Ayahs 62:1–41۔ 4۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث 2 ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں خطبہ سے پہلے کی اذان کے سوا ایک اور اذان شروع 3 ؎ ہوئی اور سب صحابہ نے اس کو جائز رکھا۔ امام کو خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے امیر معاویہ نے اپنی خلافت میں بیٹھ کر جو خطبہ پڑھا ہے اس پر اور صحابہ نے اعتراض کیا ہے غسل کرنا جمعہ کے دن بہتر ہے لیکن بغیر غسل کے بھی جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز کا وقت وہی ظہر کا وقت ہے صرف امام احمد بن حنبل کے نزدیک جمعہ کی نماز زوال سے پہلے بھی جائز ہے بعض حدیثوں سے اگرچہ اس حنبلی مذہب کی تائید ہوتی ہے لیکن جمہور علماء نے ان حدیثوں کا طرح طرح سے جواب دیا ہے۔ جمعہ کی نماز کے لئے چالیس آدمیوں کی جماعت کا ہونا اور بڑی بستی کا ہونا جو بعض علماء نے شرط کے طور پر لکھا ہے یہ روایت صحیح نہیں ہے خطبہ ہوتے وقتے دنیا کی بات کرنا منع ہے جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت کا پڑھنا آنحضرت ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ جمعہ کے دن قبولیت دعاء کی گھڑی عصر سے غروب تک کے وقت میں ہے جمعہ کی نماز کے بعد دو سنتیں اکثر آنحضرت ﷺ نے پڑھی ہیں اور چار رکعتوں کا ارشاد بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ خطبہ چھوٹا پڑھنا اور جمعہ کی نماز لمبی پڑھنا سنت ہے صحیح قول یہی ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ سنت ہے جمعہ کے دن صبح کی نماز میں الم سجدہ اور سورة دھر کا پڑھنا اور جمعہ کی نماز میں کبھی سورة جمعہ اور سورة منافقون کا اور کبھی سبح اسم اور سورة غاشیہ کا پڑھنا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے جمعہ اور عید ایک دن مل کر آئیں تو ایک نماز مستحب رہ جاتی ہے خطبہ ہوتے وقت تحیۃ الجمعہ کی دو رکعتیں پڑھنے اور نہ پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے لیکن قوی مذہب یہی ہے کہ خطبہ کے وقت انکا پڑھنا جائز ہے حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحیتہ المسجد کے علاوہ ہیں مسواک کرنا ‘ سفید کپڑے پہننا ‘ خوشبو لگانا ‘ جمعہ کے دن سنت ہے ‘ خطبہ شروع ہونے سے پہلے جمعہ کے دن جامع مسجد میں پہنچ جانا بڑا ثواب ہے صفیں چیرنا اور لوگوں کو روندنا منع ہے۔ امام پیچھے آئے اور صف کو چیر کر اپنی جگہ پر جائے تو جائز 1 ؎ ہے۔ ہجرت سے پہلے مکہ میں آنحضرت ﷺ کا جمعہ پڑھنا ثابت نہیں ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور قرآن شریف کا ذکر کرنے سے پہلے اپنی آسمان و زمین کی بادشاہت کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مکہ کے مشرک لوگوں کو یہ تنبیہ ہوجائے کہ آسمان و زمین اور ان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اسی واسطے ہر چیز اپنی حالت کے موافق اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح اور اس کی تعظیم اور عبادت میں لگی ہوئی ہے۔ باوجود اس کے جن و انس میں جو کوئی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرتا ہے وہ بڑی غلطی پر ہے اس تنبیہ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کی خرابی سے یہ لوگ آگاہ ہوجائیں گے تو قرآن شریف کے موافق اللہ تعالیٰ کے رسول ان کو توحید کا راستہ جو بتاتے ہیں اس راستہ کی ان کے دل میں عظمت پیدا ہوجائے گی اور توحید کی عظمت کے سبب سے یہ لوگ شرک کو برا جاننے لگیں گے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں نبوت کے قائم رہنے کی دعا کی اور ان کی وہ دعا ان کے دنوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے حق میں قبول ہو کر ایک مدت تک حضرت اسحاق کی اولاد اور اولاد دالاولاد میں نبوت رہی۔ اب اس دعاء کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا اثر ان کے دونوں بیٹوں کی اولاد میں پورا ہوجائے اور ان کی دعا کا کوئی جز رائیگاں نہ جائے۔ عرب کی قوم میں سے ملت ابراہیمی کا عمل اٹھ کر ان میں جہالت اور اس جہالت کے سبب سے بت پرستی پھیل گئی تھی ‘ اس لئے عرب کو ان پڑھ فرمایا اور یہ فرمایا کہ نبی آخرالزمان ﷺ اور قرآن کی ہدایت سے پہلے یہ لوگ بےراہ ہو رہے تھے۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ قرآن کے ساتھ جہاں حکمت کا لفظ آتا ہے اس کے معنی رسول ﷺ کی سنت کے ہوتے ہیں سورة اعراف کی آیت قل ایایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا اور سورة سبا کی آیت و ما ارسلناک الا کافۃ للناس سے اور صحیح احادیث سے آپ کی نبوت کا جن و انس کے لئے عام ہونا ظاہر ہے اس لئے ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پیدائش تو عرب میں ہے لیکن آپ ﷺ کی نبوت عرب و عجم وغیرہ سب مخلوقات کے لئے قیامت تک عام ہے اسی واسطے جو لوگ ان آیتوں کے نازل ہونے تک موجودہ عرب کی قوم سے علیحدہ ہیں۔ واخرین منھم لما یلحقوا بھم فرمایا اور قیامت تک کے قرآن پر ایمان لانے والے لوگوں کو آیت کے حکم میں داخل کردیا گیا یہود کو یہ جو حسد تھا کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں پیدا ہوئے۔ اس کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بات اللہ کے فضل اور حکمت کے بالکل برخلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد میں تو ایک مدت تک نبوت رہی اور دوسرے بیٹے کی نسل کو اللہ تعالیٰ اپنے اس فضل وکرم سے محروم رکھے۔ اس واسطے اللہ کے اس فضل و کرم پر کسی کو حسد کا کوئی موقع نہیں ہے۔
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی وجوب الجمعۃ فصل ثانی ص 121۔ )
(3 ؎ مشکوٰۃ شریف باب الخطبۃ والصلوٰۃ فصل اول ص 123۔ )
(1 ؎ مذکورہ بالا سب مسائل کے لئے مشکوٰۃ شریف ابواب متعلقہ جمعہ ملاحظہ فرمایئے ص 199 تا 125۔ )
Ayahs 62:5–85۔ 8۔ اوپر گزر چکا ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں آنحضرت ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت ان کے نام کی برکت سے فتح کی دعا یہ لوگ مانگا کرتے تھے توراۃ میں جو آپ ﷺ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادے سے آن کر رہے تھے کہ جب نبی آخر الزمان ﷺ مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے پورے دشمن ہوگئے اور تورات کی ان آیتوں کو انہوں نے بالکل بدل ڈالا جن میں نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف تھے اسی واسطے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا بوجھ جو ان لوگوں کے ذمہ رکھا گیا تھا اس بوجھ کو انہوں نے آخر کو اس طرح اٹھایا جس طرح گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لادی جاتی ہیں کیونکہ جیسے کہ وہ نادان جانور یہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا چیز لدی ہے ایسے ہی یہ نادان لوگ توراۃ بغل میں لئے پھرتے ہیں اور اس بات کو انہوں نے بھلا رکھا ہے کہ توراۃ میں جو لکھا گیا تھا اس کو انہوں نے بدل ڈالا۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو اس طرح جھٹلائیں اور بدلیں ان کی مثال بری گویا گدھے سے بھی بدتر ہے کیونکہ گدھا تو ناسمجھ ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ جان بوجھ کر کیا اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے بےانصاف لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا نہیں چاہتا کس لئے کہ اس طرح کی مجبوری کی اطاعت اس کی بارگاہ میں قبول نہیں یہ بھی گزرچکا ہے کہ یہودی لوگ سوا اپنے اور کسی امت کو جنتی نہیں قرار دیتے تھے اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم کو مرنے کے ساتھ جنت میں جانے کا یقین کامل ہے تو پھر دنیا کے جینے کی اس قدر حرص تمہیں کیوں ہے جس سے عقبیٰ کو تم نے بھلا رکھا ہے مرنے کے ساتھ ہی جنت کے ملنے کا یقین کامل تو یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ موت کی آرزو جلدی سے کرو تاکہ مرتے ہی سدمھے جنت میں چلے جاؤ پھر پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ایسے بدلوگ اپنی بدیوں کے انجام سے ڈر کر موت کے آرزو ہرگز نہیں کرتے بلکہ وہ تو موت کے نام سے بھاگتے ہیں مگر ان کو یہ جتلا دیا جائے کہ جس موت کے نام سے یہ لوگ بھاگتے ہیں وہ ضرور ایک دن ان کو آن دبائے گی اور پھر مرتے ہی ان کا جنت میں جانا تو درکنار بلکہ مرتے ہی فوراً ان کو اپنے کئے کا پورا خمیازہ بھگتنا پڑے گا کیونکہ جو کچھ دنیا میں یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اس غیب دان کو معلوم ہے مسند امام احمد صحیح بخاری 1 ؎ نسائی وغیرہ میں انس بن مالک عبادہ بن صامت اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضرت یہ ہر انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ موت سے گھبراتا ہے اگر اسی کا نام موت سے بھاگنا ہے تو بڑی مشکل ہے آنحضرت ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ آدمی کے آخری وقت کا اس باب میں بڑا اعتبار ہے کیونکہ اس وقت نیک آدمی کو رحمت کے فرشتے نظر آتے ہیں جو اس کو جنت کی خوش خبری دیتے ہیں جس سے اس کے چہرے پر ایک بشاشت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور بد آدمی کو اس وقت عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں اور اس کو دوزخ کے عذاب میں پکڑے جانے کا حال سناتے ہیں جس سے اس کے چہرے پر ایک طرح کے غم کے آثار پائے جاتے ہیں ان آیتوں میں موت سے بھاگنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں ایسے گرفتار اور عقبیٰ سے ایسے غافل ہیں کہ حالت صحت میں تو ان کا موت کو یاد کرنا درکنار بکہ یہ لوگ تو اپنی بداعمالی کے سبب سے اس وقت بھی موت سے بھاگتے نظر آئیں گے جب موت بالکل ان کو آن دبائے گی اور موت کے وقت کے فرشتے ان کو نظر آنے لگیں گے معتبر سند کی ابوہریرہ 1 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا اے لوگو ! موت کو اکثر یاد کیا کرو کہ موت کو یاد کرنے سے آدمی کا دل دنیا کی راحتوں سے زیادہ آلودہ نہیں رہتا جبلی عادت کے موافق حالت صحت میں ہر انسان جو موت سے گھبراتا رہتا ہے طبیب روحانی ﷺ نے اس جبلی مرض کا علاج اور علاج کا فائدہ ہر مسلمان کو بتایا ہے یہ حدیث بھی ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقائہ ص 963 ج 2۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی تمنی الموت فصل ثانی ص 140۔ )
Ayahs 62:9–109۔ 10۔ صحیح بخاری 2 ؎ نسائی ‘ ابو داؤود وغیرہ میں سائب بن یزید سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ابوبکر ‘ عمر اور عثمان کی ابتداء خلافت اس تمام عہد میں جمعہ کے دن کی فقط ایک وہی اذان تھی جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت کہی جاتی تھی اس کے بعد جب مدینہ میں آدمیوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمان (علیہ السلام) نے اپنی خلافت میں خطبہ کی اذان سے پہلے ایک اور اذان کا حکم دیا یہ اذان مدینہ کے بازار کے ایک بلند مقام پر دی جاتی تھی جس مقام کا نام زوراء ہے اس حدیث کی بناء پر سلف نے اس آیت کی تفسیر میں اسی اذان کا ذکر کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں خطبہ کے وقت تھی۔ صحیح 3 ؎ مسلم اور ابو داؤود میں ابوہریرہ ؓ اور ابن ام مکتوم سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ابن ام مکتوم نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت میں نابینا آدمی ہوں بعض وقت کوئی آدمی مجھ کو مسجد تک پہنچانے والا نہیں ملتا کیا ایسی حالت میں فرض نماز میں اپنے گھر میں پڑھ سکتا ہوں پہلے تو آپ ﷺ نے ان کو گھر میں فرض نماز پڑھنے کی اجازت دے دی پھر فرمایا کہ اذان کی آواز تمہارے گھر تک پہنچتی ہے اس لئے تم کو جماعت کی نماز میں حاضر ہونا چاہئے اسی مضمون کی بعض حدیثیں جمعہ کے باب میں بھی ہیں کہ جمعہ کی اذان سننے والوں کو جمعہ کی جماعت میں حاضر ہونا چاہئے اگرچہ جمعہ کی حدیثوں کی سند میں کلام ہے لیکن صحیح مسلم اور ابو داؤود کی روایتیں جو بیان کی گئیں ان سے ان جمعہ کی روایتوں کی تقویت ہوجاتی ہے کیونکہ عام جماعت اور جمعہ کی جماعت میں کچھ فرق نہیں ہے حاصل یہ ہے کہ سورة جمعہ کی اس آیت اور ان حدیثوں کی بناء پر بعض سلف کا یہ مذہب ہے کہ جمعہ کی نماز اسی شخص پر فرض ہے جو جمعہ کی اذان سے ترمذی 1 ؎ نے یہی مذہب امام شافعی اور امام احمد کا بیان کیا ہے لیکن عراقی نے شرح ترمذی میں امام مالک امام احمد اور امام شافعی کا دوسرا قول یہ بیان کیا ہے کہ جس بسیک میں جمعہ کی اذان ہو ‘ سوار غلام ‘ بیمار ‘ عورتوں اور بچوں کے بستی کے اور سب لوگوں پر جمعہ فرض ہے اس میں اذان کے سننے والے اور نہ سننے والے سب برابر ہیں یہ تو بستی کے اندر رہنے والوں کا حال ہوا بستی کے باہر جو لوگ رہتے ہیں ان کے باب میں سلف کا اختلاف ہے اور کوئی حدیث صحیح اس بات میں نہیں ہے کہ بلکہ قوی سند کی عبد اللہ بن ادنیٰ کی حدیث 2 ؎ طبرانی کے کبیر میں بھی یہی ہے کہ جو شخص جمعہ کی اذان سن کر پھر بھی تین جمعوں تک جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہوگا تو منافقوں کے دل کی طرح اس طرح اس کا دل سخت ہوجائے گا اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کی اصل تاکید انہی مسلمانوں کو ہے جو جمعہ کی اذان کی آواز سنیں۔ صحیحین 3 ؎ وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان میں نماز کو گھبرا کر اور دوڑ کر جانے کی مناہی ہے اس لئے سلف نے فاسعوا الی ذکر اللہ کی تفسیر یہ ہے کہ جمعہ کی اذان سنتے ہی مسلمان آدمی کو چاہئے کہ خریدو فروخت اور دنیا کے اور کام چھوڑ کر جمعہ کی نماز میں جانے کی تیاری میں لگ جائے۔ ذلکم خیرلکم ان کنتم تعلمون کا یہ مطلب ہے کہ نیک کاموں کے بدلے میں تم سے جو جنت کے ملنے کا وعدہ جگہ جگہ قرآن میں کیا گیا ہے اگر اس کو تم سمجھو اور غور کرو کہ جنت کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے تو یہ بات اچھی طرح سے تمہاری سمجھ میں آن سکتی ہے کہ جمعہ کی اذان سے جمعہ کی نماز کے ختم ہوجانے تک خریدو فروخت کے تھوڑے سے نفع کا خیال نہ کرنا اور انسان کے سنتے ہی جمعہ کی نماز کی تیاری میں مصروف ہوجانا تمہارے حق میں بہتر ہے صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا گھوڑے سوار آدمی کے گھوڑے کا کوڑا جتنی جگہ میں رکھا جاتا ہے جنت کی نعمتوں کے لحاظ سے جنت کی اتنی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جمعہ کے دن تجارت کی مناہی فقط جمعہ کی اذان سے لے کر جمعہ کی نماز کے ختم ہونے تک ہے ‘ جمعہ کی شام تک نہیں۔ اس لئے اس کو صاف کھول کر فرما دیا کہ جب جمعہ کی نماز ہوچکے تو ہر مسلمان جو خریدو فروخت چاہے وہ کرے اور اس طرح کی جائز تجارت میں اللہ کے فضل و کرم سے نفع کی امید رکھے اکثر سلف نے یہ اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ جس کسی نے ان آیتوں کے حکم کی پابندی تجارت میں کسی اس کی ضرور نفع ہو۔ تجارت بازار میں ہوتی ہے اور بازار دنیا کے بدتر مقاموں میں سے ایک مقام ہے چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم
میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے سب مقاموں میں جو مقام اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں وہ مسجدیں ہیں اور ناپسند مقام بازارات ہیں یہ اس لئے فرمایا کہ مسجدوں میں اکثر ذکر الٰہی ہوتا رہتا ہے اور بازارت میں اکثر جھوٹ کم تولنا کم ناپنا اسی قسم کی آفتیں رہتی ہیں غرض بازار بڑی غفلت اور آفت کی جگہ ہے اس لئے فرمایا کہ جو تجارت پیشہ آدمی بازار میں جائے اس کو چاہئے کہ کثرت سے ذکر الٰہی میں مصروف رہے کہ بازار کی آفتوں سے بچنے کی بھلائی اس کے ہاتھ سے نہ جائے بازار ایک خاص غفلت اور خرابی کی جگہ ہے اس لئے وہاں ذکر الٰہی میں مصروف رہتے اور اس کے اجر کے باب میں صحیح حدیثیں ہیں اور اس موقع کے خاص خاص ذکر اذکار بھی بعض حدیثوں میں آئے ہیں یہ سب حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں اس آیت میں جو خطبہ کے سننے کی تاکید ہے اس سے اور اس مضمون کی حدیثوں سے اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ خطبہ کا سننا نہایت ضروری اور خطبہ کے وقت بات چیت حرام ہے فقط امام شافعی اور امام احمد سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ جو لوگ امام سے اس قدر قریب ہوں کہ ان کو خطبہ کی آواز سنائی دیتی ہو یہ خطبہ کے سننے کی تاکید ان ہی لوگوں کے لئے ہے دور والوں کے لئے نہیں اگرچہ بعض علماء کا یہ مذہب ہے کہ جس شخص کو خطبہ کا کچھ بھی حصہ نہ ملے اس کی جمعہ کی نماز نہیں ہوتی لیکن نسائی 2 ؎ ابن ماجہ ‘ دارقطنی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو جمعہ کی ایک رکعت بھی مل گئی اس کی جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ خطب سنت ہے اور بغیر خطبہ سننے کے جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی اس حدیث کی سند کو بعض علماء نے اگرچہ ضعیف بتایا ہے لیکن اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے۔ علاوہ اس کے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی کو کسی جماعت کی نماز کی ایک رکعت بھی مل گئی تو اس کو جماعت کی نماز کا ثواب مل جاتا ہے اس صحیح حدیث سے بھی عبد اللہ بن عمر کی حدیث کو تقویت ہوجاتی ہے کیونکہ عام جماعت کی نماز اور جمعہ کی جماعت کی نماز میں کچھ فرق نہیں ہے جس شخص کی جمعہ کی نماز جاتی رہے اس میں علماء کا قول یہ ہے کہ جمعہ کے دن کی اصلی فرض نماز ظہر کی نماز ہے جو پانچوں وقت کی نماز کے ساتھ معراج کی رات فرض ہوئی ہے جس کا ذکر صحیح 4 ؎ بخاری و صحیح مسلم کی صحیح روایتوں میں ہے اس لئے جس شخص کو ایک رکعت بھی جمعہ کی نماز کی نہ ملے یا وہ کسی عذر سے جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہو تو اس کو ضرور ظہر کی نماز پڑھنی چاہئے مسند امام 5 ؎ احمد ‘ ابو داؤود ابن ماجہ اور صحیح ابن خزیمہ بن کعب بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے حکم سے انصار نے جمعہ کی نماز ہجرت نبوی سے پہلے پڑھی ہے اس سے اس قول کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس قصہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ مکہ میں فرض ہوگیا تھا لیکن قریش کی مخالفت کے عذر کے سبب سے آنحضرت ﷺ خود توظہر پڑھتے رہے اور انصار کو آپ ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھنے کا حکم دے دیا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اس فعل سے یہ معلوم ہوا کہ جس شخص کی جمعہ کی نماز کسی عذر سے جاتی رہے وہ ظہر کی نماز پڑھے کعب بن مالک کی یہ حدیث صحیح ہے ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے مسند امام احمد صحیح 1 ؎ مسلم ‘ ابو داؤود وغیرہ میں جابر بن سمرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کھڑے ہو کر جمعہ کے دن دو خطبے پڑھا کرتے تھے پہلا خطبہ پڑھ کر تھوڑی دیر منبر پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور پھر اٹھ کر دوسرا خطبہ پڑھا کرتے تھے امام شافعی کا یہی مذہب ہے کہ جمعہ کے دن امام کو دو خطبے پڑھنے چاہئیں باقی تین اماموں کے نزدیک ایک خطبہ بھی کافی ہے امام شافعی کے نزدیک دونوں خطبوں کے مابین امام کا تھوڑی دیر بیٹھ جانا فرض ہے لیکن جمہور کے نزدیک یہ بیٹھنا سنت ہے خطبے کے وقت یا دونوں خطبوں کے بیچ میں بیٹھنے کے وقت آنحضرت ﷺ سے ہاتھ اٹھا کر دعا کا مانگنا ثابت نہیں ہے ہاں ایک دفعہ کے قحط میں آپ ﷺ نے مینہ برنے کی دعا جمعہ کے خطبے کے وقت ہاتھ اٹھا کر کی ہے۔ جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی حدیث میں صحیح بخاری 2 ؎ وغیرہ کی روایت سے ہے قل ما عند اللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ نیک کاموں کی جزا اللہ تعالیٰ نے جنت ٹھہرائی ہے جس کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے واللہ خیر الرازقین کا یہ مطلب ہے کہ آدمی کے رزق کے سب اسباب مثلاً آسمان سے مینہ کا برسانا زمین میں پیداوار کی قوت کا عطا کرنا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس پر آدمی کو رزق کا بھروسا کرنا چاہئے ‘ ایسا آئندہ نہ کرنا چاہئے کہ ارزاں غلہ ملنے کے دھن میں کچھ لوگ خطبہ چھوڑ کر بنجارہ کے ٹانڈے میں چلے گئے جس کا ذکر آگے آتا ہے معتبر سند سے مستدرک 3 ؎ حاکم میں معقل بن یسار کی حدیث قدسی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میری عبادت میں لگا رہے گا اس کو پورا رزق دوں گا۔ واللہ خیر الرازقین کی یہ حدیث قدسی گویا تفسیر ہے۔ قرآن کے علاوہ جو اللہ کا کلام حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے رسول کو پہنچایا ہے اس کو حدیث قدسی کہتے ہیں جو کوئی دینی بات از خود اللہ کے رسول نے اپنے منہ سے فرمائی اس کو قولی حدیث کہتے ہیں اور جو دینی کام آپ ﷺ نے کیا اس کو فعلی حدیث کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے رو برو کسی صحابی نے کوئی بات کہی یا کوئی کام کیا اور آپ نے اس کو جائز رکھا تو وہ تقریری حدیث کہلاتی ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس لئے آپ کا قول و فعل تقریر سب واجب الاطاعت ہے لیکن نبوت کا زمانہ ہم لوگوں سے دور ہوگیا جس کے سبب سے بہت راویوں کے واسطے سے ہم لوگوں تک اللہ کی رسول کی حدیث پہنچتی ہے اور راویوں میں ہر طرح کے لوگ ہیں اس واسطے روایت کے سلسلہ کی صحت کو لینا ہمارا کام ہے اردو کی شاید یہ پہلی تفسیر ہے جس میں یہ کام خوب جانچ کر کیا گیا ہے۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب الاذان یوم الجمعۃ ص 124 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنھا الخ ص 232 ج اوابو دائود باب التشدید فی ترک الجماعۃ ج 1۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی ماجاء من کم یوتی الی الجمعۃ ص 92 ج 1۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من ترک الجمعۃ بغیر عذر ص 80 لکن رواہ عن کعب بن مارک )
(3 ؎ صحیح بخاری باب ما ادرکتم فصلوا و ما فاتکم فاتموا ص 88 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الۃ نن والنار ص 976 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب فضل الجولس صی مصلاہ الخ ص 236 ج 1۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی خطبۃ الجمعۃ و وقت صلوٰتھا فصل ثالث ص 124 ولکن رواہ عن ابی ھرہریرہ۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب منادرک من الصلوٰۃ رکعۃ ص 82 ج 1 و صحیح مسلم باب من ادرک رکعۃ من الصلوٰۃ الخ ص 221 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب المعراج ص 548 ج 1 و صحیح مسلم باب الاسراء برسول اللہ ﷺ ص 91 ج 1۔ )
(5 ؎ ابو داؤود باب الجمعۃ فی القریٰ ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب یخطب الخطبتین قائماً الخ ص 2830 ج 1 صحیح بخاری باب الاستسقاء الخطبۃ یوم الجمعۃ ص 127 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب الاستسقاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ ص 127 ج 1۔ )
(3 ؎ الترغیب ولاترہیب الترغیب فی الفراغ للعبادۃ الخ ص 201 ج 4۔ )
Ayah 62:1111۔ صحیحین 1 ؎ وغیرہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے۔ اس آیتوں کی شان نزول کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں عید کی طرح جمعہ کا خطبہ نماز کے بعد ہوا کرتا تھا نماز کے بعد خطبہ سننے سے پہلے صحابہ ؓ بنجارہ کو دیکھنے چلے گئے تھے اس پر یہ خفگی کی آیتیں آخر شورہ تک نازل ہوئیں اس بنجارہ کے ساتھ ایک نقارہ بھی تھا مدینہ میں آنے کے بعد وہ نقارہ بجا دیا جاتا تھا کہ بنجارہ کے آنے کی خبر لوگوں کو معلوم ہوجائے یہ بنجارہ شام کے ملک کی طرف سے ہر طرح کی ضرورت کی چیزیں لایا کرتا تھا ان آیتوں کے نازل ہونے کے زمانے میں جب یہ بنجارہ آیا تو اس وقت مدینہ میں بہت گرانی تھی اس گرانی کے سبب سے بنجارہ کے نقارہ کی آواز سنتے ہی بہت سے صحابہ خطبہ کے سننے کی تاب نہ لاسکے صرف بارہ آدمیوں کے قریب مسجد نبوی میں باقی رہ گئے اور سب لوگ آنحضرت ﷺ کو خطبہ پڑھتے چھوڑ کر بنجارہ کی طرف یہ خیال کرکے چلے گئے کہ نماز کے بعد خطبہ سننے کے لئے ٹھہرنا ضروری نہیں ہے بنجارہ کے نقارہ کی آواز کو ہی ان آیتوں میں تماشا فرمایا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الجمعۃ ص 727 جو صحیح مسلم باب یخطب الخطبتین قائما الخ ص 284 ج 1۔ )