Ayahs 61:1–41۔ 4۔ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ لڑائی کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ لڑائی کی آرزو ظاہر کرتے تھے جب لڑائی کا حکم نازل ہوا تو لڑائی سے گھبرانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ناخوش ہے کہ منہ سے کوئی شخص ایک بات کہے اور اس کے موافق عمل نہ کرے۔ اور صحیحین 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ زبان سے وعدہ کرکے اس کے موافق عمل نہ کرنا اور روز مرہ کی بات چیت میں جھوٹ بولنا اور امانت میں خیانت کرنا یہ منافق کی پہچان کی باتیں ہیں جو لوگ نیک کام کا ارادہ ظاہر کرکے پھر اس کے موافق عمل نہیں کرتے ان کے ذکر سے پہلے آسمان و زمین میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اس کا ذکر اس لئے فرمایا کہ جن کا فعل ان کے قول کے موافق نہیں ہے ان کو یہ معلوم ہوجائے کہ اگر یہ لوگ کسی نیک کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے اس کے موافق پھر وہ نیک عمل نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو ان کے نیک عمل کی کچھ پرواہ نہیں ان کے سوا اللہ کی ایک بڑی مخلوق اللہ کی مرضی کے موافق نیک کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت تو ایسی بےپرواہ بادشاہت ہے کہ نہ کسی کے نیک کام سے اس کی بادشاہت میں کچھ بڑھتا ہے نہ برے کام سے کچھ کم ہوتا ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم کی ابوذر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ساری مخلوق نیک ہوجائے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور بد ہوجائے تو کچھ گھٹ نہ جائے گا بلکہ جو نیک عمل کرے گا وہ اس کا اجر پائے گا اور جو برا کام کرے گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا یہ حدی آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ آخر آیتوں میں فرمایا اللہ کے دین کو پھیلانے کی لڑائی وہ چیز ہے جس کی مضبوط صف بندی اللہ کو بہت پسند ہے اس میں جو لوگ اس لڑائی سے گھبراتے ہیں ان کو گویا یہ تنبیہ فرمائی کہ جو کام اللہ کو پسند ہے اس سے پہلو تہی کرنا ایمان دار آدمی کا کام نہیں ہے۔
(3 ؎ صیح مسلم باب تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ )
Ayah 61:55۔ بنی اسرائیل ایک مدت سے مصر میں نہایت ذلت کے ساتھ رہتے تھے کیونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل سے طرح طرح کے ذلیل کام لیا کرتے تھے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی ہوئے اور ان کے سبب سے فرعون اور ان کی قوم کے لوگ یہ سب ڈوب کر ہلاک ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر حضرت یعقوب اور انبیاء کی سکونت کی جگہ ملک شام کو جائیں اور وہاں کی جو بستیاں قوم عمالقہ کے قبضہ میں آگئی ہیں۔ اس قوم سے لڑ کر وہ بستیاں ان سے خالی کرائیں جائیں اور اس ملک میں سکونت اختیار کی جائے یوں تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سی شرارتیں کیں لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آخری عمر میں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بڑی شرارت کی کہ عمالقہ کی لڑائی کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کہہ دیا کہ تم اور تمہار اللہ دونوں قوم عمالقہ سے لڑیں ہم تو ایسی زبردست قوم سے نہیں لڑ سکتے۔ چناچہ یہ پورا قصہ سورة مائدہ میں گزر چکا ہے کہ اس شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں چالیس برس تک قید رکھا جس قید میں اس شرارت کے کرنے والے لوگ بےدر اور بےگھر اسی جنگل میں بھٹکتے پھرے اور آخر اسی جنگل میں سب مر کھپ کر برابر ہوگئے اس لئے فرمایا کہ جب بنی اسرائیل کے دل اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری سے پھرگئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں دی کیونکہ اس طرح کے نافرمان لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے برخلاف ہے یہاں جو بعض لوگوں نے پہلے نیک کاموں کا ولولہ ظاہر کیا اور پھر جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد ان کا وہ ولولہ پست ہوگیا۔ اس سے اور اسی طرح کی مخالفوں کی اور باتوں سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرما کر اپنے رسول کی تسکین فرمائی کہ اے رسول اللہ مخالف لوگوں کی اس طرح کی باتیں تمہارے ساتھ کچھ نہیں نہیں ہیں اور انبیاء کو بھی ایسی باتیں پیش آتی رہی ہیں اور آخر انبیاء کا انجام اچھا ہوا ہے تمہارا بھی انجام اچھا ہوگا۔ اس قصہ میں نبی آخر الزمان کے عہد کے مخالف لوگوں کو یہ تنبیہ بھی ہے کہ جس طرح پچھلے مخالف لوگوں کا حال ہوا اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وہی حال ان کا ہوگا۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب علامۃ المنافق ص 10 ج 1 و صحیح مسلم باب خصال المنافق ص 56 ج 1۔ )
Ayah 61:66۔ مسند 1 ؎ امام احمد کی روایت سے حضرت ابوذر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی گزرے ہیں جن میں تین سو پندرہ رسول ہیں اور سورة آل عمران میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی سے دوسرے نبی کی تصدیق کو اپنی امت میں پھیلا دینے کا بڑا سخت عہد ازل میں لیا ہے اس عہد کو پورا کرنے کی غرض سے حضرت موسیٰ نے تورات کے موافق بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ کی نبوت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے آخری رسول آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق بنی اسرائیل میں جو پھیلائی اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اگرچہ بنی اسرائیل نے تورات اور انجیل کی آیتوں کو بدل ڈالا ہے لیکن اب بھی تورات اور انجیل کے ترجمے جو موجود ہیں ان میں سے علماء نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق کو اسی طرح تفصیل سے نکالا ہے جس طرح کی تفصیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول کی اس آیت میں ہے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو جو ایذاء یہود نے دی اس کا بیان سورة النساء میں گزر چکا ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) کا نام انہوں نے جادوگرنی اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نام جادوگر رکھا تھا اور آخر ان کے قتل پر مستعد ہوئے اسی طرح آنحضرت ﷺ کو انہوں نے زہر دیا ایک بڑا پتھر آپ پر ڈالنے کا ارادہ کیا خندق کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آپ پر چڑھائی کی اسی واسطے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کی عہد شکنی کی اور جان بوجھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول ﷺ کے صریح معجزوں کو جادو بتایا اور دو شریعتوں کی پیروی سے محروم رہے جس سے تورات کی پیروی بھی قائم نہ رہی کیونکہ تورات کی پیروی عین ان دونوں شریعتوں کی پیروی ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی ذکر الانبیاء (علیہم السلام) فصل ثالث ص 511۔ )
Ayahs 61:7–87۔ 8۔ اوپر یہود کی شرارتوں کا اور توراۃ میں ان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کا عہد جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی لیا گیا تھا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف دنیا میں کون ہوسکتا ہے جو تورات کو مانے اور تورات میں جو عہد ہے اس کو جھٹلائے اور صاحب اولاد ہونے کا بہتان تورات کے برخلاف اللہ تعالیٰ پر لگا گئے اور تورات کے عہد کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول ﷺ جو معجزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ان کو جادو بتائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کو راہ راست پر آنے کی کبھی توفیق نہ دے گا بلکہ کتاب آسمانی کی مخالفت کی حالت میں ایسے لوگوں کا حشر ہو کر ہمیشہ کے لئے ان کا ٹھکانا دوزخ قرار پائے گا اور دنیا میں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ کا وہ نور ہدایت کبھی مدھم نہ ہوگا جس کا دنیا میں پورے طور پر مخلوق الٰہی میں پھیلنا اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں قرار پا چکا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں نبوت کا سلسلہ چلنے کی دعا کی اور وہ دعاء قبول ہوئی اور اسی کے اثر سے ایک مدت دراز تک اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں نبوت رہی اور آخر سلسلہ نبوت پر اسماعیل بن ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے تورات اور انجیل میں نبی آخر الزمان ﷺ کے جو اوصاف ہیں ان سے اہل کتاب نبی آخر الزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے لیکن فقط اس ضد سے ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے مخالفت کی کہ نبوت کا خاتمہ بھی اسحاق (علیہ السلام) کے خاندان میں کیوں نہیں ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کے خاندان کے ساتھ یہ ہمدردی اور دوسرے بیٹے کے خاندان کے ساتھ اس قدر پرلے درجہ کی دشمنی حددرجہ کی بےانصافی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو بےانصاف فرمایا۔ یہود میں عبد اللہ بن سلام کا قصہ اور نصاریٰ میں ہرقل بادشاہ روم کا قصہ اور اس قسم کے اور صحیح قصے اس بات کے پورے شاہد ہیں کہ یہود و نصاریٰ میں سے جن لوگوں نے اس بےانصافی کو تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنے دل سے نکال ڈالا ان کو نبی اخر الزمان کی نبوت میں کوئی عذر باقی نہیں رہا اب اس ناانصافی کے ساتھ بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ جس تاریخ کی کتابوں کے راویوں کے ثقہ اور مسلسل ہونے کا ٹھکانا کچھ نہیں۔ ان تاریخ کی کتابوں پر تو پورا بھروسہ ہے اور صحیح بخاری جیسی کتاب جس کے ایک ایک راوی کے ثقہ ہونے کی حد سے زیادہ چھان بین کی گئی ہے اس میں عبد اللہ بن سلام جیسے عالم کے قصے کو کوئی یہود دیکھتا ہے نہ ہرقل جیسے بادشاہ اور اس بادشاہ کے دربار کے موجود پادریوں کی حالت پر کسی نصرانی کو کچھ عبرت ہوتی ہے یہ خرابی کیا ہے کہ اس ناانصافی پر گویا اور طرہ ہے اسلام کے مخالف اہل کتاب اور مشرکین مکہ دونوں گروہ تھے اس لئے ایک جگہ ولو کرہ الکفرون فرمایا دوسری جگہ ولو کرہ المشرکون فرمایا حاصل مطلب یہ ہوا کہ اہل کتاب یا مشرکین مکہ کسی کی مخالفت اسلام کی ترقی کو روک نہیں سکتی۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے باوجود طرح طرح کی مخالفتوں کے اسلام کی جو ترقی ہوئی وہ ظاہر ہے۔
Ayah 61:99۔ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخر صاحب شریعت نبی خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اور ان سب شریعتوں میں توحید کی تاکید اور شرک کی ممانعت کا حکم یکساں ہے ہر وقت کی امت کی حالت کے موافق عمل کرنے کی کچھ باتیں ہر شریعت میں بدلتی رہی ہیں مثلاً اور شریعتوں میں نماز کے لئے ایک جگہ جو خاص ٹھہرائی جاتی تھی وہیں نماز ہوسکتی تھی شریعت محمدی میں یہ حکم ہے کہ جنگل ‘ گھر ‘ مسجد ہر جگہ میں نماز ہوسکتی ہے یا اور شریعتوں میں غنیمت کے مالک کا خرچ میں لانا جائز نہ تھا شریعت محمدی میں جائز ہے اسی طرح اور مشکل باتیں جو اور شریعتوں میں تھیں ایک تو وہ اس آخری شریعت میں آسان ہوگئیں اور دوسرے شریعت محمدی کے بعد قیامت تک اب کوئی شریعت اور نہیں ہے اس لئے جو باتیں شریعت محمدی ﷺ میں قائم ہوئی ہیں وہی قیامت تک قائم رہیں گی۔ غرض شریعت محمدی ﷺ اور شریعتوں سے سہل اور اور شریعتوں کی باتوں کو منسوخ کرنے والی ہے اور شریعت محمدی ﷺ کی کوئی بات کسی دوسری شریعت سے منسوخ ہے نہ قیامت تک شریعت محمدی ﷺ کے بعد کوئی دوسری شریعت ہے۔ سب شریعتوں کو ملا کر ایک ناتمام مکان فرض کیا جائے تو شریعت محمدی اس ناتمام مکان کا ایسا ایک آخری ردہ ہے جس سے مکان پورا ہوگیا ہے کہ قیامت تک نہ اب اس مکان میں کوئی جدید تعمیر ہونے والی ہے نہ کسی اور رد و بدل کی ضرورت ہے۔ صحیحین 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے اور اور انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ اور انبیاء کی نبوت ایک خوبصورت عمارت تھی جس میں آخری ایک ردہ کی کوتاہی تھی میں خاتم النبین ہوں میرے سبب سے وہ آخری ردہ پورا ہوا اور وہ ناتمام عمارت تمام ہوگئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس دین محمدی میں وہ باتیں اور پائیداریاں ہیں کہ کسی دین میں نہیں ہیں اس واسطے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ فرمایا کہ یہ دین اور دینوں پر غالب ہے اس دین کے غالب ہونے کی علامت یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اور امتوں سے اس امت کی تعداد زیادہ ہوگی۔ چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس باب میں اوپر گزر چکی ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب خاتم النبین ص 501 ج 1 و صحیح مسلم ‘ باب ذکر کونہ خاتم النبیین ص 248 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب کیف نزل الوحی ص 744 ج 2 صحیح مسلم باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا ﷺ الخ ص 86 ج 1۔ )
Ayahs 61:10–1310۔ 13۔ اوپر ذکر تھا کہ کچھ لوگ نیک کاموں کے کرنے کا شوق ظاہر کرکے بھی اس پر قائم نہیں رہے آیتوں میں اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم کو نیک کام کے اجر کمانے کا شوق ہے تو تم کو اس کمائی کے لئے ایسی سوداگری بتائی جاتی ہے جس میں سراپا نفع ہی نفع ہے نقصان کا کہیں نام نہیں ہے پھر اس سوداگری کی تفصیل فرمائی کہ خالص دل سے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرو اور جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان ہیں ان کے راہ راست پر لانے میں جان و مال سے کوشش کرو اللہ کے رسول جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اس کے برحق ہونے کا دل میں اعتقاد رکھنا اور زبان سے اس اعتقاد کے موافق قرار کرنا اور ہاتھ پاؤں سے شریعت کے موافق عمل کرکے اس اعتقاد اور اقرار کو مضبوط اور سچا کردینا سلف کے نزدیک کامل ایمان کی یہی نشانی ہے اس واسطے ایمان کے ساتھ فرض کفایہ جہاد کا ذکر فرمایا اور فرائض کا ذکر نہیں فرمایا کہ گویا وہ ایمان کے ذکر میں آگئے۔ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم میں زید بن خالد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس کسی نے اپنا مال خرچ کرکے خدا کی راہ پر لڑنے والے شخص کا کچھ سامان کردیا تو اس کو بھی خدا کی راہ میں لڑنے کا ثواب ملے گا۔ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم کی تفسیر ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے جنت کی نعمتوں کے لحاظ سے فرمایا کہ جتنی جگہ میں گھوڑے کے سوار کا کوڑا پڑا رہتا ہے جنت میں کی اتنی جگہ تمام دنیا اور اس کے ساز و سامان سے بہتر ہے اب اس حساب سے دنیا کی تجارت میں کوئی شخص تمام دنیا بھی نفع کے طور پر کما لے تو عقبیٰ کی تجارت کے نفع سے اس کو کچھ نسبت نہیں فرمایا کہ عقبیٰ کی تجارت سمجھ دار کے لئے دنیا کی تجارت سے بہتر اور بڑی کامیابی کی تجارت ہے کہ اس میں ہمیشہ کے نفع کے طور پر جنت کی نعمتیں ہیں گناہوں کی معافی اور دوزخ کے عذاب سے نجات کا حاصل کرنا اور دنیا میں فتح یابی اور غنیمت کے مال کی خوش وقتی اس بےبدل نفع کے علاوہ ہے اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے ایمان دار لوگوں کو اس تجارت کے سراپا نفع کی خوش خبری سنا دو ۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب من جھزغازیا او خلفہ بخیر ص 398 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 72 ج 2۔ )
Ayah 61:1414۔ جس طرح بارہ شخص حواریوں نے عیسائی دین کے پھیلانے میں کوشش کی۔ اسی طرح ہجرت کے پہلے آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں دین محمدی پھیلانے کیلئے بارہ شخص نقیب جو قبیلہ خزرج میں مقرر کئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ اور مہاجرین کے مدینہ پہنچنے سے پہلے اسلام کے پھیلانے میں کوشش کی چناچہ یہ قصہ سورة حشر میں گزر چکا ہے۔ ہجرت کے بعد سب اہل اسلام اہل مدینہ نے اسلام کی بڑی مدد کی۔ اسی واسطے اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کے معنی مددگار کے ہیں۔ انصار کی تعریف میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں زید بن ارقم کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے انصار ان کی اولاد الاولاد کے لئے مغفرت کی دعا مانگی ہے۔
مہاجرین اور انصار میں اتنا فرق ضرور ہے کہ مہاجرین نے اسلام کی مدد میں اپنا وطن اور گھر بار بھی چھوڑا۔ اور انصار نے اپنے وطن میں ہی اسلام کی ہر طرح کی مدد کی۔ اسی فرق کے لحاظ سے صحیح 1 ؎ بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر ہجرت میں گھر بار چھوڑنے کی بزرگی نہ ہوتی تو میں اپنی گنتی انصار میں لگاتار اوپر گزر چکا ہے کہ یہود کی ایذاء سے بچانے کے لئے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تو اسی اکاسی برس تو عیسائی دین اچھی طرح چلا بعد اس کے پولس یہودی کے بہکانے سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں تین گروہ ہوگئے۔ بعض تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے ہیں اور بعض خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور بعض حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول کہتے ہیں اس آخری گروہ اور پہلے دونوں گروہ کی اسی زمانے میں لڑائی بھی ہوئی اور پہلے دونوں گروہ کی تعداد اس وقت زیادہ تھی اس لئے اس لڑائی میں وہی غالب رہے لیکن نبی آخر الزمان ﷺ کے نبی ہوجانے کے بعد اس آخری گروہ کے عقیدہ کے اہل اسلام بہت سے ہوگئے اور بہت سی لڑائیوں میں مخالفوں پر غالب آئے۔ چناچہ روم کے بعض قلعے تو حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں فتح ہوئے اور پھر ہشام بن عبد الملک وغیرہ کی خلافت میں بڑی بڑی فتوحات اہل اسلام کو ہوئیں ‘ تاریخ کی صحیح کتابوں میں جن کا تفصیل وار ذکر ہے ‘ اسی طرح آخری زمانہ میں جب عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں آئے گے تو اس آخری گروہ کے عقیدہ کے ایمان دار لوگ ان کے ساتھ ہوں گے اور یہی لوگ مخالفوں پر غلبہ حاصل کریں گے اسی غلبہ کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
(2 ؎ صحیح مسلم باب من فضائل الانصار ؓ ص 305 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب قول النبی ﷺ لولا الھجرۃ لکنت من الانصار ص 533 ج 1۔ )