59. Surah Al-Hashr
الحشرThe Exile · 24 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الحشر سورة نمبر 59 کل رکوع 3 آیات 24 الفاظ و کلمات 455 حروف 2016 مقام نزول مدینہ منورہ مال غنیمت یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ کرکے اس کے پانچ حصے کیے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کر دئیے جائیں اور پانچواں حصہ بیت المال کو جمع کردیا جائے تاکہ مملکت کے ضروری کام نمٹائے جاسکیں۔ مال فے دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے۔ اس کے لئے اللہ نے فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ و رسول کے لئے مخصوص کردیا جائے تاکہ اس کی تقسیم اس طرح ہو کہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ بنو نضیر سے چونکہ جنگ نہیں ہوئی تھی اس لئے اس کو مال فے قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مال و دولت سب اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ اصل چیز یہ ہے کہ آنے والے کل کی فکر کی جائے کہ کس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کیا ہے وہی قیامت کے دن اس کے کام آئے گا اور باقی سب کچھ اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ مدینہ منورہ میں بنو نضیر کی شرارتوں اور میثاق مدینہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نصیر کو دس دن کے اندر اندر یہ شہر چھوڑنے کا نوٹس دے دیا تاکہ ان کو ان کی سازشوں کی سزا دی جاسکے۔ اصل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آباد تمام قبیلوں سے ایک معاہدہ امن کیا تھا جس کا بنیادی مقصد آپس میں مل جل کر رہنا اور اگر کوئی بیرونی حملہ یا مداخلت ہو تو سب مل کر اپنے اس شہر کا دفاع کرسکیں۔ ان ہی میں یہودی قبیلہ بنو نضیر سے باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا لیکن انہوں نے شروع ہی سے اپنی شرارتوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ وہ مکہ کے کافروں کو مدینہ منورہ پر حملے پر اکساتے رہتے یہاں تک کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید تک کرنے کی سازش کر ڈالی تھی مگر اللہ کی طرف سے بروقت اطلاع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کے قبیلے سے واپس تشریف لے آئے۔ مدینہ منورہ کی بستی سے باہر بنو نضیر کے باقاعدہ بستیاں تھیں جہاں وہ صدیوں سے آباد تھے۔ انہیں اپنے مضبوط قلعے، ہرے بھرے باغات اور اپنی مال و دولت پر بڑا ناز تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو دس دن کا نوٹس دیا تو وہ اڑ گئے۔ ادھر رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے خاموشی کے ساتھ کہلا بھیجا کہ تم اپنی جگہ ڈٹے رہو ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں دو ہزار جوانوں کے ساتھ تمہاری طرف سے لڑوں گا اور آس پاس کے دوسرے قبیلے بھی تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں۔ بنو نضیر نے اپنے گھمنڈ اور منافقین کے بھروسے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا بھیجا کہ ہم اپنی بستیاں خالی نہ کریں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ آپ کرلیجئے۔ بنو نضیر نے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اپنے قلعوں سے تیر اور پتھر پھینکنے کی جگہوں کا انتخاب کرلیا۔ ادھر دس دن کی مدت گزرتے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے اس قدر تیزی سے بنو نضیر کی گڑھیوں اور قلعوں کو گھیر لیا کہ وہ اپنے قلعوں سے سوائے تیر برسانے اور پتھر پھینکنے کے اور کچھ نہ کرسکے اور جن منافقین نے مدد کا وعدہ کیا تھا وہ بھی سب کے سب دبک کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یا بعض صحابہ کرام (رض) نے جو آس پاس درخت تھے ان میں سے کچھ کو کاٹ ڈالا تاکہ بنو نضیر اپنی نظروں سے اپنے باغات کی تباہی دیکھ کر مقابلے کے لئے باہر نکلیں مگر وہ دیکھتے رہ گئے اور یہودی اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے باہر نہ نکل سکے۔ بنو نضیر نے نہایت بےبسی کے عالم میں مسلمانوں سے صلح پر آمادگی ظاہر کردی اور کہا کہ ہماری جانیں بخش دی جائیں اور ہمیں ہتھیاروں کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں وہ لے جانے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی۔ اس کے بعد انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بنائے ہوئے مکانات توڑنے شروع کردئیے تاکہ مسلمان ان کو استعمال نہ کرسکیں اور وہ جو کچھ اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے تھے وہ ساتھ لے گئے اور اس طرح بنو نضیر کی پوری بستیوں پر مسلمانون کو فتح حاصل ہوگئی۔ چونکہ بنو نضیر سے بغیر جنگ کیے ان کی دولت اور جائیداد ہاتھ آگئی تھی تو مال غنیمت کی طرح اس کو بھی مجاہدین میں قاعدہ کے مطابق تقسیم کیا جاتا لیکن اللہ نے اس مال کو ” مال فے “ قرار دے کر احکامات نازل فرمائے۔ ” مال غنیمت “ یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ جمع کرکے اس کے پانچ حصے کئے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں جمع کردیا جائے تاکہ اس سے مملکت کی ضروری امور سرانجام دئے جائیں۔ ” مال فے “ دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال و دولت وغیرہ ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ ورسول کے لئے مخصوس کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ اللہ کی طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس مال فے کو رشتہ داروں، یتیموں اور مسافروں پر خرچ فرمائیں اس طرح وہ ضرورت مند مہاجرین جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی اسی طرح وہ انصار مدینہ کے ضرورت مند بھی اس کے مستحق ہیں جنہوں نے مہاجرین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں اور اپنی ضروریات کے باوجود انہوں نے کبھی بخل اور کنجوسی سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیح دی۔ ٭آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہو۔ گناہوں سے بچتے رہو تو کہ تم جنت کے مستحق بن جائو۔ اللہ نے فرمایا کہ جہنم والے اور جنت والے کبھی یکساں اور برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ جنت والے کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ فرمایا کہ اس باعظمت قرآن پر پوری طرح عمل کرو جس کی شان یہ ہے کہ اگر اس کو پہاڑ پر نازل کردیا جاتا تو وہ اس کے بوجھ سے دب جاتا اور اس کے ٹکڑے اڑ جاتے مگر وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر پاتا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے اپنے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ کو مانو جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے جو ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سلامتی ہی سلامتی ، امن دینے والا، نگہبان، ہر ایک پر غلبہ رکھنے والا، اپنا حکم پوری قوت سے نافذ کرنے والا، ہر طرح کی بڑائیوں کا مستحق ہے۔ ہر اس شرک سے پاک ہے جو لوگ اس کی ذات اور صفات میں ملا رہے ہیں۔ وہی پیدا کرنے والا، نافذ کرنے والا، صورت شکل بنانے والا، سارے بہترین نام اسی کے ہیں۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے وہ اسی کی حمدو ثنا کر رہا ہے وہی زبردست حکمت والا ہے۔
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں جو بھی (مخلوق ) ہے وہ سب اسی کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔ وہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader
وہی ہے جس نے اہل کتاب ( میں سے بنو نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ خود بھی یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے (نما گھر) انہیں اللہ کے ہاتھ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ کا عذاب ان پر ایسی جگہ سے آیا جس کا انہیں گمان تک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں او اہل ایمان کے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے۔ اے آنکھوں والو ! اس (واقعہ) سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader
اور اگر گھر سے بےگھر ہوجانا اللہ نے ان کے (مقدر میں) نہ لکھ دیا ہوتا تو ان کو دنیا ہی میں سزا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لئے جہنم کا عذاب دیا جانا طے ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader
یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو بیشک اس کے لئے اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader
(اے مومنو ! ) تم نے کھجوروں کے جن درختوں کو کاٹ ڈالا۔ یا جنہیں تم نے اسی حالت پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنی جڑوں پر کھڑے رہیں تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا تاکہ (اس کے ذریعہ) وہ فاسقین کو ذلیل و رسوا کردے۔
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader
اور جو مال غنیمت اللہ نے اپنے رسول کو ان (بنو نضیر) سے دلوایا تھا اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس پر تم نے نہ تو گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ بلکہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader
اور اسی طرح جو مال اللہ اپنے رسول کو ” فے “ کے طور پر دے اس میں بھی تمہارا کوئی حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ ، اس کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ مال تمہارے مال داروں کے ہاتھوں میں نہ گھومتا رہے۔ اور رسول ﷺ تمہیں جو کچھ دیدیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کردیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader
اس مال (فے) میں مہاجر فقرا کا خاص حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے (زبردستی) نکالے گئے۔ جب کہ ان کی یہ حالت ہے کہ وہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رضا و خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور وہ لوگ اللہ (کے دین) اور اس کے رسول کی مدد (دین کی سربلندی کیلئے) کیا کرتے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader
اس مال (فے) کے وہ بھی حق دار ہیں جو ان مہاجرین سے پہلے (مدینہ منورہ میں) ٹھکانا رکھتے تھے اور انہوں نے ایمان میں ایک ایسی جگہ پیدا کرلی ہے کہ وہ مہاجرین کے لئے اپنے دلوں میں کوئی خلش محسوس نہیں کرتے۔ اور وہ (اپنے مہاجر بھائیوں کو) اپنے سے مقدم سمجھتے ہیں اگرچہ وہ فقر و فاقہ ہی میں کیوں نہ ہوں۔ اور (درحقیقت ) جو لوگ بھی بخل اور کنجوسی سے بچ گئے وہی فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader
اور وہ لوگ بھی مال (فے) کے مستحق ہیں جو ان (مہاجرین و انصار) کے بعد ا ائے جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دیجئے جو ایمان لانے میں ہم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے بعض و عداوت کو جگہ نہ دیجئے۔ اے ہمارے پروردگار بیشک آپ ہی تو شفقت کرنے والے مہربان ہیں۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader
اور (اے نبی ﷺ آپ نے ان (منافقین) کو دیکھا جو اپنے اہل کتاب بھائیوں (بنو نضیر) سے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی نکلیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کسی کی بات نہ سنیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ (منافق) جھوٹے ہیں۔
لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader
البتہ اگر وہ (گھروں سے) نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر جنگ چھڑ گئی تو یہ ان کی مدد نہ کرسکیں گے۔ اور اگر وہ ان کی مدد کریں گے تو پیٹھ دکھا کر بھاگیں گے اور پھر ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔
لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader
اور یقینا تمہارا رب ان (منافقین) ( کے دلوں میں جس طرح اللہ (کا خوف ہونا چاہیے تھا ( اس سے بھی زیادہ خوف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے ہیں۔
لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader
وہ تم سے (جتھا بنا کر) بھی نہیں لڑ سکتے سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں یاد یواروں کی آر میں ہو کر لڑیں۔ در حقیقت ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ (اے مخاطب) تو انہیں متحد و متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے دل (آپس میں) پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل و فہم نہیں رکھتے۔
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader
ان (بنو نضیر کی) مثال ان (قوموں) جیسی ہے جو ذرا ہی دیر پہلے گزری ہیں جو اپنی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے سخت سزا ہے۔
كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader
ان کی مثال اس شیطان جیسی ہے جو آدمی سے کہتا ہے کہ تا کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کفر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بےتعلق ہوں۔ بیشک میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader
پھر دونوں (شیطانوں اور انسانوں) کا انجام یہ ہوگا کہ وہ ایک ایسی جہنم میں پہنچائے جائیں گے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو۔ اور ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے کیا آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اس کی اللہ کو خبر ہے۔
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader
تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق اور نافرمان ہیں۔
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader
جنت والے اور جہنم والے برابر نہیں ہیں کیونکہ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader
اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو (اے مخاطب) تو دیکھتا کہ وہ (پہاڑ) اللہ کے خوف ( اور دہشت) سے دب جاتا ( اس ٹکرے اڑ جاتے) اور ہم لوگوں کے لئے ان مثالوں کو اس لئے بیان کر رہے ہیں تاکہ غور وفکر کریں۔
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے دونوں کا جاننے والا ہے وہ بیحد مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader
اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ بادشاہ ہے۔ ہر عیب سے پاک ذات ہے، امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، تمام قوتوں کا مالک، نہایت زبردست ، بڑی عظمت والا، اور اس کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جو پیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا، صورت بنانے والا سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اس کی تسبیح کرتا ہے۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔