Al-Hashr 59:21

Al-Hashr · from ayah 21

59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ ؕ— وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ ۟لَوۡ اَنۡزَلۡنَا هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيۡتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلۡكَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔ اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

If We had sent down this Qur'an upon a mountain, you would have seen it humbled and coming apart from fear of Allah. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hashr

All translations of 59:21

اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔ اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے رعب سے جھکا جارہا ہے، اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو (اے مخاطب!) تو اسے دیکھتا کہ وہ اﷲ کے خوف سے جھک جاتا، پھٹ کر پاش پاش ہوجاتا، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کر رہے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔ اور یہ مثالیں ہیں، ہم انھیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ غور وفکر کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ خشیت الٰہی سے پست اور پاش پاش ہوجاتا اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتار دیتے تو تم اسے دیکھتے کہ وہ بھی دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑ رہا ہے اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں

— مولانا اسحاق مدنی

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تو اس کو دیکھتا کہ اللہ کے خوف سے سب جاتا پھٹ جاتا۔ اور ہم ان عجب (مؤثر) مضمونوں کو لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔ اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اس کو دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

Had We sent down this Qur'an upon a mountain you would indeed have seen it humbling itself and breaking asunder out of fear of Allah. We propound such parables to people that they may reflect.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had We sent down this Qur‘an to a mountain, you would have seen it humbled, burst apart out of awe for Allah. We cite such examples for people, so that they may ponder.

— Muhammad Taqi Usmani

Had We sent down this Qur‘an to a mountain, you would have seen it humbled, burst apart out of awe for Allah. We cite such examples for people, so that they may ponder.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had We sent down this Qur'an on a mountain, you would surely have seen it humbling itself and rent asunder by the fear of Allah. Such are the parables which We put forward to mankind that they may reflect.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If We had caused this Qur'an to descend upon a mountain, thou (O Muhammad) verily hadst seen it humbled, rent asunder by the fear of Allah. Such similitudes coin We for mankind that haply they may reflect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If We had sent down this Qur'an upon a mountain, you would have seen it humbled and coming apart from fear of Allah. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.

— Saheeh International

The people of Paradise and hell are not alike; the people of Paradise are the successful ones. Had We sent down this Quran on a mountain, you would have seen it humbled and rent asunder for fear of God. These are parables which We tell to people so that perhaps they will think.

— Muhammad Sarwar

Had We sent down this Quran on a mountain, you would certainly have seen it falling down, splitting asunder because of the fear of Allah, and We set forth these parables to men that they may reflect.

— Muhammad Habib Shakir

Had We sent down this Qur'an upon a mountain, thou wouldst surely have seen it humbling itself and cleaving in sunder for fear of Allah. Such similitudes We propound Unto mankind that haply they may reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

Had We sent down this Qur'an on a mountain, verily, thou wouldst have seen it humble itself and cleave asunder for fear of Allah. Such are the similitudes which We propound to men, that they may reflect.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 59:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–24

بلندو عظیم مرتبہ قرآن مجید قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سریہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہئے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَشْر 31 اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدا کی کبریائی اور اس کے حضور بندے کی ذمہ داری و جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو بھی نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو کس رب قدیر کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا۔ لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری جو قرآن کو سمجھتا ہے اور اس کے ذریعہ سے حقیقت حال جان چکا ہے اور پھر بھی اس پر نہ کوئی خوف طاری ہوتا ہے، نہ کبھی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جو ذمہ داریاں اس پر ڈالی گئی ہیں ان کے بارے میں وہ اپنے خدا کو کیا جواب دے گا۔ بلکہ قرآن کو سن کر یا پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ ، یہ ایک تمثیل ہے کہ اگر قرآن پہاڑوں جیسی سخت اور ثقیل چیز پر اتارا گیا ہوتا اور جس طرح انسان کو فہم و شعور دیا گیا ہے ان کو بھی دے دیا جاتا تو پہاڑ بھی اس قرآن کی عظمت کے سامنے جھک جاتے بلکہ ریزہ ریزہ ہوجاتے، مگر انسان اپنی خواہش پرستی اور خود غرضی میں مبتلا ہو کر اپنے فطری شعور کو کھو بیٹھا، وہ قرآن سے متاثر نہیں ہوتا، گویا یہ ایک فرضی مثال ہے کہ پہاڑوں میں شعور ہوتا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ پہاڑوں اور درختوں اور دنیا کی تمام چیزوں میں شعور و ادراک ہونا عقل و نقل سے ثابت ہے، اس لئے یہ کوئی فرضی مثال نہیں حقیقت ہے (مظہری) واللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون) (21)۔ (ایک طیغ تمثیل)۔ یہ ان منافقین کو زجرو ملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے اللہ نے تمہارے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ قرآن ایسی چیز ہے کہ اگر پہاڑ جیسی سخت اور بےحس چیز پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت ِ الٰہی سے سرفگندہ اور پاش پاش ہوجاتا لیکن تم ایسے سنگ دل اور ٹھس ہو کر تمہارے دل ذرا بھی اس سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ (وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون) فرمایا کہ یہ تمثیلیں ہم اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے حال پر غور کریں کہ اگر ایسی موثر چیز بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 اور پہاڑ میں فہم و ادراک کی صلاحیت پیدا کردیتے جو ہم نے انسان کے اندر رکھی ہے۔ 21۔ 2 یعنی قرآن کریم میں ہم نے بلاغت و فصاحت، قوت و استدلال اور وعظ تذکرہ کے ایسے پہلو بیان کئے ہیں کہ انہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت و بلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزۃ ہوجاتا۔ یہ انسان کو سمجھایا اور ڈرایا جا رہا ہے کہ تجھے عقل و فہم کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ لیکن قرآن سن کر تیرا دل کوئی اثر قبول نہیں کرتا تو تیرا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ 21۔ 3 تاکہ قرآن کے مواعظ سے وہ نصحیت حاصل کریں اور زواجر کو سن کر نافرمانیوں سے اجتناب کریں بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں نبی ﷺ سے خطاب ہے کہ ہم نے آپ پر یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–24

14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک تمثیل ہے لیکن ایک حقیقت کو بطول مثال پیش کیا گیا ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم وزن رکھتا ہے۔ اس کے اندر بہت بڑی قوت ہے ، بےپناہ اثر کا مالک ہے ، اور اس کے مقابلے میں کوئی چیز ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔ جس پر اس کا وزن پڑے تو متزلزل ہوجاتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جب پہلی مرتبہ اسے پڑھا تو وہ پاش پاش ہوگئے اور جب وہ ایک رات سننے والے سے سن رہے تھے۔ والطور ........................ ربک لواقع (7) (25 : 1 تا 7) ” قسم ہے طور کی اور ایک ایسی کھلی کتاب کی جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے اور آباد گھر کی ، اور اونچی چھت کی ، اور موجزن سمندر کی ، کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی مقام حسرت و افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر کچھ نہ ہو، حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبردست اور قوی ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے خوف کے پھٹ کر پارہ پارہ ہوجاتا۔ میرے والد مرحوم نے ایک طویل نظم کے ضمن میں یہ تین شعر لکھے تھے سنتے سنتے نغمہ ہائے محفل بدعات کو کان بہرے ہوگئے دل بدمزہ ہونے کو ہے آؤ سنوائیں تمہیں وہ نغمہ مشروع بھی پارہ جس کے لحن سے طورہدیٰ ہونے کو ہے حیف گر تاثیر اس کی تیرے دل پر کچھ نہ ہو کوہ جس سے خاشعًا متصدعاً ہونے کو ہے 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی کافروں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ } ”اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔“ یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ان دوموضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے ‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں ‘ لیکن سورة یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں : { یٰٓــاَیُّہَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

26 قرآن کی عـظمت اور انسان کی غفلت :۔ یعنی اگر پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ وہ سمجھ، اختیار اور عقل و شعور عطا کردیتا، جو انسان کو عطا کی گئی ہے پھر انہیں یہ بتایا جاتا کہ تمہیں اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنا ہوگا اور پھر تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہوگی تو وہ بھی اس تصور سے کانپ اٹھتے لیکن انسان کی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ اس بار امانت کو اٹھا لینے کے بعد بھی اس پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی غفلت اور خدا فراموشی میں گزار دی تو آخرت میں اپنے پروردگار کے سامنے کیا جواب دے گا اور اس کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا۔ بلکہ وہ قرآن سن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32۔ (مضامین قرآنی کی عظمت وہیبت سے) یعنی قرآن مجید بجائے خود اس درجہ مؤثر اور فاعل قوی ہے۔ (آیت) ” لو ... جبل “۔ یعنی پتھر کا پہاڑ، جو جمود اور بےحسی کا انتہائی نمونہ معلوم ہوتا ہے، اس پہاڑ پر اگر ہم قرآن نازل کرتے، اور پہاڑ میں بقدر ضرورت فہم وعقل کا مادہ رکھ دیتے، تو پہاڑ تک فرط تاثر سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ 33۔ (اور نفع حاصل کریں) کافر بلکہ فاسق انسان کی بھی تاثر پذیری، بسبب غلبہ ہوائے نفس فاسد ہوجاتی ہے، اور اسی سے اس میں جمود اور عدم احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ ہوائے نفس کو مغلوب کرنے اور قرآن مجید سے تأثر وتذکر کی قابلیت کو بڑھانے میں بڑا دخل صحبت صالحین کو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدنا کی کبریائی اور اس کے حضو ربندے کی ذمہ داری اور جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو رب قدیر کے سامنے جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری کہ جس انسان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہ ہو حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبرسدت ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی مضبوط اور سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ و تلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون . ” اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو (اے مخاطب ! ) تو اس کو دیکھتا کہ خدا کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا اور ان مضامین عجیبہ کو ہم لوگوں کے فائدے کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ “ لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ..... بعض اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں ایک تمثیل ہے یعنی اللہ اگر پہاڑ میں قوت تمیز پیدا کردیتا اور پھر اس وقت اس پر قرآن اتارتا تو پہاڑ عاجزی سے دب جاتا ‘ خوف سے پھٹ جاتا اور عظمت قرآن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ (وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَہِ اللہ ِ )…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر اس قرآن حکیم کو کسی بلند پہاڑ پر نازل کرتے کہ جس کی بلندی آسمان تک اور تہہ ساتویں زمین تک ہو اے مخاطب تو اس پہاڑ کو دیکھتا ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔ اور ان مضامین میں عجیبہ کو ہم لوگوں کے فائدہ کے لیے قرآن کریم میں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ۔۔۔۔: یعنی یہ یہود اور منافقین قرآن مجید کی آیات سننے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ، حالانکہ وہ تو ایسی عظیم الشان اور پر تاثیر کتاب ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ بھی اللہ کے ڈر سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ، جیسا کہ فرمایا :(ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً) (البقرہ : 74)”پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں یا سختی میں ان سے بھی بڑھ کر ہیں“۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ادراک اور سوجھ بوجھ رکھی ہے۔ ان کے سامنے امانت پیش کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفسیر لو انزلنا ……قرآن کے مواعظ میں غوروفکر کرنے پر برانگیختہ کیا جا رہا ہے اور اس امر کو واضح کیا کہ ترک تدبر میں کوئی عذر نہیں کیونکہ اس قرآن کے ساتھ اگر پہاڑوں کو خطاب کیا جاتا جبکہ ان میں عقل بھی ہوتی تو پہاڑ بھی اس کے مواعظ کو سنتے اور آپ انہیں دیکھتے کہ وہ انتہائی مضبوط ہونے کے باوجود عاجزی کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے پھٹ جاتے۔ خاشع کا معنی ذلیل ہے اور متصدع کا معنی پھٹنے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خاشعا کا معنیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے جن امور میں اپنی طاعت کا مکلف بنایا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کے حضور خشوع کرنے والے ہیں۔ متصدعا وہ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو انزلنا ہذا القراٰن علی جبل (اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر نازل کرتے) یعنی اگر یہ قرآن میں کسی پہاڑ پر نازل کرتا اور میں اسے وہ حکم دیتا جو تم کو حکم دیا گیا۔ اور میں اس کو اس کے ساتھ ڈراتا جس کے ساتھ میں نے تم کو ڈرایا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا اور اللہ کے خوف سے جھک جاتا اس لیے تم زیادہ حقدار ہو کہ تم جھکو اور عجز و انکساری کا اظہار کرو اور اللہ کے ذکر سے اپنے دلوں کو نرم کرو۔ 2۔ ابن المنذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں تمہارے لیے قسم کھاتا ہوں کہ کوئی بندہ اس قرآن کے ساتھ ایمان نہیں لائے گا۔ مگر اس کا دل پھٹ جائے گا۔ 3۔ ابن جریر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَوْ انزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ : اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو ][ عَلٰي جبلٍ : کسی پہاڑ پر ][ لَّرَاَيْتَهٗ : تو تو ضرور دیکھتا اس کو ][خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا : جھکنے والا پاش پاش ہونے والا ہوتے ہوئے ][مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ : اللہ کے دبدبہ سے ][ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ : اور یہ مثالیں !][ نَضْرِبُهَا لِلنَاسِ : ہم بیان کرتے ہیں ان کو لوگوں کے لیے ][لَعَلَهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ : شاید وہ غور و فکر کریں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید کی صفت جلیلہ : اس کے بعد فرمایا ﴿ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ ﴾ (الآیۃ) اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو اے مخاطب تو اسے اس حال میں دیکھتا کہ یہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا) صاحب روح المعانی (صفحہ 61: ج 28) اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے انسان کی قساوت قلبی اور تلاوت قرآن کے وقت خشوع و تدبر کی کمی پر متنبہ کیا ہے قرآن میں جو جھنجھوڑنے والی آیات ہیں انسان ان کی طرف دھیان نہیں دیتا حالانکہ اگر یہی قرآن کسی پہاڑ پر اتارا جاتا اور اسے عقل دے دی جاتی تو وہ خشوع اختیار کرتا اور پھٹ جاتا۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ 236: ج 4) نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ ” لو انزلنا “ یہ قرآن مجید میں فکر و تامل کی ترغیب ہے اور پہاڑوں پر قرآن نازل کرنے سے یا تمثیل مراد ہے یا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم پہاڑوں ایسی سخت چیز کو عقل دے کر ان پر اس قرآن کو نازل کردیتے تو قرآن کی اثر انگیزی سے وہ اس قدر متاثر ہوتے کہ خوف سے لرز اٹھتے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے لیکن ان منافقین کے دل اس قدر سخت ہیں کہ قرآنی مواعظ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حث علی تامل مواعظ القران و بین انہ لا عذر فی ترک التدبر، فانہ لو خوطب بھذا القران الجبال مع ترکیب العقل فیھا لانقادت لمواعظہ ولرای تھا علی صلاب تھا ورزانتہا خاشعۃ متصدعۃ (قرطبی ج 18 ص 144) ۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے اس لیے بیان کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : پہلے اللہ نے نافرمانوں کا حال بیان کیا اور پھر ایمان والوں کی توجہ مستقبل اور قیامت کی طرف دلائی ، اور آئندہ زندگی کے لئے سامان آگے بھیجنے کی تلقین کی۔ نیز فرمایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ انسانوں کے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اہل جنت اور اہل دوزخ برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ دوزخ والے ناکام اور جنت والے فائزالمرام ہوں گے۔ آگے نافرمانوں کا شکوہ بیان ہورہا ہے اور ایمان والوں کو بات سمجھائی جارہی ہے۔ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے جس میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے راہ ہدایت موجود ہے مگر نافرمان لوگ اس کو سنتے تو ہیں ، اس کی طرف راغب نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْـيَۃِ اللہِ۝ 0 ۭ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۝ 21 لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–21

تفسیر : اہل سعادت اور اہل شقاوت کا ذکر کر کے اہل سعادت کو ان کے اصول سعادت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دارین میں اس کے لیے کافی ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اتقواللہ واضح ہو کہ انسانی سعادت کے دو حصے ہیں۔ اول قوت نظریہ کی تکمیل ‘ جہل بسیط و جہل مرکب کی ظلمات سے نجات پانا۔ علم کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات و ذات اور دیگر امور ضروریہ کو واقعی طور پر یقین کر کے توہمات و تخیلات باطلہ کی دلدل سے گزر جانا۔ اس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ جن کو یہ صفت حاصل ہوگئی ہے ان کو ایمان والے کہتے ہیں۔ بس وہ ایمان والوں کو اس پر ثابت رہنے یا اس میدان میں ترقی کرنے کے لیے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَتِلْـکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَـکَّرُوْنَ ۔ (الحشر : 21) (اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے پست اور پاش پاش ہوجاتا، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ ) منافقین کو زجر و تنبیہ اس آیت کریمہ میں منافقین کے لیے زجروملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمامِ حجت کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آنحضرت ﷺ جیسا رسول بھیجا اور قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی۔ جس کی عظمت کا عالم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی آگ سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے قرآن پر غور کرکے اپنے آپ کو سنوار لے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کے لیے قرآن مجید جیسی عظیم اور مؤثر کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کی عظمت اور تاثیر کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کردیتے تو آپ دیکھتے کہ پہاڑ بھی اللہ کے خوف سے دب اور پھٹ جاتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ارشادات لوگوں کے سامنے اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان پر غور کریں اور اپنے کردار اور انجام کے بارے میں فکر کریں۔ قرآن مجید کی عظمت اور تاثیر کا ذکر کرتے ہوئے ” لَوْ “ کا لفظ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عظمت قرآن : 21 : لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تو اس کو دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا) مطلب یہ ہے کہ قرآن کی عظمت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی پہاڑ میں تمیز ڈال دی جائے۔ اور اس پر قرآن مجیدا تارا جائے تو وہ ضرور دب جائے جھک جائے۔ اور خوف الٰہی سے پھٹ جاتا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ تمثیل ہو جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں۔ انا عرضنا الامانۃ ] الاحزاب : 72[ اور اس پر آیت کا اگلا حصہ دلالت کر رہا ہے۔ وتلک الا مثال نضربھا للناس لعلھم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–24

15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–22

یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنی اور اوصاف عالیہ پر مشتمل ہیں اور عظمت شان اور بےمثال برہان کی حامل ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ وہ عظیم کمال سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کے ذرہب ھر کے مستحق نہیں کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عموم علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–24

قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔ صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟ قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

[ 56] قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے قرآن حکیم کی عظمت شان کی توضیح کے لئے ایک موثر اور بلیغ تمثیل بیان فرمائی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر بھی اتار دیتے اور اس میں فہم و ادراک پیدا کرکے اس کو مکلف کردیتے، جیسا کہ انسان کو کیا ہے، تو وہ پہاڑ بھی خوف و خشیت خداوندی سے پھٹ پڑتا، اور پاش پاش ہوجاتا، لیکن تم لوگ اے منکرو ! اور منافقو ! ایسے سنگدل ہو کہ تم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، سو ارشاد میں منکرین و منافقین اور ان کے منکرانہ اور منافقانہ رویے پر زجر و ملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے، حضرت حق جل مجدہ نے تمہارے لئے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–24

مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–24

آیات 18 تا 24۔ اسرار ومعارف۔ اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–21

ف 3 یعنی افسوس کا مقام ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر نہیں ہوتا حالانکہ قرآن اپنی تاثیر قوت بیان اور مواعظ و نصائح پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اس قدر عظیم اللہ کتاب ہے کہ اگر پہاڑ جیسی سخت چیز بھی اترا جاتا اور اس میں سمجھا کا مادہ ہوتا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاتا اور خوف کے مارے پھٹ کر پارہ پارہ ہوجاتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں جبھی کافروں کے دل بڑے سخت ہیں کہ یہ کلا اس کو ایمان نہیں لاتے اگر پہاڑ سمجھے تو وہ بھی دب جائے۔ صموضع)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(59:21) لو۔ حرف شرط۔ اگر لرایتہ۔ لام جواب شرط کے لئے۔ رایت ماضی واحد مذکر حاضر ، ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع جبل ہے۔ خاشعا : دب جانے والا۔ عاجزی کرنے والا۔ فروتنی کرنے والا۔ خشوع (باب فتح) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ متصدعا : اسم فاعل واحد مذکر منصوب ۔ تصدع (تفعل) مصدر۔ بمعنی ٹکڑے ٹکڑے۔ شگافتہ۔ صدع کا لفظ پجٹے ، کھلنے۔ شگافتہ ہونے اور الگ ہوجانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لئے صدع شگاف کو اور آدمیوں کی ایک ٹکڑی اور گروہ کو کہتے ہیں زمین کو پھاڑ کر سبزہ نلتا ہے اس لئے سبزہ کو صدع کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ والارض ذات الصدع (86:12) قسم ہے سبزہ والی زمین کی۔ یا قسم ہے زمین کی جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–24

لغات القرآن۔ نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔ تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔ (ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

ف 1: پہاڑ کی صلابت اور سخی مسلم ہے ۔ مگر قرآن کی اثر اندازی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر کہیں یہ سن پاتے ۔ تو نالہ وشیون سے کلیجہ پھٹ جائے یہ تو انسانوں کی محرومی ہے ۔ کہ وہ اس عبرت آفرین کلام کو پڑھتے ہیں ۔ مگر بدستور گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ ورنہ اس کے اثرونفوز میں بالکل شبہ نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ لو انزلنا ۔ یعنی نزول کے لئے جن شرائط کا ہونا لازم ہے ۔ اگر وہ پہاڑ ایسی سخت اور بےحس چیز کے لئے بھی مہیا کردی جائیں ۔ تو تم دیکھتے کہ وہ قرآن کی ذمہ داری کو کیونکر خشوع اور خضوع کے ساتھ برداشت کرتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو اے مخاطب یقینا تو اس پہاڑ کو دیکھتا کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے اور ہم اس لئے ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں اور فکروتامل سے کام لیں۔ یعنی قرآن اپنی عظمت و جلال کی وجہ سے ایسی شان رکھتا ہے کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے اور پہاڑ کو فہم اور شعور دیا جاتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیتہ سے دب جاتا اور پھٹ جاتا اور اے مخاطب تو اس کو دیکھتا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا لیکن ان منکروں کے دل پہاڑ کے پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ یہ قرآن سنتے ہیں اور متاثر نہیں ہوتے۔ یہ مثالیں اس لئے بیان کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–23

ف 6۔ یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا کہ حاصل قدوس کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے کہ حاصل ہے سلام کا۔ 7۔ یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر اس قرآن کریم کو پہاڑوں پر نازل کیا جاتا تو وہ لرزہ براندام ہو جاتے 21 ؎ ( الامثال) امثال جمع مثل اور مثل وہ چیز ہے جو دوسرے کے مشابہ ہو اور ایک سے دوسرے کی حالت کھل جائے گویا دوسرے کی تصویر دل کے ذریعہ سے نظر کے سامنے آجائے۔ مثل ، مثل ، مثیل سب کے معنی نظیر اور شیشہ کے ہیں ۔ یہ اصل معنی ہیں ۔ بعض اہل بلاغت نے مثل اور نظیر میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ مثل کا ممثل لہ ٗ کے افراد میں سے ہونا ضروری ہے اور نظیر کے لیے یہ شرط نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نظیر منظر لہٗ کے افراد میں سے نہیں ہوتی جیسا کہ علامہ تفتازانی نے مطول میں بیان کیا ہے لیکن علامہ صاحب کی یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی ، کم از کم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْ‌آنَ عَلَىٰ جَبَلٍ (Had We sent down this Qur'an to a mountain, ....59:21) This is a parable that Allah is using to illustrate the fact that if the Holy Qur'an were to be revealed on such strong, firm and unmovable mountain and endowed with intelligence like man, it would have submitted to the greatness of the Qur'an, nay, it would have crushed to pieces. But man is too selfish and proud. As a result, he has lost his natural intelligence and remains unaffected by the powerful message of the Qur'an. This, it would appear, is a hypothetical example, that is 'if…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

30 That is, forgetfulness of God inevitably leads to forgetfulness of one's own self. When man forgets that he is slave to the Almighty, he will inevitably form a wrong view of his position in the world, and his whole life will go wrong because of this basic errosr, Likewise, when he forgets that he is slave to nobody except AIIah, he does not serve the one whose slave actually he is not. This also is a grave and all-pervading misunderstanding, which corrupts his whole life. Man's real position in the world is that of a slave; he is not free and self-sufficient; and he is slave of only One…

Read the full tafseer →