64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 64:1–4

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لا متناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسکو دیکھتا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

1۔ 4۔ بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گزر چکا ہے لہ الملک ولہ الحمد کا یہ مطلب ہے کہ زمین و آسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اس لئے ہر ایک چیز زمین و آسمان کی اپنے اپنے حال کے موافق اسی کی حمد و ثنا میں لگی ہوئی ہے وھو علی کل شی قدیر کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے کہ بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة تبارک الذی میں آئے گی۔ وھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے جان لیا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہوگا وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ پھر انسان کو پیدا کرکے نیک و بد کام کا کرنا انسان کے اختیار پر چھوڑ دیا ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا پائے گا۔ اب جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے آخر وہ علم ازلی الٰہی کے مطابق پڑتا ہے کیونکہ ہر شخص اپنے اختیار سے وہی کام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی سے معلوم کرلیا ہے لیکن اس علم ازلی کے موافق کسی کو کسی کام پر اللہ تعالیٰ نے مجبور نہیں کیا بلکہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے نیک و بد کو جان لیا تھا اس پر بھی اللہ تعالیٰ ہر ایک پیدا ہونے والے کو فطرۃ اسلام پر پیدا کرتا ہے پھر شعور پکڑنے کے بعد وہ لڑکا ماں باپ کی صحبت کے سبب سے یا شیطان کے بہکانے سے فطرۃ اسلام کو چھوڑ کر اور ڈھنگ سے لگ جاتا ہے چناچہ اس باب کی صحیح حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور تقدیر کے مسئلہ کے ذکر میں اس مسئلہ کی تفصیل بھی گزر چکی ہے اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ ازلی بد کو نیک کردینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو معلوم اور اس کے رو برو ہے اس لئے فرمایا جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ وہ سب دیکھتا ہے اور یہ ہر چیز کا دیکھنا بھالنا اور انسان کی نیت تک کا جانچنا اور ہر شخص کے عملوں کے لکھنے کیلئے فرشتوں کا مقرر کرنا اس واسطے ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کو وہ فرشتے لکھ لیں اور خصوصاً ایسی اچھی صورت و شکل میں انسان کو اس نے اسی عدل و انصاف کی بنیاد پر اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ نیک و بد ہو رہا ہے وہ دنیا کے ختم تک ہوجائے تو اس کے بعد انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرکے نوکس کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدوں سے ان کی بدی کا مواخذہ کیا جائے۔
Ayahs 64:5–6

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

5۔ 6۔ اوپر حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کے منکروں کو ایک اور طرح قائل کرنے کو فرمایا کہ یہ مکہ کے مشرک لوگ حشر کو اور حشر کے سامان کے لئے نیک کام کرنے کو ان سے کہا جاتا ہے اس کو ہر وقت جھٹلاتے ہیں تو کیا شام کے ملک کی طرف تجارت کے سفر میں ان کو پچھلی قوموں کی کچھ اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں اور ان کو کیا ان لوگوں کو یہ حال معلوم نہیں ہوا کہ جس طرح ان حال کے لوگوں کو حشر کے قائم ہونے اور اس کے لئے سامان کرنے کی نصیحت کرنے کو اللہ کے رسول آئے اسی طرح ان لوگوں کی نصیحت کے لئے بھی اللہ کے رسول ہر ایک زمانے میں آئے تھے اور طرح طرح سے ان کو نصیحت بھی کی لیکن ان لوگوں نے ان عقلی باتوں سے کام لیا کہ بشر ہونے میں سب انسان برابر ہیں۔ اللہ کا رسول کوئی بشر نہیں ہوسکتا اور انہی عقلی باتوں سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ انجام یہ ہوا کہ دنیا میں تو وہ سب طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے اور آخرت کا عذاب جدا ان کو بھگتنا پڑے گا اس سے ان اہل مکہ کو اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانا کتنے بڑے وبال کی بات ہے رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کے جھٹلانے والوں کو رسول کی صداقت پر مجبور کیوں نہیں کیا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس لئے کسی کے مجبوری کے ایمان و اسلام کی اللہ کو کچھ پروا نہیں اس کی مخلوقات میں بغیر مجبوری کے اس کی حمد و ثنا کرنے والے تو پیدا ہیں اور اس کی ذات صفات قدیمی جب یہ حمد و ثنا کرنے والے موجود نہ تھے اس وقھ بھی اس کی یہی شان تھی اور جب یہ حمد و ثنا کرنے والے فنا ہوجائیں گے اس وقت بھی اس کی یہی شان رہے گی۔ اس واسطے اس کو کسی کی حمد وثنا اور عبادت کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ صحیح مسلم 1 ؎ وغیرہ کی ابوذر کی حدیث قدسی اوپر گزرچکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام روئے زمین کے انسان و جنات نیک ہوجائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور اگر یہ سب بد ہوجائیں گے تو اس سے اس کی بادشاہت میں کچھ گھٹ نہ جائے گا یہ حدیث قدسی آیت کے آخری ٹکڑے واللہ غنی حمید کی پوری تفسیر ہے۔
Ayahs 64:7–10

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاو۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

7۔ 10۔ جو لوگ حشر کے منکر ہیں قرآن شریف میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قائل کیا ہے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے جو تمام جہان کو پیدا کیا ہے وہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ہر انسان کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے۔ دوسری دفعہ اس کا کرنا بالکل نہایت آسان ہوجاتا ہے پھر کونسی عقل سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں کہیں یہ فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عقل دی ہے وہ جو کام کرتا ہے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ وہ خدا جس نے عقل کو سب عقل مندوں کو پیدا کیا اس کے کام کو یہ لوگ بےفائدہ اور عبث کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ جزا سزا کا ایک دن نہ ہو اور نیک و بد کو ایک ہی حال پر چھوڑ دیا جائے تو جہان کا پیدا کرنا عبث اور بےفائدہ ٹھہرے گا۔ لیکن منکروں کے انکار کا جواب اپنے رسول کی قسم کھا کر یہ دینے کو فرمایا ہے کہ ضرور ایک دن حشر ہوگا۔ اس طرح کا جواب اس لئے دیا ہے کہ انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ قسم کھا کر جو بات کہی جائے اس کا انسان کو اعتبار ہوجاتا ہے اس طرح کی قسم کی آیت ایک سورة یونس میں اور دوسری سورة سباء میں گزر چکی ہے یہ قسم کی تیسری آیت ہے اس قدر سمجھانے اور قسم کھانے کے بعد بھی جن لوگوں کو حشر کا انکار ہے یا جو لوگ زبان سے تو حشر کا اقرار کرتے ہیں مگر اپنے اس اقرار کے پابند ہو کر حشر کا سامان پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کا اس قدر حال قابل افسوس ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے حال پر افسوس ظاہر فرمایا ہے جس کا ذکر سورة یٰسین میں گزر چکا ہے۔ منکر حشر کو حشر کے قائم ہونے پر طرح طرح سے قائل کرکے فرمایا کہ جب حشر کا قائم ہونا یقینی ہے تو اس دن کی آفتوں سے بغیر اس کے نجات نہیں ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبردار قبول کی جائے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن میں جو فرمانبرداری کے طریقے بتائے ہیں ان کے موافق عمل کیا جائے اور یہ جان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک شخص کے ہر طرح کے عمل کی پوری خبر ہے۔ اسی کے موافق حشر کے دن جزا و سزا کا وہ فیصلہ فرمائے گا۔ صحیح 1 ؎ مسلم کی ابو موسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کے دن بھر کے عملوں کا اعمال نامہ رات ہوجانے سے پہلے اور رات بھر کے عملوں کا اعمال نامہ سورج کے نکلنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پہنچ جاتا ہے یہ بھی اوگر گزر چکا 1 ؎ ہے کہ وہ اعمال نامے سربمہر قیامت تک رکھے جاتے ہیں قیامت کے دن وہ کھولے جائیں گے اور ہر ایک عمل کی جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ قرآن شریف کو نور اس لئے فرمایا کہ جس طرح اندھیرے میں آدمی کو روشنی سے سیدھا راستہ معلوم ہوجاتا ہے اسی طرح قرآن شریف آدمی کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر نجات کا راستہ بتا دیتا ہے۔ حشر کے دن اگلی پچھلی ساری مخلوق محشر کے میدان میں اکٹھی ہوگی اس واسطے اس دن کا نام یوم الجمع ہے۔ معتبر سند سے ابن 2 ؎ ماجہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر کے لئے ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک دوزخ میں اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے قیامت کے دن جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے جنتیوں کے اصل مقاموں کے علاوہ ان دوزخیوں کے مقامات بھی جنتیوں کو مل جائیں گے قیامت کا نام یوم التغابن ہونے کی یہ حدیث تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے لوگ اس دن اس ہار میں رہیں گے کہ اپنا جنت کا مقام جنتیوں کہ ہاتھ ہار بیٹھیں گے۔ اب نیک و بد لوگوں کا جو نتیجہ اس دن ہوگا اس کا ذکر فرمایا کہ نیک لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور بد لوگ ہمیشہ دوزخ میں۔ ابو سعید خدری 3 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہوگا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ دوزخ میں وہی شخص رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا جنتیوں کے حال میں گناہوں کے معاف فرمانے کا جو ذکر فرمایا اس کی تفسیر صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کی ابن عمر کی روایت سے اوپر گزر چکی ہے کہ کلمہ گو بعض گناہ گاروں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح دنیا میں میں نے تمہارے گناہوں کو خلق اللہ پر ظاہر کرکے تم کو رسوا نہیں کیا آج بھی اپنی رحمت سے تمہارے گناہ میں معاف کرتا ہوں اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں۔ وبئس المصیر کا مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ منکرین حشر دوزخ کا حال اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں لیکن جب دوزخ سے انکا پالا پڑے گا تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے لئے وہ بہت بری جگہ ہے۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب معنی قول اللہ عز و جل ولقدراہ نزلۃ اخری الایۃ 99 ج 1۔ ) (1 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی الاخلاص و الصدق ص 65 ج 1۔ ) (2 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص 232۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب تفاضل اھل الایمان فی الاعمال ص 8 ج 1۔ ) (4 ؎ صحیح بخاری باب ستر المومن علی نفسہ ص 896 ج 2۔ )
Ayahs 64:11–13

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

11۔ 13۔ اوپر اللہ اور اللہ کے رسول اور قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 5 ؎ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار بننے کے لئے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضرور ہے ایک تو یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا برحق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا آیت اور حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مثلاً آدمی کو کوئی تکلیف دنیا میں پہنچے تو آدمی دل میں پورا اعتقاد رکھے کہ مجھ کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے موافق پہنچی ہے جو کم دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھا ہے اور یہی اعتقاد دنیا کے باقی امور میں رکھنا چاہئے۔ چناچہ صحیح مسلم 1 ؎ کی عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث اس باب میں اوپر گزر چکی ہے اس اعتقاد سے یہ فائدہ ہوگا کہ آدمی کے دل میں صبر کی ہمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوجائے گی جس سے دنیا میں تکلیف کی برداشت آسان ہوجائے گی اور صبر کا اجر ملے گا یہ مطلب ومن یومن باللہ یھد قلبہ کا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر یہ اہل اسلام حق پر ہوتے تو ان کو یہ دنیا کی طرح طرح کی مصیبتیں نہ پہنچتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جو لوگ حق پر ہیں ان کو دنیا کی مصیبتیں تقدیر الٰہی کے موافق اس مصلحت سے پہنچائی جاتی ہیں کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توفیق کی مدد سے ان مصیبتوں پر صبر کریں جس کے اجر میں ان کے ثواب کا درجہ عقبیٰ میں بڑھے۔ ابوہریرہ 2 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعض ایمان دار لوگوں کو اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں ایسا درجہ دینا چاہتا ہے جو ان کے عملوں سے بڑھ کر ہے اس لئے ان کو دنیا میں کچھ مصیبتوں میں مبتلا فرماتا ہے اور پھر ان مصیبتوں پر صبر کی توفیق عنایت فرماتا ہے تاکہ اس صبر کے اجر میں وہ لوگ اس بڑے درجہ تک پہنچ جائیں۔ اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں یہ سب حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں۔ واللہ بکل شیء علیم، کا یہ مطلب ہے کہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ اس سے مصیبت کے وقت صبر کرنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اسی کے موافق وہ ان کو عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا۔ طبرانی 3 ؎ کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب حشر کے دن مصیبت کے وقت صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر ملے گا تو جو لوگ دنیا میں عافیت سے رہے ہیں وہ یہ آرزو کریں گے کہ دنیا میں کوئی قینچی سے ان کی بوٹاں کاٹتا اور وہ اس تکلیف پر صبر کرتے تو اچھا ہوتا کہ آج اس صبر کا بڑا اجر ملتا اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن الزبیر ہے۔ اگرچہ بعض علما نے اس کی ثقاہت میں کلام کیا ہے لیکن امام احمد نے اس کو معتبر قرار دیا ہے 1 ؎ صبر کے اجر میں اور بھی حدیثیں ہیں جن سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس روایت کو تقویت ہوجاتی ہے مصیبت کے وقت بشریت کے سبب سے آدمی ذرا گھبرا جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ ایسے وقت میں اللہ اور اللہ کے رسول کی فرماں برداری کا پورا خیال رکھ کر کوئی بات خلاف شریعت نہ کی جائے اور دنیا عالم اسباب ہے اس میں تکلیف کا اگر سبب ہو تو اس سبب میں کوئی مستقل تاثیر نہ خیال کی جائے بلکہ ایسے وقت میں پورا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے کسی سبب کو اس کی قدرت میں کوئی مستقل دخل نہیں ہے بیچ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے رسول کے ذمے احکام الٰہی کا بیان کردینا ہے ان احکام کو جو مانے گا اسی کا بھلا ہے۔ (5 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الایمان بالقدر خیرہ وشرہ ص 46 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ علیھما السلام ص 335 ج 2۔ ) (2 ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الصبر الخ ص 527 ج 4۔ ) (3 ؎ الترغیب والترھیب الترغیب فی الصبر الخ ص 525 ج 4۔ ) (1 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب نے الصبر 525 ج کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ )
Ayahs 64:14–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دو چند دیگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے۔

14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی صبحت میں دین کے بہت سے مسئلوں سے واقف ہوگئے جن مسئلوں سے یہ پیچھے ہجرت کرنے والے لوگ محروم رہ گئے۔ اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آئیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بی بی بچوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی تو نہیں کرنی چاہئے لیکن بی بی بچوں کی اس طرح کی محبت سے بچنا چاہئے جس میں دین کے کسی کام میں فتور پڑے اور یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بی بی بچے اور مال و متاع دین کے حق میں دشمن اور بڑی فتنہ میں ڈالنے والی چیزیں ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کو مال و متاع اور بی بی بچوں کی الفت پر ہمیشہ مقدم رکھنا چاہئے بعض مفسروں نے لکھا 3 ؎ ہے کہ آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم سے آل عمران کی آیت یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ منسوخ ہے لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے مخالف ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ دونوں آیتوں میں طاقت بشری کے موافق تقویٰ کا اور عبادت کا حکم ہے اس لئے دونوں آیتوں میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ بلکہ سورة تغابن کی آیت سورة آل عمران کی تفسیر ہے بی بی بچوں کے ذکر میں صدقہ خیرات کا ذکر بھی فرمایا تاکہ بی بی بچوں کے خرچ کے وقت یہ عقبیٰ کی بہتری کا خرچ بھی ہر ایمان دار شخص کو یاد رہے کہ دنیا کے خرچ اخراجات میں آدمی جو کچھ اٹھائے گا وہ تو گیا گزرا اور جو چھوڑ مرا وارثوں کا ہوگیا آدمی کے ساتھ جانے کا وہی روپیہ پیسہ ہے جو اس نے حلال کی کمائی میں سے عقبیٰ کے ثواب کے لئے اللہ کے نام پر دیا۔ اسی واسطے صدقہ خیرات کے خرچ کو خرچ کرنے والے کی بہتری اور بھلائی کا خرچ فرمایا۔ صحیح 1 ؎ مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی نے دنیا میں جو کچھ کھالیا یا پی لیا تو وہ گیا گزرا اور جو چھوڑ مرا وہ دوسروں کا ہوگیا ہاں نیک نیتی سے جو کچھ اس نے اللہ کے نام پر دیا وہ اس کے ساتھ جائے گا۔ اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں۔ یہ سب حدیثیں انفقوا خیرا لانفسکم کی تفسیر ہیں۔ اوپر گزر چکا ہے کہ صدقہ خیرات کے وقت شیطان آئندہ کی تنگ دستی سے آدمی کو ڈراتا ہے اس لئے فرمایا کہ جو شخص صدقہ خیرات کے وقت ایسے شیطانی وسوسوں سے بچا وہ اپنی مراد کو پہنچا کہ اس نے ایک ایک کے سات سات سو کمائے۔ آدمی صدقہ خیرات میں جو کچھ خرچ کرے گا اس کا عوض مع نفع کے اس کو عقبیٰ میں مل جائے گا اس واسطے صدقہ خیرات کو قرض فرمایا اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دنیا کے دکھاوے کا اور دے کر پھر احسان جتلانے کا دخل نہ ہونا چاہئے۔ اجر کے بڑھنے کی تفسیر سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ معتبر سند سے مسند 2 ؎ ابی یعلی میں حضرت جابر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا صدقہ آدمی کے صغیرہ گناہوں کو اس کے اعمال نامہ میں سے اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے صدقہ کے ذکر میں گناہوں کے معاف ہوجانے کا ذکر جو ان آیتوں میں فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے قدر دان ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس نے اپنی قدر دانی سے تھوڑے سے صدقہ پر بہت سے اجر کا وعدہ فرمایا جس کی تفسیر سورة رعد میں گزر چکی۔ اللہ تعالیٰ کے صاحب تحمل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح اس نے اپنے تحمل سے ان آیتوں میں ان لوگوں کو روکا جو اپنی بی بی بچوں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آنا چاہتے تھے اسی طرح وہ ہر گناہ گار کے مواخذہ میں تحمل کا برتاؤ کرتا ہے ورنہ اگر وہ ہر گناہ پر گناہ گاروں کو فوراً پکڑے تو دنیا تباہ ہوجائے چناچہ سورة النحل میں اس کی تفصیل آیۃ ولویو اخذ اللہ الناس بظلھم ما ترک علیھا من دابۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ عالم الغیب الشھادہ وھو العزیز الحکیم کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اس علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے صدقہ خیرات یا اور کوئی نیک عمل جس نیت سے ہر شخص کرتا ہے اس کو سب معلوم ہے اسی کے موافق قامت کے دن فیصلہ ہوگا زبردست وہ ایسا ہے کہ اس نے پچھلی قوموں کو جب ہلاک کرنا چاہا تو کوئی ان کو اس کے عذاب سے بچا نہ سکا لیکن وہ اپنے تحمل سے درگزر کا برتاؤ کرتا ہے صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ آسمان و زمین و انسان ‘ احکام شریعت وغیرہ سب اس کی حکمت کے گواہ موجود ہیں۔ (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة التفابن ص 188 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 376 ج 4۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 407 ج 2۔ ) (2 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی اصدقۃ والحث علیھا الخ ص 10 ج 2۔ )