Ayahs 67:1–51۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔ تمام رعیت کے لوگ کئی سال موسم پر مینہ برسنے کی تمنا کرتے ہیں مگر جب تک اس بادشاہ حقیقی کا حکم نہ ہو دنیا کے بادشاہوں سے کیا ہوسکتا ہے تمام رعیت کے لوگ اور نوکر لوگ ایک بادشاہ کا صاحب اولاد ہوجانا یا ایک بادشاہ کا کسی مرض سے اچھا ہوجانا چاہتے ہیں لیکن بغیر حکم حاکم حقیقی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ روم کے بادشاہ کی حکومت مثلاً ایران میں نہیں اور ایران کے بادشاہ کی حکومت روم میں نہیں وہی بادشاہ حقیقی ہے جس کی بادشاہی ایک وتیرہ پر تمام دنیا میں جاری ہے۔ غرض دنیا کے بادشاہوں کی نہ تمام دنیا میں حکومت ہے نہ ہر طرح کا کارخانہ ان کے قبضہ کے ملک کا ان کے اختیار سے چل سکتا ہے ہر جگہ اور ہر طرح کا کام اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے اس واسطے بادشاہ اور فقیر سب کے سمجھانے کو فرمایا کہ تمام دنیا کا ملک تمام دنیا کی بادشاہی اور اس بادشاہی میں ہر طرح کی حکومت اس ایک ذات وحدہ لا شریک کے ہاتھ میں ہے جس نے تمام دنیا کو اس آزمائش کے لئے پیدا کیا کہ دنیا میں پیدا ہو کر کون نیک کام کرتا ہے اور کون بد اور پھر اپنی پیدا کی ہوئی ایسی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ موت وحیات کے پیدا کرنے سے یہ مطلب ہے کہ انسان کی ایک حالت تو وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی کہ وہ دنیا میں نابود اور علم الٰہی میں ایک وقت مقررہ پر اس کا دنیا میں آنا مقرر تھا پھر اس کو دنیا میں پیدا کیا جس کے سبب سے اس کی نابودی کی حالت جاتی رہی اور وہ زندگی کی حالت میں آگیا۔ کنتم امواتا فاحیاکم خلق الموت والحیات کی پوری تفسیر ہے پھر فرمایا کہ انسان کو حالت نابودی سے حالت زندگی اس لئے دی گئی ہے تاکہ دنیا کی ظاہری حالت میں کھل جائے کہ دنیا میں کس نے اچھے کام کئے اور کس نے برے ورنہ اللہ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی نیک و بد کا حال کھل چکا ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم میں عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا کے پیدا کرنے کے بعد ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا و سزا کا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ جزا و سزا کا مدار دنیا کی ظاہری حالت پر رکھا ہے کہ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ عزیز کے معنی زبردست حقیقت میں وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کے آگے سب زبردست زیر ہیں۔ بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ جب سب کی شفاعت ختم ہوچکے گی تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنی تمام عمر میں کوئی نیک کام نہیں کیا۔ دوزخ میں سے ایک لپ بھر کر نکالے گا اور ان کو پھر جنت میں بھیج دے گا چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی ایک بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر ہے سات آسمان اس طرح بنائے کہ جس طرح پہلا آسمان دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی طرح ہر ایک آسمان کا دل پانسو برس کی راہ کا ہے بغیر کسی سہارے کے اتنے بڑے دل کی یہ تہ پر تہ سات چھتیں جدا جدا فقط اس کی قدرت سے کھڑی ہیں پھر فرمایا کہ جو کوئی اللہ کی اس قدرت کو گھڑی گھڑی غور کی نگاہ سے دیکھے گا تو آخر اس کی نگاہ تھک جائے گی مگر کسی کا کیا مقدور ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز میں کسی طرح کا عیب پکڑ سکے۔ اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں میں تاروں کو پیدا کرکے اس کی روشنی سے آسمانوں کی زینت اور رونق جو بڑھائی اس کا ذکر فرمایا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ خبریں سننے جو آجاتے ہیں انہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان پر انگارے برساتے ہیں ترمذی 1 ؎ نسائی ‘ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کا کوئی مضمون اللہ کے رسول پر نازل ہونے سے پہلے چوری کے طور پر کاہن لوگوں کو نہ پہنچے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے زیادہ تفصیل اس کی سورة جن میں آئے گی آسمان دنیا کے سوا تارے اگرچہ اور آسمانوں میں بھی ہیں لیکن اہل دنیا کا تعلق فقط آسمان دنیا سے ہے اس لئے آیت میں اس کا ذکر فرمایا۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ علیھما السلام ص 225 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ بہم الخ ص 102 ج 1۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص 19 ج 2۔ )
Ayahs 67:6–116۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام کے موافق کیا اللہ کے رسولوں نے اس دن کی آفت سے تم لوگوں کو نہیں ڈرایا۔ وہ دوزخی جواب دیں گے کہ اللہ کے رسولوں ﷺ نے تو ہم کو ڈرایا تھا مگر ہم نے اپنی کم بختی کے سبب سے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ان سے یہ کہہ دیا کہ تم خود بہکے ہوئے ہو جو ہم کو ہمارے باپ دادا کے طریقہ سے جدا طریقہ سکھاتے ہو پھر پچھتا کر یہ بھی کہیں گے کہ اگر دنیا میں ہم رسولوں کی نصیحت کو مان لیتے اور شیطان کے بہکاوے کے وقت کچھ خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لیتے تو آج ہم اس بلا میں نہ پڑتے مگر اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ پھٹکار ملے گی کہ اے کم بختو دور ہو اللہ کی رحمت سے ‘ ایسے نافرمان دوزخ کے مستحق ہیں جن کا اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا اللہ کی جناب میں ہرگز قابل قبول نہیں۔ مصیر کے معنی اتجام کے ہیں۔ شھیق کے معنی خوفناک آواز کے ‘ یہ دوزخ کا دھاڑنا اور خوفناک آوازوں کا نکالنا اس وقت ہوگا جب اس کو ستر ہزار لگا میں لگا کر محشر میدان میں لایا جائے گا جس کا ذکر عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح 1 ؎ مسلم ترمذی وغیرہ میں ہے۔ مسند 2 ؎ امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب شیطان کو مردود ٹھہرا کر آسمان پر سے اتاراجانے لگا تو اس نے قسم کھا کر خدا تعالیٰ کے رو برو یہ بات کہی کہ جب تک بنی آدم کے دم میں دم ہے میں ہر طرح ان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس مردود سے فرمایا کہ تیرے بہکانے سے گناہ کرکے جب تک وہ خالص دل سے توبہ استغفار کریں گے میں بھی ان کے گناہوں کے بخش دینے میں کبھی کوتاہی نہ کروں گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ غرض شیطان کی دشمنی تو ایسی پکی ہے کہ وہ اس دشمنی پر خدا کے رو برو حلف اٹھا چکا ہے ایسے پکے دشمن کے پھندے میں پھنس کر باقتضائے بشریت آدمی سے جب کوئی گناہ ہوجائے تو اس مرض کی اس دوا سے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے آدمی کو ہرگز غافل نہ رہنا چاہئے تاکہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے دل پر اس کے زنگ لگ جانے کی نوبت نہ آجائے جس کا ذکر ویل للمطففین میں آتا ہے جس زنگ سے دل بالکل مرجاتا ہے اور بغیر موت کے آنکھوں کے سامنے آجانے کے ایسے مردہ دل آدمیوں کو توبہ کی توفیق ہرگز نہیں ہوتی۔ اور یہ تو سورة نساء میں گزر چکا ہے ایسی ناامیدی کے وقت کی توبہ بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الاستفغار والتوبۃ فصل ثانی ص 204۔ )
Ayahs 67:12–1512۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ کرتے ہیں دنیا کے دکھاوے کی نیت سے نہیں کرتے بلکہ محض ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی نیت پوری کرے گا اور عقبیٰ میں بہت بڑا ثواب ان کو عنایت فرمائے گا ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ تم چپکے سے چھپا کر بات کرو یا پکار کر بات کرو اللہ تعالیٰ کو سب دل کا بھید تک معلوم ہے حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ مکہ کے مشرک اسلام کی اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں میں ندمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن لے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو تو دل کا بھید معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے لطیف وہ جس پر کوئی چیز مخفی نہ رہے۔ مناکب کے معنی اطراف ‘ آخر آیت کے حاصل معنی یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ زمین میں سخت پہاڑ ہیں لیکن ان میں گھاٹیاں ایسی نرم اور گزر کے قابل رکھ دی گئی ہیں جس کے سبب سے اطراف کی بستیوں میں تجارت کے لئے سفر کرنا آسان ہے اب جو چاہے تجارت کے لئے سفر کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو رزق ہر ایک کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ کھائے اور اپنی زندگی بسر کرے اہل مکہ کی گزر تجارت پر ہی تھی اس لئے خاص طور پر تجارت کے لئے اس پہاڑی ملک میں راتوں کے آسان ہوجانے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد حشر کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ آدمی کے گزر کے سب انتظام کھیل کے طور پر نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس واسطے کئے گئے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ان انتظاموں سے تا زیست نفع اٹھا کر اس کے شکریہ میں کچھ نیک کام کرے گا تو اس نیکی کے ثمرہ کا اور بر کام کرے گا تو اس کی پرسش کا ایک دن ہے ‘ اسی دن کا نام حشر ہے ہر عقل مند کے نزدیک ایسے ایک دن کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے سب انتظام جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کئے ہیں وہ ٹھکانے سے لگیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان سب انتظاموں کے بےٹھکانہ ٹھہرا کر حشر کا منکر ہے اس کی عقل میں فتور ہے اور پھر اپنی قدرت کی چند مثالیں ذکر کرکے قریش کو سمجھایا اور یہ بھی فرمایا کہ باوجود سمجھانے کے یہ لوگ اگر اپنی گمراہی سے باز نہ آئیں گے تو ان سے پہلے بہت سی گمرا ہیں جس طرح عذاب الٰہی سے ہلاک ہوچکی ہیں وہی انجام آخر ان لوگوں کا ہوگا اور جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ بت اللہ کے عذاب سے بچانے میں ان لوگوں کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے بعض شیطان کے دھوکے اور فریب سے ان لوگوں کے دل میں یہ بات سما گئی ہے کہ وہ ان کے بت اللہ کے عذاب کے آگے ان لوگوں کو کچھ کام آئیں گے۔
Ayahs 67:16–1916۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دن کی سزا کے یہ لوگ منکر ہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ اس دن کی سزا سے پہلے ابھی اللہ کے حکم سے زمین کو جنبش ہو جس سے فوراً ان لوگوں کو قارون کی طرح مع ان کے گھروں کے زمین کے اندر دھسا دیا جائے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھروں کا مینہ برسا دیا جائے۔ جاصب اس ہوا اور گھٹا کو کہتے ہیں جس میں پتھر ہوں۔ پھر فرمایا کہ جب ایسی فوری آفت ان پر آجائے گی اس وقت اسی طرح ان لوگوں کو بھی عذاب الٰہی کی قدر کھل جائے گی جس طرح پچھلی امتوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد عذاب کے جھٹلانے کی قدر کھل گئی اس کے بعد عقل کی رسائی سے باہر ایک اور قدرت کے نمونہ کا ذکر فرمایا کہ اگرچہ بھاری مادی چیز کا میلان اوپر سے نیچے کی طرف عقل کی رسائی کی حد تک ہے مگر پر دار جانوروں کا یہ حال ہے کہ جب تک قدرت الٰہی نے ان کو تھام رکھا ہے زمین و آسمان کے مابین ہوا میں اڑتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ ان جانوروں کی روک تھام کی طرح اللہ تعالیٰ نے باوجود ان لوگوں کی نافرمانی کے وقت مقررہ تک ہر ایک طرح کے عذاب کو بھی اپنی رحمت سے روک رکھا ہے ورنہ وہ قادر مطلق جب چاہے ان کی ہلاکت کا کوئی سبب پیدا کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے جدھر جس ارادہ سے وہ نگاہ کرے ایک پل میں سب کچھ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 67:20–2720۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی شیطانی دھوکے میں تھیں مگر وقت پڑے پر اس دھوکے سے انہیں پچھتانا پڑا۔ اس وقت کا پچھتانا کچھ ان کے کام نہ آیا آخر ایک دم میں سب ہلاک ہو کر دونوں جہان سے گئے پھر قحط کے عذاب کی مثال دے کر سمجھایا کہ اگر ایک برس آسمان سے مینہ نہ برسے تو بھلا سوا اللہ کے کسی میں قدرت ہے کہ اس مصیبت کو ٹال سکے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اور عذاب آجائے گا تو اس کو پھر وہی ٹالے گا تو ٹلے گا اس کے سوا برے وقت پر کوئی کام نہ آئے گا صحیحین 1 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جب قریش اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور آنحضرت ﷺ نے بددعا کی اور مکہ میں اس طرح کا قحط پڑا کہ لوگ مردار جانور تک کھا گئے اور قریش سب بت پرستی بھول گئے اور کوئی بت کام نہ آیا۔ آخر جب اللہ کے رسول نے ہی دعا کی تو خدا کے ٹالنے سے وہ بلا ٹلی۔ ان آیتوں میں جس مثال سے اللہ تعالیٰ نے مکہ کے مشرک لوگوں کو سمجھایا ہے یہ حدیث اس مثال کی گویا تفسیر ہے اس قحط کے ذکر میں یہ بھی فرمایا کہ اتنی بڑی تنبیہ کا اثر جو ان لوگوں پر کچھ نہیں ہوا اس کا سبب یہی ہے کہ اپنی شرارت سے یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے بدکتے ہیں اور بدکنے کے سبب سے وہ شرارت ان کے دلوں میں گھس گئی ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد قریش نے جب قرآن کی نصیحت سے وہ اپنا بدکنا کم کردیا تو پھر ان کی وہ شرارت بھی نہ رہی اور فتح مکہ تک سب قصہ طے ہوگیا۔ قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آ کر ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچا جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا تو پھر یہ مشرک لوگ اوندھا راستہ چل رہے ہیں کہ خدا کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کے معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور مشرک لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت کے سننے کے لئے کافی قدرت کے نمونے مثلاً دیکھنے کے لئے آنکھیں ہر بات پر غور کرنے کے لئے ان کے دل میں عقل سب کچھ کردیا ہے اس پر یہ اوندھا راستہ چلیں گے تو قیامت کے دن اس اوندھی چال کی سزا بھی ان لوگوں کو اسی طرح کی دی جائے گی کہ جب حشر کے دن یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو منہ کے بل اٹھیں گے جس کا ذکر قرآن شریف اور صحیحین وغیرہ کی حدیث میں اوپر گزر چکا ہے۔ قل ھو الذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون کی تفسیر وہی ہے جو اوپر گزری کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھیل کے طور پر بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ انسان کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو کئی جگہ قرآن میں بیان کردیا گیا ہے کہ چند روزہ زیست میں انسان سے جو نیک و بد ہو سکے وہ کرلے اور دنیا سے اٹھ جائے۔ بعد اس کے سب دنیا کے ختم ہونے کے بعد اس کو پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے عمر بھر کے نیک و بد کی جزا و سزا ہوگی تاکہ انسان کا پیدا کرنا رائیگاں نہ ہو اس نصیحت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اب تو یہ مشرک لوگ سرکشی سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت نہ ماننے پر جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے آخر وہ عذاب کب آئے گا اے اللہ کے رسول اس کے جواب میں ان مشرکوں سے کہہ دیا جائے کہ عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو معلوم ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ جب عذاب کا وقت آئے گا تو یہ سرکشی سب نکل جائے گی اور بڑے بڑے سرکشوں کی صورت نہ پہچانی جائے گی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی والے دن اور مکہ کے قحط کے وقت دنیا میں تو یہ حال گزر چکا ‘ عقبیٰ کے عذاب کا وقت مرنے کے بعد آئے گا اور اس وقت قائل کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ جس عذاب کی دنیا میں تم جلدی کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الدخان ص 714 ج 2۔ )
Ayahs 67:28–3028۔ 30۔ سورة والطور میں گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی موت کی آرزو کیا کرتے تھے اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اس آرزو کا جواب دے دیا تھا یہاں بھی ان مشرکوں کے عذاب کی جلدی پر فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے تمہاری یہ آرزو اگر بر آئی کہ ہم کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کا اجر اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں دے گا تم اپنی کہو کہ تمہاری نافرمانی کی سزا کے طور پر دنیا یا آخرت میں تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس عذاب سے تم کو کون چھڑائے گا جن بتوں پر تمہارا بھروسہ ہے ان کا حال قحط کے وقت تم نے دیکھ لیا کہ دنیا میں تو ان بتوں نے کچھ بھی تمہاری مدد نہیں کی عقبیٰ میں یہ تم سے ایسی بیزاری ظاہر کریں گے جس کو دیکھ کر تم کو نہایت درجہ پچھتانا اور یہ کہنا پڑے گا کہ کیا اچھا ہوتا اگر دنیا میں ایک دفعہ اور ہمارا جانا ہوتا تاکہ ہم بھی ان سے اسی طرح کی بیزاری ظاہر کرتے ہیں جس طرح کی بیزاری آج انہوں نے ہم سے ظاہر کی ہے اور کبھی پچھتا کر یہ کہنا پڑے گا کہ کیا اچھا ہوتا جو دنیا میں ایک دفعہ اور ہمارا جانا ہوتا کہ ہم وہاں جا کر اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانبردار بن جاتے تاکہ جس طرح فرمانبردار لوگوں کی نجات فرشتوں ‘ انبیاء ‘ علما کی شفاعت سے ہوگی اسی طرح ہماری بھی نجات کی صورت نکل آتی۔ پھر قحط کی سی مصیبت یاد دلانے اور بتوں کی بےکسی جتانے کے لئے فرمایا کہ چاہ زمزم ‘ چاہ میمونہ جن کنوؤں کا پانی تم لوگ پیتے ہو ‘ وہ صاحب قدرت خدا جس نے یہ پانی مہیا کیا اگر اس پانی کو سوکھا دے تو تمہارے جھوٹے معبودئوں میں کیا اتنا دم ہے کہ وہ تمہارے پینے کے میٹھے پانی کا انتظام کردیں گے بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ یہ آیتیں ایک ظالم بادشاہ کے رو برو پڑھی گئیں تو اس نے کہا کہ اگر خدا کنوؤں کا پانی سوکھا دے گا تو ہم کدال پھاؤڑے سے زمین کو کھود کر پھر پانی نکال لیں گے یہ بات اس ظالم کی زبان پر آئی تھی کہ فوراً اس کی آنکھوں کا پانی بالکل سوکھ گیا اور وہ ظالم اندھا ہو کر بیٹھ گیا۔