57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ1 کی پاکی ہر وہ چیز جو زمین میں اور آسمانوں میں ہے بیان کرتی ہے (جاندار ہو یا بےجان) اور وہی غالب حکمت والا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے ، وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے ، اور ہر چیز پر قادر ہے۔

توحید کا بیان اور صفات باری تعالی۔ (ف 1) خدا کے نام کی سب آسماوزمین کی مخلوقات ہر ہر ذرہ قطرہ قطرہ ہر وقت تسبیح پڑھتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں فرمانبردار بندے ہیں وہ بڑی عزت بڑے رتبہ والا ہے اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں وہ اپنے قضا وقدر کے کارخانہ میں بڑی حکمت والا ہے، اور تمام آسمانوں کے خزانے بارش وغیرہ ، زمین کا خزانہ نباتات وغیرہ سب اسی کی مخلوق ومملوک ہیں وہ زندگی وموت کا مالک ہے ایک دفعہ انسان کو پیدا کیا اور وقت مقررہ پر اس کی روح قبض کرے گا اور نیک وبد کے حساب وکتاب کے لیے پھر وہ انسان کو زندہ کرے گا یہ سب باتیں اس کی قدرت میں ہیں کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی ہے ہر چیز سے اول اور2 وہی ہر چیز کے آخری رہے گا اور وہی (دلیلوں سے) ظاہر ہے اور وہی (اپنی حقیقت میں) پوشیدہ ہے اور3 وہی سب کچھ جانتا ہے ۔

(ف 2) الاول، کے معنی ہیں کہ اللہ کی ذات سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، الاخر، کے معنی یہ ہیں کہ تمام مخلوقات کے فنا ہوجانے کے بعد اسی کی ذات باقی رہے گی ، الظاہر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا حکم سب پر غالب ہے اور سب اس کے زیرحکم ہیں الباطن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے ، وھوبکل شئی علیم، کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک چیز اسی کی پیداوار کی ہوئی ہے اس لیے کسی چیز کا ظاہر و باطن کوئی حال اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ (ف 3) جب اللہ تعالیٰ کو زمین وآسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف میں اور سورة دخان میں گزرچکی ہے۔
Ayahs 57:4–6

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ4 دن میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) جانتا1 ہے جو کچھ زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور2 وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے (حسب اعمال جزا دے گا) ۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی ، اور اللہ ہی کی طرف سب کام رجوع ہوتے ہیں۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن کے حصہ میں داخل کرتا ہے (جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے) اور دن کو رات کے حصہ میں داخل کرتا ہے (جس سے رات بڑی ہوجاتی ہے) اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔

(ف 4) یہ استوی وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات کو مخلوقات میں سے کسی کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس کی صفات کو کسی کی صفات کے ساتھ، اسی واسطے سلف نے اس طرح کی آیتوں کی تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان آیتوں کے ظاہر معنی کو مدار تلاوت اور ایمان قرار دیتے ہیں اور ان کی تفصیل کو اللہ کے علم پر سونپتے ہیں مخلوقات میں عرش بڑی چیز ہے چناچہ معتبر سند سے تفسیر سعدی بن منصور میں مجاہد کا قول ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان میں ایک آدمی کے ہاتھ کا چھلہ۔ اور یہی حال کرسی کا عرش کے مقابلہ میں ہے۔ (ف 1) اس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا زمین میں اناج کا بیج یا میوہ کی گھٹلی جو کچھ بویاجاتا ہے اور آسمان سے مینہ برس کر جو اس کا پودا زمین سے نکلتا ہے یا جو نیک عمل آسمان پر جاتا ہے وہ ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور ان چیزوں کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور ان چیزوں کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ نے اپنے علم ازلی کے موافق ان سب چیزوں کو حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ (ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس کے اور اکثر سلف کے قول کے موافق یہ ہے کہ انسان کی کوئی حالت اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اسی واسطے فرمایا کہ جو عمل انسان کرتا ہے وہ اللہ دیکھتا ہے ۔ حضرت عمر کی صحیح حدیث گزرچکی ہے جس میں یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح دل لگا کر کرے کہ گویا عبادت کے وقت اللہ تعالیٰ انسان کو دیکھ رہا ہے۔ لہ ملک السماوات والارض ، ایک دفعہ انتطام دنیا اور دوسری دفعہ انتظام آخرت کے ساتھ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ دنیا میں جلانا اور مارنا عقبی میں جزا وسزا اسی کے اختیار میں ہے آگے آسمان کے پیدا کرنے کے ذکر میں آسمان کی حرکت سے رات دن جو پیدا ہوتے ہیں ان کا ذکر فرمایا کہ ان میں بھی قدرت کا یہ بڑانمونہ ہے کہ کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے اور کبھی رات اور کبھی دونوں برابر ہوجاتے ہیں پھر فرمایا کہ جس طرح ان انتظامات میں کوئی شے اللہ کے علم سے باہر نہیں اسی طرح انسان کے ظاہری کاموں کے علاوہ انسان کا دل نیت تک کا حال اس سے چھپا ہو انہیں اسی واسطے اس غیب داں نے دلی ارادہ اور نیت کی بنا پر نیک کاموں کے قبول، اور ناقبول کو، اور ان کی زیادتی اور کمی کو نیت پر منحصر رکھا ہے، مسند امام احمد میں معتبر سند سے محمود بن ابید کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جن نیک عملوں میں انسان کی نیت دنیا کے دکھاوے کی ہوگی، ایسے عملوں کا اجرا للہ تعالیٰ کی بارگاہ سے کچھ نہ ملے گا، بلکہ ایسے ریاکار لوگوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جن لوگوں کے دکھانے کو تم نے یہ عمل دنیا میں کیے تھے ان ہی لوگوں سے ان عملوں کا اجرمانگ لویہ حدیثیں آیت وھوعلیم بذات الصدور کی تفسیر ہیں کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کے انسان کے دل کا حال جاننے، اور اس پر عمل کے قبول ناقبول کیا وراجر کی کمی و زیادتی کی بناپرقرار دینے کی تفصیل ہے۔
Ayahs 57:7–8

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(تم لوگ) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور (اللہ کی راہ میں) کچھ وہ1 خرچ کرو، جس مال میں تم کو (اس نے) دوسروں کا جانشین کیا ہے ، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے ۔

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ ؟ حالانکہ اس کے پیغمبر تم کو اس بات کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ، اور بیشک خود اللہ تم سے (پہلے ہی) عہد لے چکا ہے (جبکہ تم کو پشت آدم سے نکالا تھا) اگر تمہیں یقین ہو۔

(ف 1) سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذراذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کریہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس لیے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے، عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارچ بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوامال اللہ کے قبضہ میں چلاجائے گا۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ آدمی نے جو کچھ کھایا پہنا وہ تو گیا گزرا ہوا جو اللہ کے نام پر دیا وہ عقبی کا ذخیرہ ہے اور جو چھوڑ کر مرا وارثوں کے نصیب کا ہے دنیا میں کوئی تجارت ایسی نہیں کہ جس میں ایک کے ساتھ سو ہوں، عقبی میں صدقہ خیرات کا اجر ایک کا سات سو تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہے چناچہ اس کا ذکر سورة بقر میں گزرچکا ہے اس لیے عقبی کے اجر کو بڑا فرمایا، قرآن شریف کا کلام الٰہی کا ہونا، اور محمد کا رسول ہونا، اکثر آیتوں میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے اہل قریش کا سمجھادیا اس لیے صدقہ خیرات کے ذکر کرکے بعد پھر ایمان کا ذکر دوبارہ فرمایا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ بغیر شرک سے باز آنے اور خالص ایماندار ہوجانے کے صدقہ خیرات کا کچھ اجر عقبی میں نہیں مل سکتا، بنی آدم کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سب بنی آدم سے توحید پر قائم رہنے کا عہد جو لیا ہے اس کا ذکر سورة اعراف میں گذرچکا ہے یہاں اس عہد کا ذکر کرکے ساتھ یہ فرمایا کہ تم لوگ اس عہد پر قائم ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس عہد کے یاد لانے کے لیے اپنے رسول کو بھیجا ہے جن پر اپنا کلام نازل فرمایا ہے اور وہ اللہ کے رسول اللہ کا کلام تم لوگوں کو ہر وقت سنا کر وہ عہد تمہیں یاد دلاتے ہیں اور توحید پر قائم رہنے کا راستہ تم کو بتلاتے ہیں تو پھر تم کو اب شرک سے باز آنے اور اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک مان لینے میں کیا عذر ہے اب مسلمان ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کیا دلائل ہوسکتے ہیں اگر لانا تو ایمان لاؤ۔
Ayahs 57:9–11

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی1 اللہ ہے جو اپنے بندے (محمد) پر اپنی روشنی آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں (کفر و شرک کی) اندھیریوں سے (نور ایمان کی) روشنی کی طرف لے جائے، اور بیشک اللہ تم پر شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے (دیکھو اے مسلمانو) تم میں سے وہ شخص برابر نہیں جس نے فتح مکہ سے پہلے (اللہ کی راہ میں اپنا مال) خرچ کیا اور (کافروں سے) جہاد کیا، وہ لوگ اللہ کے نزدیک مرتبہ ان میں سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا، اور (ان دونوں میں) ہر ایک سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا ہے ، اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے ۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو (خوش دلی سے) اچھا قرض دے تاکہ اللہ اس (دئے ہوئے) کو اس کے لیے دو چند کردے اور اس کے لیے عزت کا ثواب ہے۔

(ف 1) یہ اللہ تعالیٰ کی تم لوگوں پر ایک مہربانی ہے کہ وہ اپنے رسول پر صاف صاف طرح طرح کی فہمائش کی آیتیں نازل فرما کر تمہیں کفر وشرک کے اندھیرے سے نکالنا، اور تمہارے دل کو ایمان کے نور سے روشن کرنا چاہتا ہے ایمان کے دوبارہ ذکر کے ساتھ صدقہ خیرات کا ذکر تاکید کے طور پر ان لفظوں میں فرمایا جن کی تفسیر اوپرگذرچ کی ہے فتح مکہ سے پہلے اسلام کو ہر طرح کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی پھر فتح مکہ کے بعد غنیمت کا مال پا کر اہل اسلام غنی ہوگئے ۔ اسی واسطے فتح مکہ سے پہلے عین ضرورت کے وقت جن صحابہ نے اپنا مال اسلام کی مدد میں خرچ کیا ان کو بہت بڑا اجر مل گیا پھر فرمایا یوں تو فتح مکہ سے پہلے اور پیچھے جس کسی نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کا اجر رائگاں نہ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے سب کاموں کی خبر ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اللہ تعالیٰ نے اسکے اجر کا وعدہ فرمایا ہے اس لیے اس کو قرض سے مشابہت دی ، قرضا حسنا کے یہ معنی ہیں کہ اس میں دنیا کا کچھ دکھاوانہ ہو بلکہ جو کچھ خرچ کیا جائے خاص عقبی کے ثواب کی نیت سے ہو۔
Ayahs 57:12–15

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس1 دن تم مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو (پل صراط پر) دیکھو گے۔ کہ ان (کے ایمان و اطاعت) کے نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہے (اور جنت کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے) (ان سے فرمایا جارہا ہے) آج تمہیں خوشی ہو (تمہارے لیے) وہ جنتیں ہیں جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے، یہی بڑی کامیابی ہے ۔

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

(اور یہ وہ دن ہوگا) جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف شفقت کی نظر سے دیکھو تاکہ ہم (بھی) تمہارے نور ( ایمان ) کی روشنی حاصل کرلیں کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ وہاں روشنی تلاش کرو (وہ لوٹیں گے) پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں (جنت کا) ایک دروازہ ہے ، اس کے اندر کی طرف (اللہ کی) رحمت ہے اور اس دیوار کے باہر کی طرف عذاب ہے ۔

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

یہ منافق لوگ (دیوار کے پیچھے سے) مسلمانوں کو پکاریں گے : کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ، وہ کہیں گے : (ہاں) تھے تو سہی لیکن تم نے تو اپنی جانیں (نفاق و کفر سے) خود فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے تھے اور (دین اسلام میں) شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری باطل آرزوؤں نے دھوکہ دیا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (یعنی موت) اور تم کو فریب دینے والے شیطان نے اللہ کے حکم پر مغرور رکھا۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جاوے گا اور نہ کافروں ہی سے، تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ، تمہارے لیے دوزخ ہی لائق ہے اور وہ (کیا ہی) برا ٹھکانا ہے ۔

اہل جنت اور دوزخ کا ذکر۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے روز مسلمانوں کا حال دیکھنا وہ مرد اور عورتیں جو سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا نور ایمان و اعمال صالحہ ان کے سامنے اور سیدھی الٹی طرف جلوے دکھاتا ہوادوڑتا ہوا چلتا ہوگا یعنی جب پل صراط سے گزریں گے تو نور کی مشعلیں روشنی کی دکھائیں گی فرشتے چار طرف سے دل بڑھاتے ہوں گے خوش خبریاں مبارک بادیاں دیتے ہون گے کہ لواب چل کر جنتوں میں داخل ہو، وہ جنتیں جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے شراب وشہد کی نہریں رواں دواں ہوں گی اور وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ نکلیں گے یہ نہایت اعلی درجہ کی کامیابی ہے ، کہ جنت دوزخ سے بچے ۔ اس کے بعد منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے اسی لیے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ اندھیرے میں پیچھے رہ جائیں گے تو اس وقت ایمانداروں سے کہویں گے کہ ذراٹھہرا جاؤ تاکہ تمہارے نور کی روشنی سے ہم بھی کچھ چھلک پاکر اس اندھیرے کو طے کرلیویں، فرشتے یا مسلمان ان منافقوں کو جھڑک کر جواب دیں گے کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور وہاں روشنی کی تلاش کرویہ باتیں ہو ہی رہی ہوں گی کہ اتنے میں مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان میں ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ لگا ہوگا، اس احاطہ دیوار کے اندر جنت کی بہار ہوگی باہر جس طرف منافق ہوں گے سخت عذاب ہوگا نار ہوگی، جب دیکھیں گے کہ مسلمان مزے میں جنت میں جارہے ہیں اور یہ کھڑے منہ تک رہے ہیں تب منافق لوگ مسلمانوں سے پکار کر کہویں گے کہ اس وقت ہمارے ساتھ تھے دل سے تو تم بچلے ہوئے تھے اور اہل اسلام کی برائی چاہتے تھے اور دین کی باتوں کی طرف سے ایک شک کی حالت میں پڑے ہوئے تھے اور طرح طرح کی بےاصل آرزوں میں اپنی عمر گذارتے تھے مثلا یہ خیال کرتے تھے کہ اہل اسلام کو کافروں کے ہاتھ سے کچھ ضرر بھی پہنچا تو ہم امن میں رہیں گے کیونکہ ہمارا میل جول دونوں جانب سے ہے یہاں تک کہ اسی شیطانی بہکاوے میں تم مرگئے اس لیے آج تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت براٹھکانہ ہے۔ جس سے کچھ بدلہ دے کر بھی تمہارا چھٹکارا نہیں ہوسکتا، سورة آل عمران میں گزرچکا ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین بھر کا سونا بھی نجات کے لیے کافی نہ ہوگا۔ فضائل صدقہ و خیرات۔ مسندامام احمد ، صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں انکا حاصل یہ ہے کہ کلمہ گوآدمی خالص نیت سے ایک کھجور بھی اللہ کے نام پردے گا تو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے نجات پانے کے لیے یہ تھوڑی سی خیرات بھی اس کے کام آئے گی اس کا حاصل یہ نکلا کہ شرک ونفاق ایسی چیز ہے کہ اس کے سبب سے قیامت کے دن زمین بھر کے سونا بھی نجات کے لیے کارآمد نہیں اور توحید ایسی چیز ہے کہ جس کے سبب سے قیامت کے دن ایک کھجور بھی نجات کے لیے کارآمد ہے صحیح حدیثوں میں نبی ﷺ نے ریاکاری کو چھوٹا شرک فرمایا ہے اسی لیے جس طرح آدمی کو شرک ونفاق سے بچنا چاہیے اسی طرح ریاکاری سے بھی اسے بچنا چاہیے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا1 ایمانداروں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد میں جھک جائیں اور اس حق (یعنی قرآن) کے لیے جو اترا ہے ، اور ان جیسے نہ ہوں جن کو ان سے پہلے کتاب (آسمانی) دی گئی تھی (یعنی یہود و نصاری) پھر ان پر زمانہ بہت گزر گیا (اور توبہ نہ کی) پھر ان کے دل سخت ہوگئے، اور ان میں بہت لوگ فاسق ہیں۔

خدا کی رزاقی اور منافقوں کا ذکر۔ (ف 1) تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئیں اور معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہورہے ہیں کیا انہوں نے مذہب مقدس اسلام کی خوبیاں نہیں دیکھیں کیا انہوں نے رسول کے حالات میں غوروفکر نہیں کیا کب تک یہ لوگ نفاق چھپائیں گے اتنی باتیں سب ہوگئیں مگر کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل بھی خالصا لوجہ اللہ اسلام قبول کریں، اللہ کے ذکر کی ہیبت سے اور وہ روشنی اور مقدس قرآن جو یقینا حق ہے اور معرفت جبرائیل رسول پر اترا اور اس کی آیات وعدہ وعید سے امرونہی حلال و حرام وعظ ونصیحت ، اور خدا کی لذت توحید سے ان کے دل مچل اٹھیں نرمی عاجزی ، خلوص محبت، حلاوت ایمان، ذوق وشوق ، خضوع خشوع ان کے دلوں میں بھرجائے اور یہ ان جیسے نہ ہوجائیں جو ان سے پہلے کتاب دیے گئے تھے یعنی یہود کو کہ علم تورات ملا تھا، رسول کے آنے سے پہلے ان پر تورایت اتری تھی جب عمریں زائد ہوگئیں مال ہاتھ لگانفس کی آرزوں اور خواہشوں نے آکرگھیرا دل کی نرمی نکل گئی ایمان کی لذت جاتی رہی سخت دل ہوگئے حضرت موسیٰ کے دین کی مخالفت کرنے لگے ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی کافر، ان کی تقدیر میں کفر لکھا ہے یعنی وہ یہود نصاری جو نبی ﷺ پر ایمان نہیں لائے وہ سب دوزخی کافر ہیں۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

(اے لوگو)1 جان رکھو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مردہ (یعنی خشک) ہوجانے کے بعد زندہ (یعنی سرسبز) کرتا ہے، بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

(ف 2) اے لوگو ! سمجھو اور غور کرو کہ تم تمہاری زندگی موت تمہاری روزی سب خدا کے ہاتھ ہے جب زمین مردہ ہوجاتی ہے، خشک قحط زدہ ہوجاتی ہے اپنی قدرت سے اس کو زندہ کردیتا ہے یوں ہی تم کو تمہارے مرے پیچھے بارش زندگانی سے زندہ کردے گا خدا کی قدرت کے آگے یہ بات دور کیا ہے ، ہم نے تو قدرت کی دلیلیں خوب کھول کر واضح کردیں، اس لیے کہ تم سمجھو اور میرے پیچھے اٹھنے کی تصدیق کرو۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک1 خیرا دینے والے مرد اور خیرا دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو (خوش دلی سے) اچھا قرض دیا، انہیں دونا (ثواب ) ہے ، اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے (یعنی جنت) ۔

(ف 1) جو مسلمان مرد سچے دل سے خدا کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں اور جو مسلمان عورتیں اللہ کو قرض حسنہ دیتی ہیں یعنی جو اللہ کے رستہ میں خالص نیت سے اس کی خوشنودی کی خاطر خرچ کریں اور دوسرے سے کسی بد یا شکریہ کے طلب گار نہ ہوں گویا وہ اللہ کو قرض دیتے ہیں سو اطمینان رکھیں کہ ان کا دیا ہوا ضائع نہ ہوگا بلکہ کئی گنا کرکے لوٹایاجائے گا۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور2 جو لوگ اللہ پر اور اس کے سب پیغبروں پر ایمان لائیں وہی کامل سچے ہیں، اور وہ گزری ہوئی امتوں پر اپنے پروردگار کے ہاں گواہ ہوں گے، اور ان کے لیے ان کا ثواب (جس کا وعدہ کیا گیا) اور ان کا نور ہے) جو حشر میں ان کے ساتھ ہوگا) اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ لوگ دوزخی ہیں۔

(ف 2) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے سب رسولوں پر اور اس کے حکام واخبار میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں کرتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک صدیق ہیں ان کا مرتبہ وتصدیق کامل ہوگیا اور خدا کے پاس شہداء ہیں یعنی انبیاء کی گواہی دیں گے ان کو ان کا ثواب عظیم ملے گا اور ان کا پل صراط وغیرہ پر روشنی پھیلانا ہوگا، ۔ والشھداء یا توعطف ہوصدیقوں پر یاجملہ مستانفہ ہو، دونوں قول ہیں شہداء سے مراد انبیاء ہیں کہ اپنی امتوں پر تبلیغ کے گواہ ہوں گے ہماری امت مرحومہ یا عامہ اچھے لوگ ہر امت کے کہ رسولوں کے گواہ ہوں گے یا وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جان دیے گئے سرکٹائے گئے اور جن لوگوں نے چھپایا حق کو اور پیغمبروں کی نبوت کا انکار کیا اور تکذیب کی ہماری آیتوں کی یعنی نبی ﷺ قرآن کی تو وہ لوگ ضرور دوزخ میں جائیں گے اور سزا پائیں گے۔
Ayahs 57:20–21

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

(اے لوگو) جان رکھو (آخرت کے مقابلے میں) دنیا کی زندگی ایک کھیل اور بیہودگی ہی ہے اور زینت ہے اور تمہارا آپس میں فخر کرنا اور مال اور اولاد میں ایک1 دوسرے پر زیادتی چاہنا (اس دنیا کی مثال) اس بارش کی طرح ہے کہ جس کا سبزہ کھیتی کرنے والوں کو بھی معلوم ہوتا ہے پھر وہ (زور پکڑ کے) خشک ہوجاتا ہے ، پس تو اسے زرد دیکھتا ہے پھر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ، اور آخرت میں سخت عذاب ہے (اس کے لیے جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی) اور (جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دی) اس کے لیے اللہ کی بخشش اور رضا مندی ہے، اور دنیا کی زندگانی محض دھوکے کی پونجی ہے ۔

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(پس اے لوگو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف دوڑو، (یعنی اس کی اطاعت اختیار کرو) اور اس جنت کی طرف (بڑھو) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ ہے، ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے سب پیغمبروں پر ایمان لائیں، یہ اللہ کا فضل ہے اللہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ، اور اللہ بڑا فضل والا ہے ۔

کھیتی کی مثال سے دنیا کے ناپائدار ہونے کا ثبوت۔ (ف 1) ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائداری کا حال سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سرسبز ہوتی ہے جس سے کاشتکاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پھر چند روز میں وہ سب سرسبزی جاکر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھاجاتی ہے آخر وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں اور ان کا نام ونشان بھی نہیں رہتا، یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچہ کے بچپنے سے آخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال واولاد کی زیادتی کا آپس کا فخر دن بدن زیادہ ہوتا ہے مگر اس سب کی وہی حالت ہے جس طرح بچے کھیل کی کوئی چیز بناتے ہیں اور وہ دم بھر میں اس کی توڑ پھوڑ کر برابر کردیتے ہیں ، اسی طرح کوئی دن میں انسان کی نہ وہ قوت جسمانی رہتی ہے نہ مال واوالاد کی زیادتی کا کچھ ثمرہ باقی رہتا ہے کیونکہ مال اولاد دنیا میں ہی رہ جاتے ہیں اور مال والاد پر فخر کرنے والے دنیا سے خالی ہاتھ اٹھ جاتے ہیں اس واسطے اس دھوکے کی ٹٹی یعنی دنیا میں جنہوں نے کچھ عقبی کا سامان کرلیا ان سے ان کا خدا راضی وخوش رہے گا اور ان کے گناہ معاف فرماکران کو جنت میں داخل کرے گا، ورنہ سخت عذاب کا سامنا ہے۔ اب آخر کو فرمایا کہ جب دنیا کی زندگی ایسی بےبنیاد ہے تو اس پرفریفتہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس چند روزہ زندگی میں ہمیشہ کی راحت کا کچھ سامان کرلینا چاہیے اور سی دوڑ دھوپ میں تازیست لگے رہنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ بڑا صاحب فضل ہے تھوڑی سی عمر کی دوڑ دھوپ کے اجر میں وہ بہت کچھ دے سکتا ہے۔
Ayahs 57:22–24

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت1 (مثلا قحط، پھلوں کی کمی وغیرہ) زمین میں نہیں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں (یعنی تمہاری بیماری اور اولاد کے غموں کی) مگر وہ ایک کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں، بیشک یہ کام اللہ کے نزدیک آسان ہے ۔

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

اسی لیے بتا دیا کہ تم اس پر غم نہ کھاؤ (جو کچھ) تمہارے ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (یعنی نہ اتراؤ) اس پر جو تم کو دیا، اور اللہ کسی تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بخل کریں (یعنی راہ خدا میں اور امور خیر میں خرچ نہ کریں) اور دوسرے لوگوں سے بھی بخل کو کہیں، اور جو کوئی منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں والا۔

(ف 1) مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت سے فرقہ قدریہ کے مذہب کی پوری غلطی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں علم ازلی الٰہی کے موافق پہلے سب کچھ لکھاجاچکا ہے اب دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے تمام ملک کی آفت جیسے عام قحط یا عام وبا، جان کی آفت جیسے عزیزوقارب اولاد کامرجانا، انسان کو آئندہ کا حال معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انسان کو سمجھایا ہے کہ اللہ کا علم ایسا نہیں ہے اس کے علم میں حال کی موجودچیزیں اور آئندہ کی موجود ہونے والی چیزیں دونوں برابر ہیں اس واسطے اس کو دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح محفوظ میں لکھ لینا چاہیے کچھ مشکل نہیں اور یہ بھی سمجھایا کہ اس لوح محفوظ کے نوشتہ کے حال سے تم لوگوں کو اس لیے خبردار کیا گیا ہے تاکہ تم مصیبت کے وقت بہت رنج اور بےصبری نہ کرو اور یہ سمجھ لو کہ جو مصیبت آئی وہ تقدیر کے نوشتہ کے موافق ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں ۔ غرض رنج اور مصیبت کے وقت بالکل بےصبر ہوجانا اور راحت کے وقت اترانا بےفائدہ ہے معتبر سند سے ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کا درجہ عقبی میں بڑھانا چاہتا ہے تو ان پر کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے جس پر ان کو صبر کی توفیق دیتا ہے جس صبر کے اجر میں وہ اس درجہ کے قابل ہوجاتے ہیں اس قسم کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے نصیب میں جو مصیبت اور آفت لکھی گئی ہے وہ حکمت سے خالی نہیں ہے مصیبت کے بعد راحت کے باب میں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ راحت کے وقت اتراؤ نہیں کیونکہ دنیا کی راحت اور دنیا کی راحت والے سب ناپائدار ہیں ایسی ناپائدار حالت ہرگز اترانے کے قابل نہیں ہے آگے فرمایا کہ دنیا کی چند روزہ راحت پر اترانے سے تکبر بخل غرض ایسی ایسی باتیں انسان میں پیدا ہوتی ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ، پھر فرمایا کہ جو شخص اللہ کی نصیحت پر عمل کرنے سے منہ موڑے گا تو اللہ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں لیکن اس کے سب کام حکمت سے بھرے ہوئے لائق حمدوثنا کے ہیں جو کسی طرح منہ موڑنے کے قابل نہیں۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

بیشک1 ہم نے (اسی اصلاح آخرت کے لیے) اپنے پیغمبروں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور انصاف کی ترازو اتاری۔ کہ لوگ (حقوق اللہ اور حقوق العباد میں) انصاف پر قائم ہوں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت جنگ کے سامان اور لوگوں کے طرح طرح کے فائدہ ہیں، اور اس لیے کہ اللہ اس کو جان لے جو بےدیکھے اللہ (کے دین) کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے ۔ بیشک اللہ قوت والا غالب ہے ۔

رسولوں کا سلسلہ۔ (ف 1) اوپر جنت کے لیے دوڑدھوپ کرنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس دوڑ دھوپ کا طریقہ سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ہم نے رسول بھیجے جن کی تصدیق کے لیے ان کو طرح طرح کے معجزے دیے ان پر آسمانی کتابیں نازل فرمائیں پھر ہر زمانہ کے لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو مانا اور اللہ کے حکم کے موافق عمل کیا وہ جنت کی دوڑ دھوپ کے طریقہ میں کامیاب ہوئے اور جو اس طریقہ کے برخلاف رہے وہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبی میں ان کاٹھکانہ دوزخ ہے حاصل یہ ہے کہ نبی آخرالزمان کے عہد کے لوگوں کا انجام بھی اسی عادت الٰہی کے موافق ہوگا۔ کم تولنا اور خیانت کا عذاب۔ معتبر سند سے بیہقی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ جس طرح نماز روز وغیرہ آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے اللہ کی امانتیں ہیں اسی طرح ترازو کے ذریعہ سے پوراتولنا بھی اللہ کی ایک امانت ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ قول آسمانی کتابوں کے ساتھ ترازو کے ذکر کیے جانے کی گویا مستدرک حاکم میں بریدہ کی حدیث ہے، جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کم تولنے اور کم ناپنے سے اکثر قحط کی آفت آتی ہے کم تولنے کی زیادہ مذمت، ویل للمطفین میں آئے گی ، حاصل یہ ہے کہ ترازو قانون شریعت اتاری جس میں طریقے عدل و انصاف کے لکھ دیے کہ آدمی انصاف پرچلیں عدل اختیار کریں سیدھے راستہ پر رہ کر جنت کی دوڑ دھوپ میں کامیابی حاصل کریں حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر تورات کے نازل ہونے تک اللہ کے رسولوں کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا اس لیے مخالف لوگوں کی مخالفت اور نافرمانی جب بہت بڑھ جاتی تھی تو وہ ایک عام عذاب سے ہلاک ہوجاتے تھے تورات کے نزول کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مخالف لوگوں کے سامنے ہتھیاروں سے لڑنے کا بھی حکم دیا اس واسطے ان آیتوں میں رسولوں کے ذکر کے ساتھ لوہے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے جو لوگ اللہ کے رسولوں کی زبانی نصیحت کو نہ مانیں گے تو ان کو تلوار سے نصیحت کی جائے گی یہ بھی فرمایا کہ اس لوہے کے سوا لڑائی کے ہتھیاروں کے دنیا مین اور بھی طرح طرح کے کام چلتے ہیں پھر فرمایا کہ اللہ ایسازبردست ہے کہ اس کو لڑائی کا حکم دینے کی کچھ ضرورت نہیں بغیرلڑائی کے اس نے پچھلی بہت سی سرکش قوموں کو ہلاک کردیا، لیکن شریعت موسوی عیسوی اور محمدی میں جو اس نے لڑائی کا حکم فرمایا ہے، اس میں طرح طرح کی مصلحتیں ہیں ، مثلا یہ مصلحت کہ علم الٰہی میں جو لوگ اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کے حامی اور مددگارقرار پائے ان کا ظہور دنیا میں ہوجائے اور جب یہ لوگ اللہ کے دین کے پھیلانے میں اپنی جان دینے پر مستعد ہوجاتے ہیں توعقبی میں جو درجے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے رکھے ہیں ان درجوں کے پانے کے لیے یہ لوگ پورے مستحق ہوجائیں ۔
Ayahs 57:26–27

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب (یعنی توریت و انجیل و زبور اور قرآن) رکھی ، پس ان میں کوئی راہ پر آیا، اور بہترے ان میں سے فاسق ہیں۔

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد اسی راہ پر اپنے اور پیغمبر بھیجے، اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی، اور ہم نے ان کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں نرمی اور شفقت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا رکھی تو یہ بات انہوں نے خود اپنی طرف سے دین میں نکالی (یعنی بدعت) ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ، ہاں یہ بدعت خود انہوں نے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پیدا کی ، پھر جیسا اس کے نبھانے کا حق تھا ویسا نبھا نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا ثواب دیا اور ان میں سے بہتیرے فاسق ہیں۔

(ف 1) اوپر رسولوں کا ذکر مبہم طور پر تھا ان آیتوں میں ان کے سلسلہ کا ذکر ہے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر وہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اس لیے فرمایا کہ نبوت اور کتاب آسمانی کا سلسلہ ان ہی دورسولوں کے خاندان میں رکھا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جن دوخاندانوں کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کچھ تو ان میں سے راہ راست پر رہے اور اکثر بےراہ اور نافرمان ہیں یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسرائیل اور اسماعیل کی اولاد کو بنی اسماعیل کہتے ہیں ، یعقوب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسماعیل ، حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں ، بنی اسماعیل میں فقط نبی آخرالزمان اور بنی میں حضرت ابراہیم کی اولاد کی ایک شاخ کے اور انبیاء ہوئے ہیں بنی اسرائیل کی نبوت کا سلسلہ حضرت عیسیٰ پر ختم ہوتا ہے کیونکہ حضرت مریم کے خاندان کی طرف سے حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل میں ہیں اس واسطے خاص طور پر حضرت عیسیٰ کے ساتھ چلنے والوں سے مقصود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والے حواری اور حواریوں کے قدم بقدم چلنے والے وہ سچے عیسائی ہیں جو اسی اکیاسی برس کے قریب تک حضرت عیسیٰ کے بعد انجیل کے پورے پابند رہے کیونکہ اس کے بعد یونس یہودی نے فریبی عیسائی بن کر عیسائی دین میں طرح طرح کا اختلاف ڈال دیا ، چناچہ اس کی تفصیل سورة توبہ میں گذرچ کی ہے اور حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ بارہ اصحاب ہیں جو پہلے پہل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور دین عیسائی کے پھیلانے میں انہوں نے کوشش کی، حواری کے معنی مددگاروں کے ہیں انجیل میں خوش اخلاقی اور بنی آدم کو کس طرح کی ایذا نہ پہنچانے کی تاکید ہے اس واسطے جب تک عیسائیوں کے چند فرقے نہیں ہوئے تھے تو یہ لوگ بڑی نرم دلی اور خوش اخلاقی کا برتاؤ آپس میں رکھتے جب یونس یہودی کے بہکانے سے ان میں چند مختلف فرقے ہوگئے تو پھر یہ بات جاتی رہی اور ان میں بڑی خون ریزی آپس میں ہوئی جس کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں ہے رہبانیت کے معنی، عبادت الٰہی میں مصروف ہونے اور ترک دنیا کردینے کے ہیں معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم، مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں نبی نے فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ کے بعد عیسائی دین میں طرح طرح کی خرابی پڑگئی اور ظالم بادشاہوں نے دین اور عیسائیوں کو طرح طرح تنگ کیا تو ان دین دار عیسائیوں نے جنگل کا رہنا اور ترک دنیا کرکے سخت عبادت میں مصروف رہنااختیار کیا، گوفرض نہ تھا مگر انہوں نے خدا کی خوشی میں رہبانیت اختیار کی، گرجے گھر بنابنا کر الگ رہنے لگے یہ تو اچھا کیا لیکن یہ لوگ اپنی قرار داد پر قائم نہیں رہے اور ظالم بادشاہوں سے میل جول رکھنے لگے، آیت کے جس ٹکڑے میں عیسائیوں کی رہبانیت کا، اور پھر ان کے اس پر قائم نہ رہنے کا ذکر ہے، یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہما میں حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آدمی کو اپنی طاقت کے موافق ایسی عبادت کرنی چاہیے، جس کو وہ ہمیشہ نباہ سکے کیونکہ جو نیک کام ہمیشہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دین میں کسی بات کانکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الٰہی مقصود ہو و بہتر ہے اس پر ثواب ملتا ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہے، ایسی بدعت کو بدعت حسنہ کہتے ہیں، البتہ دین میں بری بات کانکالنا بدعت سیسہ کہلاتا ہے وہ ممنوع اور ناجائز ہے اور بدعت سیسہ حدیث شریف میں وہ بتائی گئی ہے جو خلاف سنت ہو، اس کے نکالنے سے کوئی سنت اٹھ جائے ، اس سے ہزارہا مسائل کا فیصلہ ہوجاتا ہے جن میں آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے امور خیر کو بدعت بتا کر منع کرتے ہیں جن سے دین کی تقویت وتائید ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اخروی فوائد پہنچتے ہیں اور وہ طاعات و عبادات میں ذوق وشوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو بدعت بتانا قرآن مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے، اب آگے فرمایا کہ جو ان پادریوں میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کو دہرا ثواب دیا ایمان و عبادت کا، جو عیسائی سچی عیسوئیت پر قبل نبی ﷺ کے تشریف لانے کے مشرف بہ اسلام ہوئے وہ جنتی ہیں اور ثواب والے اور اکثر فاسق وفاجر بدکار ہیں وہ جو نبی ﷺ پر ایمان نہیں لائے وہ درحقیقت عیسائی نہیں بلکہ ابن مریم کے سخت مخالف اور خدا کے گناہ گار کافر ہیں۔
Ayahs 57:28–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان والو !1 تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد) پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے اور تم کو نور عطا فرمائے کہ جس کی روشنی سے تم (پل صراط پر) چلو گے اور تم کو بخشش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

خدا نے اس معاملہ کی خبر اس لیے دی کہ اہل کتاب جان لیں یہ کہ وہ اللہ کے فضل پر ان لوگوں کا کچھ قابو نہیں، اور جان لیں کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ ہے، جس کو چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

(ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ آیت ایماندار اہل کتاب کی شان میں ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں جو لوگ موسیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات انجیل پر ایمان لاچکے ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے ان کو قرآن اور نبی آخرالزمان پر بھی ضرور ایمان لانا چاہیے کیونکہ بغیر اس کے تورات وانجیل میں جو اللہ کا عہد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا، یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے پھر فرمایا اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو ان کے دونوں زمانے کے عمل قابل اجراقرار پاکر ان کو دہرا اجر ملے گا ورنہ عہد شکنی کے گناہ میں ان سے مواخذہ کیا جائے گا، نور سے مقصود وہی پل صراط پر کی روشنی ہے جس کا ذکر اوپرگزرا۔ اب آگے فرمایا ایماندار اہل کتاب کو یہ دوہرا اجر اس واسطے دیا گیا کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ نبی آخرالزمان پر اور قرآن پر ایمان نہیں لائے انکو قیامت کے دن اپنی حالت پر افسوس رہے گا کہ یہ اللہ کے فضل کا دوہرا اجر انہوں نے اپنے ہاتھ سے کھویا، جب یہ اترا کہ اہل کتاب کے اسلام لانے والوں کو دوناثواب ملے گا تو مومنین اہل کتاب فخر کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے مومنین امت محمدیہ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی کہ جس طرح مومنین اہل کتاب ود شریعتوں کی پابندی کے معاوضہ میں دوہرا اجر پائیں گے اسی طرح مومنین امت محمدیہ کو اللہ کی ایک شریعت کی پابندی کے معاوضہ میں دوہرا اجر ملے گا تاکہ اہل کتاب یہ نہ جان لیں کہ دوہرے اجر کو انہیں کے ساتھ خصوصیت ہے، مومنین امت محمدیہ اس خصوصیت کے حاصل کرنے کی کسی طرح قدرت نہیں رکھتے اور یہ اللہ کا ایک فضل ہے جس کو کوئی روک نہیں سکتا۔