59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsسراج البیان

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس نے ان کو جو منکر ہیں ۔ کتاب والوں میں لشکر کے پہلے ہی اجتماع پر ان کے گھروں سے نکال باہر کیا تمہیں گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکلیں (ف 1) گے اور وہ گمان کرتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچائیں گے ۔ سو اللہ کا عتاب ان پر ایسی جگہ سے آیا کہ جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا اور ان کے دل میں رعب ڈالا کہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے ۔ سو اے آنکھ والو عبرت پکڑو

سورة الحشر 1: اس سورت میں اولاً یہ بتایا ہے ۔ کہ بنی نضیر جن کے پاس مضبوط قلعے تھے ۔ اور جو ہر طرح سامان جنگ سے مسلح تھے ۔ جب انہوں نے اسلام کی دشمنی میں ابوسفیان سے معاہدہ کیا ۔ اور پہلے عہد کو توڑا ۔ تو کیونکر اللہ نے ان کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو جلاوطنی پر مجور کردیا ۔ اس کے بعد دوسرے مباحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے غلبہ واقتدار زقیل مقدارات سے مقام عبرت یہودی مالدار بھی تھے ۔ اور محفوظ قلعوں میں پناہ گزین بھی ۔ مگر جب عساکر اسلامی نے محاصرہ کیا ۔ اور لڑائی کے لئے للکارا ۔ تو ان کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ کچھ ایسا رعب ڈالا ۔ کہ تاب مقادست نہ لاسکے ۔ اور قلعہ بندہوکر بیٹھ رہے ۔ اور جب دیکھا ۔ کہ مخلصی ممکن نہیں ، تو اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے برباد اور ویران کرنے لگے ۔ کہ مسلمان ان پر قبضہ کرکے ان سے استفادہ نہ کرسکیں ۔ غور فرمائیے ۔ یہ مال و دولت کی فراوانی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی ۔ کیا اسی لئے وہ تمام دخیا سے زیادہ حریض تھے ۔ کہ وقت پر ان کے اموال اور خزائن دوسروں کے کام آئیں ۔ کیا مکہ والوں نے ان کی مدد کی جن کے ساتھ انہوں نے سازباز کرکے معاہدہ شکنی کا ارتکاب کیا تھا ۔ یہ کتنی عبرت ناک بات تھی ۔ کہ ایک قوم اپنے گھروں سے نہایت ذلت اور اعتقاد کے ساتھ نکال جارہی تھی ۔ اور اپنے اموال سے محروم کی جارہی تھی ۔ اس پاداش میں ۔ کہ اس نے اپنی ساری عمر دولت کے حصول میں خرچ کی ۔ اور حق کو تسلیم نہ کیا ۔ مذہبی حقائق کو جھٹلایا ۔ اور دنیائے عاجل کو ترجیح دی ۔ یہ قوم جس کو دولت سے محبت تھی ۔ جس کے سامنے کوئی اخلاقی اور روحانی نصب العین نہ تھا ۔ ضروری تھا کہ اس عذاب میں گرفتار ہوتی ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسلام نے ان کو جو ان کے قلعوں سے اور محلات سے نکالا ۔ تو پھر ان کو چین کے ساتھ رہنے کا کہیں موقع نہیں ملا ۔ قرآن نے فرمایا تھا کہ یہ اول حشر ہے ۔ جس کے معنے یہ تھے ۔ کہ اس نوع کے اور اس قبیل کے کئی حشر ان پر ٹوٹنے والے ہیں ۔ چناچہ یہ پیشگوئی ثابت ہوتی ۔ اور اس قوم مغضوب کو دیتا میں ذلت واحقار کی زندگی بسر کرنا پڑی ۔ اور باوجود دولت کی کثرت کے اور سیم وزر کے انباروں کے رہنے کے لئے انہیں کہیں ٹھکانا نہ ملا ۔ فرمایا : کہ اگر اس بدعہدی کی پاداش میں ان کو جلاوطن کیا جاتا ۔ تو ان کی سزا یہ تھی ۔ کہ ان کو مارڈالا جاتا ۔ کیونکہ ان کی فہرست جرائم ہایت سنگین تھی ۔ اور اس بات کی متقاضی تھی ۔ کہ ان سے زندگی کو چھین لیا جائے ۔ اور پھر آخرت میں جو عذاب ان پر نازل ہوتا ۔ وہ اس پر مستزاد ہوتا کیونکہ انہوں نے سخت قسم کے عنا دکا مظاہرہ کیا ۔ اور اللہ اور اس کے رسول سے کھلم کھلا غداری کی ۔ اس لئے اللہ کا غضب بھڑکانا گریز اور ضروری تھا ۔ حل لغات : ۔ سبح ۔ پاکی بیان کرنا ہے ۔ اللہ کے قانون کا تبع ہے ۔ اور اپنی اطاعت کا ہر لمحہ اظہار کرتا رہتا ہے ۔ لاول الحشر ۔ اس طرف اشارہ ہے کہ یہودیوں کو جلاوطنی کا یہ پہلی دفعہ پہنچا ہے ورنہ وہ اس سے قبل عربوں میں بڑے ٹھاٹ اور وقار کے ساتھ رہتے تھے الرسف وہ طوف ۔ وہ خوف جو پورے طور پر دل میں سما جائے ۔
Ayahs 59:3–5

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوئی کہ اللہ ان کے لئے جلاوطنی لکھ چکا تھا ۔ تو انہیں دنیا میں عذاب دیتا ۔ اور ان کے لئے آخرت میں آگ کا عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کریگا تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

کھجور کا جو پیر (ف 1) تم نے کاٹا یا اسے اپنی جڑ پر کھڑا رہنے دیا ۔ سو اللہ کے حکم سے تھا ۔ اور اس لئے تھا کہ خدا فاسق لوگوں کو رسوا کرے

ف 1: یہودیوں کے پاس بہت سے باغات تھے ۔ جو ان کی دولت اور تمول کا سبب تھے ۔ اس محاصرہ کے دوران میں مسلمانوں نے ان کو غیرت دلانے کے لئے یا اس لئے کہ وہ ان درختوں کو بطور کمین گاہوں کے استعمال نہ کرسکیں ۔ ان کو کاٹ ڈالا ۔ اور پھر دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا ۔ کہ کہیں ہم نے معصیت کا ارتکاب تو نہیں کیا ۔ کیونکہ اسلامی قانون جنگ میں صرف محارب تو ان کو ہدف ہلاکت بنایا جاتا ہے ۔ اور بلا ضرورت تخریب اور تباہی ممنوع ہے ۔ اس آیت میں بتایا کہ جنگ کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا ۔ کہ تم لوگ درمیان میں ان درختوں کو کاٹ ڈالو ۔ تاکہ میدان صاف ہوجائے ۔ اور دشمن دھوکہ نہ دے سکے ۔ اور چھپ کر حملہ کرسکے ۔ یاقلعوں میں محصور نہ رہے ۔ بلکہ اپنے اموال کی تباہی اور بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر غصہ سے بےتاب ہوجائے ۔ اور میدان جنگ میں نکل آئے ۔ اور تمہیں موقع دے کہ تم اس سے لڑسکو ۔ حل لغات :۔ لینۃ ۔ تنہ ایک نوع کی کھجور ، جو عمدہ قسم کی نہیں ہوتی اوجفتم ۔ دوڑایا ۔ سنت ذخیرہ خیروبرکت ہے
Ayahs 59:6–7

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے ان کے مالوں میں سے رسول کے ہاتھ لگوادیا ہے تو تم نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے غلبہ دیتا ہے اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

بستیوں والوں کے مالوں میں سے جو کچھ اللہ اپنے رسول کے ہاتھ لگوادے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ مال (صرف) تمہارے دولت مندوں کے لینے دینے میں (ہی) نہ آوے ۔ اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو ۔ اور جس سے منع کرے ۔ باز رہو اور اللہ سے ڈرو (ف 1) ۔ بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

ف 1: یہ آیت سیاق وسباق کے لحاظ سے تواموال غنیمت کی تقسیم کے متعلق ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ جس شخص کو جس قدر ازراہ انصاف وعدل دیتے ہیں ۔ اس کو بلا تکلف اور بغیر اعتراض کے قبول کرلینا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور حرف شکایت لبوں تک نہیں لانا چاہیے ۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ کے عدل و انصاف پر اعتماد نہ کرنا تقویٰ کے منافی ہے ۔ نور ایمان کا فقدان وضیاع ہے ۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے ۔ کہ اس خصوصی منی کی وجہ سے آیت میں تقسیم باقی نہ رہے ۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے ۔ کہ آیت میں اصالتہ عموم اسی ہے ۔ اور خصوص ضمنا خود بخود اس میں آجاتا ہے ۔ آیت کے معنے یہ ہیں ۔ کہ رسول ﷺ کی شخصیت تمہیں جو احکام ونواہی سناتی ہے ۔ اس کو قبول کرو ۔ اور اس کے سامنے کسی نوع کے کبرنفس کا اظہار نہ کرو ۔ کہ یہ پاکیزگی قلب کو ضائع کردینے کے مترادف ہے ۔ گویا حضور ﷺ اس منصب پر ہیں ۔ کہ وہ مطاع ہیں ۔ ان کی اطاعت اللہ نے لازم قراردی ہے ۔ وہ جو کچھ سیرت وکردار کا ذخیر چھوڑ جائیں ۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے ۔ کہ اسے خیروبرکت سمجھ کر قبول کرلیں ۔ ورنہ شدید ترین عذاب کے لئے تیار رہیں ۔ یہ عجیب بات ہے ۔ کہ جن لوگوں نے سنت کی محبت سے انکار کیا ہے ۔ اور اپنے زعم میں اختلافات سے بچنے کے لئے صرف قرآن سے تشک کیا ہے ۔ اور وہ بھی قرآن کے انہیں حصے جس میں اسی کی کفایت و تفصیل کا ذکر ہے ۔ وہ اطاعت رسول کی محرومی کی وجہ سے اس دنیا میں عظیم ترین اور تدید ترین عذاب میں مبتلا ہوگئے ۔ اور وہ عذاب اختلاف وتفرقہ کا عذاب ہے ۔ ان کا ہر سمجھدار آدمی بجائے خود ایک مذہب کا امام اور مجتہدبن گیا اور چاہنے لگا ۔ کہ لوگ اس کے متنبع ہوجائیں ۔ فرہین المطروقام تحت الیراب ۔ کی کتنی عمدہ مثال ہے ۔ یہ لوگ اتنی واضح اور نمایاں حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔ کہ قران کو اس کے اولین حامل کی وساطت کے بغیر سمجھنا اتنا ہی مشکل ہے ۔ جس قدر خدا تک بغیر عقل وفہم کے رسائی حاصل کرنا ۔
Ayahs 59:8–10

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

وہ ان محتاج وطن چھوڑنے والوں کا بھی حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو مدددیتے ہیں ۔ وہ سچے لوگ ہیں

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور وہ مال ان کا بھی حق ہے ۔ جنہوں نے مہاجرین سے پہلے اس گھر (مدینہ) اور ایمان میں جگہ پکڑ رکھی ہے ۔ جو شخص ان کی طرف ہجرت کرکے آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو مال مہاجرین کو ملا ہے اس سے اپنے دلوں تنگی نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ وہ آپ (بھوک کی) تنگی میں ہوں اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچایا گیا تو وہی لوگ مراد پانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور وہ مال ان کا بھی حق ہے جو ان مہاجرین وانصار کے بعد (ف 1) آئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں بخش دے ۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان داروں کی عداوت نہ رکھ ۔ اے ہمارے رب تو ہی شفقت کرنے والا مہربان ہے

ف 1: ان آیات میں ان لوگوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔ جو اموال غنیمت کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ فرمایا ۔ اس مال میں ان غریب مہاجرین کا حصہ ہے ۔ جو اپنے گھر اور اپنے مال و سامان سے جبرا جدا کردیئے گئے ۔ جو محض اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں ۔ اور وقتاً فوقتاً جب ضرورت پڑے میدان جہاد میں بطور سپاہی کے لڑتے ہیں ۔ اور اپنی صداقت ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ پھر وہ انصار بھی اس کا ستحقاق رکھتے ہیں ۔ جو مدینہ میں پہلے سے قیام پذیر ہیں ۔ اور ایمان کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے ۔ جو مہاجرین کو وقعت کی کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی آسودگی سے نہ صرف خوش ہوتے ۔ بلکہ بسا اوقات ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ۔ چاہے خود تکلیف ہی میں کیوں نہ مبتلا ہوں ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی مستحق ہیں ۔ جو ان کے بعد آئے ۔ اور ان کے لئے ازراہ اخلاص مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔ حل لغات :۔ نبوء الداروال ایمان ۔ جنہوں نے مدینہ کو اور عقیدہ اسلام کو اپنا مسکن قرار دیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ مسلمان مقامی قید کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ اس کے نزدیک اس چیز عقیدہ کی حفاظت وصیالت ہے ۔ اور وہ زمین کے جس گوشے میں میسر ہو ۔ اس کا وطن ہے ۔ خصاصۃ ۔ فاقہ اور عشرت ۔ یعنی مسلمان ہمیشہ ہر حالت اپنے دوسرے بھائی کی ضروریات سے زیادہ لائق توجہ خیال کرتا ہے غلا ۔ کینہ ۔ حسد ۔
Ayahs 59:11–12

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہیں دیکھا جو منافق (دغاباز) ہیں ؟ کہ اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے ہیں کہتے ہیں کہ اگر تم (مدینہ سے) نکالے گئے تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے حق میں کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوگی تو ہم ضرور تمہاری مدد کرینگے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے جائیں تو یہ ان کے ساتھ (ف 1) نہ نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوگی تو یہ انہیں مدد بھی نہ دینگے اور جو مدد دینگے تو ضرور پیٹھ دے کر بھاگیں گے ۔ تو پھر کہیں مدد نہ پائیں گے

یہ بزدل ہیں 1: اصل میں بنی نضیر کو منافقین نے بدعہد اور غدر پر اکسایا تھا ۔ انہوں نے ان کو یقین دلایا تھا ۔ کہ ہم ہر طرح آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ کو مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آراء ہونے کے لئے کسی طرح کا تامل نہیں کرنا چاہیے ۔ ہم آپ لوگوں کی بہرحال اعانت کرینگے ۔ اگر آپ کو مدینہ سے نکل جانے پر مجبور کیا گیا ۔ تو ہم بھی نکل کھڑے ہونگے ۔ اور اس معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں سنیں گے ۔ اور اگر جنگ ہوجائے ۔ تو پھر ہم کو آپ بزدل نہیں پائیں گے ہم آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے اور آپ دیکھیں گے ۔ کہ ہم کیونکر آپ کے ساتھ دیتے ہیں ۔ فرمایا یہ ان کی زبانی ہمدردی ہے ۔ اور محض خبث اور شرارت ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے ۔ کہ یہ عہد و پیمان کبھی شرمندہ عمل نہیں کرنے کا ۔ ان میں جب اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے ۔ کہ کھلم کھلا کفر کا اظہار کریں ۔ تو یہ کیونکر گوارا کرینگے ۔ کہ یہودیوں کی جلاوطنی میں ان کا ساتھ دیں ۔ اور بیٹھے بٹھائے اپنے حال اور اپنی زمینوں سے جدا کردیئے جائیں ۔ ان میں ایثار کی بالکل صلاحیت موجود نہیں ہے ۔ یہ بھی ناممکن ہے ۔ کہ جنگ کے وقت یہ لوگ میدان میں مسلح ہوکر آجائیں ۔ اور آمنے سامنے ہوکر لڑیں ۔ جانتے بزدل ہیں ۔ کہ اگر مقابلہ پر آنے کے لئے مجبور بھی ہوجائیں ۔ تو ایک دم دم دبا کر بھاگ کھڑے ہونگے ۔ اور پھر انکے لئے جان بچانا مشکل ہوجائے ۔ اس کے بعد ایک اصول کی بات بتلائی ۔ کہ ان لوگوں کا چونکہ اللہ پر ایمان نہیں ہے ۔ اور یہ عقیدہ کی برکت سے محروم ہیں ۔ اس لئے تمہارا وجود ان کے لئے بہت زیادہ مرغوب کن ہے ۔ یہاں تک کہ جس قدر تم سے خائف ہیں ۔ اللہ ہے بھی اس قدر خائف نہیں ہیں ۔ جب ان منافقوں اور یہودیوں میں وہ اصل چیز بھی موجود نہیں ۔ جس کی بنا پر دلوں میں استحکام اور ایثار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس نعمت سے ہی یہ لوگ محروم ہیں ۔ جن کی عزت و حرمت کے لئے سپاہی کٹ مرتے ہیں ۔ تو ان سے بہادری اور شہامت کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے ۔ جیسے شعلہ افردہ سے تابش اور حرارت کی ۔ فرمایا چونکہ ان میں وہ باتیں نہیں ہیں ۔ جو مصیبت پیدا کرتی ہیں ۔ اور لوگوں کو کسی اخلاقی نقطہ پر مرکوز کردیتی ہیں ۔ اس لئے گو بظاہر یہ متحدہ نظر آتے ہیں ۔ مگر بباطن آپس میں سخت اختلاف اور دشمنی رکھتے ہیں ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ یہ اپنی مختلف اغراض کے باوجود صرف عداوت حق جو ایک متفقہ جذبہ ہے ۔ اس پر اس طرح مجتن ہوجائیں ۔ جس طرح کہ مسلمان حقائق دینی میں ایک دوسرے سے وابستہ اور متعلق ہیں ۔ مسلمانوں کا اتحاد صرف سطحی جذبہ پر موقوف نہیں ہے ۔ بلکہ ایسی بلند پایہ اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر اس کی عمارت اخوت قائم ہے کہ اس میں کبھی تزلزل پیدا نہیں ہوسکتا ۔ مسلمان توحید ، قرآن ، عشق رسول پر متحد ہے ۔ جو مشرق ومغرب میں یکساں اس کے لئے باعث فخر ومباہات ہیں ۔ مگر آہ یہ اسی وقت کی باتیں ہیں ۔ جب مسلمان میں دین کی محبت اور تڑپ تھی ۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں احیاء ملت اور اعناء کلمۃ اللہ کی قدروقیمت کو سمجھتا تھا آج ساری قوتیں اسلام اور مسلمانوں کو کچلنے کے درپے ہیں ۔ اور مسلمانوں میں اختلاف آراء کا ایک طوفان بپا ہے ۔ آج یہ بات کو بظاہر وہ متحد ہیں ۔ اور حقیقت میں شدید ترین اختلافات میں مبتلا ہیں ۔ کفر کی علامت نہیں ہے بلکہ اسلام کی علامت ہے ۔ تعجب ہے ۔ کہ وہ قوم جس میں عناصر اتحاد اور تعاون لی اہلیت تمام قوموں سے زیادہ ہو ۔ وہ تو یوں آپس میں لڑیں اور وہ جن کے پاس کوئی ضابطہ نہیں ۔ وہ مرکز پر جمع ہوجائیں ۔ آخر اس کو سوائے شومئے قسمت اور بدبختی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔
Ayahs 59:13–16

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا خوف (اے مسلمانو ! ) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ ہے یہ اس لئے کہ وہ کچھ نہیں رکھتے

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

وہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑسکیں گے ۔ مگر بستیوں کے کوٹ میں یا دیواروں کی اوٹ میں ان کی لڑائی آپس میں سخت ہے ۔ تو جانے کہ وہ اکٹھے ہیں اور ان کے دل جدا جدا ہورہے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کی مانند ہیں جو ان سے تھوڑے ہی دنوں پہلے (جنگ بدر) میں اپنے کام کی سزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کا حال شیطان کا سا حال ہے کہ جب اس نے انسان سے کہا کہ کافر ہو (ف 1) ۔ پھر جب وہ کافر ہوگیا تو بولا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے

ف 1: منافقین نے یہودیوں کو بہکا کر ذلیل ورسوا کیا ۔ اور آخر میں جب کہ وہ اپنی بستیاں چھوڑ رہے تھے ۔ اور اپنے مال ومتاع سے جدا کئے جارہے تھے ۔ ان سے کچھ بھی کام نہ آسکے ۔ حالانکہ نصرت واعانت کا پورا پورا معاہدہ تھا ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کی مثال شیطان کی طرح ہے ۔ کہ دنیا میں انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ کفر پر آمادہ کرتا ہے ۔ اور عاقبت کے باب میں طرح طرح کے فریبوں سے کام لیتا ہے ۔ مگر جب وہ مقررہ وقت آپہنچے گا ۔ یہ بالکل الگ جاکھڑا ہوگا ۔ اور کامل بیزاری کا اعلان کرے گا ۔ اس وقت ان فریب خوروگان معصیت کو معلوم ہوگا ۔ کہ ہم دنیا میں محض بیوقوف بنے رہے ۔ اور ہم نے اس زندگی کے متعلق جو کچھ سوچ رکھا تھا ۔ وہ قطعاً غلط ثابت ہورہا ہے ۔ حل لغات :۔ آج کے بعد جو زمانہ آتا ہے ۔ وہ کامل طور پر عذر کے مفہوم میں داخل ہے ۔ موت سے پہلے اور موت کے بعد کا بھی ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمان مذہبی نقطہ نگاہ سے مجبور ہے ۔ کو اپنے ہر اس لمحہ کے لئے سوچتا رہے ۔ جو آگے والا ہے ۔ اور یہ غوروفکر صرف افراد تک ہی محدود نہیں ہے ۔ اور نہ اس کا تعلق محض تقویٰ اور پاکیزگی کے قرار دیئے جانے سے ہے ۔ بلکہ اس کی حدود جماعتوں تک وسیع ہے ۔ ہر ارتقاء وتقدم پر غوروفکر حاوی ہے ۔ زندہ قومیں اپنی سیاسیات اور عمرانیات کے متعلق ہر آن سوچتی رہتی ہیں ۔ اس لئے مسلمان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ایک رائے متعین کرے ۔ اے نافرمان انکار کرلیں ۔
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر انجام ان دونوں (شیطان (ف 1) اور انسان کا یہ ہوا کہ وہ دونوں آگ میں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے

دنیا کی جمال آرائیاں 1: غرض یہ ہے ۔ کہ اصل زندگی دنیائے دوں کی یہ عارضی اور ظاہری زندگی نہیں ہے ۔ بلکہ باوجود اس کی جازبیتوں اور جمال آرائیوں کے یہ تمہید ہے ۔ ایک دوسرے دور حیات کی ۔ اور یہ مقدمہ ہے ۔ پیش آئند کتاب زندگی کا اس لئے تقویٰ اور دینداری کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ سالک اس کو منزل نہ قرار دے لے ۔ اور اس کو اپنا نصب العین نہ قراردے لے ، بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرے ۔ کہ یہ کوچ کا مقام ہے ۔ اور جہاں جانا ہے ۔ وہ جگہ آگے ہے ۔ یہاں رہ کو آدمی یہ سوچے ۔ کہ اس مستقبل کے لئے اس عالم دائمی کے لئے ہم نے کیا کیا ہے ۔ کس قدر تیاری اور اہتمام سے کام لیا ہے ۔ مادراہ بھی موجود ہے ۔ یا نہیں ۔ پھر اس محبوب اذلی کے لئے کوئی چیزاز قبیل نذرانہ بھی ساتھ ہے یا نہیں ۔ یہ سب چیزیں ایسی ہیں ۔ جن پر یہاں غور کرنا لازم ہے ۔ جن کے متعلق یہاں سوچنا ضروری ہے ۔ کیونکہ موت کے ہم اس منزل میں قدم رکھتے ہیں ۔ جہاں سے پھر واپسی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے بعد صرف وہ اعمال کام آتے ہیں جو ہم نے موت سے پہلے کئے ہوں ۔ اسی لئے قرآن فرماتا ہے ۔ کہ مسلمانو ! اپنے دلوں میں تقوی اور خشیت الٰہی کے جذبات ابھی سے پیدا کرو ۔ اور اس کی صورت یہ ہے ۔ کہ نظر احتساب ہمیشہ آئندہ پر رہے ۔ ہر دم اور ہر نفس یہ سوچتے رہو ۔ کہ کل کے لئے کتنی پونجی ہے ۔ خود فراموشی میں ان لوگوں کی مانند نہ ہوجاؤ۔ جنہوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کو بھلا دیا ۔ اور اس کی تعلیمات کو کمال غفلت سے پس پشت ڈال دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بھی ان پر سے اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے دست فیض اثر کو اٹھالیا ۔ یاد رکھو ۔ یہ لوگ فاسق تھے ۔ ان کا تتبع نہ کرنا ۔ اور ان کی اطاعت وفرمانبرداری میں اس درجہ غفلت شعاری اختیار کرنا ۔
Ayahs 59:18–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور چاہیے کہ ہر نفس فکر کے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو ۔ بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان کی مانند نہ ہو جو اللہ کو بھول گئے ۔ پھر اللہ نے ان کے نفس انہیں بھلا دیئے وہی فاسق ہیں

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

دوزخی اور بہشتی برابر نہیں ۔ بہشتی مراد پانے والے ہیں

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھ لیتا کہ دب جاتا ۔ اللہ کے (ف 1) ڈر سے اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لئے سناتے ہیں ۔ شاید وہ دھیان کریں

ف 1: پہاڑ کی صلابت اور سخی مسلم ہے ۔ مگر قرآن کی اثر اندازی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر کہیں یہ سن پاتے ۔ تو نالہ وشیون سے کلیجہ پھٹ جائے یہ تو انسانوں کی محرومی ہے ۔ کہ وہ اس عبرت آفرین کلام کو پڑھتے ہیں ۔ مگر بدستور گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ ورنہ اس کے اثرونفوز میں بالکل شبہ نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ لو انزلنا ۔ یعنی نزول کے لئے جن شرائط کا ہونا لازم ہے ۔ اگر وہ پہاڑ ایسی سخت اور بےحس چیز کے لئے بھی مہیا کردی جائیں ۔ تو تم دیکھتے کہ وہ قرآن کی ذمہ داری کو کیونکر خشوع اور خضوع کے ساتھ برداشت کرتا ہے ۔
Ayahs 59:22–24

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے ۔ وہی بڑا مہربان رحم والا ہے

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے پاک ذات سے تمام عیبوں سے سالم ہے امن دینے والا نگہبان ہے غالب ہے زبردست سے برائی والا ہے ۔ اللہ اس سے پاک جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ پیدا کرنے والا نکال کھڑا کرنے والا ۔ صورت بنانے والا ہے سب اچھے نام اسی کے ہیں جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے اس کی تسبیح کرتی ہے اور وہی غالب حکمت (ف 1) والا ہے

خدا کا اسلامی تصور 1: اسلام سے پہلے اللہ کے تخیل کو جسمانیت سے مجرد کرکے سمجھنا انسانی فہم کے لئے قریب قریب ناممکن تھا ۔ اس وقت آپ مسیح میں اس کی ذات کو منجلہ دیکھ سکتے تھے ۔ عزیر میں اس کی جلوہ گری تھی ۔ اصنام میں اس کا پرتو تھا ۔ نجوم وکواکب میں اس کا انعکاس تھا ۔ اشخاص وافراد کے قدس میں وہ ظہور پذیر تھا ۔ اس وقت اس ذات صمدیت کا تصور یہ تھا ۔ کہ اس کا کسی نہ کسی رنگ میں مخلوقات کے ساتھ آلودہ ہونا ضروری ہے ۔ کوئی مذہب ایسا نہ تھا ۔ جس نے تجرید اور توحید کے مسئلہ کو واضح کرکے بیان کیا ہو اور اس حسن مطلق کو تصیدات سے الگ کرکے دکھایا ہو ۔ قرآن حکیم پہلی اور آخری کتاب ہے ۔ جس نے اس گتھی کو سلجھایا ۔ اور بتایا کہ وہ خدا ایسا نہیں ہے ۔ جس کو کائنات میں آپ محدود محصور دیکھ سکیں ۔ وہ ان سب چیزوں سے علیحدہ بائن اور متمائز ہے ۔ قرآن نے باتای ۔ کہ وہ شہنشاہ اقلیم کون ہے ۔ کوئی ذات اس کے اختیارات میں مداخلت نہی کرسکتی ۔ وہ نقص وعیب سے سراسر پاک ہے ۔ باوجود عظمت و جلالت قدر کے وہ ہمہ سل امتی اور امن ہے اس پر ایمان لانے سے دلوں کو تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ اور دنیا میں سکون پھیلتا ہے ۔ وہ امن وتماتیت بخشنے والا ہے ۔ سب کی حفاظت کرتا ہے ، سب کی جسمانی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے ۔ غالب اور صاحب عزت واقتدار ہے ۔ ارادے کا زبردست ہے ۔ کوئی قوت اس کے فیصلے کو مسترد کردینے پر قادر نہیں ۔ دل اور جسم کے عوارض کو دور کرنے والا عظمت و رفعت کا مالک ہے ۔ شرک کی ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک ہے ۔ مخلوقات کو پردہ عدم سے نکالنے والا ہے ۔ مصور ہے ۔ کی الجملہ حسن و کمال کی کوئی بات ایسی نہیں ۔ جو اس میں نہ پائی جاتی ہو ۔ یوں سمجھ لو کہ تمام اوصاف حسن و جمال اور تمام وہ ارائیں ۔ جو کسی شخصیت کو مسجود بناسکتی ہیں ۔ وہ اس میں موجود ہیں ۔ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اس کے حکموں کو مانتی ہے ۔ اور اس کی قدرت اور حکمت پر دال ہے ۔ یہ ہے وہ تصور اس خدا کا جس کو مسلمان مانتے ہیں ۔ آپ تمام مذہبی ذخیر کتب پڑھ جائیے ۔ آپ کو اس وضاحت اور یقین کے ساتھ الٰہیات اور صفات کے باب میں کہیں اس نوع کے حقائق نہیں چلیں گے ۔