Ayah 59:11۔ (ایسا حکمت والا کہ ہر مخلوق سے اطاعت وطاعت کا وہی کام لیتا ہے جس کی وہ اہل ہے۔ (آیت) ” سبح “۔ تسبیح سے یہاں اختیاری تقییدی تسبیح مراد نہیں جا کا مکلف انسان وجنات کو کیا گیا ہے بلکہ تکوینی تسخیری تسبیح مراد ہے، جس پر ساری مخلوق یکساں مضطر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر ہر مخلوق بلااستثناء تسبیح حق اپنے اپنے مرتبہ وجود کے مطابق کیا کرتی ہے۔ ما۔ ما بےجان کے لئے آتا ہے۔ اس لئے ترجمہ بجائے ” جو کوئی “ کے ” جو کچھ “ سے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ اسم لاکر یاد دلادیا کہ بڑی سے بھی بڑی مخلوق کونسی ایسی ہے جو اس کے حلقہ، طاعت و اطاعت سے باہر رہ سکے ؟
Ayah 59:22۔ مراد یہود مدینہ کا قبیلہ بنی نضیر ہے۔ یہود کا یہ قبیلہ مدینہ سے دو (2) میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو منجملہ اور یہود کے ان سے بھی معاہدہ صلح کا ہوگیا تھا۔ ربیع الاول 4 ھ میں آپ ﷺ ایک بار ان کے ہاں گئے، تاکہ خوں بہا کے چندہ میں انہیں بھی شریک کرلیں۔ انہوں نے ایک جگہ آپ کو بٹھا کر سازش یہ کی کہ اوپر سے ایک پتھر آپ پر گرا کر آپ کو ہلاک کردیں، اور مرگ اتفاقیہ کی شہرت دے دیں، خدائے حافظ وناصر نے آپ ﷺ کو وحی سے مطلع کردیا، اور آپ ﷺ سازشوں کے قریب بچ کر نکل آئے، یہ بنو نضیر والے چند ماہ قبل غزوۂ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں کے ساتھ غداری کرچکے تھے۔ اب اس تازہ واقعہ کے بعد یہ جرم اور زیادہ سنگین ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کے پاس کہلا بھیجا کہ تمہاری اس شدید غداری کی سزا جلاوطنی سے جان بچانا منظور ہو تو دس دن کی مہلت ہے، اس مدت کے اندر اپنا ضروری سامان (بجز اسلحہ کے) لے کر منتقل ہوجاؤ، ورنہ نکالے جاؤ گے۔ یہود کو اپنی مستحکم قلعہ بندی پر ناز تھا۔ شہ اس سے اور مل گئی کہ منافقین مدینہ کے لیڈروں نے زبردست کمک کا بھی وعدہ کرلیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جواب انکار میں کہلا بھیجا۔ آپ ﷺ نے لشکر کشی کی۔ منافقین مدینہ کی امداد کا وعدہ تو جھوٹا نکلا۔ یہود قلعہ بند ہوگئے۔ آپ ﷺ نے محاصرہ کرلیا، اور ان کی باغوں پر جو ان کی اصل جائداد تھے، تصرف کرنا شروع فرمایا دیا۔ یہود گھبرا کر نکلے، اور کچھ شام کی اور کچھ خیبر کی طرف منتقل ہوگئے۔ (آیت) ” الاول الحشر “۔ پہلی ہی بار یعنی اس کے قبل یہ مصیبت انہیں پیش نہیں آئی تھی۔ لفظ میں ایک لطیف اشارہ یہ ہے کہ جلاء وطنی دوبارہ بھی انہیں جھیلنی پڑے گی، چناچہ حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں سارے جریرۂ عرب کو یہود سے خالی کرالیا۔ واما اخر حشرھم فھو اجلاء عمر ایاھم من خیبر الی الشام (کبیر) کافروں کی جلاوطنی کی سزا بعض فقہاء نے اب منسوخ قرار دی ہے۔ لیکن محققین کا فیصلہ راجح حکم کے نفاذ کے حق میں ہے۔ (آیت) ” لاول الحشر “۔ ل وقت کے بیان کے لئے ہے۔ اے عند اول الحشر (کبیر) فی اول الحشر (ابو سعود)
3۔ انہیں اپنی قلعہ بندیوں کے استحکام پر اعتماد ہی ایسا تھا۔ (ماظننتم ان یخرجوا “۔ یعنی ان کا سازوسامان وشان و شوکت دیکھ کر، اے مسلمانو ! تمہارا بھی یہ خیال نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے، (آیت) ” مانعتھم حصونھم “۔ ھم کی دونوں ضمیر یہود بنونضیر کی جانب ہونا تو ظاہر ہی ہیں۔ لیکن یہ بھی جائز ہے کہ مطلق یہود کی جانب ہوں۔ (آیت) ” من اللہ “۔ یہاں سے رسول اللہ ﷺ کے کمال وشرف پر استدلال کیا گیا، اس معنی میں کہ یہود سے معاملہ تو رسول اللہ ﷺ کا ہورہا تھا۔ لیکن قرآن مجید نے اسے منسوب خود حق تعالیٰ کی جانب کردیا۔ فی الایۃ تشریف عظیم لرسول اللہ فانھا تدل عنی ان معاملتھم مع رسول اللہھی یعینھا نفس المعاملۃ مع اللہ (کبیر)
4۔ مسلمان تو خیر اس بدعہد قوم کو نقض عہد کی پاداش میں خانہ ویران کر ہی رہے تھے۔ مگر یہ بدنصیب خود بھی اپنے مکانوں کو لکڑی، تختے وغیرہ کھود کر انہیں ویران کئے جاتے تھے۔ (آیت) ” فاتھم ... یحتسبوا “۔ مسلمانوں کی ظاہری بےسروسامانی اور کمزوری دیکھ کر یہود کو اس کا وہم بھی نہیں گزرتا تھا کہ سزائے غیبی ہمیں ان کے ہاتھوں ملے گی۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اہل حرب کے مال وجائداد کو (کہ باغ بھی انہیں میں شامل ہیں) جلانا، کاٹنا، تباہ کرنا حسب مصلحت بالکل جائز ہے۔ (آیت) ” قذف فی قلوبھم الرعب “۔ اللہ۔ اللہ ایک زمانہ وہ تھا کہ بڑے بڑے پر قوت ومہذب اعدائے اسلام اسلام کی اقبالمندیوں سے مرعوب تھے۔ ایک آج کا زمانہ ہے، الٹے مسلمان ہی نصاری، یہود، ہندو سب ہی سے مرعوب ہیں۔ (آیت) ” یخربون بیوتھم بایدیھم “۔ جنگ یورپ کے زمانہ سے ہندوستان کا بھی اخبار بیں طبقہ بھاگنے والی فوج کی (Scorched EArth Policy) کی اصطلاح سے خوف واقف ہوگیا ہے۔ قرآن مجید یہود کی اسی پالیسی کی جانب اشارہ کررہا ہے۔
5۔ ان مخالفین اسلام کی حالت سن کر، اور یہ سوچ کر کہ حق کی دشمنی کا برا انجام اس دنیا ہی میں نکل آتا ہے، فقہاء مفسرین نے آیت سے استنباط و قیاس فقہی کا وجوب نکالا ہے۔ اشارۃ النص سے۔ فیہ امر بالاعتبار والقیاس فی احکام الحوادث ضرب من الاعتبار فوجب استعمالہ بظاھر الایۃ (جصاص) واستدل بہ علی ان القیاس حجۃ من حیث انہ امر بالمجازوۃ من حال الی حال وحملھا علیھا فی حکم لما بینھا من المشارکۃ المقتضیۃ لہ (بیضاوی) وقال الخفاجی فی وجہ الاستدلال قالوا انا امرنا فی ھذہ الایۃ بالاعتبار وھو رد الشیء الی نظیرہ بان بحکمہ علیہ بحکمہ وھذا یشمل الاتعاظ والقیاس العقلی والشرعی وسوق الایۃ اللاتغاظ فتدل علیہ عبارۃ وعلی القیاس اشارۃ (روح) واشتھر الاستدلال بالایۃ علی مشروعیۃ العمل بالقیاس الشرعی قالوا انہ تعالیٰ امر فیھابالاعتبار وھو العبور والانتقال من الشیء الی غیرہ وذلک متحقق فی القیاس اذفیہ نقل الحکم من الاصل الی الفرع (روح) اعلم انا قد تمسکنا بھذہ الایۃ فی کتاب المحصول من اصول الفقہ علی ان القیاس حجۃ فلانذکر ھھنا (کبیر) فاللہ تعالیٰ امرنا بالاعتبار وھو النامل فی المثلات المذکورۃ والقیاس نظیرہ بعینہ لان الشرع شرع احکاما بمعان اشارالیھا کما انزل مثلات باسباب فقھیا وحینئذ یکون اثبات حجۃ القیاس عقل یا اے ثابتۃ بدلالۃ النص المشابہ للقیاس لاثابتا بعین القیاس والایلزم الدور (احمد)
Ayah 59:36۔ جلاوطنی سے بھی سخت ترسزا آخر یہود ہی کے ایک دوسرے قبیلہ کو مل کر رہی۔
Ayah 59:47۔ دنیا وآخرت دونوں میں ہر سزا دینے پر قادر۔ یہود کا یہ جرم دہرا تھا ایک تو سرے سے انکار وتکذیب رسالت، دوسرے غدروبدعہدی۔ سزا بھی اسی مناسبت سے دہری ملی، ایک تو جلاوطنی دوسرے عذاب دوزخ۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی سزا جو انہیں مل چکی، اور جو آیندہ بھی ملنے والی ہے۔ اے ماحاق بھم وما سیحیق (ابوسعود)
Ayah 59:58۔ یعنی شرعا دونوں ہی کی گنجائش تھی، دشمن کو تکلیف پہنچانے کے لئے درختوں کے کاٹ دینے کی بھی، اور اپنے آئندہ نفع کے خیال سے ان کے باقی رکھنے کی بھی۔ (آیت) ” من لینۃ “۔ لینۃ ہر کھجور کو کہتے ہیں۔ اور ایک قول ہے کہ عمدہ قسم کے کھجوروں کو، قال مجاھد وعمر وبن میمون کل نخلۃ لینۃ وقیل اللینۃ کرام النخل (جصاص) من نخلۃ ناعمۃ (راغب) وھی اجود النخل (کشاف) فقہاء نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ اختلاف مسلک جبکہ حدود شرعی کے اندر اور اخلاص کے ساتھ ہو، مضر نہیں، اور ایک کو دوسرے پر عیب لگانے کا حق نہیں۔
9۔ (اور مسلمانوں کو عزت دے) چناچہ ترک باغات میں بھی مسلمانوں کی کامیابی کا تیقن تھا اور قطع باغات میں بھی مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی آثار غلبہ کا ظہور تھا۔ اور کافروں کا غیظ اور مقہوری دونوں صورتوں میں مشترک، جائز دونوں ہی فعل ہیں، اور دونوں ہی حکمت ومصلحت پر بھی مبنی ہیں۔ اس لئے قبیح بھی کوئی نہیں۔ مسلمانوں نے قیاس فقہی اس وقت قائم کیا تھا۔ اس میں قیاس کے مبنی بھی دونوں قسم کے نصوص تھے جنہوں نے درخت کاٹے یا جلائے انہوں نے نصوص تخریب وانہدام آثار کفر سے کام لیا۔ جنہوں نے درخت باقی رہنے دیئے انہوں نے نصوص اصلاح وحفظ اموال کو سامنے رکھا۔ ہر دو فریق نے اپنے اپنے اجتہاد سے کام لیا تھا۔ اور حق تعالیٰ نے دونوں کے عمل کی جو صورۃ ایک دوسرے کے منافی اور متناقض تھے، تصویب فرمائی۔ صوب اللہ الذین قطعوا والذین ابوا وکانوا فعلوا ذلک من طریق الاجتھاد (جصاص) اور یہیں سے فقہاء نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا ہے کہ مجتہد بہرحال مستحق اجر ہوتا ہے۔ وھذا یدل علی ان کل مجتھد مصیبت (جصاص)
Ayah 59:610۔ یعنی اس کے لئے یہ تمہیں منزل در منزل سفر کی مشقتیں طے کرنا پڑیں، اور نہ قتل و قتال کی نوبت آئی۔ اس لئے تمہارا کوئی حق ہی اس مال کی تملیک وتقسیم پر قائم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ جنگ و قتال کے بعد مال غنیمت کے جیتنے پر ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” ومآافآء اللہ “۔ فئے اصطلاح فقہ میں وہ مال ہے جو اہل حرب سے بلاقتل حاصل ہوجائے۔ قال الازھری الفیء ما ردہ اللہ علی اھل دینہ من اموال من خالف اھل دینہ بلا قتال (کبیر) بنی نضیر سے یہ حاصل کیا ہوامال اسی قبیل سے تھا، اور فدک اور نصف خیبر بھی اسی کے تحت میں آتے ہیں۔ (آیت) ’ علی رسول اللہ ﷺ کی ملک تھیں۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد یہ محل میراث نہ تھیں، بلکہ وقف تھیں۔ اور یہ حکم خصوصیات ذات رسالت ﷺ میں سے تھا۔ ان کے مصارف کا حکم جو ابھی آرہا ہے : وہ اسی طرح کا ہے، جیسے اہل نصاب کے لئے زکوٰۃ و صدقہ کے مصارف ہیں۔ فقہاء نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ حربی کافروں کے قلعوں کو آلات کی مدد سے توڑنا پھوڑنا، ان کے مکانات کو گرانا، اجاڑنا، ان کے باغوں کو کاٹ ڈالنا، ویران کردینا، سب جائز ہے۔ احتج العلماء بھذہ الایۃ علی ان حصوں الکفرۃ ودیارھم لابأس ان تھدم وتحرق وتفرق وترمی بالمجانیق کذلک اشجارھم لاباس بقلعھا مثمرۃ کانت اوغیر مثمرۃ (کبیر)
11۔ (پس وہ جس طرح بھی چاہے دشمنان دین کو مغلوب ومقہور کرے، اور جس طرح بھی چاہے اپنے رسول کو مختارومتصرف بنادے) (آیت) ” لکن ..... یشآء “۔ چناچہ کبھی حسب مقتضائے حکمت ومصلحت وہ بلامشقت وتعب بھی انہیں غلبہ دے دیتا ہے۔ اس وقت بھی اس نے اسی طرح بےلڑے بھڑے اپنے رسول کو غلبہ دے دیا، اس لئے اس میں تمہارا کوئی حق نہیں، مالکانہ تصرف صرف رسول کی رائے پر ہے۔
Ayah 59:712۔ (اور یہ سب حصے بس اسی حیثیت سے قائم ہوں گے، جو یہاں بیان کردیئے گئے، یعنی یا بحیثیت شریک جہاد کے، اور پھر یہ سب بھی رسول ﷺ ہی کی حسب صوابدید) (آیت) ” ما .... القری “۔ جیسا کہ بعد کو فدک اور نصف خیبر بھی اللہ نے اسی طرح اپنے رسول کو دلوا دیا۔ (آیت) ” فللہ “۔ اللہ ہی جس طرح چاہے اس کے بارے میں حکم دے دے۔ تمہیں کوئی استحقاق تملک کا نہیں، تمہیں تو جہاد تک میں نہیں شریک ہونا پڑا۔
13۔ (جیسا کہ جاہلیت میں سب غنیمتیں مالدار اور ذی اختیار ہی لوگ کھا جاتے تھے، اور نادار سپاہی بدستور نادار ہی رہ جاتے تھے، جیسا کہ اس ” تہذیب و تمدن “ کے دور میں بھی ادنی واعلی سپاہیان لشکر ہر حصہ غنیمت سے محروم ہی رہتے ہیں) قرآن نے اس کی تقسیم رسول معصوم ﷺ کی رائے پر رکھی۔ اور پھر اس کی مدیں بھی بتلادیں، تاکہ آپ ﷺ باوجود مالک ہونے کے اس سرمایہ کو اہل حاجت اور مصلحت عامہ کے مواقع ہی میں صرف فرمائیں۔ (آیت) ” دولۃ بین الاغنیآء۔ دولۃ “۔ کے لفظی معنی دست بدست پھیرنے کے ہیں۔ فقہاء نے آیت سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ بیت المال سے مدد اسی حد تک لینا چاہئے کہ نوبت تمول، تونگری، ذخیرۂ مال وسرمایہ داری کی نہ آجائے۔ محققین نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت میں صراحت کے ساتھ ذکر اگرچہ صرف فے کا ہے، لیکن اس سے استنباط یہی ہوتا ہے۔ کہ اسلام بالعموم یہی سرمایہ داری (کپیٹلزم) یا سرمایہ کے اجتماع ومرکزیت کے حق میں نہیں۔
14۔ ماعام ہے۔ (آیت) ” مااتکم “۔ ہر امر کو اور (آیت) ” وما نھکم عنہ “۔ ہر نہی کو شامل ہے۔ اس لئے جمہور محققین کا مسلک ہے کہ گو نزول آیت عطا مال فے میں ہوا ہے۔ لیکن حکم اس کا عام ہے، اور حضرت رسالت کے جملہ اوامرواحکام واجب القبول ہیں۔ وھو عام فی کل ماامر بہ النبی ونھی عنہ (معالم) اے مھما امرکم بہ فافعلوا ومھما نھاکم عنہ فاجتنبوہ (ابن کثیر) فخذوہ اے متمسکوا بہ لانہ واجب الطاعۃ (بیضاوی)
15۔ (اور اس حقیقت کا استحضار ہر معیصت، ہر نافرمانی کی راہ میں مانع قوی ثابت ہوگا) اسلام کا خدا ” خدا “ ہے، حلم کے موقع پر حلیم، اور غضب وانتقام کے موقع پر غضبناک ومنتقم۔ مشرک قوموں کے بعض دیوتاؤں اور خداؤں کی طرح قوت قہری سے محروم ومعری اور سرکشوں ومعاندوں کے مقابلہ میں معذور اور بےدست وپا نہیں۔ (آیت) ’ واتقوا اللہ “۔ اس تقوی الہی کے بعد، خواہ معاملت ہو، خواہ معاشرت، ہر صیغہ کا ہر حکمی جزئیہ آسان اور خوشگوار ہوجاتا ہے۔
Ayah 59:816۔ (اپنے دعوی ایمان وحب خدا اور رسول میں) یہ صاف وصریح قرآنی مدح صحابہ ہے۔ اشارہ ہورہا ہے کہ یہ ہجرت کسی دنیوی غرض سے نہیں۔ محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے کررہے ہیں۔ ان کے ایمان میں کسی طرح کھوٹ نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت ونصرت ہی ان کی زندگی کا مشن ہے۔ (آیت) ” الذین .... اموالھم “۔ یعنی جبراوظلما اپنے گھروں سے نکالے، اور اپنی جائدادوں سے بےدخل کئے گئے، مشرکوں نے انہیں اتنا تنگ اور مجبور کیا کہ یہ گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے۔ لفظ فقرآء سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ کافر جب مال مسلم پر قابض ومسلط ہوجائیں، تو وہ اس قانونا مالک سمجھ لئے جائیں گے۔ چناچہ شرفاء مسل میں جو مکہ میں مالدار تھے، جب وہ مدینہ میں مہاجر کی حیثیت سے آئے تو مکی مال وجائداد کی ملکیت ان سے ساقط ہوگئی، اور قرآن مجید نے انہیں فقراء قرار دیا۔ وفیہ دلیل علی ان الکفار یملکون بالاستیلاء اموال المسلمین لان اللہ تعالیٰ سمی المھاجرین فقراء مع انہ کانت لھم دیار واموال (مدارک) اور اس مسئلہ کی فرع یہ ہے کہ جب اسی مال سے انہیں کافروں کے ہاتھ سے بطور بیع یا ہبہ یا اور کسی جائز طریقہ پر مسلمانوں کو کچھ ملے تو اس کا قبول کرنا جائز ہوگا۔ لیکن قانون تملیک صرف مال کی حد تک جائز ہوگی، نفوس مسلم پر اس کا اطلاق صحیح نہ ہوگا۔ مسلمان کی ذات یا جان پر کافر کا دعوی تملیک کسی صورت میں بھی جائز نہ ہوگا۔
Ayah 59:917۔ صحابیوں میں مہاجرین کے بعد اب یہ مناقب و فضائل حضرات انصار کے بیان ہورہے ہیں۔ قرآنی مدح کا دوسرا جزو۔ (آیت) ” الدار “۔ دارالاسلام یا مدینہ منورہ۔ (آیت) ” من قبلھم “۔ یعنی مہاجرین کے ورود مدینہ سے قبل۔ اے من قبل قدوم المھاجرین علیھم (معالم) دارالہجرت اصلا تو مدینہ منورہ ہی تھا۔ باقی ہر دوسرا مقام بھی دارا الہجرت ہوسکتا ہے، جہاں توحید پرستی کے لئے پناہ و فراغت مل سکے۔ (آیت) ’ ’ لا ..... اوتوا۔ حاجۃ “۔ کے اصل معنی طلب کے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ مہاجرین کو تقسیم غنیمت وغیرہ میں سے جو کچھ ملتا رہتا ہے، یا اور انہیں جو شرف و مرتبہ حاصل ہوچکا ہے، اس کی طرف یہ انصار کبھی اپنا خیال بھی نہیں لے جاتے۔ قال الحسن یعنی انھم لا یحسدون المھاجرین علی فضل اتھم اللہ (جصاص) یعنی الحسد (ابن کثیر) ولا یجدون فی انفسھم حسدا للمھاجرین فیما فضلھم اللہ بہ من المنزلۃ والشرف والتقدیم فی الذکر والرتبۃ (ابن کثیر) (آیت) ” یحبون من ھاجر الیھم “۔ مہاجرین سے محبت رکھنے کی فضیلت پر یہ صاف نص قرآنی ہے۔ اور یہ خبر متواتر سے معلوم ہے کہ خلفائے راشدین چاروں کے چاروں مہاجر تھے۔ تو ان خلفاء اربہ سے محبت رکھنا علامت کمال ایمان ٹھہری۔ اور اس کے برعکس ان حضرات سے بیزاری، علامت نقص ایمان ! (آیت) ” ویؤثرون ..... خصاصۃ “۔ یہ فضیلت کا اعلی درجہ اور انتہائی مرتبہ ہے جو حضرات انصار کے لئے ارشاد ہورہا ہے۔ یہ حضرات مہاجرین کے حصہ پر رشک تو کیا کرتے، خود اپنے پاس سے انہیں کھلاتے پلاتے رہتے ہیں، چاہے خود اپنے فاقہ ہی کی نوبت کیوں نہ آجائے۔ الخصاصۃ الحاجۃ مدح اللہ علیہم بایثارھم المھاجرین علی انفسھم فی ماینفقونہ، علیہم ان کانوا ھم حتاجین الیہ (جصاص) (آیت) ” خصاصۃ “۔ شدت فقر و احتیاج کو کہتے ہیں۔ عبر عن الفقر الذی لم یسد بالخصاصۃ (راغب) اے فاقۃ وحاجۃ الی ما یؤثرون (معالم)
18۔ (جیسے کہ یہ حضرات انصار ہیں کہ حرص اور اس کے متقتضاپر عمل کرنے سے حق تعالیٰ نے انہیں محفوظ کردیا ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کہ جو حرص وطمع جبلی و طبعی ہے وہ محل ملامت نہیں، ملامت اس کے مقتضائے نامشروع کے عمل پر ہے۔ الشح ان تاخذ مال اخیک بغیر حق (جصاص) الشح بخل مع حرص (راغب) وقیل الشح ھو الحرص الشدید الذی یحملہ علی ارتکاب المحارم (معالم)
Ayah 59:1019۔ (اس لئے ہماری یہ دعا دنیا وآخرت دونوں میں ضرور قبول کرے گا) یہ قرآنی مدح صحابہ کا تیسرا جزو ہے، اور مہاجرین وانصار دونوں کے حق میں جامع۔ یہ لوگ وہ تھے کہ اپنے سے اگلوں کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے، اور اپنے سامنے والوں اور اپنے پچھلوں کے ساتھ محبت و شفقت، اور دعائے خیر اب کے لئے عام رکھتے تھے۔ (آیت) ” والذین جآء و من بعدھم “۔ یعنی ان مہاجرین وانصار کے بعد، دنیا میں آئیں گے، یا اسلام میں داخل ہوں گے، یا ہجرت میں شریک ہوں گے۔ تقسیم فے کا یہ سلسلہ قیامت تک برابر امت میں جاری رہے گا۔ اور یہ قول خلیفہ حضرت عمر ؓ کے علاوہ صحابیوں، تابعین اور فقہاء کی ایک بڑی جماعت کا ہے :۔ قال عمر ؓ دخل فی ھذا الفیء کل من ھو مولود الی یوم القیامۃ فی الاسلام (مدارک) ھم التابعون بعد قرن الصحابۃ الی یوم القیامۃ وھو اختیار جماعۃ منھم مالک بن انس (ابن العربی) فھی فی جمیع التابعین والاتین بعدھم الی یوم الدین والاوجہ لتخصیصھا (ابن العربی) وھم ال مومن ون بعد الفریقین الی یوم القیامۃ ولذلک قیل ان الایۃ قد استوعیت جمیع ال مومنین (بیضاوی) وقیل ھم ال مومن ون بعد الفرقین الی یوم القیامۃ و کلام کثیر من السلف کلصریح فیہ فالایۃ قد استوعبت ال مومنین (روح) مصارف فئے تو قرآن مجید نے خود ہی متعین کرددیئے تھے، (ملاحظہ ہو آیت نمبر 7) البتہ ان کی تقسیم رسول اللہ ﷺ کی رائے پر مالکانہ حیثیت سے موقوف رکھی تھی، وفات شریف کے بعد یہ تفویض رائے کا پہلوتو ختم ہوگیا۔ البتہ آیندہ اہتمام وانتظام خلفاء اور جانشینوں کے لئے مالکانہ حیثیت سے نہیں، صرف حاکمانہ حیثیت سے باقی رہ گئی۔ (آیت) ” ربنا ..... بالایمان “۔ دعائے خیر متقدمین اور سابقین کے حق میں ہے۔ (آیت) ” ولا ..... امنوا “۔ اس دعائے خیر کا زیادہ تعلق معاصرین سے ہے۔ (آیت) ” ربنا ..... بالایمان “۔ اپنے سے پہلے کے ایمان والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرنا علامات ایمان سے ہے۔ اور حضرات صوفیہ کے ہاں تو سلف کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا معمولات میں داخل ہے۔ محققین ومتکلمین نے لکھا ہے کہ جب دوسرے مومنین کے لئے دعاء استغفار اور ان کی طرف سے حسد وبغض سے براءت عامہ مومنین کی شان ہے تو صحابہ رسول، جو امت کے خواص ہی میں نہیں، اخص الخواص تھے، اور ان کے لئے یہ کیسے قابل تسلیم ہوسکتا ہے کہ وہ عارضی اختلافات اور تنازعات کی بناء پر ایک دوسرے کے بد خواہ، اور ایک دوسرے کے حق میں لعان ہوگئے ہوں گے۔ (آیت) ” لاخواننا “۔ یہ اخوت محض عقائد ایمان کی ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ قومی، نسلی، لسانی، وطنی، لونی غرض، بجز وحدت اعتقادی کے اور حیثیت سے مومنین کے گروہ ایک دوسرے سے مختلف ہی ہوتے ہیں۔
Ayah 59:1120۔ ( ہرگز اپنے وعدوں پر عمل نہ کریں گے) ذکر منافقین مدینہ کا ہو رہا ہے، جو ایک بہت بڑی تعداد میں تھے۔ (آیت) ” الی الذین نافقوا “۔ مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے جتھے کے دوسرے منافقین مدینہ ہیں۔ (آیت) ” لاخوانھم ..... الکتب “۔ مراد یہود ہیں، خصوصا قبیلہ بنی نضیر کے یہود، یہ اخوت عقائد کفریہ کی تھی، ورنہ ظاہر ہے کہ منافقین مدینہ (جو مشرکین عرب میں سے تھے) اور یہود (جو بنی اسرائیل تھے) نسلا متحد نہ تھے۔ (آیت) ” لئن ...... لننصرنکم “۔ یعنی جلاوطنی ہو تو، اور و قتال ہو تو ہم ہر حال اور ہر صورت میں تمہارے رفیق یاور وناصر ہیں۔ یہ زبردست پیشگوئی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی، بجائے خود ایک دلیل صداقت رسول کی تھی۔
Ayah 59:1221۔ یعنی جو ناصر بن کر، اور نصرت کے دعویدار بن کر آئے تھے، وہ تو نکل ہی گئے، اور دوسرا کوئی ناصر ہوگا تو یہ لامحالہ مغلوب ومقہور ہوں گے۔ پوری آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ منافقین مدینہ جو یہود بنی نضیر کی حمایت ورفاقت کا وعدہ کررہے ہیں، اول تو وقت پڑے پر ان کا ساتھ دیں گے نہیں، نہ جلاوطنی میں نہ جنگ میں، اور بالفرض ساتھ دیا بھی تو ان کی امداد بالکل بےنتیجہ وغیر مؤثر رہے گی، یہ خود ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ (آیت) ولئن نصروھم “۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان عام ہے۔ بارہا اس نے مستبعدات محالات کو بھی فرض کرکے اس پر آگے گفتگو کی ہے۔ (آیت) ” ولئن اتبعت اھوآء ھم الخ۔ قال ان کان الرحمن ولد “۔ الخ اسی کی نظیریں ہیں۔
Ayah 59:1322۔ (اللہ کی عظمت کے باب میں) یعنی اگر یہ سمجھ سے کام لے کر خدا کی عظمت کے دل سے قائل ہوگئے ہوتے تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ تم سے ڈرتے اور خدا سے نہ ڈرتے ! (آیت) ” لاانتم “۔ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ (آیت) ” کا مطلب یہ ہوا کہ یہ منافقین حق تعالیٰ سے تو ڈرتے نہیں، ورنہ کفر چھوڑ کر ایمان ہی نہ لے آتے ، ؟ اور ایمان کے جھوٹے دعوے سے باز ہی نہ آجاتے ؟ البتہ مسلمانوں کا رعب واقعی ان کے دلوں پر چھایا ہوا ہے، اور اس لئے یہ بنی نضیر سے جاملنے کی ہمت نہیں رکھتے، خشیت الہی کی کمی کا حاصل اس مقام پر ایمان باللہ میں کمی ہے۔ ورنہ اگر محض طبعی قوت، مثلا کسی خطرناک جانور کا یا دشمن ہیبت ناک کا خوف خدا سے زیادہ ہے تو یہ داخل معصیت نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس موقع پر مومنین کو جو ملامت نہیں کی گئی، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ کوئی معاملہ خلاف شریعت کیا جائے، مثلا سجدہ تعظیمی، اور وہ اس سے اپنی ناخوشی کا اظہار کردے، تو پھر دوسرا مانے یا نہ مانے، تو وہ معذور ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی ان کافروں کے دلوں میں بمقابلہ حق تعالیٰ کے مسلمانوں کی ہیبت و دہشت کا زیادہ ہونا۔ اے ماذکر من کو نکم اشد رھبۃ فی صدور ھم من اللہ تعالیٰ (روح)
Ayah 59:1423۔ (سوائے مسلمانو ! تم ان سے کچھ اندیشہ، ہراس نہ کرو) (آیت) ” قری محصنۃ “۔ عام ہے، حفاظت خواہ خندق سے یا حلقہ بندی سے ہو، یا اور کسی طریق پر۔ (آیت) ” جمیعا “۔ یعنی منافقین مدینہ اور یہود کے مختلف قبائل سب مل کر اور اکٹھے ہو کر بھی، مجتمعین یعنی الیھود والنصاری (مدارک) مطلب یہ ہوا کہ ان مخالفین میں لڑنے کی ہمت اور حوصلہ ہی کہاں، اول تو لڑینگے نہیں، اور اگر لڑے بھی تو میدان میں سامنے آکر نہیں بلکہ اس طرح بچ بچ کر اور ڈرتے ہوئے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ منافقین کو تو کبھی لڑنے ہی کی ہمت سرے سے نہ ہوئی۔ ہاں یہود خیبر اور بنی قریظہ نے مقابلہ کیا تو وہ اسی طرح پر۔
24۔ (دین کے بارہ میں) اور اس لئے سب کے سب بس اپنے ہی اغراض کے تابع ہیں۔ (آیت) ” باسھم ...... ستی “۔ یعنی گواہل ایمان کے ساتھ عداوت میں یہ سب شریک ہیں، لیکن ان کا آپس کا افتراق بھی حددرجہ شدید ہے۔ اسی قسم کا افتراق شدید جس کا نمونہ آج بھی (یعنی 1945 ء میں) برطانیہ اور روس، روس اور امریکہ، فرانس اور اسپین اور ساری فرنگی حکومتوں کے درمیان نظر آرہا ہے۔ خود غرضیوں اور خود پرستیوں کا لازمی نتیجہ !۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ تفرق وتشتت باہمی۔ اے التفرق (مدارک) اے ما ذکر من تشتت قلوبھم (روح)
Ayah 59:1525۔ (آخرت میں، جو اس دنیوی سزا کے علاوہ ہوگا) یہ حال یہود بنی نضیر کا بیان ہورہا ہے، اور انہیں کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” کمثل “۔ یعنی یہود بنی نصیر کی مثال۔ تشبیہ محرومی دارین میں ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم قریبا “۔ یعنی یہود بنی قینقاع۔ یہ بھی مدینہ وحوالی مدینہ میں آباد تھے، 2 ھ غزوۂ بدر کے بعد اس قبیلہ نے بدعہدی کرکے رسول اللہ سے محاربہ کیا، مغلوب ہوئے اور پھر جلاوطن۔ عن ابن عباس یعنی بنی قینقاع (ابن جریر) بعض نے مراد اہل بدر سے بھی لی ہے۔ عن مجاھد قال کفار قریش (ابن جریر) (آیت) ” وبال امرھم “۔ یعنی عداوت رسول کا خمیازہ۔
Ayah 59:1626۔ یہاں مراد منافقین ہیں۔ اور تشبیہ عین وقت پر نکل جانے اور کام نہ آنے میں ہے۔ اے مثل المنافقین فی اغراءھم الیھود علی القتال (مدارک)
27۔ یعنی جس طرح شیطان پہلے تو انسان کو بہکانا، بھڑکاتا ہے، اور پھر وقت پڑنے پر ساتھ نہیں دیتا۔ اسی طرح منافقین مدینہ نے پہلے تو نبی نضیر کو خوب بڑھاوے دیئے، لیکن جب وقت آیا تو صاف نکل گئے۔ (آیت) ” فلما کفر “۔ یعنی جب کفر اور وبال کفر کا تحقق انسان پر ہوجاتا ہے۔ اس کا ظہور خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ (آیت) ” الشیطن ..... للانسان “۔ دونوں سے مراد جنس شیطان وجنس انسان ہے۔ والمجھور علی ان المراد باشیطن والانسان الجنس (روح)
Ayah 59:1728۔ (جو اپنے ہاتھوں اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” عاقبتھما “۔ ھما کی ضمیر تثنیہ سے مراد وہی کافر انسان اور شیطان ہیں۔ اے الانسان الکافر والشیطان (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی جہنم میں حبس دوام، اے الخلود فی النار (روح)
Ayah 59:1829۔ (اس لئے طاعات کی طرف بڑھنا اور معاصی سے محترز رہنا تمہارے لئے لازم ہے) (آیت) ” یایھا ..... اللہ “۔ یعنی اے ایمان والو، تمہارا محض دعوی ایمان کافی نہیں۔ نافرمانیوں سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے، خصوصا ان نافرمانوں کے حالات سن لینے کے بعد (آیت) ” ولتنظر نفس ماقدمت لغد “۔ یعنی یہ دیکھتے رہا کرو کہ طاعات اور اعمال صالح کا کتنا ذخیرہ اب تک بھیج چکے، (آیت) ” اتقوا اللہ “۔ اس تقوی کا تعلق طاعات کی طرف بڑھنے سے ہے جیسا کہ (آیت) ” ما قدمت لغد سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” واتقو اللہ “ اس تقوی کا تعلق معاصی سے بچنے سے ہے، جیسا کہ (آیت) خبیربماتعملون “۔ سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” لغد “۔ غد کا صیغہ نکرہ اس کی عظمت وہیبت کے اظہار کے لئے ہے۔ تنکیرہ لتعظیم امرہ (مدارک)
Ayah 59:1930۔ (پورے پورے، یعنی کافر) (آیت) ” الفسقون “۔ یہاں قرآن مجید کے اکثر موقعوں کی طرح الکافرون کے معنی میں ہے (آیت) ” الفسقون “۔ یہاں قرآن مجید کے اکثر موقعوں کی طرح الکافرون کے معنی میں ہے (آیت) ” الفسقون “۔ یعنی فسق میں کامل۔ طاعت الہی سے بالکل ہی خارج اور یہ وہی ہوسکتے ہیں، جو کافر ہوں، اے الکاملون فی الفسوق (بیضاوی) (آیت) ” نسوا اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ اور اس کے احکام وہدایات کی طرف سے عمدا اعراض برتنے لگے۔ (آیت) ” انفسھم “۔ یعنی حق تعالیٰ نے ان کی عقل ایسی ماردی کہ یہ نہ اپنے نفع کو پہچانتے ہیں، اور نہ اس کے حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں۔
Ayah 59:2031۔ (درآنحالیکہ اہل دوزخ سرتاسرناکام ونامراد ہیں) (آیت) ” لا ..... الجنۃ “۔ دونوں فریق کا برابر اور یکساں ہونا کیسا، وہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، اپنے مآل اور حقیقت حال کے لحاظ سے۔ خلط اور التباس تو صرف اسی دنیا میں رہتا ہے۔ صرف یہیں سب ملے جلے اور یکساں معلوم ہوتے ہیں۔ آخرت میں تو اہل جنت وہ ہوں گے، جو دنیا میں حکم (آیت) ” اتقواللہ “۔ پر عامل رہے۔ یعنی اہل تقوی اور اہل دوزخ وہ ہوں گے، جو دنیا میں (آیت) ” الذین نسو اللہ “۔ اور ” اولئک ھم الفسقون “۔ کے مصداق رہے۔
Ayah 59:2132۔ (مضامین قرآنی کی عظمت وہیبت سے) یعنی قرآن مجید بجائے خود اس درجہ مؤثر اور فاعل قوی ہے۔ (آیت) ” لو ... جبل “۔ یعنی پتھر کا پہاڑ، جو جمود اور بےحسی کا انتہائی نمونہ معلوم ہوتا ہے، اس پہاڑ پر اگر ہم قرآن نازل کرتے، اور پہاڑ میں بقدر ضرورت فہم وعقل کا مادہ رکھ دیتے، تو پہاڑ تک فرط تاثر سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔
33۔ (اور نفع حاصل کریں) کافر بلکہ فاسق انسان کی بھی تاثر پذیری، بسبب غلبہ ہوائے نفس فاسد ہوجاتی ہے، اور اسی سے اس میں جمود اور عدم احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ ہوائے نفس کو مغلوب کرنے اور قرآن مجید سے تأثر وتذکر کی قابلیت کو بڑھانے میں بڑا دخل صحبت صالحین کو ہے۔
Ayah 59:2234۔ اور یہی وہ صفات کاملہ ہیں، جن سے مشرک قوموں کے معبود اور اہل باطل کے خدا خالی ہیں۔ (آیت) ” ھو ..... الا ھو “۔ حق تعالیٰ کی یکتائی اور توحید کامل کا اثبات اس سے ہوگیا۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ حق تعالیٰ کا علم فلاسفہ مصرویونان وغیرہ کے خدا کی طرح، محدود وناقص قسم کا نہیں، ہر طرح کامل اور جزئیات وکلیات سب کو محیط ہے۔ اسی صفت علم کا علم صحیح نہ رکھنے سے مشرکین کو خدا جانے کتنے دیوتا گڑھنے پڑے۔ (آیت) ” ھو الرحمن الرحیم “۔ حق تعالیٰ کی صفت رحم ہر طرح کامل اور غیر محدود ہے۔ اسی صفت کے بارے میں ٹھوکر لگنے سے مسیحیوں کو ” کفارہ “ کا عقیدہ تراشنا پڑا، اور پھر ایک خدا کے ” اکلوتے بیٹے “۔ کی تلاش ہوئی، جس کو ساری گنہگار مخلوق کی طرح سے کفارہ میں پیش کیا جائے !
Ayah 59:2335۔ یعنی ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے، جو لوگ اس کی ذات وصفات میں کرتے رہتے ہیں۔ کوئی مخلوق کیسی ہی اشرف واعلی ہو، اس کی شریک کسی حیثیت سے، کسی درجہ میں نہیں ہوسکتی۔ (آیت) ” ھو ..... الا ھو “۔ توحید ذات کا مکرر اثبات، تاکید کی غرض سے۔ (آیت) ” الملک “۔ ملکیت، مالکیت، حاکمیت کے سارے اختیارات اور جملہ حقوق اسی کو حاصل ہیں۔ کسی کو کسی حیثیت سے بھی اس ذات پاک پر دسترس حاصل نہیں۔ (آیت) ” القدوس “۔ وہ ذات پاک، ہر عیب، ہر نقص ہر کوتاہی سے بالاتر ہے۔ اور یہ مشرکین کا جہل محض ہے جو اس کی جانب بعض نالائق صفات کو منسوب کردیا ہے۔ (آیت) ” السلم “۔ اس کی ذات میں اس کا امکان ہی نہیں کہ آیندہ بھی کوئی نقص، کوئی عیب اس میں پیدا ہوسکے۔ (آیت) ” ال مومن “۔ یعنی اپنے بندہ سے ہر خوف کو دور کرتارہتا ہے، ہر آئی ہوئی آفت کو ٹالتا رہتا ہے۔ مشرک قومیں ہر آئی ہوئی مصیبت سے بچنے کے لئے فلاں دیوی اور فلاں دیوتا کی دہائی دیتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” العزیز “۔ اس اسم میں حق تعالیٰ کی صفت قدرت کا اثبات ہے۔ مشرکین نے اپنے دیوتاؤں کو کمزور اور غیر قادر مانا ہے۔ (آیت) ” الجبار “۔ یعنی ہر قسم کی اصلاح کرنے والا ہے۔ مجبرا سے کہتے ہیں جو ٹوٹی ہوئی یا اکھڑی ہوئی ہڈی پھر سے بٹھا دے۔ اے الذی جبر حالھم بمعنی اصلحہ (بیضاوی) (آیت) ” المتکبر “۔ یعنی وہ ذات جس کے آگے مخلوق کی ساری عظمتیں ہیچ ہیں۔ اور جس کی تحقیر یا تصغیر کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 59:2436۔ (سو ایسے باعظمت اور باحکمت کے احکام کی پابندی نہایت درجہ ضروری ہے) صفات حسنہ کمالیہ کا مزید اثبات۔ سورة الحشر کی ان دونوں آیتوں کے جوش بلاغت اور زور کلام کو حال کے ملحد اور مسیحی ماہرین عربیت نے بھی سراہا ہے۔ (آیت) ” الخالق “۔ یعنی صفت تخلیق وتکوین وایجاد میں کوئی اس کا سہیم وشریک نہیں۔ (آیت) ” الباری “۔ یعنی روح و مادہ، ہیولی و صورت، جو ہر وعرض، سب کاموجد، سب کو وعدم سے وجود میں لانے والاوہی ہے۔ (آیت) ” المصور “۔ یعنی ہر چیز کو ٹھیک ٹھیک آئین حکمت کے مطابق ہی اس نے صورت وجود سے مشرف کیا ہے۔ (آیت) ” لہ الاسمآء الحسنی “۔ صفات کمالیہ کی جامع اسی کی ذات ہے۔ (آیت) ” یسبح .... الارض “۔ اسی کی حمد وثنا کی تسبیح چھوٹی بڑی، آسمانی زمینی، ہر مخلوق اپنی اپنی بساط فہم اور مرتبہ وجود کے مطابق کرتی رہتی ہے۔