Ayahs 66:1–41۔ 4۔ صحیحین میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان آیتوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ دونوں کا ذکر ہے جس طرح اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کون سی بیبیوں کا ذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح صحابہ کے زمانہ میں بھی یہ اختلاف جاری تھا اسی واسطے صحیحین 2 ؎ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرصہ سے میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے لیکن مجھ کو موقع نہیں ملتا تھا آخر حج کے سفر میں مجھ کو موقع ملا اور میں نے اس بات کو حضرت عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ذکر حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کا ہے غرض صحیحین کی روایت میں جب ایک بات ثابت ہوچکی تو پھر مفسروں نے اس بات میں اختلاف جو کیا ہے کہ ان آیتوں میں کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے اب اس اختلاف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی اسی طرح ان آیتوں کے شان نزول میں علماء مفسرین نے یہ جو اختلاف کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کس چیز سے باز رہنے کی قسم کھائی ہے جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اس اختلاف کا کوئی سبب نہیں ہے کیونکہ دو قصے جو شان نزول کے بیان کئے گئے ہیں وہ دونوں قصہ صحیح ہیں اور دونوں قصوں کا مجموعہ ان آیتوں کی شان نزول کا قصہ ہے شہد کا قصہ تو صحیح بخاری 1 ؎ میں ہے اور حرم کے چھوڑ دینے کا قصہ نسائی 2 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے حاکم اور حافظ ابن حجر نے اس قصہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ کبھی چند قصوں کا مجموعہ آیت کی شان نزول ہوا کرتی ہے ان آیتوں کی شان نزول بھی اسی قسم کی ہے سوا ان دونوں قصوں کے اور کسی قصہ کی سند صحیح نہیں ہے شہد کے قصہ کی حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے صحیحین میں جو ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اکثر حضرت زینب بنت حجش کے حجرہ میں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور بارہا حضرت زینب ؓ آنحضرت ﷺ کی خاطر داری کے طور پر شہد آپ ﷺ کے سامنے رکھا کرتی تھیں اور آپ ﷺ وہ شہید چاٹا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفمہ ؓ کو آنحضرت ﷺ کا حضرت زینب ؓ کے پاس زیادہ بیٹھنا ناگوار ہوا۔ اس لئے ان دونوں نے آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ آپ ﷺ منہ سے اوپری بو آتی ہے کیا آپ ﷺ نے بدبو کا وہ گوند کھایا ہے جس کو مغافر کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے مغافر تو نہیں کھایا ‘ ہاں زینب ؓ کا دیا ہوا شہد تو میں نے چاٹا ہے اس کے بعد آپ ﷺ نے شہد کے نہ کھانے کی قسم کھالی اور حضرت حفصہ ؓ کو منع کیا کہ اس قسم کا ذکر کسی سے نہ کرنا اس ممانعت سے آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کا چرچا ہو کر حضرت زینب ؓ کو اس بات کے سننے سے رنج نہ ہو کہ آنحضرت ﷺ ان کے حجرے میں زیادہ بھنا چھوڑ دیا۔ بعضی روایتوں میں بجائے زینب ؓ کے حفصہ ؓ کا نام ہے اور صفیہ اور سودہ بنت زمعہ کو حضرت عائشہ کا ہم صلاح بیان کیا ہے لیکن یہ کسی راوی کو ناموں کے بیان کرنے میں شبہ پڑگیا صحیح نام وہی ہیں جو اوپر کی روایت میں بیان کئے گئے حرم کے چھوڑ دینے کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یہ حرم ماریہ قبطیہ بنت شمعون آنحضرت ﷺ کی وہی حرم ہیں جن کو مقوقس والی مصر و اسکندریہ نے آنحضرت ﷺ کے پاس بطور تحفہ بھیجا تھا آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم انہی کے پیٹ سے تھے اس لئے ان کی کنیت ام ابراہیم تھی ایک دن حضرت حفصہ ؓ اپنے والد بزرگوار حضرت عمر ؓ سے ملنے گئی ہوئی تھی انکے پیچھے ان کے حجرے میں ماریہ قبطیہ آنحضرت ﷺ کے پاس آئیں اتنے میں حضرت حفصہ ؓ بھی اپنے باپ سے مل کر واپس آگئیں اور ماریہ قبطیہ کو اپنے حجرے میں آنحضرت ﷺ کے پاس دیکھ کر رنجیدہ ہوئیں۔ آنحضرت ﷺ نے حفصہ ؓ کی دلداری کے لئے عہد کرلیا کہ اب آئندہ ماریہ قبطیہ سے صحبت کا واسطہ نہ رکھیں گے اور حضرت حفصہ ؓ کو منع کردیا کہ وہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کریں اس ممانعت سے آپ کی غرض یہ تھی کہ ماریہ قبطیہ اس قصہ کو سن کر رنجیدہ نہ ہوں واللہ غفور رحیم کا یہ مطلب ہے کہ اے نبی ﷺ اللہ کے تم نے اپنی بیبیوں کی خاطر سے اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو چھوڑ دینے میں جو ترک اولیٰ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کو معاف کردیا۔ صحیح 1 ؎ بخاری ومسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بی بی سے یہ کہہ بیٹھے کہ میں نے تجھ کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا تو یہ قسم ہے قسم کا کفارہ ادا کرکے وہ شخص اپنی بی بی سے میل جول کرسکتا ہے ماریہ قبطیہ سے صحبت کا واسطہ نہ رکھنے کا عہد جو آنحضرت ﷺ نے کرلیا تھا اس کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں قسم کے کفارہ کا جو ذکر ہے اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رح) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل بڑی کتابوں میں ہے جس چیز سے باز رہنے پر آدمی قسم کھا بیٹھے اس کے استعمال میں آدمی کو ایک بندش ہوجاتی ہے اس لئے قسم کے کفارہ کو قسم کا کھولنا فرمایا۔ قسم کے کفارہ کی تفسیر سورة مائدہ میں گزر چکی ہے کہ ایک غلام کا آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑا بنا دینا اور اگر ان باتوں کا مقدور نہ ہو تو تین روزے رکھنا ہر ایک شخص کی حالت کے موافق یہ قسم کا کفارہ ہے۔ واللہ مولکم وھو العلیم الحکیم کا یہ مطلب ہے کہ حرام و حلال ٹھہرانے کا اللہ مالک اور متولی ہے اس سنے اپنے علم ازلی اور حکمت کے موافق جو کچھ حرام و حلال ٹھہرا دیا ہے اس میں کسی انسان کو دخل نہ دینا چاہئے۔ واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زینب کے پاس زیادہ بھنے اور شہد کے پینے کو چھوڑ دینے کا اور ماریہ قبطیہ سے صحبت کا واسطہ نہ رکھنے کا عہد حضرت حفصہ ؓ کے رو برو راز کے طور پر کیا اور ان کو اس کا چرچا کرنے سے منع کردیا فلما نبت بہ کا یہ مطلب ہے کہ حضرت حفصہ ؓ نے اس راز کی بات کو حضرت عائشہ ؓ سے کہہ دیا۔ واظھرہ اللہ علیہ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حفصہ ؓ کے افشائے راز کا حال وحی کے ذریعہ سے اپنی نبی کو جتلا دیا عرف بعضہ و اعرض عن بعض کا یہ مطلب ہے کہ افشائے راز کا حال معلوم ہوجانے کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے اس افشائے راز کی شکایت کی تو پوری شکایت نہیں کی بلکہ بعض لائق شکایت باتوں کو آپ ﷺ نے حضرت حفصہ کے رو برو نہیں دہرایا۔ بعضی روایتوں میں یہ جو ہے کہ یہ حضرت ابوبکر اور عمر کی خلافت کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے راز کے طور پر بیان کیا تھا جس کا ذکر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے کردیا ان روایتوں کی سند اعتراض کے قابل ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول کا یہ ایک راز تھا جس کا چرچا صحابہ کے عہد میں بھی نہیں ہوا پھر مابعد کے لوگوں کو اس کی کوئی صحیح روایت کیونکر پہنچ سکتی ہے اتنی بات ضرور ہے کہ یہ دین کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ دین کی کسی بات کو صیغہ راز میں رکھنا نبی کا کام نہیں ہے اب آگے حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کو متنبہ فرمایا کہ ان دونوں نے ہم صلاح ہو کر اللہ کے رسول کو ایذاء پہنچانے کی ایک بات کی طرف اپنے دل کو مائل کیا اس سے ان کو توبہ و استفغار کرنی چاہئے اور اللہ کے رسول کی مدد میں آئندہ ان کو لگے رہنا چاہئے اگر یہ ایسا نہ کریں گی تو اللہ اور اس کے فرشتے اور نیک اہل ایمان اللہ کے رسول کی مدد کے لئے کافی ہیں اگرچہ اللہ وحدہ لاشریک کی مدد سب کو کافی ہے لیکن یہ دنیا عالم اسباب ہے آسمانی اور زمین ابواب میں مدد کے جو اسباب تھے ان کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کے ساتھ فرما دیا تاکہ مدد کے سب طریقے پورے ہوجائیں بعض عیسائی علماء نے اسلام پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اسلام میں ایک سے زیادہ عورتوں کا نکاح میں رکھنا بڑی معیوب بات ہے اور اسی باب میں خاص نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات پر یہ اعتراض کیا ہے کہ نو عورتوں کا آپ ﷺ کے نکاح میں ایک ساتھ ہونا غلبہ خواہش نفسانی کی علامت ہے جو نبوت کی شان کے برخلاف ہے اہل اسلام نے ان اعتراضات کے جو جواب دیثے ہیں ان کا خلاصہ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔
1 اہل کتاب اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے ہیں اور پھر حضرت ابراہیم کی سنت اور طریقے کو اپنے اس اعتراض میں گویا معیوب ٹھہراتے ہیں کیونکہ کوئی اہل کتاب اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک ساتھ سارا اور ہاجرہ دو بیبیاں تھیں۔
2 حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی چار بیبیاں تھیں جن کا کوئی اہل کتاب انکار نہیں کرسکتا تورات کی کتاب التکوین کا 29 واں باب دیکھنا چاہئے۔
3 حضرت دائود ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کی بیبیوں کی کثرت کا کسی اہل کتاب کو انکار نہیں کیونکہ صحائف مقدسہ میں کے صحیفہ شمویل ثانی کے پانچویں باب میں حضرت دائود کا اور صحیفہ ملوک اول کے گیارہویں باب میں حضرت سلیمان کا یہ ذکر موجود ہے۔
4 تورات کی کتاب الاستثناء کے اکیسویں باب میں ایک سے زیادہ بیبیوں کے ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کی اجازت موجود ہے اس لئے یہ اعتراض تورات کے برخلاف ہے حالانکہ شریعت موسوی اور شریعت عیسوی دونوں شریعتوں میں تورات واجب العمل ہے۔
5 جوش جوانی گزر جانے کے بعد 53 برس کی عمر کے قریب نبی آخر الزمان ﷺ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی مکہ کے قیام کے زمانہ میں پہلے خدیجہ ؓ اور پھر خدیجہ کے انتقال کے بعد سودہ اس طرح 53 برس کی عمر تک آپ ﷺ کے نکاح میں ایک ہی بی بی رہی۔ ہجرت کے بعد جب اہل اسلام کی عورتوں کی کثرت ہوئی اور عورتوں سے خصوصیت رکھنے والے ایسے مسائل مدینہ میں نازل ہوئے جن کی تعلیم اجنبی عورتوں کے ذریعہ سے ممکن نہیں تھی تو اللہ کے حکم سے اللہ کے رسول نے معلمہ دینی کے طور پر جوش جوانی کا زمانہ گزر جانے کے بعد دینی ضرورت سے زیادہ عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں۔ غرض اس طرح سے زیادہ عورتوں کا نکاح میں رکھنا آپ ﷺ کے نبی ہونے کی پوری دلیل ہے جو کوئی اس کو غلبہ خواہش نفسانی کی علامت بتاتا ہے اس کا قول تاریخی واقعات کے بالکل برخلاف ہے عیسائی علماء کی دیکھا دیکھی بعض آریہ فرقے کے لوگوں نے بھی یہی اعتراض اسلام پر کیا ہے۔ اہل اسلام نے پہلا جواب تو اس اعتراض کا وہی دیا ہے جو طلاق میں گزرا کہ وید جب تک کتاب آسمانی ثابت نہ ہوں آریہ فرقہ کے لوگوں کو کسی آسمانی کتاب پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے پھر فرقے آریہ کے الزام دینے کو یہ جواب بھی دیا ہے کہ پنڈت دیانند کی ستیارتھ پر کاش کے موافق جس طرح دائم المرض مرد کی عورت کو نیوگ کی اجازت ہے یہ ایک طاہر بات ہے کہ آریہ مذہب کے احکام کی خامی اور کوتاہی کے سبب سے نیوگ کی بدکاری آریہ مذہب میں داخل ہوئی ورنہ طلاق کا حکم آریہ مذہب کی کتابوں میں ہوتا تو دائم المرض مرد کی عورت بیمار شوہر سے طلاق حاصل کرکے دوسرا شوہر حاصل کرسکتی تھی اسی طرح دوسری عورت سے شادی کا حکم آریہ مذہب میں ہوتا تو دائم المرض عورت کا شوہر دوسری شادی کر کستا تھا یہ احکام کی خامی اس بات کی گواہ ہے کہ وید کی کتاب آسمانی نہیں کیونکہ آسمان کتاب میں اس طرح کے احکام کی خامی کوئی مخالف ہرگز نہیں بتا سکتا اور یہی احکام کی پختگی قرآن کے کتاب آسمانی کتاب میں اس طرح کے احکام کی خامی کوئی مخالف ہرگز نہیں بتا سکتا اور یہی احکام کی پختگی قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کی پوری دلیل ہے نیوگ کی تفصیل سورة طلاق میں گزر چکی ہے۔
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة التحریم 729‘ 730 ج 2 مسلم باب بیان ان تخیرہ امراتہ لایکون طلاقا الخ ص 481 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة التحریم ص 729 ج 2 و صحیح مسلم باب وجوب الکفارۃ علی بن حرم امراتہ الخ ص 478 ج 1۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 386 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب تم تحرم ما احل اللہ لک ص 792 ج و صحیح مسلم باب وجبو الکفارۃ علی من حرم امراتہ الخ ص 478 ج 1۔ )
Ayah 66:55۔ پردہ کے باب میں بدر کے قیدیوں کے باب میں مقام ابراہیم کے مصلیٰ ٹھہرانے کے باب میں جس طرح اور چند آیتیں قرآن شریف میں حضرت عمر ؓ کے قول کے موافق اس طرح نازل ہوئی ہیں کہ کسی آیت کے نازل ہونے سے پہلے جو بات حضرت عمر ؓ نے فرمائی اسی مضمون کی ایک آیت نازل ہوئی۔ ان ہی آیتوں میں سے یہ بھی ایک آیت ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی بیبیوں نے آنحضرت ﷺ سے بد مزاجی کرنی شروع کی تو حضرت عمر ؓ نے آنحضرت کی بیبیوں کو سمجھایا اور فرمایا کہ اگر یہی حال رہے گا تو کیا عجب کہ اللہ کے رسول ﷺ تم بیبیوں کو طلاق دے دیں اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تم بیبیوں سے اچھی بیبیاں عنایت کر دے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اگرچہ علم ازلی الٰہی میں یہ تھا کہ نہ اللہ کے رسول ﷺ اپنی سب بیبیوں کو طلاق دیں گے۔ نہ اللہ تعالیٰ ان بیبیوں سے بہتر بیبیاں بدلے گا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تھا آخر کو وہی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتائی کہ اس کی قدرت میں سب کچھ ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ لوح محفوظ میں سب کچھ لکھے جانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ جو کچھ اور چاہے کرسکتا ہے اس کی قدرت سے کوئی بات باہر نہیں ہے تقدیر کے مسئلہ کے بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر اوپر بھی گزر چکا ہے۔ قانتات کے معنی فرماں بردار ‘ تائبت کے معنی ہر گناہ سے فوراً توبہ کرنے والیاں ‘ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کو ان لفظوں میں پچھلی حالت سے توبہ کرنے اور آئندہ کی فرمانبرداری کی ترغیب ہے۔ سائحات کے معنی مہاجرات کے کئے ہیں ‘ ثیبہ وہ عورت ہے جو پہلے شوہر سے چھوٹ گئی۔ اسی طرح کی عورت دنیا کو بھگت کر سمجھ دار ہوجاتی ہے اس لئے اس کا ذکر فرمایا۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة التحریم ص 731 ج 2۔ )
Ayahs 66:6–76۔ 7۔ ہر ایمان دار آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچا سکتا ہے کہ جن باتوں کے بجا لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجا لانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے نماز ایک ایسا فرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لئے گھر والوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی آیت وامر ھلک بالصلوۃ میں گزر چکا ہے یہ تو نماز کا دنیا میں اہتمام ہوا کہ قرآن اور حدیث میں جگہ جگہ اس کا ذکر ہے عقبیٰ میں بھی باقی کے سب فرائض سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔ چناچہ مسند امام 1 ؎ احمد اور سنن اربعہ میں معتبر سند سے ابوہریرہ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اسی واسطے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ سات برس کے لڑکے کو نماز کی زبانی تاکید کی جائے اور دس برس کے لڑکے کو مار پیٹ کر نماز پڑھائی جائے اس روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے تقویت حاصل ہو کر یہ روایت قابل اعتبار ہے اگرچہ دس برس کے لڑکے یا لڑکی پر نماز فرض نہیں ہے لیکن یہ تاکید اس لئے ہے کہ بالغ ہونے کے بعد مسلمان کی اولاد کو نماز کی عادت رہے اکثر سلف کے قول کے موافق دوزخ کا ایندھن گندھک کے ایک قسم کے پتھر ہیں جن کی آگ بہت تیز ہے اوسط طبرانی میں ناقابل اعتراض سند سے حضرت عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ پر جو فرشتے تعینات ہیں اگر ان میں سے ایک فرشتہ بھی زمین پر آجائے تو اس کی خوفناک صورت دیکھ کر تمام دنیا کے لوگ مرجائیں ‘ حدیث کا یہ ٹکڑا غلاظ شداد کی گویا تفسیر ہے۔ دنیا کے جیل خانے میں جیل کے داروغہ یا نگہبان کبھی بعض قیدیوں سے مل جاتے ہیں اور ان قیدیوں کی طرح طرح سے رعایت کرنے لگتے ہیں اس لئے فرمایا کہ دوزخ کے درواغہ اور نگہبانوں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پورے فرمانبردار ہیں اس واسطے وہ اللہ کے حکم کی پوری تعمیل کریں گے صحیح مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے 3 ؎ کہ قیامت کے دن بعض گناہ گار اپنے گناہوں کے اقبال کرنے میں پہلے پہل طرح طرح کے عذر کریں گے آخر اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر سکوت کی مہر لگا کر ان کے ہاتھ پیروں کو گواہی کے ادا کرنے کا حکم دے گا اور ایسے لوگوں کے ہاتھ پیر ان کے سب عملوں کی شہادت ادا کریں گے اور پھر ان لوگوں کا کوئی عذر نہ سنا جائے گا غرض ان آیتوں میں جس وقت کے عذر کے نہ سنے جانے کا ذکر ہے اس وقت کی یہ حدیث تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نافرمان لوگوں پہلے عذر داری کا موقع دیا جائے گا اور آخری شہادت پر فیصلہ ہو کر اس طرح وہ فیصلہ آخر ان لوگوں کو سنا دیا جائے گا نیک و بد سے ایک طرح کا برتاؤکرنا بڑی ناانصافی ہے اس لئے اے نافرمان لوگو تمہارے حق میں منصفانہ فیصلہ یہی ہے کہ تم اپنے کئے کی سزا بھگتو۔ اوپر صحیح حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ دوزخ کے جیل خانہ کی سزا کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا ان کی سزا حسب حیثیت جرم میعادی ہوگی جس میعاد کے گزر جانے کے بعد پھر وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کئے جائیں گے ہاں اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک ٹھہرانے والے لوگ بغاوت کے جرم کے مجرم ہیں اس واسطے ان کی سزا اس فیصلہ میں دائم الجس قرار پائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایسے لوگوں کے حق میں یہی منصفانہ وعدہ ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب الصلوٰۃ فی التطوع فصل ثانی ص 117۔ )
(2 ؎ ابو داؤود متی یومر الفلاہ بالصلوٰۃ ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 409 ج 2۔ )
Ayahs 66:8–98۔ 9 اوپر ذکر تھا کہ ہر ایمان دار آدمی نیک کام کرکے اور برے کام سے باز رہ کر اپنی جان کو اور یہی تاکید رکھ کر اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائے ان آیتوں میں توبہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص برا کام کر بیٹھے اور پھر فوراً اس پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ صححھ 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی غقور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے کہ جو لوگ زمین پر ہیں یا ہوں گے اگر وہ گناہ نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرکے اپنی پیاری صفت غفور رحیمی کو کام میں لائے۔ مسند 2 ؎ ابی یعلی اور طبرانی میں معتبر سند سے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں سات تو بند ہیں قیامت کے دن جب لوگ جنت میں جائیں گے اس وقت وہ دروازے کھلیں گے ہاں ایک دروازہ توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اسی میں سے ہر ایک توبہ کرنے والے کی توبہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتی اور قبول ہوتی ہے۔ صفوان بن عسال سے ترمذی 3 ؎ اور بیہقی میں روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب جب آفتاب مغرب سے نکلے گا اس وقت تک یہ توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے سورة النساء میں توبہ کی شرائط اور توبہ کے وقت کی تفصیل گزر چکی ہے توبہ نصوح کے منعی ایسی خالص توبہ کے ہیں کہ توبہ کرتے وقت پچھلے گناہوں پر پوری ندامت اور آئندہ کے گناہوں سے باز رہنے کا دل میں ارادہ ہو۔ مستدرک 4 ؎ حاکم میں ہے کہ کسی شخص نے حضرت عمر ؓ سے توبہ نصوح کے معنی پوچھے تو آپ ؓ نے یہی معنی بتائے جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند 1 ؎ امام احمد اور مستدرک حاکم کی ابو سعید خدری کی حدیث ہے جس میں شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کے رو برو بنی آدم کو بہکانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کو جواب دیا ہے کہ بنی آدم گناہ کرکے خالص دل سے جب تک توبہ استغفار کریں گے تو ان کے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث جس میں ہر نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم کی عبد اللہ ابن عمر ؓ بن العاص کی حدیث ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن امت محمدیہ کے ایمان دار گناہ گاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ وہ برتاؤکرے گا جس سے اللہ کے رسول خوش ہوجائیں گے۔ معتبر سند سے ابو داؤود 4 ؎ اور مستدرک حاکم کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے نامہ اعمال کے بٹنے کے موقع کو اور نامہ اعمال کے تولے جانے کے موقع کو قیامت کے تین مشکل موقعوں میں شمار فرمایا ہے یہ سب حدیثیں اوپر گزر چکی ہیں ‘ جو ان دونوں آیتوں سے پہلی آیت کی گویا تفسیر ہیں۔ ان حدیثوں اور آیت کو ملا کر حاصل مطلب یہ قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن امت محمدیہ کے ایمان دار گناہ گاروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے نیکیوں کا اجر بڑھا کر اور گناہوں کو توبہ وہ استغفار سے معاف ہوجانے سے نامہ اعمال میں فقط نیکیاں رہ جائیں گی جس سے اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے قابل ہوجائے گا اسی طرح نیکیوں کے اجر بڑھ جانے سے میزان میں نیکیوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا رہا تیسرا مشکل موقع پل صراط کا ‘ اس کے لئے فرمایا پل صراط کے اندھیرے کو جلدی سے طے کرنے کی غرض سے ان لوگوں کے اعمال کے موافق ان کو روشنی دی جائے گی تاکہ پل صراط کو طے کرکے یہ لوگ جھٹ پٹ جنت میں جا بسیں۔ اپنی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے نور جو عطا کیا ہے اس نور کی عنایت کے تین زمانہ ہیں ایک زمانہ تو ازل کا ہے جس وقت تک مخلوق دنیا میں پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ مخلوق کا اس وقت تک عالم ارواح کا حال تھا۔ اس نور کے ذکر میں ترمذی 5 ؎ اور مسند امام احمد کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں جب پیدا کیا تو جن و انس سب پر خواہش نفسانی کا ایک اندھیرا چھاپا ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نور عنایت کیا جس نے اس نور کا پورا حصہ پایا وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد نیک ہوا اور جس نے اس نور کا پورا حصہ نہیں پایا وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بد ہوا۔ دوسرا زمانہ نور کے عنایت ہونے کا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کا ہے جس کا ذکر آیت افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ میں گزرا یہ درجہ نور کا دنیا میں انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ انسان کی تمام نفسانی خواہشیں شرع کے احکام کے تابع ہوجاتی ہیں۔ اس درجہ کو آنحضرت ﷺ نے صحیح 1 ؎ مسلم کی حضرت عباس ؓ کی روایت میں فرمایا ہے کہ حلاوت ایمان اسی کا نام ہے یہ حلاوۃ ایمان کا درجہ آدمی کو جب حاصل ہوتا ہے جس کا ذکر صحیحین 2 ؎ کی حضرت انس ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ تین خصلتیں اس آدمی میں پیدا ہوجاتی ہیں تمام دنیا کی چیزوں سے بڑھ کر اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت اس شخص کے دل میں سما جاتی ہے اور وہ شخص دین میں جس کسی سے الفت پیدا کرتا ہے وہ غرض دینی سے ہوا کرتی ہے اور ایسے شخص کو کوئی آگ میں ڈال دے تو اس کو قبول ہے مگر اسلام کی باتوں کو چھوڑ دینا اس کو ہرگز گوارا نہیں ہوتا۔ تیسرا وہ نور ہے جو پل صراط پر گزرنے کے وقت ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا جس کا ذکر سورة حدید میں گزر چکا ہے اگرچہ اس آیت میں بھی اسی قیامت کے دن پل صراط پر کے نور کا ذکر ہے لیکن وہ نور دنیا کی ایمان داری اور دنیا کے نیک عملوں کے سبب سے دیا جائے گا اس واسطے شاہ صاحب نے اس آیت کے اردو فائدہ میں دنیا کی ایمان داری اور دنیا کے ایمان کے نور اور حلاوت ایمان کے درجہ کا ذکر کیا ہے۔ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافقوں کی روشنی بجھتی دیکھ کر ایمان دار لوگ اپنی روشنی کے حق میں اللہ سے یہ دعا مانگیں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ کے رسول کی نصیحت سے راہ راست پر تو آگئے لیکن بشریت کے تقاضا سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کبھی کبھی کچھ کام کر بیٹھتے ہیں اور پھر اس پر نادم ہوتے ہیں اب آگے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے کہ یا تو وہ اللہ کے دین کے بالکل منکر ہیں یا زبان سے تو اللہ کے دین کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں گمراہی بسی ہوئی ہے ایسے لوگ جن کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ‘ ان کو منافق کہتے ہیں۔ یہ لوگ ظاہری کلمہ گو ہیں اور ان کے دل کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس لئے ایسے لوگوں کے ساتھ ہتھیار کی لڑائی کا حکم نہیں ہے۔ فقط زبانی وعظ نصیحت سے ان کو راہ راست پر لانے کا حکم ہے جہاد کا لفظ جس طرح ہتھیار کی لڑائی کے معنی میں بولا جاتا ہے اسی طرح زبانی وعظ نصیحت پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اس واسطے منافقوں کے ذکر کے ساتھ اس لفظ کے یہی زبانی وعظ نصیحت کے معنی ہیں جو لوگ اللہ کے دین کے بالکل منکر ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد تیرہ برس تک مکہ کے قیام کے زمانہ میں ایسے دین کے سراپا منکر لوگوں کے ساتھ ہتھیار کی لڑائی کا حکم نازل نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک مسلمانوں کے پاس کسی سے لڑنے کا سامان نہیں تھا۔ اس بےسرو سامانی کے زمانہ میں مخالفوں کی طرح طرح کی ایذاء سے تنگ آ کر اگرچہ مسلمانوں نے ہتھیار کی لڑائی کا اپنا ارادہ بھی ظاہر کیا لیکن اس وقت درگزر کی ‘ چند آیتیں وقت بوقت نازل ہوتی رہی ہیں ہجرت کے ایک سال کے قریب کے بعد جب مسلمانوں کے پاس لڑائی کا کچھ ساز و سامان ہوگیا تو ہتھیار کی لڑائی کا حکم نازل ہوا۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد درگزر کی آیتیں ہمیشہ کے لئے منسوخ ہیں۔ یا ضعف اسلام کے زمانہ میں اب بھی وہی درگزر کا حکم قائم ہے علماء کی ایک بڑی جماعت نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ جہاد کے حکم سے درگزر کی آیتیں منسوخ نہیں ہیں بلکہ ضعف اسلام کے وقت درگزر کا حکم قائم ہے۔ کیونکہ شریعت کا جو حکم کسی سبب پر منحصر ہے اس حکم کا عمل بھی اس وقت ہوگا جب وہ سبب پایا جائے گا جس طرح مثلاً زکوٰۃ کے حکم آدمی کی خوش حالی پر منحصر ہے اب فرض کیا جائے کہ ابتدائی حالت میں ایک شخص تنگ حال تھا اس لئے زکوٰۃ کے حکم کا سبب نہیں پایا گیا اور اس شخص سے زکوٰۃ کا متعلق نہیں ہوا اب بیچ میں اسی شخص کے پاس زکوٰۃ کے فرض ہوجانے کے قابل مال جمع ہوگیا تو اب اس سے زکوٰۃ کا حکم بھی ایسے شخص سے متعلق نہ رہے گا اوپر جہاد کے حکم کی جو حالت بیان کی گئی اس کے موافق یہ حکم بھی سببی احکام میں کا ایک حکم ہے اس واسطے اس کا عمل بھی سبب کے پائے جانے پر منحصر رہنا چاہئے صحیح 1 ؎ مسلم میں ابو سعیدخدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا خلاف شریعت کسی بات کو دیکھ کر جس ایمان دار شخص میں اتنی قوت ہے کہ وہ اس کی اصلاح ہاتھ پیر سے کرسکتا ہے تو ایسا عمل کرے ورنہ زبان سے وعظ و نصیحت کرکے اصلاح کرے۔ اگر اتنی قوت بھی اپنے آپ میں نہ پائے تو اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے کہ یہ ایمان کا ضعفت درجہ ہے اس حدیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ درگزر کا حکم منسوخ نہیں ہے کیونکہ اس میں ضعف اسلام کے وقت بجائے ہاتھ پیر کی لڑائی کے زبان و دل سے کام لینے کی ہدایت ہے۔ بعض عیسائی علماء نے یہ لکھا ہے کہ ابتداء میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا اگر یہ تلوار کا خوف نہ ہوتا تو اسلام کا پھیلنا مشکل تھا۔ اہل اسلام نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ عیسای علماء کا یہ خیال تاریخی واقعات کے برخلاف ہے کیونکہ تلوار کا حکم آنحضرت ﷺ کی نبوت کے چودہ برس کے قریب کے مابعد میں نازل ہوا ہے جس کے نازل ہونے کے وقت ایک کافی جماعت مسلمانوں کی مکہ اور مدینہ میں موجود تھی جس جماعت کے اسلام کو تلوار کے خوف سے ثابت کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ عیسائی علماء نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ جہاد کا مسئلہ شریعت محمدی ﷺ کا ایک ایسا جدید مسئلہ ہے جس کا ذکر شریعت موسوی و عیسوی میں کہیں نہیں ہے۔ اہل اسلام نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ تورات کی کتاب الاستثناء کے بیسویں باب میں جہاد کے مسئلہ کا صراحت سے ذکر موجود ہے اس لئے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب شریعت موسوی اور شریعت عیسوی دونوں شریعتوں کی معتبر کتاب ہے۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب سقوط الذنوب بالا ستغفارو التوبۃ ص 355 ج 2۔ )
(2 ؎ الترغیب و الترہیب کتاب التوبۃ والزھد ص 158 ج 4۔ )
( 3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل التوبۃ الخ ص 215 ج 2۔ )
(4 ؎ الدر المنثور ص 245 ج 6۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الاستغفار التوبۃ فصل ثانی ص 404۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب حسن اسلام المرء الخ ص 11 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب دعاء النبی ﷺ لا متمد الخ ص 113 ج 1۔ )
(4 ؎ ابو داؤود باب فی ذکر المیزان ج 2۔ )
(5 ؎ جامع ترمذی اواخر ابواب الایمان ص 104 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب الدلیل علی من رضی باللہ ربا الخ ص 47 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب بیان خصال من اتصف بھن وجد حلاوۃ الایمان ص 49 ج 1 و صحیح بخاری باب حلاوۃ الایمان ص 7 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان الخ ص 50 ج 1۔ )
Ayahs 66:10–1210۔ 12۔ اوپر آنحضرت ﷺ کی اہل و عیال کا اور عام مسلمانوں کے اہل و عیال کا جدا جدا ذکر تھا اس ذکر کے پورا ہوجانے کے لئے ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط دو پیغمبروں کی بیبیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ دار ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبیٰ برباد ہوگئی۔ تفسیر ابن 1 ؎ جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بی بی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا۔ کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیبیوں کی خیانت اور چوری کے معنی بےدینی کے ہیں بدکاری کے نہیں ہیں۔ فرعون کی بی بی کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا۔ حضرت موسیٰ کا جادوگروں پر غالب ہونے کا قصہ دیکھ کر جب آسیہ نے اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی دل سے تصدیق کی اور زبان سے اس تصدیق کا اقرار بھی کیا تو فرعون نے یہ حال سن کر ان پر طرح طرح کا عذاب شروع کیا لیکن آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہیں اور اسی عذاب کی حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسیہ کی یہ دعا قبول فرمائی اور بہت جلدی فرعون کے ظلم سے ان جنتی بی بی کو نجات دے کر عقبیٰ میں بہت بڑا درجہ انہیں عنایت فرمایا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مردوں میں تو بہت کامل لوگ ہوئے مگر عورتوں میں آسیہ بنت مزاحم اور مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاملین کا درجہ ہے اس مضمون کی اور بھی صحیح روایتیں ہیں جن میں حضرت فاطمہ ؓ کا بھی ذکر ہے حاصل اس تمثیل کا یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کے دل میں حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیبیوں کی طرح بالکل نور ایمانی نہیں ہے ان کی نجات کے لئے اللہ کے پیغمبروں کی قرابت داری بھی کافی نہیں ہوسکتی اور جن کے دل میں حضرت مریم اور آسیہ کی طرح کا نور ایمان ہے ان کو فرعون جیسے بد قرابتدار کی بدی بھی کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی ‘ اور جو لوگ حضرت نوح اور لوط کی بیبیوں کی طرح ایمان سے بالکل بےبہرہ نہیں ہیں بلکہ ان کے دل میں اگر ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو ایسے لوگوں کی نجات کامل الایمان قرابتداروں کی اجنبی مسلمانوں کی شفاعت سے ممکن ہے۔ چناچہ ابو سعید خدری کی صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کی روایت میں اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 393 ج 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری فضل عائشہ ؓ ص 532 ج 1 و صحیح مسلم باب من فضائل خدیجۃ ؓ ص 284 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری کتاب الردعلی الجھمیۃ ص 1107 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم الخ ص 102 ج 1۔ )