65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) انکو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

1۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو شروع سورة میں اپنے رسول کو مخاطب کیا اور پھر طلاق کا مسئلہ جب بتایا تو امت کے لوگوں کو بھی اس میں شریک کرلیا تاکہ اس مسئلہ کا حکم سب امت کے لوگوں سے متعلق ہوجائے۔ فطلقوھن لعدتھن کا یہ مطلب ہے کہ عورتوں کو اگر طلاق دی جائے تو وقت مقررہ پر دی جائے بےوقت نہ دی جائے۔ مسند امام صحیح 1 ؎ مسلم اور سنن اربعہ میں عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے طلاق کے وقت مقررہ کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ طلاق ایسے طہر کے دنوں میں دی جائے جس طہر میں عورت سے صحبت نہ کی گئی ہو۔ اس طلاق کو سنی کہتے ہیں اور جو طلاق اس وقت مقررہ میں نہ ہو اس کو بدعی کہتے ہیں اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ بدعی طلاق سے بھی عورت مطلقہ ہوجاتی ہے اگر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دی جائیں تو اکثر علماء کے نزدیک تین طلاقیں پڑجاتی ہیں۔ مسند امام احمد اور صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ کی تین طلاقوں کی ایک ہی طلاق شمار کی جاتی تھی اور یہی حال حضرت ابوبکر صدیق کی ساری خلافت اور حضرت عمر کی خلافت شروع دو برس کا تھا لیکن جب لوگوں نے تین طلاقوں کی کثرت کا برتاؤ کیا تو حضرت عمر نے اپنے خلافت کے تیسرے سال میں یہ فتویٰ دیا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں تین ہی شمار کی جائیں گی اب علماء کے اختلاف کا یہی سبب ہے کہ کچھ علماء آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا عمل درآمد کرلیتے ہیں اور کچھ حضرت عمر ؓ کے فتویٰ کو لیتے ہیں۔ واحصوا العدۃ کا یہ مطلب ہے کہ طلاق کے بعد عدت کے دنوں کی گنتی اور ان کا حساب خوب یاد رکھو۔ عدت کی مدت کے اندر طلاق سے رجوع کرکے میل جول کرلینے کا یہ مطلب ہے کہ گویا طلاق کو فسخ کرکے طلاق سے پہلے جو نکاح تھا اس کو قائم رکھا گیا یہ پہلا نکاح عدت کے ختم تک رہتا ہے اور بعد ختم عدت کے عورت بالکل اجنبی ہوجاتی ہے اس لئے پہلے طلاق کی عدت کے دنوں کے حساب یاد رکھنے کی تاکید فرمائی۔ عدت کے معنی گنتی کے ہیں اور جو چیز گنی جائے اس کو بھی عدت کہتے ہیں آیت میں یہ آخری معنی مقصود ہیں۔ چناچہ آیت کے پہلے ٹکڑے میں طہر کے دنوں کو اور دوسرے ٹکڑے میں تین حیض کے دنوں کو عدت فرمایا ہے حیض والی عورت کی عدت تین طہر ہیں یا تین حیض۔ اس کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے لیکن تین حیض کا قول قوی ہے کیونکہ خود قرآن شریف میں آگے ذکر ہے کہ چھوٹی عمر یا بڑی عمرہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ان ان کی عدت کی مدت تین مہینے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق والی عورتوں کی عدت تین حیض ہیں اگر چھوٹی عمر یا بڑی عمر ہونے کی سبب سے ان کو حیض نہ آتا ہو تو ہر حیض کے معاوضہ میں ایک مہینہ لیا جا کر ایسی عورتوں کی عدت تین مہینے قرار دی جائے امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا مذہب یہی ہے کہ طلاق والی عورتوں کی عدت تین حیض ہیں۔ بعض لوگ عورتوں کو سنانے کے لئے عدت کے اندر ہی ان کو گھر سے باہر نکال دیتے تھے۔ اس لئے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہئے اور آئندہ سے نہ مرد عورتوں کو عدت کے اندر گھر سے باہر نکالیں نہ خود عورتیں نکلیں مگر ہاں کوئی عورت اگر عدت کے اندر بےحیائی کا کوئی کام کرے یا سسرال والوں سے لڑے تو ایسی عورت کو عدت کے اندر گھر سے نکال دیا جاسکتا ہے پھر فرمایا شروع سورة سے یہاں تک طلاق اور عدت کے بارے میں جو حکم دیئے گئے ہیں وہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ہر ایمان دار شخص کو ان کی پابندی ضرور ہے جو کوئی اس حد سے قدم باہر رکھے گا اس کے لئے برا ہے کیونکہ قیامت کے دن اس کو اپنے کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اب آگے عدت کے اندر عورتوں کو گھر میں رکھنے کا فائدہ سمجھایا کہ طلاق دینے والے شخص کے دل میں شاید اللہ تعالیٰ طلاق سے رجوع اور میل جول کا ارادہ پیدا کر دے اور عورت کے گھر میں موجود ہونے کے سبب سے یہ ارادہ آسانی سے پورا ہوجائے ورنہ عورت کے گھر سے بےگھر ہوجانے کی صورت میں طرح طرح کی دقتیں پیش آسکتی ہیں۔ اس آیت اور آیت للمطلقات متاع بالمعروف سے جمہور علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ جس طلاق میں رجوع ممکن ہے اس میں عدت کی مدت تک عورت کا روٹی کپڑا اور رہنے کا مکان طلاق دینے والے شوہر کے ذمہ ہے۔ مسند امام 1 ؎ احمد اور نسائی میں اسی مضمون کی فاطمہ بنت قیس کی ایک حدیث بھی ہے اگرچہ اس کی سند میں علماء کو کچھ کلام ہے لیکن ان آیتوں کے مضمون سے اس حدیث کی تقویت ہوجاتی ہے جس طلاق میں رجوع ممکن نہیں جیسے تین طلاقیں ایک ہی دفعہ مثلاً دے دی جائیں تو ایسی عورت کے روٹی کپڑے اور رہنے کے مکان میں سلف کا اختلاف سے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم وغیرہ میں فاطمہ بنت قیس کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے تین طلاقوں والی عورت کے روٹی کپڑے اور رہنے کے مکان کے حق کو ساقط کیا ہے اس سے ان علماء کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے جن کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی حدیث میں جس میں آنحضرت ﷺ نے ان کی خالہ کو کھجوروں کی پیڑوں کی خبر گیری کے لئے دن کو عدت کے اندر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے کیونکہ ان کی خالہ کے سوا ان پیڑوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ تھا یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ویخرجن کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت دن دن عورت کی عدت کے اندر گھر نکلنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب بھی اس کے موافق ہے۔ امام مالک (رح) امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک بغیر عذر کے بھی دن کو نکلنا جائز ہے دلیلیں ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 378 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب المطلقۃ البائن لانفقہ لھا ص 483 و 484 ج 1۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب جواز خروج المعتدۃ البائن الخ ص 486 ج 1۔ )
Ayahs 65:2–3

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی معیار (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انکو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور گواہوں) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز اخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کیلئے (رنج وسخن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دیگا

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا خدا اس کو کفایت کرتے گا اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

2۔ 3۔ سورة بقر میں صحیح روایتوں کے حوالہ سے گزر چکا ہے کہ بعض لوگ عدت کے ختم ہونے کے قریب طلاق سے رجوع کرکے برائے نام میل جول کرلیتے تھے اور عورتوں کے ستانے کے لئے ایک عرصہ تک یہی سلسلہ جاری رہتا تھا سورة بقر میں بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس عادت سے روکا اور یہاں بھی فرمایا کہ عدت کے ختم ہونے کے قریب یا تو دو گواہوں کی گواہی سے ہمیشہ کے لئے میل جول کرکے حسن سلوک سے اس کو قائم رکھا جائے یا عدت گزرجانے کے بعد بغیر کسی بد زبانی اور سختی کے اس عورت کو چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ دوسرا نکاح کہیں اور کرلے۔ غرض عورتوں کے ستانے کا طریقہ جو بعض لوگوں نے نکال رکھا ہے وہ بالکل بند کردیا جائے میل جول کے لئے دو گواہوں کی گواہی کا حکم اس لئے دیا کہ میل جول آئندہ کے لئے مضبوط ہوجائے پہلے کی عادت کی طرح برائے نام نہ رہے ایک قول میں امام شافعی کے نزدیک یہ گواہی فرض 2 ؎ ہے۔ اور علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ دلیلیں ہر ایک مذہب کی بڑی کتابوں میں ہیں لیکن اس گواہی کے مستحب ہونے کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث جو اوپر گزری 3 ؎ اس میں آنحضرت ﷺ نے اس گواہی کا ذکر نہیں فرمایا گواہوں کو یہ بھی ہدایت فرمائی کہ اگر اس گواہی کے بعد میل جول میں کچھ خلل پڑ کر جھگڑے کی نوبت آئے تو گواہوں کو چاہئے کہ اللہ کے واسطے پوری شہادت پنچوں یا حاکم کے روبرو ادا کریں کہ میل جول کے وقت کن شرطوں پر میل جول قرار پایا تھا سچی گواہی کی تعریف میں اور جھوٹی گواہی کے مواخذہ میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں۔ آگے فرمایا کہ گھڑی گھڑی کی طلاق اور گھڑی گھڑی کے رجوع سے جو ممانعت کی گئی ہے اور طلاق سے رجوع کرنے کے وقت دو شخصوں کی گواہی کا جو حکم دیا گیا ہے ان حکموں کی اور شریعت کے تمام احکام کی پابندی وہی شخص کرے گا جس کے دل میں ایمان کا نور ہے اور قیامت کے دن اللہ کے رو برو کھڑے ہونے کا اس کے دل میں خوف ہے پھر فرمایا اس طرح کے پرہیز گاروں کو دین و دنیا دونوں جہان میں بھلائی پہنچنے والی ہے عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ ہر طرح کے مواخذہ سے ان کو بچائے گا اور دنیا میں اپنی پرہیزگاری کے سبب سے جب وہ ناجائز کمائی کا خیال چھوڑ دیں گے تو ان کی گزران کا سامان اللہ تعالیٰ غیب سے ایسا کر دے گا جو ان کے قیاس میں بھی نہ آئے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے تاریخ کی کتابیں دیکھی جائیں تو معلوم ہوجائے گا کہ جب تک مسلمانوں میں دین داری اور پرہیز گاری رہی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا کیسا ظہور ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق دنیا میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس تقدیر الٰہی کے موافق راحت و تکلیف تو ہر ایک شخص کے ساتھ لگی ہوئی ہے فرق فقط اتنا ہی ہے کہ جو لوگ تقدیر الٰہی پر شاکر ہیں اور اپنا ہر کام اللہ کو سونپتے ہیں وہ تکلیف کے وقت صبر کرتے ہیں اور اس تکلیف کی کشایش اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں اور کچھ شکوہ شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ ایسے لوگ اس رحت کو اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری کرتے ہیں مثلاً بیماری کی تکلیف صحت کی راحت سے بدل جائے توہ اس کی شکر گزاری اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کرتے ہیں اور تنگ دستی کی تکلیف خوش حالی کی راحت سے بدل جائے تو وہ شرع کے حقوق مالی ادا کرتے ہیں نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ ان کو دنیا و عقبیٰ دونوں جگہ کی بھلائی حاصل ہوتی ہے دنیا میں تو ہر تکلیف آخر کو راحت سے بدل جاتی ہے کیونکہ دنیا کی کسی حالت کو قیام نہیں اور عقبیٰ میں ان کے صبر اور شکر کا اجر قائم ہوجاتا ہے جن لوگوں کا حال اس کے برخلاف ہے ان کا معاملہ بالکل برعکس ہے وہ تکلیف کے وقت بےصبری کرتے ہیں طرح طرح کی شکایت ہر وقت ان کی زبان پر رہتی ہے اور انتظام دنیا کے موافق جب اللہ تعالیٰ ان کی وہ تکلیف راحت سے بدل دیتا ہے تو بجائے اللہ کی شکر گزاری کے اس راحت کے نشہ میں وہ بالکل اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور عقبیٰ کی باتوں کو خواب و خیال جانتے ہیں نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وقت مقررہ پر ان کی تکلیف رفع ہو کر دنیا میں تو ان کو کچھ راحت کی شکل نظر آجاتی ہے مگر ان کی عقبیٰ بالکل خربا ہوجاتی ہے پرہیز گار شخص کو تقدیر پر شاکر رہنا اور توکل کرنا ضروری ہے اس لئے پرہیز گاری کے بعد اس آیت میں توکل اور تقدیر کا ذکر فرمایا صحیح حدیثوں کے موافق آیت ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شیء قدرا کا یہی مطلب ہے۔ جو بیان کیا گیا ہے۔ صہیب رومی کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تقدیر پر شاکر ایمان دار شخص کی ہر طرح بھلائی ہے تکلیف کے وقت صبر کا اجر ہے اور راحت کے وقت شکر گزاری کا آپ نے اس حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ سوائے تقدیر پر شاکر ایمان دار شخص کے دوسرے شخص کو یہ مرتبہ نہیں حاصل ہوسکتا۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 379 ج 4۔ ) (3 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا ‘ جلد ہذا ص 58۔ ) صحیح 1 ؎ مسلم میں (1 ؎ صحیح مسلم باب فی ا ادیث متفرقۃ ص 413 ج 2۔ )
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (انکی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (انکی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کام میں سہولت کر دے گا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں اور خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا۔

4۔ 5۔ مستدرک 2 ؎ حاکم مسند اسحاق بن راہویہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی صحیح سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة بقر میں یہ حکم نازل ہوا کہ طلاق والی عورتوں کی عدت کی مدت تین حیض ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ کم عمر یا حاملہ ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہوجانے سے جن عورتوں کے حیض کی عادت جاتی رہتی ہے اس طرح کی عورتوں کی عدت کی مدت کا کچھ حکم قرآن شریف سے نہیں معلوم ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اب سورة بقر اور اس سورة کی آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب کے ملانے سے عدت کے مسئلہ کا حاصل یہ ہوا کہ ایسی طلاق والی عورت جس سے نکاح ہوا اور صحبت نہیں ہوئی ایسی عورت کی تو کچھ عدت نہیں ہے اور آزاد طلاق والی عورت کی عدت کی مدت تین حیض ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض اور چھوٹی عمر یا بڑی عمر ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ان کی عدت کی مدت تین مہینے کی ہے اور حاملہ طلاق والی عورت کی مدت بچہ کا پیدا ہوجانا ہے اور جس عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت کی مدت چار مہینے دس روز کی ہے اور اگر ایسی حالت میں کسی عورت کا خاوند مرے کہ وہ عورت حاملہ ہو تو جمہور علماء مفسرین کے نزدیک ایسی عورت کی عدت کی مدت بھی بچہ کا پیدا ہونا ہے لیکن حضرت 3 ؎ علی ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سورة بقر اور اس سورة کی دونوں آیتوں پر عمل ہوجانے کی غرض سے یہ فرماتے ہیں کہ اگر چار مہینے دس روز کے اندر بچہ پیدا ہوجائے تو ایسی عورت کی عدت کی مدت چار مہینے دس روز ہیں اور اگر چار مہینے دس روز تک بچہ پیدا نہ ہو تو بچہ پیدا ہونے کا انتظار کیا جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے تو اس قول سے آخر کو رجوع کرکے جمہور کے ساتھ اتفاق کیا ہے مگر حضرت علی کا رجوع کسی روایت سے ثابت نہیں ہوا۔ صحاح میں صحیح روایتیں جو ہیں ان سے جمہور کے مذہب کی پوری تائید ہوت ی ہے عدت کے مکان کی اور کھانے پینے کے ملنے کی اور خاوند کی وفات کی عدت میں بناؤسنگار کی چیز اور کپڑے کے استعمال نہ کرنے کی تفصیل حدیث کی شرح اور فقہ کی کتابوں میں ہے۔ مجاہد کے قول کے موافق ان ارتبتم کا یہ مطلب ہے کہ بڑی ہوجانے کے سبب سے اگر عورت کے حیض کی عادت جاتی رہ ہو اور پھر خون آنے لگے جس میں حیض اور استحاضہ دونوں کا شبہ پڑے تو اس صورت میں تین مہینے کی عدت قرار دی جائے عدت کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ عدت کے امرونہی کے احکام اور اسی طرح شریعت کے اور احکام جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں جو شخص اللہ سے ڈر کر ان احکام کی پابندی میں لگا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اسے شریعت پہ قائم رہنے کی توفیق دے گا چناچہ حمعسق کی آیت من کان یرید حرث الآخرہ نزد لہ فی حرثہ کی تفسیر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے پھر فرمایا پابندی شریعت کے سبب سے ایسا شخص اگر سوا شرک کے اور گناہ کرکے بغیر توبہ کے مرجائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے وہ گناہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا اور اس کے نیک عملوں کا اجر بڑھا کر اس کو جنتی ٹھہرادے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعض کلمہ گو گناہ گاروں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ یاد دلائے گا اور جب وہ اپنے گناہ یاد کرکے عذاب میں پکڑے جانے کا خوف کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں تمہارے یہ گناہ لوگوں پر ظاہر کرکے تم کو رسوا نہیں کیا اسی طرح آج بھی میں تمہارے گناہ معاف کرتا ہوں یہ حدیث آیت کے ٹکڑے یکفر عنہ سیاتہ کی تفسیر ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم وغیرہ کی حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کی حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے جس میں نیک عمل کے اجر کا ذکر دس سے لے کر سات سو تک اور بعض عملوں کا اس سے بھی زیادہ کا ہے یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ویعظم لہ اجرا کی تفسیر ہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 381 ج 4۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 381 ج 4۔ ) 1 ؎ صحیح بخاری باب سترالمومن علی نفسہ ص 896 ج 2۔ 2 ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ 960 ج 2۔
Ayahs 65:6–7

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کیلئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو پھر اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو اور (بچے کے بارے میں) پسند یدہ طریق سے موافقت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچے کو) اس کے باپ) کے کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائیگی

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔

6۔ 7۔ جس طلاق میں عدت کے اندر خاوند پھر اپنی بی بی کو بغیر نکاح جدید کے رکھ سکے اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں اور طلاق بائن کی صورت میں یا اگر تین طلاق پوری ہوگئیں اور بغیر کسی دوسرے اجنبی شخص کے نکاح کرنے کے یہ طلاق دینے والا پہلا خاوند اس عورت کو نہیں رکھ سکتا تو ان دونوں کو قطعی کہتے ہیں طلاق رجعی کی عدت میں طلاق والی عورت کو نان و نفقہ رہنے کا مکان دینے پر سلف کا اتفاق ہے مگر طلاق قطعی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اب تک اختلاف چلا آتا ہے کہ عدت کے زمانے میں طلاق والی عورت کو کھانا اور رہنے کا مکان دینا جو خاوند کے ذمہ ہے وہ فقط طلاق رجعی میں ہے یا طلاق رجعی اور قطعی دونوں میں ہے اس اختلاف کے سبب سے اس آیت کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے جو مفسر یہ کہتے ہیں کہ طلاق قطعی میں خاوند کے ذمہ عدت کے زمانہ میں عورت کا کھانا اور رہنے کا مکان نہیں ہے وہ اس آیت کو رجعی طلاق والی عورتوں کے متعلق بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فقط حمل کی حالت میں بچہ کے پیدا ہونے تلک اس طرح کی عورتوں کا کھانا اور رہنے کا مکان خاوند کے ذمہ ہے بغیر حمل کے قطعی طلاق والی عورتوں کے کھانے یا رہنے کے مکان کا بوجھ زمانہ عدت میں ہرگز خاوند کے ذمہ نہیں ہے۔ امام احمد کا مذہب اس کے موافق ہے اور جو مفسر یہ کہتے ہیں کہ رجعی اور قطعی دونوں طلاقوں کی عدت میں عورت کا کھانا اور رہنے کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ اس لئے حمل کی صورت میں شوہر کو بچہ کے پیدا ہونے تک عورت کا خرچ اپنے ذمہ لینا چاہئے یہ آیت قطعی اور رجعی طلاق والی عورتوں کے حق میں ہے ان دونوں قولوں میں صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ قطعی طلاق کی عدت میں خاوند کے ذمہ حاملہ عورت کا کھانا اور رہنے کا مکان بچہ کے پیدا ہونے تک ہے اور اگر بغیر حمل والی عورت ہو تو خاوند کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے جو صحیح 1 ؎ مسلم ‘ ابو داؤود ‘ نسائی اور مسند امام احمد وغیرہ میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب فاطمہ نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ فاطمہ کے خاوند نے تین دفعہ طلاق دے دی ہے اور اس ذکر کے بعد آنحضرت ﷺ سے عدت تک اپنے کھانے اور رہنے کے مکان کا خاوند کے ذمہ ہونے نہ ہونے کا مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے یی فرمایا کہ جب طلاق قطعی ہے اور حمل نہیں ہے تو خاوند کے ذمہ نہ کھانا ہے نہ رہنے کا مکان ہے ہاں اگر حمل ہوتا تو بچہ کے پیدا ہونے تک خاوند کے ذمہ رہنے کا مکان اور نان نفقہ تھا لیکن اس آیت کے موافق جمہور سلف کا قول یہ ہے کہ طلاق قطعی کی عدت میں اگر عورت حاملہ نہ ہو تو عدت کی مدت تک طلاق دینے والے مرد کے ذمہ عورت کے رہنے کا فقط مکان ہے کھانا پینا نہیں ہے اور اگر ایسی عورت حاملہ ہو تو مرد کے ذمہ رہنے کا مکان اور کھانا دونوں چیزیں ہیں فاطمہ بنت قیس کی حدیث کا جواب جمہور کی طرف سے وہی ہے جو جواب اس کا حضرت عائشہ ؓ نے دیا ہے کہ فاطمہ کے شوہر کا مکان تنہائی کے سبب سے رہنے کے قابل نہ تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کو اس مکان میں عدت گزارنے کی تاکید نہیں کی۔ حضرت عائشہ ؓ کے اس جواب کا ذکر صحیح 2 ؎ بخاری ‘ ابو دادؤ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے آیت کی تفسیر جمہور کے قول کے موافق کی ہے امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس طرح کی عورت حاملہ نہ ہو جس بھی عدت کی مدت تک طلاق دینے والے مرد کے ذمہ عورت کے رہنے کا مکان اور کھانا دونوں چیزیں ہیں تفصیل ہر ایک مذہب کی بڑی کتابوں میں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے موافق آیت کا حاصل مطلب 3 ؎ یہ ہے کہ اس طرح کی عورت اگر حاملہ نہ ہو تو عدت کی مدت تک طلاق دینے والا مرد اپنے مقدور کے موافق اس عورت کے رہنے کو مکان دے اور مکان کے دینے میں ایسی تنگی نہ کرے جس کے سبب سے وہ عورت گھبرا کر عدت کے اندر ہی اس گھر سے نکل کھڑی ہو۔ ایسی عورت حاملہ ہو تو اس کو مکان کے علاوہ کھانا بھی پہنچایا جائے بچہ پیدا ہوجانے کے بعد عدت کے گزر جانے سے یہ عورت بالکل اجنبی ہوجائے گی اس لئے اگر وہ معمولی خرچ پر بچہ کو دودھ پلا دے تو اس سے پلایا جائے اور اگر وہ طلاق کی رنجش کے سبب سے معمولی خرچ پر راضی نہ ہو اور مرد کے مقدور سے بڑھ کر کچھ طلب کرے تو غیر انا سے بچہ کو دودھ پلایا جائے اللہ تعالیٰ ہر شخص کی حیثیت کے موافق انسان پر بوجھ ڈالتا ہے اس لئے زیادہ مقدور والا اپنے مقدور کے موافق اور کم مقدور والا اس کے موافق اس باب میں خرچ کا بوجھ اٹھائے اور کم مقدور والے لوگ کچھ گھبرائیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عنقریب ان کو بھی خوشحال کر دے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بڑے بڑے شہر فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے اور غنیمت کے مال سے عام خوش حالی اہل اسلام میں پھیل گئی حضرت عمر (رح) نے فاطمہ بنت قیس کی اس حدیث کی صحت میں کلام کیا ہے۔ اور یہ فرمایا 1 ؎ ہے کہ ایک عورت کے حافظ پر ہم کو بھروسہ نہیں ہے علماء نے حضرت عمر ؓ کے اس شبہ کے جواب میں دجال کے حال کی اس بہت بڑی حدیث کو پیش کیا جو فاطمہ بنت قیس کی روایت سے صحیح مسلم 2 ؎ میں ہے اور یہ بات ثابت کی ہے کہ فاطمہ اتنی بڑی قوی الحافظہ صحابیہ ہے جس نے آنحضرت ﷺ کو اتنی بڑی حدیث فقط ایک دفعہ منبر پر فرماتے ہوئے سنا اور اس کو حرف بہ حرف یاد رکھا یہ جو مشہور ہے کہ حضرت عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قطعی طلاق کی عدت میں طلاق دینے والے مرد کے ذمہ عورت کا کھانا اور رہنے کا مکان ہے اس کی سند حضرت عمر تک مسلسل نہیں ہے بعض عیسائی لوگوں نے قرآن کے طلاق کے مسئلہ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس مسئلہ کا شریعت موسوی اور عیسوی میں کہیں پتہ نہیں لگتا حالانکہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ پچھلی شریعتوں میں قرآن کے مسائل کی صداقت موجود ہے اہل اسلام نے اس اعتراض کے جواب میں امور ذیل لکھے ہیں۔ 11 یہ اعتراض توراۃ اور انجیل کے برخلاف ہے کیونکہ توراۃ کے حصہ کتاب الاستثناء کے چوبیسویں باب میں طلاق کا مسئلہ اس طرح موجود ہے جس طرح شرع محمدی ﷺ میں ہے۔ 2 جب بنی اسرائیل نے طلاق کو بلاضرورت کام میں لانا شروع کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شریعت موسوی کے طلاق کے مسئلہ میں احتیاطاً یہ قید لگا دی تھی کہ سوا عورت کی بدکاری کے قصور کے اور کسی قصور پر عورت کو طلاق نہ دی جائے متی کی انجیل کا پانچواں اور انیسواں باب دیکھا جائے۔ 3 اہل اسلام نے قرآن کے حکم مصدقا لما بین یدیہ کے موافق یہ جو کہا ہے کہ قرآن شریف میں پچھلی شریعتوں کی صداقت موجود ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی شریعتوں میں جو مسائل وحی آسمانی کے موافق ہیں ان کی صداقت قرآن سے اور قرآن کی صداقت ان سے نکلتی ہے یہ مطلب اہل اسلام کے اس قول کا ہرگز نہیں ہے کہ مثلاً یہود کے فرقے سامری اور باقی فرقوں کے اختلاف اور توراۃ کے احکام میں تغیر تبدل کردینے سے ایک تورات کی چند توراتیں اور عیسائیوں کے فرقے پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھلک کے اس طرح کے باہمی اختلافات اور انجیل کے تغری و تبدل کے سبب سے ایک انجیل کی چند انجیلیں جو بن گئی ہیں ان کی صداقت قرآن سے یا قرآن کی صداقت ان سے نکلتی ہے کیونکہ شریعت موسوی اور عیسوی میں ایجادی باتیں جو شریک ہوگئی ہیں ان کی صداقت کا قرآن میں پایا جانا تو درکنار شریعت موسوی اور عیسوی کی اصل کتابوں میں بھی ان ایجادی باتوں کی صداقت نہیں ہے چناچہ تورات اور انجیل کے حوالہ سے طلاق کے مسئلہ کی مثال اس بارے میں اوپر گزر چکی ہے اصل بات یہ ہے کہ ہر وقت کے نبی کی معرفت اس وقت کی عام مخلوقات کی ہدایت کے لئے ایک کتاب آسمانی نازل ہوئی ہے تورات و انجیل کے مختلف نسخہ جات کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے نازل ہونا کوئی یہودی یا نصرانی آج تک ثابت کرسکا نہ قیامت تک ثابث کرسکتا ہے کیونکہ کتاب آسمانی کی یہ شان ہرگز نہیں ہے کہ اس کے نسخہ جات میں باہمی اختلافات ہو بلکہ کتاب آسمانی کی شان تو وہی ہے جس کا ذکر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کے ثبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے سورة النساء میں ان الفاظ سے فرمایا ہے ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلانا کثیرا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں جانتے ان کو یہ دھیان کرنا چاہئے کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس کے اول آخر عبارت یا اس کے نسخہ جات میں باہمی اختلاف ضرور پایا جاتا کس لئے کہ بشر کے کلام کا خاصہ یہی ہے اس سے یہ بھی نکلا کہ تورات اور انجیل میں باہمی اختلاف اسی سبب سے ہے کہ اہل کتاب نے ان کتابوں کو اصلی حالت پر نہیں رکھا یہ ذکر قرآن میں چند جگہ صراحت سے بھی آیا ہے۔ 4 یہود نے جو تورات میں تغیر تبدل کیا ہے اس کا عیسائیوں کو اقرار ہے وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو اور انجیل کے کتاب آسمانی ہونے کو اسی سبب سے نہیں مانا کہ انہوں نے تورات کی اصلی آیتوں میں تغیر تبدل کیا ورنہ تورات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کی اور انجیل کے کتاب آسمانی ہونے کی پوری صداقت ہے اگرچہ بعض عیسائی علماء اس تغیر و تبدل کو معنوی کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود نے توراۃ کی آیتوں کے لفظوں کو نہیں بدلا۔ بلکہ ان آیتوں کا مطلب غلط قرار دیا لیکن علماء اسلام نے یہود کے بہت سے تغیرات لفظی تورات کی آیتوں کے ثابت کئے ہیں۔ 5 انجیل میں اس کثرت سے تبدل ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ابتداء میں تو انجیل کے نسخوں کی تعداد ستر کے قریب تک پہنچ گئی تھی پھر ایک عرصہ کے بعد علماء نصاریٰ نے انچار انجیلوں کو معتبر قرار دیا ہے۔ انجیل متی ‘ انجیل مرقس ‘ انجیل لوقا ‘ انجیل یوحنا مگر ان چاروں کے مضمون بالکل مختلف ہیں کسی میں حضرت عیسیٰ کو خدا لکھا ہے کسی میں رسول کسی میں یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھایا کسی میں یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہود کو پیدا کیا۔ اب ان چاروں انجیلوں کے مولفوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک اپنی انجیل کو صحیح اور دوسرے کی انجیل کو غلط بتاتا ہے جس سے کسی انجیل کو بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا۔ سب انجیلوں سے پہلے متی کی انجیل ہے جس کی بابت اکثر متقدمین اور متاخرین علماء عیسائی اس بات کے قائل ہیں کہ یہ اصل انجیل عبرانی زبان میں تھی اس کا پتہ نہیں ہے ‘ یہ ترجمہ ہے اور اس ترجمہ کا حال معلوم نہیں ہوتا کہ کب اور کس شخص نے یہ ترجمہ کیا ہے ان چاروں انجیلوں کے شروع میں علماء عیسائی نے بعضی بعضی آیتوں کو لکھا ہے کہ یہ آیتیں اصلی نہیں ہیں تثلیث کا مسئلہ ‘ بیت المقدس سے مشرق کی جانب ‘ قبلہ مسسیحی کے بدل جانے کا مسئلہ ‘ فتنہ ‘ طلاق اور ایک نکاح سے زائد نکاح کے ناجائز ہونے کا مسئلہ اور اس قسم کے اور ایجادی مسئلے بولس اور قسطنطین بادشاہ روم کے زمانہ میں مذہب عیسائی کا جز جو ٹھہرائے گئے ہیں اور اسی اختلاف کے سبب سے اس وقت کے سچے عیسائیوں کی بولس سے بڑی خوانخوار لڑائی ہوئی ہے اس کا حال اس وقت کی معتبر تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے ملت ابراہمی میں اور اہل کتاب نے شریعت موسوی اور عیسوی میں ایجادی باتیں جو اپنی طرف سے گھڑ لیں تھیں ان کی اصلاح کے لئے یہ آخری کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے جس کا نام قرآن ہے اس آسمانی آخری کتاب میں اس سے پہلے کی ایجادی بوتوں کی صداقت پائی جانے لگی تو پھر آسمانی کتاب اور ایجاد باتوں میں فرق کیا باقی رہے عیسائی علماء کی ریس کرکے بعض آریہ لوگوں نے بھی قرآن کے طلاق اور اسی قسم کے اور چند مسائل پر اعتراض کیا ہے اہل اسلام نے اس کا جواب بھی دیا ہے کہ آریہ فرقہ کے لوگوں نے اپنے چاروں ویدوں کو آسمانی کتاب ثابت نہیں کیا اس لئے ان کو کسی اہل کتاب کی ریس کرنی یا کسی آسمانی کتاب پر اعتراض کرنے کا حق اظہار حق کے طور پر تو اب تک کسی مباحثہ میں حاصل نہیں ہوا۔ رہا یہ الزامی مباحثہ بعض آریہ لوگوں نے طلاق کے مسئلہ کو شرمناک کہا ہے اس کا جواب اہل اسلام نے وید کے نیوگ کے مسئلہ کو پیش کرکے نہ دیا ہے نیوگ کے مسئلہ کا حاصل یہ ہے کہ مثلاً کسی عورت کا شوہر دائم المرض ہو تو وید میں طلاق کا مسئلہ نہ ہونے کے سبب وہ عورت چھوٹ تو نہیں سکتی لیکن کسی غیر مرد سے ناجائز تعلق پیدا کرکے اس کو دس بچے تک اجازت وید میں ہے اسی طرح اور الزامی مباحثوں میں طرفین سے بہت سی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ہر حق پسند شخص ان کتابوں کو نظر انصاف سے دیکھ سکتا ہے اور ناانصاف لوگوں کا مباحثہ (کج بحثی) یہ تو سلف سے لے کر آج تک بھی طے نہیں ہوا۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب المطلقۃ البائن لانفقۃ لھا ص 483 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب المطلقۃ اذا اخشی علیھانی مسکن زوجھا الخ ص 802 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 383 ج 4۔ ) ؎ صحیح مسلم باب الطلقۃ البائن لانفقہ لھا ص 485 ج 1۔ 2 ؎ صحیح مسلم باب قصۃ الجساسہ ص 404 ج 2۔
Ayahs 65:8–12

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام کی سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا۔ اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصحیت (کی کتاب) بھیجی ہے۔

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے) ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں انکو اندھیرے سے روشنی میں لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا انکو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآ باد اس میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل لوگوں کو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں پچھلی قوموں جیسی کم عقلی اور سرکشی سے بچنا اور اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے کاموں میں کوئی آدمی اگرچہ بڑا ہوشیار ہو لیکن جب وہ دنیا کے عجائبات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے پہچاننے کی عقل دہریوں کی طرح نہ رکھتا ہو تو وہ بڑا کم عقل ہے کیونکہ ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی مثلاً بستی کے باہر جنگل میں پہلی دفعہ میدان دیکھے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اس میدان میں ایک خوش قطع مکان بنا ہوا دیکھے تو وہ بغیر کسی معمار کے دیکھنے کے اپنی تھوڑی سی عقل سے ضرور یہ نتیجہ نکالے گا کہ ایسے خوش قطع مکان کا بنانے والا کوئی بڑا کاریگر معمار ہے اب جن لوگوں نے دنیا کے ہزارہا عجائبات کو آنکھوں سے دیکھا کر ان عجائبات کے آثار سے بغیر دیکھے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا اقرار نہیں کیا اور اللہ کو نہیں پہچانا بلاشک ان کی عقل میں فتور ہے اسی طرح جس شخص نے اپنی اور اپنی زیست بھر کی راحت و آرام کی چیزوں پر غور کرکے یہ نتیجہ اپنی عقل سے نہیں نکالا کہ یہ اتنا بڑا انتظام کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہے بلکہ جتنا بڑا انتظام ہے اتنا ہی بڑا اس کا کوئی نتیجہ ضرور ہے کیونکہ تجربہ سے دنیا کا کوئی چھوٹا سا کام بھی جب بغیر کسی نتیجہ کے کوئی نہیں کرتا تو پھر دنیا بھر کا پیدا کرنا بغیر کسی نتیجہ کے کیونکر ہوسکتا ہے علاوہ اس کے یہ کم عقلی تو ایسے شخص نے کی سو کی ‘ اوپر سے یہ سرکشی بھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی معرفت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے نیک و بد کی جزا و سزا کو دنیا کی پیدائش کا نتیجہ ایسے شخصوں کو سمجھایا تو سرکشی سے اس فہمائش کو ایسے لوگوں نے نہ مانا اور آخر اپنا دین و دنیا کا نقصان کیا معتبر سند سے شداد بن 1 ؎ اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کرلے۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفیر ہے عتت عن امر ربھا ورسلہ کا یہ مطلب ہے کہ ان لوگوں نے سرکشی سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی فرمانبرداری نہیں کی۔ عذاباً نکراکا یہ مطلب ہے کہ ان پر ایسا عذاب آیا جو ان کے وہم و گمان سے باہر تھا۔ ایات بینات کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کی آیتوں میں دنیا کے عجائبات پر غور کرکے اس سے اللہ کو پہچاننے کا کام عقل سے لینے کا اور دنیا کے پیدا کرنے کے نتیجہ کا اور اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کے اجر اور نافرمانی کے وبال کا سب ذکر ہے۔ آگے فرمایا کہ قرآن کی ان مفصل آیتوں کے نازل فرمانے اور رسولوں کے بھیجنے سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے احکام کے ماننے اور نیک کام کرنے کا قصد کرے دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کو جہالت سے نکال کر اس کے دل میں نور ہدایت پیدا کرے گا اور عقبیٰ میں اس کو جنت عطا فرمائے گا قد احسن اللہ لہ رزقا کا یہ مطلب ہے کہ جنت میں عام جنتیوں کو اچھی سے اچھی وہ وہ نعمتیں ملیں گی جو یہاں بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کی ابوہریرہ کی حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جنت میں نیک لوگوں کے لئے وہ نعمتیں ہیں کہ جو دنیا میں نہ کسی نے آنکھ سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا قد احسن اللہ لہ رزقا کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں معراج کی صحیح حدیثیں گزر چکی ہیں جن 1 ؎ میں سات آسمانوں اور ان کے دروازوں کا اور سدرۃ المنتہیٰ اور آسمانوں کے اور عجائبات کا ذکر ہے۔ اسی طرح سورة النباء میں حدیثیں آئیں گی جن کا حاصل 2 ؎ یہ ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کی کی راہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کی موٹائی ہے یہ سب حدیثیں آیت کے ٹکڑے اللہ الذی خلق سبع سموت کی گویا تفسیر ہیں۔ سورة النباء میں یہ صحیح حدیث بھی آئے گی کہ جو شخص 3 ؎ ایک بالشت بھر زمین بھی کسی کو دبائے گا قیامت کے دن ساتوں زمینیں بھی تہ برتہ ہیں ومن الارض مثلھن کی تفسیر میں بعض مفسروں کا یہ قول ہے کہ سات زمینوں سے مطلب ساتوں اقلی میں ہیں لیکن یہ قول اوپر کی صحیح حدیث کے مخالف معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس حدیث کے موافق زمین کے ایک ٹکڑے کا تعلق دوسری زمین سے پایا جاتا ہے جس تعلق کے سبب سے ساتوں زمینوں کے ٹکڑوں کا ایک طوق بنایا جائے گا سات زمینوں کی ساتوں اقلی میں تضیر قرار دینے کی صورت میں یہ تعلق باقی نہیں رہتا علاوہ اس کے سورة النباء میں حدیث آئے گی کہ ایک زمین سے دوسری زمین تک پانسو برس کی راہ کا فاصلہ ہے یہ بھی زمینوں تہ بر تہ ہونے کی حالت میں ہوسکتا ہے کس لئے کہ ایک اقلیم سے دوسری اقلیم تک پانس برس کی راہ کا فاصلہ نہیں ہے پہلی زمین کی مخلوقات کا حال تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ باقی زمینوں کے حال کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے۔ مستدرک حاکم تفسیر 4 ؎ ابن جریر ؓ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثل پہلی زمین کے باقی زمینوں میں بھی تابع شریعت لوگ ہیں اور پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء تک وہاں انبیاء بھی آئے کتابیں بھی اتریں لیکن مستدرک 5 ؎ حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے جو مرفوع روایت ہے وہ اس کے برخلاف ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دوسری زمین میں ہوا ہے اور تیسری میں دوزخ کے ایندھن کے پتھر ہیں اور چوتھی میں اس ایندھن کے لئے گندھک ہے اور پانچویں میں دوزخ کے سانپ اور چھٹی میں دوزخ کے بچھو اور ساتویں میں دوزخ ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کو امام ذہبی اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی روایت کو منذری نے منکر کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان روایتوں کی تائید مشہور روایتوں سے نہیں ہوتی حافظ ابن کثیر نے یہ فیصلہ کیا 1 ؎ ہے کہ آیت میں سات آسمان اور سات زمینوں کی پیدائش کا ذکر ہے اس کا اعتقاد ہر مسلمان کو رکھنا چاہئے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے عجائبات کا جس قدر ذکر ہے اس کو اور پہلی زمین میں جو اللہ کی قدرت اور حکمت کے نمونے ہیں ان کو آسمانوں اور پہلی زمین کے حال کی تفسیر سمجھنا چاہئے اور باقی زمینوں کا تفصیلی حال جبکہ کسی ناقابل اعتراض حدیث میں نہیں پایا جاتا تو قابل اعتراض روایتوں کے بھروسے پر اس اشتباہی حال کو آیت کی تفسیر نہ ٹھہرانا چاہئے حافظ ابن کثیر کے قول کے موافق حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کے رسول کے بتانے سے آسمانوں کے اور آنکھوں کے دیکھنے سے پہلی زمین کے جو وچھ عجائبات لوگوں کو معلوم ہوئے ہیں ان پر غور کرکے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ کی قدرت بہت بڑی ہے کہ جس نے اپنی قدرت سے یہ سب کچھ پیدا کیا اور اس کا علم بڑا وسیع ہے کہ اس نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کا سب انتظام اپنے علم ازلی سے معلوم کرلیا ہے جس کے موافق آسمان سے زمین پر روزانہ احکام نازل ہوتے ہیں ان احکام کے سبب سے دنیا کا ہر طرح کا انتظام چل رہا ہے ان احکام میں شرع کے احکام اور دنیا کے انتظام کے احکام نازل ہوتے ہیں جن احکام کے سبب سے دنیا کا ہر طرح کا انتظام چل رہا ہے ان احکام میں شرع کے احکام اور دنیا کے انتظام کے احکام سب داخل ہیں آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ جب آسمان زمین کا سب انتظام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس انتظام میں کسی کا کچھ دخل نہیں ہے تو پھر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کے طور پر یا ریا کاری کے طور پر دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان اور ناشکر ہیں اور جب اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ ان نافرمانوں کے عملوں سے ناواقف نہیں ہے وقت مقرہ پر ان کا کیا ان کے سامنے آئے گا جس طرح اللہ کا وعدہ ہے اس کا ظہور بلاشک ہونے والا ہے۔ (1 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ یوم القیمۃ ص 82 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص 460 ج 1۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب المعراج 548 ج 1۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الحدید ص 185 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی سبع ارضین الخ ص 453 ج 1۔ ) (4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385 ج 4۔ ) (5 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 238 ج 6۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385 ج 4۔ )