59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

جتنی بھی آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں وہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور اس کا ذکر کرتی ہیں۔ اور وہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے فیصلہ میں حکمت والا ہے کیا ہی خوب حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔ شان نزول : سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سورة انفال غزوہ بدر کے بارے میں اور سورة حشر بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ واقعہ بنی نضیر غزوہ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا ہے اور یہ یہودیوں کی ایک جماعت تھی ان کے مکانات اور نخلستان مدینہ منورہ کے ایک کونے پر تھے رسول اکرم نے ان کا محاصرہ کیا تو یہ جلا وطنی پر راضی ہو کر قلعوں سے اتر گئے اور یہ کہ ان کو ہتھیاروں کے علاوہ جتنا سامان اور مال اونٹ اٹھا سکے اتنا لے جانے کی اجازت دی ان ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
Ayah 59:2

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں میں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انکے قلعے انکو خدا (خدا کے عذاب) سے بجا لیں گے مگر خدا نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔ تو اے بصیرت کی آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو۔

وہی ہے جس نے بنی نضیر کو ان کے گھروں اور قلعوں سے پہلی بار اکٹھا کر کے نکال دیا۔ یعنی جب غزوہ احد کے بعد جب انہوں نے رسول اکرم کے ساتھ عہد شکنی کی تو ان یہودیوں کو مدینہ منورہ سے شام اریحاء و اذرعات کی طرف جلاوطن کردیا۔ اے گروہ مسلمین تمہارا گمان بھی نہیں تھا کہ بنی نضیر مدینہ منورہ سے شام کی طرف چلے جائیں گے اور خود بھی نضیر نے یہ گما کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو عذاب الہی سے بچا لیں گے سو ان پر اللہ کا عذاب اور اس کی طرف سے ذلت و رسوائی ایسے مقام پر سے پہنچی کہ ان کو اس گمان بھی نہیں تھا کہ ان کا سردار کعب بن اشرف قتل کردیا جائے گا اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم اور صحابہ کرام کا رعب ڈال دیا کہ اس سے پہلے وہ صحابہ کرام سے نہیں ڈرتے تھے اور وہ اپنے بعض گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کرکے مسلمانوں کی طرف پھینک رہے تھے اور بعض اپنے گھروں کو مسلمانوں کے لیے چھوڑ رہے تھے کہ مسلمان ان کے مکانوں کو مسمار کر کے ان کا سازو سامان ان کی طرف پھینک رہے تھے، سو اے دانش مندو اس جلاوطنی سے عبرت حاصل کرو۔
Ayahs 59:3–4

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

(3۔ 4) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ چکتا تو ان کو دنیا ہی میں قتل کی سزا دیتا اور قتل سے سخت ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ جلا وطنی اور عذاب اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دین میں مخالفت کی اور جو شخص دین میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں سخت سزا دینے والا ہے۔
Ayahs 59:5–6

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا انکو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو (مال) خدا نے اپنے بیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور رسول اکرم نے ان لوگوں کا محاصرہ کرنے کے بعد اپنے صحابہ کرام کو عجوہ کھجور کے علاوہ ان کے اور کھجور کے درخت کاٹنے کا حکم دیا تو اس پر بنو نضیر نے طعن کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا عجوہ کھجور کے رہنے دیے تو یہ دونوں باتیں اللہ ہی کے حکم سے ہیں تاکہ بنو نضیر کو اللہ تعالیٰ ان کے درخت کٹوا کر ذلیل کرے۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فتح کروا کر اموال بنو نضیر سے اپنے رسول کو دلوا دیے وہ رسول اکرم ہی کے ہیں تم نے نہ اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ کیوں کہ یہ جگہ مدینہ منورہ سے قریب تھی اس لیے پیادہ ہی چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد کو یہود اور بنی نضیر پر مسلط کردیا اور وہ کامیاب کرنے اور غنیمت دلوانے پر قادر ہے۔ شان نزول : مَا قَطَعْتُمْ (الخ) امام بخاری نے ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے بنی نضیر کے نخلستان کو جلا دیا تھا اور وادی بویرہ کو کاٹ ڈالا تھا اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے۔ اور ابو یعلی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ان کو کھجوروں کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی تھی پھر ان پر سختی فرمائی تو یہ لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم پر گناہ ہے ان درختوں کے بارے میں جن کو ہم کاٹ دیں یا چھوڑ دیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن اسحاق نے یزید بن رومان سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے ان پر حملہ کیا تو انہوں نے آپ سے بچ کر قلعوں میں پناہ لے لی رسول اکرم نے ان کے نخلستان کاٹنے اور جلا دینے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے قلعوں میں سے پکارا محمد آپ فساد سے روکتے تھے اور اسے برا سمجھتے تھے تو پھر درختوں کو کاٹا اور جلایا کیوں جارہا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجت مندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ فدک خیبر عرینہ قریظہ اور نضیر کی بستیوں سے اپنے رسول کو دلوا دے تو وہ ابھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا حق ہے یعنی جس طرح رسول اکرم چاہیں اس میں حکم دیں۔ چناچہ آپ نے فدک اور خیبر کا حصہ تو اللہ کی راہ میں مساکین کے لیے وقف کردیا تھا اور اس حصے کی نگرانی آپ کی زندگی میں آپ کے ہاتھ میں رہی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں اور اسی طرح سے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی کے ہاتھوں میں رہی اور آج تک اسی طرح سے ہے اور قریضہ کے مال غنیمت کو آپ نے غریب مہاجرین کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیا تھا اور آپ نے بعض حصہ بنی عبدالمطلب کے غرباء کو دے دیا تھا اور بعض حصہ یتیموں اور بعض مساکین کو دے دیا تھا۔ اور مسافر بھی اس کے مصرف ہیں خواہ مسافر کسی مقام پر ٹھہرا ہو یا راہ گزر ہو تاکہ وہ مال فے تمہارے طاقتور لوگوں کے قبضہ میں نہ آجائے اور مال غنیمت میں سے رسول اللہ جو کچھ تمہیں دے دیا کریں وہ قبول کرلیا کرو یا یہ کہ رسول اکرم جس چیز کا تمہیں حکم دیا کریں اس پر عمل کیا کرو۔ اور حکم رسول کی بجا آوری میں اللہ سے ڈرو کیونکہ جس وقت وہ سزا دے تو سخت سزا دینے والا ہے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کردیے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔

اور مال بنی نضیر کے بارے میں صحابہ کرام نے حضور سے فرمایا کہ اس میں سے آپ اپنا حصہ لے لیجیے اور باقی ہمارے لیے رہنے دیجیے، اس پر اللہ تعالیٰ ان سے فرما رہا ہے کہ یہ مال فی بالخصوص حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جن کو مکہ والوں نے ان کے گھروں سے نکال دیا ہے اور یہ تقریبا سو آدمی تھی کیونکہ یہ حضرات جہاد کے ذریعے سے ثواب اور اپنے پروردگار کی رضا کے طالب ہیں اور جہاد کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں اور یہی لوگ ایمان اور جہاد کے سچے ہیں۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے انکے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

اس پر رسول اکرم نے انصار سے فرمایا کہ یہ غنیمتیں اور باغات بالخصوص فقرا مہاجرین کا حق ہیں اب اگر تمہاری مرضی ہو تو تمہارے گھروں کو اور مالوں کو ان مہاجرین میں تقسیم کردوں اور تمہیں یہ غنیمتیں دے دوں اور اگر چاہو تو تمہارے پاس تمہارے اموال اور گھر بدستور رہیں اور یہ غنیمت میں ان فقرا مہاجرین پر تقسیم کردوں اس پر انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ان کے درمیان اپنے اور گھروں کو بھی تقسیم کردیتے ہیں اور خود پر مال غنیمت میں ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے انصار کی تعریف فرمائی کہ ان لوگوں کا بھی حق ہے جو دار الہجرت اور دار الایمان یعنی مدینہ منورہ میں مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی ایمان کی حالت میں رہتے ہیں، صحابہ کرام میں سے جو مدینہ منورہ ہجرت کر کے آتا ہے یہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو مال غنیمت میں سے جو کچھ ملتا ہے یہ انصار اس سے اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں کرتے بلکہ ان کو اپنے اموال اور گھروں میں خود سے مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ ان پر فاقہ اور تنگی ہو اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے تو ایسے ہی لوگ ناراضگی اور عذاب سے نجات حاصل کرنے والے ہیں۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ اور مجاہد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن منذر نے یزید احم سے روایت کیا ہے کہ انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان زمین کو برابر تقسیم کردیجیے آپ نے فرمایا نہیں تم مشقت برداشت کرتے ہو اور پھلوں کو تقسیم کرتے ہو اس لیے زمین تمہاری ہی ہے اس پر انصار نے عرض کیا کہ ہم راضی ہیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ شان نزول : وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ (الخ) امام بخاری نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بھوک کی سخت شکایت ہے، آپ نے ازواج مطہرات کے پاس آدمی بھیجا وہاں کچھ نہیں ملا آپ نے فرمایا کوئی شخص ہے جو اس رات اس کی مہمان نوازی کرے اس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے تو ایک انصاری شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں ہوں، چناچہ وہ شخص گھر گئے اور اپنی بیوی سے جاکر کہا کہ رسول اللہ کے مہمان ہیں کیا تو نے کچھ رکھ چھوڑا ہے، انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم میرے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں، تو یہ انصاری کہنے لگے کہ جب بچے شام کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا اور اٹھ کر چراغ بجھا دینا اور یہ رات ہم بھوک ہی کی حالت میں کاٹ لیں گے، چناچہ ایسا ہی کیا صبح کو یہ شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فلاں مرد اور فلاں عورت سے خوش ہوا یا یہ کہ ہنسا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسدد نے اپنی مسند میں اور ابن المنذر ابو المتوکل الناجی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے باقی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ مہمان نوازی کرنے والے ثابت بن قیس بن شماس ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل لوئی ہے اور واحدی نے محارب بن وثار کے واسطہ سے حضرت عمر سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام میں سے ایک صحابی نے شخص کو بکری کا سر تحفہ میں دیا تو وہ کہنے لگے کہ میرا فلاں بھائی اور اس کے گھر والے اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں۔ چناچہ اس سر کو اس کی طرف بھیج دیا غرض کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو بھیجتا رہا یہاں تک کہ وہ سات گھروں میں پہنچا اور پھر ان ہی کے پاس لوٹ آیا ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما۔ اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

اور اسی طرح ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان مہاجرین اولین کے بعد آئے اور وہ اس طرح دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کے گناہوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ہجرت کرچکے ہیں اور ہمارے دلوں میں مہاجرین اولین کی طرف سے بغض و حسد نہ ہونے دیجیے۔ کیونکہ ان لوگوں کو اپنے بارے میں اس چیز کا خوف ہوا کہ رسول اکرم نے مہاجرین اولین کو جو کچھ دے دیا تو کہیں اس سے ہمارے دلوں میں ان کے متعلق کینہ نہ ہوجائے اس لیے ان لوگوں نے یہ دعا فرمائی۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

کیا آپ نے قبیلہ اوس کے ان لوگوں کی دینی حالت نہیں دیکھی جو ظاہرا تو ایمان کے دعویدار اور خفیہ طور پر نفاق میں مبتلا ہیں بنی قریظہ سے کہتے ہیں واللہ اگر مدینہ سے تم نکالے گئے جیسا کہ بنو نضیر نکالے گئے تھے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے خلاف مدینہ والوں میں سے کسی کی مدد نہیں کریں گے اور اگر محمد نے تم سے لڑائی کی تو ہم تمہاری مدد کریں گے یہ منافقین نے ان لوگوں سے اس وقت کہا تھا جبکہ حجور نے ان کا محاصرہ کرلیا تھا کہ تم اپنے قلعوں میں رہو اور وہاں سے نہ نکلو اور باقی اللہ جانتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ شان نزول : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ قریظہ والوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور ان میں منافق بھی تھے تو وہ لوگ بنی نضیر سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں کے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کرینگے اور اگر مدد کرینگے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو (کہیں سے بھی) مددنہ ملے گی۔

واللہ اگر بنو قریظہ مدینہ سے نکالے گئے تو یہ منافقین ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر رسول اکرم ان سے لڑے تو یہ لوگ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض حضور کے خلاف ان منافقین نے ان کی مدد کی تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان اہل کتاب سے اس مصیبت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانوں !) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

اور وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم اور صحابہ کرام کا خوف ان منافقین اور یہودیوں کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ ہے اور یہ خوف اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ حکم خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھتے نہیں۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑسکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر یا دیواروں کی اوٹ میں (مستعور ہو کر) ان کا آبس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکٹھے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

یہ بنی قریظہ اور نضیر سب ملکر بھی تم سے نہیں لڑیں گے مگر شہروں اور مضبوط قلعوں میں یا دیوار کی آر میں ان کی لڑائی بس آپس ہی میں بڑی تیز ہے حضور کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں، محمد آپ منافقین اور یہود نبی قریظہ اور نضیر کو ایک بات پر متفق خیال کرتے ہیں مگر ان کے دل غیر متفق ہیں اور یہ اختلاف اور خیانت اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ حکم خداوندی اور توحید الہی کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ چکے ہیں اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے

بد عہدی اور سزا کے اعتبار سے قریظہ والوں کی حالت ایسی ہے جیسی ان سے تقریبا دو سال پہلے والوں کی ہوئی یعنی بنو نضیر کی وہ اپنی بدعہدی کا مزہ چکھ چکے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھ کو تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

اور ان منافقین کی مثال بنو قریظہ کے ساتھ جبکہ انہوں نے ان کو رسوا کیا راہب کے ساتھ شیطان کی سی مثال ہے کہ پہلے تو شیطان اسے کہتا ہے کہ تو کافر ہوجا اور جب وہ کفر اختیار کرلیتا ہے تو پھر شیطان کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے اور تیرے دین سے کوئی واسطہ نہیں میں تو رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

سو آخری انجام شیطان اور اس راہب کا یہ ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے دوزخ میں گئے اور کافروں کی یہی سزا ہے۔
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل (یعنی فروائے قیامت) کیلئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور ہم پھر کہتے ہیں کہ خدا ہی سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر ایک شخص خواہ نیک ہو یا بد دیکھ بھال کرے کہ اس نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے کیونکہ قیامت میں اسی کا بدلہ ملے گا جو اس نے دنیا میں اعمال کیے ہیں اگر نیک ہیں تو اچھا اور برے ہیں تو برا اور اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو وہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayahs 59:19–20

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں۔

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

(19۔ 20) اور منافقین کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے خفیہ طور پر اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا یا یہ کہ یہود کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے ظاہرا و باطنا اطاعت خداوندی کو ترک کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے خود ان کو رسوا کیا اور یہ منافق یا یہ کہ یہودی کافر ہیں۔ اطاعت وثواب میں دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے اور اہل جنت کامیاب لوگ ہیں۔
Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

اور اگر اس قرآن حکیم کو کسی بلند پہاڑ پر نازل کرتے کہ جس کی بلندی آسمان تک اور تہہ ساتویں زمین تک ہو اے مخاطب تو اس پہاڑ کو دیکھتا ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔ اور ان مضامین میں عجیبہ کو ہم لوگوں کے فائدہ کے لیے قرآن کریم میں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور ان باتوں کو بھی جو پوشیدہ نہیں اور وہی بڑا مہربان ہے کہ نیک ہو یا بد سب کو روزی دیتا ہے اور خاص طور پر مومنین پر رحم کرنے والا ہے کہ ان کے گناہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

اور وہ ایسا بادشاہ ہے کہ اس کی بادشاہت ہمیشہ ہے اور اولاد شریک سے پاک اور سالم ہے کہ اس کی مخلوق جتنا کہ مخلوق پر اس کے افعال کی وجہ سے عذاب واجب ہے اس میں زیادتی سے محفوظ ہے اور اپنی مخلوق کو امن دینے والا ہے یا یہ کہ وہ اپنے اولیاء کو عذاب سے بچانے والا ہے یا یہ کہ بندوں کے اعمال اور ان کی تقدیروں کا نگران ہے اور نگہبانی کرنے والا ہے اور جو ایمان نہ لائے اسے سزا دینے میں زبردست اور اپنے بندوں پر غالب ہے اور بڑی عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق ایجاد واختراع کرنیوالا صورتیں بنانے والا اسکے سب اچھے سے اچھے نام ہیں جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

وہ معبود برحق پیدا کرنے والا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلنے والا ہے اور رحموں میں صورت و شکل لڑکا و لڑکی نیک و بد بنانے والا ہے۔ یا باری کا مطلب یہ ہے کہ نطفہ میں روح ڈالنے والا ہے اس کی بلند وبالا صفتیں ہیں جیسا کہ علم وقدرت، سمع و بصر وغیرہ سو انہیں سے اس کو پکارو۔ تمام مخلوقات اور ہر ایک زندہ چیز اسی کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔