69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 69:1–12

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ وہ سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا .

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن ان پر چلائے رکھا تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈہے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

بھلا تو ان میں سی کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی انکو بڑا سخت پکڑا

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں

1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلے سرکش لوگوں کا ہوچکا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان قصوں کے انجام کے اثر کو سوچا کہ نافائدہ کی بات ہے اسی واسطے حضرت نوح کے قصہ میں فرمایا کہ یہ قصہ ایسے لوگوں کے حق میں نصیحت نہیں جو لوگ نصحیت کی بات کو اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں بلکہ یہ قصہ ایسے لوگوں کے حق میں نصیحت ہے جو نصیحت کی بات کو سن کر اس نصیحت کو یاد رکھتے ہیں اور اس نصیحت کے موافق عمل کرتے ہیں۔ ترمذی 1 ؎‘ ابن ماجہ ‘ مسند امام احمد میں حضرت ابودرداء سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے قیامت کے قریب کچھ بےدینی کی باتیں جوں ہوں گی ان کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ایسی باتیں دنیا میں اس وقت ہوں گی جب علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اس پر زیاد بن لبید انصاری نے کہا ہم نے قرآن پڑھا اور اپنی اولاد کو پڑھایا اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا پھر علم دین اور کلام الٰہی کی نصیحت کا اثر دنیا سے کیونکر اٹھ جائے گا آپ نے اس کا جواب دیا کہ زیاد کیا تم نے یہود اور نصاریٰ کو توراۃ اور انجیل پڑھتے نہیں دیکھا مگر جو نصحت توراۃ اور انجیل میں ہے اس کے موافق وہ لوگ عمل نہیں کرتے۔ یہی حال آخری زمانہ میں امت محمدیہ کا ہوگا جس قدر پڑھیں گے اس قدر عمل نہ کریں گے۔ ابو داؤود 1 ؎‘ ابن ماجہ ‘ مسند امام احمد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم دین کو دنیا کی عزت کے لئے حاصل کرے گا اس کا جنت میں داخل ہونا تو درکنار قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک ایسے شخص کی ناک میں نہ آئے گی۔ حاکم 2 ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے غرض ان آیتوں اور حدیثوں اور اسی قسم کی اور بہت سی حدیثوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کی نصیحت ان ہی لوگوں کے کام آئے گی جن کے دل پر اس نصیحت کا اثر ہوتا ہے جس اثر کے سبب سے وہ لوگ اس نصیحت کے موافق خالص دل سے ثواب آخرت کی نیت سے عمل کرتے ہیں اس زمانہ کے قریش کی طرح جو لوگ بالکل نصیحت قرآن و حدیث کے منکر ہیں یا جو لوگ اسلام منکر تو نہیں لیکن ان کا عمل خالص نیت سے نہیں ہے۔ دنیا کی کسی غرض کا اس عمل میں میل جول ہے یا بعض لوگ کسی خواہش نفسانی کے بعض وقت پابند ہو کر نصیحت خدا اور رسول پر عمل نہیں کرتے۔ یہ سب عادتیں اپنے اپنے درجہ کے موافق مواخذہ آخرت کی عادتیں ہیں اسی مطلب کے سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کے بعد ایسا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ بالکل منکروں کا انجام تو وہ ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے لوگوں کا بیان ہوا ہے اس کے بعد ایک انجام حشر کا ہے جس میں ذرہ ذرہ کا حساب ہونے والا ہے اور ہر طرح کی خلاف شریعت عادت کی سزا اس دن ہوگی۔ طافیہ کے معنی چنگھاڑ ‘ عاتیہ کے معنی حد سے زیادہ ‘ حسوما کے معنی پے درپے ‘ صرعیٰ کے معنی لاشیں ‘ اعجاز کے معنی درختوں کی جڑیں ‘ خاویہ کے معنی کھوکھلی ‘ موتفکات کے معنی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں ‘ رابیہ کے معنی سخت ‘ طغی الماء کے معنی قوم عاد کی ہوا کی طرح حد سے گزرا ہوا پانی ‘ معتبر مفسروں 3 ؎ نے لکھا ہے کہ دنیا کے اونچے اونچے پہاڑوں سے وہ پانی پندرہ گزر اونچا تھا۔ حملنا کم فی الجاریہ کے یہ معنی ہیں کہ تمہارے بڑوں کو کشتی میں بٹھا کر طوفان سے بچایا۔ اس وقت تم ان اپنے بڑوں کو پشت میں نطفہ کی حالت میں موجود تھے اور یہ اس لئے کیا گیا کہ پشت در پشت پچھلوں سے اگلے یہ طوفان کا قصہ اور قوموں کے اس طرح کے قصے سن کر عبرت پکڑیں ‘ یہ سب قصے کئی جگہ گزر چکے ہیں اس لئے پھر پہاں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں خیال کی گئی۔ (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی ذھاب العلم ص 105 ج 2۔ ) (1 ؎ ابو داؤود کتاب العلم۔ باب فی طلب العلم لغیر اللہ ج 2۔ ) (2 ؎ الترغبو والترہیب الترھیب من تعلم العلم لغیر وجہ اللہ ص 128 ج 1۔ ) (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 260 )
Ayahs 69:13–18

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے پھر ایک بارگی توڑپھوڑ کر برابر کردئیے جائیں گے

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آینگے اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہونگے

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی

13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا عرش چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن چار اور بڑھا کر آٹھ فرشتے عرش اٹھائیں گے۔ ان فرشتوں کی صورت جنگلی بکرے جیسی ہے ‘ عرش ان کے کندھوں پر ہے اور ان کے پاؤں ساتویں زمین پر ہیں۔ دوسرے صور پر جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب بھولے ہوئے ہوں گے اس لئے اعمال کے یاد دلانے کی غرض سے پہلے ان کو ان کے اعمال نامے اس طرح دیئے جائیں گے کہ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بدوں کے پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں اور پھر حساب و کتاب کے لئے ان سب کو خدا تعالیٰ کے رو برو پیش کیا جائے گا۔ اسی پیشی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس دن امی اور پڑھے ہوئے سب اپنا اعمال نامہ پڑھ سکیں گے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کے جن گناہوں کو دنیا میں لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا تاکہ لوگوں میں اس بندہ کی رسوائی نہ ہو اس کی ذات پاک سے امید ہے کہ وہ اپنے ایسے بندوں کو حساب کے وقت بھی رسوا نہ کرے گا۔ آیت و ما کان اللہ معذبھم وھو یستغفرون سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت استغفار اس طرح کی رحمت الٰہی کا بڑا سبب ہے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی النفخ فی الصور ص 726 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب فی سعۃ رحمۃ اللہ للمومنین ص 360 ج 2۔ )
Ayahs 69:19–24

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس کا (اعمال) نامہ اسکے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں) سے کہے گا کہ لیجئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیے

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

(یعنی) اونچے (اونچے محلوں کے) باغ میں

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے نامہ اعمال دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان سے اقرار فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہ میں نے دنیا میں مخلوق پر ظاہر نہیں کئے اور تم کو رسوا نہیں کیا اسی طرح آج بھی میں تمہیں رسوا نہ کروں گا۔ غرض سب سیدھے ہاتھ والے اپنے نامہ اعمال خوش ہو کر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والا یا جان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا۔ خوشی کیمارے اس سے بھی کہیں گے لو ہمارا نامہ اعمال پڑھ کر دیکھو اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو یقین تھا کہ ایک دن ہمارا اعمال نامہ ہمارے ہاتھ میں آئے گا اور نیک و بد کا حساب ہوگا۔ قرآن شریف میں یقین کی جگہ ظن کا لفظ عقبیٰ کی باتوں میں اس لئے بولا گیا ہے کہ پورا یقین ان باتوں کا مرنے کے بعد ہوگا۔ دانیہ کا یہ مطلب ہے کہ جنت کے میوے لیٹے بیٹھے سب طرح جنتی توڑ سکیں گے۔ ھنیئا کا یہ مطلب ہے کہ جو کھایا سب ہضم۔ ترجمہ میں ” کھاؤ اور پیو رچ سے “ کا بھی یہی مطلب ہے۔ خالیہ کا مطلب دنیا کا زمانہ۔ صحیح 2 ؎ مسلم کی ابوذر ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ایک شخص کے نامہ اعمال کا ذکر کے آنحضرت ﷺ بہت ہی ہنسا کرتے تھے۔ حاصل اس حدیث کا یہی ہے کہ ایک شخص پہلے اس کے صغیرہ گناہوں کا اقرار کرلے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنی رحمت سے تیرے ان گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔ یہ سن کر وہ شخص کہے گا یا اللہ میں نے تو دنیا میں بڑے بڑے اور کبیرہ گناہ بھی کئے تھے وہ میرے گناہ کہاں ہیں اس شخص کی اس بات پر آنحضرت ﷺ کو بہت ہنسی آیا کرتی تھی حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں خالص دل سے کوئی عمل بھی اگر ایسا ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ عمل پسند آگیا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنی رحمت سے ہر طرح اپنے بندوں کی نجات کی صورت نکال دے گا۔ چناچہ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ کی حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ایک شخص کا فقط کلمہ کے ثواب کا نامہ اعمال اس قدر بھاری ہوجائے گا کہ جس کے بوجھ کے آگے ایک کم سو بدی کے نامہ اعمال بالکل ہلکے ہوجائیں گے۔ باقی حال مقرب لوگوں کا اور سیدھے ہاتھ والوں کا سورة واقعہ میں گزر چکا ہے۔ (1 ؎ ابو داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی ذکر المیزان ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ واجراج الموحدین من النار ص 106 ج 1۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ ص 103 ج 2۔ )
Ayahs 69:25–37

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اسکے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش موت (ابدالاآباد کیلئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

(آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

(ہاے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو .

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے دوزخ کی آگ میں جھونک دو

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر زنجیر سے جس کی ناب ستر گز ہے جکڑ دو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوست دار نہیں .

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ پیپ کے سوا (اسکے لئے) کھانا ہے

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائیگا

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں ورنہ آدمیوں کے ہاتھوں کے ناپ کے موافق گزوں کا حساب لیاجائے تو وہ زنجیریں بہت بڑی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کی تائید ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ترمذی 3 ؎ وغیرہ میں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ان زنجیروں کے اس سرے سے اس سرے تک چالیس برس کا راستہ کا فاصلہ ہے۔ حمیم کے معنی رشتہ دار۔ غسلین کے معنی دوزخیوں کے زخموں کی دھو ون کے صیح ہیں کیونکہ علی بن طلحہ 4 ؎ کی روایت سے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی قول ثابت ہوا ہے اس کے سوا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور جو روایتیں ہیں جن کو بعض مفسروں نے اپنی تفسیروں میں بیان کیا ہے وہ روایتیں اس درجہ کی نہیں ہیں۔ چناچہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جس قدر سلسلے روایت کے ہیں ان میں علی بن طلحہ کا سلسلہ اعلیٰ درجہ کا ہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 416 ج 4۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی طعام اھل النار ص 96 ج 2۔ ) (4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 416 ج 4۔ )