Explained with ayahs 21–24
بلندو عظیم مرتبہ قرآن مجید
قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سریہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہئے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 32
ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف سے یہ قرآن تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، جس نے یہ ذمہ داریاں تم پر ڈالی ہیں، اور جس کے حضور بالآخر تمہیں جواب دہ ہونا ہے، وہ کیسا خدا ہے اور کیا اس کی صفات ہیں۔ اوپر کے مضمون کے بعد متصلاً صفات الہیٰ کا یہ بیان خود بخود انسان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اس کا سابقہ کسی معمولی ہستی سے نہیں ہے بلکہ اس عظیم و جلیل ہستی سے ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ اس مقام پر یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں اگرچہ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی صفات بےنظیر طریقے سے بیان کی گئی ہیں جن سے ذات الٰہی کا نہایت واضح تصور حاصل ہوتا ہے، لیکن دو مقامات…
Read the full tafseer →عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز اور غائب و حاضر کا پوری طرح جاننے والا ہے
Read the full tafseer →(ھواللہ الذی لا الہ الا ھو علم الغیب والشھادۃ ھو الرحمن الرحیم)۔ (22)۔
(صفات ِ الٰہی کا حوالہ)۔ اوپر کی آیت میں جب اللہ تعالیٰ کی خشیت کا ذکر آیا تو اس آیت میں اور آگے کی آیات میں اس کے وہ اسمائے حسنیٰ بیان کردیئے گئے جن کی حیثیت بنیادی اسماء کی ہے تاکہ مومنین، کفار اور منافقین سب کو معلوم ہوجائے کہ جس رب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ کن اوصاف کا مالک ہے۔ انہیں کس طرح اس سے ڈرنا چاہیے، کس قدر اس سے محبت کرنی چاہیے، کس طرح اس سے امید کرنی چاہیے، کس طرح اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور کس طرح اس کے لیے جینا اور اسی کی راہ میں مرنا چاہیے۔ فلسفہ دین کی یہ حقیقت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 1 غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔
Read the full tafseer →ھواللہ .................... العزیز الحکیم (42) (95 : 22 تا 42) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ، وہی رحمن اور رحیم ہے ۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، سراسر سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان ، سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا۔ پاک ہے ، اللہ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے ، اور وہ زبردست اور حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
5 یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔
6 " مومن " کا ترجمہ " امان دینے والا " کیا ہے۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک " مصدق " کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولاً و فعلاً تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔
7 یعنی اس کی ذات وصفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 22{ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہی ہے اللہ ‘ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“
{ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِج } ”وہ جاننے والا ہے چھپے کا اور کھلے کا۔“
یہ پورا مرکب اللہ تعالیٰ کے ایک اسم پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور اسے بھی جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن میں جہاں اللہ کے لیے غیب اور شہادۃ کے الفاظ آتے ہیں ‘ وہ ہم انسانوں کے لیے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے لیے تو سب شہادہ ہی شہادہ ہے ‘ اس کے لیے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں۔ ہم انسانوں کے لیے کچھ چیزیں تو وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواس خمسہ سے محسوس…
Read the full tafseer →27 غیب اور شہادت سے کیا مراد ہے ؟ شہادت سے مراد وہ تمام اشیائ، واقعات اور علوم ہیں جو انسان کے علم میں آچکے ہیں یا جنہیں وہ مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل کرچکا ہے اور غیب سے مراد وہ تمام اشیاء واقعات اور علوم ہیں جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہوسکی۔ خواہ یہ اشیاء عالم اکبر یا کائنات سے متعلق ہوں یا عالم اصغر یا انسان کے جسم کی اندرونی کائنات سے متعلق ہوں۔ اور اللہ کے لیے سرے سے کوئی چیز غائب ہے ہی نہیں۔ اس کے لیے سب کچھ شہادت ہی شہادت ہے۔ اور قرآن میں جہاں یہ غیب اور شہادت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو صرف انسان کو سمجھانے کی غرض سے استعمال ہوئے ہیں۔ اور اللہ کے لیے کوئی چیز غائب اس لیے نہیں ہوتی…
Read the full tafseer →34۔ اور یہی وہ صفات کاملہ ہیں، جن سے مشرک قوموں کے معبود اور اہل باطل کے خدا خالی ہیں۔ (آیت) ” ھو ..... الا ھو “۔ حق تعالیٰ کی یکتائی اور توحید کامل کا اثبات اس سے ہوگیا۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ حق تعالیٰ کا علم فلاسفہ مصرویونان وغیرہ کے خدا کی طرح، محدود وناقص قسم کا نہیں، ہر طرح کامل اور جزئیات وکلیات سب کو محیط ہے۔ اسی صفت علم کا علم صحیح نہ رکھنے سے مشرکین کو خدا جانے کتنے دیوتا گڑھنے پڑے۔ (آیت) ” ھو الرحمن الرحیم “۔ حق تعالیٰ کی صفت رحم ہر طرح کامل اور غیر محدود ہے۔ اسی صفت کے بارے میں ٹھوکر لگنے سے مسیحیوں کو ” کفارہ “ کا عقیدہ تراشنا پڑا، اور پھر ایک خدا کے ” اکلوتے بیٹے “۔ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدنا کی کبریائی اور اس کے حضو ربندے کی ذمہ داری اور جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو رب قدیر کے سامنے جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری کہ جس انسان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہ ہو حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبرسدت ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی مضبوط اور سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے…
Read the full tafseer →ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو علم الغیب والشھادۃ ھو الرحمن الرحیم
” وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود بننے کے لائق نہیں وہ جاننے والا ہے پوشیدہ باتوں کا اور ظاہر چیزوں کا وہی بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ : غیب اور شہادت کی تشریح تفصیل کے ساتھ سورة جن کی آیت : لَایُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا الاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ کے ذیل میں کردی گئی ہے۔
Read the full tafseer →وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور ان باتوں کو بھی جو پوشیدہ نہیں اور وہی بڑا مہربان ہے کہ نیک ہو یا بد سب کو روزی دیتا ہے اور خاص طور پر مومنین پر رحم کرنے والا ہے کہ ان کے گناہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
Read the full tafseer →1۔ ہُوَ اللہ ُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ : اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی ضمیروں اور صفات کا ذکر چالیس (40) مرتبہ آیا ہے، چوبیس (24) بار لفظ ”اللہ“ کے ساتھ اور سولہ (16) مرتبہ ضمیر ظاہر یا صفات عالیہ کے ساتھ۔ غرض پوری سورت ہی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے عجیب و غریب تصرفات کے ذکر سے بھرئی ہوئی ہے ، اس لیے اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی صفات عزیز و حکیم کے ساتھ ہوئی ہے اور اختتام بھی اس کی ایسی صفات کے ساتھ ہوا ہے جن کے ذکر سے ایمان والوں کے دلوں میں اس کی خشیت و محبت میں اضافہ ہو اور سرکشوں کو اس کی گفت اور ہیبت و جلال سے خوف دلای جائے۔ ساتھ ہی ان صفات میں…
Read the full tafseer →تفسیر
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ راز او علانہ امور کو جانتا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ ما کان ( جو کچھ ہوچکا) اور مایکون جو کچھ ہونے والا ہے اس کو جانتا ہے۔ سہل نے کہا : وہ آخرت اور دنیا کو جاننے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غیب سے مراد ہے جو کو لوگ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے دیکھا ہوتا ہے اور شہادت سے مراد ہے جس کو لوگ جانتے ہیں اور جسے لوگوں نے دیکھا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔
جنات سے حفاظت کا ذریعہ
7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا…
Read the full tafseer →[هُوَ اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ وہ ہے (کہ)][ لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ][ اِلَّا هُوَ : مگر وہ ][ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : جو غیب اور شہادہ کا جاننے والا ہے ][هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ : وہی انتہائی رحم کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے لئے اسمائے حسنیٰ ہیں جو اس کی صفات جلیلہ کا مظہر ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان الوہیت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو لوگ اس کی ذات وصفات میں اور اس کی شان الوہیت میں جس کسی کو بھی شریک بناتے ہیں وہ ان شرک کرنے والوں کے شرک سے پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے اولاً عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ فرمایا یعنی وہ غائب کی چیزوں کو بھی جانتا ہے اور جو چیزیں ظاہر ہیں اس کی مخلوق کے سامنے ہیں انہیں بھی جانتا ہے غیب کے مفہوم عام میں سب کچھ آجاتا ہے جو چیزیں پیدا ہو کرنا پید ہوگئیں اور جو آئندہ وجود میں آئیں گی، ازل سے ابد تک اسے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →22:۔ ” ھو اللہ الذی “ آخر میں توحید کے تینوں مراتب کا ذکر ہے اس آیت کے پہلے حصے میں توحید کا تیسرا مرتبہ مذکور ہے یعنی دعائے توحید کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ ” علم الغیب والشہادۃ “ یہ دعائے توحید کی علت ہے اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں کیونکہ وہی عالم الغیب ہے اور وہی رحمن ورحیم ہے تمام دین و دنیا کی نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔ عالم الغیب الخ۔ اس سے پہلے ھو مبتدا محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
نبی نضیر کی غداری کے نتیجہ میں اہل ایمان نے ان کو جلا وطن کردیا اور ان کی زمینوں ، باغات اور گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پھر اس سلسلہ میں مال فے کی تقسیم کا قانون بیان ہوا۔ پھر آخر میں اللہ نے انسانوں کو جزائے عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اہل جنت اور اہل جہنم لوگوں کے متفاوت ہونے کا ذکر ہوا۔ اللہ نے لوگوں کی غفلت اور کوتاہی پر تنبیہ کی اور کتاب الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر کو بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں مگر انسان ہیں جن کی اکثریت اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایسے سنگدل ہیں کہ اللہ کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
معرفت…
Read the full tafseer →ہُوَاللہُ الَّذِيْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۚ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ 0 ۚ ہُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ 22
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
تفسیر : اصول سعادت میں سے اعلیٰ حصہ تکمیل قوت نظریہ تھا جس کا اعلیٰ حصہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کو علی ماینبغی یقین کرنا تھا۔ اس نے اس کے بعد اپنی ذات وصفات کا حال بیان فرماتا ہے تاکہ اس کی عظمت ذہن میں آئے اور پھر قرآن کی عزت بھی خیال میں آجائے کہ وہ کس کا کلام ہے ؟ اس کا کہ جس کی ہیبت سے پہاڑ لرزتے ہیں، آسمان کانپتے ہیں، سمندروں کا زہر آب ہوتا ہے۔ فقال ھوا اللہ الذی لا الہ الا ھو۔ کہ اللہ وہ ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہی یکتا ‘ بےانتہا طاقتوں والا ‘ آسمانوں کا خالق اور ان کو تاننے والا ‘ زمین اور اس کے اوپر جو ہیں انہیں پھیلانے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں تک ذات حق…
Read the full tafseer →ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ج عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ج ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ۔ (الحشر : 22)
(وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر کا جاننے والا، وہ رحمن و رحیم ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی عظمت کو دلوں میں اتارنے کے لیے صفاتی ناموں کا ذکر
انسانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی عظیم ہے جس نے ان پر قرآن اتارا ہے اس نے مسلسل اپنی صفات بیان فرمائیں تاکہ انسان کو کسی نہ کسی حد تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا احساس اور استحضار پیدا ہو۔ جن میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ وہ تمہارا اِلٰہ اور معبود ہے اور اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔ اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ نے قرآن مجید جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے اس کی عظیم اور بےمثال صفات۔
” اللہ “ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی ہر قسم کی پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جانتا ہے، سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ” الٰہ “ اللہ تعالیٰ کا متبادل نام بھی ہے اور عظیم صفت بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے سب نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس لیے صرف اسی کی بندگی کرو۔ وہی اپنی مخلوق کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرنے والا ہے۔ وہ ان چیزوں کو جانتا ہے جو اس کی مخلوق کے لیے…
Read the full tafseer →تردید شرک بتذکرہ صفات باری تعالیٰ :
22 : : پھر شرک کی تردید فرمائی اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیا انکار کیا۔ ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سواء اور کوئی معبود بننے کے لائق نہیں۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا) غیبؔ سے سر اور شہادہ سے علانیہ نمبر 2۔ دنیا و آخرت نمبر 3۔ معدوم وموجود۔ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (وہی بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)
Read the full tafseer →21 ۔ لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ “ کہا گیا ہے اگر پہاڑ میں تمیز رکھ دی جاتی اور اس پر قرآن اتارا جاتا تو وہ پھٹ جاتا اور جھک جاتا اللہ کے خوف سے اپنی مضبوطی اور ٹھوس ہونے کے باوجود، اس ڈر سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کرسکے گا قرآن کی تعظیم میں اور کافر اس کی عبرتوں سے اعراض کرتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں ہے اس کی سخت دلی بیان کررہے ہیں۔ ” وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنی اور اوصاف عالیہ پر مشتمل ہیں اور عظمت شان اور بےمثال برہان کی حامل ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ وہ عظیم کمال سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کے ذرہب ھر کے مستحق نہیں کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عموم علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[ 56] قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے قرآن حکیم کی عظمت شان کی توضیح کے لئے ایک موثر اور بلیغ تمثیل بیان فرمائی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر بھی اتار دیتے اور اس میں فہم و ادراک پیدا کرکے اس کو مکلف کردیتے، جیسا کہ انسان کو کیا ہے، تو وہ پہاڑ بھی خوف و خشیت خداوندی سے پھٹ پڑتا، اور پاش پاش ہوجاتا، لیکن تم لوگ اے منکرو ! اور منافقو ! ایسے سنگدل ہو کہ تم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، سو ارشاد میں منکرین و منافقین اور ان کے منکرانہ اور منافقانہ رویے پر زجر و ملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے، حضرت حق جل مجدہ نے تمہارے لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →ف 4 کھلی اور چھپی باتیں “ دوسروں کے اعتبار سے فرمایا اور نہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے تو ہر بات کھلی ہے۔
Read the full tafseer →(59:22) ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو : ھو ضمیر شان ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ مسند الیہ کی تعظیم و بڑائی پر دلالت کرتی ہے اس طرح کہ پہلے اس کا ذکر مبہم طریقہ سے کرکے پھر اس کی تشریح کی جائے۔
اللہ مسند الیہ باقی کا جملہ مسند اس کی صفت ہے۔ الزی اسم مفعول موصول باقی جملہ اس کا صلی۔ لا ناصیہ (اپنے اسم کو نصب دیتا ہے) الہ اس کا اسم الا حرف استثنائ۔ وہ اللہ ہے ایسی ذات کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے۔
الہ معبود۔ بروزن فعال بمعنی اسم مفعول مالوہ ہے ۔ ہر قوم کے نزدیک جس کی بندگی کی جائے وہ الہ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔
علم الغیب : مضاف مضاف الیہ ۔ غیب کا علم رکھنے والا۔ غیب کا علم جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →[24] اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کا ذکر تھا۔ اب اس آیت اور آگے کی آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس پروردگار سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے وہ کن اوصاف کا مالک ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کا سابقہ کسی معمولی ہستی سے نہیں ہے بلکہ اس عظیم و جلیل ہستی سے ہے جس کی صفات یہ اور یہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
خدا کا اسلامی تصور
1: اسلام سے پہلے اللہ کے تخیل کو جسمانیت سے مجرد کرکے سمجھنا انسانی فہم کے لئے قریب قریب ناممکن تھا ۔ اس وقت آپ مسیح میں اس کی ذات کو منجلہ دیکھ سکتے تھے ۔ عزیر میں اس کی جلوہ گری تھی ۔ اصنام میں اس کا پرتو تھا ۔ نجوم وکواکب میں اس کا انعکاس تھا ۔ اشخاص وافراد کے قدس میں وہ ظہور پذیر تھا ۔ اس وقت اس ذات صمدیت کا تصور یہ تھا ۔ کہ اس کا کسی نہ کسی رنگ میں مخلوقات کے ساتھ آلودہ ہونا ضروری ہے ۔ کوئی مذہب ایسا نہ تھا ۔ جس نے تجرید اور توحید کے مسئلہ کو واضح کرکے بیان کیا ہو اور اس حسن مطلق کو تصیدات سے الگ کرکے دکھایا ہو ۔ قرآن حکیم پہلی اور آخری کتاب ہے ۔ جس نے اس گتھی کو…
Read the full tafseer →(22) وہ اللہ تعالیٰ ایسا معبود ہے جس کے سوا اور کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں وہ ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے وہ بےخد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یعنی وہ اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں جو چیز مخلوق سے پوشیدہ ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو مخلوق سے پوشیدہ نہیں وہ اس کی بھی کنہ اور حقیقت کو جانتا ہے آگے پھر اسی توحید کی تاکید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 6۔ یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا کہ حاصل قدوس کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے کہ حاصل ہے سلام کا۔
7۔ یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے
22 ؎ یہ سورة مبارکہ کی آخری تین آیات ہیں جن میں صفات الٰہی کا بیان ہے اور واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ انسانوں کے حق پر ہونا یا نہ ہونے کی یہی کسوٹی ہے کہ خوف ورجاء میں جو شخص اپنے الٰہ حقیقی سے رجوع کرتا ہے وہ حق پر نہیں ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے رب کریم ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اور صرف اسی کو سمجھے اور اس کے سوا دوسروں کی نفی کرے۔ جو شخص بھی اپنی حاجات و ضروریات کو پکارتا ہے وہ باطل پر ہے کسی نبی ، ولی اور رسول کو پکارے یا کسی ولی ، پیر اور بزرگ کو کیونکہ یہ سب کے…
Read the full tafseer →A Few of Allah's Attributes of Perfection
Having urged the people to be concerned about the Hereafter and having asserted the greatness of the Qur'an, this Surah is concluded with a few of Allah's attributes of perfection, as follows:
الِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (...the Knower of the unseen and the seen - 22). The attribute 'the Knower of the Unseen and the seen' means that Allah knows all things, visible or invisible.
Read the full tafseer →31 The parable means that if a huge creation like a mountain had the sense and knowledge that it had been made responsible and accountable, like man, before Allah Almighty, for its deeds, it would have trembled from the fear of it. But how heedless, senseless and thoughtless is the man, who understands the Qur'an, and has known the whole truth through it, yet he is neither seized by any fear not feels worried as to what answer he would make to his God about the responsibilities that have been placed on him. On the contray when be reads the Qur'an, or hears it read, he remains. go un-moved as…
Read the full tafseer →