Ayahs 68:34–4134۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد کیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوشحالی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبرداروں کو ایک سا کر دے یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں کچھ شراکت کا حق دیا ہے کہ وہ اس شراکت کے حق کے سبب سے کسی کا کچھ بھلا کرسکیں اچھا اگر یہ سچے ہیں تو دین و دنیا کی آفت کے وقت اپنے بتوں کو حمایتوں کے طور پر پیش کریں دنیا کے قحط کے وقت تو ان کی بتوں کی حمایت کی قعلی خوب اچھی طرح کھل گئی۔ آخرت کا حال بھی ان کی آنکھوں کے سامنے آنے والا ہے۔
Ayahs 68:42–4742۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے کرتے ہیں جب قیامت کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی کمر تختہ ہوجائے گی اور ان کو سجدہ کرنا نصیب نہ ہوگا اور جو حال سجدہ کے منکر لوگوں کا ہوگا وہی ان لوگوں کا ہوگا منکرین سجدہ کا حال یہ ہے کہ ان کا جنت میں جانا اور وہاں کے میوے کھانا تو کجا دوزخ کی بھوک پاس سے گھبرا کر جب وہ اہل جنت سے جنت کے کھانے کی چیزوں میں سے کوئی چزا اور تھوڑا سا ٹھنڈا پانی بھیگ کی طرح مانگیں گے تو یہی جواب ملے گا کہ جنت کا کھانا پانی اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردیا ہے چناچہ سورة اعراف میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ پنڈلی کے کھولے جانے کی تفسیر صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت سے جو آئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہمارا رب اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر ایماندار مرد و عورت سجدہ میں گر پڑیں گے ان کو دیکھ کر وہ لوگ ہی سجدہ کرنا چاہیں گے جو دنیا میں منافق ریا کار تھے لیکن ان کی کمر تختہ ہوجائے گی اس لئے وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ اس تفسیر پر بعض متاخرین مفسروں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا صاحب جسم ہونا لازم آتا ہے لیکن سلف نے پہلے ہی اپنے کلام میں اس اعتراض کو یوں رفع کیا ہے کہ جب آیت لیس کمثلہ شیء سے ہم پنڈلی کو مشابہ کسی پنڈلی کا نہیں کہہ سکتے تو جسمیت کیونکر لازم آئے گی حاصل کلام یہ ہے کہ صفات الٰہی کی آیتیں اور حدیثیں متشابہات معنوی کہلاتی ہیں سلف کا مذہب اس باب میں یہی ہے کہ انکے ظاہر لفظوں پر ایمان لانا چاہئے اور ان کے معنی کی تفصیل اللہ تعالیٰ کے علم پر سوپنا چاہئے چناچہ زیادہ تفصیل اس کی سورة آل عمران پر گزر چکی ہے پھر آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لئے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اے رسول اللہ کے ان کی حالت پر تم کو زیادہ تشویش کی ضرورت نہیں چند دن اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اس میں اگر وہ راہ راست پر نہ آئے تو پھر الہ کی تدبیر بہت زبردست اور مستحکم ہے اس کے آگے ان کی شرارت کچھ چل نہیں سکتی۔ استدراج کے معنی تبدیل حالت کے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور در گزر کا نام کید و استدراج اس لئے رکھا کہ اس کا انجام ایک داؤ کی مانند ہے اور یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی آیتیں سنانے پر اے رسول ﷺ اللہ کے تم ان لوگوں سے اجرت تو مانگتے نہیں پھر قرآن کی نصیحت سننے سے یہ لوگ ایسا کیوں بدکتے ہیں جیسا کوئی کسی تاوان سے بدکتا ہے پھر فرمایا کہ بھلا مسلمانوں کو تو اللہ کے رسول کے ذریعہ سے اور اللہ کے رسول کو وحی آسمان کے ذریعے سے کچھ غیب کی خبریں معلوم ہوجاتی ہیں۔ یہ لوگ جو بےدیکھی خبروں میں اپنی عقل لڑاتے ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس ان خبروں کے معلوم ہوجانے کا کیا ذریعہ ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 ج 2 و صحیح و مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم ص 102 ج 1۔ )
Ayahs 68:48–5248۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت مقرہ گزر جانے پر عذاب کے نازل ہونے کی خبر جو یونس (علیہ السلام) کو کچھ نہ لگی تو بلا انتظار اللہ کے حکم کے یہ وہاں سے چل دیئے یہی انہوں نے گویا خود مختاری اور جلدی کی۔ اب آگے باقی کا قصہ ہے کہ یہ وہاں سے ایک دریا پر جا کر کشتی میں بیٹھے وہ کشتی وہیں تھم گئی۔ کشتی والوں نے قرعہ ڈالا کہ کس کے روکنے کے لئے یہ کشتی اڑی ہے قرعہ میں ان کا نام نکلا۔ انہوں نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا اور انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں یہ دعامانگی لا الہ الا انت سبحنک ان کنت من الظلمین اور اللہ کے حکم سے اس مچھلی نے ایک چٹیل میدان میں ان کو اگل دیا اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک کدو کی بیل پیدا کی اور اس میں ان کو رکھا تاکہ مچھلی کے پیٹ کی گرمی سے ان کے جسم کی کھال اڑ کر جگہ جگہ جو زخم پر گئے تھے سخت زمین پر لیٹنے سے وہ زخم اور زیادہ نہ چھل جائیں۔ اسی کو فرمایا کہ اس چٹیل میدان میں اللہ ان کو نہ سنبھالتا تو وہاں زخموں کا جلدی اچھا ہونا ممکن نہ تھا اور پھر جب یہ تندرست ہوگئے تو اسی قوم کی ہدایت کے لئے ان کو بھیجا۔ بعض مفسروں نے فاجتباہ ربہ فجعلہ من الصالحین کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یونس (علیہ السلام) کا سارا قصہ ان کی نبوت سے پہلے کا تھا پھر قصہ کے بعد اس آیت کے مضمون کے موافق اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر کیا۔ لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے ہی سے پیغمبر تھے۔ اجتبا کے یہ معنی ہیں کہ قصے کہ دنوں میں وحی جو منقطع ہوگئی تھی وہ پھر جاری ہوگئی یہ تفسیر والصافات کی آیت وان یونس لمن المرسلین اذا بق الی الفلک المشحون کے موافق ہے کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یونس (علیہ السلام) جب کشتی میں بیٹھ گئے تو اس وقت وہ پیغمبر تھے جب آنحضرت ﷺ مکہ کے لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے اور بت پرستی کی مذمت کرتے تو یہ لوگ غصہ ہو کر آپ ﷺ کو دیوانہ کہتے اور آپ کی طرف قہر کی نگاہ سے دیکھتے کہ گویا نگاہ کے تیرکلیجہ کے پار کرکے آپ ﷺ کا کام تمام کردیں یا بس چلے تو حملہ کر بیٹھیں اور قرآن کی آیتوں کا پڑھنا بند کردیں چناچہ سورة حج میں ہے یکادون یسطون باذین یتلون علیھم ایتنا بعض مفسروں نے یہ لکھا ہے کہ بعض قبیلے ایسے تھے کہ جن کی نظر بہت جلد لگ جاتی تھی اس لئے وہ آنحضرت ﷺ کو بری نگاہ سے دیکھتے تھے کہ آپ ﷺ کو نظر لگ جائے اگرچہ نظر کا حق ہونا صحیح حدیثوں سے ثابت 1 ؎ ہوتا ہے لیکن یہاں اس تفسیر کا موقع نہیں ہے کیونکہ کسی چیز کو ٹوکنے کے طور پر اچھا کہہ کر آدمی دیکھے تو نظر لگا کرتی ہے غصہ کی نگاہ سے نظر نہیں لگتی اس لئے آیت کی تفسیر جو آیت سے کی گئی ہے وہی اولے ہے پھر فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں تو وہ نصیحتیں ہیں کہ جن کے اثر سے ایک وہ نہیں بلکہ ایک عالم راہ راست پر آنے والا ہے ایسی نصیحت کے سنانے والے کو جو دیوانہ بتاتا ہے وہ خود دیوانہ ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 409 ج 4۔ )