59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحشر سورة نمبر 59 کل رکوع 3 آیات 24 الفاظ و کلمات 455 حروف 2016 مقام نزول مدینہ منورہ مال غنیمت یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ کرکے اس کے پانچ حصے کیے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کر دئیے جائیں اور پانچواں حصہ بیت المال کو جمع کردیا جائے تاکہ مملکت کے ضروری کام نمٹائے جاسکیں۔ مال فے دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے۔ اس کے لئے اللہ نے فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ و رسول کے لئے مخصوص کردیا جائے تاکہ اس کی تقسیم اس طرح ہو کہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ بنو نضیر سے چونکہ جنگ نہیں ہوئی تھی اس لئے اس کو مال فے قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مال و دولت سب اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ اصل چیز یہ ہے کہ آنے والے کل کی فکر کی جائے کہ کس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کیا ہے وہی قیامت کے دن اس کے کام آئے گا اور باقی سب کچھ اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ مدینہ منورہ میں بنو نضیر کی شرارتوں اور میثاق مدینہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نصیر کو دس دن کے اندر اندر یہ شہر چھوڑنے کا نوٹس دے دیا تاکہ ان کو ان کی سازشوں کی سزا دی جاسکے۔ اصل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آباد تمام قبیلوں سے ایک معاہدہ امن کیا تھا جس کا بنیادی مقصد آپس میں مل جل کر رہنا اور اگر کوئی بیرونی حملہ یا مداخلت ہو تو سب مل کر اپنے اس شہر کا دفاع کرسکیں۔ ان ہی میں یہودی قبیلہ بنو نضیر سے باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا لیکن انہوں نے شروع ہی سے اپنی شرارتوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ وہ مکہ کے کافروں کو مدینہ منورہ پر حملے پر اکساتے رہتے یہاں تک کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید تک کرنے کی سازش کر ڈالی تھی مگر اللہ کی طرف سے بروقت اطلاع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کے قبیلے سے واپس تشریف لے آئے۔ مدینہ منورہ کی بستی سے باہر بنو نضیر کے باقاعدہ بستیاں تھیں جہاں وہ صدیوں سے آباد تھے۔ انہیں اپنے مضبوط قلعے، ہرے بھرے باغات اور اپنی مال و دولت پر بڑا ناز تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو دس دن کا نوٹس دیا تو وہ اڑ گئے۔ ادھر رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے خاموشی کے ساتھ کہلا بھیجا کہ تم اپنی جگہ ڈٹے رہو ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں دو ہزار جوانوں کے ساتھ تمہاری طرف سے لڑوں گا اور آس پاس کے دوسرے قبیلے بھی تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں۔ بنو نضیر نے اپنے گھمنڈ اور منافقین کے بھروسے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا بھیجا کہ ہم اپنی بستیاں خالی نہ کریں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ آپ کرلیجئے۔ بنو نضیر نے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اپنے قلعوں سے تیر اور پتھر پھینکنے کی جگہوں کا انتخاب کرلیا۔ ادھر دس دن کی مدت گزرتے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے اس قدر تیزی سے بنو نضیر کی گڑھیوں اور قلعوں کو گھیر لیا کہ وہ اپنے قلعوں سے سوائے تیر برسانے اور پتھر پھینکنے کے اور کچھ نہ کرسکے اور جن منافقین نے مدد کا وعدہ کیا تھا وہ بھی سب کے سب دبک کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یا بعض صحابہ کرام (رض) نے جو آس پاس درخت تھے ان میں سے کچھ کو کاٹ ڈالا تاکہ بنو نضیر اپنی نظروں سے اپنے باغات کی تباہی دیکھ کر مقابلے کے لئے باہر نکلیں مگر وہ دیکھتے رہ گئے اور یہودی اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے باہر نہ نکل سکے۔ بنو نضیر نے نہایت بےبسی کے عالم میں مسلمانوں سے صلح پر آمادگی ظاہر کردی اور کہا کہ ہماری جانیں بخش دی جائیں اور ہمیں ہتھیاروں کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں وہ لے جانے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی۔ اس کے بعد انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بنائے ہوئے مکانات توڑنے شروع کردئیے تاکہ مسلمان ان کو استعمال نہ کرسکیں اور وہ جو کچھ اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے تھے وہ ساتھ لے گئے اور اس طرح بنو نضیر کی پوری بستیوں پر مسلمانون کو فتح حاصل ہوگئی۔ چونکہ بنو نضیر سے بغیر جنگ کیے ان کی دولت اور جائیداد ہاتھ آگئی تھی تو مال غنیمت کی طرح اس کو بھی مجاہدین میں قاعدہ کے مطابق تقسیم کیا جاتا لیکن اللہ نے اس مال کو ” مال فے “ قرار دے کر احکامات نازل فرمائے۔ ” مال غنیمت “ یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ جمع کرکے اس کے پانچ حصے کئے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں جمع کردیا جائے تاکہ اس سے مملکت کی ضروری امور سرانجام دئے جائیں۔ ” مال فے “ دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال و دولت وغیرہ ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ ورسول کے لئے مخصوس کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ اللہ کی طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس مال فے کو رشتہ داروں، یتیموں اور مسافروں پر خرچ فرمائیں اس طرح وہ ضرورت مند مہاجرین جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی اسی طرح وہ انصار مدینہ کے ضرورت مند بھی اس کے مستحق ہیں جنہوں نے مہاجرین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں اور اپنی ضروریات کے باوجود انہوں نے کبھی بخل اور کنجوسی سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیح دی۔ ٭آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہو۔ گناہوں سے بچتے رہو تو کہ تم جنت کے مستحق بن جائو۔ اللہ نے فرمایا کہ جہنم والے اور جنت والے کبھی یکساں اور برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ جنت والے کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ فرمایا کہ اس باعظمت قرآن پر پوری طرح عمل کرو جس کی شان یہ ہے کہ اگر اس کو پہاڑ پر نازل کردیا جاتا تو وہ اس کے بوجھ سے دب جاتا اور اس کے ٹکڑے اڑ جاتے مگر وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر پاتا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے اپنے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ کو مانو جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے جو ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سلامتی ہی سلامتی ، امن دینے والا، نگہبان، ہر ایک پر غلبہ رکھنے والا، اپنا حکم پوری قوت سے نافذ کرنے والا، ہر طرح کی بڑائیوں کا مستحق ہے۔ ہر اس شرک سے پاک ہے جو لوگ اس کی ذات اور صفات میں ملا رہے ہیں۔ وہی پیدا کرنے والا، نافذ کرنے والا، صورت شکل بنانے والا، سارے بہترین نام اسی کے ہیں۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے وہ اسی کی حمدو ثنا کر رہا ہے وہی زبردست حکمت والا ہے۔

Ayahs 59:1–5

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی (مخلوق ) ہے وہ سب اسی کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔ وہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اہل کتاب ( میں سے بنو نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ خود بھی یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے (نما گھر) انہیں اللہ کے ہاتھ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ کا عذاب ان پر ایسی جگہ سے آیا جس کا انہیں گمان تک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں او اہل ایمان کے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے۔ اے آنکھوں والو ! اس (واقعہ) سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر گھر سے بےگھر ہوجانا اللہ نے ان کے (مقدر میں) نہ لکھ دیا ہوتا تو ان کو دنیا ہی میں سزا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لئے جہنم کا عذاب دیا جانا طے ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو بیشک اس کے لئے اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(اے مومنو ! ) تم نے کھجوروں کے جن درختوں کو کاٹ ڈالا۔ یا جنہیں تم نے اسی حالت پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنی جڑوں پر کھڑے رہیں تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا تاکہ (اس کے ذریعہ) وہ فاسقین کو ذلیل و رسوا کردے۔

لغات القرآن۔ اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔ تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔ اس وقت خاص طور پر بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع یہودیوں کے بڑے قبیلے تھے ان کی باہمی دشمنی کے باوجود اس معاہدے کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔ مکہ کے قریش شروع ہی سے اس ” میثاق مدینہ “ کے شریک قبائل کو نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے لیکن ان کو ہر طرح کی ناکامی ہوئی اور تمام قبائل اس معاہدے کی پابندی کرتے رہے۔ غزوہ بدر میں کفار مکہ کی زبردست شکست سے مدینہ کے قبائل چونک اٹھے۔ غزوہ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی شکست ہوئی جو بعد میں فتح سے بدل گئی لیکن اس کے منفی اثرات پورے علاقے پر مرتب ہوئے جس کے نتیجہ میں بعض قبیلوں نے کفار مکہ کے اشارے پر کچھ غداری کرنے کی کوشش کی لیکن نبی کریم ﷺ نے بروقت اقدام کرکے بنو قریظہ اور بنو قینقاع کو سخت سزا دی اور مدینہ سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ بنو نضیر جو صدیوں سے مدینہ میں رہتے آئے تھے اور انہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر بڑا فخر تھا ان کے مضبوط قلعے اور گڑھیاں تھیں، سرسبز و شاداب باغات تھے اور جماعتی لحاظ سے بھی وہ ایک منظم گروہ تھے۔ غزوہ احد تک وہ خاموش رہے لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے خاموشی سے اقدامات کرنا شروع کردئیے کیونکہ وہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قوت سے سخت پریشان تھے۔ بنو نضیر کے سردار کعب ابن اشرف غزوہ احد کے بعد چالیس اہم ترین لوگوں کو لے کر قریش مکہ کے پاس پہنچا اور ایک خفیہ معاہدہ کیا اور آخر میں چالیس یہودیوں اور قریش مکہ کے چالیس ذمہ دار لوگوں نے بیت اللہ میں اس کے پردوں سے لپٹ کر دعائیں کیں اور یہ معاہدہ کیا کہ وہ ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ جیسے ہی ان لوگوں نے معاہدہ کیا حضرت جبرئیل نے آکر نبی کریم ﷺ کو ان کے معاہدے سے مطلع کردیا۔ مدینہ کے یہودیوں کی یہ پہلی اور سب سے بڑی عہد شکنی تھی۔ دوسری طرف ایک ہی مہینے میں دو زبردست حادثے پیش آگئے رجیع اور بیر معونہ۔ ان دو واقعات نے اہل ایمان کو ہلا کر رکھ دیا اور یہودیوں کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے طرح طرح سے میثاق مدینہ کی دھجیاں بکھیرنا شروع کردیں۔ صفر 4 ھ میں عضل اور قارہ کے لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے ظاہری طور پر ایمان قبول کرنے کا ڈھونگ رچایا اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے قبیلے کے لوگوں کو قرآن پڑھانے کے لئے کچھ حضرات کو بھیج دیجئے۔ آپو نے چھ ایسے صحابہ کرام ؓ کو بھیجا جو سب کے سب حافظ قرآن تھے لیکن ان کو راستے ہی میں دھوکے سے شہید کردیا گیا۔ ایسا ہی دوسرا واقعہ بیر معونہ کا پیش آیا جس میں آپ ﷺ نے ابو براء عامر ابن مالک کی درخواست پر ستر صحابہ کی جماعت قرآبن کریم پڑھانے کے سلسلہ میں بھیج دی جو دین کے عالم ، قاری اور ممتاز صحابہ تھے۔ یہ وہ مجاہدین تھے جو دن بھر لکڑیاں کاٹ کر لاتے، ان کو فروخت کرکے اہل صفہ کے لئے غلہ خریدتے، لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے اور رات بھر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ یہ صحابہ کی جماعت جب معونہ کے کنویں کے قریب پہنچی تو ان پر زبردست حملہ کرکے سب کو شہید کردیا گیا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اتنے بڑے حادثے کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ رنج و غم سے نڈھال ہوگئے اور آپ ﷺ نے ظالموں کے لئے بددعا فرمائی۔ غزوہ احد کی ظاہری شکست اور ان دو مسلسل واقعات کی وجہ سے بنو نضیر کی شرارتیں عروج پر پہنچ گئیں یہاں تک کہ ایک موقع پر یہودیوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام ؓ کو شہید کرنے کی سازش کی جس کی بروقت اطلاع حضرت جبرائیل نے دی۔ بنو نظیر کی ان مسلسل سازشوں اور عہد شکنیوں نے اہل ایمان کو اس بات پر آمادہ کردیا کہ اب بنو نضیر کو ان کے علاقوں سے نکال دیا جائے تاکہ پورا علاقہ امن وامان کے ساتھ رہ سکے اور کفار مکہ کی مدینہ پر مزید جارحیت کے امکانات ختم ہوجائیں چناچہ آپ نے بنو نضیر کو کہلا دیا کہ وہ دس دن کے اندر اپنا جو سامان اپنے ساتھ لے کر جاسکتے ہوں وہ لے کر کہیں دور چلے جائیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ اگرچہ انہیں اپنی جماعت کی طاقت، قلعوں اور شہروں کی مضبوطی پر بڑا ناز تھا لیکن وہ مسلمانوں سے مرعوب تھے اس نوٹس کے بعد وہ جانے کے لئے تیار بھی ہوگئے لیکن رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے کہلا بھیجا کہ تم نہ گھبرائو، مقابلہ کے لئے ڈٹ جائو میرے پاس دو ہزار ایسے رضا کار موجود ہیں جو تمہاری مدد کریں گے اور جو تمہارے دوسرے حلیف قبائل ہیں وہ بھی تمہاری بھرپور مدد کریں گے۔ بنو نضیر جو صدیوں سے اس علاقے میں آباد تھے جب منافقین اور کفار کی طرف سے مدد کا یقین دلایا گیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہلا دیا کہ ہم تو کہیں جانے والے نہیں ہیں تم سے جو ہو سکے وہ کرلو۔ جب نبی کریم ﷺ نے بنو نضیر کے اس جواب کو سنا تو آپ نے صرف اتنا فرمایا ” اللہ اکبر “ اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو جنگ کی تیاری کرنے کا حکم دیدیا۔ جب دس دن کی مدت گزر گئی تو تین ہزار صحابہ کرام ؓ نے بنو نضیر کے تمام قلعوں اور گڑھیوں کو گھیر لیا۔ بنو نضیر قلعہ بند ہوگئے۔ انہوں نے اپنے قلعوں سے پتھر اور تیر برسانا شروع کردئیے اور جن منافقین اور کفار نے مدد کا یقین دلایا تھا وہ سب خاموش تماشائی بن کر رہ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک جنگ حکمت عملی یہ اختیار کی کہ یہودیوں کے جو بہترین باغ تھے ان کے بعض درختوں کو کاٹنا شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہودی یہ دیکھیں گے کہ ان کی محنت برباد ہو رہی ہے تو اپنے قلعوں سے باہر آجائیں گے اور پھر ان کو گھیر کر مارنا آسان ہوجائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اگر میدان میں مقابلہ ہوگا تو یہ درخت بنو نضیر کے بچنے کی جگہ بن جائیں گے اور مسلمانوں کو اس سے نقصان پہنچ سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ ساری تدبیریں کیں مگر بنو نضیر کو مقابلے کی جرات نہ ہوئی۔ دس پندرہ راتوں کے محاصرے نے یہودیوں کو اس قدر مرعوب کردیا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور بغیر کسی جنگ کے آپ کی ہر شرط ماننے پر مجبور ہوگئے۔ بنو نضیر نے کہا کہ ہم جانے کے لئے تیار ہیں ہماری جانیں بخش دی جائیں اور ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم ہتھیاروں کے سوا جو کچھ یہاں سے ساتھ میں لے جاسکتے ہیں وہ لے جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص ایک اونٹ پر جتنا سامان لے جاسکتا ہے وہ لے کر چلا جائے۔ چلتے ہوئے انہوں نے دروازے، کھڑکیاں، کھونٹیاں اور چھتوں کی شیٹیں تک اکھاڑ کر اونٹوں پر لادنا شروع کردیں اور اس طرح بنو نضیر کے تمام لوگوں کو مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا ۔ بنو نضیر مدینہ سے نکل کر خیبر اور شام کے علاقوں میں آباد ہوگئے۔ واقعات کے اس پس منظر میں سورة الحشر کی آیات کو سمجھنے میں سہولت رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان یعنی کائنات میں جتنی بھی مخلوق ہے ان میں سے ہر ایک اس زبردست حکمت والے اللہ کی حمدو ثنا کر رہی ہے۔ اس کائنات میں ساری طاقت وقوت اسی ایک اللہ کی ہے اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی طاقت اور ہیبت و جلال نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کا نام لئے بغیر فرمایا ہے کہ اسی اللہ نے ان اہل کتاب میں سے لوگوں کو پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہیں یا عرب میں کسی کو اس بات کا گمان اور اندازہ تک نہ تھا بلکہ خود ان کے ذہن کے کسے گوشے میں اس کا تصور تک نہ تھا کہ وہ اپنے مضبوط قلعوں کے باوجود اس قدر آسانی سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بات یہ ہے کہ اللہ نے ان اہل کتاب کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ وہ بڑی محنت سے بنائے گئے اپنے گھروں اور آبادیوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ پھوڑ کر برباد کرنے پر مجبور تھے۔ اس میں ہر ایک کے لئے عبرت و نصیحت کا سامان موجود ہے۔ فرمایا کہ اگر گھر سے بےگھر ہونا ان کے مقدر میں نہ لکھ دیا ہوتا تب بھی ان کو دنیا میں ذلت و رسوائی کی سزا اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھونک دیا جاتا ( اور آخرت میں اب بھی ایسا ہی ہوگا) ۔ اللہ نے ان کو یہ عبرتناک سزا س لئے دی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانیاں کی تھیں اور ہر شخص کو یہ بات رکھنی چاہیے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ اس کو اسی طرح سزا دیا کرتا ہے۔ اہل ایمان نے بنو نضیر کی جن ہرے بھرے درختوں کو کاٹا تھا اور بنو نضیر نے کہا تھا کہ ان درختوں کا کیا قصو رہے ؟ یہ تو فساد فی الارض ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ جن درختوں کو کاٹا گیا یا جن کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا گیا وہ سب اللہ کے حکم اور اجازت سے تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ فاسقین کو ذلیل و رسوا کردے اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے۔ چونکہ بنو نضیر کے سارے باغات، قلعے اور مکانات اور جائیداد بغیر جنگ کے حاصل ہوئے تھے اس لئے اس کے احکامات کو آئندہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ بنو نضیر سے یہ غزوہ بدر کے بعد ربیع الاول 4 ھ مطابق اگست 625؁ء میں پیش آیا۔
Ayahs 59:6–10

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال غنیمت اللہ نے اپنے رسول کو ان (بنو نضیر) سے دلوایا تھا اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس پر تم نے نہ تو گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ بلکہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

اور اسی طرح جو مال اللہ اپنے رسول کو ” فے “ کے طور پر دے اس میں بھی تمہارا کوئی حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ ، اس کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ مال تمہارے مال داروں کے ہاتھوں میں نہ گھومتا رہے۔ اور رسول ﷺ تمہیں جو کچھ دیدیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کردیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

اس مال (فے) میں مہاجر فقرا کا خاص حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے (زبردستی) نکالے گئے۔ جب کہ ان کی یہ حالت ہے کہ وہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رضا و خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور وہ لوگ اللہ (کے دین) اور اس کے رسول کی مدد (دین کی سربلندی کیلئے) کیا کرتے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اس مال (فے) کے وہ بھی حق دار ہیں جو ان مہاجرین سے پہلے (مدینہ منورہ میں) ٹھکانا رکھتے تھے اور انہوں نے ایمان میں ایک ایسی جگہ پیدا کرلی ہے کہ وہ مہاجرین کے لئے اپنے دلوں میں کوئی خلش محسوس نہیں کرتے۔ اور وہ (اپنے مہاجر بھائیوں کو) اپنے سے مقدم سمجھتے ہیں اگرچہ وہ فقر و فاقہ ہی میں کیوں نہ ہوں۔ اور (درحقیقت ) جو لوگ بھی بخل اور کنجوسی سے بچ گئے وہی فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ بھی مال (فے) کے مستحق ہیں جو ان (مہاجرین و انصار) کے بعد ا ائے جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دیجئے جو ایمان لانے میں ہم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے بعض و عداوت کو جگہ نہ دیجئے۔ اے ہمارے پروردگار بیشک آپ ہی تو شفقت کرنے والے مہربان ہیں۔

لغات القرآن۔ افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔ تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔ دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ جنگ میں جو بھی مال و دولت اور غلام باندیاں ہاتھ لگتی تھیں وہ اس کی ملکیت سمجھی جاتی تھیں جس نے ان کو اپنے دشمن سے چھینا ہے۔ دین اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں ہر شخص کو اصولوں پر چلنا سکھایا ہے تاکہ ہر شخص کو عدل و انصاف مل سکے اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔ اسلام کے ان انقلابی اصولوں نے ہر مومن کو ایک دوسرے سے ہمدردی اور محبت کرنے والا بنادیا۔ سب سے پہلے تو اہل ایمان کو بتایا گیا کہ اصل چیز اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے اپنی جان و مال کا ایثار اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ دشمن سے جو مال ملتا ہے وہ ” انفال “ ہے یعنی زائد چیز ہے اس کو اصل نہ سمجھا جائے کیونکہ جب آدمی مال و دولت کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے تو آدمی کی اندرونی کمزوریاں اس کو لالچی، کنجوس، ظالم اور غرور وتکبر کا پیکر بنا دیتی ہیں اس لئے اہل ایمان کے نزدیک اللہ کی راہ میں جان و مال کا نذرانہ پیش کرنا ہی ان کی ساری دولت ہوا کرتی ہے۔ جنگ سے ہاتھ لگنے والے مال کا اصول یہ مقرر فرما دیا گیا ہے کہ جو بھی مال غنیمت ہاتھ لگے اس رسول اللہ ﷺ کے پاس لا کر ڈھیر کردیا جائے چناچہ اس مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کردیا جاتا ایک حصہ (خمس) بیت المال میں جمع کرا دیا جاتا جس کی تقسیم کی پوری ذمہ داری اور اختیار رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوتا تھا تاکہ وہ لوگ جو اس جنگ میں شریک نہیں ہیں یا غریب اور ضرورت مند ہیں وہ بھی محروم نہ رہیں اور باقی مالمجاہدین میں تقسیم کردیا جاتا تھا جو غلام اور باندیاں ہاتھ لگتیں ان کو بھی مجاہدین پر تقسیم کردیا جاتا تھا۔ غزوہ ٔ بنو نضیر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک اور اصول یہ مقرر فرمادیا کہ دشمن سے جو مال و جائیداد بغیر جنگ کے ہاتھ لگے وہ ” مال فے “ ہے جو سب کا سب رسول اللہ ﷺ کے اختیار سے تقسیم ہوگا۔ آپ اس مال و جائیداد کو اپنی مرضی سے عام لوگوں کی مصلحت اور مدد میں خرچ کریں گے۔ چناچہ جب بنو نضیر کے قلعوں اور گڑھیوں کو مجاہدین نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور بنو نضیر کو اندازہ ہوگیا کہ کوئی دوسرا ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا تو وہ صلح پر آمادہ ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ بنو نضیر کے جتنے لوگ ہے وہ ایک ایک اونٹ پر جو کچھ لاد کرلے جاسکتے ہیں لے جائیں۔ یہودیوں نے جو ان سے ممکن ہوسکا انہوں نے ہر چیز کو اپنے اونٹوں پر لادا اور اپنے قلعے، گڑھیاں، گھر بار اور مال و جائیداد مسلمانوں کے حوالے کرکے خیبر اور ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ سب کچھ اس قدر آسانی سے ہوگیا کہ جس کی کسی کو توقع تک نہ تھی۔ اس وقت فے کے احکامات نازل ہوئے جن پر انصار اور مہاجرین نے دل کی خوشی سے عمل کیا اور ایسے زبردست ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا جو رہتی دنیا تک انسانی تاریخ کا سنہری باب سمجھا اور لکھا جائے گا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اے مومنو ! اللہ نے جو مال اپنے رسول کو ان بستی والوں (بنو نضیر) سے دلوایا ہے اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ تم نے اس پر نہ تو گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ (یعنی تم نے کوئی خاص جنگی کاروائی نہیں کی) بلکہ اللہ نے اپنے رسول کو جن پر چاہا مسلط کردیا۔ وہ اللہ ہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے لہٰذا جو مال اللہ نے اپنے رسول کو ” فے “ کے طور پر دلوائے ہیں ان میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ساتھ اس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ وہ مال (جو معاشرہ کو زندگی دینے کے لئے گھومتے رہنا چاہیے) چند ہاتھوں تک محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک بنیادی اصول زندگی کے ہر معاملے میں متعین فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کچھ دیدیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع فرما دیں اس سے رک جائو۔ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ جب وہ کسی کو سزا دینے پر آتا ہے تو سخت اور بھیانک سزا دیا کرتا ہے۔ اللہ نے اس ” مال فے “ میں مہاجر فقراء کی بھرپور مدد کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مال فے میں ان مہاجر فقراء کا بھی حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے ہیں جن کی یہ حالت ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے فضل و کرم اور اس کی مکمل رضا و خوشنودی کے طلب گار رہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرکے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کے ایثار و قربانی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مال فے کے وہ بھی حق دار ہیں جو ان مہاجرین کے آنے سے پہلے (مدینہ منورہ میں) اپنا ٹھکانا رکھتے تھے۔ جنہوں نے اپنے پر خلوص ایثار و قربانی کے ذریعہ ایک ایسا عظیم مقام حاصل کرلیا ہے کہ وہ ان مہاجرین سے اپنے دلوں میں کوئی خلش اور تنگی محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے فقر و فاقہ کے باوجود اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد کرنے کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ واقعہ جو لوگ ” شح نفس “ (کنجوسی، بخل، تنگ دلی اور تنگ نظری سے ) بچ گئے حقیقی فلاح اور کامیابی ان ہی کا مقدر ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ بھی مال فے کے مستحق ہیں جو مہاجرین و انصار بعد میں آئیں گے۔ جن کی زبان پی یہی مخلصانہ دعائیہ کلمات ہوتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دیجئے جو ایمان لانے میں ہم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ الٰہی ! ہمارے دلو میں اہل ایمان کے لئے کسی بھی بغض و عداوت کو جگہ نہ دیجئے گا۔ اے ہمارے پروردگار آپ ہی تو ہر طرح کی شفقتیں کرنے والے مہربان ہیں۔ ٭” مال فے “ کے اس عادلانہ نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے آنے والے وہ مہاجرین جو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنا سرا گھر بار، رشتہ دار اور کاروبار جائیداد کو چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے تھے۔ انصار مدینہ نے ان کا نہ صرف زبردست، پر خلوص اور گرم جوشی سے اسقبال کیا تھا بلکہ اپنے کاروبار، مال و دولت، کھیتی باڑی میں اپنا حصہ دار بنا لیا تھا۔ انصار نے ان کو اپنے گھروں اور بستیوں میں مہمانوں کی طرح نہیں بلکہ بھائیوں کی طرح آباد کیا۔ انصار کے خلوص کی انتہا یہ تھی کہ کئی کئی انصاری صحابی کسی ایک مہاجر کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار کرتے تو دوسرا اس سے زیادہ اصرار کرتا تھا یہاں تک کہ بعض مرتبہ قرعہ اندازی سے یہ طے کیا جاتا کہ کون سا مہاجر کس انصاری کے ساتھ رہے گا۔ مہاجرین نے بھی محنت اور مزدوری سے اپنے انصاری بھائیوں کے دلوں میں اور بھی جگہ بنا لی تھی لیکن ان کا حال یہ تھا کہ ان کے پاس نہ تو اپنا ذاتی مکان تھا، نہ جائیداد تھی وہ اپنے انصاری بھائیوں کی جائیداد اور کاروبار میں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ جب بنو نضیر کے مال اور جائیداد کی تقسیم کے لئے ” مال فے “ کے احکامات نازل ہوئے تو آپ نے انصار کے سرداروں اور انصار مدینہ کو مشورہ کے لئے طلب فرمایا۔ آپ ﷺ نے سب انصار مدینہ سے فرمایا کہ بنو نضیر کے مال و جائیداد ہمیں حاصل ہوچکے ہیں اب ان مالوں کو مہاجرین اور انصار میں تقسیم کردیا جائے اور مہاجرین کو اسی طرح آپ کے مکانوں اور جائیدادوں میں محنت مزدوری کے لئے چھوڑد یا جائے ؟ اس سلسلے میں آپ کا کیا مشورہ ہے ؟ یہ سن کر انصار کے دوسردار حضرت سعد ابن عبادہ ؓ اور حضرت سعد ابن معاذ ؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک ہی بات فرمائی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہماری تو یہ رائے ہے کہ یہ سارے مال و جائیداد ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم کردیے جائیں اور وہ پھر بھی ہمارے گھروں میں بدستور رہیں۔ ان سرداروں کی باتیں سن کر تمام انصار کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بیک آواز کہا کہ ہم اس فیصلے پر راضی اور خوش ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انصار مدینہ کے اس عظیم جذبے کو سنا تو بےساختہ ان انصار مدینہ کے لئے بہت سی دعائیں فرمائیں۔ اس فیصلے کے بعد آپ نے صرف دو انصاری صحابہ ؓ حضرت ابو دجانہ ؓ اور حضرت سہل بن حنیف کو اور ایک روایت کے مطابق حضرت حارث ابن الصمہ کو ان کی بےانتہا غربت کی وجہ سے حصہ دیا (ابن ہشام) اور باقی تمام مال کا بڑا حصہ مہاجرین میں تقسیم فرما دیا گیا۔ سورۃ الحشر کی ان آیات ہی میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمادی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے : (1) دین اسلام نے معیشت کے ایسے منصفانہ اصول مقرر فرمائے ہیں جن میں دولت کی تقسیم میں عدل و انصاف کو بنیاد بنایا گیا ہے تاکہ معاشرے کے چند مال داروں اور دولت مندوں میں ساری دولت گھومتی نہ رہے جس سے غریب اور امیر کے دو ایسے طبقے پیدا ہوجائیں جس میں غریب تو اپنی محنت مزدوری کے باوجود اپنے لیے اور اپنے بال بچوں کے لئے راحت کے ہر سامان سے محروم ہر کو روٹی کے دو ٹکڑوں کے لئے ترس جائے اور اس پر زندگی ایک ایسا بوجھ بن جائے جس میں اسے سانس لینا دشوار ہوجائے لیکن دوسری طرف کچھ مال دار معاشرہ کے اس طرح ٹھیکیدار اور اجارہ دار بن جائیں کہ ریاست، سیاست، صحافت، معاشرت، معیشت، تہذیب و تمدن اور مال و دولت کے تمام ذرائع ان کے غلام بن کر رہ جائیں اور زندگی کا کوئی شعبہ ان کی اجارہ داری سے خالی نہ رہے۔ امیر ہر روز امیر تر بنتا چلا جائے اور غریب ہر روز غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے۔ چونکہ دین اسلام کے اصولوں میں جبر اور زبردستی نہیں ہے اس لئے اس نے ایسے طریقے متعین کردئیے ہیں کہ دولت مندوں کی دولت کا بہائو غریبوں کی طرف اور شہر میں رہنے والے صاحب حیثیت لوگوں کی دولت دیہاتوں کی طرف بہنے لگے چناچہ زکوٰۃ و صدقات کو عبادت کا درجہ دیا گیا اور نفلی صدقات کی جگہ جگہ رغبت دلائی گئی۔ قرض داروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کو سہولتیں دینے کا حکم دیا گیا۔ سود کے لین دین کو قطعی حرام قرار دیا گیا ۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کی گئی۔ مختلف غلطیوں کی معافی کے لئے کفارہ لازم کیا گیا۔ میراث کی تقسیم اور وصیت کے احکامات دئیے گئے تاکہ مرنے والے کا مال اور اس کی دولت و جائیداد زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے۔ بخل، کنجوسی، تنگ دلی اور تنگ نظری کی مذمت اور سخاوت و فیاضی کو اخلاق کا اعلیٰ ترین مقام عطا کیا گیا۔ جائزطریقے پر مانگے والوں، مسافروں، نادانوں اور محروم رہ جانے والوں کے ساتھ اس طرح حس سلوک کا حکم دیا گیا کہ مال دار مجبوروں کو بھیک سمجھ کر نہ دے بلکہ اس کو ان کا ایک حق سمجھ کر ادا کرے۔ حکومت کے پاس بیت المال میں خمس اور فے کی جو بھی رقم جمع ہوجائے اس کو معاشرہ کے غریب اور بدحال لوگوں کی خوش حالی پر صرف کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کی بیشمار احادیث میں بخل اور کنجوسی کو قابل ملامت اور فیاضی و سخاوت اور معاشرہ کے غریبوں کے لئے فرض شناسی کی عادت کو بہت پسند کیا گیا۔ جو لوگ تنگ دل، تنگ نظر، کم ظرف، دل کے چھوٹے اور زر پرست ہوتے ہیں ان کو معاشرہ کا ایک ایسا کینسر قرار دیا گیا جو آہستہ آہستہ پورے انسانی معاشرہ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ حضرت جابربند عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شح (بحل، کنجوس اور کوتاہ نظری) سے بچو کیونکہ اس عادت نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک و برباد کیا ہے۔ جس نے انہیں ایک دوسرے کے خون بہانے ایک دوسرے کی حرمت کو حلال جاننے پر اکسایا۔ ان کو ظلم و زیادتی پر نہ صرف آمادہ کیا بلکہ انہوں نے ظلم و ستم کئے۔ فسق و فجور اور قطع رحمی میں مبتلا ہوئے اور انہوں نے (صلہ رحمی کے بجائے) قطع رحمی کی۔ (مسلم ۔ بہیقی) ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ ایمان اور شح (بخل، کنجوسی اور زرپرستی) ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ (نسائی۔ بیہقی) ۔ (2) ۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد یہی سارے اختیارات جو مال غنیمت اور مال فے سے متعلق ہیں اور آپ کو پوری طرح حاصل تھے اس کے انتظامی اختیارات خلفاء راشدین اور ان کے بعد آنے والے خلفاء کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اب جب بھی ایسے حالات پیش آئیں اور مال فے حاصل ہوں تو آپ ﷺ کے خلفاء اپنے اختیارات کو استعمال کریں گے۔ وہ چاہیں تو مال فے کو تمام مسلمانوں کے مفاد میں روک لیں، بیت المال میں جمع رکھیں، کسی کو کچھ دیں یا نہ دیں، عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود جن کاموں سے متعلق ہے اس میں خرچ کردیں اور جیسے حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق عمل کریں۔ مال غنیمت کے خمس اور مال فے کے سورة انفال اور سورة حشر میں پانچ مصرف بیان کئے گئے ہیں۔ رسول، رشتہ دار، یتیم، مسکین اور مسافر۔ خمس میں بھی یہی مصارف ہیں اور مال فے کے بھی۔ بس یہاں یہ فرما دیا گیا کہ مال فے کی تقسیم کا پورا حق صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد اب آپ ﷺ کا حصہ تو ختم ہوچکا ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کا حق تھا آپ ﷺ کی وراثت نہیں تھی کہ جب آپ ﷺ کی اولادوں کی طرف منتقل ہوجاتی۔ اسی نسبت سے ذوی القربی یعنی رشتہ داروں کا حق تھا وہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ البتہ حضور اکرم ﷺ کے رشتہ داروں میں جو ضرورت مند ہیں ان کی ضروریات کو اور لوگوں سے پہلے پورا کیا جانا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی وجہ سے آپ ﷺ کے رشتہ داروں پر زکوٰۃ و صدقات لینا حرام ہے۔ (3) ۔ ان آیات میں تیسرا اصول یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ” رسول تمہیں جو کچھ دیدیں وہ لے لو اور جس سے منع کردیں اس سے رک جائو “۔ اگرچہ یہ آیت ” مال فے “ کے بیان میں آئی ہے لیکن اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ اللہ کے حکم سے فرماتے ہیں لہٰذا آپ ﷺ جس چیز اور جس کام کے کرنے کا حکم دیدیں اس کو اسی طرح کیا جائے اور جس سے رکنے کا اشارہ کریں اس سے رک جانا ہی سب سے بڑی سعادت ہے۔ چنانچہ ذخیرہ احادیث کا اگر دیکھا جائے تو اس میں سیکڑوں، ہزاروں ایسی حدیثیں ملیں گی جن میں آپ ﷺ نے امت کو احکامت عطا فرمائے ہیں جن کی تعمیل کرنا اصل دین ہے۔ دراصل جو شخص رسول اللہ ﷺ کے احکامات کو اہمیت نہ دیتا ہو اور وہ ذخیرہ احادیث جس پر امت کے علماء محدثین، مفسرین اور فقہاء نے بےمثال محنتیں کرکے ہم تک پہنچایا ہے اس کا انکار اور اس کو عجمی سازش قرار دینے والا روح اسلام کا انکار کرنے والا، خود دشمنان اسلام کی سازشوں کا شکار ہے۔
Ayahs 59:11–24

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ آپ نے ان (منافقین) کو دیکھا جو اپنے اہل کتاب بھائیوں (بنو نضیر) سے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی نکلیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کسی کی بات نہ سنیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ (منافق) جھوٹے ہیں۔

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

البتہ اگر وہ (گھروں سے) نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر جنگ چھڑ گئی تو یہ ان کی مدد نہ کرسکیں گے۔ اور اگر وہ ان کی مدد کریں گے تو پیٹھ دکھا کر بھاگیں گے اور پھر ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

اور یقینا تمہارا رب ان (منافقین) ( کے دلوں میں جس طرح اللہ (کا خوف ہونا چاہیے تھا ( اس سے بھی زیادہ خوف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے ہیں۔

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

وہ تم سے (جتھا بنا کر) بھی نہیں لڑ سکتے سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں یاد یواروں کی آر میں ہو کر لڑیں۔ در حقیقت ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ (اے مخاطب) تو انہیں متحد و متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے دل (آپس میں) پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل و فہم نہیں رکھتے۔

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان (بنو نضیر کی) مثال ان (قوموں) جیسی ہے جو ذرا ہی دیر پہلے گزری ہیں جو اپنی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے سخت سزا ہے۔

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کی مثال اس شیطان جیسی ہے جو آدمی سے کہتا ہے کہ تا کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کفر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بےتعلق ہوں۔ بیشک میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر دونوں (شیطانوں اور انسانوں) کا انجام یہ ہوگا کہ وہ ایک ایسی جہنم میں پہنچائے جائیں گے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو۔ اور ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے کیا آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اس کی اللہ کو خبر ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق اور نافرمان ہیں۔

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

جنت والے اور جہنم والے برابر نہیں ہیں کیونکہ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو (اے مخاطب) تو دیکھتا کہ وہ (پہاڑ) اللہ کے خوف ( اور دہشت) سے دب جاتا ( اس ٹکرے اڑ جاتے) اور ہم لوگوں کے لئے ان مثالوں کو اس لئے بیان کر رہے ہیں تاکہ غور وفکر کریں۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے دونوں کا جاننے والا ہے وہ بیحد مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ بادشاہ ہے۔ ہر عیب سے پاک ذات ہے، امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، تمام قوتوں کا مالک، نہایت زبردست ، بڑی عظمت والا، اور اس کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جو پیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا، صورت بنانے والا سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اس کی تسبیح کرتا ہے۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔

لغات القرآن۔ نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔ تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر ہیں جو تمہاری طرف سے لڑیں گے اور پھر تمہارے بہت سے حلیف قبائل بھی تو ہیں جو تمہارا ساتھ دیں گے۔ بنو نضیر عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کے بہکائے میں آکر غرور وتکبر کا پیکر بن گئے اور رسول اللہ ﷺ سے کہلا دیا کہ ہم تو یہاں سے جانے والے ہیں نہیں آپ سے جو ہو سکے وہ کرلیں۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ” اللہ اکبر “ فرمایا اور صحابہ کرام ؓ سے بنو نضیر کا گھیرائو کرنے اور جنگ کا اعلان کردیا۔ دس دن کی مدت گزرتے ہی آپ ﷺ نے تقریبا تین ہزار صحابہ کو لے کر اس قدری تیزی سے بنو نضیر کے قلعوں کو گھیر لیا کہ وہ قلعوں میں بند ہو کر اہل ایمان پر صرف تیز ار پتھر برساتے رہے۔ آپ ﷺ نے گھیرا تنگ کردیا اور کوئی خاص جنگی کاروائی نہیں کی۔ عبد اللہ ابن ابی اور بنو نضیر کا کوئی حلیف ان کی مدد کرنے کے لئے نہیں آیا۔ طویل محاصرہ اور کسی طرف سے کسی طرح کی امداد نہ آنے پر آخر کا بنو نضیر نے صلح کی پیش کش کردی جسے آپ ﷺ نے منظور کرتے ہوئے ان کو ایک ایک اونٹ پر جو کچھ گھر بار کا سامان آسکتا تھا وہ لے جانے کی اجازت دیدی۔ اس طرح چند ہی دنوں میں بغیر کسی جنگ کے بنو نضیر کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کو نازل فرمایا۔ ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ آپ نے ان منافقین کو دیکھا جنہوں نے کافر اہل کتاب سے کہا کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہم تمہارے مقابلے میں کسی کی بات نہ سنیں گے۔ جنگ ہونے کی صورت میں ہم تمہارے ساتھ ہوں گے۔ فرمایا کہ اللہ گواہ ہے یہ قطعاً جھوٹے لوگے ہیں گر یہ (بنو نضیر) نکالے گئے تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہ نکلیں گے۔ جن گ میں ان کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے نیز کسی اور طرف سے بھی ان کی مد دنہ کی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی اور انہوں نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی تو یہ سب پیٹھ دکھا کر بھاگیں گے۔ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نادان و احمق لوگ اللہ سے تو نہیں ڈرتے لیکن تمہارا رعب ان کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ سب منافق ہیں جو کبھی سامنے آکر مقابلہ نہ کریں گے یا تو یہ قلعہ بند ہو کر یا دیواروں کے پیچھے سے تم پر حملے کریں گے۔ فرمایا کہ شاید تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ سب متحدو متفق ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ان کے دل تو خود ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اور آپس کی مخالفت میں بڑے سخت لوگ ہیں۔ یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی مدت پہلے اپنے کئے کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ ان کا انجام بھی درد ناک ہی ہے۔ اکسانے والے کی مثال تو اس شیاطن جیسی ہے جو آدمی کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب آدمی کفر کرنے لگتا ہے تو شیطان پیٹھ دکھا کر بھاگتا ہے اور کہتا ہے کہ اصل میں مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر ان (جیسے شیطانوں اور انسانوں ) کا انجام ایک ایسی جہنم ہے جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔