس پر اسلام کے مخالف لوگوں سے دوستی رکھنے کو منع فرمایا تھا۔ اب مدینہ کے گرد و نواح میں کچھ یہود جو رہتے تھے بعض مسلمان ان سے دوستی رکھتے تھے اس پر فرمایا کہ اگرچہ یہ یہود لوگ زبان سے آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے کام ایسے ہیں جس طرح آخرت سے مایوس لوگ کرتے ہیں کہ دنیا کے ذرا سے لالچ کے سبب سے یہ لوگ عقبیٰ کے بڑے اجر کو کچھ نہیں گنتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے عقبیٰ کے اجر سے مایوس ہو کر نبی اخر الزمان کی اوصاف کی آیتوں کو بدل ڈالا۔ تاکہ ان اوصاف کے ظاہر ہوجانے سے ان میں کے جاہل لوگ نبی آخر الزمان کی طرف مائل ہو کر ان لوگوں کو جو کچھ دیتے تھے وہ بند نہ کردیں ان کی ایسی باتوں سے ان پر خدا کا غصہ ہے اور جن لوگوں پر خدا کا غصہ ہے ان سے دوستی کا نباہنا اللہ کے دوستوں کا کام نہیں ہے۔ کما یئس الکفار من اصحب القبور کی تفسیر عبد اللہ بن مسعود مجاہد عکرمہ وغیرہ کے قول کے موافق یہ ہے کہ جس طرح منکرین حشر مرنے اور قبر میں جانے کے بعد عقبیٰ کی بھلائی سے بالکل مایوس ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی مایوسی قبر میں جاتے ہی ان کے سامنے آگئی ہے۔ اسی طرح ان یہود کے علماء جیتے جی زبان سے تو عقبیٰ کے اجر کا ایسا گہرا اقرار کرتے ہیں کہ سوا اپنی قوم کے کسی کو جنتی نہیں بتاتے مگر کام ایسے کرتے ہیں جن سے انہیں عقبیٰ کے اجر سے بالکل مایوسی ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قبر میں جاتے ہی ہر نیک و بد کو اس کا جنت و دوزخ کا ٹھکانا صبح و شام دکھلا کر یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک کو اسی ٹھکانے میں جانا پڑے گا اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ منکرین حشر قبر میں جاتے ہی عقبیٰ کی بہتری اور بھلائی سے بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث گویا اس کی تیر ہے۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب الحدو و کفارات لاھلھا ص 73 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری کتاب الفتن ص 1045 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب بیان ارکان الاسلام الخ ص 32 ج۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب الدلیل علی ازمن مات لایشرک باللہ دخل الجنۃ الخ ص 66 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب المیت یعرض علیہ مقعدہ بالغدۃ والعشیٰ ص 184 ج 1 صحیح مسلم باب عرض مقعد المیت من الجنۃ والنار الخ ص 385 ج 2۔ )