59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں میں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انکے قلعے انکو خدا (خدا کے عذاب) سے بجا لیں گے مگر خدا نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔ تو اے بصیرت کی آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، (مَا ظَنَنْتُمْ ) اے مسلمانو ! تمہارے خیال میں بھی نہ تھا (اَنْ يَّخْرُجُوْا) کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصؤن تھے اور وہ ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے۔ (وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ ) اور وہ گمان کررہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے انہیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جاسکتا ہے اور نہ ان پر کوئی قابو پاسکتا ہے اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کردیا جس سے انہیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی ہے۔ اس لیے فرمایا (فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا ۤ) پس اللہ نے انہیں وہاں سے آلیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آلیا جائے گا اور وہ یہ بات تھی ( وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ ) کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے جس کے سامنے تعداد اور سازو سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔ وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل واقع ہوا تو اس راستے سے داخل ہوگا اور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے جو کوئی غیر اللہ پر بھروسا کرتا ہے وہ بےیارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے چناچہ ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا جو صبر وثبات اور بزدلی و کمزوری کا کا محل ومقام ہوتے ہیں چناچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کردیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بزدلی دے دی تھی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف مسلمانوں کی مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا (يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ) اور وہ یہ کہ انہوں نے رسول اللہ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے اس بنا بر پر انہوں نے رسول اللہ سے اس شرط پر مصالحت کی ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے اس بنا پر انہوں نے خود اپنے سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انہیں بہت اچھی لگتی تھی اور اپنی سرکشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کردیا تو یہ وہی ہیں جنہوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ( فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ ) پس اے اہل بصیرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعے میں عبرت ہے اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں جن کی عزت نے انہین کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انہیں بچا سکی جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آپہنچا تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کرسکے لہذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چناچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشنی ہوتی ہے ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے

پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کردی ہے (وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۗءَ ) اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انہیں سامانا کرنا پڑا اور جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر انکی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں لہذا کبھی بھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہوگئی انہوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جوا للہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کررکھا ہے وہ زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔
Ayah 59:4

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

(ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ ) اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالف کی ان کے ساتھدشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ ان لوگوں کے بارے میں عادت اور سنت الٰہی ہے جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ وَمَنْ يُّشَاۗقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ) اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ جب بنونضیر نے رسول اللہ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا، تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا جائے تو ان کو باقی رکھنا۔ (فباذن اللہ) یہ اللہ کے اذن اور حکم سے ہے ( وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ ) اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ کیونکہ اسی نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمہیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت اور رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بےبسی ظاہر ہو جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔ (اللینہ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔
Ayahs 59:5–6

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا انکو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو (مال) خدا نے اپنے بیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی ؟ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال ومتاع منتقل ہوا۔ چناچہ (وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ ) اور جو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔ یعنی اس بستی کے لوگوں سے، اس سے مراد، بنونضیر کے لوگ ہیں۔ (فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ ) یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں یعنی تمہیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمہارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمہارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے اس لیے فرمایا (وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آسکتا ہے۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجت مندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

مال فے کا حکم۔ فے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا (مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى) جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے عمومی طور پر خواہ رسول اللہ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو (فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ ) تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے رسول کے لیے اور رسول کے رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورة انفال میں مذکور ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (واعلموا انما غنمتم من شئی۔۔۔ تا۔۔۔ وابن السبیل۔ الانفال 41) اور جان رکھو۔ جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور اس کے قرابت داروں یتیموں اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔ فے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے۔ 1۔ پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔ 2۔ دوسرا حصہ ذوی القربی (رسول اللہ کے رشتے داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربی سے مراد بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں جہاں کہیں بھی ہوں ان کے مردوں عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا بنوعہد المطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنو ہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے بقیہ بنو عبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنو ہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو عبدالمطلب بنو ہاشم کے سات شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انہوں نے رسول اللہ کی مدد کی اس لیے نبی اکرم نے بنو عبدالمطلب کے بارے میں فرمایا وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔ 3۔ تیسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ 4۔ چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔ 5۔ اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔ اللہ تبارک وتعالی نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فے کو صرف انہین معین لوگوں میں محصور کردیا (كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ ۭ ) تاکہ وہ مال تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے اور ان کے سوا عاجز اور بےبس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ ) رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس سے وہ تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ۔ یہ آیت کریمہ دین کے اصول فروح اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کے مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تقوے کا حکم دیا جس سے دنیا وآخرت میں قلب وروح معمور ہوتی ہے تقوے ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے، تقوی کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے چناچہ فرمایا (وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ) اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ جو کوئی تقوی کو ترک کرکے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کردیے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔

پھر اللہ تبارک وتعالی نے فے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا اس کے موجب ور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فے میں سے حصہ مقرر کیا جائے اور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنہوں نے اللہ میں رغبت اور رسول اللہ کی محبت کی خاطر اپنے محبوب ومالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا اعمال صالحۃ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان کا دعوی کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار، یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہے جو اپنی خوشی محبت اور اختیار سے ایمان لائے جب عرب کے تمام شہر دارلحرب شرک اور شرکا کا گڑھ تھے تب انہوں نے رسول اللہ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے انکے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا حتی کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر وسناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کرلی جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں۔ (يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ ) وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں ( وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا) اور وہ اپنے دلوں میں اس مال کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ان مہاجرین کو دیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل ومناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں وہ ان پر حسد نہیں کرتے یہ آیت کریمہ انکے سینے کی سلامتی ان میں بغض کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انہوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ (وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ) اور اپنی ذات پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہیں سخت ضرورت ہو۔ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں اور یہ کامل ترین جو دو سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثر کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اللہ کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ جملہ اوقات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے جب اس نے خود کھانے اور اپنے گھروالوں کو کھلانے پر اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھروالوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔ ایثار) ترجیح دینا۔ (اثرۃ) خود غرضی۔ کی ضد ہے ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل وحرص سے بچا لیا گیا ( وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں اور نفس کے حرص سے بچنے میں ایسے تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے جب بندہ نفس کے حرص سے بچ گیا تو اس کے نفس کو الہ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سرتسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہوجاتا ہے جن سے اللہ تعای نے روکا ہے خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس اس کی طرف بلاتا ہے اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے لیے نفس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہوجاتا ہے اور اسی سے فوزوفلاح حاصل ہوتی ہے برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل وحرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔ پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنہوں نے سابقیت کے اوصاف فضائل اور مناقب کو جمع کرلیا ان کے بعد کسی نے انسے سبقت نہیں کی، صحابہ کرام نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جالیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ مسلمانوں کے سردار اور اہل تقوی کے قائدین بن گئے ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں فرماتا ہے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما۔ اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

(وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ) یعنی جو اہل ایمان مہاجرین وانصار کے بعد آئے ( يَقُوْلُوْنَ ) وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیرخواہی کے لیے کہتے ہیں ( رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ) اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ کرام ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔ یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں اس لیے اللہ تبارک وتعالی نے اس دعا میں قلب سے کینے کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینے کو شامل ہے جب کینے کی نفی ہوگئی تو اس کی ضد ثابت ہوگئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت وموالات اور خیرخواہی وغیرہ جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے کیونکہ ان کا قول (سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ) ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ اہل سنت والجماعت ہیں کیونکہ یہ وصف تام صرف انہی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا، ان امور کو مستلزم ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیرخواہی کرے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں پھر انہوں نے اپنی دعا کو اللہ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ کے کمال رحمت اور شدت رافت و احسان پر دلالت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرور کیا۔ یہ تین اوصناف کے لوگ اسی امت کے لوگ ہیں جو فے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہے اور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس اس کے اہل ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کردے۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

پھر اللہ تبارک وتعالی نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار کیا جنہوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کالالچ دیا تھا وہ ان سے کہہ رہے تھے (لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا ۙ ) اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے یعنی تمہاری نصرت ومدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یاڈرائے گا ہم تمہاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے (وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقینا ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں جس کے ذریعے سے انہوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوتے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب ور دھوکہ ان کے ساتھی نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں کے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کرینگے اور اگر مدد کرینگے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو (کہیں سے بھی) مددنہ ملے گی۔

بنابریں اللہ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی جس ارشاد کو ویسے ہی پایا گیا جیسے اللہ نے اس کی خبر دی تھی پھر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا (لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا) یعنی اگر ان کو جلاوطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے (لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ ۚ ) تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے (وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ ۚ ) اور اگر ان لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے بلکہ ان پر بزدلی غالب آجائے گی کمزوری قبضہ کرے گی اور اپنے بھائیوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ (وَلَىِٕنْ نَّصَرُوْهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ۣ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ ) اور فرض کیا اگر انہوں نے ان کی مدد کی تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیر لیں گے اور انہیں اللہ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہوگی۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانوں ! ) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

اے مومنو وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے یہ ہے کہ (لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ ۭ ) تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے جتنا وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں پس انہوں نے مخلوق کے خوف کو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی خالق کے خوف پر مقدم رکھا ہے۔ (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ) یہ اس لیے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیا کے حقائق کو معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کرسکتے ہیں کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑسکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر یا دیواروں کی اوٹ میں (مستعور ہو کر) ان کا آبس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکٹھے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

(لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا) وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑ سکیں گے۔ یعنی اجتماعی حالت میں وہ تم سے قتال نہیں کریں گے۔ (اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ ۭ ) مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ یعنی وہ تمہارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کرسکتے ہیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہر کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں تب اس سورت میں ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہار بسا اوقات حفاظت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ (بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ ۭ ) ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنا بریں فرمایا (تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا) جب آپ انہیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں متحد سمجھتے ہیں۔ (وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى ۭ ) مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے متفرق اور متشت ہیں۔ (ذالک) یہ بات۔ جس نے انہیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے (بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ ) اس سبب سے کہ وہ عقل اور خرد نہیں رکھتے۔ اگر وہ عقل سے بہرور ہوتے تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے اس قسم کے لوگ جن کو اللہ نے ان کے ھال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی خاطر انتقام لیا اور انہیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ چکے ہیں اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے

ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنہوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا (كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا) ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔ اس سے مراد وہ قریں جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا (لاغالب لکم الیوم۔۔۔ تا۔۔۔ ما لا ترون۔ الانفال 48) آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور میں تمہارا ساتھی ہوں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤں بھاگ نکلا اور کہنے لگا میں تم سے بری الذمہ ہوں میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ چناچہ انہوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آسکے نہ ان سے عذاب کو دور کرسکے حتی کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کرو فر سے بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ اور مومنوں کو جالیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسول اللہ اور مومنوں کی مدد کی، چناچہ ان کے بڑے بڑے سردار قتل کردیے گئے ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا اور کچھ فرار ہوگئے اس طرح (ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ ) انہوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا، یہ سزا دنیا کے اندر ہے (ولھم) اور آخرت میں ان کے لیے (عذاب الیم) دردناک عذاب ہے۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھ کو تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

ان منافقین کی مثال جنہوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے (كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ ) شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہتا ہے کہ کافر ہوجا۔ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کرکے خوبصورت بنادیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر ارتکاب کیا اسے بدبختی حاصل ہوئی تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اسکی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے برات کا اظہار کیا اور (قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ) کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آسکتا۔
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

(فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَآ) پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے۔ (اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا ۭ ) دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحاب السعیر۔ فاطر 6) ۔ ہو تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہوجائیں۔ ( وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ ) اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔ جنہوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہوگی۔ شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انہیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں جب وہ جال میں پھنس جاتا ہے اور ہلاک کے اسباب انہیں گھیر لیتے ہیں تو ان سے بری الذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہوجاتا ہے ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے ھالان کہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے لہذا اس کی اطاعت کرنے والاواضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل (یعنی فروائے قیامت) کیلئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور ہم پھر کہتے ہیں کہ خدا ہی سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں کو ان امور کا حکم دیتا ہے جن کا ایمان موجب ہے اور کھلے چھپے تمام احوال میں التزام تقوی کا تقاضا کرتا ہے نیز یہ کہ وہ ان اوامر وحدود کی رعایت رکھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے اور اس بات پر غور کریں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور ان کے لیے عنایات کیا ہیں اور انہوں نے کون کون سے اعمال کیے جوا نہیں قیامت کے روز نفع و نقصان دیں گے ؟ کیونکہ جب وہ آخرت کو اپنا نصب العین اور اپنے دلوں کا قبلہ بنالیں گے اور آخرت میں قیام کا اہتمام کریں گے تو وہ کثرت اعمال کی کوشش کریں گے اور جو اس نصب العین تک پہنچاتے ہیں اور ایسے قواطع طریق سے اس کو پاک کرتے ہیں جو انہیں سیر و سلوک سے روکتے ہیں یا انہیں باز رکھتے ہیں یا ان کا رخ بدل دیتے ہیں جب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے، ان کے اعمال اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں ان کے اعمال اس کے ہاں ضائع ہوتے ہیں نہ بیکار جاتے ہیں تو یہ چیز ان پر جدوجہد کو واجب کرتی ہے۔ یہ آیت کریمہ بندے کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی بنیاد پر ہے وہ یہ کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ اپنے اندر کوئی لغزش دیکھے تو اس کو ختم کرکے خالص توبہ کے ذریعے سے ان امور سے منہ موڑکر اس کا تدارک کرے جو اس لغزش کا باعث ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے بارے میں اپنے آپ میں کوئی کوتاہی دیکھے تو اپنی پوری کوشش صرف کردے اس کی تکمیل واتمام اور اسکی اچھی طرح تعمیل کے لیے اپنے رب سے مدد مانگے اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عنایات و احسانات اور اپنی تقصیر کے مابین موازنہ کرے یہ چیز لامحالہ اس کے لیے حیا کی موجب ہوگی۔ یہ ہر لحاظ سے حرماں نصیبی ہے کہ بندہ اس معاملے میں غافل رہے اور ان لوگوں کے مشابہ ہوجائے جنہوں نے اللہ کو فراموش کردیا اور اس کے ذکر سے اور اس کے حق کو ادا کرنے سے غافل ہوگئے۔ وہ اپنے حظوظ نفس اور اس کی شہوات کی طرف متوجہ ہوگئے پس وہ کامیاب ہوئے نہ کوئی فائدہ حاصل کرسکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے مصالح کو فراموش کرادیا اور انکو ان مصالح کے منافع سے غافل کردیا ان کا معاملہ افراط وتفریط کا شکار ہوگیا تب وہ دنیا وآخرت کے خسارے کی طرف لوٹ گئے اور ایسے نقصان میں پڑگئے کہ جس کا تدارک ممکن ہے نہ اس کی اصلاح کیونکہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے رب کی اطاعت سے نکل کر اس کی نافرمانیوں میں مبتلا ہوگئے۔ پس وہ شخص جو تقوی کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے توہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے پاک زندگی کا مستحق ہو اور وہ شخص جو اللہ کے ذکر سے غافل ہوا اس نے اس کے حقوق فراموش کردیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ جب اللہ نے اپنے بندوں پر حقائق کو واضح کردیا اور اس نے اپنی کتاب عزیز میں اپنے بندوں کو اوامر ونواہی عطا کیے تو یہ چیز اس بات کی موجب تھی کہ وہ اسکی طرف سبقت کرنے میں جلدی کرتے جس کی طرف اللہ نے ان کو دعوت اور ترغیب دی خواہ وہ قساوت اور صلابت قلبی میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہی کیوں نہ ہوتے اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی نازل کردیا جاتا تو آپ اسے خشیت الٰہی سے عاجز اور ٹکڑے ٹکڑے پاتے۔ یعنی اس کا سبب دلوں میں اس کی کمال تاثیر ہے کیونکہ قرآن کے مواعظ علی الاطلاق سب سے بڑے مواعظ ہیں اس کے اوامر ونواہی حکمتوں اور مصالح پر مشتمل ہیں یہ نفوس کے لیے سب سے زیادہ سہل اور ابدان کے لیے سب سے زیادہ آسان ہیں یہ ہر قسم کے تکلف سے خالی ہیں ان میں کوئی تناقض ہے نہ اختلاف ان پر عمل کرنے میں کوئی صعوبت ہے نہ بےراہ روی، یہ اوامر ونواہی ہر زمان ومکان کے لیے درست اور ہر شخص کے لائق ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حرام اور حلال واضھ کرتا ہے تاکہ وہ اس کی آیات میں تفکر و تدبر کریں کیونکہ آیات الٰہی میں تفکر بندے کے لیے علم کے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے اس کے سامنے خیر اور شر کے راستوں کو واضح کردیتا ہے اور اس کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کی ترغیب دیتا ہے اور برے اخلاق سے اسے روکتا ہے لہذا بندے کے لیے قرآن میں تفکر اور اس کے معانی میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز فائندہ مند نہیں۔
Ayahs 59:19–22

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں۔

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنی اور اوصاف عالیہ پر مشتمل ہیں اور عظمت شان اور بےمثال برہان کی حامل ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ وہ عظیم کمال سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کے ذرہب ھر کے مستحق نہیں کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عموم علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں اور ہر زندہ ہستی تک پہنچتی ہے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنی عموم الوہیت اور اس میں متفر ہونے کا بتکرار ذکر کیا نیز یہ کہ وہ تمام ممالک کا مالک ہے عالم علوی اور عالم سفلی اور ان میں رہنے والے سب اللہ کے مملوک، محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

( الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ ) یعنی وہ مقدس، ہر عیب ونقص سے پاک معظم اور بزرگی والا ہے کیونکہ صفت (القدوس) ہر عیب ونقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اس کے اوصاف و جلال میں اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے۔ (المومن) یعنی وہ اپنے انبیا و رسل کی اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں اس کی براہین قاطعہ اور واضح دلائل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے۔ (العزیز) جس پر غالب آیا جاسکتا ہے نہ اس کے سامنے رکاوٹ بنایا جاسکتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور ہر چیز اس کے سامنے فروتن وسرافگندہ ہے۔ (الجبار) جو تمام بندوں پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے اور محتاج کو بےنیاز کرتا ہے (المتکبر) جو عظمت اور کبریائی کا مالک طلم وجود اور تمام عیوب سے منزہ ہے۔ ( سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ) یہ تنزیہ یہ عام ہے ہر اس وصف سے جس سے شرک کرنے اور عناد رکھنے والے اس کو موصوف کرتے ہیں۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق ایجاد واختراع کرنیوالا صورتیں بنانے والا اسکے سب اچھے سے اچھے نام ہیں جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

(هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ ) جو تمام مخلوقات کا خالق ( الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ) جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے اور وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے یہ تمام اسمائے حسنی تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں ان تمام اوصاف میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ( لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۭ ) یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کرسکتا ہے نہ شمار کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسما کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں ان اسما کا حسن ہے کہ اللہ تعلای ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسما کو پسند کرتا ہے وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں ور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔ یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنی اور صفات علیا کا مالک ہے نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں اس کی حمد وثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں وہ اپنے فضل و کرم سے انہیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ( وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہوجاتی ہے اور جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔