Explained with ayahs 21–24
بلندو عظیم مرتبہ قرآن مجید
قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سریہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہئے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 36
اصل میں لفظ اَلْمَلِکْ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل بادشاہ وہی ہے۔ نیز مطلقاً الملک کا لفظ استعمال کرنے سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ وہ کسی خاص علاقے یا مخصوص مملکت کا نہیں بلکہ سارے جہان کا بادشاہ ہے۔ پوری کائنات پر اس کی سلطانی و فرمانروائی محیط ہے۔ ہر چیز کا وہ مالک ہے۔ ہر شے اس کے تصرف اور اقتدار اور حکم کی تابع ہے۔ اور اس کی حاکمیت (Sovereignty) کو محدود کرنے والی کوئی شے نہیں ہے۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے ان سارے پہلوؤں کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
وَلَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کُلٌّ لَّہ قٰنِتُوْنَ (الروم…
Read the full tafseer →الْقُدُّوْسُ ، بضم قاف وہ ذات جو ہر عیب سے پاک اور ہر ایسی چیز سے بری ہو جو اس کے شایان شان نہیں، الْمُؤْمِنُ ، یہ لفظ جب انسان کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ایمان لانے والے اور اللہ و رسول کے کلام کی تصدیق کرنے والے کے آتے ہیں اور جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی امن دینے والے کے ہوتے ہیں (کماقالہ ابن عباس) یعنی وہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کو ہر طرح کے عذاب و مصیبت سے امن اور سلامتی دینے والا ہے۔
الْمُهَيْمِنُ ، اس کے معنی ہیں نگرانی کرنے والا (کذاقال ابن عباس و مجاہد و قتادہ ؒ قاموس میں ہے کہ ہمن یہیمن کے معنی دیکھ بھال اور نگرانی کرنے کے آتے ہیں…
Read the full tafseer →(ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلم المومن المھیمن العزیز الجبار والمتکبر سبحن اللہ عما یشرکون) (23)۔
اس آیت میں پہلے تو اسی ٹکڑے کا اعادہ ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا جس سے معلوم ہوا کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات یہاں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ مد نظر ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ خدا کی صفات کے باب میں ساری گمراہی شرک ہی سے پیدا ہوتی ہے اور جب ان صفات ہی پر، جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، تمام دین و شریعت کی بنیاد ہے، تو ضروری ہوا کہ اس بنیاد پر کجی کے ہر امکان کا سدباب کردیا جائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے حتی میں سے آٹھ اسماء اتصال کے ساتھ بیانے ہوئے ہیں یعنی ان کے درمیان کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 1 غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔
Read the full tafseer →ھواللہ الذی لا الہ الا ھو (95 : 22) ” اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “۔ لہٰذا اسی کے الٰہہ ہونے کا عقیدہ رکھو ، اسی کی عبادت کرو ، اور اسی کی طرف رخ کرکے پکارو۔ تخلیق سے لے کر موت تک تمہاری زندگی کے اندر وہی موثر اور فعال ہے اور اسی عقیدے پر مکمل اسلامی نظام فکر اور نظام عمل قائم ہے۔ لوگوں کے آپس کے تعلقات ، لوگوں کے عام زندہ مخلوق کے ساتھ تعلق اور لوگوں کے اس کائنات کے ساتھ تعلق کو عقیدہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے۔
علم ............ والشھادة (95 : 22) ” غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ اس سے یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ظاہر اور خفیہ سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
5 یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔
6 " مومن " کا ترجمہ " امان دینے والا " کیا ہے۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک " مصدق " کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولاً و فعلاً تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔
7 یعنی اس کی ذات وصفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 23{ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔“
{ اَلْمَلِکُ الْـقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط } ”حقیقی بادشاہ ‘ یکسرپاک ‘ سراپا سلامتی اور ہر اعتبار سے سالم ‘ امن دینے والا ‘ پناہ میں لینے والا ‘ زبردست مطلق العنان ‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ‘ سب بڑائیوں کا مالک۔“
{ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ } ”اللہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ شرک کرتے ہیں۔“
اس ایک آیت میں آٹھ اسمائے حسنیٰ مسلسل ‘ بغیر حرفِ ”و“ کے آئے ہیں اور اس لحاظ سے یہ آیت پورے قرآن مجید میں منفرد ہے۔
Read the full tafseer →29 آیت نمبر 22 سے 24 تک، تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی جامع صفات بیان کردی گئی ہیں۔ تاکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت حاصل ہو اور وہ خود فراموشی یا غفلت سے بچا رہے۔ چند نام تو آیت 22 میں گزر چکے ہیں۔ مزید جو بیان ہوئے وہ یہ ہیں :
30 الملک یعنی علی الاطلاق بادشاہ، کسی مخصوص علاقے، ملک یا پوری زمین کا ہی نہیں، بلکہ پوری کائنات کا بادشاہ، اور بادشاہ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اپنی مملکت میں جو قانون چاہے رائج کرے اور اس کو نافذ کرے اور اس کی رعایا یا مملوک اس قانون کو تسلیم کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پوری کائنات میں قانونی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔…
Read the full tafseer →35۔ یعنی ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے، جو لوگ اس کی ذات وصفات میں کرتے رہتے ہیں۔ کوئی مخلوق کیسی ہی اشرف واعلی ہو، اس کی شریک کسی حیثیت سے، کسی درجہ میں نہیں ہوسکتی۔ (آیت) ” ھو ..... الا ھو “۔ توحید ذات کا مکرر اثبات، تاکید کی غرض سے۔ (آیت) ” الملک “۔ ملکیت، مالکیت، حاکمیت کے سارے اختیارات اور جملہ حقوق اسی کو حاصل ہیں۔ کسی کو کسی حیثیت سے بھی اس ذات پاک پر دسترس حاصل نہیں۔ (آیت) ” القدوس “۔ وہ ذات پاک، ہر عیب، ہر نقص ہر کوتاہی سے بالاتر ہے۔ اور یہ مشرکین کا جہل محض ہے جو اس کی جانب بعض نالائق صفات کو منسوب کردیا ہے۔ (آیت) ” السلم “۔ اس کی ذات میں اس کا امکان ہی نہیں کہ آیندہ بھی کوئی نقص،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدنا کی کبریائی اور اس کے حضو ربندے کی ذمہ داری اور جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو رب قدیر کے سامنے جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری کہ جس انسان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہ ہو حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبرسدت ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی مضبوط اور سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے…
Read the full tafseer →ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلم المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما یشرکون
وہ وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے۔ سب عیبوں سے پاک ہے (آئندہ بھی ہر عیب و نقص سے) سلامت رہنے والا ہے۔ امن دینے والا ہے ‘ نگہبانی کرنے والا ہے۔ زبردست ہے ‘ خرابی کا درست کردینے والا ہے ‘ بڑی عظمت والا ہے ‘ پاک ہے اللہ ان (کافروں) کی شرک آفرینی سے ‘
اَلْقُدُّوْسُ : ہر عیب سے بالکل پاک اور ان تمام باتوں سے جو اس کی شان کے مناسب نہیں ‘ قطعاً منزہ۔
اَلسَّلٰمُ : ہر نقص اور خرابی سے سالم ‘ سلام مصدر ہے بطور مبالغہ صفت کی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔
اَلْمُؤْمِنُ : حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →اور وہ ایسا بادشاہ ہے کہ اس کی بادشاہت ہمیشہ ہے اور اولاد شریک سے پاک اور سالم ہے کہ اس کی مخلوق جتنا کہ مخلوق پر اس کے افعال کی وجہ سے عذاب واجب ہے اس میں زیادتی سے محفوظ ہے اور اپنی مخلوق کو امن دینے والا ہے یا یہ کہ وہ اپنے اولیاء کو عذاب سے بچانے والا ہے یا یہ کہ بندوں کے اعمال اور ان کی تقدیروں کا نگران ہے اور نگہبانی کرنے والا ہے اور جو ایمان نہ لائے اسے سزا دینے میں زبردست اور اپنے بندوں پر غالب ہے اور بڑی عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ہُوَ اللہ ُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُو : مزید صفات کے بیان کے لیے یہ جملہ دوبارہ ذکر فرمایا۔ تکرار سے مقصود اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ”اللہ“ کی عظمت اور اس کی وحدانیت کا خاص اہتمام ہے۔
2۔ ”الملک“: یہ دوسری خبر ہے ، اس پر الف لام کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ وہی ہے ، کوئی اور نہیں ، کیونکہ دوسرا اگر بادشاہ ہے تو چند لوگوں کا ہے ، سب کا نہیں اور کچھ وقت کے لیے ہے ، ہمیشہ کے لیے نہیں ، جب کہ اللہ تعالیٰ سب کا بادشاہ اور ہمیشہ کے لیے بادشاہ ہے ، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے ؎
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمران ہے کا وہی باق بتان آزری
مزید دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ قرآن مجید…
Read the full tafseer →تفسیر
ھو اللہ …… ہر نقص سے منزہ اور ہر عیب سے پاک۔ قدس اہل حجاز کی لغت میں سطل (ایک برتن) کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے قادرس ہے یہ لفط اس برتن کے لئے بولا جاتا ہے جس کے ساتھ کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے اور اونٹنی سے مدد لی جاتی ہے۔ سیبو یہ کہا کرتے تھے : قدوس اور سبوح دونوں میں پہلالفظ مفتوح ہے۔ اور ابو حاتم نے یعقوب سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کسائی کے نزدیک ایک فصیح بدو کو سن اجس کو ابو دینار کہتے وہ پڑھ رہا تھا۔ القدوس یعنی قاف پر فتحہ پڑھ رہا تھا۔ ثعلب نے کہا : ہر اسم جو فعول کے وزن پر ہو اس کا پہلا حرف مفتوح ہوتا ہے جس طرح سفرد، کلوب، تنور، سمود، سبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔
جنات سے حفاظت کا ذریعہ
7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا…
Read the full tafseer →[هُوَ اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ وہ ہے (کہ)][ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : کوئی اِلٰہ نہیں مگر وہ ][ اَلْمَلِكُ : جو بادشاہ ہے ][الْقُدُّوْسُ : بالکل پاک ہے (اندازوں کی غلطی سے)][السَّلٰمُ : سراپا سلامتی ہے ][الْمُؤْمِنُ : امن دینے والا ہے ][الْمُهَيْمِنُ : حفاظت کرنے والا ہے ][ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ][ الْجبارُ : زبردست ہے ][الْمُتَكَبِرُ : بڑائی والا ہے ][سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاکیزگی اللہ کی ہے ][عَمَا يُشْرِكُوْنَ : اس سے جو یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →ثالثاً : اَلْمَلِكُ فرمایا ملک بادشاہ کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ حقیقی بادشاہ ہے دنیا میں جو بادشاہ ہیں وہ سب اس کے بندے ہیں اور سب اس کی مخلوق ہیں۔ وہ ملک الملوک یعنی سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور وہ ہر چیز کا مالک ہے اور سارا ملک اسی کا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (رح) 0083﴾
رابعاً : الْقُدُّوْسُ فرمایا، یعنی وہ ہر نقصان اور ہر عیب سے بہت زیادہ پاک ہے، یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ وتروں کا سلام پھیر کر تین مرتبہ ذرا اونچی آواز سے سبحان الملک القدوس پڑھا کرتے تھے اور القدوس کی دال کے پیش کو کھینچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →23:۔ ” ھو اللہ الذی “ یہ توحید کا دوسرا مرتبہ ہے اور شروع میں دعوے توحید کا اعادہ ہے اور اس کے بعد دعوے کی دوسر علت مذکور ہے۔ ” الملک القدوس “ ای ھو الملک الخ۔ الملک، بادشاہ اور متصرف و مختار۔ ” القدوس “ کامل الصفات جس کی ہر صفت کامل ہو (روح) جس کی بادشاہ میں زمانہ ماضی میں کوئی فرق نہ آیا ہو۔ (الشیخ (رح)) ” السلام “ جو ہر عیب سے پاک ہو (روح) ۔ جس کی بادشاہی مستقبل میں بھی ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گی (الشیخ) ۔ ” المومن “ امن و سلامتی عطاء کرنے والا۔ ” المھیمن “ نگہبان اور محافظ۔ ” الجبار “ مخلوق کی اصلاح کرنے والا۔ ” المتکبر “ عظمت و کبریا میں سب پر فائق (روح) ۔ حاصل یہ کہ ساری کائنات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
نبی نضیر کی غداری کے نتیجہ میں اہل ایمان نے ان کو جلا وطن کردیا اور ان کی زمینوں ، باغات اور گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پھر اس سلسلہ میں مال فے کی تقسیم کا قانون بیان ہوا۔ پھر آخر میں اللہ نے انسانوں کو جزائے عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اہل جنت اور اہل جہنم لوگوں کے متفاوت ہونے کا ذکر ہوا۔ اللہ نے لوگوں کی غفلت اور کوتاہی پر تنبیہ کی اور کتاب الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر کو بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں مگر انسان ہیں جن کی اکثریت اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایسے سنگدل ہیں کہ اللہ کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
معرفت…
Read the full tafseer →ہُوَاللہُ الَّذِيْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ 0 ۭ سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 23
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
تفسیر : اصول سعادت میں سے اعلیٰ حصہ تکمیل قوت نظریہ تھا جس کا اعلیٰ حصہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کو علی ماینبغی یقین کرنا تھا۔ اس نے اس کے بعد اپنی ذات وصفات کا حال بیان فرماتا ہے تاکہ اس کی عظمت ذہن میں آئے اور پھر قرآن کی عزت بھی خیال میں آجائے کہ وہ کس کا کلام ہے ؟ اس کا کہ جس کی ہیبت سے پہاڑ لرزتے ہیں، آسمان کانپتے ہیں، سمندروں کا زہر آب ہوتا ہے۔ فقال ھوا اللہ الذی لا الہ الا ھو۔ کہ اللہ وہ ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہی یکتا ‘ بےانتہا طاقتوں والا ‘ آسمانوں کا خالق اور ان کو تاننے والا ‘ زمین اور اس کے اوپر جو ہیں انہیں پھیلانے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں تک ذات حق…
Read the full tafseer →ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُالْجَبَّارُالْمُتَـکَبِّرُ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الحشر : 23)
(وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، معتمد، سب پر غالب، زورآور، بڑا ہی ہو رہنے والا، اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
اس آیت میں پہلے تو اسی ٹکڑے کا اعادہ ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات سب سے زیادہ اہمیت کی حامل حقیقتیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کا بیان جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں کیونکہ وہی ان عظیم صفات کا مالک ہے کوئی نہیں جو اس جیسی صفات کا حامل ہو لہٰذا وہ لوگوں کے بنائے ہوئے ہر قسم کے شریکوں سے مبرا اور پاک ہے۔ وہ اَلْمَلِکُ ، اَلْقُدُّوْسُ ، اَلسَّلاَمُ ، اَلْمْؤْمِنُ ، اَلْمُہَیْمِنُ ، الْعَزِیْزُ ، اَلرَّحِیْمُ ، اَلْجَبَّار اور اَلْمُتَکَبِّرُ ہے۔
اَلْمَلِکُ :
اللہ ہی حقیقی اور دائمی بادشاہ اور مالک ہے اس کے سوا کوئی حقیقی اور دائمی بادشاہ اور مالک نہیں، وہ جسے چاہے بادشاہی عطا فرمائے اور جس سے چاہے اس کی بادشاہی چھین لے اس کے اذن کے بغیر کوئی بادشاہ نہیں بن سکتا…
Read the full tafseer →23 : ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ اَلْمَلِکُ (وہی اللہ تعالیٰ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے) کہ جس کی بادشاہی زائل نہ ہوگی۔
الْقُدُّوْسُ (سب عیبوں سے پاک) تمام قبائح سے منزہ۔ ملائکہ کی تسبیح میں یہ الفاظ ہیں سبوحٌ قدوس رب الملائکۃ والروح۔ السَّلٰمُ (سلامت رہنے والا ہے) زجاج کہتے ہیں السّلام وہ ذات کہ مخلوق جس کے ظلم سے سالم و محفوظ ہے۔ (کیونکہ وہ عادل ہے) الْمُؤْمِنُ (وہ امن دینے والا ہے) بقول زجاج امن عطاء کرنے والا۔ مخلوق جس کے ظلم سے مامون ہے یا وہ مطیع کو اپنے عذاب سے بچانے اور امن دینے والا ہے۔ الْمُھَیْمِنُ (نگہبانی کرنے والا ہے) ۔ ہر چیز پر نگہبانی…
Read the full tafseer →22 ۔” ھواللہ الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ “ غیب جو بندوں سے غائب ہو نہ انہوں نے اس کا معائنہ کیا ہو اور نہ اس کو جانتے ہوں اور الشہادۃ جس کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہو اور اس کو جانتے ہوں۔ ” ھوالرحمن الرحیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →( الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ ) یعنی وہ مقدس، ہر عیب ونقص سے پاک معظم اور بزرگی والا ہے کیونکہ صفت (القدوس) ہر عیب ونقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اس کے اوصاف و جلال میں اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے۔ (المومن) یعنی وہ اپنے انبیا و رسل کی اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں اس کی براہین قاطعہ اور واضح دلائل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے۔ (العزیز) جس پر غالب آیا جاسکتا ہے نہ اس کے سامنے رکاوٹ بنایا جاسکتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور ہر چیز اس کے سامنے فروتن وسرافگندہ ہے۔ (الجبار) جو تمام بندوں پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے اور محتاج کو بےنیاز کرتا ہے (المتکبر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 62] بادشاہ حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے بادشاہ حقیقی۔ کہ اس کی بادشاہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گی، نہ اس کو کوئی خطرہ وزوال ہے، اور نہ ہی وہ کسی کے ماننے اور تسلیم کرنے کی محتاج ہے، اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے، اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہٗ لاشریک کا چلتا ہے، سو زمین و آسمان کی اس پوری کائنات کو پیدا بھی تنہا اسی وحدہٗ لاشریک نے فرمایا ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اسی لئے اس نے وحی اتاری اور اپنے رسول بھیجے تاکہ اس کے بندے اس کے احکام سے آگاہ ہو سکیں، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →ف 5 یا ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں لوگ اکا شریک قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(59:23) ھو اللہ الذی لا الہ الاھو : ملاحظہ ہو آیت 59:23 متذکرۃ الصدر)
الملک : اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اسم معرفہ۔ بادشاہ ۔ جو چاہے کرے۔ اور اس کے فعل پر کسی کو مجال اعتراض نہ ہو۔ اسم نکرہ کوئی بادشاہ ۔ کوئی حاکم۔
القدوس مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت پاک۔ بہت برکت والا۔ بروزن فعول (بضم ف) پر کلام عربی میں صرف چار لفظ آئے ہیں
(1) قدوس : بہت پاک۔ برکت والا۔
(2) سبوح : پاک و برتر۔ اسماء حسنی میں سے ہے۔
(3) ذروح : (ایک اڑنے والا زہریلا کیڑا ۔ سپینی مکھی)
(4) فروح : بہت خوش۔ اور ان کو بھی بفتحپڑھنا جائز ہے باقی اس وزن پر جتنے لفظ آتے ہیں سب بفتحآئے ہیں۔
السلم : ذو سلامۃ من النقائص یعنی ہر قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →[25] یعنی وہی سارے جہان کا بادشاہ ہے جو تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے۔
[26] یعنی سراسر سلامتی۔
[27] یعنی امان دینے والا۔ بندہ جب شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ یہ پناہ اس کے سوا اور کہیں بھی بندے کو حاصل نہیں ہوسکتی۔
[28] یعنی تمام مخلوقات کی نگہبانی اور حفاظت کرنے والا۔
[29] یعنی زبردست جس کے مقابلے میں کوئی سر نہ اٹھا سکتا ہو، جس کے آگے سب بےبس اور بےزور ہوں۔
[30] یعنی کائنات کے نظم کو بزور درست رکھنے اور اپنے ارادے کو جبراً نافذ کرنے والا۔ [31] یعنی حقیقت میں بڑا اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
خدا کا اسلامی تصور
1: اسلام سے پہلے اللہ کے تخیل کو جسمانیت سے مجرد کرکے سمجھنا انسانی فہم کے لئے قریب قریب ناممکن تھا ۔ اس وقت آپ مسیح میں اس کی ذات کو منجلہ دیکھ سکتے تھے ۔ عزیر میں اس کی جلوہ گری تھی ۔ اصنام میں اس کا پرتو تھا ۔ نجوم وکواکب میں اس کا انعکاس تھا ۔ اشخاص وافراد کے قدس میں وہ ظہور پذیر تھا ۔ اس وقت اس ذات صمدیت کا تصور یہ تھا ۔ کہ اس کا کسی نہ کسی رنگ میں مخلوقات کے ساتھ آلودہ ہونا ضروری ہے ۔ کوئی مذہب ایسا نہ تھا ۔ جس نے تجرید اور توحید کے مسئلہ کو واضح کرکے بیان کیا ہو اور اس حسن مطلق کو تصیدات سے الگ کرکے دکھایا ہو ۔ قرآن حکیم پہلی اور آخری کتاب ہے ۔ جس نے اس گتھی کو…
Read the full tafseer →(23) وہ اللہ تعالیٰ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ بادشاہ ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے وہ تمام عیوب سے سالم اور تمام عیبوں سے سلامت ہے وہ امن دینے والا ہے وہ نگہبانی کرنے والا ہے یعنی ہر آفت سے کمال قوت کا مالک اور زبردست ہے بڑی عظمت والا اور بڑائی والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔
جبار کے معنی ہم نے زبردست کے کئے ہیں خرابی کا درست کرنے والا بھی ہوسکتا ہے اور خود اختیار بھی اس کے معنی ہوسکتے ہیں۔ قرآن میں مختلف معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 6۔ یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا کہ حاصل قدوس کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے کہ حاصل ہے سلام کا۔
7۔ یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی صفات بےپایاں اور ان گنت ہیں جن میں بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے
23 ؎ فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے مگر وہی اور وہی ہے جو ( الملک) ہے اور ملک انص اور ابلغ ہے مالک سے یعنی دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت سے ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ملک کو مالک کہہ سکتے ہیں مگر ہر مالک کو ملک نہیں کہہ سکتے ( القدوس) وہ تمام عیبوں اور نقائص سے پاک ہے گویا بہت ہی پاک اور بہت ہی برکت والا ہے۔ ( السلام) ” وہ تمام نقصانات سے محفوظ ہے “ یہ اصل میں مصدر ہے یعنی سلامت مگر اس جگہ سالم کے معنوں میں آیا ہے وہ جس کی ذات ہر طرح کے عیب اور نقصان سے سالم اور محفوظ ہے۔ (…
Read the full tafseer →الْقُدُّوسُ The attribute Al-Quddus means 'the Most Pure from all defects', that is, Allah is the Being Who is free from all kinds of defect, deficiency and imperfection which are not in conformity to His Supreme status.
الْمُؤْمِنُ The word mu'min, when applied to a human being, means a believer, but when this attribute is applied to Allah, it means the one who provides peace and safety, as explained by Ibn ` Abbas ؓ . It means that He provides safety and perfect peace to those who believe in Allah and His Messengers.
الْمُهَيْمِنُ The attribute Al-Muhaimin, according to Ibn ` Abbas ؓ ،…
Read the full tafseer →32 These verses explain what kind of God He is, and what are His attributes, Who has sent this Qur'an to you, Who has placed these responsibilities on you, and before Whom you have to render an account of your deeds in the end. This mention of the Divine attributes immediately after the above theme automatically gives man the feeling that he has not to deal with an ordinary being but with Almighty Allah Who has such and such attributes. Here, one should also understand that although in the Qur'an the attributes of Allah Almighty have been stated in a unique way, which gives a clear concept of…
Read the full tafseer →