Ayah 59:1غزوئہ بنی نضیر :
1 : روایت میں ہے یہ تمام سورت مکمل طور پر بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی۔ اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ تشریف آوری پر بنونضیر سے صلح کرلی۔ اور شرط یہ قرار پائی کہ وہ نہ ان کی مخالفت کریں گے اور نہ آپ کی حمایت میں کسی سے لڑیں گے۔ جب بدر کے دن غلبہ آیا تو وہ کہنے لگے یہ وہ پیغمبر ہیں جن کی صفت تورات میں موجود ہے۔ اور اگلے سال احد میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تو انہوں نے آپ کی نبوت میں شک کیا اور معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ چناچہ کعب بن اشرف چالیس سوار لے کر مکہ پہنچا اور بیت اللہ کے پاس ابوسفیان سے معاہدہ کرلیا۔ آپ ﷺ نے اس غداری پر محمد بن مسلمہ کو حکم دیا۔ انہوں نے کعب بن اشرف کو ایک طریقے سے رات کو قتل کردیا۔ پھر لشکر لے کر بنو نضیر کا محاصرہ کرلیا۔ جو اکیس روز جاری رہا۔ آپ نے ان کے نخلستان کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا جس کی وجہ سے انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے جلا وطنی کے سوا ہر چیز سے انکار کردیا۔ کہ ہر تین گھر ایک اونٹ کا بوجھ لاد کر سوائے ہتھیاروں کے جو چاہیں اپنا گھریلو سامان لے جائیں۔ چناچہ وہ شام کے علاقہ میں اریحاء اور اذرعات کی طرف جلا وطن ہوگئے۔
Ayah 59:2حشر اوّل ‘ دوم ‘ سوم :
2 : ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے نکالا) اہل کتاب سے یہاں یہود بن نضیر مراد ہیں۔ مِنْ دِیَارِ ھِمْ سے مراد مدینہ منورہ ہے لِاَوَّ لِ الْحَشْرِ (پہلی بار اکٹھا کر کے) لام اخرج کے متعلق ہے۔ یہ اس طرح کی لام ہے جیسی اس ارشاد میں ہے۔ یالیتنی قدمت لحیاتی ] الفجر : 24[ اور عرب کہتے ہیں۔ جئتہ لوقت کذا میں فلاں وقت آیا مطلب یہ ہے اخرج الذین کفروا عند اول الحشر کافروں کو پہلے اکٹھ میں نکال دیا۔ اول الحشرکا مطلب یہ ہے کہ شام کی طرف یہ انکا پہلا اکٹھ ہے۔ یہ ایسے لوگوں کی اولاد تھے۔ جن کو پہلے جلا وطنی آج تک نہ ہوئی تھی۔ یہ پہلا گروہ ہے جن کو جزیرئہ عرب سے شام کی طرف نکالا گیا۔ نمبر 2۔ یہ ان کا پہلی مرتبہ جمع ہو کر نکلنا تھا۔ دوسری مرتبہ اکٹھے اس وقت نکلے جب عمر ؓ نے ان کو خیبر سے شام کی طرف جلاوطن کیا۔ اور ان کا آخری حشر قیامت کا حشر ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
جس کو شک ہو کہ محشر شام ہے پس وہ اس آیت کو پڑھ لے۔ پس ان کا یہ پہلا حشر ہے اور تمام لوگوں کا حشر ثانی ہوگا۔ جب یہود نکلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جائو تمہارا یہ اول حشر ہے اور ہم بھی تمہارے پیچھے ہیں۔ ] رواہ البیہقی فی الدر المنثور 8/89[
قولِ قتادہ m :
جب آخری زمانہ ہوگا۔ تو ایک آگ مشرق کی جانب سے نکلے گی جو لوگوں کو سرزمین شام کی طرف جمع کر دے گی اور وہیں ہم لوگوں پر قیامت قائم کریں گے۔
ایک اور قول یہ ہے :
انکو انکے گھروں سے نکالا۔ اس پہلے اجتماع کیلئے جو ان کے ساتھ لڑائی کیلئے تھا۔ کیونکہ یہ پہلا قتال تھا جو یہود کے ساتھ پیش آیا۔
مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا (تمہارا تو گمان بھی نہ تھا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے) کیونکہ وہ بڑے لڑاکے اور ان کے قلعے مضبوط اور حفاظت شاندار، جنگی اسلحہ اور افرادی قوت میں کافی حد تک مضبوط تھی۔ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مَّانِعَتُھُمْ حُصُوْنُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (اور انہوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ تعالیٰ سے بچا لیں گے) یعنی انکاگمان یہ تھا ان کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ ان حصونہم تمنعھم من بأس اللّٰہ اور انہم مانعتھم حصونہم من اللّٰہ دونوں تراکیب میں فرق یہ نمبر 1۔ خبر کو مقدم کرنا۔ یہ ظاہر کرتا ہے۔ ان کو قلعوں پر بہت زیادہ اعتماد اور ان کی حفاظت پر یقین تھا۔ نمبر 2۔ ھم کی ضمیرکو اَنَّ کا اسم بنایا گیا ہے۔ جبکہ جملہ کا اسناد اس کی طرف ہو رہا ہے۔ یہ ان کے اس اعتقاد کی دلیل ہے۔ کہ وہ ایسی عزت اور حفاظت میں ہیں کہ جس کے ہوتے ہوئے کوئی ان پر تعرض نہیں کرسکتا۔ یا ان پر غلبہ کی طمع نہیں کرسکتا۔ اور یہ باتیں ظنوا ان حصونہم تمنعھم میں نہیں پائی جاتیں۔ فَاَتٰھُمُ اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ سے آپہنچا) یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کا عذاب۔
قراءت : شاذ قراءت میں فآتاھم اللہ یعنی فٰاتا ھم الھلاک مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا (ایسی جگہ سے کہ جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا) اور ان کے دل میں خیال بھی نہ گزرا تھا۔ اور وہ کعب بن اشرف رئیس بنو نضیر کا اس کے رضاعی بھائی کے ہاتھوں قتل کیا جانا ہے۔ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ (اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا) رعب سے خوف مراد ہے۔ یُخرِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْھِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ (کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے)
قراءت : یخرّبون ابو عمرو نے پڑھا۔ تخریب اور اخراب : کسی چیز کو توڑ اور گرا کر بگاڑنا۔ الخربۃؔ : فساد و بگاڑ۔
وہ اپنے گھروں کو اندر سے بگاڑ رہے تھے اور مسلمان ظاہر اور باہر سے گرا رہے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی شان و شوکت کا استیصال چاہتے تھے۔ مدینہ میں نہ یہودیوں کا گھر رہے اور نہ گھر کا باسی۔ ان گھروں کو برباد کرنے کا جو چیز موجب بنی وہ یہ تھی کہ لکڑیوں اور پتھروں سے گلیوں کے ناکے بند کر رہے تھے۔ تاکہ مسلمان داخل نہ ہوں اور اگر وہ جلا وطن کردیے جائیں تو وہ مسلمانوں کے رہائش کے قابل نہ رہیں اور مکانات کی عمدہ عمدہ لکڑی اور کڑیاں جو ساگوان وغیرہ پر مشتمل تھیں وہ ساتھ لے جائیں۔ باقی مسلمان ان مکانات کو اس لئے برباد کر رہے تھے۔ تاکہ ان کی قلعہ بندی ختم ہو۔ اور لڑائی کا کھل کرموقعہ ملے اور تخریبھم بایدی المؤمنینکامعنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو عہد شکنی کر کے خود تخریب کے حوالہ کیا تھا۔ جب وہ خود اس کا سبب بنے تو گویا انہوں نے خود اس کا حکم کیا تھا۔ اور ان کو بتکلف اس کا ذمہ داربنایا تھا۔
فَاعْتَبِرُوْا یٰٓـاُولِی الْاَبْصَارِ (پس اے دانشمند و اس حالت کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو) یعنی اس بات میں غور کرو کہ ان کو کیا ہوا۔ اور اس کا کیا سبب تھا۔ پس اس سبب کو اختیار کرنے سے گریزکرو۔ ورنہ تمہیں ان کی سزابھگتنا ہوگی۔
قیاس کا جواز :
فائدہ : یہ قیاس کے جواز کی دلیل ہے۔
Ayah 59:33 : وَلَوْلَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآ ئَ (اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ دیا ہوتا) الجلاءؔ اہل و عیال سمیت وطن سے نکلنا۔ لَعَذَّبَہُمْ فِی الدُّنْیَا (تو دنیا میں ہی ان کو سزا دیتا) یعنی قتل اور قید کی سزا۔ جیسا کہ بنو قریظہ کے ساتھ پیش آیا۔ وَلَھُمْ (اور ان کے لئے) خواہ وہ جلا وطن ہوں یا قتل کئے جائیں۔ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ (آخرت میں آگ کا عذاب ہے) ۔ جس سے زیادہ سخت کوئی سزا نہیں ہے۔
Ayah 59:44 : ذٰلِکَ بِِاَنَّھُمْ (یہ اس سبب سے ہے کہ) ان کو یہ سزا اس سبب سے ملی کہ شَآ قُّوا اللّٰہَ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی) وَرَسُوْلَہٗ وَمَنْ یُّشَآ قِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور اسکے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دینے والے ہیں)
Ayah 59:55 : مَاقَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ (جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے) یہ ماقطعتم کا بیان ہے۔
نحو : ماؔ قطعتم کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا تم نے کیا چیز کاٹ ڈالی۔ ماؔ کی طرف راجع ضمیر اَوْتَرَکْتُمُوْھَا میں مؤنث لائے کیونکہ وہ لینۃ کے معنی میں ہے۔ اللِّینَۃُ کھجور کو کہتے ہیں۔ یہ الالوانؔ سے لیا گیا ہے۔ ماقبل کسرہ کی وجہ سے وائو کو یاءؔ سے بدل دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اَللِّینَۃ عمدہ کھجور کو کہتے ہیں۔ گویا انہوں نے اس کو اللین سے لیا ہے جس کا معنی نرمی ہے۔ قَآئِمَۃٍ عَلٰٓی اُصُوْلِھِا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ (یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اجازت سے ہوا) پس ان کا کاٹنا اور چھوڑنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا۔ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ ( اور تاکہ کافروں کو اللہ رسوا کردے) تاکہ یہود ذلیل ہوجائیں اور ان کو کاٹنے کا حکم دے کر بھی یہود کو جلایا۔
Ayah 59:6مالِ فئی :
6 : وَمَآ اَفَآ ئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو ان سے دلوایا) اس کو آپ ﷺ کیلئے فئی قرار دیا۔ مِنْھُمْ ھمؔ سے مراد بنو نضیر ہیں۔ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِکَابٍ (پس تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ) یہ اموال بنی نضیر کا حصول تمہارے گھوڑے دوڑانے اور سواریوں چڑھانے کی وجہ سے نہیں ہوا۔ الرکابؔ اونٹ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو حاصل کرنے کیلئے اور اس کو غنیمت بنانے کیلئے گھوڑوں اور سواروں کی ضرورت نہ پڑی اور نہ ان کے ساتھ لڑائی کر کے تمہیں تھکنا پڑا۔ بلکہ تم وہاں پیدل گئے کیونکہ یہ مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر قباء کے پاس ہی واقع ہے۔ آپ ﷺ گدھے پر سوار تھے پس وہی کافی ہوگیا۔
وَّ لٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ئُ (لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کرتا ہے) مطلب یہ ہے بنو نضیر کے جو اموال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عنایت فرمائے ہیں تم نے یہ اموال قتال و غلبہ سے حاصل نہیں کیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر تسلط دیا جیسا کہ وہ اپنے رسولوں کو ان کے دشمنوں پر تسلط دیتے آئے ہیں۔ پس ان کی تقسیم کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہ جیسے چاہے تقسیم فرما دیں اس کو ان غنائم کی طرح جن کے لئے قتال کیا جائے۔ تقسیم نہ کیا جائے گا۔ اور جن غنائم کو زور وقوت سے حاصل کیا جائے ان کی طرح اس کا حکم نہ ہوگا۔ آپ ﷺ نے اس کو مہاجرین میں تقسیم فرما دیا۔ صرف تین انصاریوں کو اس میں سے حصہ دیا گیا کیونکہ وہ مفلوک الحال تھے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے)
Ayah 59:77 : مَآ اَفَآ ئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ (جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافر لوگوں سے دلوائے۔ پس وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور رسول کے قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور مسافروں کا) اس جملے اور پہلے جملے کے درمیان عاطف نہیں لائے کیونکہ یہ پہلے جملے کا بیان ہے پس یہ جملہ اس سے اجنبی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال فئی دیا ہے۔ اس سے کیا کریں۔ آپ کو حکم دیا کہ اس کا مصرف وہی ہے۔ جو خمس غنائم کا ہے۔ جس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائیگا۔
بعض مفسرین کا قول :
بعض مفسرین نے اس قول کو کھوٹا قرار دے کر کہا کہ پہلی آیت تو اموال بنو نضیر کے سلسلہ میں ہے۔ جن کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سپرد فرمائی۔ اور یہ آیت ہر ایسی بستی کے متعلق ہے جو لڑائی کے بغیر حاصل ہو اور اس آیت میں اس کے خمس کا مصرف ذکر کیا گیا پس یہ ابتدائی کلام ہے۔
کَیْ لَایَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (تاکہ وہ مال تمہارے مالداروں کے قبضہ میں نہ آجائے)
قراءت : یزید نے تکون دولۃً پڑھا ہے۔ اور کان کو تامہ قرار دیا۔ الدُولۃ، الدَولۃ جو انسان کیلئے بدل کرآئے۔ اجداد سے گھوم کرآئے۔ اب اس کا معنی یہ ہوا : تاکہ وہ مال فئی جو فقراء کا حق خالص ہے تاکہ وہ اس سے گزر اوقات کرسکیں۔ وہ اغنیاء کے مابین جدی جائیداد نہ بن جائے جس سے اپنے مال کو اور زیادہ بڑھائیں۔ وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ (اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو) اور جس کے لینے سے تم کو روک دیں یعنی تقسیم غنیمت یا فئی میں سے جو حصہ اللہ تعالیٰ کا رسول تمہیں دے۔ فَخُذُوْہُ (پس اس کو قبول کرلو) وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ (اور جس کے لینے سے روک دیں) اور منع کردیں۔ فَانْتَھُوْا (پس اس سے رک جائو) اور اس کا مطالبہ مت کرو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ( اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! ) اس بات سے کہ تم ان کی مخالفت اختیار کرو۔ اور ان کے حکم کی بجا آوری میں سستی برتو ! اور نہی کو قبول کرنے میں پس و پیش کرنے لگو۔ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے) اس شخص کو جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے۔ بہتر قول یہ ہے یہ آیت عام ہو اور ہر امرو نہی رسول ﷺ اس میں شامل ہو اور اسی عموم کے تحت حکم فئی بھی داخل ہو۔
Ayah 59:88 : لِلْفُقَرَآ ئَ (اور ان فقراء)
نحو : یہ لذی القربٰی اور معطوف علیہ سے بدل ہے۔ یہ للّٰہ وللرسول سے بدل نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فقیر مہاجر نہیں کہا جاسکتا۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ینصرون اللّٰہ ورسولہ اور ظاہر ہے کہ اگر رسول کو فقراء میں بدل قرار دے کر شامل کیا جائے تو معنی اس طرح ہوجائے گا کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے فقراء مہاجرین اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یعنی رسول خود اپنی مدد کرتے ہیں۔ اور یہ مطلب درست نہیں پس یہ بدل بنانا اللہ عزوجل کی جو تعظیم واجب ہے اس کے خلاف بنتا ہے۔ الْمُھٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِ ھِمْ وَاَمْوَالِھِمْ (مہاجرین کیلئے ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے مالوں سے جدا کردیئے گئے) یعنی مکہ میں۔
خاص دلیل :
استیلاء کے ساتھ مسلمانوں کے اموال کے مالک بن جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو فقراء قرار دیا حالانکہ مکہ میں تو ان کے گھر اور جائیدادیں تھیں۔
یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا (وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کے طالب ہیں)
نحو : یبتغون یہ حال ہے فضل سے مراد جنت ہے وہ جنت اور رضائے الٰہی کے طالب ہیں۔ وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ( اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین کی مدد کرتے ہیں) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ اور اس کے رسول کی اعانت کرتے ہیں۔ اُولٰٓپکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ (یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں) یعنی اپنے ایمان اور جہاد میں۔
Ayah 59:9مدینہ دارالمہاجرین اور دارالہجرۃ :
9 : وَالَّذِیْنَ (اور ان لوگوں کا بھی حق ہے) اس کا عطف المہاجرین پر ہے۔ اور اس سے مراد انصار ہیں۔ تَبَوَّؤُا لدَّارَ (جو دارالاسلام) (مدینہ میں) ان مہاجروں کے آنے سے پہلے جاگزیں تھے) یعنی مدینہ میں رہائشی تھی۔ وَالْاِیْمَانَ (اور ایمان مخلصانہ لائے) یہ اس قول کے مطابق ہے۔ جو عرب کہتے ہیں۔ علفتھا تبنا و ماء باردًا یا انہوں نے اپنا مستقر و متوطن قرار دیا کیونکہ وہ اس پر پختہ اور مضبوط ہوگئے۔ جیسا کہ انہوں نے مدینہ کو بھی اسی طرح بنایا یا دارالھجرات کو دارالایمان قرار دیا۔ تو الدار کی لام تعریف کو مضاف الیہ کے قائم مقام رکھا اور دارالایمان سے مضاف کو حذف کردیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا۔ مِنْ قَبْلِھِمْ (مہاجرین سے پہلے جاگزین تھے) کیونکہ انہوں نے دارالہجرت اور ایمان کو ٹھکانہ دینے میں ان سے سبقت اور پہل کی۔ ایک قول یہ ہے ان کے ہجرت کرنے سے پہلے یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ (جو مہاجر ان کے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں۔ ان سے یہ محبت کرتے ہیں) یہاں تک کہ ان کو اپنے مال بانٹ کر دے دیئے اور ان کو اپنے گھروں میں اتارا اور جن کی دو بیویاں تھیں۔ ایک سے علیحدگی اختیار کر کے مہاجر بھائی سے شادی کردی۔ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا (اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ لوگ اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے) مہاجرین کو جو مال فئی وغیرہ دیا جاتا ہے۔ اس کے متعلق اپنے دلوں میں کوئی طلب و حاجت نہیں پاتے۔
ایک نکتہ :
آیت میں محتاج الیہ کا نام حاجۃ رکھا گیا۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کے نفوس مقدسہ اس قدر صاف ہیں کہ مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے۔ ان کے نفوس اس کی طرف لالچ کرتے ہوئے جھکائو بھی اختیار نہیں کرتے اور ان میں سے کسی ضرورت والی چیز کی طرف نگاہ بھی نہیں اٹھاتے (سبحان اللہ) ایک قول یہ ہے حاجۃ کا معنی حسد ہے اس چیز سے جو مہاجرین کو فئی میں سے دیا جائے۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو مال فئی کے ساتھ خاص کردیا تھا۔ ایک اور قول وہ اپنے دلوں میں ضرورت کی ایک ذرا سی رمق بھی نہیں پاتے اس مال کے چلے جانے سے جو ان مہاجرین کو دیا گیا۔ وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ ( اور ان کو اپنے سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان پر فاقہ ہی ہو) خصاصۃ فقر۔ اس کی اصل ہے خصاص البیت : گھر کے سوراخ۔ یہ جملہ موضع حال میں ہے۔ ای مفروضۃ خصاصتھم۔
انصاری ؓ اور مہمان :
روایت میں ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک مہمان آیا۔ انہوں نے بچوں کو پہلا کر سلا دیا اور مہمان کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور دیا صرف اس غرض سے بجھا دیا کہ مہمان سیر ہوجائے اور وہ اس میں سے نہ کھائے ] بخاری[۔ روایت انس ؓ : کسی انصاری کو بکری کی بھنی ہوئی سری بطور ہدیہ دی گئی۔ وہ شدید بھوک سے دوچار تھے مگر انہوں نے اپنے پڑوسی کی طرف بھیجی شاید ان کو ضرورت زیادہ ہو۔ نو اشخاص میں یہ گھومتی گھماتی پھر ان کے گھر واپس پہنچ گئی۔
قولِ ابو زید :
مجھے ایک بلخی نوجوان نے کہا تمہارے نزدیک زہد کیا ہے ؟ میں نے کہا جب ہم پاتے ہیں کھالیتے ہیں اور جب نہیں پاتے تو صبر کرتے ہیں اس نے کہا ہمارے ہاں بلخ کے کتے اسی طرح کرتے ہیں۔ ہمارا طرز عمل یہ ہے جب ہم نہیں پاتے تو۔ صبر کرتے ہیں۔ اور جب پالیتے ہیں تو دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُ ولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل کی وجہ سے محفوظ رکھا جائے پس وہی لوگ کامیاب ہیں) المفلح اپنے مقصد کو پانے والے۔ الشحؔ ملامت و کمینگی۔ آدمی کا اپنا نفس بعض اوقات روک لینے کا خواہاں ہو۔ البخل بعینہٖ روکنا۔ ایک قول یہ ہے ظلم سے کسی مسلمان بھائی کا مال کھا جانا۔ البخل اپنے مال کو دوسرے سے روکنا۔ بقول کسریٰ بخل فقر سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ کیونکہ فقیر وسعت آنے پر دیتا ہے مگر بخیل کبھی نہیں دیتا۔
Ayah 59:10حکم استغفار :
10 : وَالَّذِیْنَ جَآ ئُ وْ مِنْم بَعْدِھِمْ (اور ان لوگوں کا بھی جو ان کے بعد آئے) اس کا عطف بھی المہاجرین پر ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بعد میں ہجرت کی۔ ایک قول : احسان سے ان کی اتباع کرنے والے۔ ایک قول یہ ہے ان کے بعد قیامت تک آنے والے لوگ۔ قول عمر ؓ : اس میں ہر وہ بچہ داخل ہے جو قیامت تک مسلمانوں کا پیدا ہوگا۔ پس انہوں نے دونوں میں وائو کو عاطفہ مانا۔
قراءت : دونوں آیات میں للذین پڑھا گیا ہے۔
یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ (بعد کو آنے والے کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں) ایک قول یہ مہاجرین و انصار ہیں۔ قول عائشہ ؓ : لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کے لئے استغفار کریں مگر لوگوں نے ان کو گالیاں بکیں۔ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا (ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے متعلق کینہ نہ پیدا کردینا) غلاً : کینہ، حسد، بعض لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے) الذین ٰامنوا سے صحابہ کرام مراد ہیں۔ رَبَّنَآ اِنَّکَ رَ ئُ وْ فٌ رَّحِیْمٌ (اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق و رحیم ہیں)
قولِ سعید بن مسیب (رح) :
سعید سے پوچھا گیا تم عثمان و طلحہ و زبیر ؓ کے متعلق کیا کہتے ہو انہوں نے کہا میں وہ کہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہلوایا ہے اور یہ آیت پڑھی۔
Ayah 59:11منافقین کا حال :
1 1 : پھر بطور اظہار تعجب اپنے پیغمبر ﷺ کو فرمایا اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا (کیا آپ نے ان منافقین کی حالت نہیں دیکھی) یعنی اے محمد ﷺ کیا آپ نے عبدا للہ بن ابی اور اس کے حامیوں کو نہیں دیکھا۔ یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (کہ اپنے بھائیوں سے جو کفاراہل کتاب ہیں) اہل کتاب سے بنو نضیرمراد ہیں۔ اور اخوانھم سے مراد کفر میں شریک بھائی۔ لَپنْ اُخْرِجْتُمْ (واللہ اگر تم نکالے گئے) اپنے گھروں سے لَنَخْرُ جَنَّ مَعَکُمْ (تو ہم تمہارے ساتھ نکل جائیں گے) روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی اور اس کی پارٹی کے لوگ رات کو بنی نضیر کے پاس گئے اور کہنے لگے تم قلعہ سے مت نکلو اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھی تمہارے ساتھ لڑے تو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تمہارے لئے ان کو خود روک لیں گے اور اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا (اور ہم تمہارے سلسلہ میں کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے) فیکمؔ سے تمہارے ساتھ لڑائی کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں میں جو بھی ہو ہم کسی کی بات نہ مانیں گے خواہ مجبور کئے جائیں یا تمہارے رسوائی کے سلسلہ میں اور نصرت کا جو وعدہ ہم نے کیا اس کے خلاف کرنے میں ہم کسی کی بات نہ مانیں گے۔ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد ضرور کریں گے اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں) ان وعدوں میں جو بنو نضیر سے یہ زبانی کلامی کررہے ہیں۔
فائدہ : یہ اخبار بالغیب ہے جو وحی کے ذریعہ ہی ممکن ہے یہ آپ کی نبوت کی صداقت پر دلیل ہے۔
Ayah 59:1212 : لَپنْ اُخْرِجُوْا لَایَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَپنْ قُوْتِلُوْا لَایَنْصُرُوْ نَھُمْ لَیُوَ لُّنَّ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ (اگر اہل کتاب نکالے گئے تو یہ منافقین ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر ان کی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی) آیت میں فرمایا ولئن نصروھمؔ حالانکہ پہلے فرما دیا کہ وہ ان کی مدد نہ کریں گے تو یہ بالفرض والتقدیر کے طور پر فرمایا گیا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک ] الزمر : 65[ اور اللہ تعالیٰ کی ذات جس طرح مایکون کو جانتی ہے اسی طرح مالایکون کو بھی جانتی ہے اور اگر وہ ہوتا تو وہ کس طرح ہوتا مطلب یہ ہے کہ اگر منافقین نے یہود کی بالفرض مدد کی تو منافقین ضرور شکست کھائیں گے اس کے بعد پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرڈالیں گے اور ان کا نفاق ان کو بچا نہ سکے گا کیونکہ مخالفت رسول کر کے ان کا کفر ظاہر ہوگیا۔ یا یہود کو ضرور شکست ہوگی پھر منافقین کی امداد ان کا سہارا نہ بن سکے گی۔
Ayah 59:1313 : لَا اَنْتُمْ اَشَدُّرَھْبَۃً (اے مسلمانو ! بیشک تمہارا خوف ان کے دلوں میں بہت زیادہ ہے) رھبۃ یہ مصدر ہے مبنی للمفعول ہے ڈر میں بڑھ کر فِیْ صُدُوْرِھِمْ (ان کے دلوں میں) یہ ان کے نفاق کی دلالت ہے۔ یعنی وہ تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کا خوف ظاہر کرتے ہیں حالانکہ تمہارا خوف ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ہے۔ مِّنَ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ (اللہ تعالیٰ کے خوف سے یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں) وہ اللہ تعالیٰ کو جانتے نہیں نہ اس کی عظمت کو مانتے ہیں تاکہ یہ اس سے صحیح طور پر ڈرتے۔
Ayah 59:1414 : لَایُقَاتِلُوْنَکُمْ (وہ سب ملکر بھی تم سے نہیں لڑیں گے) یعنی تمہارے ساتھ لڑائی کی انہیں طا قت نہیں۔ جَمِیْعًا (اکٹھے مل کر) یعنی یہود و منافقین اِلاَّ (مگر یہ کہ ہوں) فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ (حفاظت والی بستیوں میں) خندقوں کی آڑ میں اَوْ مِنْ وَّ رَآ ئِ جُدُرٍ (یا دیواروں کی آڑ میں)
قراءت : مکی، ابو عمرو نے جدار پڑھا ہے۔
بَاْسُھُمْ بَیْنَھُمْ شَدِیدٌ (ان کی لڑائی آپس میں ہی بڑی تیز ہے) یعنی سخت لڑائی جس سے وہ معروف ہیں وہ اپنے مابین لڑی جانے والی ہے جبکہ وہ ایک دوسرے سے لڑیں اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو ان کی مضبوطی اور جنگجوئی نہیں رہے گی کیونکہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی میں بڑے سے بڑا بہادر بھی بزدل ہے۔ تَحْسَبُھُمْ (تم ان کو گمان کرتے) یعنی یہود و منافقین کو جَمِیْعًا (اکٹھے باہمی الفت و یگانگت والے) وَّ قُلُوْبُھُمْ شَتّٰی (حالانکہ ان کے دل غیرمتفق ہیں) الگ الگ ہیں ان کے اندر باہمی الفت کانشان نہیں۔ مطلب یہ ہے ان کے مابین کینے اور عدواتیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے مابین حقیقی یگانگت نہیں ہے۔
فائدہ : اس میں مسلمانوں کو جرأت دلائی گئی اور ان کے خلاف لڑائی کیلئے ان کے دلوں کو مضبوط کیا گیا ہے۔
ذٰلِکَ (یہ پراگندگی) بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ (صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں) دلوں کے تشتت و افتراق نے ان کے قویٰ کو کمزور کر ڈالا اور روحوں میں بزدلی پیدا کردی۔
Ayah 59:1515 : کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے) ان کی مثال اہل بدر جیسی ہے۔
نحو : مبتدأ کو حذف کردیا گیا ہے۔
قَرِیْبًا۔ ای استقروا قریبًا جو ان سے قریبی زمانہ میں ان سے تھوڑا عرصہ قبل ہوئے۔ ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ (وہ اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے) اپنے کفر کا برا انجام اور عداوت ِرسول ﷺ کا نتیجہ چکھ چکے۔ عرب کا قول ہے کلا وبیل بدمزہ بد انجام یعنی دنیا میں انہوں نے قتل کا عذاب پالیا۔ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا) اس کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دردناک عذاب آخرت میں ہوگا۔
Ayah 59:16منافقین کا حال شیطان کے مشابہ :
16 : کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْقَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْ ئٌ مِّنْکَ اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (شیطان کی ایسی مثال ہے کہ انسان سے کہتا ہے کافرہوجا۔ جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس سے کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں) منافقین کی یہودیوں کو لڑائی پر ابھارنے اور ان سے نصرت کا وعدہ کرنے پھر ان کے چھوڑنے اور مخالفت کرنے کی مثال شیطان جیسی ہے کہ جب وہ اپنے فریب سے انسان کو گمراہ کرلیتا ہے۔ تو آخرت میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس سے شیطان کا قریش کو گمراہ کر کے میدان بدر میں لاکھڑا کرنا ہے۔ اور یہ کہہ کرابھارنا۔ لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم الٰی۔ انی بریٔ منکم ] الانفال : 41[
Ayah 59:1717 : فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ (پس آخری انجام دونوں کا یہ ہوا) دونوں کافر انسان اور شیطان کا انجام اَنَّھُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْھَا (دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے) اَنَّ اپنے اسم و خبر سمیت یہ موضع رفع میں کانؔ کا اسم ہے اور عاقبتہما یہ اس کی خبر ہے اور خالدین حال ہے۔ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُاالظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کی یہی سزا ہے)
Ayah 59:1818 : یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو) اس کے اوامر کے سلسلہ میں اور ان کی خلاف ورزی مت کرو۔ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ (اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے)
ایک نکتہ :
نفسٌ کو نکرہ لائے کیونکہ آخرت کی طرف دھیان کرنے والے نفس قلیل ہیں۔
مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (کہ کل کے دن کیلئے اس نے کیا پہلے بھیجا ہے) غدؔ سے قیامت کا دن مراد ہے اس کو ذہن کی تقریب کیلئے اس دن سے تعبیر فرمایا جو آج کے دن سے متصل ہے یا نمبر 2۔ اس کو اس لئے غد سے تعبیر کیا گویا دنیا اور آخرت دونوں ہیں ایک آجکا دوسرا کل کا۔ اور پھر غدٍؔ کو نکرہ لاکر اس کی عظمت کو بڑھایا۔ کہ ایساکل جس کی عظمت شان کی وجہ سے کیفیت جانی نہیں جاسکتی۔
قولِ مالک بن دینار (رح) :
جنت کے دروازہ پر لکھا ہوگا ہم نے جو عمل کیا اس کو پالیا اور جو آگے بھیجا اس کو نفع سے پالیا اور جس کو پیچھے چھوڑا اس کا نقصان اٹھا لیا۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! ) نمبر 1۔ تقویٰ کے حکم کو تاکید کیلئے دوبارہ لائے یا نمبر 2۔ ادائے واجبات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کیونکہ پہلا واتقوا اللہ اعمال کے متصل آرہا ہے۔ اور پھر فرمایا واتقوا اللّٰہ اور اللہ تعالیٰ سے ترک ِمعاصی کے سلسلہ میں ڈرو، کیونکہ اس اتقوا اللہ کو اس کے ساتھ ملاکرذکر کیا جو وعید کے قائم مقام ہے اور وہ وعید جیسی آیت یہ آیت ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو) اس میں مراقبہ پر ابھارا گیا۔ کیونکہ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ سارے گناہ معلوم ہیں جن کا وہ ارتکاب کررہا ہے۔ اور جن سے رک رہا ہے۔
Ayah 59:1919 : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ (اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے بےپروائی اختیار کی) انہوں نے یاد الٰہی کو ترک کردیا اور جن باتوں کا ان کو حکم دیا تھا۔ ان کو چھوڑ بیٹھے۔ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ (تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی جانوں سے بےپرواہ بنادیا) اللہ تعالیٰ کی رحمت و توفیق ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (وہ وہی فاسق ہیں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنے والے ہیں۔
Ayah 59:20اہل جنت و دوزخ برابر نہیں :
20 : لَایَسْتَوِیْ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَآ ئِزُوْنَ (دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں۔ اہل جنت ہی کامیاب ہیں) اس میں لوگوں کو خبردار کیا اور یہ اعلان کرد یا گیا کہ لوگو ! تم کثرت ِغفلت اور آخرت کی فکر بہت کم کرنے اور دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں ترجیح دے کر اور شہوات کی پیروی کر کے اس درجہ میں پہنچ چکے۔ گویا کہ جنت و دوزخ کے فرق کو ہی تم نہیں جانتے اور ان کے رہنے والوں کے درمیان تو دور کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔ وہ تمہارے پیش نظررہا ہی نہیں۔ حالانکہ بڑی کامرانی تو اصحاب جنت کو حاصل ہوگی اور اصحاب نار کو دردناک عذاب میں مبتلا ہونا ہوگا۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو جانیں اور اس سے خبردار ہوں۔ جیسا تم اس شخص کو کہو جو اپنے باپ کی نافرمانی کرتا ہو۔ ھوابوک کہ وہ تیرا باپ ہے تم نے یہ جملہ اس کو اس انداز سے کہا ہے گویا وہ اپنے باپ کو جانتا ہی نہیں پس یہ جملہ کہہ کر تم اس کو حق بات یاد دلا رہے ہو جو کہ مہربانی اور صلہ رحمہ کا مقتضی ہے۔
استدلالِ شوافع :
اس آیت سے انہوں نے استدلال کیا کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا۔ اور کافر استیلاء سے مسلمانوں کے مال کے مالک نہیں بنتے۔ ان استدلالات کے جوابات اصول فقہ کی کتب میں عموماً اور خصوصاً ہماری کتاب الکافی میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
Ayah 59:21عظمت قرآن :
21 : لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تو اس کو دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا) مطلب یہ ہے کہ قرآن کی عظمت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی پہاڑ میں تمیز ڈال دی جائے۔ اور اس پر قرآن مجیدا تارا جائے تو وہ ضرور دب جائے جھک جائے۔ اور خوف الٰہی سے پھٹ جاتا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ تمثیل ہو جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں۔ انا عرضنا الامانۃ ] الاحزاب : 72[ اور اس پر آیت کا اگلا حصہ دلالت کر رہا ہے۔ وتلک الا مثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون۔ اس میں اس مثال اور اس جیسی دیگرامثلہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو قرآن مجید میں بیان ہوئیں۔ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (اور ان مضامین عجیبہ کو ہم لوگوں کے فائدہ کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ غور کریں)
اصل مقصود :
انسان کی سخت دلی پر اس کو خبردار کیا گیا کہ تلاوت قرآن کے وقت تجھ میں جتنا خشوع ہونا چاہیے وہ پایا نہیں جاتا اور اس کے زواجر و تنبیہات پر جیسا غور و فکر چاہیے ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔
Ayah 59:22تردید شرک بتذکرہ صفات باری تعالیٰ :
22 : : پھر شرک کی تردید فرمائی اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیا انکار کیا۔ ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سواء اور کوئی معبود بننے کے لائق نہیں۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا) غیبؔ سے سر اور شہادہ سے علانیہ نمبر 2۔ دنیا و آخرت نمبر 3۔ معدوم وموجود۔ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (وہی بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)
Ayah 59:2323 : ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ اَلْمَلِکُ (وہی اللہ تعالیٰ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے) کہ جس کی بادشاہی زائل نہ ہوگی۔
الْقُدُّوْسُ (سب عیبوں سے پاک) تمام قبائح سے منزہ۔ ملائکہ کی تسبیح میں یہ الفاظ ہیں سبوحٌ قدوس رب الملائکۃ والروح۔ السَّلٰمُ (سلامت رہنے والا ہے) زجاج کہتے ہیں السّلام وہ ذات کہ مخلوق جس کے ظلم سے سالم و محفوظ ہے۔ (کیونکہ وہ عادل ہے) الْمُؤْمِنُ (وہ امن دینے والا ہے) بقول زجاج امن عطاء کرنے والا۔ مخلوق جس کے ظلم سے مامون ہے یا وہ مطیع کو اپنے عذاب سے بچانے اور امن دینے والا ہے۔ الْمُھَیْمِنُ (نگہبانی کرنے والا ہے) ۔ ہر چیز پر نگہبانی کرنے والا۔ اس کی حفاظت کرنے والا۔ یہ الامنؔ مصدر سے مُفَیعل کا صیغہ ہے۔ البتہ یہاں ہمزہ کو ھاءؔ سے بدلا گیا ہے۔ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) وہ غالب ہے مغلوب نہیں۔ الْجَبَّارُ (خرابی کا درست کرنے والا ہے) بلندعظمت والا کہ سب اس کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ یا وہ قدرت و سلطنت میں عظیم الشان ہے۔ یا قہار و جبروت والا ہے۔ الْمُتَکَبِّرُ (جو بڑائی و عظمت میں انتہاء کو پہنچنے والا) سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (وہ کافروں کی شرک آفرینی سے پاک ہے) اس نے اپنی ذات کو ان سب صفات سے منزہ قرار دیا جو مشرکین اس کے متعلق بیان کرتے تھے۔
Ayah 59:2424 : ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ (وہی معبود ہے پیدا کرنے والا) جو اس نے بنانا ہے اس کا اندازہ کرنے والا الْبَارِیُٔ (ٹھیک ٹھیک بنانے والا) ایجاد کرنے والا۔ الْمُصَوِّرُ (صورتیں بنانے والا) مائوں کے رحموں میں لَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسنٰی (اسی کے اچھے اچھے نام ہیں) جو اس کی بلند صفات پر دلالت کرنے والے ہیں۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (جو چیزیں آسمانوں میں ہیں۔ اور زمین میں ہیں سب اس کی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے)
ایک نکتہ :
تسبیح باری تعالیٰ سے سورت کو شروع کیا گیا۔ اور اسی پر سورت کو ختم فرمایا گیا۔
:
نمبر 1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا۔ تم سورة حشر کی آخری آیات لازم پکڑو اور اس کی کثرت سے تلاوت کیا کرو۔ میں نے سوال دہرایا تو آپ نے یہی جواب دہرا دیا۔ میں نے تیسری مرتبہ سوال کو لوٹایا تو آپ نے تیسری بار اسی جواب کو لوٹا دیا۔ ] رواہ الثعلبی کمافی الکشاف[
نمبر 2۔ حضرت معقل بن یسار کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللّٰہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھ کر سورة حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرنے پر شام تک مقرر فرما دے گا۔ اور اگر اس روز مرجائے گا تو شہیدمریگا۔ اور اگر شام کو پڑھے گا تو تب بھی یہی مرتبہ ملے گا۔ ] رواہ الترمذی وقال حدیث غریب[