68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 68:1–7

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تمہارے لئے بےانتہا اجر ہے۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لینگے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ اور انکو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستہ پر چل رہے ہیں

1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو پیدا کیا یا بعد۔ اس میں علماء کے دو قول ہیں لیکن اکثر علما کا قول یہی ہے کہ عرش کی پیدائش قلم کی پیدائش سے مقدم ہے حدیث اول ماخلق اللہ العقل جو مشہور ہے اس کی سند میں تردد ہے۔ قلم اور اس کی کتابت اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے دین و دنیا کا انتظام اسی قلم و کتابت کے ذریعہ سے آج تک چلا اور آئندہ چلے گا کیونکہ دنی کی روایتیں نیا کی ہر طرح کی باتیں اور کیفیتیں پچھلوں سے ہم تک آئیں اور ہم سے آئندہ کی نسلوں تک جائیں گی اسی مطلب کے ادا کرنے کے لئے قتادہ اور سلف کا قول ہے کہ اگر قلم کا وجود دنیا میں نہ ہوتا تو نہ دین قائم رہ سکتا تھا نہ دنیا کی زندگی چل سکتی تھی غرض اتنی بڑی چیز کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ مکہ کے مشرک لوگ جو تم کو دیوانہ کہتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ شرک کے اندھیرے نے ان کو اندھا کردیا ہے کہ تم تو اللہ کے حکم کے موافق ان کو نیک راستہ بتاتے ہو اور وہ تم کو دیوانہ کہتے ہیں خیر اللہ کے فضل سے تم میں کوئی بات دیوانگی کی نہیں ہے۔ یہ نادان لوگ نادانی سے کوئی گستاخی کی بات کہیں تو اس کو سن کر صبر کرو کہ یہ تمہارے حسن اخلاق کا شیوہ ہے اور صبر و استقلال سے اللہ کے حکم کے موافق اپنا کام کئے جائو۔ اللہ کی بارگاہ سے ان سب باتوں کا اجر تمہیں ملنے والا ہے جس کا اثر ہمیشہ رہے گا پھر فرمایا بہت جلد ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا کہ یہ خود دیوانے تھے جو اللہ کے رسول کو دیوانہ بتاتے تھے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ قرآن کی نصیحت کے اثر سے کتنے آدمی ان کے راہ راست پر آنے والے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان گستاخیوں کی سزا میں ڈھیل ڈھال کر رکھی ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے وقت سے فتح مکہ تک اہل مکہ میں سے جو لوگ بہکے رہے تھے وہ ذلت سے مارے گئے اور مرنے کے بعد انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ خود سو دیوانوں کے دیوانے تھے جو اللہ کے رسول کو دیوانہ بتاتے تھے اور جو راہ راست پر آئے اور وہ ایسے آئے کہ اب ان کا شمار دین کے پیشواؤں میں ہے جس پیشوائی کا اجر قیامت تک ان کے اعمال ناموں میں لکھا جاتا ہے کیونکہ راہ راست پر آنے کے بعد اللہ کے رسول سے علم دین سیکھا جس کی روایت کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا یہ ان پیشوایان دین کا ایک بڑا صدقہ جاریہ ہے جس کا اجر ان کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی قیامت تک منقطع نہ ہوگا۔ چناچہ صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو صدقات جاریہ کی حدیث ہے اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ آنحضرت ﷺ کو حسن اخلاق کی یہاں تک پابندی تھی کہ آپ حسن اخلاق پر قائم رہنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے تھے۔ چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آپ کی اس دعا کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کے موافق آپ کو وہ حسن اخلاق کی دولت عطا فرمائی تھی جس کی سینکڑوں روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 250 ج 6۔ ) (2 ؎ صحیح مسلمب اب وصول ثواب الصدقات الی المیت ص 41 ج 2۔ ) (3 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الرفق ولحیاء فصل ثالث ص 432۔ )
Ayahs 68:8–16

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک ان کے خدا کی عبادت کرلیں گے لیکن اسلام تو ایسی باتیں مٹانے کے لئے ہے بھلا اسلام میں ایسی باتیں کب سنی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد مشرکین عرب میں سے خاص ایک شخص کی ایسی باتیں نہ سننے کی تاکید فرمائی اور اس شخص کے چند پتے بھی دیئے۔ حلاف وہ ہے جو اکثر جھوٹی قسمیں کھاتا رہتا ہے۔ مھین کے معنی کم عقل ‘ ھماز وہ جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے۔ مشاء بنمیم کے معنی چغل خور مناع للخیر کے معنی بخیل معتد اثیم کے معنی بڑا ظالم اور بڑا گناہ گار۔ عتل کے معنی بد خو بد زبان زنیم وہ جو کسی قوم میں آن گھسے اور اصل میں اس قوم کا نہ ہو۔ اگرچہ بعض مفسروں نے ابوجہل کا نام اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے لیکن جمہور مفسرین کا قول یہی ہے کہ اس آیت میں ولید بن مغیرہ کا ذکر ہے اور بعضی علامتوں اور نشانیوں کے سبب سے یہی قول قوی معلوم ہوتا ہے ایک یہ کہ قریش میں ولید بن مغیرہ کی شہرت زیادہ تھی چناچہ سورة مدثر میں خود اللہ تعالیٰ نے اس کے مال اور اولاد کا ذکر فرمایا ہے۔ دوسری اللہ تعالیٰ نے ناک پر داغ دینے کا جو ذکر فرمایا ہے بدر کی لڑائی والے دن ولید بن مغیرہ کے ہی ناک پر زخم لگا تھا جس کا نشان جیتے جی باقی رہا تیسرے یہ کہ یہی شخص قرآن شریف کو پرانا جادو اور پرانی کہانیاں کہا کرتا تھا۔
Ayahs 68:17–33

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہم جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قمسیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جسے کٹی ہوئی کھیتی

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کیساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر (ہیں)

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم (برگشتہ) بےنصیب ہیں

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں فرزانہ تھا بولا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصوروار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع لاتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی طرح آئی تھی جیسے باغ والوں پر ان کے باغ کے اجڑ جانے کے وقت آئی تھی۔ ان باغ والوں کا قصہ مکہ اور نواح مکہ میں بہت مشہور تھا اس لئے اس کا حوالہ دیا گیا۔ تفسیرابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ یمن کے ملک میں ایک شخص کا ایک باغ تھا وہ شخص نیک نیت تھا اللہ کی نعمت کی شکر گزاری میں فضل کے وقت کچھ میوہ اللہ کے نام پر دیا کرتا تھا اس شخص کی وفات کے بعد اس کے لڑکوں کی نیت بدل گئی اور انہوں نے یہ چاہا کہ فقیروں کے آنے سے پہلے اندھیرے منہ باغ جا کر سب میوہ پیڑوں سے توڑ لائیں۔ باغ میں پہنچنے سے پہلے اپنی ناشکری کا انہوں نے یہ پھل پایا کہ وہاں رات کو اللہ کے حکم سے آگ لگ گئی اور سارا باغ جل کر خاک سیاہ ہوگیا۔ جب یہ لوگ باغ پہنچے تو اس کی حالت دیکھ کر ان لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں راستہ بھول کر ہم کہیں اور آگئے۔ پھر جب جگہ پہچان گئے تو اپنی ناشکری کی نیت پر بڑا افسوس کیا آخر آیت میں قریش کو ہوشیار کیا کہ دیکھو خدا کی نافرمانی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری سے دنیا میں بھی خدا کی آفتیں یوں آیا کرتی ہیں۔ جس طرح تم پر قحط کی اور باغ والوں پر باغ کے جل جانے کی آفت آئی پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ چند روزہ دنیا ہی کیا اور اس کی چلتی پھرتی آفت ہی کیا آخرت کی آفت بڑی آفت ہے جس کی مدت کا کچھ ٹھکانا نہیں صوم کے معنی میوہ توڑنے کے ہیں۔ لایستثنون کے معنی یہ کہ انہوں نے اپنے ارادہ پر انشاء اللہ تعالیٰ نہیں کہا صریم کے معنی کے معنی کٹی ہوئی کھیتی بھوسا۔ حرد کے معنی کوشش ‘ اوسطھم کے معنی ان میں کا صاحب عقل۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الدخان ص 714 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 406 ج 4۔ )