58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsمظہر القرآن

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

بیشک1 اللہ نے اس عورت کی بات سنی جو (اے محبوب) تم سے اپنے شوہر کے بارے میں گفتگو کرتی تھی اور (اپنے رنج و غم کی) اللہ سے شکایت کرتی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سنتا تھا، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

اپنی بی بی کو ماں کہہ بیٹھنے کا ذکر، ظہار اور اس کے احکام۔ (ف 1) شان نزول : مسند امام احمد ، نسائی و ابوداؤد مستدرک حاکم وغیرہ میں خولہ اور حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص اوس بن الصامت نے اپنی بی بی خولہ سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے یہ کہنے کے بعد اس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانہ جاہلیت میں طلاق تھا، اس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکرتمام واقعات عرض کیے اور عرض کیا کہ میرا مال ختم ہوچکا، ماں باپ گذرگئے عمر زیادہ ہوگئی بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ان کو باپ کے پاس چھوڑوں تو ہلاک ہوجائیں اور اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تیرے باب میں میرے پاس کوئی حکم نہیں یعنی ابھی تک ظہار کے متعلق کوئی حکم جدید نازل نہیں ہوا، دستور قدیم یہی ہے کہ ظہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے عورت نے عرض کیا یارسول اللہ اس نے طلاق کا لفظ نہ کہاوہ میرے بچوں کا باپ ہے وار مجھے بہت پیارا ہے اسی طرح وہ بار بارعرض کرتی رہی اور جواب حسب خواہش نہ پایا تو آسمان کی طرف سے سراٹھا کر کہنے لگی ، یا اللہ میں تجھ سے اپنی محتاجی وبیکسی اور پریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں ، اے نبی ﷺ پر میرے حق میں ایسا حکم نازل فرما جس سے میری مصیبت رفع ہو، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا خاموش ہو دیکھ ، چہرہ مبارک رسول کریم پر آثاروحی ظاہر ہیں جب پوری وحی نازل ہوگئی تو فرمایا اپنے شوہر کو بلا، اوس حاضر ہوئے تو حضور نے یہ آیتیں پڑھ کرسنائیں۔
Ayahs 58:2–6

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں سے جو1 لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ظہار کرتے (یعنی اپنی بیویوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ دیتے ہیں) وہ (حقیقت میں) ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں، اور بیشک ظہار کرنے والے بیہودہ اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں، اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظاہر کرتے ہیں (یعنی اپنی بیویوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ دیتے ہیں) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے ہیں (یعنی ظہار کو توڑ دینا اور حرمت کو اٹھا دینا) تو ان پر (کفارہ) لازم ہے ایک غلام آزاد کرنا اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ حکم ہے جس سے تم کو نصیحت دی جاتی ہے اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے ۔

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو غلام نہ ملے پس اس پر لازم ہے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو (بڑھاپے یا مرض وغیرہ کے سبب سے) روزے نہ رکھ سکے پس ساٹھ مکسینوں کا (پیٹ بھر کر) کھانا کھلانا ہے ، یہ حکم اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (اور جہالت کے طریقہ کو چھوڑ دو ) اور یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں۔ اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے گئے جیسے ان سے پہلے لوگوں کو (پیغمبروں کی مخالفت کرنے کے سبب) ذلت دی گئی۔ اور بیشک ہم نے روشن آیتیں (رسول کی تصدیق پر) اتاریں اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہے۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن کہ ان سب کو اللہ اٹھائے گا اور پھر ان کا سب کیا ہوا ان کو جتا دے گا (کیونکہ) اللہ نے (ان کے عمل جو دنیا میں کرتے تھے) انہیں گن رکھا ہے اور وہ اس کو بھول گئے اور اللہ کو ہر چیز کی اطلاع ہے۔

(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ پلایا۔ مسئلہ۔ دودھ پلانے والیاں بسبب دودھ پلانے کے ماؤں کے حکم میں ہیں اور نبی کریم کی ازواج مطہرات بسبب کمال حرمت مائیں بلکہ ماؤں سے اعلی ہیں آگے فرمایا جو طریقہ ان لوگوں میں انجانے سے تھا اس وا اسطے جو کچھ ہوچکا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کو معاف کیا پھر فرمایا جس طرح ان لوگوں میں بی بی کو ماں کہہ بیٹھنے کاروان ہے اسی طرح یہ بھی رواج ہے کہ اپنے اس قول پر نادم ہوکر اس سے پھرجاتے ہیں اور پھر اس عورت کو بی بی کی طرح رکھنا چاہتے ہیں لیکن اسلام میں آئندہ حکم دیاجاتا ہے کہ ایسے نادم لوگ ایسی عورت کو بی بی بناکرکھنے سے پہلے کفارہ کے طور ایک غلام آزاد کریں ، اگر اتنا مقدور نہ ہوتودومہینے کے پے درپے روزے رکھیں، اگر مرض وغیرہ کے سبب سے روزوں کی طاقت نہ ہوتوساٹھ مسکینوں کا کھاناکھلادیں ، یہ اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو دے اور اگر مسکینوں کو اسکی قیمت دے یا صبح وشام دونوں وقت انہیں پیٹ بھر کر کھلا دیا جب بھی جائز ہے۔ مسئلہ : اس کفارہ میں یہ شرط نہیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے قبل ہو، حتی کہ اگر کھانا کھلانے کے درمیان شوہر اور بی بی میں قربت واقع ہوئی تو نیاکفارہ لازم نہ ہوگا۔ یہ کفارہ ظہار جو مقرر کیا گیا تو اس کے لیے تم سچے دل سے خدا اور رسول پر ایمان لے آؤ، فرض وسنت کا اقرار کرو خدا کی حدود شریعت کا لحاظ رکھو یہ اللہ کے احکام وفرائض کی حدیں ہیں۔ پھر فرمایا اس طرح کی کھلی کھلی باتوں سے اللہ کی شریعت اور اللہ کے رسول کی صداقت معلوم ہوجانے کے بعد جو کوئی اللہ کی اس حدبندی کو نہ مانے گا اور اس کی شریعت اور شریعت کے لانے والے رسول کی مخالفت کے درپے رہے گا، دنیا میں وہ پچھلی مخالف قوموں کی طرح کسی آفت میں پھنس جائے گا اور عقبی میں اس سے سخت مواخذہ ہوگا اور یہ لوگ تو حشر کے انکار کے سبب سے برے کاموں کی پرواہ نہیں کرتے، لیکن حشر کے دن کی سا کے ارادہ سے انکے چھوٹے بڑے سب کام اللہ کی نگاہ میں ہیں کیونکہ اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کفارہ کے دینے سے پہلے وطی اور اس کے دواعی (بوس وکنار) حرام ہیں ، اس طرح کہ ان دومہینوں کے درمیاں رمضان آجائے نہ ان پانچ دنوں میں سے کوئی دن آئے جن کا روزہ ممنوع ہے اور نہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے درمیان سے کوئی روزہ چھوٹ جائے اگر ایسا ہوا تو از سرنو روزے رکھنے پڑیں گے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

اے مخاطب ! کیا تو نے1 نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ، جہاں کہیں آپس میں تین آدمیوں کا مشورہ ہوتا ہے تو چوتھا اللہ موجود ہے اور جو پانچ میں مشورہ ہوتا ہے تو اللہ چھٹا ہوتا ہے ، اور خواہ اس سے کم ہو یا اس سے زیادہ ہو مگر اللہ (ہر حالت میں) ہر جگہ ان کے ساتھ ہے ۔ پھر ان (سب) کو قیامت کے روز ان کے کیے ہوئے عمل بتلا دے گا، بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

خدا ہر جگہ موجود ہے۔ (ف 1) یہاں وسعت علمی کا ذکر ہے نہ آسمانوں میں کوئی چیز اللہ پر مخفی ہے نہ زمینوں میں کوئی شے پوشیدہ ہے یہ اسلیے فرمایا ہے تاکہ ہر مکلف کو معلوم ہوجائے کہ انسان کا کوئی فعل کوئی قول کوئی حرکت کوئی دل کا مضمون اللہ پاک پر پوشیدہ نہیں جہاں تین آدمیوں میں کوئی مشورہ کرتا ہے کہ سوائے ان کے کوئی نہیں سن سکتا وہاں خدا چوتھا موجود ہے اور جہاں پانچ آدمیوں کا خفیہ مشورہ ہوتا ہے ان کے حال واقوال کا عالم، اور جہاں اس سے کم اور اس سے زائد خواہ کتنوں ہی کا خفیہ مشورہ ہو تو مگر وہ سب کے ساتھ رہتا ہے سب کا ہر وقت حال کہیں کیوں نہ ہوں ہر طرح جانتا ہے وہ سب کا مار کر اپنے پاس بلا کر بروز قیامت انکے اعمال نیک وبد کی خبر اور جزا دے گا وہ ہر بات کا بڑا علیم ہے کہ اس سے کچھ پوشیدہ ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayahs 58:8–10

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے1 انہیں نہ دیکھا ؟ جنہیں (باہم) بڑی مشوت سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر (بھی) وہ وہی کرتے ہیں جس چیز سے وہ منع کیے گئے تھے اور آپس میں مخفی مشورے کرتے ہیں گناہ اور زیاتی اور رسول اللہ کی نافرمانی کے بارے میں، اور وہ لوگ جب تمہارے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں سلام کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں : (اگر یہ نبی ہیں تو) اللہ ہم کو عذاب کیوں نہیں کرتا اس بات پر جو ہم کہتے ہیں۔ (گھبرائی نہیں) ان کے لیے جہنم کافی ہے اس میں داخل ہوں گے، پس دوزخ کیا ہی بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جب تم آپس میں مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کا مشورہ کیا کرو، اور اللہ سے ڈرو کہ جس کی طرف تم سب اٹھائے جاؤ گے

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

(گناہ اور زیادتی اور نافرمانی کا) مشورہ کرنا محض شیطان کی طرف سے ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج دے، اور وہ بغیر اللہ کے حکم کے کچھ ان کا نہیں بگاڑ سکتا اور مسلمانوں کو (ہر امر میں) اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

مسلم امت کے دشمن یہود ومنافقین۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو آپس میں سرگوشیاں کرتے ، اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے ، اور اس سے انہیں رنج ہو ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یا ہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئیں اور مسلمانوں نے نبی ﷺ کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سرد اور دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ نے سرگوشی کرنے والوں کو منع فرمادیا لیکن وہ باز نہ آئے اور یہ حرکت کرتے ہی رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ یہ منافق اور یہود لگ مل کر مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں جو کانوں میں کرتے ہیں اور یہود لوگ سلام کے بہانہ سے اللہ کے رسول کو بددعا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے وقت مقررہ آتے ہی ان سے ان کا بدلہ لیاجائے گا آخر پھر ایماندار لوگوں کو فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اپنا بھروسہ رکھیں، کیونکہ بغیرحکم اللہ تعالیٰ کے کسی بدخواہ کی بدخواہی کچھ ضرر نہیں پہنچاسکتی ، صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پھر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ حدیث اللہ پر بھروسہ رکھنے کے اجر کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے1 مسلمانو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دے دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو پس اٹھ کھرے ہو اللہ (اس حکم کی اطاعت سے) تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

ذکرالٰہی کی مجلس میں بیٹھنے کا طریقہ اور مجلسی ومعاشرتی آداب۔ (ف 1) شان نزول : نبی کریم ﷺ بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزت کرتے تھے ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جبکہ مجلس شریف بھرچکی تھی انہوں نے حضور کے سامنے ہوکرسلام عرض کیا حضور نے جواب دیا، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر وہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کے لیے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ۔ یہ سردار دوجہاں محمد مصطفیٰ کو گراں گزری تو حضور اپنے قریب والوں کو اٹھاکران کے لیے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ جب کسی مجلس میں تم جاؤ، وہاں تم سے کوئی کہے کہ ذراپرے کو سرک جاؤ، کھل کر بیٹھو تو ہٹ جانا چاہیے تم اگر مسلمانوں کو کشائش دو گے اللہ تعالیٰ تمہارے ہر کام میں کشائش کرے گا اور جب کوئی سردار مجلس تم سے کھڑے ہونے کو کہے تو تم کھڑے ہوجاؤ، یعنی اگر مشورہ کرنے کے لیے مجلس میں جاؤ وہاں کھل کر بیٹھا کرو، اور اگر مسلمان بھائی کے بیٹھنے کے لیے جگہ نہ ہو تو تھوڑاتھوڑا ادھر ادھر دب کر اسے جگہ دے دیا کرو اور جب مشورہ ختم ہوجائے مجلس کے برخاست کرنے کی ضرورت ہو تو اس وقت کھڑے ہوجانا چاہیے غرض ایسے موقع پر جم کر بیٹھنا کسی دعوت اور عبادت میں بھی لوگ زیادہ جم کربیٹھتے ہیں اور ان کا جم کر بیٹھنا گھر والوں کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے، الغرض کسی مسلمانوں کی ایذارسانی سخت ممنوع ہے خدا تم میں ان کو جو سچے دل سے ایمان لائے ہیں ان کا ظاہر و باطن محبت خدا اور رسول میں یکساں ہیں مراتب عالیہ بلند کرے گا اور جو علم دیے گئے ہیں ان کے مرتبے خوب برتر کرے گا، یعنی عالم دین کے مرتبے غیر عالموں سے بدرجہا زائد ہوں گے اور اللہ کو ان سب باتوں کی جو تم اچھی بری کرتے ہو خبر ہے۔
Ayahs 58:12–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے مسلمانوف 1 جب تم رسول اللہ سے راز کی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض کرنے سے پہلے کچھ صدقہ (مساکین کو) دے لو، یہ کام تمہارے لیے بہتر اور بہت ستھرا ہے، پس اگر تم کو (صدقہ دینے کا) مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے و الا مہربان ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو (بسبب اپنی غریبی اور ناداری کے) پھر جب تم یہ نہ کرسکے اور اللہ نے اپنی مہر (کرم) سے تم پر معاف فرما ای پس تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

(ف 1) شان نزول : نبی ﷺ کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا جب کوئی رئیس امیرمشورہ کر ارادہ کرے تو پہلے صدقہ دے کہ اس کے سبب سے فقراء کا دل بھی خوش ہوجائے اور روئسا بھی بیکار باتوں میں حضرت کے اوقات ضائع نہ کریں اور تکلیف نہ دیں غربا کو رنج بھی نہ ہوا کہ اور ان کی باتوں کے لیے بھی وقت نکل آئے اور فقراء کو اس بات کا حکم نہ دیا گیا کہ بلکہ اختیار رہا کہ جب چاہیں بلاتکلف مشورہ کریں جب یہ قید لگی روسا جو بیکار اور مشورہ کرتے تھے گھبرائے اور مشورہ کرنا چھوڑ دیا اور بات سمجھ گئے کہ توبہ کی ، تب اترا کہ جو مقصد تھا وہ حاصل ہوگیا۔ اور اے اہل اموال ، تم صدقہ دینے سے ڈر گئے اللہ نے بھی قید اٹھالی، مروی ہے کہ اس حکم پر حضرت علی نے عمل کیا ان کے پاس ایک اشرفی تھی اس کو دس درہم سے بیچا اور دس مسائل دریافت کیے عرض کیا یارسول اللہ وفا کیا ہے فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا، عرض کیا، فساد کیا ہے ؟ فرمایا کفر وشرک ، عرض کیا، حق کیا ہے فرمایا اسلام و قرآن اور ولایت جب تجھے ملے عرض کیا حیلہ کیا ہے یعنی تدبیر ، فرمایا ترک حکیلہ، عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے ؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ، عرض کیا اللہ سے کیسے دعامانگوں فرمایا صدق ویقین کے ساتھ عرض کیا اپنی نجات کے لیے کیا کروں ؟ فرمایا حلال کھا اور سچ بول ، عرض کیا سرور کیا ہے ؟ فرمایا جنت، عرض کیا راحت کیا ہے فرمایا اللہ کا دیدار، جب حضرت علی مرتضی ؓ ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور رخصت نازل ہوئی اور سوائے حضرت علی کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا۔ (مدارک خازن) ۔
Ayahs 58:14–22

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا1 تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اس قوم سے دوستی کر رکھی ہے جن پر اللہ کا غضب ہے یہ منافق لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان یہودیوں میں سے ہیں اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی (جھوٹی) قسموں کو (اپنے جان و مال کے بچاؤ کے لیے) ڈھال بنا لیا ہے، پھر اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا، پس ان کے لیے (آخرت میں) خواری کا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولاد (قیامت کے روز) اللہ کے عذاب سے ذرا نہیں بچائیں گے، وہ لوگ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے سامنے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسا کہ (اے مسلمانو ! ) تمہارے سامنے (جھوٹی) قسمیں کھا رہے ہیں، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں، آگاہ ہو بیشک وہی لوگ (اپنی قسموں میں) جھوٹے ہیں

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان غالب آگیا ہے تو اس نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی، یہ گروہ شیطان کا لشکر ہے آگاہ ہو بیشک جو شیطان کا لشکر ہے۔ وہی نقصان میں ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (سب سے) زیادہ ذلیلوں میں ہیں

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ (لوح محفوظ میں) لکھ چکا ہے کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوت والا غالب ہے

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تم ایسی کوئی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ رپ اور قیامت کے دنپر ایمان رکھتی ہے، کہ دوستی کریں ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی ہے اور اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہی (کیوں نہ) ہوں، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں میں ایمان اللہ نے نقش کردیا ہے اور اپنی طرف کی روح (یعنی فیض غیبی) سے ان کی مدد کی اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ جماعت اللہ کا لشکر ہے۔ آگاہ ہو بیشک اللہ ہی کا لشکر کامیاب ہے

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے محبوب ان منافقوں کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ ادھر تو انہوں نے اپنے ظاہری اسلام سے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور اسی طرح مدینہ کے گردونواح میں جو یہودرہتے ہیں ان کو اپنی دوستی اور رفاقت کے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور حقیقت میں یہ لوگ ادھر ہیں نہ ادھر ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے اسی لیے یہ دل سے کسی کے بھی ساتھی نہیں ہیں ، اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح ان منافق لوگوں نے اپنی جان اپنامال مسلمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی غرض سے دنیا میں اپنی جھوتی قسموں کو ڈھال ٹھہرارکھا ہے اسی طرح قیامت کے دن اللہ کے روبرو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہ دنیا میں یہ لوگ دل سے مسلمان تھے لیکن وہاں ان کی جھوٹی قسمیں اللہ عالم الغیب کے روبرو کچھ کام نہ آئیں گی پھر فرمایا یہ لوگ شیطان کے قابو میں ہیں اسی واسطے شیطان ان کے برے کاموں کو اچھا کرکے ان کو دکھلاتا ہے پھر فرمایا ایسے لوگ شیطانی جتھے کے لوگ ہیں اور یہ شیطانی جتھے کے لوگ آخر بہت خراب ہوں گے اور اللہ کے رسول اور رسول کے ساتھیوں کو آخرکوغلبہ ہوگا اور منافقوں کی بدخواہی کچھ کارگرنہ ہوگی پھر اللہ کے واسطے جن مسلمان لوگوں نے بدر کی لڑائی کے دن اپنے رشتہ داروں سے لڑ کر انکو قتل کیا تھا ان کی تعریف فرمائی تاکہ منافقوں کو عبرت ہو کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں جو خدا اور خدا کے رسول کی رضامندی کی خاطر اپنے رشتہ داروں کے دشمن بن جاتے ہیں ایسے لوگ مسلمان کیونکر ہوسکتے ہیں جو اللہ کے رسول کی بدخواہی کے لیے غیر قوم کے لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں بلکہ پکے مسلمانوں تو کافروں سے دشمنی ہی رکھتے ہیں انکے دین میں موافقت انکی خیرخواہی تو درکنار وہ سچے مسلمان ایسے پختہ دین میں مضبوط ہیں کہ وہ ہرگز غیر مذہب والے سے دوستی محبت نہیں برتتے، کہ جو خدا اور رسول کا مخالف وہ ان کا مخالف پھر مخالف سے موافقت و محبت کیسی اگرچہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ باپ دادا ہوں یا اولاد یا بھائی برادر یاقبیلہ کنبہ کے لوگ ہوں ۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ نے جنگ احد میں باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر ؓ نے روز بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کے لیے طلب کیا لیکن نبی ﷺ نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خاطب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روز بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب وحمزہ ابوعبیدہ ؓ نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا، جو ان کے رشتہ دار تھے خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس جو ایسے پکے مضبوط لوگ ہیں وہ سچے مسلمان ہیں خد انے ان کے دلوں میں ایمان بھردیا اور نور ایمان اتاردیا ہے کہ خدا اور رسول کے مقابلے میں ان کو کسی کی بھی پرواہ نہیں اپنی رحمت سے ان کے دلوں کو مضبوط کردیاقوت و غلبہ دیا ہے انکی مدد کی ہے ان کو جنتوں میں داخل کرے گا جن کے مکانوں باغوں درختوں کے نیچے شراب صاف وآب شیریں وشیرلذیذ وشہد نایاب کی نہریں رواں دواں ہوگی ، وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مرنانہ نکلنا، خدا ان سے راضی ان کے کاموں سے خوش، وہ اللہ کا لشکر ہیں اور خدا کا لشکر ضرور ہے کہ غالب ہوفوزفلاح پائے سخت عذاب سے بچے۔