Ayah 59:1(59:1) سبح : ماضی واحد مذکر غائب ۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ یہاں فعل ماضی بمعنی مضارع آیا ہے۔ پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ بعض جگہ بصیغہ مضارع آیا ہے جیسے سورة ہذا کی آخری آیت (59:24) سورة الجمعہ (62:1) سورة التغابن (64:1) وغیرہ۔ صیغہ مضارع دوام و استمراء پر دلالت کرتا ہے۔
صاحب اضواء البیان نے لکھا ہے :۔ التسبیح اصل میں مادہ سبح سے ہے۔ سباحۃ و تسبیح میں مادہ مشترک ہے ان کے معانی میں بھی اشتراک ہے سباحۃ فی الماء (پانی میں تیرنا) تیرنے والے کو پانی میں ڈوبنے سے بچانا ہے اسی طرح اللہ کی تسبیح اور تنزیہہ کرنے والا شرک سے نجات پاتا ہے (نیز ملاحظہ ہو 57:1)
العزیز : غالب، زبردست ، عزۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے ۔
الحکیم : حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حکمت والا۔
Ayah 59:2(59:2) اس آیت اور مابعد کو سمجھنے کے لئے اس کے پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔
یہ سورة غزوہ بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بنی نصیر فلسطین کے باشندے تھے۔ 132 ء میں رومیوں کی سخت روی کی وجہ سے یہودیوں کے چند قبائل جن میں میں بنی نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے فلسطین کو چھوڑ کر یثرب میں آکر آباد ہوگئے۔ بنی نضیر مدینہ میں قباء کے قریب مشرقی جانب آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس وقت مدینہ میں عرب قبائل میں سے بنی اوس اور بنی خزرج ممتاز قبائل تھے یہ دونوں یہودی قبائل بنی نضیر اور بنو قریظہ اوس کے حلیف بن گئے۔ اور بنی اوس اور بنی خزرج کی باہمی لڑائیوں میں اول الذکر کا ساتھ دیتے رہے۔
جب نبی کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے ہر دو عرب قبائل اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی اور مسلم معاشرہ اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا ۔ لیکن یہودی قبائل اوع خاص کر بنی نضیر ہمیشہ منافقانہ رویہ اختیار کئے رہے۔ یہاں تک کہ 4 ھ میں انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قتل کی سازش کی جس کا بروقت آپ کو علم ہوگیا۔ جس پر آپ نے ربیع الاول 4 ھ میں انہیں الٹی میٹم دے دیا۔ کہ پندرہ دن کے اندر اندر یہاں سے نکل جائیں۔
لیکن جب انہوں نے لڑائی کی ٹھان لی تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا جس پر وہ ملک شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔ بنی نضیر کو یہ گھمنڈ تھا کہ یہودی اور عرب قبائل کی مدد سے وہ مسلمانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ لیکن خدائی طاقت کے سامنے علیٰ رغم التوقع بہت جلد ان کو ہار مان کر اپنی بستی کو چھوڑ کر چلے جانا پڑا۔ یہ سورة اسی جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے۔
ھو الذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارھم۔
من اہل الکتب میں من حرف جار اہل الکتب مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ (من تبعیضیہ ہے) جار مجرور مل کر متعلق الذین کفروا۔ الذین کفروا موصول و صلہ مل کر مفعول اخرج کا۔ اخرج صلہ ہے الذی اسم موصول کا۔ یہ صلہ موصول مل کر نعت ہوئے ھو کی۔ من دیارھم : من حرف جار دیارھم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہی ذات ہے (یعنی اللہ) جس نے اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار یہود (بنی نضیر) کی طرف راجع ہے۔
لاول الحشر۔ لام تو قیمت کے لئے ہے یعنی وقت بتانے کے لئے ۔ بمعنی عند بوقت۔ جیسے کہ الوضوء واھب لکل صلوٰہ ای عند کل صلوٰۃ ہر نماز کے وقت وضو کرنا واجب ہے۔
لاول الحشر کے متعلق مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں :۔ اصل الفاظ ہیں لاول الحشر : حشر کے معنی منتشر افراد کو اکٹھا کرنا۔ یا بکھرے ہوئے افراد کو جمع کرکے نکالنا۔ اور لاول الحشر کے معنی ہیں پہلے حشر کے ساتھ یا پہلے حشر کے وقت۔ یا موقعہ پر۔
اب رہا یہ سوال کہ اس جگہ اول حشر سے مراد کیا ہے ؟ تو اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
ایک گروہ کے نزدیک اس سے مراد بنو نضیر کا مدینہ سے اخراج ہے اور اس کو ان کا پہلا حشر اس معنی میں کہا گیا ہے کہ ان کا دوسرا حشر حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں ہوا۔ جب یہود و نصاری کو جزیرہ العرب سے نکالا گیا۔ اور آخری حشر قیامت کے روز ہوگا
دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد مسلمانوں کی فوج کا اجتماع ہے جو بنو نضیر سے جنگ کے لئے ہوا تھا۔ اور لاول الحشر کے معنی یہ ہیں :۔ کہ ابھی مسلمان ان سے لڑنے کے لئے جمع ہی ہوئے تھے اور کشت و خون کی نوبت ہی نہ آئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ جلاوطنی کے لئے تیار ہوگئے۔
بالفاظ دیگر یہاں یہ الفاظ باول وہلۃ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں (محاورہ ہے لقیتہ باول وہلۃ میں نے اس سے سب سے پہلے ملاقات کی) ۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” در اول جمع کردن لشکر “۔ اور شاہ عبد القادر صاحب کا ترجمہ ہے :۔ ” پہلے ہی بھیڑ ہوتے “۔ ہمارے نزدیک یہ دوسرا مفہوم ہی ان الفاظ کا متبادر مفہوم ہے۔ اس کے علاوہ اس بارے میں علماء کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں۔
ماظننتم : میں ما نافیہ ہے ظننتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ظن (باب نصر) مصدر۔ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ تم کو تو گمان بھی نہ تھا۔ تم تو خیال تک نہ کرتے تھے۔ تمہیں کوئی یقین نہ تھا۔ ظن خیال کرنا۔ گمان کرنا۔ اٹکل کرنا۔ یقین کرنا۔
ان یخرجوا : ان مصدریہ ہے یخرجوا مضارع منصوب جمع مذکر غائب خرج (باب نصر) مصدر۔ کہ وہ (اپنے گھروں سے) نکل جائیں گے۔ ضمیر فاعل بنی نضیر کی طرف راجع ہے۔
وظنوا واؤ عاطفہ۔ ظنوا ماضی جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) مصدر۔ ان کو گمان تھا ان کو یقین تھا۔ (یعنی نضیر کو)
انھم : ان حرف مشبہ بالفعل۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ، بیشک وہ سب ۔
مانعتھم حصونھم من اللہ : حصونھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے قلعے مبتدائ۔ مانعتہم مضاف مضاف والیہ۔ مانعۃ اسم فاعل واحد مؤنث، منع (باب فتح) مصدر۔ بچانے والی۔ حفاظت کرنے والی۔ خبر۔ من اللہ متعلق خبر۔ وہ خیال کرتے تھے کہ تحقیق ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے۔
فاتھم اللہ :بمعنی لیکن ۔ مگر۔ پھر۔ اتی ماضی واحد مذکر غائب ایتان (باب ضرب) مصدر۔ وہ آیا۔ وہ پہنچا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ایتان کے معنی آناء ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے۔ یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم و نسق وہاں جاری ہو۔
پھر آپہنچا اللہ ان پر۔ یعنی اللہ کا عذاب ان پر آپہنچا۔
من حیث : من حرف جر ہے۔ حیث اسم ظرف مکان ہے۔ جہاں ۔ جس جگہ مبنی برضمہ ہے۔ جہاں سے۔
لم یحتسبوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر (جہاں سے) انہوں نے گمان بھی نہ کیا تھا۔
وقذف فی قلوبھم الرعب۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ فاتہم اللہ پر ہے قذف ماضی واحد مذکر غائب ۔ قذف (باب ضرب) مصدر۔ القذف کے معنی دور پھینکنا کے ہیں۔ پھر بعد کے بعد کے معنی کے اعتبار سے دور دراز منزل کو منزل قذف کہا جاتا ہے (منزل بعید) مجازا قذف کا استعمال عیب لگانے اور برا بھلا کہنے کیلئے بھی ہوتا ہے۔ یہاں اس کے معنی ہیں اس نے پھینکا۔ اس نے ڈالا۔
یخربون مضارع جمع مذکر غائب اخراب (افعال) مصدر ۔ وہ خراب کرتے ہیں ۔ وہ اجاڑتے تھے۔ وہ ڈھاتے تھے۔
بایدیہم ب حرف جر۔ ایدیہم مضاف مضاف الیہ۔ اپنے ہاتھوں سے۔ اپنے ہاتھوں کے ساتھ۔
وایدی المؤمنین اس کا عطف سابقہ جملہ یخربون بیوتھم پر ہے اور وہ اجاڑ رہے تھے۔ یا۔ ڈھا رہے تھے (اپنے گھروں کو) مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔ دونوں جملے حال ہیں۔
صاحب تفسیر مظہری یخربون ۔۔ وایدی المؤمنین کی تفسیر میں رقم طراز ہیں :۔ اخراب کا معنی ہے کسی چیز کو بیکار کرکے اور برباد کرکے چھوڑنا۔
تخریب کی صورت یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اختیار دیا تھا کہ جو چیزیں چاہیں (سوائے اسلحہ کے) اونٹوں پر لاد کرلے جائیں۔ انہوں نے اسی بنیاد پر اپنے گھر ڈھا کر دروازہ کی چوکھٹیں اور لکڑی کے تختے نکالے اور اونٹوں پر لے گئے ۔ اور جو حصہ باقی رہا وہ مسلمانوں نے ڈھا دیا۔
ابن زید نے کہا کہ :۔ انہوں نے ستون اکھاڑے۔ چھتیں توڑیں۔ دیواروں میں نقب لگائے لکڑیاں تختے یہاں تک کہ کیلیں بھی اکھاڑ لیں اور مکانوں کو ڈھا دیا۔ تاکہ مسلمان ان میں نہ رہ سکیں۔
قتادہ نے کہا کہ :۔ مسلمان بیرونی جانب سے اپنی طرف کے حصہ کو اور یہودی اندرونی جانب سے مکانوں کو ڈھا رہے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ کہ مسلمان جب کسی گھر پر قابض ہوتے تھے تو اس کو گرا دیتے تھے تاکہ لڑائی کا میدان وسیع ہوجائے اور یہود گھروں میں نقب لگا کر پشت کی طرف سے دوسرے مکانوں میں چلے جاتے اور پشت والے مکانوں میں قلعہ بند کر خالی کئے ہوئے مکانوں پر پتھر برساتے تھے تاکہ جو مسلمان وہاں داخل ہوچکے ہوں وہ زخمی ہوجائیں۔ یہی مطلب ہے آیت یخربون بیوتھم بایدیہم کا۔
فاعتبروا۔ اعتبروا۔ یا اشارہ۔ اولی الابصار۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مشار الیہ ۔ اے آنکھوں والو۔ آنکھیں یعنی بصیرت کی آنکھیں۔
Ayah 59:3(59:3) لولا مرکب ہے لو شرطیہ اور لا نافیہ سے۔ اگر نہ ہوتا۔
ان مصدریہ ہے۔ کہ۔
کتب اللہ علیہم (کہ) لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف۔ کتب علی۔ کسی چیز کو کسی چیز پر فرض کرنا۔ واجب کردینا۔ ضروری کردینا۔ جیسے اور جگہ فرمایا :۔ کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ (6:54) تمہارے رب نے اپنی ذات (مبارک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔
الجلائ : جلا وطنی، جلا وطن ہونا۔ اجڑنا۔ ملک بدر ہونا۔ جلا یخلو (باب نصر) کا مصدر ہے منصوب بوجہ مفعول ہے۔ مادہ جلو ہے۔ الجلو کے اصل معنی ہیں کسی چیز کا نمایاں طور پر ظاہر ہونا۔ جلوہ دکھانا۔ جملہ لولا ۔۔ الجلاء شرطیہ ہے۔ اگلا جملہ جواب شرط ہے
لعذبھم : لام جواب شرط کا ہے۔ عذب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ضرور عذاب دیتا۔
مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ انہیں دنیا میں کسی اور طریقہ سے عذاب دیتا۔ مثلاً قتل وقید کی سزا جیسا کہ بنی قریظہ کے ساتھ کیا۔
ولہم فی الاخرۃ عذاب النار۔ یہ ایک الگ جملہ ہے اس کا تعلق لولا کے جواب سے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا (قتل و قید) سے بچ بھی گئے تو آخرت کے عذاب دوزخ سے نہیں بچیں گے۔ جو اس عذاب دنیا کے سو ان کو ملے گا۔
Ayah 59:4(59:4) ذلک : یعنی وہ عذاب جو ان پر نازل ہوا یا نازل ہوگا۔
بانھم : ب سببیہ ہے یہ بہ سبب اس امر کے کہ انہوں نے۔
شاقوا اللہ ورسولہ۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ شاقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ شقاق و مشاقۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی مخالفت ، ضد، مقابلہ۔ اپنے دوست کی شق کو چھوڑ کر دوسری شق میں ہونا۔ شق بمعنی طرف۔
من۔ شرطیہ ہے۔ جو۔
یشاق۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب۔ شقاق (مفاعلۃ) مصدر۔ اصل میں یشاق تھا۔ ق کو ق میں ادغام کیا گیا (اور جو) مخالفت کرتا ہے (اللہ کی) من یشاق اللہ جملہ شرط ہے۔
فان اللہ شدید العقاب :جواب شرط کے لئے ہے اللہ منصوب بوجہ عمل اسم ان ہے۔ شدید العقاب مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ان۔ ترجمہ :۔ تو اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔
Ayah 59:5(59:5) ما قطعتم من لینۃ : ما شرطیہ قطعتم۔ ماضٰ جمع مذکر حاضر قطع (باب فتح) مصدر۔ تم نے کاٹا۔ من لینۃ میں من بیانیہ ہے
لینۃ لون سے مشتق ہے اس کی جمع الوان آتی ہے۔ بعض کے نزدیک لین سے مشتق ہے۔ علماء نے لینۃ کے مختلف معانی بیان کئے ہیں :۔
(1) بعض نے کہا کہ ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو لینہ کہتے ہیں ۔ اس میں عجوہ کے درخت شامل نہیں ہیں۔ یہ قول عکرمہ اور قتادہ کا ہے۔ زاذان کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
(2) زہری نے کہا کہ :۔ عجوہ اور برنیہ کے علاوہ دوسرے تمام اقسام کے کھجور کے درختوں کو الوان کہا جاتا ہے۔
(3) مجاہد اور عطیہ نے کہا کہ :۔ بغیر تحقیق کے ہر کھجور کے درخت کو لینہ کہا جاتا ہے۔
(4) سفیان نے کہا کہ : کھجور کے اعلیٰ درختوں کو لینہ کہتے ہیں۔
(5) مقاتل نے کہا کہ :۔ لینہ ایک قسم کا کھجور کا درخت ہے جس کے پھل کو لون کہا جاتا ہے یہ رنگ میں بہت زرد (اور اتنا شفاف) ہوتا ہے کہ اندر کی گٹھلی باہر سے دکھائی دیتی ہے۔
ما قطعتم من لینۃ جملہ شرط ہے۔
او ترکتموھا قائمۃ علی اصولہا۔ جملہ ہذا کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے اور یہ جملہ بھی شرطیہ ہے۔
ترکتموھا میں ترکتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ۔ ترل (باب نصر) مصدر سے واؤ اشباع کا ہے۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب لینۃ کے لئے ہے۔
قائمۃ : بوجہ تمیز منصوب ہے۔ اصولہا مضاف مضاف الیہ، ان کی جڑیں۔ ترجمہ : یا ان کو ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا۔
فباذن اللہ یہ جملہ جواب شرط ہے۔
ولیجزی الفسقین۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) واؤ کا عطف عبارت مقدرہ پر ہے :۔ ای لیعز المؤمنین ولیجزی الفسقین (یہ تمہارا اللہ کے اذن پر کھجوروں کے درختوں کو کاٹنا یا ان کو ان کی جڑوں پر قائم رہنے دینا اس لئے ہے کہ وہ مومنوں کی عزت افزائی کرے اور نافرمانوں کو رسوا کرے)
(2) اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یعنی تمارا درختوں کو کاٹنا یا ان کو کھڑا رہنے دینا اللہ کے حکم سے تھا۔ اس کا مقصد نافرمانوں کو رسوا کرنا تھا۔
لیخزی میں لام تعلیل کا ہے۔ مضارع منصوب بوجہ جواب شرط۔ اخزاء (افعال) مصدر۔ رسوا کرنا۔ ذلیل کرنا۔ (تاکہ وہ رسوا کر دے) ۔
Ayah 59:6(59:6) وما افاء اللہ علی رسولہ منہم : واؤ عاطفہ۔ ما موصولہ، مبتداء ۔ افاء اللہ علی رسولہ منہم صلہ۔ اس کے بعد اگلا جملہ مبتدا کی خبر ہے۔
افاء ماضی واحد مذکر غائب۔ افاء ۃ (افعال) مصدر۔ اس نے لوٹای۔ اس نے ہاتھ لگوایا۔ اس نے فئی میں عطا کیا۔ی ء مادہ۔ فاء یفیی (باب ضرب) فیئی لوٹنا (کسی چیز کی طرف) (سایہ کا) ہٹ جانا۔ فیئی کے اصول معنی کسی اچھی حالت کی طرف لوٹنا کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے حتی تفیئی الی امر اللہ فان فاءت (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس جب وہ رجوع لائے : جو مال غنیمت بلا مشقت حاصل ہو وہ بھی فئے کہلاتا ہے۔
علامہ ناصر بن عبد السید المطرزی المغرب میں رقمطراز ہیں :۔ غنیمت وہ مال ہے جو بحالت جنگ کفار سے بروز شمشیر حاصل کیا جائے اس کا پانچواں حصہ نکال کر بقیہ چار حصے غانمین یعنی مجاہدین کا حق ہے۔ اور فی وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کے بعد حاصل ہو جیسے خراج۔ یہ عام مسلمانوں کا حق ہے۔
ما افاء سے مراد بنو نصیر کا مال و اسباب مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کوفے میں دلوایا۔ یہ مال خالص آپ کی ملکیت تھا۔ اور فے میں اس طرح کی ملکیت آپ ہی کی خصوصیت تھی۔
الفئۃ اسی مادہ سے مشتق ہے ۔ الفئۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد تعاون اور تعاضد کے لئے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آئیں۔ منھم میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب بنو نصیر کے لئے ہے۔ منھم سے مراد من اموالہم ہے۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو مال بنو نضیر کے اموال میں سے اللہ نے اپنے رسول کوفے میں عطا کیا۔
صاحب تفسیر ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ افاء کا لفظ بڑا معنی خیز ہے افاء کا معنی ہے کسی چیز کو لوٹا دینا۔ واپس کردینا۔ سایہ کو بھی فیئی کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی پلٹ کر واپس آتا ہے۔ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر چیز جس کو اللہ نے پیدا کردیا ہے اس کے حق دار اس کے فرماں بردار بندے ہیں اصل میں ہر چیز انہی کی ملکیت ہے نافرمان لوگ جو بعض چیزوں پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ یہ ان کا قبضہ مخالفانہ ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان چیزوں کو غاصب لوگوں سے لے کر ان کے اصل حقداروں تک پہنچا دیتا ہے۔
یہاں بھی بنی نضیر کے جو املاک رسول کریم ﷺ کو عطا فرمائے گئے ہیں۔ وہ حقیقتاً یہودیوں کے نہ تھے۔ انہوں نے انہیں غصب کیا ہوا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے غاضباطہ قبضہ کو ختم کرکے اپنے رسول کریم کو واپس دیدئیے ہیں جو ان کے حقیقی حقدار تھے۔
علامہ آلوسی صاحب تفسیر روح المعانی لکھتے ہیں :۔ فیہ اشعار بانھا کانت حویۃ بان تکون لہ ﷺ وانما وقعت فی ایدیم بغیر حق فارجعھا اللہ تعالیٰ الی مستحقھا۔ (روح المعانی) ۔
علامہ ابوبکر عربی نے احکام القرآن میں بھی اسی حقیقت کو بیان کیا ہے اور افاء کا کلمہ یہاں استعمال کرنے کی یہی حکمت ذکر کی ہے
فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب یہ جملہ تم نے نہ گھوڑے دوڑائے تھے۔ اور اونٹ ما نافیہ۔ اوجفتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ایجاب (افعال) مصدر ۔ وجف مادہ۔ سواری کو دوڑانا اور تیز کرنا۔ علی کے صلہ کے ساتھ۔ کسی کے خلاف سواری کو تیز کرکے حملہ کرنا۔ من خیل یعنی گھوڑے۔ اصل میں خیل گھوڑوں کا نام ہے مجازا سواروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ولارکاب اور نہ ہی اونٹ یا اونٹوں پر سوار ہوکر۔
ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشائ۔ لکن حرف عطف ہے۔ کلام سابق سے پیدا شدہ وہم کو دور کرنے کے لئے بھی آتا ہے لیکن اس صورت میں یہ واؤ عاطفہ کے ساتھ آتا ہے اور حرف عطف نہیں بلکہ حرف استدراک کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس وہم کو دور کرنے کے لئے جو کلام سابق سے پیدا ہوا ہو۔ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔
لکن (نون کے سکون کے ساتھ) بھی حرف استدراک ہے لیکن یہ اسم پر عمل نہیں کرنا۔ لکن کی مثال : وما کفر سلیمن ولکن الشیاطین کفروا (2:102) اور (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) نے مطلق کفر کی بات نہیں کہ بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے۔
اور لکن کی مثال :۔ لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین (19:38) مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں۔
یسلط مضارع واحد مذکر غائب تسلیط (تفعیل) مصدر۔ وہ مسلط کرتا ہے۔ وہ قابو یافتہ کردیتا ہے۔
سوال : پیدا ہوتا ہے کہ بنی نضیر کے مال کو مال فیئے کہنا اور یہ فرمانا کہ اس پر تمہارے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑے صحیح نہیں۔ اس لئے کہ بنی نضیر کا کئی روز تک محاصرہ رہا لوگ مرے کھپے بھی۔ آخر وہ جلاوطنی پر راضی ہوگئے تھے۔ لہٰذا اس مال کو غنیمت کہنا چاہیے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ :۔ یہ بنی نضیر مدینے سے صرف دو میل کے فاصلہ پر آبار تھے۔ ان کے خلاف کچھ زیادہ سامان سفر اور تیاری کی ضرورت نہ ہوئی۔ پاپیادہ جاکر محاصرہ کرلیا گیا۔ صرف نبی کریم ﷺ اونٹ پر سوار تھے۔ یعنی جس طرح جنگوں میں محنتیں اور تکلیفیں اٹھا کر فتح ہوتی ہے اس میں اس قدر تکلیف اٹھانی نہ پڑی گویا کہ مال مفت ہاتھ آگیا اس لئے اس کو مال فے کہا گیا۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 59:7(59:7) ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری۔۔ یعنی اہل قری کا جو مال اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا۔ اہل قری میں بنی نضیر بھی شامل ہیں اور دوسری بستیوں والے بھی۔ یہ جملہ سابق جملہ وما افاء اللہ علی رسولہ کا بیان ہے اس لئے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر نہیں کیا گیا (معطوف اور معطوف علیہ الگ الگ ہوتے ہیں اس لئے اگر حرف عطف لایا جاتا تو سابق وما افاء اللہ میں مراد دوسرا مال ہوتا۔ اور اس جملہ میں دوسرا مال مراد ہوتا) ۔ البتہ اس جملہ میں عام اہل قریٰ مراد ہیں خواہ بنی نضیر ہوں یا دوسری بستیوں والے۔ (تفسیر مظہری)
امام رازی (رح) لکھتے ہیں :۔ لم یدخل العاطف علی ھذہ الجم (رح) ۃ لانھا بیان للاولی۔ موجودہ جملہ پر حرف عطف داخل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ یہ جملہ اولیٰ کا بیان ہے ۔ (تفسیر کبیر)
حضرت ابن عباس ؓ نے اہل قری کی تفصیل میں فرمایا :۔ بنی قریظہ، بنی نضیر، اہل فدک، سکان خیبر اور عرینہ کی بستیاں مراد ہیں۔
من اہل القری۔ ای من اموال اہل القری۔ بستیوں میں بسنے والوں کے اموال میں سے۔
ترجمہ ہوگا :۔ بستیوں میں رہنے والوں کے اموال سے جو مال اللہ نے اپنے رسول کو پلٹا دیا ہے یا عطا کیا ہے جملہ میں ما موصولہ ہے۔ افاء اللہ اس کا صلہ۔ فللہ اس کی خبر۔
فللہ۔ سو وہ اللہ کے لئے ہے۔ اللہ کے لئے ہونے کا یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ کا کوئی الگ حصہ مقرر کیا گیا ہے کیونکہ دنیا و آخرت سب اللہ ہی کی ہے بلکہ اس مال کی نسبت جو اپنی طرف کی اس سے اس مال کا بابرکت ہونا ظاہر کی گیا ہے۔
یہ قول حسن، قتادہ، عطائ، ابراہیم نخعی، عامر، شعبی، اور عام فقہاء مفسرین کا ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کا حصہ کعبہ کی اور دوسری مساجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے گا۔ (اللہ کا حصہ الگ ہونے کا یہی مطلب ہے۔ (تفسیر مظہری)
یوں تو سب کچھ اللہ کا ہے مگر یہاں اللہ کا مال کہنے سے یہ غرض ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کی مخصوص حاجتوں کے لئے خزانہ بنا رکھا ہے اس تقدیر پر یہ کہنا کہ فللہ کا لفظ تبر کا مذکور ہے بےفائدہ بات ہے۔ (تفسیر حقانی)
وللرسول : (اور رسول کے لئے)
ولذی القربی : (اور قرابت داروں کے لئے)
والیتمی : (اور یتیموں کے لئے)
والمسکین : (اور مسکینوں کے لئے)
وابن السبیل : (اور مسافروں کے لئے)
ان سب کا عطف لفظ اللہ پر ہے۔ اور ما موصولہ (مبتدا) کی خبر ہیں۔
کی : تعلیل تقسیم مال فئی کے لئے آیا ہے ۔ تاکہ۔
لایکون : میں ضمیر واحد مذکر غائب ما افاء اللہ کے لئے ہے۔ ای کی لایکون الفیئی۔
دولۃ : دولۃ اور دولۃ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ دال یددل (باب نصر) کا مصدر۔ وہ شئی جو لوگوں پر بدل بدل کر آتی رہے۔ آج کسی کے پاس ہو تو کل کسی کے پاس۔ مال و غلبہ پر اسی لئے اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
حکومت، گورنمنٹ، ریاست کو بھی دولت کہتے ہیں۔ مثلاً دولت اسلامیہ پاکستان دول حروف مادہ ہیں اسی سے قرآن مجید میں باب مفاعلہ سے آیا ہے :۔ وتلک الایام نداولہا بین لناس (3:140) اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں۔
الاغنیائ : غنی کی جمع۔ غناء (باب نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مالدار۔ دولت مند لوگ۔
جملہ ہذا کا ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ وہ لوگ دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔
وما اتکم الرسول فخذوہ۔ واؤ عاطفہ ہے ما موصولہ ہے اتی ماضی واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) سے مصدر اس نے دیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور رسول تم کو جو دے ۔ اس کو لے لو۔
ومانھاکم عنہ واؤ عاطفہ ما موصولہ۔ نھی ماضی واحد مذکر غائب نھی (باب فتح) مصدر بمعنی روکنا۔ منع کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ اور جس سے وہ تمہیں روکے یا منع کرے۔
انتھوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر انتھاء (افتعال) مصدر۔ تم رک جاؤ۔ تم باز رہو۔ انتھاء کے معنی اس کی نہایت کو پہنچنے یعنی رک جانے کے ہیں۔
اتقوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر و ق ی مادہ، تم ڈرو۔ تم خوف کرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ اللہ منصوب بوجہ مفعول ہے یعنی تم اللہ ست ڈرتے رہا کرو۔
شدید العقاب : شدید، سخت، پکا، شد (باب نصر) سے مصدر بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
العقاب : مار۔ عذاب۔ سزا۔ عقوبت۔ سزا دینا۔ عاقب یعاقب (مفاعلۃ) سے مصدر ہے۔ عقاب ، عقوبۃ، معاقبۃ، تینوں الفاظ عذاب کے لئے مخصوص ہیں ۔ عذاب اور عقاب میں فرق یہ ہے کہ : عقاب سزا کے استحقاق کو بتلاتا ہے ۔ چناچہ عقاب کو عقاب اسی لئے کہتے ہیں کہ مرتکب جرم، جرم کے عقب ہی میں اس کا مستحق ہوتا ہے۔
اور عذاب : استحقاق اور بغیر استحقاق دونوں طرح ہوسکتا ہے۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں۔ اس اعتبار سے عقاب وہ سزا ہوئی جو کہ جرم کے پیچھے دی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا ترجمہ : ” پاداش جرم “ کرنا چاہیے۔
شدید العقاب : مضاف مضاف الیہ۔ عذاب کا سخت ، سخت عقاب والا اس میں صفت کی اضافت موصوف ہے جیسے مسجد الجامع میں موصوف کی اضافت موصوف کی طرف ہے۔
بعض نے ایسی اضافت سے اختلاف کیا ہے ان کے نزدیک موصوف صفت کی طرف مضاف نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ترکیب توصیفی اور ترکیب اضافی دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ جو ایک دوسرے کی جگہ مستعمل نہیں ہوسکتی۔
مسجد الجامع میں بظاہر موصوف کی صفت کی طرف اضافت ہے مگر یہاں حقیقت میں موصوف محذوف مانا گیا ہے۔ یعنی یہ الفاظ اصل میں یہ تھے۔ مسجد الوقت الجامع۔ اسی طرح ان کے نزدیک صفت کی اضافت موصوف کی طرف نہیں ہوسکتی۔ ملاحظہ ہو :
(1) عربی زبان کی گرائمر مؤلفہ ڈبلیو۔ رائٹ ۔ 1979 ء جلد دوم صفحہ 322 ۔
(2) کتاب النحو مؤلفہ حافظ عبد الرحمن باب مجرورات۔
(3) اساس عربی مؤلفہ محمد نعیم الرحمن پیرا 275 تا 277 ۔
ان حرف مشبہ بالفعل ہے۔ اللہ اسم ان اور شدید العقاب اس کی خبر ہے۔
Ayah 59:8(59:8) للفقراء المھجرین : لام تملیک کا ہے۔ الفقراء المھجرین موصوف صفت۔ مہاجر حاجت مند۔ یعنی ایسے مہاجر جو غریب حاجت مند اور نادار تھے۔ الذین اسم موصول، اخرجوا صلہ۔ ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ، جو نکالے گئے۔
تتبعون : مضارع جمع مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر۔ وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ وہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔
فضلا : بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ بمعنی روزی، رزق، فضل ۔ جیست اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لتبتغوا فضل من ربکم (17:12) تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرو۔ الفضل کے معنی کسی چیز کے اقتصاد (متوسط درجہ) سے زیادہ ہونے کے ہیں۔ اور یہ دو قسم پر ہے :۔
(1) محمود : جیسے علم و حلم وغیرہ کی زیادتی۔ (2) مذموم : جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا۔
لیکن عام طور پر الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے۔ اور الفضول بری باتوں پر۔
رضوانا ” مفعول ثانی “ یبتغون کا۔ اور اس کی رضا مندی۔
الصدقون : اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ سچے۔ سچ بولنے والے۔ راست باز، سچے لوگ۔ الذین اخرجوا سے لے کر اخیر آیت تک مہاجر حاجت مندوں کی نعمت میں ہے۔ للفقراء المھاجرین کے متعلق علماء کے کئی اقوال ہیں۔ مثلاً :۔
(1) للفقراء المھاجرین بدل ہے اور لذی القربی والیتمی والمسکین مبدل منہ ہے۔ (زمخشری)
(2) للفقراء المھاجرین بدل ہے اور والیتمی والمسکین سے بدل ہے اور الیتمی والمساکین وابن سبیل مبدل منہ ہے۔ ذی القربی مبدل منہ میں داخل نہیں ہے۔ (مام شافعی)
(3) للفقراء المھاجرین : ذی القربی والیتمی والمسکین سے بدل ہے للرسول سے بدل نہیں ہے۔ (علامہ پانی پتی (رح) )
علامہ موصوف آگے رقمطراز ہیں :۔ للفقراء میں الف لام عہد کا ہے اور معبود وہی لوگ ہوں گے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا یعنی ذی القربی والیتمی والمسکین۔ پس یہ بدل الکل من الکل ہے۔
میرے نزدیک فقراء مہاجرین اور وہ لوگ جو آگے ذکر گئے ہیں ان تمام مؤمنوں کو شامل ہیں جو قیامت تک آنے والے ہیں خواہ زردار ہوں یا نادار ۔ جن لوگوں کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے یعنی ذی القربی وغیرہ وہ بھی انہی لوگوں کی ذیل میں داخ (رح) ہیں اس صورت میں فقراء مہاجرین وغیرہ عام قرار پائیں گے۔ اور پہلے جن کا ذکر آچکا ہے وہ خاص مانے جائیں گے اور یہ صورت بدل الکل من البعض کی ہوجائے گی۔
(4) للفقراء المھاجرین بدل ہے لذی القربی سے۔ اس کا عطف لذی القربی پر نہیں ہے۔ (بیضاوی)
صاحب تفسیر حقانی فقراء مہاجرین کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ للفقراء المھجرین ۔۔ الخ کہ یہ ان فقراء مہاجرین کو ملنی چاہیے کہ جو اللہ کے لئے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرکے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئے ہیں جب عرب میں اسلام کا چرچا ہوا اور اس آفتاب کی کرنیں اس سر زمین پر پڑیں تو مکہ اور دوسری جگہوں کے لوگ مسلمان ہونا شروع ہوئے مگر جہاں کوئی مسلمان ہوا اس پر اس کی قوم کی طرف سے مصیبتیں آئیں اور مار دھاڑ شروع ہوئی۔ اس لئے گھر بار۔ وطن چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی طرف چلے آتے تھے۔
اب ان کے پاس بجز صبر و فاقے کے اور تھا کیا ؟ ان کو مہاجرین کہتے تھے اس لئے ان پر ترحم دلاتا ہے۔ کہ ان کو بھی دو ۔ ان کی فکر بھی آنحضرت ﷺ کو رہتی تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہ لوگ صرف یہی بات نہیں کہ ہجرت کرکے چلے آئے ہیں بلکہ ینصرون اللہ ورسولہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اسلام کا لشکر جرار جس نے بڑے بڑے گردن کشوں کو سیدھا کردیا۔ انہیں لوگوں کا تھا۔ اولئک ہم الصدقون یہ سچے لوگ ہیں۔
Ayah 59:9(59:9) والذین ۔۔ خصاصۃ یہ معطوف ہے اور اس کا معطوف علیہ للفقراء المھاجرین ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اموال فی حق دار صرف مہاجرین ہی نہیں بلکہ یہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا جا رہا ہے ۔ اور یہ انصار ہیں۔
والذین : واؤ عاطفہ ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ تبوء والدار صلہ ۔
تبوء ا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ تبوء (تفعیل) مصدر۔ ب د ء مادہ۔ انہوں نے ٹھکانہ بنا لیا۔ تبوء کہتے ہیں نذل واقام کہیں اترنا۔ اور وہاں اقامت گزیں ہوجانا۔ (لسان العرب)
المفردات میں ہے :۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی ہونا۔ (ساز گار و موافق ہونا) کے ہیں۔ مکان بواء اس مقام کو کہتے ہیں جو اس جگہ پر اترنے والے کے سازگار اور موافق ہو۔ اور بوات لہ مکانا میں نے اس کے لئے جگہ کو ہمورار اور درست کیا۔ قرآن مجید میں اور جگہ ارشاد ہے :۔ ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوأ صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی
الدر : ای دار السلام (مدینہ منورہ) الذین تبوؤا الدار جو دار ہجرت یعنی مدینہ منورہ) میں مقیم ہیں۔ الدار مفعول ہے تنوء وا کا۔
والایمان : واؤ عاطفہ ہے الایمان ایک دوسرے فعل کا مفعول ہے۔ ای اخلصوا الایمان اور جو مخلص الایمان ہیں۔ عربی زبان میں بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزوں سے پہلے ایک فعل ذکر کیا جاتا ہے جس کا تعلق ان دو میں سے ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دوسری چیز کے لئے مناسب حال فعل مقدر مان لیا جاتا ہے۔ مثلاً علفتھا بتناوماء باردا۔ میں نے اس کو چارہ کے لئے بھوسہ ڈالا اور ٹھنڈا پانی۔ بھوسہ تو علفتھا کا مفعول بن سکتا ہے لیکن ٹھنڈا پانی چارہ تو نہیں کہ کھلایا جائے۔ اس کے لئے تو پلانے کا فعل ہونا چاہیے اس لئے کہتے ہیں کہ اصل یوں ہے :۔ علفتھا تبنا واسقی تھا ماء باردا میں نے اسے بھوسا (بطور چارہ) کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ (ضیاء القرآن)
من قبلہم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب مہاجرین کی طرف راجع ہے۔
یحبون مضارع جمع مذکر غائب احباب (افعال) مصدر۔ وہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ محبت کرتے ہیں ۔ وہ دوست رکھتے ہیں۔ الذین سے موضع حال ہے۔
فی صدورھم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب فاعل یحیون کی طرف راجع ہے ان کے سینوں میں ۔ ان کے اپنے سینوں میں۔
حاجۃ : حاجت ، ضرورت۔ خواہش، غرض۔ اس کی جمع حاجات وحوائج ہے۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ مدینہ منورہ کے مکین مومن اپنے دلوں میں حاجت ہی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا گیا ہے یہ استغفار کا بلند مقام ہے کہ اموال فئی مہاجرین کو تقسیم ہوا اور انصار ان مہاجرین کے لئے اپنے دلوں میں اس قدر محبت محسوس کریں کہ وہ اس مال کی چاہت سے بہت بلند ہوکر شان استغنائی کا مظاہرہ کریں۔
مما اوتوا : مما ۔ من اور ما موصولہ ہے مرکب ہے۔ اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دینا۔ یعنی اس مال کے بارے میں جو ان کو (یعنی مہاجرین کو تقسیم ہوا) ان (انصار) کے دلوں میں خلش تک نہ ہے۔
یؤثرون : مضارع جمع مذکر غائب۔ ایثار (افعال) مصدر۔ وہ ترجیح دیتے ہیں وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لئے ایثار کرتے ہیں۔ ویؤثرون علی انفسھم وہ اپنی جانوں سے مقد رکھتے ہیں۔
لو : اگرچہ، خواہ، بھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان انصار کی طرف راجع ہے جن کا ذکر ہو رہا ہے۔
خصاصۃ : احتیاج۔ بھوک۔ تنگی۔ فاقہ۔ حاجت۔ محتاج ہونا۔ باب سمع سے خص یخص کا مصدر ہے۔ ولو کان بھم خصاصۃ : اگرچہ خود ان کو اس چیز کی شدید حاجت ہو۔
من جو شخص ، جو، (شرطیہ)
یوق : مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ یوق اصل میں یوتی تھا۔ و ق ی مادہ۔
شح : خود غرضی۔ کنجوسی۔ نخل ۔ حرص۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ کہ شح وہ بخل ہے جس میں حرص ہو اور عادت بن گیا ہو۔ اردو میں خود غرضی کا لفظ موزوں ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس کا فعل باب سمع۔ ضرب۔ نصر تینوں سے آتا ہے۔ ومن یوق شح نفسہ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا۔ جملہ شرط ہے۔
فاولئک ہم المفلحون :جواب شرط کے لئے ہے جملہ جواب شرط ہے ۔ تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شح سے بچ جائے کیونکہ انسان کا ازخود اس بیماری سے بچنا مشکل ہے اور ناممکن ہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جس کو شح سے بچا لیا گیا یعنی جس پر اللہ نے کرم فرمایا اور وہ اس مذموم خصلت سے بچا لیا۔ وہی بچ سکتا ہے۔
Ayah 59:10(59:10) جاء وا : ماضی جمع مذکر غائب وہ آئے۔ مجیء (باب ضرب) مصدر۔
بعدھممضاف مضاف الیہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع مہاجرین و انصار ہیں۔ یعنی مہاجرین و انصار کے بعد۔ ان سے وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ تمام مومن بھی مراد ہیں جو صحابہ کے بعد قیامت تک آنے والے ہیں۔ (تفسیر قرطبی)
سبقونا : سبقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ سبق (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی سبقت لے جانا۔ آگے نکل گئے ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم وہ ہم سے آگے نکل گئے۔ وہ ہم سے سبقت لے گئے۔
غلا : کینہ۔ حسد، بغض۔ غل یغل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ کسی کے متعلق دل میں کینہ رکھنا۔ غلل مادہ۔ اس مادہ سے باب افعال سے اغلال بمعنی خیانت کے ساتھ متصف ہونا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وما کان لبنی ان یغل (3:161) اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔
الغلل۔ کے اصل معنیٰ کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں۔ اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان بہہ رہا ہو۔ لہٰذا غل (طوق) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی کے اعضاء کو جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کی جمع اغلال آتی ہے۔ اور غل فلان کے معنی ہی اسے طوق سے باندھ دیا گیا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ خذوہ فغلوہ (69:31) اسے پکڑو اور طوق پہنا دو ۔
للذین امنوا۔ ایمان والوں کے لئے۔ ان کے متعلق جو ایمان والے ہیں ۔ مراد اس سے وہ مہاجرین و انصار ہیں جو بعد کے آنے والوں سے پہلے ایمان لائے۔
رء وف رافۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ والذین جاء وا من بعدھم ۔۔ اس کا عطف للفقراء المھاجرین پر ہے۔ اس آیت سے بتادیا کہ اموال فئی میں مہاجرین و انصار کے علاوہ یہ لوگ بھی حقدار ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک آئیں گے۔
Ayah 59:11(59:11) آیت 11-12 کا پس منظر صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔
جب حضور نبی کریم ﷺ اور بنی نضیر کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی اور کسی وقت بھی جنگ چھڑ جانے کا امکان تھا۔ اس وقت وہاں کے منافقوں نے جن کے سرغنہ عبد اللہ بن ابی اور ابن نبتل تھے۔ کہلا بھیجا کہ مسلمانوں سے ڈرو نہیں ان کے مقابلہ میں ڈٹ جاؤ تم اکیلے نہیں ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ ضرورت پڑی تو ہم دو ہزار مسلح بہادروں کا لشکر لے کر ہم تمہارے ساتھ آملیں گے تمہیں جلاوطن ہونے کا جو حکم دیا گیا ہے۔ اس کے ماننے سے صاف انکار کر دو ۔ اور اگر تم کو مدینہ چھوڑنا ہی پڑا تو تم تنہا مدینہ نہیں چھوڑو گے بلکہ ہم تمہارے ساتھ ہی اس شہر کو چھوڑ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتادیا کہ یہ منافق جھوٹ بک رہے ہیں اگر جنگ شروع ہوئی تو یہ لوگ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے۔ بالفرض والمحال ان بزدلوں نے میدان جنگ میں أنے کی جسارت کی تھی تو تمہیں دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے۔ اور اگر بنی نضیر کو مدینہ چھوڑنا پڑا تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ چناچہ بعینہٖ اسی طرح ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا۔
الم تر : ہمزہ استفہامیہ لم تر نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔
الذین نافقوا۔ موصول وصلہ۔ نافقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ منافقۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے دوزخی کی۔ انہوں نے منافقت کی۔ انہوں نے کفر کو دل میں چھپایا۔ اور اسلام کو ظاہر کیا۔ الذین نافقوا منافق لوگ۔ کیا تو نے منافقوں کو نہیں دیکھا۔ ان منافق لوگوں سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے گروہ کے لوگ ہیں۔
یقولون صبغۃ المضارعۃ للدلالۃ علی استمرار قولہم۔ مضارع کا صیغہ ان کے استمرار قول پر دلالت کرتا ہے اور لاخوانھم میں لام تبلیغ کے لئے ہے۔ (روح المعانی)
لاخوانھم : لام حرف جر۔ اخوانھم مضاف مضاف الیہ۔ اخوان جمع اخ کی۔ بھائی ۔ ان کے بھائیوں۔ اپنے بھائیوں کو۔ یعنی جو کفر میں اور موالات و دوستی کے لحاظ سے ان کے بھائی ہیں ۔
من اہل الکتب : اہل کتاب میں ہے، یعنی یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ کی اتم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے کہتے رہتے ہیں ۔۔
لئن اخرنتم ۔۔ لننصرنکم یہ یقولون کا مقولہ ہے۔
اللام فی قولہ عزوجل لئن اکرجتم موطئۃ للقسم وقولہ سبحانہ و تعالیٰ لنخرجن معکم جواب القسم : ای واللہ لئن اخرجتم من دیارکم قسرا لنخرجن معکم من دیارنا البتۃ ونذھبن فی صحبتکم اینماذھبتم۔ (روح المعانی) ۔ لئن اخرجتم میں لام موطئۃ للقسم (قسم کی راہ ہموار کرنے کے لئے) ہے اور قولہ سبحانہ لنخرجن معکم جواب قسم ہے
یعنی خدا کی قسم اگر تم نے اپنے گھروں سے مجبورا نکالے گئے تو ہم بھی ضرور بالضرور تمہارے ساتھ اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ اور جہاں تم جاؤ گے ہم بھی تمہاری معیت میں وہاں چلے جائیں گے۔
اخرجتم ماضی مجہول جمع مذکر حاضر، اخراج (افعال) مصدر۔ تم نکالے گئے۔ لنخرجن لام جواب قسم یا جواب شرط۔ نخرجن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم۔
لانطیع : مضارع منفی جمع متکلم۔ ہم ہرگز نہیں مانیں گے۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔
فیکم ای فی شانکم : تمہارے بارے میں۔
احد : مفعول لانطیع کا۔ ابدا ہرگز۔ کبھی بھی۔ ہمیشہ۔
وان قوتلتم لننصرنکم : یہ دوسرا مقولہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے ان شرطیہ ہے،
ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر تم سے لڑائی گئی۔ جملہ شرط ہے اور لننصرنکم جملہ جواب شرط ہے۔ لام تاکید کا ہے۔ ننصرن مضارع تاکید بانون ثقیلہ۔ جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم ضروری تمہاری مدد کریں گے۔
یشھد : مضارع واحد مذکر غائب۔ شھادۃ (باب فتح) مصدر (اور اللہ) گواہی دیتا ہے۔ (اور خدا) شاہد ہے (اور خدا) گواہ ہے
لکذبون : لام تاکید کا ہے کاذبون اسم فاعل جمع مذکر، جھوٹے۔ لکذبون : بالکل جھوٹے۔ واللہ یشھد انھم لکذبون : خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ یہ ان کے وعدوں کی اجمالا تکذیب ہے ان کے دعوں کی الگ الگ تفصیلی تکذیب اگلی آیت میں آرہی ہے۔
Ayah 59:12(59:12) لئن اخرجوا۔ اگر ان کو نکالا گیا یعنی یہودیوں (بنی نضیر وغیرہ) کو جملہ شرط ہے۔ لایخرجون جملہ جواب شرط ہے۔ اس میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب عبد اللہ بن ابی وغیرہ کی طرف راجع ہے۔ ولئن قوتلوا لا ینصرونھم۔ حسب سابق یہ بھی شرط و جواب شرط ہے اور قوتلوا کی ضمیر نائب فاعل اور ہم ضمیر مفعول بھی یہودیوں کیلئے ہے اور لاینصرون کی ضمیر فاعل عبد اللہ بن ابی وغیرہ کے لئے ہے
ولئن نصروھم واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ ان حرف شرط۔ اگر انہوں نے ان کی مدد کی۔ یعنی عبد اللہ بن ابی وغیرہ نے یہودیوں کی مدد کی ، جملہ شرط ہے۔
لیولن الادبار جواب شرط ہے۔ لام تاکید کا۔ صیغہ جمع مذکر غائب مضارع تاکید بانون ثقیلہ۔ تولیۃ (تفعیل) مصدر۔ وہ ضرور ہی پیٹھ کریں گے : پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ الادبار جمع دبر کی بمعنی پیٹھ۔
ثم : ای بعد ذلک۔ ثم لا ینصرون : ای ثم لا ینصرون المنافقون کالیہود سواء (الیسر التفاسیر) ۔ پھر یہودیوں کی طرف منافقین کی بھی مدد نہیں کی جائے گی۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پھر منافقین کی طرح یہودیوں کی بھی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔
Ayah 59:13(59:13) لا : لام بےعمل کی ایک قسم ہے یہ لام ابتداء مفتوح، مضمون جملہ کی تاکید کے لئے آتا ہے۔
باتفاق اہل لغت اس کا استعمال دو جگہ صحیح ہے۔
(الف) مبتداء پر جیسے ال انتم اشد رھبۃ (59:13) ( آیۃ زیر مطالعہ) البتہ تمہارا ڈر زیادہ ہے۔
(ب) ان کی خبر پر خواہ اسم ہو۔ جیسے ان ربی لسمیع الدعاء (14:39) یا فعل مضارع ہو جیسے ان ربک لیحکم بینھم (16:124) یا ظرف ہو جیسے انک لمن المرسلین (36:3) ۔
تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن باب اللام ۔ الاتقان فی علوم القرآن از علامہ جلال الدین سیوطی (رح) حصہ اول نوع چالیس۔
فائدہ : لا یہ ان کلمات میں سے ہے جو موافق رسم الخط قرآن مجید لکھنے اور پڑھنے میں اور طرح ہیں ۔ جیسے :۔
لاالی الجحیم (37:67) لالی الجحیم۔
لا او ضعوا (9:47) لاوضعوا۔
لشای (18:23) لشیئ۔
قرآن مجید میں ایسے کلمات 22 ہیں۔
اشد : نہایت سخت۔ شدۃ سے جس کے معنی سخت اور قوی ہونے کے ہیں۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
رھبۃ : ڈر۔ رعب۔ ایسا رعب جس میں بچاؤ کا خیال اور اضطراب موجود ہو۔ رھبت کہلاتا ہے رھب یرھب (سمع) کا مصدر۔ بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ البتہ ازروئے وخوف تم ان کے دلوں میں بہ نسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ سخت ہو۔
یعنی تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں خدا سے بھی زیادہ ہے تمہارے ڈر سے وہ بظاہر زبان سے تو ایمان لے آتے ہیں لیکن دلوں میں ان کے کفر رہتا ہے اور اللہ ان کے باطنی کفر کو جانتا ہے مگر وہ اللہ سے نہیں ڈرتے اور دل سے ایمان نہیں لاتے۔
ذلک : یعنی اللہ کی نسبت تم لوگوں سے ان کا زیادہ خوف زدہ ہونا۔
بانھم : ب سببیہ ہے۔ یہ اللہ کی بہ نسبت تمہارا ڈر ان کے دلوں میں بوجہ اس بات کے ہے کہ :۔ انھم قوم لا یفقھون۔ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔ بےعقل ہیں۔
Ayah 59:14(59:14) لایقاتلونکم۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم سے نہیں لڑیں گے۔ جمیعا۔ اکٹھے مل کر۔ یا کسی عزم اور متفقہ رائے پر جمع ہوکر یا جم کر بالمواجہہ نہیں لڑیں گے۔ لایقاتلونکم میں ضمیر فاعل ہر دو کفار و منافقین کے لئے استعمال ہوئی ہے۔
الا حرف استثناء ۔ مگر : (اگر لڑیں گے بھی تو ۔۔ )
فی قری محصنۃ : فی حرف جار قری محصنۃ موصوف و صفت ، یہ جمع قریۃ کی۔ بستیاں۔ محصنۃ حصن یحصن تحصین (تفعیل) جگہ کو مضبوط بنانا۔ بستی کی دیوار سے گھرنا اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ یعنی قلعہ کی طرح دیواروں سے گھیر کر بنائی ہوئی بستیاں۔ اس کا مادہ حصن ہے۔ تحصن (تفعل) بمعنی قلعہ بند ہونا ۔ حصن جمع حصون قلعے، مضبوط جگہیں، گڑھیاں، حصان عمدہ گھوڑا۔
وراء جدو : مضاف مضاف الیہ۔ ورائ۔ اوٹ۔ آڑ۔ وراء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ ظرف زمان ظرف مکان دونوں کے لئے آتا ہے۔ آگے، پیچھے۔ ہر طرف، سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جدر جمع ہے جدار کی۔ بمعنی دیوار
یعنی اگر یہ کفار اور منافقین مسلمانوں سے لڑنے کی ہمت بھی کریں گے تو قلعہ بند ہوکر یا دیواروں کی اوٹ لے کر لڑیں گے بالمواجہہ لڑنے کی ہمت ان میں نہیں ہے۔
باسھم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ باس لڑائی۔ عدم جامعیت، باہمی مناقشت، باسھم بینھم شدید ان کا آپس میں کا اختلاف بہت سخت ہے۔
تحسبھم مضارع واحد مذکر حاضر۔ حسبان (باب حسب، سمع) سے مصدر تو گمان کرتا ہے ۔ تو خیال کرتا ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو خیال کرتا ہے۔ جمیعا : ای متفق۔
وقلوبھم شتی۔ جملہ حالیہ ہے۔ شتی طرح طرح ۔ جدا جدا۔ متفرق۔ مختلف۔ پراگندہ۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اسے شتیت کی جمع بیان کی ہے (حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں)
ذلک یہ پراگندگی خٰال۔ باہمی اختلاف ومناقشت۔
بانھم۔ ب سببیہ ہے یعنی باہمئی یہ عدم اتفاق اس لئے ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں۔ اور حق و طابل میں امتیاز نہیں کرسکتے۔
Ayah 59:15(59:15) کمثل الذین من قبلہم قریبا : اس سے قبل مبتدا محذوف ہے۔ ای مثلہم : (مثل یھود بنی النضیر فی ترک الایمان ومحاربۃ الرسول صلی اللہ علیہ لوسم ) کمثل الذین ۔۔ وبال امرھم۔ یعنی یہود بنی نضیر کی ترک ایمان اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ لڑائی کی مثال ویسی ہی ہے جیسے ان سے کچھ ہی پہلے والے لوگوں کی تھی۔
یہ پہلے والے لوگ کون مراد ہیں ؟ مجاہد کا قول ہے کہ :۔ ان سے مراد وہ مشرکین ہیں جو بدر میں مسلمانوں سے لڑے تھے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ :۔ بنو قینقاع کے یہودی مراد ہیں۔ یہ لوگ حضرت عبد اللہ بن سلام کے قبیلہ والے تھے۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابی بن سلول یا عبادۃ بن صامت وغیرہ سے معاہدہ کر رکھا تھا۔ یہ قوم یہود میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔
انہوں نے (یعنی پہلے والے لوگوں نے) اپنے کئے کا مزہ چکھ لیا۔ (بنو قینقاع شوال 2 ھ میں مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کے بعد جلاوطن کر دئیے گئے تھے۔ یہ ان کے لئے کا مزا دنیا میں ان کو ملا) ۔ ارشاد ہوتا ہے ولہم عذاب الیم ای فی الاخرۃ آخرت میں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
وبال امرھم : امرھم مضاف مضاف الیہ مل کر وبال (مضاف) کا مضاف الیہ وبال مفعول ہے ذاقوا کا۔ لہٰذا منصوب ہے۔ معنی ہے سختی، ناگواری۔ بداعمالی کی سزا۔ امرھم ان کا کردار۔ ان کا فعل، ان کا کام۔
Ayah 59:16(59:16) کمثل الشیطان اس آیت میں خبر کا مبتدا محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی مثلہم کمثل الشیطن : ان کی مثال شیطان کی سی مثال ہے۔ مثلھم کی ضمیر یہاں منافقون کے لئے ہے جب کہ سابقہ آیت میں یہود بنی نضیر کے لئے تھی۔ بعض نے کہا کہ ہر دو جگہ ہر دو فریق کے لئے ہے۔
اذقال ۔۔ الخ۔ شیطان کا کردار ہے جس کی مثال دی گئی ہے یعنی وہ انسان سے کہتا ہے کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا۔ تو کہنے لگا مجھے تجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مجھے خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔
اسی طرح مدینہ کے منافقین بھی یہود بنی نضیر کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جھوٹی باتوں کے گھمنڈ پر ابھارتے رہتے تھے۔ اور جب ان پر آپڑی تو بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کو برا بھلا کہنے لگے۔
بری۔ بیزار، بےتعلق، بےگناہ۔ براء ۃ (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اس کی جمع بریؤن ہے۔
اخاف اللہ رب العلمین : اخاف مضارع واحد متکلم خوف (باب سمع) مصدر۔ میں ڈرتا ہوں اللہ مفعول اخاف کا ۔ رب العلمین مضاف مضاف الیہ مل کر صفت اللہ کی۔ میں خدائے رب العلمین سے ڈرتا ہوں۔
Ayah 59:17(59:17) آیت 15 متذکرۃ الصدر میں فرمایا کہ :۔
شیطان دنیا میں انسان کو بہکاتا ہے اور ورغلاتا ہے اور جب اس کے بہکاوے میں آکر انسان گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو انسان سے الگ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے کب تم کو ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ مجبور کیا تھا۔ میں تو خدائے رب العالمین ڈرتا ہوں۔ اور میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں کہ دوسروں کو گناہ کرنے پر مجبور کروں۔ یہ بھی اس کا جھوٹ ہے اور دکھاوا ہے کیونکہ خدا کا خوف شیطان کی سرشت میں ہے ہی نہیں۔ سو اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ :۔
فکان عاقبتھما انھما فی النار خلدین فیہا۔ پھر ان دونوں کا (یعنی شیطان کا اور جس کو اس نے بہکایا تھا) یہ انجام ہوگا کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ کان فعل ناقص عاقبتھما مضاف مضاف الیہ مل کر کان کی خبر مقدم لہٰذا منصوب ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھما اسم ان فی النار اس کی خبر۔ جملہ انھما فی النار موضع رفع ہیں کان کا اسم مؤخر۔ خلدین فیہا جملہ حالیہ ہے (درآں حالیکہ وہ دونوں دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
عاقبتھما خبر کان مقدم وان مع اسمھا اخبرھا ای فی النار فی موضع الرفع علی الاسم وخلدین حال (مدارک التنزیل) ۔ عاقبتھما ان دونوں کا انجام ۔ انھما بیشک وہ دونوں۔ یعنی شیطان اور اس کا پیروکار۔
وذلک : یعنی ان دونوں کا دوزخ میں ہونا۔ جزاء الظلمین۔ مضاف مضاف الیہ اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
Ayah 59:18(59:18) اتقوا اللہ : اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ اللہ مفعول فعل اتقوا کا۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ تم اللہ سے ڈرو۔
لتنظر : امر کا صیغہ واحد مؤنث غائب نظر (باب نصر) مصدر۔ نفس ان شخص، ہر جان کو چاہیے کہ وہ دیکھے۔ ل ۔ لام امر ہے۔
ماقدمت : ما موصولہ۔ قدمت ماضی واحد مؤنث غائب۔ تقدیم (تفعیل) مصدر بمعنی آگے بھیجنا۔ مقدم کرنا۔ سامنے ہونا۔ سامنے لانا۔ جو اس نے آگے بھیجا ہے ۔ آگے سے مراد روز قیامت ہے۔ یعنی ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے دنیاوی زندگی میں آخرت کے لئے کیا کمایا ہے۔
لغد۔ ل ۔ ظرف کو ظاہر کرنے کے لئے۔ غد۔ فردا۔ کل آئندہ۔ مجازا روز قیامت لغد روز قیامت کے لئے۔
Ayah 59:19(59:19) ولا تکونوا کالذین : لا تکونوا۔ فعل نہی جمع مذکر ۔ تم مت ہوجاؤ۔
کالذین : ک تشبیہ کا ہے الذین اسم موصول جمع مذکر نسوا اللہ صلہ الذین کا نسوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب نسیان (باب سمع) مصدر۔ وہ بھول گئے۔ اللہ منصوب بوجہ مفعول ۔ جو اللہ کو بھول گئے۔
فانسھم انفسہم :ترتیب کا۔ انسی ماضی واحد مذکر غائب انساء (افعال) مصدر۔ اس نے بھلا دیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (مفعول اول) انفسھم انفس۔ نفس کی جمع ۔ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی انسی کا۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس نے بھلائے ان کو ان کے جی (ترجمہ شاہ عبد القادر (رح)) یعنی ان لوگوں کو جو اللہ کو بھول گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا بنادیا کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے۔ اور اصلاح عمل اور تہذیب اخلاق ظاہری و باطنی سے محروم رہ گئے۔
اولئک ہم الفسقون : اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ وہی لوگ ہیں وہی فاسق ۔ فاسقون فاسق کی جمع ۔ فسوق سے اسم فاعل جمع مذکر۔ نافرمان۔ شریعت کی حد سے نکل جانے والے۔
Ayah 59:20(59:20) لا یستوی۔ لا نافیہ ہے یستوی صیغہ واحد مذکر غائب مضارع معروف استوا (افتعال) مصدر، برابر نہیں ہے۔
الفائزون : فائز کی جمع ۔ فوز (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کامیابی حاصل کرنے والے۔ کامیاب۔