Explained with ayahs 18–20
اجتماعی اور خیر کی ایک نوعیت اور انفرادی اعمال خیر
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم دن چڑھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے جو ننگے بدن اور کھلے پیر تھے۔ صرف چادروں یا عباؤں سے بدن چھپائے ہوئے تلواریں گردنوں میں حمائل کئے ہوئے تھے یہ تمام لوگ قبیلہ مضر میں سے تھے، ان کی اس فقرہ فاقہ کی حالت نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی رنگت کو متغیر کردیا، آپ گھر میں گئے پھر باہر آئے پھر حضرت بلال کو اذان کہنے کا حکم دیا اذان ہوئی پھر اقامت ہوئی آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ شروع کیا اور آیت (ترجمہ) الخ، تلاوت کی پھر سورة حشر کی آیت (ترجمہ) الخ، پڑھی اور لوگوں کو خیرات دینے کی رغبت دلائی جس پر لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْحَشْر 30
یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہیں کرتا جس کا وہ درحقیقیت بندہ ہے، اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیر غلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے، آزاد و خود مختار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کو بھول اور نسیان میں کیا ڈالا اور حقیقتا خود اپنے آپ کو اس بھول میں ڈال دیا کہ اپنے نفع نقصان کی خبر نہ رہی۔
Read the full tafseer →(ایک نہایت اہم حقیقت)۔ (لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ اصحب الجنۃ ھم الفائزون) (20) یہ ایک اور نہایت اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے جس کو پیش نظر رکھنا زندگی کی حقیقی قدر و قیمت سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان جو فرق ہوگا وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو اہمیت نہ دی جائے۔ آج خواہشات نفس سے مغلوب ہو کر اگر کوئی جنت اور دوزخ کے تفاوت کو محسوس نہیں کر رہا ہے تو اس کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دونوں میں صرف ڈگری کا فرق نہیں ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں اہل دوزخ کی زندگی پر بھی قناعت کی جاسکے۔ بلکہ دونوں کے درمیان ابدی نقمت اور ابدی رحمت کا فرق ہوگا۔ فوز و فلاح صرف اہل جنت کے…
Read the full tafseer →20۔ 1 جنہوں نے اللہ کو بھول کر یہ بات بھی بھلائے رکھی کہ اس طرح وہ خود اپنے ہی نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ اس کے نتیجے میں ان کے یہ جسم جن کے لیے دنیا میں وہ بڑے بڑے پاپڑ بیلتے تھے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے اور ان کے مقابلے میں دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ کو یاد رکھا اس کے احکام کے مطابق زندگی گزاری ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں انہیں داخل فرمائے گا جہاں ان کے آرام وراحت کے لیے ہر طرح کی نعمتیں اور سہولتیں ہوں گی یہ دونوں فریق یعنی جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوں گے بھلا یہ برابر ہو بھی کس طرح سکتے ہیں ایک نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14: ان آیات میں اللہ تبارک وتعالی کے کئی اسمائے حسنی ذکر فرمائے گئے ہیں، یہاں ان کا ترجمہ دیا گیا ہے، لیکن اصل نام یہ ہیں : الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِيْمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوْسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کل نناوے نام بیان فرمائے ہیں، جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے، وللہ الحمد اولاً وآخراً۔
Read the full tafseer →لا یستوی .................... الفائزون (95 : 02) ” دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ نہ دونوں کے حالات برابر ہوں لے نہ مزاج برابر ہوگا۔ نہ راستہ اور نہ راستے پرچلنے کا طریقہ۔ نہ جہت اور نہ منزل۔ غرض ان کی کوئی چیز یکساں نہیں ہوسکتی۔ ان کے راستے ہی جدا ہیں اور یہ راستے اس طرح جدا ہیں کہ کسی مقام پر باہم نہیں ملتے۔ ان کی سمت جدا ہے ، اس کا خط جدا ہے ، نہ سیاست میں ، نہ صف میں اور نہ دنیا اور نہ آخرت میں۔
اصحب ............ الفائزون (95 : 02) ” جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ یہاں اہل جنت کا انجام بتادیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →2 یعنی چاہیے کہ آدمی جب اپنے کو بہشت کا مستحق ثابت کرے جس کا راستہ قرآن کریم کی ہدایات کے سامنے جھکنے کے سوا کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 20{ لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ } ”دیکھو ! برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنت والے۔“
{ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ۔ } ”یقینا جنت والے ہی کامیاب ہوں گے۔“
اللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ ادْخِلْنَا الْجَنَۃَّ مَعَ الْاَبْرَارِ ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ‘ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
26 قرآن کی عـظمت اور انسان کی غفلت :۔ یعنی اگر پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ وہ سمجھ، اختیار اور عقل و شعور عطا کردیتا، جو انسان کو عطا کی گئی ہے پھر انہیں یہ بتایا جاتا کہ تمہیں اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنا ہوگا اور پھر تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہوگی تو وہ بھی اس تصور سے کانپ اٹھتے لیکن انسان کی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ اس بار امانت کو اٹھا لینے کے بعد بھی اس پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی غفلت اور خدا فراموشی میں گزار دی تو آخرت میں اپنے پروردگار کے سامنے کیا جواب دے گا اور اس کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا۔ بلکہ وہ قرآن سن…
Read the full tafseer →31۔ (درآنحالیکہ اہل دوزخ سرتاسرناکام ونامراد ہیں) (آیت) ” لا ..... الجنۃ “۔ دونوں فریق کا برابر اور یکساں ہونا کیسا، وہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، اپنے مآل اور حقیقت حال کے لحاظ سے۔ خلط اور التباس تو صرف اسی دنیا میں رہتا ہے۔ صرف یہیں سب ملے جلے اور یکساں معلوم ہوتے ہیں۔ آخرت میں تو اہل جنت وہ ہوں گے، جو دنیا میں حکم (آیت) ” اتقواللہ “۔ پر عامل رہے۔ یعنی اہل تقوی اور اہل دوزخ وہ ہوں گے، جو دنیا میں (آیت) ” الذین نسو اللہ “۔ اور ” اولئک ھم الفسقون “۔ کے مصداق رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترجہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص غور کرلے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے (اعمال) کا کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے ؟ اور (ہروقت) اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اور تم ان لوگوں کے مانند مت ہوجانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا یعنی اس کی اطاعت کو ترک کردیا تو اللہ نے بھی انہیں ان کی جانوں سے غافل کردیا اس بات سے کہ وہ اپنی ذات کے لئے نیکی آگے بھیجیں، ایسے ہی لوگ فاسق ہوتے ہیں، اہل نار اور اہل جنت ابہم برابر نہیں، جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں، اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے اور اس کے اندر انسان کے مانند شعور پیدا کردیا جاتا تو تو دیکھتا اس کو کہ خشیت…
Read the full tafseer →لا یستوی اصحب النار واصحاب الجنۃ اصحب الجنۃ ھم الفائزون .
دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں۔ اہل جنت ہی کامیاب ہیں۔ “
لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ....... یعنی جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو ذلیل و حقیر کیا اور مستحق دوزخ ہوگئے اور جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو کامل بنا دیا اور مستحق جنت ہوگئے ‘ یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہیں۔
شافعیہ نے استدلال کیا کہ مسلم اور غیر مسلم برابر نہیں ‘ اس لیے مؤمن کو کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
شافعیہ کا یہ استدلال غلط ہے کیونکہ آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں مؤمن و کافر برابر نہیں ہیں کیونکہ اگلی آیت میں فرمایا ہے : اہل جنت ہی کامیاب ہیں (یعنی آخرت میں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور منافقین کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے خفیہ طور پر اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا یا یہ کہ یہود کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے ظاہرا و باطنا اطاعت خداوندی کو ترک کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے خود ان کو رسوا کیا اور یہ منافق یا یہ کہ یہودی کافر ہیں۔ اطاعت وثواب میں دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے اور اہل جنت کامیاب لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۔۔۔: یہ اوپر کی آیات کا خلاصہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی تیاری کرنے والے جنتی ہیں اور اسے بھولنے والے اور گناہ اور نافرمانی کی زندگی بسر کرنے والے جہنمی ہیں اور جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (28) ، سجدہ (18) اور سورة ٔ جاثیہ (21) کی تفسیر۔”اصحب النار“ سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ)”اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں“۔ اور ”اصحب…
Read the full tafseer →تفسیر
” یکساں نہیں ہوسکتے دوزخی اور اہل جنت، اہل جنت ہی تو کامیاب لوگ ہیں “۔
لا یستوی اصحاب النار و اصحب الجنتہ یعنی فضیلت اور رتبہ میں ایک جیسے نہیں۔ ……یعنی جنتی مقرب و مکرم ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ آگ سے نجات پانے والے ہیں۔ سورة مائدہ آیت 100 میں ……۔ سورة سجدہ میں افمن……۔ اور سورة ص آیات 28 میں ………۔ کے ضمن میں کلام گزر چکی ہے۔ اس لئے اس کے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
صدیق اکبر ؓ کا خطبہ
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت لغد سے مراد ہے قیامت کا دن
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے نعیم بن محمد الرجی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کے خطبہ میں سے یہ ہے۔ تم جان لو ! بیشک تم ایک مقررہ مدت میں صبح کرتے ہو شام کرتے ہو کہ اس کا علم تم سے مخفی رہ گیا ہے۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو مدت گزر جائے اور تم کوئی بچاؤ کا طریقہ کرسکو تو تم ضرورایسا کرتے۔ لیکن تم ہرگز اس پر قادر نہیں ہوسکتے مگر اللہ کی اجازت سے اور ایک قوم نے اپنی عمر دوسروں کو دی تو اللہ تعالیٰ نے تم کو روکا کہ تم ان کی طرح نہ ہوجائے اور فرمایا آیت ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ…
Read the full tafseer →[لَا يَسْتَوِيْٓ: برابر نہیں ہوں گے ][اَصْحٰبُ النَارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ : آگ والے اور جنت والے ][اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ : جنت والے ہی مراد پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار برابر نہیں ہیں :
﴿ لَا يَسْتَوِيْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ﴾ (دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں) میدان آخرت میں حاضر ہوں گے تو اہل جنت اپنے باغوں میں جائیں گے اور دوزخ والے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ جائیں گے ان کو دائمی سزا ملے گی۔
آخر میں فرمایا ﴿ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠0020﴾ (جنت والے ہی کامیاب ہوں گے) ۔ فاسقون فائزون کے مرتبہ کو کہاں پہنچ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
دعوت تقوی وفکر آخرت برائے اھل ایمان مع ذکر عظمت رب ذوالجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ..... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو اب ان آیات میں اہل ایمان کو تقوی اور فکر آخرت کی دعوت دی جارہی ہے اس لیے کہ ایمان وتقوی اور فکر آخرت ہی مسلمان قوم کے لیے ہر عزت و غلبہ اور ترقی کا باعث ہے وہ عظیم وصف ہے جس کے باعث مسلمان اپنے دشمن کی ہر سازش سے محفوظ رہتا ہے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! ڈرتے رہو خدا سے اور ہر متنفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل آنے والے…
Read the full tafseer →20:۔ ” لا یستوی “ ان فساق و فجار کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے ہیں کہ ان کے نزدیک نیک وبد میں کوئی تمیز ہی باقی نہیں رہی حالانکہ ایسے بدکردار اور بد گفتار لوگ جو جہنم کا ایندھن ہوں گے ان مومنین صالحین کے برابر نہیں ہوسکتے جو جنت کے باسی ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات :
پہلے اللہ نے منافقوں اور اہل کتاب کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں گروہ نافرمانوں میں شامل ہیں ، اور شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پھر اللہ نے نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اور اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ نافرمانوں کی روش سے اپنے آپ کو بچائیں۔
آخرت کی فکر :
اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا ، اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اتقوا اللہ ، اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو۔ مطلب یہ کہ منافق اور اہل کتاب تو خدا تعالیٰ اور آخرت سے بےخوف ہوچکے ہیں مگر تم ایسے نہ ہوجانا۔ اور دوسری بات یہ والتنظرنفس ما قدمت لغد ، اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل…
Read the full tafseer →لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ 0 ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
تفسیر : اہل سعادت اور اہل شقاوت کا ذکر کر کے اہل سعادت کو ان کے اصول سعادت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دارین میں اس کے لیے کافی ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اتقواللہ واضح ہو کہ انسانی سعادت کے دو حصے ہیں۔ اول قوت نظریہ کی تکمیل ‘ جہل بسیط و جہل مرکب کی ظلمات سے نجات پانا۔ علم کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات و ذات اور دیگر امور ضروریہ کو واقعی طور پر یقین کر کے توہمات و تخیلات باطلہ کی دلدل سے گزر جانا۔ اس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ جن کو یہ صفت حاصل ہوگئی ہے ان کو ایمان والے کہتے ہیں۔ بس وہ ایمان والوں کو اس پر ثابت رہنے یا اس میدان میں ترقی کرنے کے لیے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنا…
Read the full tafseer →لاَ یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ط اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَـآئِزُوْنَ ۔ (الحشر : 20)
(دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے برابر نہیں، جنت والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ )
اہلِ جنت اور اہل دوزخ یکساں نہیں
جو شخص عرفانِ ذات اور معرفتِ رب کی دولت کو پا گیا اسے وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے جنت کا باعث بنے گی۔ کیونکہ وہ اپنے عرفان سے اپنی حقیقت کو پہچان لے گا کہ وہ ایک بندہ ہے اور معرفتِ حق سے وہ اللہ تعالیٰ کی آقائی اور کبریائی کی حقیقت کو پالے گا۔ اور اسے یقین ہوجائے گا کہ میری بندگی کی مستحق صرف وہ ذات ہے جو میری اِلٰہ ہے، جو میری خالق ومالک ہے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خود فراموشی کا شکار ہونے والے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔
قرآن مجید نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) سورة ص کی آیت 28 میں فرمایا کہ کیا ہم ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو ان کے برابر کردیں جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں کیا ہم متقین کو برے لوگوں کے برابر کردیں گے ؟
ظاہر بات ہے کہ مومن اور فاسق، متقی اور بدکردار اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب عقائد اور کردار کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں تو پھر انجام کے لحاظ سے کس طرح برابر ہوں گے۔ ؟ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جہنمی اور…
Read the full tafseer →اہل جنت و دوزخ برابر نہیں :
20 : لَایَسْتَوِیْ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَآ ئِزُوْنَ (دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں۔ اہل جنت ہی کامیاب ہیں) اس میں لوگوں کو خبردار کیا اور یہ اعلان کرد یا گیا کہ لوگو ! تم کثرت ِغفلت اور آخرت کی فکر بہت کم کرنے اور دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں ترجیح دے کر اور شہوات کی پیروی کر کے اس درجہ میں پہنچ چکے۔ گویا کہ جنت و دوزخ کے فرق کو ہی تم نہیں جانتے اور ان کے رہنے والوں کے درمیان تو دور کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔ وہ تمہارے پیش نظررہا ہی نہیں۔ حالانکہ بڑی کامرانی تو اصحاب جنت کو حاصل ہوگی اور اصحاب نار کو دردناک عذاب میں مبتلا…
Read the full tafseer →19 ۔” ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ “ یعنی انہوں نے اللہ کے امر کو چھوڑ دیا۔ ” فانساھم انفسھم “ یعنی اپنے نفسوں کا حصہ حتیٰ کہ ان کے لئے کوئی خیر آگے نہیں بھیجی ۔ ” اولئک ھم الفاسقون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
15۔ 24۔ مجاہد 1 ؎ کے قول کے حوالہ سے تفسیر سدی اور تفسیر مقاتل بن حیان میں اس آیت کی تفسر یوں کی ہے کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد وہ کفار قریش ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے مگر امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اس تفسیر کے مخالف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پہلے وبال میں پھنسنے والوں سے مراد یہود کا قبیلہ بنی قینقاع ہے جن کی جلا وطنی بنی نضیر کی جلا وطنی سے پہلے ہوئی جس کا قصہ حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے۔ حاصل اس قصہ کا اسی قدر ہے کہ یہ قبیلہ وہی ہے جس میں کے عبد اللہ بن سلام ہیں۔ اس قبیلہ سے اور آنحضرت ﷺ سے صلح کا معاہدہ تھا پھر ان کی عہد شکنی کے سبب سے بدر کی لڑائی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنی اور اوصاف عالیہ پر مشتمل ہیں اور عظمت شان اور بےمثال برہان کی حامل ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ وہ عظیم کمال سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کے ذرہب ھر کے مستحق نہیں کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے پھر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عموم علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[ 51] غافلوں کے طور طریقوں سے بچنے کی ہدایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور [ خبردار ] کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو، یعنی و غافل ہوگیا اس کی یاد دلشاد سے، اور اس نے بھلا دیا اپنے اس خالق ومالک کے ان حقوق کو جو اس کی طرف سے اس بندوں پر عائد ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی ادائیگی اور انجام دہی، کا فریضہ سب سے اہم، سب سے مقدم، اور سب پر فائق ہے، اور اللہ کو بھلا دینے والے والعیاذ باللّٰہ، اگرچہ بہت لوگ رہے ہیں پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، جو اس کو بھلا کر خالص حیوان بن کر رہے، بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو کر رہ گئے، مگر اس کا سب سے اہم مصداق یہود بےبہبود ہیں جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات
تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
آیات 18 تا 24۔
اسرار ومعارف۔
اب کلام مومنین کی طرف موڑتے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوعظمت الٰہی کو ہمیشہ دھیان میں رکھو اور ایمان وعمل ہجرت و جہاد سب اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خلوص بنیادی شرط ہے لہذا یہ دیکھتے رہو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کل یعنی آخرت کے لیے کیا سامان روانہ کررہا ہے کہ ہر عمل کا تعقل جہاں دنیا کے فائدے سے ہے وہاں اس پر آخرت کا اجر بھی مرتب ہوتا ہے اور آخرت مقصود ہے کہ اللہ کی رجا کا مظہر ہے لہذا وہ کام جس میں آخرت کی کامیابی ہو اور دنیا بھی سنورتی ہو بہت اچھا لیکن اگر آخرت کے لیے دنیا چھوڑنا بھی پڑے جیسے ہجرت جہاد وغیرہ تو مبارک ہے مگر کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 3 یعنی افسوس کا مقام ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر نہیں ہوتا حالانکہ قرآن اپنی تاثیر قوت بیان اور مواعظ و نصائح پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اس قدر عظیم اللہ کتاب ہے کہ اگر پہاڑ جیسی سخت چیز بھی اترا جاتا اور اس میں سمجھا کا مادہ ہوتا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاتا اور خوف کے مارے پھٹ کر پارہ پارہ ہوجاتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں جبھی کافروں کے دل بڑے سخت ہیں کہ یہ کلا اس کو ایمان نہیں لاتے اگر پہاڑ سمجھے تو وہ بھی دب جائے۔ صموضع)
Read the full tafseer →(59:20) لا یستوی۔ لا نافیہ ہے یستوی صیغہ واحد مذکر غائب مضارع معروف استوا (افتعال) مصدر، برابر نہیں ہے۔
الفائزون : فائز کی جمع ۔ فوز (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کامیابی حاصل کرنے والے۔ کامیاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔
(ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
[23] لیکن مقام افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر کچھ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 1: پہاڑ کی صلابت اور سخی مسلم ہے ۔ مگر قرآن کی اثر اندازی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر کہیں یہ سن پاتے ۔ تو نالہ وشیون سے کلیجہ پھٹ جائے یہ تو انسانوں کی محرومی ہے ۔ کہ وہ اس عبرت آفرین کلام کو پڑھتے ہیں ۔ مگر بدستور گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ ورنہ اس کے اثرونفوز میں بالکل شبہ نہیں ہے ۔
حل لغات :۔ لو انزلنا ۔ یعنی نزول کے لئے جن شرائط کا ہونا لازم ہے ۔ اگر وہ پہاڑ ایسی سخت اور بےحس چیز کے لئے بھی مہیا کردی جائیں ۔ تو تم دیکھتے کہ وہ قرآن کی ذمہ داری کو کیونکر خشوع اور خضوع کے ساتھ برداشت کرتا ہے ۔
Read the full tafseer →(20) اہل جہنم اور اہل جنت دونوں باہم برابر نہیں ہیں جو اہل جنت ہیں وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔ یعنی متقی اہل ایمان اصحاب جنت ہیں اور یہ فاسق اور بےحکم اہل جہنم اور دوزخی ہیں۔ تو اے مسلمانو ! تم اصحاب جنت میں سے ہو تم ان کی طرح مت ہوجائو جو اصحاب نار ہیں امام شافعی (رح) نے جو استدلال عدم مساوات فی القصاص پر کیا ہے یہاں اس کی بحث نہیں ہے کتب حنفیہ میں اس کا جواب موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 6۔ یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا کہ حاصل قدوس کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے کہ حاصل ہے سلام کا۔
7۔ یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →اہل النار اور اہل الجنۃ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ، اہل جنت ہی کامیاب ہیں
20 ؎ ایک چیز فوز و فلاح ہے اور ایک چیز لعنت و عذاب ۔ اگر ان دونوں کا کوئی فرق نہ سمجھ سکے تو یہ اس کی سمجھ کا قصور ہے اس کے نہ سمجھنے سے دونوں ایک چیز نہیں ہو سکتے۔ فوز و فلاح ہی کا دوسرا نام جنت ہے اور لعنت و عذاب کا دوسرا نام دوزخ اور دونوں ہی اس دنیوی زندگی کا نتیجہ ہیں ۔ جو شخص سچے دل سے ایمان لایا اور اور اچھے اعمال کیے وہ کامیاب و کامران ہوا اور اس کے حصہ میں فوز و فلاح آگئی اور جو شخص سچے دل سے ایمان نہ لانا یا کفر کی روش اختیار کی وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت و عذاب کا مستحق ٹھہرا اور دوسرے لفظوں میں وہ اس دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ He made them forget their own selves....59:19) It means they did not forget Allah but themselves, because they are unaware of their own loss and gain.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
30 That is, forgetfulness of God inevitably leads to forgetfulness of one's own self. When man forgets that he is slave to the Almighty, he will inevitably form a wrong view of his position in the world, and his whole life will go wrong because of this basic errosr, Likewise, when he forgets that he is slave to nobody except AIIah, he does not serve the one whose slave actually he is not. This also is a grave and all-pervading misunderstanding, which corrupts his whole life. Man's real position in the world is that of a slave; he is not free and self-sufficient; and he is slave of only One…
Read the full tafseer →