Ayahs 63:1–41۔ 4۔ زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے۔ بیچ میں اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ قسم کھا کر اس بات کی صداقت ادا کرتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم اللہ کے رسول ہو لیکن ان منافقوں کی دو دلی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا۔ صحیح 2 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جس سے نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی اس زنگ کو دل کی مہر فرمایا بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ یہ آیت مرتد لوگوں کی شان میں ہے یہ قول ضعیف ہے صحیح قول یہی ہے کہ جس طرح اور آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے یہ آیت بھی منافقوں کی شان میں ہے کیونکہ جھوٹی قسمیں کھانا منافقوں کی ایک خاص نشانی ہے چناچہ اس باب میں صحیح حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ منافق کی ہر بات جھوٹی ہوتی ہے۔ 1 ؎ ان منافقوں کی جھوٹی قسموں کا سبب یہ فرمایا کہ انہوں نے اپنے ظاہری اسلام پر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جان و مال کے بچاؤ کی ایک ڈھال ان قسموں کو ٹھہرا رکھا ہے جس سے خود بھی یہ گمراہ ہیں اور بعض اور نادانوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں عبد اللہ بن ابی ‘ جد بن قیس ‘ معتب بن قشیر منافقوں میں روز دار لوگ تھے ان کی چالیں دیکھ کر ان کی قوم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے یہ فرمایا کہ یہ خود بھی گمراہ ہیں اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں پھر فرمایا جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ ان کے حق میں برا ہے کس لئے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے ان کے دل کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ اس واسطے ایمان داروں کی مجلس میں ان کی سی باتیں کرکے دونوں بہکا لیتے ہیں اور ان کے دل پر زنگ لگ جانے سے یہ لوگ اپنے کاموں کی برائی کو نہیں سمجھ سکتے بلکہ اپنی بدعادت کی برائی کے سمجھنے کے بجائے ان کی یہ بدعادت ان کو ایسی بھلی معلوم ہونے لگی ہے کہ رات دن اسی میں لگے رہتے ہیں اور رات دن اس عادت کے نہ چھوڑنے کے سبب سے ان کے دل میں یہ عادت ایسی بس گئی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ لوگ اپنے آپ کو ایمان دار بتائیں گے اور اس جھوٹے ایمان سے اپنی نجات کی توقع رکھیں گے لیکن اس غیب دان کے رو برو کسی کا دھوکا کیا چل سکتا ہے ان کا یہ دھوکا ان کو اسی قسم کی یہ سزا دلوائے گا کہ پل صراط کے اندھیرے کو طے کرنے کے لئے جب پکے ایمان دار لوگوں کو روشنی ملے گی تو ان کی زبانی ایمان کی مدھم روشنی کے موافق ان کو بھی کچھ روشنی مل جائے گی جو پل صراط کے عین اندھیرے میں بجھ جائے گی اور یہ لوگ آخر دوزخ کے نیچے کے طبقے میں گر پڑیں گے منافقوں کے دوزخ کے طبقہ کا حال سورة النساء میں اور ان کی روشنی کے بجھ جانے کا حال سورة الحدید میں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو ان کی جھوٹی قسمیں کھانے کا حال سورة المجادلہ میں گزر چکا ہے اب آگے منافقوں کے ایک اور حال کا ذکر فرمایا کہ ان کی صورت شکل ڈیل ڈول سے چرب زبانی سے اور مسجد نبوی کی دیواروں سے لگ کر بڑی توجہ کے ساتھ بیٹھ جانے سے تو دیکھنے والے کو ان کی ظاہری حالت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بات کے سمجھنے کا پورا مادہ ہوگا لیکن ان کی شامت اعمال سے ان کے دلوں پر وہ زنگ چھایا ہوا ہے کہ ان کا وہ دیوار سے لگ کر بڑی توجہ کے ساتھ بیٹھنا بالکل ایسا ہے جس طرح کڑی یا شہتیر دیوار سے لگا کر کھڑے کردیئے ہیں کہ جن میں بات کے سمجھنے کا کچھ بھی مادہ نہیں ہوتا اور ان دو دلی کے سب سے ان کا دل کسی طرف سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کوئی صدمہ پیش آجانے کا کھٹکا ان کے دل میں ہر وقت لگا رہتا ہے مثلاً دو مسلمان آپس میں باتیں کریں تو ان کو خیال ہوتا ہے کہ شاید ان ہی کی مذمت میں کوئی نئی آیت اتری ہے۔ اسی کا یہ چرچا ہو رہا ہے اور لڑائی چڑاہی کا کچھ تذکورہ ہو تو یہ وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم کو بھی لڑائی پر جانا پڑے گا۔ پھر معلوم نہیں کہ لڑائی کا انجام کیا ہو اگر ہو سکے تو دشمنوں کے فائدہ کی کوئی جاسوسی کی جائے تاکہ دشمنوں سے بھی میل بنا رہے۔ اسی واسطہ فرمایا کوئی بھید کی بات ان کے رو برو کہنے سے بچنا چاہئے۔ آخر کو فرمایا جب باوجود اس قدر فہمایش کے بھی یہ لوگ راہ راست سے پھرے جاتے ہیں اور اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے تو ان پر خدا کی پھکار ہے مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ صحیح ابن حبان وغیرہ میں عبد اللہ بن عمروبن العاص ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب ازل میں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تو ان کو ایک ہدایت کی روشنی تقسیم کی گئی تھی جو لوگ دنیا میں آنے کے بعد راہ راست پر آنے والے تھے۔ ان کو اس روشنی نے نورانی حالت میں کردیا۔ اور جو لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں تھے وہ اندھیرے میں رہ گئے۔ ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے عالم مثال میں ہر ایک چیز کی خاص خاص صورت ہے اس لئے اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ اجالے اور اندھیرے کی صورت میں وہ بدیاں اور نیکیاں تھیں جن کو اب لوگ دنیا میں اپنے اختیار سے کرتے ہیں باوجود ہر طرح کی فہمایش کے جن لوگوں کے راہ راست پر نہ آنے کا ذکر ان آیتوں میں یا اس قسم کی اور آیتوں میں ہے۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ ازل میں راہ راست پر دنیا میں قائم رہنے کا انکار اقرار خالص طور پر نہ تھا اور دنیا میں آنے کے بعد جس حالت پر یہ لوگ ہیں وہ حالت ان کی ازلی ہے کسی فہمایش اور نصیحت سے وہ پلٹنے والی نہیں ہے یہ فقط اللہ تعالیٰ کا انصاف ہے جو اس نے سزا و جزا کا مدار دنیاوی عملوں پر رکھا ہے ازلی حالت پر نہیں رکھا ورنہ ان کا حال تو ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ پیدا ہونے کے بعد یہ لوگ کیا کریں گے رہی یہ بات کہ ان کو مجبور کرکے راہ راست پر لایا جائے یہ انتظام الٰہی کے برخلاف ہے کیونکہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے بد لوگوں کو مجبور کرکے راہ راست پر لانے کے لئے نہیں پیدا کی گئی۔
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ویل للمطففین ص 191 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب علامۃ المنافق ص 10 ج 1۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی آخر ابواب الایمان ص 104 ج 2۔ )
Ayahs 63:5–85۔ 8۔ ان آیتوں کی تفسیر قصہ طلب ہے اور وہی قصہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک صحابی انصاری کا ایک صحابی مہاجر سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کچھ روایتوں کے موافق تبوک کی لڑائی سے اور بعضی روایتوں کے موافق بنی مصطلق کی لڑائی کے سفر میں تھے اس جھگڑے کو سن کر عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے قبیلہ کے انصار لوگوں سے یہ کہا کہ ہمارے قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ان مہاجرین کی خبر گیری جو کچھ کی جاتی ہے وہ آئندہ بند کردی جائے تاکہ یہ مہاجر لوگ خرچ برچ سے تنگ ہو کر ہماری بستی سے چلے جائیں اور اس سفر سے مدینہ واپس پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کو مدینہ سے نکال دینے کی اور بھی ہر طرح کی کوشش کی جائے۔ زید بن ارقم صحابی نے عبد اللہ بن ابی کی یہ باتیں سنیں اور اس کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا۔ آنحضرت ﷺ نے جب عبد اللہ بن ابی کو بلا کر ان باتوں کی تصدیق کی تو عبد اللہ نے قسمیں کھا کر ان باتوں کے کہنے سے انکار کیا اور زید بن ارقم کو جھوٹا ٹھہرایا۔ زید بن ارقم کہتے ہیں کہ مجھ کو اپنے جھوٹا ٹھہرنے کا بڑا رنج ہوا آخر اللہ تعالیٰ نے میرے کلام کی تصدیق میں یہ سورة نازل فرمائی اور آنحضرت ﷺ نے مجھ کو بلایا اور سورة پڑھ کر مجھے سنائی اور فرمایا زید بن ارقم اللہ تعالیٰ نے تم کو سچا کیا۔ اس سورة کی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد جب عبد اللہ جھوٹا قرار پایا تو لوگوں نے عبد اللہ سے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جا کر اپنے جھوٹ کی ندامت اور اپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا کی التجا کرنی چاہئے اس پر غرور سے منکروں کی طرح عبد اللہ اپنی گردن مٹکانے لگا۔ اس کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے خفگی کے طور پر ان آیتوں میں قصہ کے شروع کرنے سے پہلے فرمایا اور اسی ذکر میں یہ بھی فرما دیا کہ اے رسول اللہ کے تم ایسے لوگوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو۔ ایسے ازلی گمراہ لوگ اپنے قصد و اختیار سے راہ راست پر آنے والے نہیں۔ اور ان کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس خفگی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس خفگی کے بعد عبد اللہ بیمار پڑا اور کچھ دن بیمار رہ کر منافقانہ حالت میں مرگیا۔ یہ آتیں عبد اللہ کی زندگی کی حالت میں نازل ہوئیں اور اصلی اعتبار شرع میں خاتمہ کا ہے اور خاتمہ کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ اس لئے عبد اللہ بن ابی کے مرجانے کے بعد عبد اللہ کے بیٹے کی خاطر سے آنحضرت ﷺ نے اپن کرتہ عبد اللہ کے کفن کے لئے دیا اور عبد اللہ کے جنازہ کی نماز پڑھی جس پر سورة توبہ کی آیتیں نازل منافقوں کے جنازہ کی نماز پڑھنے کی ممانعت کی نازل ہوئیں۔ چناچہ یہ پورا قصہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے اس سورة کی شان نزول کا جو قصہ اوپر بیان کیا گیا ہے پورا قصہ تو صحیح 1 ؎ بخاری میں اس سورة کی نزول کے طور پر زید بن ارقم کی روایت ہے لیکن اس میں اس لڑائی کا نام نہیں ہے جس لڑائی کے سفر میں یہ قصہ پیش آیا۔ نسائی 2 ؎ کی زید بن ارقم کی روایت میں اس لڑائی کا نام جنگ تبوک ہے اور اہل مغازی نے اس لڑائی کا نام جنگ بنی مصطلق لکھا ہے جنگ بنی مصطلق 5 ھ میں ہوئی اور عبد اللہ بن ابی کا انتقال بھی اگرچہ 6 ھ میں جنگ تبوک کے بیس یا بائیس دن کے بعد ہوا ہے۔ اس صورت میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ جنگ تبوک کے سفر میں عبد اللہ بن ابی شریک تھا اور اس سفر میں اس نے وہ باتیں کیں جن کا ذکر بخاری کی زید بن ارقم کی روایت میں ہے لیکن یہ مشکل ہے کہ بغوی اور بعض اور مفسروں نے اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے کہ موسم کی سختی کے سبب سے اسی آدمی کے قریب جنگ تبوک میں جو نہیں گئے عبد اللہ بن ابی بھی ان ہی میں سے ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة توبہ میں گزر چکی ہے سورة توبہ میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ جنگ تبوک کے وقت جلاس بن سوید اس شخص منافق کا اسی قسم کا قصہ پیش آیا تھا جیسا قصہ عبد اللہ بن ابی کا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نسائی کے بعض راویوں کو اجلاس کے قصہ کی جگہ عبد اللہ کے قصہ دھوکا ہوگیا ہے ورنہ ترجیح اس قول کو معلوم ہوتی ہے کہ عبد اللہ کا قصہ بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت کا ہے کیونکہ جنگ تبوک میں عبد اللہ کا جانا ثابت نہیں ہوتا اور ان آیتوں کے مضمون کے موافق یہ قصہ حالت سفر کا ہے۔ وللہ خزائن السموت والارض ولکن المنافقین لایفقھون و للہ العزۃ و رسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لایعلمون۔ ان دونوں آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ منافقوں کی یہ نافہمی اور نادانی ہے جو یہ لوگ مہاجروں کو مفلس ‘ کم عزت غریب الوطن خیال کرتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ مہاجروں نے اپنا مال و اسباب اور گھر بار سب کچھ اس اللہ کے واسطے چھوڑا ہے جس کے حکم میں جہان بھر کے خزانے اور جہان بھر کی عزت ہے وہ ان کی ہجرت کے معاوضہ میں بہت کچھ ان کو دے سکتا ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے جن لوگوں نے تاریخ کی کتابیں دیکھی وہ جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے لے کر بنی عباس کی خلافت کے خاتمہ تک اللہ تعالیٰ نے اس پیشین گوئی کے موافق مہاجرین اور ان کی اولاد کو کیا کچھ دیا۔ ان آیتوں میں قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کا اور آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے کا پورا ثبوت ہے کیونکہ جس کلام میں اس طرح کی غیب کی خبریں ہوں وہ بلاشک اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ کلام اترا وہ بلاشک اللہ کے رسول ہیں۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 370 ج 4۔ )
Ayahs 63:9–119۔ 11۔ اوپر عبد اللہ بن ابی منافق کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبیٰ کو یہاں تک بھلا دیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد اس سے ان گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی ایمان دار آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہئے جس سے اللہ کی عبادت میں فتور پڑ کر اس کی عقبیٰ خراب ہوجائے۔ ذکر الٰہی میں سب عبادت بدنی داخل ہے پھر فرمایا کہ جو کوئی حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔ صحیح مسلم 1 ؎ میں مستورد بن شداد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخرت کی خوبیوں کی مثال ایک دریا کی ہے جس دریا کے مقابلہ میں تمام دنیا ایک قطرے کے برابر ہے یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے ایک قطرہ کے پے چھ ایک دریا کو ہاتھ سے کھو دیا اس کے نقصان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ اب آگے عبادت بدنی کے بعد عبادت مالی کا ذکر فرمایا۔ صحیح بخاری و مسلم 2 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ بڑا اجر اس صدقہ و خیرات کا ہے جو آدمی اپنی تندرستی کے زمانہ میں آخری وقت سے پہلے دے دے۔ کیونکہ اول تو آخری وقت پر آدمی کہتا کچھ ہے اور اوپر والے عمل کچھ اور کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ آخری وقت پر آدمی کا دل دنیا کی چیزوں سے اٹھ جاتا ہے اور یہ سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ دل سے اتری ہوئی چیز کی خیرات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے آیت اور حدیث کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آدمی کو کچھ اپنی عقبیٰ پاک کرنے کے لئے اللہ کے نام پر دینا ہو وہ اپنی تندرستی میں دے کیونکہ موت کا وقت اچانک آنے والا ہے اور اس طرح آنے والا ہے کہ پھر وہ ٹل بھی نہیں سکتا۔ اس لئے ایسے وقت پر یا تو خیرات ارادہ پورا ہی نہ ہوگا یا ہوگا تو عقبیٰ میں تندرستی کی خیرات کے برابر فائدہ نہ ہوگا۔ آخر کو فرمایا کہ عبادت بدنی یا مالی جس نیت سے انسان کرتا ہے وہ اللہ کو سب معلوم ہے اس لئے جو کچھ کیا جائے وہ خالص عقبیٰ کی نیت سے کیا جائے کہ بغیر اس کے کوئی عبادت اس کی بارگاہ میں قبول نہیں معتبر سند سے مسند امام احمد 3 ؎ اور مسند بزار وغیرہ میں چند صحابہ کی حدیثیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن سربمہر لوگوں کے اعمال نامہ اللہ تعالیٰ کے رو برو پیش ہوں گے جن کے ملاحظہ کے بعد اللہ تعالیٰ ہر ایک عمل کے حق میں فرمائے گا یہ عمل خالص نیت سے کیا گیا ہے اس لئے قابل قبول ہے اور یہ عمل ریاکاری کا ہے اس لئے قبول ہونے کے لائق نہیں اور فرشتوں سے یہ بھی فرمائے گا کہ ان ریا کار لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ جن کے دکھانے کو تم لوگوں نے یہ عمل کئے ہیں انہی سے ان عملوں کا ثواب مانگ لو اللہ کی بارگاہ سے ایسے عملوں کا کچھ ثواب نہیں مل سکتا۔ مسند 4 ؎ بزار کی انس بن مالک کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اعمال ناموں کے ملاحظہ کے بعد بعض نیک عملوں کو جب اللہ تعالیٰ اعمال ناموں سے خارج کردینے کا حکم فرمائے گا تو نیک عملوں کے لکھنے والے فرشتے یہ عرض کریں گے کہ یا اللہ ان عملوں میں ظاہری طور پر تو کوئی خراب نہیں معلوم ہوتی اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے فرمائے گا تم کو انسان کی نیت کا حال معلوم نہیں مجھ کو خوب معلوم ہے ان عملوں میں ریا کاری کا میل ہے اس لئے یہ عمل اجر کے قابل نہیں ہیں۔ یہ حدیثیں واللہ خبیر بما تعملون کی پوری تفسیر ہیں۔ آیت اور ان حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب نکلا کہ اللہ کو انسان کے عملوں کا ذرا ذرا حال معلوم ہے اور نیک عملوں میں قیامت کے دن بعضی بعضی ایسی درپردہ ریاکاری نکلے گی جس کا حال نیک عمل کے لکھنے والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں مگر اللہ تعالیٰ غیب دان کو یہ سب حال معلوم ہے اس سے کوئی درپردہ بات یا دل کی بات پوشیدہ نہیں اور قیامت کے دن اجر کے ملنے کا فیصلہ اسی غیب دان کے علم کے موافق ہوگا جس کا خیال ہر نیک عمل کرنے والے آدمی کو نیک عمل کرتے وقت ضرور رکھنا چاہئے۔ اسی تفسیر میں یہ بھی کسی جگہ گزر چکا ہے کہ جس عمل میں بدعت کا کچھ میل ہوگا۔ ریاکاری کے عمل کی طرح وہ عمل بھی اجر کے قابل نہیں ہے۔ بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جس کا کچھ پتہ دین کی کتابوں میں لگتا ہو معتبر سند امام 1 ؎ احمد ‘ ابو داؤود اور مستدرک حاکم میں تمیم داری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فرض عبادت کا کوئی جز اچھی طرح ادا نہ ہوگا تو قیامت کے دن اس کی تکمیل نفلی عبادت سے ہوجائے گی۔ اس حدیث کو مسند بزار کی انس کی حدیث کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب نکلا کہ ریاکاری ایسی بدتر چیز ہے جس کے نقصان کی تکمیل کسی دوسری نفلی خالص عمل سے بھی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے میل سے نیک عمل بالکل رائیگاں ہوجاتا ہے اس بلا سے ہر ایک مسلمان آدمی کو بہت بچنا چاہئے تاکہ قیامت کے دن نیکی برباد گناہ لازم کا مضمون نہ پیش ہو آجائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ وغیرہ کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ کسی برے کام کا آدمی کے دل میں خیال آجائے اور پھر اس خیال کے موافق آدمی وہ برا کام نہ کرے تو فقط خیال پر کوئی بدی اس شخص کے اعمال میں نہیں لکھی جاتی بلکہ اس برے خیال کے چھوڑ دینے کے اجر میں ایک نیکی نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیک کام کے وقت دنیا کے دکھاوے کا خیال آدمی کے دل میں آجائے اور وہ اس خیال کا میل اس نیک کام میں نہ ہونے دے بلکہ فوراً اس خیال کو دل سے دفع کر دے تو فقط خیال سے وہ نیک عمل اکارت نہیں جاتا۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة المنافقون ص 727 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 370 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب فناء لدنیا وبیان الحشر یوم القیمۃ ص 383 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب فصل صدقۃ الشحیح الصحیح الخ ص 190 ج 1 و صحیح مسلم باب بیان ان افضل الصدقۃ الصحیح الشحیح ص 332 ج 1۔ )
(3 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی الاخلاص والصدق والنبۃ الخ ص 65 ج 1۔ )
(4 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی الاخلاص والصدق والنبۃ الخ ص 65 ج 1۔ )
(1 ؎ ابو دائود باب قول النبی ﷺ کل صلوٰۃ لایتمھا صاحبھا تتم من تطوعہ ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ ص 960 ج 2۔ )