59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 59:1–9

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ کی1 پاکی بیان کرتی ہے ہر چیز جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، وہی غالب حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے کہ جس نے اہل کتاب کو جو کافر ہوگئے تھے ( یعنی یہود بنی نضیر کو) ان کے گھروں (یعنی مدینہ) سے حشر اول کے وقت نکالا، اے مسلمانو ! تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ کافر گمان کرتے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے، پس ان پر اللہ کا عذاب اس جگہ سے آیا جہاں سے انکا گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے ویران کرتے ہیں۔ پس اے آنکھوں والو ! (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان کے مقدور میں جلاوطن ہونا نہ لکھ چکتا تو البتہ ان پر دنیا ہی میں ( قتل کا) عذاب فرماتا ، اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم نے جو کھجور کے درخت کاٹ ڈالے یا ان کو ان کی جروں پر کھڑرا رہنے دیا، پس یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے۔

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو کچھ غنیمت اللہ نے اپنے رسول کو ان (یہود بنی نضیر) سے دلوائی تو تم انے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ، و لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غالب کرتا ہے، اور اللہ تمام چیز پر قادر ہے ۔

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو غنیمت اللہ نے اپنے رسول کو بستیوں والوں سے دلوائی وہ اللہ اور اس کے رسول کی اور (رسول کے) قرابت داروں کی اور یتیموں کی اور مسکینوں کی اور مسافروں کے لیے ہے (یہ حکم اللہ نے دیا) تاکہ وہ (مال) تمہارے دولت مندوں کا مال نہ ہوجائے اور رسول تم کو جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس چیز (کے لینے) سے تم کو منع فرمائیں اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

وہ مال ان فقیروں ہجرت کرنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (جبرا و ظلما) نکالے گئے وہ اپنے پروردگار کی نعمت (یعنی ثواب آخرت) اور رضا مندی چاہتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی جان و مال سے دین کی حمایت میں مدد کرتے ہیں۔ وہی (اپنے ایمان میں) سچے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے ہے جنہوں نے مہاجرین کے آنے سے پہلے دار السلام یعنی مدینے میں اور ایمان میں اپنا گھر بنا لیا، یہ لوگ ان کو دوست رکھتے ہیں جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کی اور اپنے دلوں میں کوئی خلش نہیں پاتے اس چیز سے جو مہاجرین کو مال غنیمت میں دیا گیا اور (مہاجروں کی خدمت) اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ انہیں خود (کیسی ہی سخت) احتیاج کیوں نہ ہو اور جس کسی نے اپنے نفس کو حرص سے روکا پس ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔ (ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے نبی ﷺ کے خلاف معاہدہ کیا، اللہ تعالیٰ کے علم دینے سے حضور اس حال پر مطلع تھے اور بنی نظیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں نے قلعہ کے اوپر سے نبی ﷺ پر باارادہ فاسد ایک پتھر گرایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خبردار کیا اور بفضلہ تعالیٰ حضور ﷺ محفوظ رہے۔ غرض جب یہودی بنی نضیر نے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفار قریش سے حضور کے خلاف عہد کیا تو نبی ﷺ نے محمد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا کہ اور انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا، پھر حضور مع لشکر کے بنی نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا، یہ محاصرہ اکیس روز رہا اور اس کے درمیان میں منافقین نے یہود سے ہمدردی موافقت کے بہت معاہدے کیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام کیا، یہود کے دلوں میں رعب ڈالا، آخرکار انہیں حضور کے حکم سے جلاوطن ہونا پڑا اور وہ شام اریحاد خیبر کی طرف چلے گئے۔ اس لیے ان کی اس پہلی جلاوطنی کو پیشین گوئی کے طور پر اول حشر فرمایا اور دوسرا حشر ان کا یہ ہے کہ امیرالمومنین عمرؓ نے انہیں اپنے زمانہ خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا ، یا آخیر حشرروز قیامت کا حشر ہے کہ آگ سب لوگوں کو سرزمین شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں ان پر قیامت قائم ہوگی، حشر کے معنی کسی ایک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکال دینا ۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ بنی نضیر کے قلعے کی مضبوطی کے سبب سے نہ اہل اسلام کو یہ گمان تھا کہ ایسامضبوط قلعہ اس طرح جلدی سے خالی ہوجائے گانہ بنی نضیر کو یہ خیال تھا کہ اس طرح وقت پر قلعہ سے ان کو پناہ نہ ملے گی ، مگر اللہ کی حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت سے جو کچھ ہوا وہ لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا، اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے دل میں لشکر اہل اسلام کی ایسی ہیبت پیدا کردی کہ وہ لڑائی کی جرات نہ کرسکے، بلکہ جلاوطنی پر راضی ہوگئے جلاوطنی کے وقت یہ امر اقرار پایا کہ تین آدمیوں میں ایک اونٹ بار برداری کو دیاجائے اور ایک مشک پانی پینے کو دی جائے اور اس ایک اونٹ پر جو چیز لادی جاسکے وہ یہ لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اس واسطے گھروں میں کا، کڑی تختہ اور جو چیز ان کو اچھی معلوم ہوتی تھی ، اس کو وہ اونٹوں پر لادنے کے لیے گھروں کو توڑ پھوڑ کر نکال رہے تھے اور قلعہ کے باہر جو بنی نضیر کا کھجوروں کا باغ تھا اہل اسلام نے اس کے کچھ پیڑ جلادیے تھے اور کچھ کاٹ ڈالے تھے اسی کو قابل عبرت ذلت اور ویرانی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ جلاوطنی کی ذلت اور ویرانی ان لوگوں کی قسمت میں نہ لکھی ہوتی تو اللہ اور رسول کی مخالفت کے سبب سے ان پر کوئی آفت آتی، پیڑوں کو پہلے تو اہل اسلام نے اس لیے کاٹا اور جلایا کہ اس کی جلن سے بنی نضیر قلعے کے باہر نکل آویں لیکن پھر اہل اسلام کے دل میں خیال گذرا کہ کہیں اس کا کچھ گناہ ہو اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ جو کچھ ہو اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے دل میں ڈالا ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ذلت اس میں تھی۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے ہے1 جو ان مہاجرین و انصار کے بعد (دائرہ اسلام میں) آئے، وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ، اے پروردگار ہمارے ! بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔

حضور ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم اور بیعت کا ذکر۔ (ف 1) شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلاوطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا، اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں چار خمس لشکراسلام میں تقسیم کیے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیرلڑائی کے ہاتھ آیا ہو تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہما میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نضیر کا مال ومتاع بغیرلڑائی کے ہاتھ آیا ہو اللہ کے رسول کے خاص اختیار میں رہنے کا مال تھا غرض نبی ﷺ کے خاص اختیار کا مال نصف حصہ تو خیبر کا تھا اور بنی نضیر کے اور فدک کے کھجور کے پیڑ تھے ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ بنی نضیر کے درختوں کی آمدنی تو نبی ﷺ نے بالائی ضروری اخراجات کے لیے خاص کررکھی تھی اور باغ فدک کی آمدنی مسافروں کے خرچ کے لیے خاص تھی اور خیبر کی آمدنی میں ازواج مطہرات کا کھاناپینا ہوت اور جو کچھ بچتا تھا وہ مہاجر ضرورت مندوں کو خیرات کے طور پر دیاجاتا تھا ، نبی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت میں بھی یہی عمل رہا ، اب آگے فرمایا کہ یتیم مسکین اور مسافر کا نام اس تقسیم میں اس لیے خاص طور پر جتلایا گیا ہے کہ مالدار لوگ موروثی مال کی طرح اس مال کی تقسیم آپس میں نسل بعد نسل نہ ٹھہرائیں لیویں، جس سے یتیم مسکین اور مسافر بالکل محروم ہوجائیں پھر فرمایا کہ اس مال میں سے اللہ کے رسول جو تم کو دیویں وہ لے لو، اور جو نہ دیویں اس میں کچھ اصرار نہ کرو اور اللہ کے رسول کی نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی ہے اس لیے اس سے بچتے رہو کہ اس میں عذاب الٰہی کا خوف ہے جو بہت سخت اور انسان کی برداشت سے باہر ہے ، اگرچہ اس آیت کا نزول فے کے مال کے باب میں ہے لکن حکم اس کا عام ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ جس میں نبی نے فرمایا جس شخص نے میری نافرمانی کی وہ جنت میں نہیں جاسکتا، اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں جو آپ آیت کے حکم کے عام ہونے کی تفسیر ہیں ۔ اس تفسیر کی بنا پر سلف نے لکھا ہے کہ صحیح حدیث کے معلوم ہوجانے کے بعد جو شخص اس کے موافق عمل نہ کرے گا وہ اللہ کے نزدیک اس مواخذہ کے قابل قرار پائے جس مواخذہ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ڈرایا ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ رسول کی شان اقدس اور علم رسول کے گستاخی کرنے سے بچے ورنہ جہنم کی آگ ہے فے کے مال کے حق داروں کے بیان میں اطاعت رسول کا ذکر آگیا تھا اب آگے وہی سلسلہ پھر شروع فرمایا کہ اس مال کے حق دار تنگدست مہاجر اور انصار بھی ہیں۔ مہاجرین وانصار صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ مہاجروں کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی مدد کے جوش میں اپنا گھر بار اور مال ومتاع سب کچھ چھوڑا اور دنیا میں اللہ کے فضل سے رزق ملنے کی اور عقبی میں اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی ان کو آرزو ہے ان لوگوں کا ظاہر و باطن یکساں ہے اس لیے یہ سچے ایماندار ہیں اہل مکہ کی طرح طرح کی ایذا اور مخالفت کے سبب سے حکم الٰہی کے موافق اللہ کے رسول نے جو مکہ اور اہل مکہ کو چھوڑا اور اس کو ہجرت کہتے ہیں۔ اسی ہجرت کے زمانہ سے ہجری سن قرار پایا ہے جس وقت نبی نے مدینہ کی سکونت کے ارادہ سے مکہ چھوڑا اس وقت تو فقط حضرت ابوبکر اور عامر بن فہیرہ ، حضرت ابوبکر ؓ کا پروردہ یہ دو صحابی نبی کے ساتھ تھے پھر رفتہ رفتہ اور بہت سے صحابہ مدینہ آگئے ہجرت کے حکم کی تعمیل میں جن صحابہ نے اپنے گھربار کو چھوڑا ان کو مہاجرکہتے ہیں مشرکین مکہ کی ایذا سے گھبرا کر کچھ صحابہ حبشہ کو چلے گئے تھے پھر مدینہ کو آگئے ان صحابہ کو اصحاب الہجرتین کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے پہلی دفعہ حبشہ کی ہجرت کی، اور پھر مدینہ کی ۔ فتح مکہ تک ہجرت فرض تھی۔ فتح مکہ کے بعد پھر ہجرت کی تاکید باقی نہیں، مہاجرین کے ذکر کے بعد انصار کا ذکر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مہاجرین کے ذکر کے بعد انصار کا ذکر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مہاجیرن کے مدینہ میں پہنچنے سے پہلے اپنی بستی کو ایماندار لوگوں کا ایک ٹھکانہ قرار دیا، نبی ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے سے پہلے وہاں اسلام کے پھیل جانے کا قصہ یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے نبی ﷺ ان باہر کے لوگوں کو قرآن شریف کی آیتیں سنا کر اسلام کر ترغیب دلایا کرتے تھے جو موسم حج میں مکہ کو ادھر ادھر سے آتے تھے ایک سال قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے قرآن شریف کی آیتیں سنیں اور مدینہ میں آن کر اپنی قوم میں اس کا ذکر کیا، اس خزرج قبیلہ اور مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان کی اکثر لڑائی ہوا کرتی تھی اس لڑائی میں یہود کو کبھی شکست ہوجاتی تھی تو وہ کہا کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان کے پیدا ہونے کا وقت اب قریب آگیا ہے وہ پیدا ہوکرنبی ہوجائیں گے تو ان کے ساتھ ہم مخالف لوگوں سے دل کھول کر لڑیں گے اور اس شکست کا بدلہ نکالیں گے اب جو قبیلہ خزرج کے عام لوگوں نے اپنی قوم کے مکہ سے آنے والے لوگوں کی زبانی نبی ﷺ کا یہ ذکرسنا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی آخرالزمان ہیں جن کا ذکر یہود کیا کرتے تھے اس لیے اب کے سال ان میں کے بارہ شخص حج کو آئے اور نبی ﷺ سے منی کے پہاڑ کی گھاتی کے پاس انہوں نے اسلام کی بیعت کی اسی کو عقبہ اول کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مقام منی کے پہاڑ کی گھاٹی کی یہ پہلی بیعت ہے منی میں عقبہ وہ جگہ ہے جہاں حج میں شیطانوں کو کنکریوں مارتے ہیں اس سال کے بعد پھر اس قبیلہ کے بہت سے لوگ حج کو آئے اور اس گھاٹی میں اسلام کی بیعت ہوئی اس کو عقبی ثانی کو بیعت کہتے ہیں اس بیعت میں اسلام کے پھیلانے والے بارہ نقیب نبی ﷺ نے قرار دیے اور اسی بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگاسلام کے مددگار ہیں پھر فرمایا ان انصار میں یہ نیک خصلتیں ہیں کہ ان کے دل مہاجرین کی پوری الفت ہے دنیا کا قاعدہ ہے کہ وہ حق داروں میں سے ایک حق دار کو کوئی چیز زیادہ پہنچ جائے تو یہ دوسرے حق دار کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے لیکن ان انصار کے دل میں مہاجرین کی اس قدر الفت اور محبت ہے کہ مہاجرین کی تنگ دستی کو کبھی کچھ زیادہ بھی دیویں تو انصار کی اس سے کچھ دل شکنی نہیں ہوتی ، ان انصار کی اعلی درجہ کی سخاوت کی یہ خصلت اللہ کو بہت پسند ہے کہ اپنی ضرورت پر یہ دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتے ہیں جو کمال عالی ہمتی اور دین داری کی بات ہے۔ جذبہ ایثار۔ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، ترمذی ، نسائی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس آیت کا جوشان نزول ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن نبی ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا اور جب نبی ﷺ کے مکان مبارک میں اس مہمان کے کھانے کا کچھ بندوبست نہ ہوسکا، تو نبی ﷺ کے حکم سے حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ اسمہمان کو اپنے گھر لے گئے گھر میں فقط بچوں کے تھوڑے سے کھانے کے سو اور کچھ نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنے بچوں کو تو بہلاکربھوکا سلادیا، اور چراغ بجھا کر اندھیرے میں وہ بچوں کے حصہ کا کھانا اس طرح مہمان کوکھلایا، جس سے مہمان نے جانا کہ ابوطلحہ اور ان کی بی بی اس مہمان کے ساتھ کھا رہے ہیں صبح کو جب ابوطلحہ ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ابوطلحہ رات کو تم نے اور تمہاری بی بی نے وہ عالی ہمتی کام کیا جس سے اللہ تعالیٰ کو ہنسی آئی اور اس پر اللہ نے انصار کی تعریف می یہ آیت نازل فرمایا، اس طرح کی عالی درجہ کی سخاوت کے مقابلہ میں بخیلی کا ذکر فرمایا کہ بخیلی کی برائی، آدمی کے دل میں خوب جم جائے اور بخیلی سے بچنے میں مراد پانے سے یہ مطلب ہے کہ بخیلی سے بچ کر جو شخص اللہ کے نام پر کچھ دیوے گا تو ایک کے ساتھ سو اور کبھی اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے ، روایت ہے کہ جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ہر روز اللہ کی طرف سے زمین پر دوفرشتے اترتے ہیں ایک ان میں سے سخی کا مال بڑھنے کی دعاکرتارہتا ہے اور دوسرابخیل کے مال کے ضائع اور تلف ہونے کی، صحیح بخاری وغیرہ کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کہ اصل میں انسان کا مال وہی ہے جو اس نے خیر خیرات میں سے صرف کیا، اور جو جوڑ کررکھا اور وہ اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہے ، یہ حدیثیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جن مہاجرین نے بیت المقدس اور بیت اللہ شریف دونوں طرف کے قبلہ کی نمازیں آنحضرت کے ساتھ مدینہ میں پڑھیں وہ مہاجرین اولین کہلاتے ہیں اسی طرح جو انصار نبی ﷺ کے مدینہ میں آنے سے پہلے مسلمان ہوگئے وہ انصار اولین کہلاتے ہیں۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے1 منافقوں (یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ) کو نہیں دیکھا کہ وہ اپنے بھائیوں سے جو اہل کتاب (یعنی یہود بنی قریظہ و بنی نضیر) میں سے کافر ہیں، کہتے ہیں خہ اگر تم (مدینہ سے) نکالے گئے تو ضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

صحابہ (اجمعین علیہم رضوان کرا) کو براکہنے والوں کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے تابعینوں کے ذکر میں فرمایا کہ قابل تعریف وہی تابعین ہیں جو صحابہ کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر اپنی مغفرت کی دعا میں ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرتے ہیں پھر فرمایا اپنے بڑوں کی پچھلی حالت یاد کرکے بعض صحابہ کے حق میں خالص دل سے مغفرت کی دعا ان کی زبان پر نہ آئے تو ان کو یہ دعا بھی مانگنی چاہیے کہ یا اللہ پہلے لوگوں کی طرف سے ہمارے دل میں کچھ دشمنی اور بغض ہو تو اپنی مہربانی اور رحمت سے اس کو ہمارے دل سے نکال دے ، اس آیت میں نبی ﷺ کی نبوت کا اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا بڑاثبوت ہے کیونکہ آئندجن باتوں کا ذکر اس آیت میں تھا اسی طرح ان باتوں کا ظہور ہوا، یہی ثبوت ان صحیح حدیثوں میں بھی ہے جن میں اپنے آئندہ پیدا ہونے والے لوگوں کو صحابہ کی بدگوئی سے منع فرمایا ہے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون پر غور کرنے سے فرقہ شیعہ کے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جنہوں نے صحابہ کی برائی کو اپنامذہب قرار دے رکھا ہے۔ مسئلہ : جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یاکدورت ہو اور وہ ان کے لی دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قسمیں فرمائی گئیں، مہاجرین، انصار، ان کے بعد والے جو ان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے۔
Ayahs 59:12–14

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ (یہود) نکالے گئے تو یہ (منافقین) ان کے ساتھ نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد (بھی) کریں تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اس کے بعد (منافقوں کو) کہیں سے مدد نہ ملے گی۔

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

بیشک اے مسلمانو ! تمہارا رعب ان (منافقوں) کے دلوں میں اللہ سے (بھی) زیادہ ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ ناسمجھ ہیں (کہ اللہ کی عظمت کو نہیں جانتے) ۔

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب ملکر (یہودی لوگ) تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ میں (چھپ کر) ان کی لڑائی آپس (ہی) میں زیادہ سخت ہے، (اے مخاطب) تم ان کو ایک جتھا (باہم متحد) سمجھو گے حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس سبب سے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں۔

خدا کی رضامندی ان کے لیے جو عمل کریں اور صف باندھ کر لڑیں۔ (ف 1) یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلابھیجا تھا کہ اگر تم جلاوطن کیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلاوطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہے اسی طرح یہ باتیں بھی ان کی جھوٹی ہیں نہ یہ مدینہ کی سکونت چھوڑیں گے نہ لڑائی کے وقت مدد کریں گے اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے جیسا کہ اللہ کے کلام میں تھا وہی ہوا کہ بنی نضیر میں جلاوطن ہوگئے اور منافق آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے ، صحیح بخاری ومسلم میں (حدیث آگے ہے) ۔ منافقوں کی نشانیاں اور منافق کسی کے دوست نہیں ہوسکتے۔ عبداللہ بن عمر بن العاص کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا منافقوں کی خصلت ہے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس میں منافقوں کے جھوٹ بولنے کا ذکر ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ منافق سچے ہوتے اور اپنے قول کے موافق مدد کو آتے تو اللہ کو ان کے دل کا حال معلوم ہے کہ ان کے دل میں اہل اسلام کا اس قدر خوف ہے کہ یہ لڑائی کے میدان میں رک نہیں سکتے، فوراوہاں سے بھاگ جاتے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا لشکر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ رعب دیا ہے کہ ایک مہینے کے راستے پر بھی دشمن ہو تو اس کے دل میں اس رعب کا اثر پڑجاتا ہے ، منافقوں کے دل پر اہل اسلام کا جس قدر خوف تھا اس کا اندازہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہینہ بھر کے راستہ پر اثر کرنے والی چیز کا اثر پاس کے پاس کس قدر ہوگا، اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں اہل اسلام کا خوف اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ان کے منافق پنے کے سبب سے خدا کا خوف تو فقط ان کی زبان پر ہے دل میں کچھ بھی نہیں اور لشکر اسلام کا خوف ان کے دل و زبان دونوں پر ہے پھر فرمایا یہ بات اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ جس اللہ نے اہل اسلام کے لشکر میں یہ رعب کی تاثیر رکھی ہے نفاق کو چھوڑ کر اصل سے ہی ڈرنا چاہیے، پھر فرمایا کہ ان کی برائی آپس کی لڑائی پر ختم ہے لشکر اسلام کا تو ان کے دل پر وہ رعب چھایا ہوا ہے کہ یہود اور منافقین دونوں مل کر بھی میدان میں لشکراسلام سے نہیں لڑسکتے، ہاں اپنے بچاؤ کے طور پر قلعے یا کسی دیوار کی آڑ میں سے کچھ لڑیں تولڑیں لیکن یہ بھی جب ہوسکتا ہے کہ ان یہود اور منافقین میں یک دلی ہوتی اور یہ ظاہر بات ہے کہ یک دلی اور آپس کا اتحاد تو عقل مندوں میں ہوتا ہے یہ تو ایسے بےعقل لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کے سنبھالنے میں عقل سے کچھ بھی کام نہیں لیا ۔ اس لیے ظاہر میں یہ ایک نظر آتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہود اپنے راستہ پر ہیں اور منافق اپنے راستہ پر ہیں اور عقبی سے دونوں غافل۔ ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت سے شداد بن اوس کی حدیث ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا صاحب عقل وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کے لیے کچھ اچھاسامان کرلے، ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور یہ حدیث یہود اور منافقین کے کم عقل قرار پانے کی بابت اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 59:15–17

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان1 لوگوں کی سی مثال ہے جو ابھی قریب زمانے میں ان سے پہلے تھے، انہوں نے اپنے گناہ کا وبال چکھا اور ان کے لیے (آخرت میں بھی) دردناک عذاب ہے ۔

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

اور منافقین کی مثال شیطان کی مثال ہے جب اس نے انسان سے کہا کہ کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا تو (اسی وقت) کہا : میں تجھ سے الگ ہوں بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا پروردگار ہے ۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر ان دونوں کا یہ انجام ہوا کہ وہ دونوں جہنم میں گئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے ۔

(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اس کی یہ تفسیر فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلاوطنی بنی نضیر کی جلاوطنی سے پہلے ہوئی ، جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبداللہ بن سلام ہیں اس قبیلہ کا نبی ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر انکی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد نبی ﷺ نے ان پر چڑھائی کی اور جب یہ لوگ مغلوب ہوگئے توعبداللہ بن ابی کی سفارش پر ان کی جان بخشی کی جاکران کو جلاوطن کرایا گیا ، غرض جلاوطن ہونے والوں کی مشابہت اور تمثیل جلاوطن والوں سے ایک پوری مشابہت اور تمثیل ہے ، اوپر گذرچکا ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے پہلے تو بنی نضیر کو بہکایا کہ ہم بھی تمہارا ساتھ دیں گے اور جب وقت پڑا تو بنی نضیرکا کچھ ساتھ نہ دیا، یہی حال شیطان کا ہے کہ اب تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے وسوسہ ڈال کر ان سے گناہ کراتا ہے جب قیامت کے دن عذاب کا وقت آئے گا گناہ گار لوگوں کو خودہی ملامت کرنے کو مستعد ہوجائے گا جس کا ذکر سورة ابراہیم میں گذرچکا ہے پھر فرمایا کہ بہکانے والے اور بہکنے والوں کا انجام دونوں کا انجام دوزخ ہے۔ غرض منافقوں نے شیطان کی طرح بنی نضیر کو بہکایا تھا اس مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کے حال کو شیطان کے حال کے ساتھ تشبیہ دی ہے یہاں مفسروں نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کا قصہ جو لکھا ہے کہ شیطان نے ستربرس کی عبادت کے بعد اس عابد سے بھی زنا کرایا اور شرک کرایا، اس قصہ سے یہ مطلب نہیں کہ وہ قصہ آیت کی تفسیر یا شان نزول ہے کیونکہ شیطان تورات دن یہی کرتا رہتا ہے جو اس نے اس عابد کے ساتھ کیا اور ہزاروں قصہ شیطان کے اس طرح کے مشہور ہیں جس طرح وہ عابد کا قصہ ہے بلکہ مفسرین کی غرض اس قصہ کے ذکر کرنے سے یہ ہے کہ شیطان رات دن اس طرح کے فریب کے کام کرتا رہتا ہے جس طرح فریب اس نے اس عابد کو دیاہرشخص کو اس کے فریب سے بچنا چاہیے، اس واسطے شیطان کے فریب کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ شیطان کے فریب میں آن کر دنیا کی زیست پر عاقبت کو نہ بھولنا چاہیے اور قیامت کے دورنہ گننا چاہیے اور یہ جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے نیک وبد سب کاموں کی خبر ہے اور اس نیک وبد کی جزا اور سزا کا ایک دن آنے والا ہے اس دن وہی اچھا ہوگا جس نے دنیا میں اس دن کی آفت سے بچنے کا کچھ سامان کرلیا۔
Ayahs 59:18–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو (اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو) اور1 ہر شخص کو چاہیے کہ غور کرے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ آگے بھیجا ہے ، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور تم ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے (یعنی اس کی اطاعت ترک کی) پس اللہ نے انہیں (بلا میں ڈال کر) ایسا کردیا کہ خود اپنی جانوں کو بھول گئے ، یہی لوگ فاسق ہیں۔

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں، جنت والے ہی مراد کو پہنچے ہیں۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو بیشک تم اسے اللہ کے خوف سے عاجزی کرنے والا پاش پاش دیکھتے (یعنی قرآن کی عظمت اور شان ایسی ہے) یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے ہیں بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ (سب عیبوں سے) پاک وسالم ہے، امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، غالب خود مختار تکبر والا ہے ، اللہ کو پاکی ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا، نیا بنانے والا، صورت بنانے والا (جیسے چاہے) اسی کے سب اچھے اچھے نام ہیں، سب اس کو پاکی سے یاد کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔ (ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو ان لوگوں کی حالت سے ڈرایا ہے، جو دنیا کے مخمصے میں پھنس کر اللہ کی فرمانبرداری بھول گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ایسا بھولکڑ کردیا ہے کہ کبھی ان کو یہ یاد نہیں آتا کہ وہ کس کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں ابودرداء سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کے دل سے دنیا کی حرص کم ہوجانے کے لیے ہر روز فرشتے آسمان و زمین کے بیچ میں کھڑے ہوکر پکار کر یہ کہا کرتے ہیں کہ جس خوش حالی سے انسان خدا کو بھول جائے اس خوشحالی سے تنگدستی بہتر ہے۔ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ، فانسھم انفسھم کی گویا تفسری ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جن لوگوں کو ایسی خوش حالی ہے جس سے وہ خدا کو بھول گئے ہیں تو وہ خوش حالی اس آیت کے موافق اللہ کی خفگی کے سبب سے ہے اسی واسطے فرشتوں کی آواز کا اثر ایسے لوگوں کے دل پر کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ کثرت گناہوں سے ان کے دل پر زنگ چھاجاتا ہے وہ زنگ کسی نصیحت کے اثر کو ان کے دل تک نہیں پہنچنے دینا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بغیر توبہ کے گناہوں کے سبب سے آدمی کے دل پر زنگ آجاتا ہے اس گناہ گاری کے سبب سے ان لوگوں کو بےحکم فرمایا ہے اب بےحکم لوگوں کاٹھکانہ دوزخ ہے اور فرمانبردار لوگوں کاٹھکانہ جنت ہے اسی لیے فرمایا اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں برابر نہیں ہیں ، اہل دوزخ کو طرح طرح کی کلفت ہے اور اہل جنت کو طرح طرح کی راحت۔ آگے مثال کے طور پر فرمایا کہ ان بےحکم لوگوں کے دل پر زنگ آن کر ان کے دل گویا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے وہ نصیحتیں ہیں جو پتھر کو بھی موم کردیں، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے اس پتھر کا ذکر کیا جو اس وقت جب آپ نبی نہیں ہوئے تھے تو آپ سے سلام علیک کیا کرتا تھا، یہ تو پتھر کا حال ہوا اور باوجود انسان ہونے کے قریش کا حال تو معلوم ہے کہ وہ معجزے دیکھ کر بھی آپ کی نبوت میں طرح طرح کے شبہات نکالتے تھے غرض پتھر میں انسان سے زیادہ سمجھ کا پیدا کردینا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اب آگے فرمایا کہ قرآن میں یہ مثالیں اس لیے بیان کی جاتی ہیں کہ شاید یہ بےحکم لوگ کچھ مثالوں سے ہی سمجھنے کی بات کو کچھ سمجھ جاویں تو ان کی عقبی پاک ہوجائے۔ صفات باری تعالی۔ آگے فرمایا کہ اللہ کی وہ ذات ہے کہ اس کے سوائے کوئی معبود نہیں کسی کو استحقاق عبودیت نہیں غیب وشہادت کا عالم ہے ، غیب وہ باتیں جو آئندہ ہوں گی اور وہ بندوں سے غائب ہیں ، شہادت جو ہوچکیں اور بندوں کو معلوم ہیں ، وہ رحمن، ورحیم، ہے رحمن یعنی سب بندوں پر خواہ عابد ہوں خواہ عاصی ، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافر، سب پر رحمت عامہ والا ہے رزق دینے والا، رحیم، خاص مسلمانوں پر مخصوص نعمتیں اتارنے والا، ثواب وجنت دینے والا وہی خدا ہے جس کے سوا کسی کو استحقاق عبودیت نہیں وہ بادشاہ ہے کہ ازل سے ابدتک اس کے ملک اس کی بادشاہت کو زوال نہیں وہ قدوس ہے ظاہر ہے ہر آفت سے منزہ ولد وشریک سے برتر۔ وہ سلام ہے مسلمانون پر کہ عذاب سے سلامت رکھنے والا، مومن ہے مخلوق کو اپنے ظلم سے امان دینے والا ہے یا بندوں کے اعمال پر امانت دار ہے یا یہ کہ امان والا ہے اپنی مقدورات پر یعنی اس کی قدرت میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا، حافظ ہے، گواہ ہے ، عزیز ہے یعنی غالب اور بدلہ لینے والا ہے حکومت والا ہے جبار ہے یعنی جو چاہے کرنے والا ہر بات پر بندوں پر غلبہ والامتکبر ہے عظمت وکبریاوالا ہے۔ دشمنوں پر اپنے قہر و حکومت کا ظاہر کرنے والا ہے۔ آگے فرمایا کہ وہ بتوں کی اور جھوٹے معبودوں کی شرکت سے پاک ہے مشرکوں کے حقیر بےہودہ خیالات سے اسکامنصب عزت و جلال بلند ہے آگے فرمایا کہ اللہ وہ پیدا کرنے والا ہے الباری، ہے عدم سے وجود میں لانے والا ہے ، باپوں کی پشتوں میں نطفوں کو پیدا کرتا ہے پھر درجہ بدرجہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف بدلتا ہے پھر بدن میں روح ڈالتا ہے، المصور ہے یعنی نطفہ کی ماں کے شکم میں صورت گری کرتا ہے جیسا چاہتا ہے مرد عورت، لمبا ٹھنگنا، کالاگورا، بناتا ہے ، اللہ تعایل کے پاک نام اور اچھی صفتیں ہیں حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو نام ہیں ، جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ہرچیز اپنے خالق کی مداح سرا ہے۔ آگے فرمایا کہ آسمان وزمینوں میں جو چیز ہے وہ اس کی یاد کرتی ہے تسبیح کہتی ہیے اور ہر شے کی زندگی اس کے لائق ہے سورة بنی اسرائیل اور سورة حدید میں گذرچکا ہے کہ پہاڑ پیڑ ان سب بےجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے ہاں اکثر سلف نے اپنے کانوں سے اس تسبیح کی آواز سنی ہے ۔ چناچہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جو کھانا ہم کھایا کرتے تھے اس کی تسبیح کی آواز ہمارے کانوں میں آیا کرتی تھی، اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں آگے فرمایا کہ وہ العزیز ہے ، غالب ہے بدلہ لینے والا ہے ، الحکیم ہے اپنے احکام قضا وقدر میں لاکھوں حکمتوں والا ہے اس کا یہ حکم محکم ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ مسند امام احمد اور ترمذی میں مغفل بن یسار سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص تین دفعہ ، اعوذ بااللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، پڑھ کر ھواللہ الذی لا الہ الاھو، علم الغیب والشھادۃ سے آخر سورت تک تین دفعہ صبح وشام پڑھے گا تو اس شبانہ روز میں اگر وہ شخص مرے گا تو اس کو شہادت کا درجہ ملے گا اور سترہزار فرشتے اس شبانہ روز میں اس شخص کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے۔