Ayah 59:1[ 1] کائنات پوری اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اپنی زبان قال سے جس کو ہم نہیں سمجھ سکتے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یسبح لہٗ السموٰت السبع والارض ومن فیہن ط وان من شیئٍ الا یسبح بحمدہٖ ولکن لاتفقھون تسبیحھم انہٗ کان حلیما غفورًا } [ بنی اسرائیل : 44 پ 15] یعنی اپنی زبان حال سے کہ ان میں سے ہر چیز ہر حالت میں اللہ پاک کی عظمت وقدرت اور اس کی حکمت وحدانیت کی گواہی دے رہی، ففی کل شیء لہ شاھد یدل علی انہ واحد۔ یعنی ہر چیز کے اندر ایک شاہد موجود ہے، جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو اس آیت کریمہ سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول و منہمک ہے، اور یہ اپنی بندگی اور سرافنگندگی سے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے نقص و عیب اور ہر شائبہ شرک و اشتراک سے پاک اور بری ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو بندہ جب اس وحدہٗ لاشریک کی تسبیح و تقدیس سے سرشار ہوگا تو اس کو اس پوری کائنات کی ہمنوائی نصیب ہوگی اور اس طرح اس کو اس پوری کائنات کی طرح پوری کائنات کی خیرات و برکات سے سرفرازی نصیب ہوگی، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 2] اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے مقصود و مراد ؟:
یعنی ہر چیز اس کی عظمت و تقدیس اور اس کی پاکی اور یکتائی کا اظہار وبیان کرتی ہے، سو زمین و آسمان کی ہر چیز نے اس کی تسبیح کی، اور ہر چیز اس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے، یعنی یہاں ماضی کا صیغہ سبح استعمال ہوا ہے جبکہ دوسرے مقام پر یسج یعنی مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، اور کسی جگہ سبحان مصدر کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، پس ان سب سے معلوم ہوا کہ ہر چیز اللہ پاک کی تسبیح کرتی ہے، اور ہر حال میں ہر زمانے میں کرتی ہے، ماضی میں بھی، اور حال اور مستقبل میں بھی، فسبحان اللہ الذی لا الہ الاھو، و سبحان اللہ وبحمد و سبحان اللہ العظیم، عدد خلقہ ورضا نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ، اور مقصود اس تسبیح و تقدیس سے یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق ہر نقص و عیب اور ہر شائبہ شرک و اشتراک سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے، وہ ہر چیز پر پوری قدرت اور کامل اقتدار رکھتا ہے، اور اس کا ہر کام حکمت سے ہوتا ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہوسکتا، اس وجہ سے بندوں کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی کے حوالے کر دے اسی پر بھروسہ کرے اور اس کے احکام کی دل و جان سے تعمیل کرے، اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے، کہ مصرف حقیقی وہی ہے، اس کے اذن کے بغیر کوئی چیز اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتی، سبحانہ وتعالیٰ ، وہی ہے جو بڑا ہی زبردست اور نہایت ہی حکمت والا ہے، پس اسی کی اطاعت و بندگی بندوں پر اس کا حق بھی ہے، اور اسی میں ان کی سعادت و سرفرازی بھی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayah 59:2[ 3] یہود بنو نضیر کی غداری اور ان کے حشر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ ہے جس نے نکال باہر کیا اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے، ان لوگوں سے مراد ہے یہود بنو نضیر، جن کو ان کی غداری اور بدعہدی کی بناء پر مدینہ منورہ سے ذلیل و خوار کرکے نکال باہر کیا گیا تھا اور ان کے شر و فساد اور خباثت و نجاست سے اس بقعہ مبارکہ کو ہمیشہ کے لیے پاک اور صاف کردیا گیا، ان لوگوں نے حضور ﷺ سے امن و صلح کا معاہدہ کیا ہوا تھا لیکن اپنی مشہور و معروف عہد شکنی اور دھوکہ بازی کی خصلت کی بناء پر انہوں نے غزوہء بدر کے چھے مہینے میں اسلام کے دشمنوں سے سازباز کرتے ہوئے اپنے اس عہد و پیمان کی خلاف ورزی کی، اور یہ بدبخت حضور ﷺ کے قتل کی ایک ناکام سازش کے بھی مرتکب ہوئے، تو اس پر حضور ﷺ نے ان کو مدینے سے نکل جانے کا حکم دیا، پہلے تو وہ اس حکم کی تعمیل کیلئے آمادہ ہوگئے، لیکن بعد میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے اکسانے بھڑکانے اور اس کے جھوٹے وعدوں کی بناء پر یہ اس کے منکر ہوگئے جس کے نتیجے میں یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 4] یہود بنو نضیر کی جلاوطنی اور ان کی بےبسی کی تصویر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، پہلے ہی مرحلہ میں اور اپنی جس قوت پر ان کو ناز تھا اور جس اسباب و متاع قلعہ بلندیوں پر ان کا تکیہ تھا اللہ کی پکڑ اور اس عذاب کے مقابلے میں ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے کچھ کام نہ آسکی، اور یہ ان کا پہلا حشر تھا کہ دور رسالت ہی میں ان کو اس طرح ذلت و خواری کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکال کر خیبر بھیج دیا گیا، اور پھر دوسرا حشر ان کا وہ تھا جبکہ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں ان کو خیبر سے بھی نکال کر ارض شام کی طرف بھیج دیا گیا، جہاں سے ان کا آخری حشر ارض محشر میں ہوگا، اور اس حشر و اجتماع سے مراد کا وہ اجتماع ہے جو کہ ان یہود سے جنگ کرنے کے لیے ہوا تھا، یعنی ابھی مسلمانوں کا ان سے لڑنے کے لیے اجتماع ہی ہوا تھا لڑنے بھڑنے کی ابھی نوبت ہی نہیں آئی تھی کہ اللہ پاک کی قدرت سے ان کے دلوں پر ایسا رعب کردیا گیا کہ یہ خود ہی جلاوطن ہونے کیلئے تیار ہوگئے سو اس صورت میں " اول الحشر اول وہلہ " کے معنی میں ہوگا، [ روح محاسن التاویل، جامع البیان، قرطبی، خازن اور مراغی وغیرہ ] یہ دونوں ہی قول و احتمال صحیح اور درست ہیں اور معنی و مطلب دونوں ہی صورتوں میں واضح ہے، مگر دوسرا قول و احتمال اس اعتبار سے زیادہ دل کو لگتا ہے کہ ان لوگوں کو اپنی جن قلع بندیوں اور ظاہری اسباب و وسائل پر ناز تھا، وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں، اور یہ اول وہلہ ہی ہمت ہار کو جلاوطنی کے لیے تیار ہوگئے، سو اصل مدد اور حقیقی قوت وہ ہے، جو کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے، جس کا ذریعہ ایمان و یقین اور اعتماد و توکل علی اللہ ہے، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، جل وعلا،
[ 5] کفار و مشرکین کا اعتماد محض ظاہری اسباب پر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے یہ گمان کر رکھا تھا اور خود منافقین کو جن کا ذکر پچھلی سورت میں آیا ہے، انہوں نے بھی یہ سمجھ رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو بچا دیں گے، اللہ کی پکڑ سے، یہ ہے یہودی ذہنیت اور ان کے دین و ایمان کی حقیقت کہ اللہ پاک کے مقابلے میں یہ لوگ اپنے قلعوں کو زیادہ قوی اور مضبوط سمجھتے ہیں، اور جس قوم کی کتاب مقدس میں یہ تک لکھا ہو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) رات بھر اللہ پاک سے کشتی لڑتے رہے آخر کار انہوں نے اللہ کو بچھاڑ دیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، تو اس قوم سے کچھ بھی کیا بعید ہوسکتا ہے، افسوس کہ اسی طرح کے جراثیم بہت سے نام نہاد مسلمانوں کے اندر بھی پائے جاتے ہیں، جیسا کہ لفظ " دستگیر " کے پیچھے بھی اسی طرح کا ایک بےہودہ قسم کا قصہ گھڑا گیا ہے، جس کو زبان پر لانا بھی ایک مسلمان کو گوارا نہیں ہوسکتا، سو اللہ کی پکڑ سے دنیا کی کوئی بھی چیز کسی کو نہیں بچا سکتی۔ بلکہ بچانے اور حفاظت کرنے والی ذات صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی ذات ہے مگر ایمان کی دولت سے محروم لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی، کہ وہ اپنے ظاہری اسباب و وسائل ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اس لیے کفار و مشرکین کا بھروسہ و اعتماد محض ظاہری اسباب و وسائل پر ہوتا ہے، اور ظاہر ہے کہ ماہ پرست نگاہیں اس سے آگے کچھ دیکھنے سمجھنے کی اہل ہی نہیں ہوسکتیں، نور ایمان و یقین سے محروم مادہ پرستوں کا کل بھی یہی حال تھا، اور آج بھی ان کا یہی حال ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان و یقین کی اسی دولت سے سرفراز و سرشار اور حق و ہدایت کی راہ پر ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 6] خدائے پاک کا عذاب بےامان و گمان، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر اللہ کا عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں تھا، کہ ایمان و یقین کی دولت جو کہ اصل طاقت اور قوت مدافعت ہے، اس سے تو یہ لوگ سرے سے عاری اور محروم تھے، پھر حضور ﷺ کے ایک اشارہء ابرو پر حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کے ہاتھوں ان کے سردار کعب بن اشرف کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس کے بعد یہ لوگ حواس باختہ ہوگئے، تیسری طرف رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ابن سلول نے جو مدد و معاونت کے وعدے ان سے کر رکھے تھے، اور اس نے ان کو کو بڑے سبز باغ اس نے دکھا رکھے تھے، ان میں سے کچھ بھی وقت پڑنے پر ان کو نہ مل سکا، اور چوتھی طرف آنحضرت ﷺ سے کیے گئے معاہدہ امن کی خلاف ورزی اور بدعہدی میں یہ لوگ اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ اب اس سے واپس آنے اور اپنے کیے کے انجام سے بچنے کی کوئی صورت ان کے لیے باقی نہیں رہ گئی تھی، اور اس طرح جن چال بازیوں کو یہ لوگ اپنی قابلیت و لیاقت اور ہنرمندی سمجھ رہے تھے وہی ان کو ذلت و رسوائی اور ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں اتار کر رہیں، والعیاذ باللّٰہ، سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدائے پاک کا عذاب بےامان و بےگمان ہے، اس سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا سوائے اس وحدہٗ لاشریک کے کرم و احسان کے، اس کے سوا باقی سب چیزیں دھوکے کا سامان ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 7] رعب ایک غیر مرئی اور ہولناک خدائی لشکر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا، ایسا سخت رعب کہ اس لیے متن میں قذف کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے، جس میں ایک خاص شدت اور سختی کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی لئے متن میں قذف کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے، جس میں ایک خاص شدت اور سختی کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی لئے عربی زبان میں بم کو بھی قذیفہ کیا جاتا ہے اس کی خاص قوت اور زور کے اعتبار سے، سو قدرتی رعب کے اس غیر مرئی اور غیر محسوس بم نے ان لوگوں کے حوصلوں اور ہمتوں کو ایسا ملیا میٹ اور پاش پاش کرکے رکھ دیا کہ ان میں مقابلہ کے لئے اٹھنے اور کھڑنے ہونے کی ہمت اور سکت ہی باقی نہ رہی، سبحان اللّٰہ ! اللہ تعالیٰ کی قوتوں اور لشکروں کے کیا کہنے ان کو کون سمجھ اور جان سکتا ہے، اور ان کے مقابلے کی کسی کے اندر کسی ہمت اور حوصلے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کو تو اپنے مضبوط قلعوں اور گڑھوں پر بھروسہ اور اعتماد تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں کی دیواروں کو بھی ہٹانے کی ضرورت نہ سمجھی، بلکہ براہ راست ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ انہوں نے اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑا، سو اصل طاقت اسلحہ اور قلعوں کی دیواروں کے اندر نہیں، بلکہ دلوں کے اندر ہوتی ہے، جو پیدا ہوتی ہے اللہ پر ایمان اور یقین سے اور یہ قوت و طاقت انسان کے اندر موجود ہو تو وہ بےتیغ بھی لڑتا ہے، اور یہ اگر موجود نہ ہو تو ایٹمی اسلحہ بھی بےسود اور لاحاصل ہو کر رہ جاتا ہے۔ چناچہ بعض اوقات بلکہ ایسا بھی بسا اوقات ہوتا ہے کہ باطن کے ضعف اور کمزوری کی بناء پر اسلحہ دوسروں کے ہاتھ لگ کر خود انہی کی تباہی کا باعث بنتا ہے جیسا کہ جا بجا اس کی مثالیں موجود ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو رعب ایک غیر مرئی اور ہولناک خدائی لشکر ہے۔ جس کے بعد کسی کو اس کی کوئی طاقت اور قوت کام نہیں آسکتی، اور اللہ پاک کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ { وما یعلم جنود ربک الا ھو }[ المدثر : 32] یعنی تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی جان ہی نہیں سکتا اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 8] بنو نضیر کی مرعوبیت اور بدحواسی کی تصویر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو، جو کہ کڈا جانے انہوں نے کتنی چاہتوں اور ارمانوں کے ساتھ بنائے تھے، جن پر ان کو بڑا فخر و ناز تھا، جو ان کے دل و دماغ میں پیوست ہوچکے تھے، اور جن کی بناء پر وہ اس قدر مست ومگن تھے، کہ حق و ہدایت کی آواز پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے تھے، سو آج ذلت و خواری کے اس ہیبت ناک دن میں یہ ان کو اپنے ہاتھوں سے اس طرح اکھاڑتے بگاڑتے اور ویران کر رہے تھے سو یہ ان کی مرعوبیت اور بےبسی کی تصویر پیش فرمائی جا رہی ہے، چناچہ وہ لوگ اپنے گھروں کو خود اکھاڑ اکھاڑ کر شہتیروں کڑیوں اور کھڑکیوں، دروازوں کو اپنے اونٹوں پر لادلاد کرلے جا رہے تھے، سو اس سے ان بدبختوں کے حرص مال کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور اسلام کی راہ اور مسلمان دشمنی کا بھی کہ انہوں نے کوئی ایسی چیز وہاں نہیں چھوڑی جو مسلمانوں کے کام آسکے، اور دشمنی کے اس جذبے کی بناء پر انہوں نے جو کچھ وہاں بچ رہا ہوگا، وہ بھی خراب کرکے رکھ دیا ہوگا، تاکہ بعد میں وہ مسلمانوں کے کام نہ آسکے اور اس طرح وہ حسرتوں پر حسرتوں اور ذلتوں پر ذلتوں کے ساتھ وہاں سے نکالے اور کھدیڑے گئے، اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حق اور اہل حق سے دشمنی اور ان سے بغاوت و سرکشی کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک، فی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام، ویا دائم الفضل والاحسان، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
[ 9] بنو نضیر کی تباہی مسلمانوں کے ہاتھوں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی، کہ مسلمانوں کو اس کام پر ابھارنے اور اکسانے کا باعث یہ لوگ خود تھے، اور انہوں نے خود ہی اپنی غداریوں اور عہد شکنیوں سے معاملہ اس حد تک پہنچایا تھا، یہود بنو نضیر نے مسلمانوں کے محاصرے سے تنگ آکر جلا وطنی قبول کرلی، اور آنحضرت ﷺ کی طرف سے ان کو یہ اجازت دے دی گئی کہ جو اور جتنا سامان وہ انٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں، لے جائیں، بجز اسلحہ کے، کہ اس کے لے جانے کی کوئی اجازت نہیں ہوگی، تو اس سے اس خسیس قوم نے اپنے گھروں کو اکھاڑ کر ان کے دروازے اور شہتیر بھی ساتھ لے جانے کیے، جس سے ان کی خست و دناءت حب دنیا اور مادہ پرستی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور ان کی اس مرعوبیت اور بےبسی کا بھی جس سے یہ دو چار ہوئے، اور اس شکست و ریخت میں مسلمان بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے، سو آیت کریمہ میں اس سب کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے، سو اس میں جہاں ان لوگوں کی خست اور حرص مال کا پتہ چلتا ہے، وہیں اس سے ان کی مسلمان دشمنی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پوری کوشش یہ تھی کہ کوئی چیز مسلمانوں کے کام کے پیچھے نہ رہ جائے۔ سو اس سے ان لوگوں کے اندرونی کرب کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
[ 10] درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس تم عبرت پکڑو اے دیدہ بینا رکھنے والو ! کہ اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ برحق کی عداوت اور دشمنی اور ان کی مخالفت اور نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے، پس تم اس سے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کرو، تاکہ تم سب ایسے انجام سے محفوظ رہ سکو، جس سے ان یہود بےبہود کو دو چار ہونا پڑا، پس یہ ارشاد ربانی قیاس شرعی کی حقانیت و حجت کی اہم اساس و بنیاد ہے، بہرکیف اس قصہ کے اندر بڑا اور سہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں، ان لوگوں کے لیے جو عبرت پذیری کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں کو کتنے ہولناک اور کس قدر رسوا کن انجام سے دو چار ہونا پڑتا ہے، اور یہ حزب اللہ کے مقابلے میں حزب الشیطان کو کس قدر ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر مقام پر اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم اور ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
Ayahs 59:3–4[ 11] جلا وطنی یہود بنو نضیر کیلئے ایک رعایت :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہودی بنی نضیر کے لئے اخراج و جلاطنی کی سزا ایک رعایت تھی جو ان کو دی گئی، ورنہ اگر ایسے نہ ہوتا تو اللہ ان کو دنیا میں کوئی ایسا سخت ہی عذاب دے دیتا، جو اس سے کہیں بڑھ کر سخت اور رسوا کن اور ہولناک ہوتا، جیسے قتل، اور قید، وغیرہ۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے ساتھ بدر میں ہوا، اور یہود بنو قریظہ کے ساتھ مدینہ میں ہوا، [ المراغی، المحاسن، الکازن، الصفوۃ وغیرہ ] سو یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرما دی کہ ان کو صرف جلاوطنی کی سزا دی اور بس، تاکہ اس طرح ان کو تنبیہ بھی ہوجائے، جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت موجود ہو وہ اس سے اپنے لئے سامان عبرت و بصیرت حاصل کرسکیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان پر اس دنیا ہی میں کوئی ایسا عذاب بھیج دیتا، جس سے ان کا قصہ ہی تمام ہوگیا ہوتا، جیسا کہ عاد وثمود اور فرعون وغیرہ کے ساتھ اس سے پہلے ہوچکا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس پر ان لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، اور حق کی طرف رجوع کرکے، اور اس کو اپنا کر ان کو اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرنا چاہیے ورنہ یہ تو اس سے بھی کہیں زیادہ عذاب اور سزا کے مستحق تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 12] منکروں کیلئے آخرت میں دوزخ کا عذاب، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کیلئے اسی دنیاوی عذاب اور جلاوطنی پر بس نہیں، بلکہ ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب مقرر ہے، یعنی اس دنیاوی ذلت و خواری اور جلاوطنی سے ان کے عذاب اخروی میں کوئی فرق نہیں آیا، بلکہ وہ بدستور ان کو ہونا ہے، کہ ان کے جرائم بہت سنگین ہیں، کہ انہوں نے نور اسلام کو بجھا دینے کی کوشش میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف چڑھائی پر اکسایا ابھارا، نبیء اکرم ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا، والعیاذ باللّٰہ، انہوں نے غدرو بد عہدی سے کام لیا، اور حق کا جاننے کے باوجود انہوں نے جھٹلایا وغیرہ، ذالک، سو اگر انہوں نے اس تنبیہ سے فائدہ اٹھایا، حق کی طرف رجوع کرکے اپنی اصلاح کا سامان نہ کیا، تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ آخرت میں ان کو دوزخ کا سخت عذاب ملنے والا ہے، جو ساری کسر پوری کرے گا، کہ آخرت کا عذاب بڑا ہی برا، اور انتہائی ہولناک ہے، کاش کہ یہ لوگ جان لیں چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ۔ { کذلک العذاب ط ولعذاب الآخرۃ اکبر م لوکانوا یعلمون } [ القلم : 33 پ 29] یعنی آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور پھر ان کے ہولناک انجام کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا حشر اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے، کہ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی ہی سخت پاداش میں پکڑنے والا ہے، پس اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے اپنے رویے و انجام اور اپنے حال و مال کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں۔ اور اس کے مطابق اپنا راستہ خود اختیار کرلیں، قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھوں سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے تڑپنا، پھڑکنا، اور ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
Ayah 59:5[ 13] منکرین کے ایک اعتراض کا جواب :
سو اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کچھ بھی تم لوگوں نے اس دوران کیا اے مسلمانو ! وہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا، جو اللہ پاک نے اپنے پیغمبر کو وحی کے ذریعے ارشاد فرمایا تھا، سو اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن حکیم کے علاوہ بھی وحی آتی تھی، کیونکہ یہ اذن و حکم جس کا ذکر یہاں پر فرمایا جا رہا ہے، قرآن پاک میں کہیں بھی مزکور نہیں، جس کا لازمی مطلب یہی ہے کہ حکم آنحضرت ﷺ کو وحی خفی یعنی حدیث ہی میں دیا گیا تھا ﷺ روایات کے مطابق بنو نضیر کے محاصرے کے دوران آنحضرت ﷺ نے کھجور کے کچھ درختوں کو کاٹنے کا حکم دیا جن کو جنگی نقطہ نظر سے کاٹنا ضروری تھا، نیز اس لیے کہ تاکہ یہ یہود کے غیظ و غضب کا موجب بنے، اور وہ قلعوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوجائیں، تو اس پر یہودیوں نے اعتراض کیا اور مسلمانوں پر آوازے کسے کہ تمہارے پیغمبر دوسروں کو تو فساد سے منع کرتے ہیں، لیکن خود ان بےگناہ اور نفع بخش درختوں کو اس بےدردی سے کاٹ رہے ہیں، کیا یہ " فساد فی الارض " نہیں ہے ؟ وغیرہ، تو اس پر بعض اصحابہء کرام کے دلوں میں بھی کسی قدر شک سا پیدا ہوا تو انہوں نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے عرض کیا، تو اس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ یہ سب کچھ اذن خداوندی ہی سے تھا، اور اللہ پاک کا ہر حکم و ارشاد ظاہر ہے کہ برحق اور مبنی برحکمت ہی ہوتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان لوگوں کا اس بارے اعتراض بالکل لغو اور باطل ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
[ 14] یہود بنو نضیر کی رسوائی کے ایک سامان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم و ارشاد اس لئے فرمایا کہ تاکہ وہ رسوا کرے ان بدکاروں کو۔ کہ آج ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے اموال و ممتلکات پر ان کے دشمنوں کا حکم اس طرح چل رہا ہے، کہ جس درخت کو وہ چاہیں کاٹیں، اور جس کو چاہیں کھڑا چھوڑ دیں۔ سو ان کے درختوں کو جن کو انہوں نے بڑے شوق اور ارمانوں سے لگایا، اور بڑی محنت و مشقت سے پالا پوسا تھا، آج ان کو ان کی آنکھوں کے سامنے اس طرح کاٹا جا رہا ہے، اور یہ اس کے جواب میں یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے، اس سے ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ ہی ان کے سوا اور کون کرسکتا ہے ؟ اور فاسق کا اطلاق کافر پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ یہاں پر ہے، اور یہ اس لئے کہ اس کے اصل معنی " خروج عن الاطاعت " کے ہیں، اور اطاعت خدواندی سے خروج کی مختلف شکلوں میں سب سے بڑی مشکل کفر و انکار ہی کی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جنگی نقطہ نظر سے درختوں کو کاٹنا درست ہے، اور ایسے میں درخت کیا اگر ضرورت متقاضی ہو تو وہ دشمنوں کے مکانوں کو مسمار کرنا بھی جائز ہے اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ غداروں اور عہد شکنوں کی تذلیل و رسوائی بھی ایک اہم مقصد ہے، تاکہ اس طرح کفر اور اہل کفر کی تذلیل ہو اور ان کو اپنے بارے میں سوچنے اور راہ حق کو اپنانے کا موقع مل سکے، اور وہ آخرت کے عذاب مہین سے بچ سکیں، کہ آخرت کا عذاب بڑا ہی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Ayahs 59:6–7[ 15] مال فئی سے سرفرازی بغیر جہاد و قتال کے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ مال اللہ نے ان لوگوں کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا یا اس پر تمہاری کوئی محنت نہیں لگی، اسے مسلمانو ! کیونکہ یہ لفظ یعنی " افائ " اصل میں فئی سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے آتے ہیں، یعنی یہ مال جو ان یہود وغیرہ و دشمنان اسلام سے لیا جاتا ہے، یہ دراصل اللہ پاک ہی کا تھا، اور اسی کا ہے، کیونکہ زمین و آسمان کی پوری کائنات کی ہر چیز دراصل اسی وحدہٗ لاشریک کی ملکیت ہے، وہ اپنی مشیت ومرضی سے جس کو چاہتا ہے دنیا کے اس عارضی تصریف کے لئے عطا فرما دیتا ہے، اور جو کوئی شخص یا قوم اپنے تمرو سرکشی اور کفر و معصیت کی وجہ سے اپنی اہلیت و لیاقت کو ضائع کر دے، تو اس سے یہ دولت چھین کر واپس لے لی جاتی ہے، اور اللہ کے مطیع و فرمانبردار بندوں یعنی اہل ایمان کو دے دی جاتی ہے، اسی لئے کفار سے جنگ کے بغیر ملنے والے اس مال کو مال فے کہا جاتا ہے، سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے قرآن حکیم کی عظمتوں کے کہ اس کے لفظ لفظ میں نت نئے معانی و مفاہیم ہیں، کوئی کیا کیا بیان کرے، اور کہاں تک بیان کرے، بہرکیف یہاں سے مال فئی کا حکم بیان فرمایا جا رہا ہے جو کہ مال غنیمت سے مختلف ہے اور اس کے خاص اور مستقل مصارف ہیں جن میں اس کو تقسیم کیا جاتا ہے، اور جن تقسیم جس کی تفصیل آگے آرہی ہے، والحمدللّٰہ رب العالمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق الرشاد۔
[ 16] مال فئی اور مال غنیمت کے درمیان فرق :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مال فے کے بارے میں حیثیت مال غنیمت سے مختلف ہے، کہ ان دونوں کی حقیقت بھی الگ ہے اور ان کا حکم بھی مختلف ہے۔ سو مال فے کی بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس کیلئے نہ تم لوگوں نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ یعنی اس کیلئے تمہیں کوئی مشقت نہیں اٹھانا پڑی، نہ جنگ کرنا پڑی، اور نہ دشمنوں سے لڑنے بھڑنے کی نوبت ہی آئی، پس تم اس کو مال غنیمت کی طرح مت سمجھو کہ جس میں سے ایک خمس نکالنے کے بعد باقی ماندہ چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دئیے جاتے ہیں، بلکہ اس مال فیئی کی حقیقت اور الگ شان اور اس کے احکام جدا اور مختلف ہیں، روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ اس پر نازل ہوئی کہ بعض صحابہء کرام ؓ نے اموال بنو نضیر کو مال غنیمت کی طرح تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو اس پر ان کو مال غنیمت اور مال فیئی کے درمیان یہ فرق بتادیا گیا کہ مال غنیمت کا حکم اور ہے، اور مال فیئی کا اور، پس جیسے مال غنیمت میں تمہیں تقسیم و تملیک کا حق ہوتا ہے، ویسے مال فیئی میں نہیں ہوسکتا، کیونکہ مال فیئی کی حیثیت مال غنیمت سے مختلف ہے کہ اس کیلئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ اور نہ ہی تمہیں اس کے لئے کسی طرح کی کوئی مشقت اٹھانا پڑی،
[ 17] اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے غلبے اور تسلط کا ذکر وبیان :
سوا رشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ عطا فرما دیتا ہے۔ پس مال فیئی کی تقسیم رسول کی صوابدید پر ہے، وہ اسے جہاں چاہیں صرف فرما دیں، اور بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اموال بنو نضیر میں سے اپنے گھروں کیلئے ایک سال کے اخراجات نکالنے کے بعد باقی ماندہ کو جہاد فی سبیل اللہ کیلئے آلات و ضرب خریدنے وغیرہ کے مصارف میں صرف کرنے کا حکم و ارشاد فرما دیا، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نصرت اور غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے، وہ اپنے رسولوں کو جس طرح چاہے غلبہ عطا فرما دے، وہ قادر مطلق کسی کی نصرت و امداد کا محتاج نہیں، بلکہ وہ سب سے غنی اور بےنیاز ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، وہ اگر چاہے تو اپنے رسول کو بغیر کسی فوج کے دشمنوں کے کسی بڑے سے بڑے ملک پر غالب کر دے، کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، وہ اگر اہل ایمان سے مدد طلب کرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ اس کا محتاج ہے، بلکہ اس میں دوسری بہت سی حکمتیں کار فرما ہیں، جن میں سے ایک اہم حکمت یہ ہے کہ اس طرح خود ان لوگوں کے لئے سعادت دارین کی راہ کھلے، اور تاکہ اس طرح مخلص اور منافق کے درمیان امتیاز ہوجائے اور کھرا و کھوٹا اور مخلص و منافق عملی طور پر سب کے سامنے آجائیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
[ 18] اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
وہ جو چاہے کرے اور جیسا چاہے کرے اس کے لئے کوئی بھی چیز مشکل نہیں، سب کچھ اس کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ پس کبھی وہ ظاہری لڑائی وغیرہ کی صورت میں اپنے بندوں کو فتح سے نوازتا ہے جیسا کہ غزوہ بدر میں ہوا، اور کبھی اس کے بغیر ہی دشمنان اسلام کو زیر کردیتا ہے، جیسا کہ غزوہ بنو نضیر میں ہوا، پس اس کی قدرت مطلقہ کی شووؤن مختلف و متنوع ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ، وہ قادر مطلق اگر چاہے تو بغیر کسی لشکر کے اپنے رسول کو دشمن کے کسی بڑے سے بڑے لشکر پر بھی غالب فرما دے، اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو غزوہ بنو نضیر کی یہ فتح بھی مسلمانوں کو محض اس کے فضل و کرم سے نصیب ہوئی، ورنہ تم نے اس کیلئے اے مسلمانو ! نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ، اس کے لئے نہ تم لوگوں کو کوئی محنت کرنا پڑی اور نہ مشقت اٹھانا پڑی۔ اس لیے اس سے حاصل ہونے مال " فیئی " کی تقسیم کا معاملہ بھی اللہ اور اس کے رسول ہی کے حوالے اور انہی کے حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ اس میں اس طرح خمس جاری نہیں ہوگا۔ جس طرح کہ مال غنیمت میں ہوتا ہے۔
Ayah 59:8[ 23] اموال فئی کا ایک خاص مصرف فقراء مہاجرین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حق ہے ان ضرورت مند مہاجریں کا جن کو نکال باہر کیا گیا ان کے گھروں اور ان کے مالوں سے۔ یعنی " للفقرائ " یہاں پر بدل ہے " ذوی القربی وما بعدہ " سے یعنی اوپر جن چار قسموں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اپنے فقر وا حتیاج کی بناء پر مال فیئی کے مستحق ہیں، مگر ان میں سے یہ حضرات جن کا ذکر اب کیا جا رہا ہے بطور خاص زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، جس میں فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد قیامت تک آنے والی سب امت کے مستحقین شامل و داخل ہیں، [ معارف، وغیرہ ] سو اموال فئی کا عام مصرف بیان کرنے کے بعد اب اس کے ایک خاص اور اہم مصرف کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مصرف ہے، یعنی فقراء مہاجرین جن کو ان کے گھروں سے بےدخل کردیا گیا تھا، اور ان کو ان کے اپنے اموال سے محروم کردیا گیا تھا، سو ایسے حضرات کو پھر سے بسانے اور ان کی معاشی زندگی کو از سر نو سنوارنے کی ذمہ داری پورے اسلامی معاشرے پر عائد ہوتی تھی، اس لئے سب سے پہلے اسی مصرف کو ذکر فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر، اور اس کے رسول کی اطاعت و اتباع میں، اور اپنے دین و ایمان کی خاطر اپنے گھر بار سب کو چھوڑا اور سب کچھ حق کی خاطر برضا ورغبت قربان کیا۔ چناچہ اس حکم و ارشاد کے مطابق بنی نضیر کی جائدادوں کا ایک حصہ مہاجرین میں تقسیم کیا گیا اور وہ نخلستان جو انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کو دیتے تھے وہ ان کو واپس کر دئیے تھے وہ ان کو واپس کر دئیے گئے۔ کہ بنو نضیر کے اموال فئی سے حصہ ملنے کے بعد حضرات مہاجرین آسودہ خوش حال، اور خود کفیل ہوگئے تھے۔ رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
[ 25] حضرات صحابہء کرام کیلئے راستبازی کا خدائی سر ٹیفکیٹ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں راستباز، اور سچے، کہ انہوں نے اپنے قول وقرار، اور دعوی و اقرار کا ثبوت اپنے عمل و کردار سے پیش کردیا، اور دنیا کے سامنے واضح کردیا ہے کہ وہ پکے اور سچے مسلمان ہیں، اور یہ کہ ایمان و یقین کے نور سے ان کے قلوب و بواطن کو ایسا منور اور پختہ کردیا گیا ہے کہ اس کیلئے یہ حضرات ہر قربانی دے سکتے ہیں، اور عملی طور پر پیش اس کا ثبوت دے چکے ہیں، چناچہ انہوں نے اس کیلئے اپنے گھر بار وغیرہ سب کو خیر بار کہہ دیا، سو یہ لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں، اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے سب کچھ قربان کرکے اپنی صداقت و راستبازی کا عملی ثبوت پیش کردیا ہے، سو حضرات صحابہ کرام کی قدسی صفت جماعت وہ واحد اور بےمثال خوش نصیب جماعت ہے جس کو حضرت حق جل مجدہ، کے کلام حق و صدق ترجمان میں اس قدر صراحت کے ساتھ صدق شعاری اور استنباری کا خدائی سرٹیفکیٹ دے دیا گیا۔ سو جو بدبخت ان حضرات کی صداقت و حقانیت اور ان کے ایمان و یقین کا انکار کرے، یا اس میں شک کرے وہ مسلمان کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس ایسے لوگ کافر اور بڑے ہی بدبخت لوگ ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، جل جلالہ وعم نوالہ،
Ayah 59:9[ 26] مال " فئی " کا دوسرا مصرف حضرات انصار ؓ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز یہ مال حق ہے ان لوگوں کو جنہوں نے جگہ پکڑی ایمان و سلامتی کے اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان و یقین میں۔ سو یہ ترکیب " علفتھا تبنا ومائً باردًا " کے قبیل سے ہے، جہاں ایک فعل کو محذوفس کردیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مناسب فعل سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے اس مثال میں " علفتھا " کے بعد اس پر معطوف فعل " وسقی تھا " محذوف ہے، اسی طرح یہاں پر " تبوء والدار " کے بعد احکمو الایمان یا اس جیسا کوئی فعل محذوف و مقدر ہے، اور اس ارشاد ربانی کا اولین مصداق حضرات انصار ہیں، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، اور ان کے پاس آنے والے مہاجرین اولین بھی اسی میں داخل ہیں، سو ان سب حضرات کی فراخدلی اور سیر چشمی کی تحسین فرمائی گئی ہے کہ یہ حضرات اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ ان کے پاس مہاجروں کے جو قافلے آتے ہیں، وہ ان کے عزائم میں حصہ دار بن جائیں گے، بلکہ یہ حضرات بڑی فراخدلی سے انکا خیر مقدم کرتے ہیں، اور یہی علامت و نشانی ہے سچے مسلمانوں کی۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ مال " فے " صرف مہاجرین ہی کا حق نہیں، بلکہ اس میں انصار کا بھی حق ہے جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ کے " دار الھجرت " اور " دارالاسلام " میں قرار پکڑ چکے تھے، اور انہوں نے اپنے ایمان و یقین کی دولت کو مضبوط اور مستحکم کردیا تھا۔ دین حق کے لئے صدق و اخلاص کی دولت سے وہ بھی سرشار تھے، رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
[ 27] حضرات صحابہ ؓ کی کشادہ ظرفی اور سیر چشمی کی تعریف و تحسین :
سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ لوگ اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی نہیں پاتے جو کہ ان کو دیا جائے۔ جیسا کہ یہاں اموال بنو نضیر صرف مہاجرین میں تقسیم کئے گئے، اور انصار میں سوائے تین حضرات کے اور کسی کو کچھ نہیں دیا گیا، تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس کو بطیب خاطر منظور و قبول کیا، اور مزید یہ کہ حضرات مہاجرین کو انہوں نے اپنے اموال میں شریک کرلیا، [ الصفوۃ، المراغی، والمعارف وغیرہ ] " علیہم الرحمۃ والرضوان " بہرکیف فرمایا گیا کہ یہ حضرات نئے آنے والے مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں، اور پوری فراخدلی سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور ان کے دل اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ مہاجرین کے ان قافلوں کے آنے سے جو مال ان کو ملنا چاہئے تھا وہ ان پر صرف ہو رہا ہے، یا اب بھی وہ اس میں حصے دار بن جائیں گے، بلکہ وہ نہایت فراخدلی اور سیرچشمی سے اپنی ضروریات پر ان کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، اور جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں عرض کیا گیا ہے کہ " من قبلہم " کی تصریح سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس میں انصار کے ساتھ مہاجرین اولین بھی شامل ہیں، تو اس طرح حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے تعریف و تحسین کا یہ اعزاز بےمثال حضرات انصار و مہاجرین سب ہی کے لیے ہے، اور یہ امر واضح بھی ہے کہ بےمثال استاذ کے وہ بےمثال شاگرد سب ہی کشادہ ظرفی و سیر چشمی اور ایثار و قربانی کے ایسے بےمثال نمونے تھے۔ رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
[ 28] حضرات صحابہء کرام ؓ ایثار و قربانی کے اعلیٰ نمونے تھے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو سخت محتاجی درپیش ہو۔ " خصاص البیت " سے ماخوذ ہے جو اس سوراخ کے لئے بولا جاتا ہے جو گھر کی لکڑیوں وغیرہ میں رہ جاتا ہے، اسی طرح چھاننی وغیرہ کے سوراخ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے [ مفردات راغب، تفسیر مراغی وغیرہ ] اس لئے یہ لفظ کنایہ ہے سخت ضرورت اور محتاجی سے، صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی فاقہ زدگی کا حال عرض کیا تو آپ ﷺ نے اپنے گھروں میں پیغام بھیجا کہ اس شخص کو کھانا کھلایا جائے، مگر وہاں سے کچھ نہ ملا، جب کسی گھر سے بھی کچھ نہ مل سکا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہء کرام ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو آج اس شخص کی مہمانی کرے ؟ تو تو حضرت ابو طلحہ ؓ فوراً بولے کہ میں ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ ، چناچہ آپ ؓ اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر جب گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے کہا یہ شخص حضور ﷺ کا مہمان ہے اس کی عزت کرنی ہے، مگر اس نے کہا ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے جو بمشکل بچوں کو پورا ہوسکے گا اور بس، تو آپ ؓ نے اسے سمجھایا کہ بچوں کو کسی طرح بھلا پھسلا کر سلا دینا اور اس کے بعد ہم اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیں گے، اور جب وہ کھانا شروع کر دے گا تو میں چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اسے بجھا دوں گا، تاکہ مہمان کو ہماری حالت کا پتہ نہ چلنے پائے، اور وہ سیر کو کر کھانا کھالے، چناچہ انہوں نے ایسی ہی کیا، اور خود فاقہ میں رہ کر مہمان کو کھلا دیا، صبح جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کو بتایا کہ تمہارے بارے میں رات کو مجھ پر آیت کریمہ نازل ہوئی، سبحان اللّٰہ ! ایثار کتنی عظیم صفت ہے، جب کہ یہ ایمان و اخلاص کے ساتھ اور خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو، کہ ان حضرات کے اس ایثار کے نتیجے میں قرآن پاک کی آیت اتر کیئ، اور آخرت کے اجر وثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی قیامت تک ان کا ذکر خیر باقی رہ گیا، جبکہ اگر وہ دونوں خود کھاپی لیتے تو وہ اسی طرح ختم ہوجاتا جس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک کا روزمرہ کا کھایا پیا ختم ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی شان رحمت و رأفت کا بھی اندازہ بھی کیجئے کہ جب اپنے گھروں سے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اپنے صحابی کے یہاں سے اس کا انتظام کروایا، تاکہ آپ ﷺ کے حضور اپنی حاجت پیش کرنے والا خالی اور محروم نہ جائے۔ فصلوات اللّٰہ وسلامہٗ علیہ وعلیٰ صحابتہٖ الکرام ما تعاقب اللیالی والایام۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی سچی پکی محبت اور اتباع سرشار و سرفراز رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ
[ 29] فوزوفلاح سے سرفرازی کے ایک اہم اور آسان ذریعے اور وسیلے کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نفس کی تنگی سے بچ جانا فوز و فلاح سے سرفرازی کی ضمانت اور اس کا ایک اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی نفس کی تنگی سے بچا لیا گیا تو وہ فلاح پا گیا۔ کیونکہ یہ نفس کی تنگی ہی ہے جو حرص اور بخل وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہو کر انسان کو طرح طرح کی حرام خوریوں اور حرام کاریوں میں مبتلا کردی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کے پا جو کچھ آئے وہ اس سب کو یونہی اڑا دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقوق واجبہ اور حوائج ضروریہ میں کوتاہی نہ کرے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو زکوٰۃ ادا کرتا، مہمانوں کی مہمان داری کرتا، اور مصیبتوں میں خرچ کرتا ہے، وہ " شُح " اور بخل سے بری ہے [ تفسیر المراغی وغیرہ ] سو اس ارشاد میں حضرات انصار و مہاجرین کے لئے فلاح کی بشارت بھی ہے، اور نفس انسانی کی ایک بڑی اور خطرناک بیماری کی نشاندہی بھی، " شح " کے معنی نفس کی تنگی اور حرص و آز اور طمع و لالچ کے ہیں، سو اس سے بچتے رہنے کی جو تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خطرناک داعیہ ہے۔ اگر انسان اس کو قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ اس کی آخرت کو تباہ و برباد کردینے والی چیز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اس ارشاد ربانی کے ذریعے فوز و فلاح سے سرفرازی کے لئے ایک سہل ترین اور عظیم الشان نسخے کی تعلیم و تلقین فرما دی گئی، کہ انسان اپنے آپ کو نفس کی تنگی سے بچا لے اور بس، کیونکہ نفس کی تنگی ہی وہ چیز ہے جس سے انسان کے اندر حرص، کینہ، حسد، اور بغض وعناد جیسی تباہ کن باطنی بیماریاں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں جو انسانی معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔ اس لیے قرآن حکیم نے اس مقام پر اس برائی سے بچ جانے کو جنت کی ضمانت قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کو بدترین انسانی اوصاف میں شمار کیا ہے جو فساد و بگاڑ کی جڑ ہے۔ چناچہ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ " شح " اور لالچ سے بچ کر رہنا کہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک و برباد کیا ؟ اس نے ان کو ایک دوسرے کی خونریزیوں پر ابھارا، ان کی حرمتوں کو حلال کیا، [ مسلم، مسند احمد، بخاری فی الادب ] اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے ان کو ظلم کا حکم کیا تو انہوں نے ظلم کیا۔ اسی نے ان کو فسق و فجور کی تعلیم دی تو انہوں نے فسق و فجور کا ارتکاب کیا۔ اسی نے ان قطع رحم کا حکم دیا تو انہوں نے قطع رحم کیا، [ مسند احمد، ابوداؤد، نسائی ] وغیرہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ شح نفس اور اس طرح کی دوسری تمام بری خصلتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور محاسن اخلاق سے سرفراز مالا مال فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، اللّٰہم ! ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ سبحانہٗ و تعالیٰ ویاہ اسال القبول والسداد، ومزیداً من التوفیق لتکمیل ما بقی من التفسیر،
Ayahs 59:10–11[ 30] متأخرین کیلئے صحیح رویے کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ متاخرین کیلئے صحیح رویہ متقدمین کیلئے دعا کرنا ہے۔ سو اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ دعا صرف اپنے لئے ہی نہیں دوسروں کے لئے بھی کرنی چاہیے، خاص کر ان لوگوں کیلئے جو پہلے گزر چکے ہوں، اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اصل رشتہ جو درکار ہے اور جو دعا کا باعث اور محرک بن سکتا ہے، اور جس کی بنا پر دعاء نفع دے سکتی ہے وہ رشتہ ایمان کا رشتہ ہے، جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہے، جو اس دار فانی کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کام آئے گا، جب کہ اس کے علاوہ دوسرے تمام رشتے اور تعلقات کٹ جائینگے اور وہ سب کے سب اسی جہاں میں رہ جائیں گے، مگر افسوس کہ آج کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے ایمان کے اس مقدس رشتے کو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد میں متاخرین کیلئے اس صحیح روئیے کی نشاندہی فرما دی گئی جو ان کو متقدمین کیلئے رکھنا چاہئے، کہ انکا رویہ انکے لئے کسی حسد یا بدظنی کا نہیں، نیک نیتی اور خیر خواہی کا ہونا چاہئے، اس لیے ایسے لوگ اپنے ان پیش رو دینی بھائیوں کیلئے مخلصانہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بھی بخشش فرما دے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، بیشک تو اے ہمارے رب بڑا ہی شفیق نہایت ہی مہربان ہے۔
[ 31] صحابہء کرام ؓ سے بغض رکھنے والے کافر۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور مستحقین " فئی " کی تیسری قسم کی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کے بارے میں کوئی کھوٹ نہیں رکھنا۔ سو یہ تیسری قسم ہے ان حضرات کی جو مال فیئی کے حق دار ہیں، اور جو قیامت تک کے سب مسلمانوں کو شامل ہے، اسی لئے روایات میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے " روف رحیم " تک یہ آیت کریمہ پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ قیامت تک کے سب مسلمانوں کو شامل ہے، کیونکہ یہاں مہاجرین و انصار کے بعد ان سب مسلمانوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو قیامت تک آنے والے ہیں، اور اس تیسری قسم میں یہ وصف بطور خاص قابل ذکر ولحاظ ہے کہ وہ اپنے سے پہلے والوں کیلئے مغفرت و بخشش کی دعا کرتے ہیں، اور ہر قسم کے کھوٹ سے پناہ مانگتے ہیں، پس جو شخص صحابہء کرام ؓ سے بغض وعناد رکھے اور ان پر سب وشتم کرے وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔ کہ وہ مسلمانوں کے ان تینوں گروہوں میں سے کسی ایک میں بھی داخل نہیں، اس لئے حضرت امام مالک (رح) اس آیت کریمہ سے یہی معنی و مفہوم استباط کرکے ارشاد فرماتے ہیں، کہ ایسا شخص مال غنیمت کا مستحق نہیں ہوسکتا [ ابن کثیر، روح المعانی، قرطبی، صفوۃ التفاسیر، حاشیہ زادہ علی البیضاوی التحریر والتنویر، مظہری اور احکام القرآن وغیرہ ] اور امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ روافض یہود و نصاری سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان لوگوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہاری امت میں سے سب افضل کون ہے ؟ تو یہودی کہتے ہیں اصحاب موسیٰ ، اور نصاری کہتے ہیں اصحاب عیسیٰ ، لیکن روا فض کے نزدیک اصحاب محمد ﷺ سب سے برے لوگ ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اللہ نے تو ان کیلئے رحمت و بخشش کی دعاء کی تعلیم و ہدایت فرمائی اور ان کو " رضی اللّٰہ عنہم " کی سند سے نواز دیا۔ مگر یہ لوگ ان پر سب وشتم اور تبرا بازی کرتے ہیں، پس ایسے لوگوں پر قیامت تک تلوار لٹکتی رہے گی، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] اسی آیت کریمہ سے حضرت امام مالک (رح) نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ روافض چونکہ ان تینوں گروہوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں، اس لئے ان کو مال غنیمت و فیئی سے حصہ لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، اور امام ابن کثیر اس کی تائید و تصویب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ما احسن ما استنبط۔ یعنی " کیا ہی خوب استنباط کیا ہے " [ قرطبی، مظہری اور صفوۃ وغیرہ ]
Ayah 59:12[ 34] منافقوں کے قول وقرار کی تکذیب کا ذکر وبیان :
سو منافقوں کے ایک ایک قول وقرار کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کی کہیں سے کوئی مدد نہیں کی ہوگی۔ یعنی منافقوں کی۔ کیونکہ منافقت اور نفاق کا لبادہ اتر جانے کے بعد، ایمان کے یہ زبانی کلامی دعوے ان کو کچھ کام نہ آسکیں گے، اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ وہ ہار جائیں گے اور منافقوں کی یہ مدد ان کے کچھ کام نہ آسکے گی۔ [ محاسن التاویل، جامع البیان، اور صفوۃ وغیرہ ] بہرکیف انکے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کے بعد ان کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے، اور ان کی کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں ہوگی، کیونکہ یہ اللہ کی فیصلہ کن پکڑ ہوگی، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اللہ تعالیٰ کی ایسی پکڑ کے بعد ایسوں کو کوئی بھی سہارا نہیں دے سکتا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو قرآن حکیم نے ان کے ایک ایک قول وقرار کی تکذیب کردی کہ وقت آنے پر یہ لوگ اپنی ایک بات میں بھی سچے ثابت نہیں ہوں گے۔ اگر ان کو نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے، اور اگر ساتھ دیا تو منہ کی کھائیں گے اور پیٹھ دے کر بھاگیں گے، سو نفاق اور منافقانہ وعدوں اور دعو وں کا نتیجہ محرومی کے سوا کچھ نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوئٍ وانحراف، فی کل حین وان، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayahs 59:13–14[ 35] جو اللہ سے نہیں ڈرتے وہ اس کی کمزور مخلوق سے ڈرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے وہ اس کی مخلوق سے ڈرتے ہیں۔ اور یہ قدرت کی طرف سے ان کو ایک نقد سزا ہے کہ جو اللہ پاک سے نہیں ڈرتا، وہ اس کی ضعیف اور کمزور مخلوق سے ڈرتا ہے اور جس کے دل میں اللہ پاک کی عظمت و خشیت راسخ ہوجاتی ہے، وہ کسی بڑی سے بڑی مخلوق کو بھی خاطر میں نہیں لاتا، اور وہ اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تمہارے مقابلے میں اپنے ان بھائی بندوں کی نصرت و امداد کیلئے اس لئے نہیں اٹھیں گے کہ ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہاری دہشت چھائی ہوئی ہے، اللہ کی مخالفت اور نافرمانی تو یہ لوگ خفیہ بھی کرتے ہیں اور اعلانیہ بھی، لیکن تمہارے مقابلے میں اٹھنے کا حوصلہ اور ہمت یہ کبھی نہیں کرسکیں گے۔ سو ایمان و یقین کی قوت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے، اور ایسے لوگ ہر چیز سے ڈرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوئٍ وانحراف، فی کل حین وان، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 36] منافقوں کی حماقت کے سبب اور باعث کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس لیے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں، یعنی یہ سمجھتے نہیں کہ اللہ پاک کی عظمت وقدرت کیسی ہے۔ اور یہ کہ اس کی مشیت ومرضی کے بغیر کوئی بڑی سے بڑی مخلوق بھی نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہے، نہ نقصان، سو انکار یہ رویہ تو بڑا تعجب انگیز ہے کہ یہ لوگ اپنی حماقت اور ڈھیٹ پنے کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے تو نڈر اور بےخوف ہیں، لیکن تمہاری دہشت ان کے دل و دماغ میں چھائی ہوئی ہے، اور جن کی مت مار دی جاتی ہے ان کا حال ایسے ہی ہوجاتا ہے، کہ وہ تازیانے سے تو ڈرتے ہیں مگر تازیانے والے سے نہیں ڈرتے، سو یہ منافقوں کی حماقت اور مت ماری کا ایک کھلا ثبوت ہے، اگر ان لوگوں کے اندر عقل اور ایمان کی ذرا بھی رمق ہوتی تو یہ سوچتے کہ جب یہ اپنے خالق ومالک کو ناراض کرے اور اس سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو اس کے غضب کا مستحق بنا چکے ہیں، تو پھر یہ اس کے نوکروں اور درباریوں سے چھپ کر کیسے اور کب تک اپنے آپ کو بچا سکیں گے ؟ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ انسان عقل و فطرت کے بدیہی حقائق کو سمجھنے سے محروم اس وقت ہوتا ہے جبکہ بدیہات کے انکار اور ان کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر کردی جاتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، اور منافقین ہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ، ان لوگوں کا یہ حال اس لیے ہوا کہ یہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا، جس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں مہر کردی گئی۔ سو اب یہ لوگ کچھ سمجھ نہیں سکتے، [ المنافقون :3] والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوئٍ وانحراف، فی کل حین وان، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،